Baaghi TV

Author: +9251

  • دنیاپور : بڑی مقدار میں شراب پکڑی گئی

    دنیاپور (نمائندہ باغی ٹی وی) نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈی ایس پی سرکل دنیاپور جواد سخا کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ سٹی دنیاپور قمر ضیاء اور ایس ایچ او تھانہ صدر خالد محمود سنگھیڑا نے پولیس کی بھاری نفری،ایلیٹ فورس اور حساس اداروں کے جوانوں کے ہمراہ چک نمبر 356 ڈبلیو بی میں سرچ آپریشن کیا

    سرچ آپریشن کے دوران 2 منشیات فروش گرفتار،ملزمان کے قبضے سے 990 لیٹر شراب اور بلا لائسنسی 12 بور بندوق برآمد،ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیا گیا ہے

  • سرگودھا: سرگودھا یو نیورسٹی نے سابقہ رجسٹرارکو کرپشن ثابت ہونے پر نوکری سے فارغ کر دیا

    سرگودھا: سرگودھا یو نیورسٹی نے سابقہ رجسٹرارکو کرپشن ثابت ہونے پر نوکری سے فارغ کر دیا

    یونیورسٹی آف سرگودھاسنڈیکیٹ نےسابقہ رجسٹرار مدثر کامران کو کرپشن،اختیارات کے ناجائز استعمال اور مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر نوکری سے برطرف کرنے اور 10لاکھ روپے وصول کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ سنڈیکیٹ نے یہ کاروائی پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کی جس کے مطابق سابقہ رجسٹرار مدثر کامران پر دوران انکوائری متعدد الزامات ثابت ہوئے ہیں جن میں ادارے سے حقائق چھُپانے،غیر قانوی بھرتیوں کے احکامات جاری کرنے،بغیر اشتہارکے خود کی پراجیکٹ منیجر تعیناتی،ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدے پر رہتے ہوئے ڈبل تنخواہ لینے،انگلش ایکسس پروگرام کے بطور ایڈمنسٹریٹر میرٹ سے ہٹ کر ٹیچرز بھرتی کرنے،پروگرام کے اخراجات کے لئے ایڈوانس پیسوں میں بے قاعدگیوں اور پروگرام کے لئے کتابوں وانسٹرکشنل سامان خریدنے میں 15لاکھ سے زائد کی خردبرد کرنے اور سٹور اور سٹاک آئٹمز میں بے قاعدگیاں شامل ہیں تفصیلات کے مطابق
    یونیورسٹی سنڈیکیٹ کو جمع کرائی جانے والی انکوائری رپورٹ کے مطابق مدثر کامران نے بطور پراجیکٹ منیجر پاکستان انگلش ایکسس مائیکرو سکالرشپ پروگرام کے تحت بھرتیوں میں باقاعدگیوں اور کتابوں و دیگر انسٹرکشنل سامان کی خرید میں کروڑوں کے فنڈز کا غلط استعمال کیا اور ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدے کے علاوہ بطور پراجیکٹ منیجر45000روپے ہر مہینے ڈبل تنخواہ بھی وصول کرتے رہے۔ سنڈیکیٹ نے پیڈا ایکٹ 2006کی روشنی میں مدثر کامران کو اپنا موقف پیش کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا تاہم وہ خودپر لگےالزامات کے دفاع میں خاطرخواہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہےجس پر۔سنڈیکیٹ نے مدثر کامران کے خلاف مختلف انکوائری رپورٹس،ریکارڈز اورملزم کی جانب سے دئیے گئے بیانات پر تفصیلی غور کرنے کے بعد پیڈا یکٹ 2006کے شق 13کی روشنی میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کو سروس سے بر خاست کردیا۔قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نےرواں سال 26 جون کو سابقہ رجسٹرار کی جانب سے دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن کو میرٹ کے خلاف قرار دیتے ہوئے خارج کردیا تھا۔ مدثر کامران کے خلاف سنڈیکیٹ کے حکم سےپیڈا ایکٹ 2006 کی روشنی دو مزید انکوائریاں بھی چل رہی ہیں جن میں سابقہ پرائیویٹ سب کیمپسز کے معاملے میں کمپری ہینسوامتحان سے متعلق حقائق چھپائے جس کی وجہ سے سب کیمپسز مالکان کو کروڑوں کا فائدہ جبکہ یونیورسٹی کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے سمیت غیر قانونی طریقے سے قائم ہونے والے لاہور سب کیمپس کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فاؤنڈیشن آف لاہور سب کیمپس،لمٹ(LIMT)،ایجوکیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن سے کری ایٹوایجوکیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن نام تبدیل کرنے کا کیس سنڈیکیٹ کی سامنے پیش کرنا ہے۔مزید مدثر کامران نے سابقہ لاہور سب کیمپس کو 5جون 2015کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے بی ایس بائیو کیمسٹری،بی ایس بائیو ٹیکنالوجی اور یم فل بائیو کیمسٹری جیسے نئے ڈگری پروگرام شروع کرنے کی اجازت دی جو کہ یونیورسٹی آف سرگودھا مین کیمپس میں بھی نہیں پڑھائے جا رہے تھےیہ معاملہ پہلے پر نیب کے ریڈار پر آچکا ہے اور سابق وائس چانسلر نیب کی حراست میں ہیں۔مدثر کامران جو کہ سابقہ وی سی اکرم چوہدری کے منظور نظر آفیسر رہ چکے ہیں اور غیر قانونی کیمپسز قائم کرنے ودیگر غیر قانونی کاموں میں احکامات جاری کرنے میں فرنٹ مین کا کردار ادا کرتےرهے ہیں۔واضح رہے کہ سابقہ پرائیویٹ سب کمپسز کے قائم کرنے کے معاملے پر نیب میں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ایکشن لے رکھا ہے اس کیس میں کیمپسز مالکان نے پلی بارگین کیا ہے کیونکہ یہ کیمپسز غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے تھے۔

  • پاکستانی فوج بھارت کیخلاف یہ… کر رہی ہے؟انڈیا نے کی سیٹلائٹ تصویریں جاری، کہا عمران خان کا پورا ہاتھ ہے

    پاکستانی فوج بھارت کیخلاف یہ… کر رہی ہے؟انڈیا نے کی سیٹلائٹ تصویریں جاری، کہا عمران خان کا پورا ہاتھ ہے

    بھارتی خفیہ ایجنسیوں ور عسکری حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد سے خطرناک قسم کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور انڈیا کے خلاف جو خطرناک منصوبہ بندی کی گئی ہے اس کے پیچھے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا پورا ہاتھ ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ویب سائٹ نیوزڈاٹ18 نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے خلاف جنگ کی طرح کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں بھارتی میڈیا نے اپنی ایجنسیوں کی طرف سے جاری کردہ پاکستان کی مبینہ سٹیلائٹ تصویریں بھی جاری کی ہیںجن سے متعلق کہا گیا ہے کہ ان تصویروں سے انڈیا میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

    بھارتی  کا کہنا ہے کہ سٹیلائٹ سے حاصل کردہ تصویروں کو دیکھ کرصاف لگتا ہے کہ پاکستان کی تین بندرگاہوں کراچی، اومارا اور گوادر میں ایک جیسا آپریشن چلایا جا رہا ہے اور ان بندرگاہوں کو مبینہ طور پر مکمل خالی کرا دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تصویروں میں مبینہ طور پر صاف نظر آ رہا ہے کہ اورمارا میں بحری اڈہ اب پوری طرح سے خالی ہے۔ وہیںگوادر بندرگاہ کو بھی پوری طرح سے خالی کرا دیا گیا ہے جبکہ کراچی میں بحریہ ڈاک کے تین جہاز کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ہندوستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ پچھلے تین مہینوں سے لی جا رہی اس سٹیلائٹ تصویر میں یہ تصویریں سب سے الگ دکھائی دیتی ہیں۔بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ راولپنڈی میں چاک لالا کے نور خان پاکستان ائیرفورس بیس کیمپ کو بھی پوری طرح سے خالی کرا دیا گیا ہے۔

  • شریف خاندان کی کرپشن کی ایسی کہانی منظر عام پر کہ ہر کوئی منہ میں انگلیاں دبانے پر مجبور

    شریف خاندان کی کرپشن کی ایسی کہانی منظر عام پر کہ ہر کوئی منہ میں انگلیاں دبانے پر مجبور

    نوازشریف خاندان کی مالی کرپشن کی ایک اور کہانی منظر عام پر آ گئی ہے ۔

    کالم نگار اور کتب کے مصنف میر محمد علی خان نے ٹوئٹر پر انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف نے 4.8ملین ڈالر کی رقم لندن سے جائیداد خریدنے کے لیے لوٹاہ رئیل سٹیٹ کو بھیجی ۔اس سودے کو 2ماہ بعد منسوخ کر دیا گیا اور لوٹاہ کو کہا گیا کہ وہ رقم کو لندن کی بجائے پاکستان واپس بھیجے ۔ لوٹاہ نے یہ رقم چوہدری شوگرملز کے اکاﺅنٹ میں واپس بھیج دی۔ دیکھنے میں ایسے لگ رہا تھاجیسے یہ رقم ناصر لوٹاہ کی طرف سے چوہدری شوگرملزکو بھیجی گئی ۔لیکن د رحقیقت یہ رقم نواز شریف کو واپس بھیجی گئی۔

    یہاں سے فراڈ کا آغاز ہوتا ہے۔ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے ناصر لوٹاہ کے متعلق جعلی پیپر اور ڈاکومینٹس بنوائے۔انہوں نے ایسے ظاہر کیا جیسے ناصر لوٹاہ چوہدری شوگر ملز میں حصص خرید رہا ہے۔

    دریں اثنا ناصر لوٹاہ کو اس بات کا کوئی آئیڈیا نہیں تھا کہ پاکستان میں اس کے نام پر کیا ہور ہا ہے۔حصص جعلی دستاویزات کے ذریعے ناصر لوٹا ہ کو منتقل کر دیئے جاتے ہیں۔

    اس کے بعد یہ حصص مریم نواز کو ٹرانسفر کر دیئے جاتے ہیں۔ ایسے ظاہر کیا جاتا ہے کہ مریم نے حصص لوٹاہ سے خریدے۔ لیکن مریم نے ایک دھیلا بھی لوٹاہ کو نہیں دیا اور حصص ٹرانسفار ہو گئے۔

    نیب نے اس ٹرانزیکشن کو پکڑ لیا کہ لوٹاہ کو کچھ بھی ادا نہیں کیا۔ نیب نے تحقیقات کے بعد لوٹا ہ سے رابطہ کیا ۔ ناصر نے بتایا کہ کہ اس نے چوہدری شوگر ملز سے ایک بھی شیئر نہیں خریدا اور یہ کہ میری کمپپنی نے جو رقم بھیجی وہ ان کی اپنی رقم تھی جو فلیٹ خریدنے کے بعد کینسل کے گئے۔

    نیب نے لوٹاہ کو پاکستان آنے کو کہا۔ وہ پاکستان چلا گیا اور وہ تمام ڈاکومینٹس اور ثبوت دے دیے جہاں سے اس کی کمپنی کی طرف سے بھیجے گئے اور ان کا تعلق کس شخصیت سے ہے۔ نیب نے مریم نواز شریف کو منی ٹریل مہیا کرنے کا کہا۔ جبکہ نیب کے پاس منی ٹریل پہلے سے موجود تھی۔

    ناصر لوٹاہ کو اس کے علم کے بغیر استعمال کیا گیا۔ وہ ایک مشہور بزنس مین ہے جو پاکستان سے محبت کرتا اور تمام معلومات فراہم کرنے کے لیے پاکستان چلا آیا۔یہ دنیا میں ایک بزنس مین کے نام پر مل خریدنے کا پہلا کیس ہے جسے پتہ ہی نہیں وہ اس مل کامالک ہے۔

    یہ مالی جرائم کا سب سے بڑا کیس تھا جو پاکستان میں دیکھا گیا۔

  • پی ٹی آئی چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے گورنمنٹ آف پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا

    پی ٹی آئی چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے گورنمنٹ آف پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا

    حکمران جماعت پی ٹی آئی کی چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھارتی سیکولر لوگوں سے امید نہیں کہ وہ کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کوشش کریں گے لیکن وہ انہیں ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ اب محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے لوگ حکومت کے فیصلے کو منسوخ کروانے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

    سیف اللہ نیازی نے کہا کہ اگر بھارت نواز کشمیری سیاست دان اور سیکولر بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو انصاف نہ دلا سکے تو پھر پاکستانی عوام آزاد کشمیر اسمبلی اور پاکستانی پارلیمنٹ سے جہاد یا کشمیر کی آزاد ی کے لیے جنگ کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے ۔

    پی ٹی آئی رہنما نے ان خیالات کا اظہار ڈی چوک پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    انہوں نے کہاکہ جنگ وسائل یا ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ ایمان کی طاقت سے لڑی جاتی ہے۔ کشمیر کا مستقبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

  • آج پھر جنرل محمد یحییٰ خان کی یادیں تازہ ہوگئیں ، کیونکر وہ یاد آرہے ہیں‌ ؟ جانیئے اس رپورٹ میں‌

    آج پھر جنرل محمد یحییٰ خان کی یادیں تازہ ہوگئیں ، کیونکر وہ یاد آرہے ہیں‌ ؟ جانیئے اس رپورٹ میں‌

    لاہور : جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کی بری فوج کے پانچویں سربراہ اور تیسرے صدر مملکت تھے۔ وہ آج کے دن 10 اگست 1980کو جہان فانی سے کوچ کرگئے، جنرل محمد یحییٰ خاں 1966ء میں بری فوج کے سربراہ اور پھر ایوب خان کے استعفٰی کے بعد عہدۂ صدارت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971ء میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔

    وہ 1917میں پنجاب کے شہر چکوال میں پیدا ہوئے۔ سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے۔ ان کے علاوہ ان کا ایک بھائی آغا محمد علی اور پانچ بہنیں بنام حسینہ بی بی، حمیدہ بی بی، حمایت بی بی، وفا بی بی اور اختر بی بی تھیں۔
    یحیی خان کے بیٹے علی یحیی کے بقول ان کے آباواجداد 200 سال قبل براستہ افغانستان برصغیر میں آئے اور پشاور کو مسکن بنایا۔ یحیی خان کے خاندان کا تعلق قزلباش ذات سے ہے۔ والد خان بہادر آغا سعادت علی خان انڈین پولیس میں ایک اعلی عہدیدار تھے۔

    ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کرنے کے بعد جامعہ پنجاب سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون چلے گئے۔ 1938ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران متعدد محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ 1945ء میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے کورس مکمل کرکے مختلف سٹاف عہدوں پر متمکن رہے ۔ بعد ازاں سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔

    قیام پاکستان کے بعد مختلف ڈویژنل ہیڈ کوارٹروں اور جنرل ہیڈ کوارٹر میں اعلی عہدوں پر فائز ہوئے۔ 1962ء میں مشرقی پاکستان کے گیریژن آفیسر کمانڈنگ مقرر کیے گئے۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں نمایاں خدمات کے صلہ میں ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا۔ ستمبر 1966ء میں جنرل محمدموسی خان کے ریٹائر ہونے پر افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے۔ بعد میں ایوب خان کے جانے کے بعد ملک کے صدر بھی رہے ، جنرل محمد یحییٰ خان 10 اگست 1980 کو وفات پاگئے

  • ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھ فاؤ المعروف رتھ فاؤ کون تھیں؟

    ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھ فاؤ المعروف رتھ فاؤ کون تھیں؟

    رتھ فاؤ کی وفات
    ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ (جرمن: Ruth Katherina Martha Pfau) المعروف رتھ فاؤ (ولادت: 1929ء تا 10 اگست 2017ء) ایک جرمن ڈاکٹر، سرجن اور سوسائیٹی آؤ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آؤ میری نامی تنظیم کی رکن ہے۔ اس نے 1962ء سے اپنی زندگی پاکستان میں کوڑھیوں کے علاج کے لیے وقف کی ہوئی ہے۔ 1996ء میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کو قابو میں قرار دے دیا۔ پاکستان اس ضمن میں ایشیاء کے اولین ملکوں میں سے تھا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کا انتقال 10 اگست 2017ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

    9 ستمبر 1929 کو جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہونے والی رُتھ کیتھرینا مارتھا فائو کے خاندان کو دوسری جنگ عظیم کے بعد روسی تسلط والے مشرقی جرمنی سے فرار پر مجبور ہونا پڑا۔ مغربی جرمنی آکر رُتھ فائو نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا اور 1949 میں "مینز” سے ڈگری حاصل کی۔ زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ڈاکٹر رُتھ کو ایک مشنری تنظیم "دختران قلب مریم” تک لے آئی اور انہوں نے انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد حیات قرار دے لیا۔
    پاکستان کے لیے خدمات

    سن 1958ء میں ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان] کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔

    پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔

    1960 کے دوران مشنری تنظیم نے ڈاکٹر رُتھ فائو کو پاکستان بھجوایا۔ یہاں آکر انہوں نے جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھی تو واپس نہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ کوڑھیوں کی بستی میں چھوٹا سے فری کلینک کا آغاز کیا جو ایک جھونپڑی میں قائم کیا گیا تھا۔ "میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر” کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔ اسی دوران میں ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا.
    مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 1963 میں ایک باقاعدہ کلینک خریدا گیا جہاں کراچی ہی نہیں، پورے پاکستان بلکہ افغانستان سے آنے والے جذامیوں کا علاج کیا جانے لگا۔ کام میں اضافے کے بعد کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے کلینک قائم کیے گئے اور ان کے لیے عملے کو تربیت بھی ڈاکٹر رُتھ فائو ہی نے دی۔ جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر رُتھ نے پاکستان کے دورافتادہ علاقوں کے دورے بھی کیے اور وہاں بھی طبی عملے کو تربیت دی۔ پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی ہسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کیے۔

    اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل لیپرسی کنٹرول پروگرام ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر رُتھ فاو، ان کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل کی بے لوث کاوشوں کے باعث پاکستان سے اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن ہوا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے1996 میں پاکستان کو ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل کیا جہاں جذام کے مرض پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا گیا۔
    اعزازات

    حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔ڈاکٹر رُتھ فائو کی گرانقدر خدمات پر حکومت پاکستان ، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا جن میں نشان قائد اعظم، ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، جرمنی کا آرڈر آف میرٹ اور متعدد دیگر اعزازت شامل ہیں۔آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ ڈاکٹر رُتھ فائو جرمنی اور پاکستان دونوں کی شہریت رکھتی ہیں اور گزشتہ 56 برس سے پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔انہیں پاکستان کی”مدر ٹریسا” بھی کہا جاتا ہے۔

    1969: آرڈر آف میرٹ (جرمنی)
    1969: ستارہ قائد اعظم
    ہلال امتیاز
    ہلال پاکستان
    2002: رامن میگ سیسے انعام[
    اپریل 2003: Jinnah Award for 2002
    2004: ڈاکٹر آف سائنس (DSc)، honoris causa. آغا خان یونیورسٹی، کراچی
    2010 نشان قائد اعظم عوامی خدمات پر

  • آئل ٹینکر میں دھماکہ 65 ہلاک درجنوں زخمی ، ہر طرف لاشیں ہی لاشیں

    آئل ٹینکر میں دھماکہ 65 ہلاک درجنوں زخمی ، ہر طرف لاشیں ہی لاشیں

    دارالسلام:احمدپور شرقیہ کی تاریخ افریقی ملک تنزانیہ میں بھی دہرائی گئی جہاں لوگ آئل ٹینکر سے بہنے والے تیل کو اکٹھا کرتے کرتے آگ کی لپیٹ میں‌آکر ہلاک ہوگئے ہیں. اطلاعات کے مطابق افریقی ملک تنزانیہ میں آئل ٹینکر میں دھماکے سے 65افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

    تنزانیہ کے سرکاری ٹی وی کے مطابق آئل ٹینکر میں دھماکے کا واقعہ دارالحکومت دارالسلام سے 120 میل مغرب میں موروگورو کے علاقے میں پیش آیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹینکر کو حادثہ پیش آنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد آئل جمع کرنے میں مصروف تھی کہ دھماکا ہو گیا۔

    دوسری طرف حکومتی ترجمان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آئل ٹینکر کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ بالکل اسی طرح ایک واقعہ پاکستان کے شہر احمد پورشرقیہ میں پیش آیا تھا جہاں سیکڑوں لوگ آئل ٹینکر سے بہنے والے تیل کو اکھٹا کرنے کے دوران جل کر ہلاک ہوگئے تھے

  • تینوں رب دیاں رکھاں ، لاہور کا اللہ رکھا شیخ رشید کے شہر سے برآمد

    تینوں رب دیاں رکھاں ، لاہور کا اللہ رکھا شیخ رشید کے شہر سے برآمد

    لاہور : اولاد جیسی بھی ہو والدین کی آنکھوں کا تارا ہوتی ہے. لاہور کا اللہ رکھا معذرو تو تھا لیکن والدین اور بہن بھائیوں کو جان سے پیارا بھی تھا . پانچ سال قبل لاپتہ ہونے کے بعد گھروالوں کو غموں میں چھوڑ گیا . پانچ سال بعد راولپنڈی چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے لاہور سے پانچ سال قبل لا پتہ ہونے والے بچے کے والدین کو ڈی این اے رپورٹ کی مدد سے تلاش کر لیا اور والدین سے ملا دیا

    تفصیلات کے مطابق پانچ سال قبل بچھڑنے والا بچہ اللہ رکھا راولپنڈی سے مل گیا، چائلڈ پروٹیکشن بیورو راولپنڈی علی عابد نقوی کا کہنا تھاکہ بچے کو پانچ سال قبل پیر ودہائی اڈے سے بھیک مانگتے ہوئے تحویل میں لیا جو ذہنی طور پر معذور اور اپنے نام کےعلاوہ کچھ بتانے سے قاصر تھا۔

    ذرائع کے مطابق ڈی این اے اور پھر عدالتی کارروائی کے بعد بچے کو بھائی کے حوالے کردیاگیا،اللہ رکھا کا بڑا بھائی محمد بوٹا اپنے گمشدہ بھائی کو لینے چائلڈ پروٹیکشن بیورو پہنچا،پانچ سال بعد چھوٹا بھائی ملنےپر ان کی خوشی دیدنی تھی،اللہ رکھا اب پانچ سال بعد بڑی عید کی خوشیاں اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ منائے گا۔

  • لودھراں : بکرا منڈی لگ گئی

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) ملک بھر کے دوسرے شہروں طرح ضلع لودھراں میں بھی عید قرباں کی آمد کے ساتھ ہی مویشی منڈیاں سج گئی ہیں

    میونسپل کمیٹی کی جانب سے سایہ دار جگہ اور ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا گیا ہے،سنت ابراھیمی کی ادائیگی کے لئے عوام کا کافی رش دکھائی دے رہا ہے،جانوروں میں کانگو وائرس سے بچاؤ اور دیگر بیماریوں کی روک تھام کے لئے محکمہ لائیوسٹاک کے کیمپ بھی لگائے گئے ہیں،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ملک جمیل ظفر کی ہدایت پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں-