Baaghi TV

Author: +9251

  • دنیاپور : حادثے میں نوجوان جاں بحق

    دنیاپور ( نمائندہ باغی ٹی وی) کے نواحی علاقے چک نمبر 327 ڈبلیو بی کا 28 سالہ نوجوان ڈرائیور محمد مشتاق سکھیرا جو کرائے کی کار چلاتا ہے بارات کے ساتھ ہارون آباد گیا ہوا تھا

    کار ڈرائیو کرتے ہوئے تیزی رفتاری کی وجہ سے کار نیم کے بڑے درخت کے ساتھ جا ٹکرائی جس کی وجہ سے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا ساتھ میں اگلا سیٹ پر بیٹھے نوجوان لڑکے کو معمولی چوٹیں ۔

  • فریال تالپور کی حالت تشویشناک،بلاول بھٹو ہسپتال روانہ ، زرداری کو بتا دیا گیا

    فریال تالپور کی حالت تشویشناک،بلاول بھٹو ہسپتال روانہ ، زرداری کو بتا دیا گیا

    اسلام آباد: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پھوپھی جان محترمہ فریال تالپور کی حالت تشویشناک ، بلاول ہسپتال روانہ ہوگئے ، فریال تالپور کی اطلاع آصف علی زرداری کو دے دی گئی ، اطلاعات کے مطابق پولی کلینک ہسپتال کے ڈاکٹروں نے فریال تالپور کی حالت تشویش ناک قرار دے دی، ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ فریال تالپور کو ایسی حالت میں جیل منتقل کیا جانا درست نہیں ہوگا۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق نیب اہل کاروں نے ڈاکٹروں کی رائے کو مسترد کردیا، فریال تالپور کو زبردستی جیل لے جانے پر اصرار کررہے ہیں، ذرائع فریال تالپور کے وکیل فاروق نائیک نے نیب اہل کاروں کے روئیے کو نامناسب قرار دے دیا، فریال تالپور کو عدالت نے 19 اگست تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات دئیے ہیں۔

  • شاہ محمود قریشی،یوسف رضاگیلانی اور مخدوم جاوید ہاشمی ملتان میں عید منائیں گے

    ملتان کی مشہور ومعروف مساجد،عید گاہ اور درباروں میں نماز عیدالضحی کی ادائیگی کے اوقات جاری کردیئے گئے۔شاہی عید گاہ خانیوال روڈ میں نماز عید 8:15 بجے ادا کی جائے گی۔مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنمامخدوم جاوید ہاشمی عید نماز شاہی عید گاہ خانیوال روڈ پر ادا کریں گےجبکہ شاہی عید گاہ میں نماز عید کی امامت علامہ سید مظہر سعید کاظمی کریں گے۔مخدوم جاوید ہاشمی بعدازاں نماز شہریوں سے عید ملنے کے ساتھ ساتھ میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔قدیمی جامع مسجد ممتاز آباد میں عید نماز 8 بجے ادا کی جائے گی اور یہاں نمازعید کی امامت کے فرائض علامہ محمد فاروق سعیدی اداکریں گے۔دربار حضرت موسیٰ پاک شہید پر عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی جبکہ نماز عید کی امامت قاری محمد سعید سرمد کریں گے۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عید نماز دربار حضرت موسیٰ پاک شہید پر ادا کریں گےاور بعدازاں شہریوں سے عید ملنے کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کریں گے۔جامع مسجد عمر پاک گیٹ میں عید نماز 9 بجے ادا کی جائے گی جبکہ نماز کی امامت ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری کریں گے۔جامع مسجد نوری حضوری شریف پورہ میں عید نماز 7:15 پر ادا کی جائے گی جبکہ نماز عید کی امامت علامہ سید محمد رمضان شاہ فیضی کریں گے۔جامع مسجد حنیفہ غوثیہ باغ عام خاص میں عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی مولانا جاوید عالم سعیدی امامت فرمائیں گے۔ دربار حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی پر عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی نماز عید جامع مسجد حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی پر ادا کریں گےجبکہ عید نماز کی امامت حافظ بلال احمد اویسی کریں گے۔شاہ محمود قریشی بھی بعدازاں نماز میڈیا سے گفتگو کریں گے۔دربار حضرت شاہ رکن عالم پر عید نماز 8:15 پر ادا کی جائے گی جبکہ عید نماز کی امامت مولانا غلام درویش کریں گے۔

  • عید پر مہندی،چوڑیوں کے علاوہ جانوروں کو بھی سجایا جانے لگا

    عید پر مہندی،چوڑیوں کے علاوہ جانوروں کو بھی سجایا جانے لگا

    عید کی خریداری، چوڑیوں، مہندی کے سٹالوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو سجانے والے سامان کے سٹالوں پر بھی لوگوں کا رش لگ گیا
    سرگودھا۔09اگست(خبر رساں ایجنسی)عید کی خریداری کے ساتھ ہی چوڑیوں اور مہندی کے سٹالوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو سجانے والے سامان کے سٹالوں پر لوگوں کا رش دیکھنے میں آرہا ہے جہاں پر لوگ اپنے لیے چوڑیوں،مہندی اور دیگر اشیاء خرید رہے ہیں وہاں پر اپنے جانوروں کوخوبصورت بنانے کے لیے جھانجریں، ہار، خوبصورت مالا اور اسی طرح کیدیگر اشیاء خرید کر اپنے جانوروں کو سجا رہے ہیں جبکہ کئی لوگوں نے اپنے جانوروں کے جسم پر عید مبارک، میرا پیارا دوست اور اسی طرح کے مختلف فقرے لکھنا شروع کردیئے ہیں اور عید کی تیاریاں گزرتے وقت کیساتھ ساتھ عروج پر پہنچتی جارہی ہیں۔

  • وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    یہ بات 1965 کی ہے جب پاک بھارت جنگ ہوئی،6 ستمبر 1965 کی صبح 9 بجے لاہور مین افواہ پھیلی کہ بھارت نے پاکستان میں حملہ کردیا ہے لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر ہے۔

    1965 کی جنگ میں جہاں دراصل کشمیر میں جنگ ہورہی تھی اور ہم لوگ کشمیر میں لڑ رہے تھے، پاکستان اندازہ بھی نہیں لگاسکتا تھا کہ بھارت کشمیر کے علاوہ پنجاب اور بالخصوص لاہور سے حملہ کرسکتا ہے، اس تلخ حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارتی فوج واہگہ کے ذریعے لاہور کے شالامار باغ تک پہنچ گئی اور ہم لوگ اس سے لاعلم تھے کہ بھارتی فوج شالامار باغ تک پہنچ گئی، تاہم جب بھارتی فوج نے دیکھا کہ یہاں تو کوئی پاکستانی فوج نظر نہیں آرہی تو انہیں خیال آیا کہ ہوسکتا یہ کوئی پاکستانی چال ہو کہ ایک دفعہ جب ہم لوگ شہر کے اندر داخل ہوں تو ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر ہمیں تباہ کردیا جائے لیکن وہ حقیقت سے ناواقف تھے۔ خیر بھارتی فوج یہ پاکستانی چال سمجھ کر واپس بھارت چلی گئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ بھارتی شالامار باغ تک ضرور آئے تھے۔

    اب کچھ بات کرلیتے ہیں کشمیر کی، جب ہمارے پاس کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا اور ہم نے یہ موقع بآسانی گنوا دیا۔1965 کی جنگ میں جہاں ہم نے کئی بھارتی چوکیاں تباہ کیں اور کئی بھارتی فوجیوں کو مار ڈالا۔ یہ ہی نہیں ہم نے بھارتی فوجیوں کو قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو 1965 کی جنگ میں ہم نے ایک طرح سے بھارتی فوجیوں کو کافی مارا اور قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس طرح یہ وہ موقع تھا جب ہم بھارت سے کشمیر بآسانی حاصل کرسکتے تھے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ ہماری فوج نے بھارتی فوج کو میدان میں کافی مارا اور دوسری بڑی وجہ بھارتی فوج کی چین کے ہاتھوں 1963 کی جنگ میں شکست ہے۔ 1963 میں بھارتی فوج کو چین سے بہت مار پڑ چکی تھی، یہی وجہ تھی کہ ہمارے بڑے سمجھتے تھے کہ اب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے اس لیے کشمیر پر چڑھائی کردی جائے، ہم لوگ کشمیر میں لڑتے رہے اور وہ شالامار سے ہوکر واپس چلے گے لیکن ہماری فوج نے بھارتی فوج کو 1965 میں خوب مارا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ موقع تھا کہ بس ہم کشمیر چھین لیتے کیونکہ نہ صرف بھارتی فوج کو چین سے شکست ہوئی بلکہ ہماری فوج نے بھی بھارتی فوج کو خوب مزا چکھایا۔ اس طرح اس چھوٹے سے دورانیے میں 2 جنگوں میں شکست کھانے کے بعد بھارتی فوج، بھارتی حکومت اور ان کی عوام کا مورال بالکل ڈاون ہوگیا تھا۔ ہم لوگ چاہتے تو کشمیر بآسانی چھین سکتے تھے۔

    لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ ہمارے بزرگوں نے 10 جنوری 1966ء کو معاہدہ تاشقند پر دستخط کردیے۔ پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ”معاہدہ تاشقند“ پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کیلئے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان 3 جنوری 1966ءکو اپنے سولہ رکنی وفد کے کیساتھ روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے‘ انکے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو‘ وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین وزیر قانون منظور قادر اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے۔ اس معاہدے میں ہمارے عظیم بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ کشمیر کا حل مزاکرات سے نکالا جائے گا، اور اس پر ہمارے سابق صدر ایوب خان کے دستخط موجود ہیں۔ پاکستان نے کشمیر کا حل نکالنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اس وقت نکالا جب بھارت کو 2 جنگوں میں مار پڑ چکی تھی اور پاکستان کے پاس بھارت کے کئی فوجی قیدی بھی تھے اس طرح پاکستان چاہتا تو بآسانی اپنی ہر کوئی بات منوا سکتا تھا لیکن پاکستان نے مذاکرات کرنے کو ترجیح دی جو آج تک ہورہے ہیں۔

    معاہدہ تاشقند ہی دراصل وہ معاہدہ ہے جس نے ایوب خان کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے بھٹو نے یہ کہہ کر ایوب خان حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی کہ ایوب خان نے معاہدہ تاشقند پر دستخط کرکے پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کا سودا کیا ہے۔ اور دراصل یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ اب کشمیر کبھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے لیکن اسے تسلیم کرلینا چاہیئے، ایک طرف بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے کشمیر کی نہ صرف خود مختاری ختم کی ہے بلکہ اب کشمیر کا سارا کنٹرول براہ راست بھارتی وفاق کے پاس چلا گیا ہے۔ دوسری طرف ہماری معصوم قوم 21ویں صدی میں جنگ کی باتیں کرتے ہیں جو حقیقت سے ناواقف ہیں. معاہدہ تاشقند کسی مغربی ملک کی سازش نہیں بلکہ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر ہمارے صدر کے دستخط آج بھی موجود ہیں۔ اس معاہدے کو 53 سال ہوگئے ہیں اور آج 53 سال بعد بھی مذاکرات چل رہے ہیں جو شاید اب چلتے ہی رہیں گے۔

  • نواز شریف ، مریم نواز اور حمزہ جیل سے رہا ؟ صدر نے قیدیوں کی سزا معاف کرنے کا اعلان کردیا

    نواز شریف ، مریم نواز اور حمزہ جیل سے رہا ؟ صدر نے قیدیوں کی سزا معاف کرنے کا اعلان کردیا

    لاہور: صدر پاکستان عارف علوی نے72 ویں یوم آزادی کے موقع پر 90 دن کی سزا معاف کرنے کا اعلان کردیا ۔ قیدیوں کی سزا معافی کا نوٹیفکیشن آئی جی جیل خانہ جات کو بھجوا دیا، نوٹیفکیشن کے مطابق65 سال سےزائد العمر قیدیوں پر 90 دن کی عام معافی کا اطلاق ہوگا، لیکن بدقسمتی سے اس کا اطلاق نواز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز پر نہیں ہوگا

    ذرائع کے مطابق اس معافی میں ایسی خواتین جن کے ساتھ بچے ہیں انکی ایک سال کی سزا معاف ہوگی جبکہ قتل ،زنا،دہشت گردی ،نیب ،ڈکیتی و دیگر سنگین جرائم کے ملزمان پر اطلاق نہیں ہوگا

    حکومت کی طرف سے پہلی مرتبہ یہ سہولت دی گئ ہے کہ قیدیوں کو عید قربان کے موقع پر عزیز واقارب سے ملوانے کے لیے جیل حکام کی جانب سے عام ملاقات کا اعلان کیا گیا، عید کی چھٹیوں سے پہلے 2 روز شیڈول سے ہٹ کر عام ملاقات کرائی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق سپرنٹنڈنٹ جیل اسد وڑائچ کا کہنا ہےکہ صبح ساڑھے سات بجے سے 3 بجے تک آنے والے ہر ملاقاتی کو جیل میں قید اپنے پیاروں سے ملوایا جارہا ہے، ان دنوں میں عام طور پر 12 سو سے 15 سو تک ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں۔

  • تحریک لبیک پاکستان سرگودہا کے زیر اہتممام ریلی کا انعقاد کیا گیا

    تحریک لبیک پاکستان سرگودہا کے زیر اہتممام ریلی کا انعقاد کیا گیا

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی )تحریک لیبک پاکستان ضلع سرگودہا کے زیر اھتمام کشمیر ریلی کا انعقاد کیا گیا ریلی گل والا چوک سے شروع ھو ئی اور شاھین چوک میں اختتام پذیر ھو ئی ریلی میں سینکڑوں نوجوانوں نے شرکت کی ریلی کے شرکاء نے کتبے اٹھارکھے تھے جن میں کشمیر ھمارا ھے، کشمیر لیکر رھیں گے،کشمیر بنے گا پاکستان درج تھا آخر میں ضلعی امیر انجینئر عبدالوھاب نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ حکومت فی الفور کشمیر کی آذادی کے لئے عملی اقدام کرے کشمیر پاکستان کا ھے انہونے کہا کہ انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ھوگا انہونے کہا کہ علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں تحریک لیبک پاکستان کشمیریوں کے لئے جدوجہد
    جاری رکھے ھوئے ھے اور کشمیر کی آزادی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی بعد ازاں کشمیر کی آزادی کیلیے خصوصی دعا بھی کی گئی

  • پاکستانیوں تیار رہو، کشمیر کی جانب مارچ کا اعلان کردیا گیا

    پاکستانیوں تیار رہو، کشمیر کی جانب مارچ کا اعلان کردیا گیا

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ اگر کشمیر اور کشمیریوں کی آواز نہ سنی گئی تو پاکستان کے 22 کروڑ عوام کشمیر کی جانب پیدل چلیں گے.

    تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے اپنے حالیہ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ افر اب بھی کشمیر اور کشمیریوں کی آواز نہ سنی گئی تو پاکستان کے 22 کروڑ عوام، جس میں مرد، بچے اور عورت شامل ہیں کشمیر کی جانب پیدل مارچ کریں گے. ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں بھی دیکھتا ہوں کہ لاکھوں کشمیریوں کا خون بہانے والا بھارت 22 کروڑ عوام میں سے کتنے کا خون بہائے گا. انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ بھارت نے کیسے ہر دفعہ کشمیر کا مسلئہ حل کرنے سے راہ فرار اختیار کی. محمد علی درانی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں فوری طور پر ریفرنڈم کروایا جائے، بھارت کسی بھی صورت کشمیر پر زبردستی قبضہ نہیں کرسکتا.

    یاد رہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے کشمیر کی خود مختاری ختم کردی ہے جس پر سخت ترین ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے.

  • ن لیگ کے تین حصے ہوں گے ، فیاض الحسن چوہان غائب کی خبریں دینے لگے

    ن لیگ کے تین حصے ہوں گے ، فیاض الحسن چوہان غائب کی خبریں دینے لگے

    لاہور:چوری اور سینہ زوری یہ شریف خاندان کا وطیرہ بن گیا ہے. ن لیگ تین حصوں میں تقسیم ہوجائے گی .ن لیگ عوام کو بے وقوف نہ بنائے،ان خیالات کا اظہار وزیر کالونیز فیاض الحسن چوہان ڈی جی پی آر ایس میں ایک کانفرنس میں‌کیا ،فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کا جھنڈا لیکر چلے ہیں، مودی سرکار سن لے کشمیری عوام تاریخ بدل رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کا خون پی پازیٹو یعنی پاکستان پوزیٹو ہے، کشمیری عوام کی جدوجہد کو پاکستان عوام کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں-

    اپنے خطاب میں فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ن لیگ والے چوری بھی کرتے ہیں اور آنکھیں بھی دکھاتے ہیں، مریم نواز کو پکڑا کرپشن کے الزام میں جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ کشمیر پر تحریک چلانے لگے تھے۔ فیاص الحسن چوہان نے دعوی کیا کہ ن لیگ بکھر چکی ہے

    فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ آئندہ ایک سال میں وہ تین حصوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی گرفتاری پر سب سے زیادہ خوشی شہباز شریف کو ہوئی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ عید کے روز ناشتے میں نواز شریف کی خواہش تو بونگ پائے کھانے کی ہوگی لیکن ڈاکٹر ہی فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کیا کھانا ہے۔

  • سڑکوں پر نماز پڑھنے اور جانوروں کا بازار لگانے سے روک دیا گیا

    سڑکوں پر نماز پڑھنے اور جانوروں کا بازار لگانے سے روک دیا گیا

    عید الاضحی سے کچھ دن پہلے ہی بھارت کے میرٹھ شہر میں سڑکوں پر نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سڑک پر لگنے والی جانوروں کے بازار پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندی نقل حمل کے متاثر ہونے کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔

    میرٹھ پولیس کے اقدام کی شہر کے قاضی زین الساجدین نے حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز پر کسی طرح کی پابندی نہ لگائی جائے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق شہر قاضی کی تجویز کو انتظامیہ کی طرف سے منظور کر لیا گیا ہے۔

    یوگی حکومت کے اس اقدام کے حوالہ سے مسلمانوں میںملا جلا رجحان پایا جا رہا ہے تاہم، شہر قاضی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ مسلمان سڑکوں پر نماز جمعہ نہ پڑھیں اور انتظامیہ کا تعاون کریں۔

    نماز جمعہ کے لئے جگہ کم پڑ جانے کے بعد لوگوں نے ان مسجدوں کی طرف رخ کیا جو محلوں اور گلیوں میں موجود ہیں۔ لیکن اس دوران کئی لوگ نماز جمعہ کے خطبہ اور جماعت میں شرکت نہیں کر سکے۔

    قبل ازیں میرٹھ کے ایس ایس پی اجے ساہنی نے حکم جاری کیا کہ سڑکوں پر نماز کی پابندی کی اگر خلاف ورزی کی جائے تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ میرٹھ پولس نے قربانی میں استعمال ہونے والے 20 اونٹوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔