بھارتی ریاست اترپردیش کے کوتوالہ شہر علاقے میں ایک مندر کے پیچھے کوڑے کے ڈھیر میں دو نومولود بچیوں کی لاش ملنے سے ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ نرسنگھ مندر کے پیچھے کوڑے دان کے پاس دو نومولد بچیوں کی لاش ملنے سے سنسنی پھیل گئی ہے۔ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ ناجائز اولاد کا معاملہ ہو سکتاہے۔
برطانوی خاتون نے اپنے پیار کی خاطر اپنے دو نومولود بچوں کو قتل کردیا
یاد رہے کہ چار دن پہلے ضلعی ہسپتال کے سامنے کوڑے کے ڈھیر میں نومولود کی لاش ملی جسے کتے نوچ کر اپنا نوالہ بنا رہے تھے۔
Author: +9251
-

مندر کے پیچھے کوڑے کے ڈھیر سے کیا ملا کہ علاقہ بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا
-

پارلیمنٹ اجلاس میں وزیر اعظم کی تقریر کیسی ہوگی، ڈرافٹ تیار
پارلیمنٹ اجلاس میں وزیر اعظم کی تقریر کیسی ہوگی، ڈرافٹ تیار کر لیا گیا حکومتی ذرائع نےکہا ہےکہ .وزیر اعظم عمران خان کی تقریر مضبوط اور جامع ہو گی، ڈرافٹ تیار کر لیاگیا،
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع نے خبر دی ہے کہ وزیر اعظم کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے لیے تقریر تیار کی جارہی ہے.وزیر اعظم عمران خان کی تقریر مضبوط اور جامع ہو گی،
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اپنے خطاب میں جارحانہ انداز اختیار کریں گے، وزیر اعظم عمران خان اپنی تقریر میں بھارتی عوام سے بھی مخاطب ہوں گے، پارلیمنٹ،قوم،کشمیری عوام اور بین الاقوامی کمیونٹی سے مخاطب ہوں گے،ذرائع وزیر اعظم عمران خان کی پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں تقریر کاڈرافٹ تیار کر لیا گیا.
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو چکا جو کہ شور شرابے اور افرا تفری کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا ہے .اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدام کی مزمت اور حالات پر بحث ہو گی،قومی اسمبلی میںحزب اقتدار کے نمائندوں سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین اورممبران شرکت کر رہے ہیں.اجلاس میں تازہ ترین صورت حال اور بھارت کی طرف سے جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی زیر بحث آئے گی. -

پاکستان کرکٹ بورڈ کا آج حتمی اجلاس
پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی کرکٹ کمیٹی آج گزشتہ اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز پر حتمی مشاورت کرے گی۔
گزشتہ ہفتے ایم ڈی پی سی بی وسیم خان نے تمام کمیٹی ممبران سے ٹیلی فونک مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
کرکٹ کمیٹی کا ایڈوائزری پینل سفارشات مرتب کر کے چیئرمین پی سی بی کو پیش کرے گا۔قومی مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں کی کارکردگی سے متعلق حتمی بات چیت ہو گی۔
یاد رہے کرکٹ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے دوران مکی آرتھر کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اجلاس کے دوران گزشتہ تین سالوں کے دوران کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ یا گیا تھا۔
اجلاس کے دوران کوچ مکی آرتھر، سابق سیلیکٹر انضمام الحق اور کپتان سرفراز احمد نے ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا گیا
-

ورلڈ سکھ فیڈریشن کے صدر دلجیت سنگھ نے ایسی بات کی کہ کشمیری عوام کے دل جیت لیے
ورلڈ سکھ فیڈریشن کے صدر دلجیت سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی برہمن سرکار کی طرف سے کشمیری عوام کے حقوق پر ڈاکا مارا گیا ہے اور کشمیریوں کی رائے کے بغیر قانون ختم کر دیا گیا ہے۔ پہلے کشمیر میں فوج بھیج کر خوف و ہراس کا ماحول بنایا گیا۔ پھر کرفیو لگا کر اسے مزید سخت کیا گیا۔ پوری وادی کو جیل بنا دیا گیا ہے۔
دلجیت سنگھ نے سکھ فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ بھارت سرکار کی کشمیریوں کو ختم کرنے کی پالیسیوں کا ساتھ نہ دیں۔ دلجیت کے مطابق بھارتی حکومت دوسری قوموں کو ہٹانے کے لیے سکھ فوجیوں کو آگے کر دیتی ہے جس کی وجہ سے ان قوموں کا غصہ بھی سکھوں کی طرف ہو جاتا ہے۔ سکھ فوجیوں کو بھارت سرکار کی اس چالبازی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=Z-6bAQ2DZpg&feature=youtu.be
دلجیت سنگھ نے کہا کہ آج کشمیریوں کے رائے دینے کے حق کو جس طرح ختم کر دیا گیا ہے ۔ اس واقعے سے ہی مودی سرکار کی پالیسی واضح ہو گئی ہے۔ آج اپنی آزادی مانگنے والے کشمیریوں کے ساتھ بھارتی فوج جو کر رہی ہے کل سکھوںکے ساتھ یہی کچھ ہو گا۔آج فوج کشمیریوں پر لگائی گئی ہے۔ کل کو سکھوں پرلگائی جائے گی۔
دلجیت سنگھ نے مزید کہا کہ یہ (سکھ فوجی) بھارتی حکومت کا حصہ ہے ۔ یہ سکھوں پر بھی گولیاں چلائیں گے۔سکھ فوجیوں سے دراخواست ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمدنہ کریں اور وہ کشمیری عوام پر ہونے والے تشدد کا حصہ نہ بنیں۔
دلجیت سنگھ کے مطابق بھارت خود کو جمہوری ملک کہتا ہے لیکن اس جمہوری ملک میں جو کشمیر کے حوالے سے قانون بنایا گیا ہے وہ وہاں کے رہنے والوں کی مرضی کے بغیر مسلط کیا گیا۔دلجیت سنگھ نے مزید کہا کہ آزادی مانگنا گناہ نہیں۔ سکھ قوم بھی آزادی مانگتی ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر کشمیری آزادی مانگ رہے تو گناہ نہیں کررہے۔
-

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف بڑی خبرآگئ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی نااہلی سے متعلق نظرثانی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کردیا۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے مراد علی شاہ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت درخواست گزار حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ ‘مراد علی شاہ نے الیکشن 2013 میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا اور انہوں نے کینیڈین شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا تھا’
وکیل حامد خان نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کی نااہلی کا فیصلہ حتمی ہوچکا ہے،.مراد علی شاہ نے کینیڈین شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا تھا،مراد علی شاہ کو دہری شہریت پرسپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کونوٹس جاری کردیا.مراد علی شاہ نے 2013 کے فیصلے پرنظرثانی کیلیے رجوع نہیں کیا،حامد خان
فیصلے پرنظرثانی کیلئے درخواست گزار روشن بریرو نے درخواست دائر کی ہے جس میں مراد علی شاہ کی دہری شہریت پر نااہلی کی استدعا کی گئی تھی.
واضح رہے کہ سپریم کور ٹ میں مراد علی شاہ کی نااہلی سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ مرادعلی شاہ نے بیان حلفی میں دہری شہریت کا ذکر نہیں کیا، دہری شہریت چھپانے پر وہ صادق و امین نہیں رہے، اس لیے انہیں نااہل کیا جائے -

وزیر اعظم کی میچ پر5 ٹویٹس ہوتی ہیں، کشمیر پر ایک بھی نہیں، خرم دستگیر
رہنما مسلم لیگ نون خرم دستگیر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم میچ سے پہلے 5 ٹویٹس کرتے ہیں.لیکن کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر ایک بھی ٹویٹ نہیں آئی.
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق رہنما مسلم لیگ نون خرم دستگیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم میچ سے پہلے 5 ٹویٹس کرتے ہیں.لیکن کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر ایک بھی ٹویٹ نہیں آئی.ان کے ساتھ احسن اقبال بھی میڈیا سےگفتگو کی انہوں نےمیڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ آج کے دن جس بات پر کشمیر اور بھارت میں آگ لگی ہے اس آرٹیکل کا قرارداد میں تذکرہ ہی نہیں کیا گیا. اس بات پر اپوزیشن نےاعتراض کیا ہے.آج ہم نے یہ تقاضا کیا ہے کہ اس کو جان بوجھ کر شامل کیوں نہیں کیا گیا یہ صرف بھول چوک نہیں ہے اس سے بڑی غلطی اور بلنڈر نہیں ہو سکتا. ہمیں بتایا جائے کہ اس شق کو شامل نہ کرنے کے پیچھے کیا سازش ہے. میں جاننا چاہتا ہوں کہ آج کے دن بھی سلیکٹڈ وزیر اعظم کے پاس ٹائم نہیں کہ وہ ایوان میں تشریف لائیں.کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی مصروفیت ہو سکتی ہے
انہوں نےکہا کہ پاکستان اور کشمیر کےلیے سب سے بڑے چیلنچ پر بھی ہمارے وزیر خارجہ بھی حاضرنہیں ہں. اگر وہ حج پر بھی ہیں تو خصوصی طیارے پر واپس آکر ایوان کو اعتماد میں لیتے.اور واپس چلےجاتے.انہوں نے کہا کہ یہ قراداد وزیر اعظم نہیں تو وزیر دفاع قرارداد پیش کرتے . ہمارا تقاضا ہے کہ وزیر خارجہ ایوان کو بریف کرتے یا سلیکٹڈ وزیراعظم ایوان کو اعتماد میں لیتے. وزیر اعظم نےکہا کہ اس نے تاریخ کا سستا ترین دورہ کیا ہے لیکن ان کا یہ سستا ترین دورہ آج کشمریوں اور پاکستانی قوم کو مہنگا ترین دورہ پڑاہے. مسئلہ کشمیر کی حساسیت کےخلاف آپ نے کوئی پرسنل ایجنڈا طے کیا ہے.
-

کشمیر سے بڑھ کرکوئی مصروفیت نہیں، احسن اقبال نے بڑی بات کہہ دی
کشمیر سے بڑھ کرکوئی مصروفیت نہیں، احسن اقبال نے بڑی بات کہہ دی، وزیر اعظم کی غیر حاضری سمجھ سے بالاتر ہے ،
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق رہنما مسلم لیگ نون احسن اقبال نےمیڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ آج کے دن جس بات پر کشمیر اور بھارت میں آگ لگی ہے اس آرٹیکل کا قرارداد میں تذکرہ ہی نہیں کیا گیا. اس بات پر اپوزیشن نےاعتراض کیا ہے.آج ہم نے یہ تقاضا کیا ہے کہ اس کو جان بوجھ کر شامل کیوں نہیں کیا گیا یہ صرف بھول چوک نہیں ہے اس سے بڑی غلطی اور بلنڈر نہیں ہو سکتا. ہمیں بتایا جائے کہ اس شق کو شامل نہ کرنے کے پیچھے کیا سازش ہے. میں جاننا چاہتا ہوں کہ آج کے دن بھی سلیکٹڈ وزیر اعظم کے پاس ٹائم نہیں کہ وہ ایوان میں تشریف لائیں.کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی مصروفیت ہو سکتی ہے
انہوں نےکہا کہ پاکستان اور کشمیر کےلیے سب سے بڑے چیلنچ پر بھی ہمارے وزیر خارجہ بھی حاضرنہیں ہں. اگر وہ حج پر بھی ہیں تو خصوصی طیارے پر واپس آکر ایوان کو اعتماد میں لیتے.اور واپس چلےجاتے.انہوں نے کہا کہ یہ قراداد وزیر اعظم نہیں تو وزیر دفاع قرارداد پیش کرتے . ہمارا تقاضا ہے کہ وزیر خارجہ ایوان کو بریف کرتے یا سلیکٹڈ وزیراعظم ایوان کو اعتماد میں لیتے. وزیر اعظم نےکہا کہ اس نے تاریخ کا سستا ترین دورہ کیا ہے لیکن ان کا یہ سستا ترین دورہ آج کشمریوں اور پاکستانی قوم کو مہنگا ترین دورہ پڑاہے. مسئلہ کشمیر کی حساسیت کےخلاف آپ نے کوئی پرسنل ایجنڈا طے کیا ہے.
-

آغا سراج درانی خود بخود گورنر سندھ بن گئے، صدارتی احکام کی خلاف ورزی
آغا سراج درانی خود بخود گورنر سندھ بن گئے، حکومت سندھ نے صدر کے احکامات مسترد کردیے
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، گورنر سندھ عمران اسمعیل حج پر گئے ہیں ان کی غیر موجودگی میں صدر پاکستان نے ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی کو بنایا تھا جسے سندھ حکومت نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ سپیکر کو گورنر سندھ بننا چاہیے. پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ آئین کی رو سے سپیکر کی موجودگی ڈپٹی سپیکر گورنر نہیں بن سکتے ، سپیکر اسمبلی آغا سراج درانی پر آمدن سے زائد اثاثوں کی بنیاد پر نیب میں کیس چل رہا ہے .یہ پہلا موقع ہو گا کہ کوئی ملزم صوبے کا صدر ہوگا.
-

کشمیری تحریک آزادی کو کنٹرول کرنے کے لیے، تشدد بھارتی حکومتوں کے طریقہ کار کا بنیادی ذریعہ۔
لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن (اے پی ڈی پی) اور جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (جے کے سی سی ایس) کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے شمالی کشمیرکی آزادی اور کشمیری مسلمانوں کی خود ارادیت کی طرف چلنے والی تحریک کے خلاف تشدد کو”منظم اور اندھا دھند“ استعمال کیا ہے۔
اس رپورٹ کا آغاز کشمیریوں سے ہونے والے تشدد سے بچ جانے والے افراد کے ایک مضمون کے ساتھ ہوا ہے: ”جب تک میں زندہ نہیں ہوں ، میں انصاف کے لئے جدوجہد کرتا رہوں گا اورحکمرانوں سے سچ بولوں گا۔“ تقریبا 550 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں گذشتہ چار دہائیوں کے دوران ہندوستانی فوج کے ذریعہ سیکڑوں انفرادی واقعات کی دستاویزات پر فوکس کیا گیا ہے۔ اگرچہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی 1947 کی تقسیم کے زمانے کا ہے ، لیکن 1987 سے یہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ تنازعہ کشمیر کے نتیجے میں اب تک سترہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اس رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ تشدد کو باقاعدہ طور پر ملازمت میں لایا گیا ہے ، اور اسے "حکمت عملی” کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کا مقصد ”لوگوں کی مرضی کو توڑنا“ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ، تقریبا 430 افراد کی جانب سے شہادتیں جمع کی گئیں جنہیںبراہ راست ہندوستانی فوجیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ، جیسے مار پیٹ ، بجلی کا نشانہ بننا ، عصمت دری ، تیز چیزوں سے کاٹنا یا دھات کی سلاخوں سے جلانا جس میں طویل عرصے تک تنہائی کی قید بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں تشدد ایک جاری مسئلہ ہے۔ شازیہ احد ، جو کشمیری انسانی حقوق کی کارکن اور اس رپورٹ کی شریک مصنف ہیں ، کا دعوی ہے کہ ، تشدد کے باوجود ، ”[صورتحال کی] حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مقدمات کی بھی اطلاع نہیں دی جاتی ہے۔“ وہ مزید کہتی ہے کہ اس رپورٹ میں ”کئی دہائیوں سے پیچھے ہونے والے تشدد“ پر توجہ دی گئی ہے۔ احد نے مزید کہا ، کہ حالیہ تشدد کا شکار متاثرین کی شہادتیں اکٹھا کرنا مشکل ہے کیونکہ ہندوستانی حکام ان کی ”مستقل نگرانی“ کر رہے ہیں اور اس طرح ،”بولنے کے خوف سے انتقام لینے والے“ ہیں۔شازیہ احد کے مطابق 1947 سے لے کر اب تک تقریباً 12 ملین افراد کی آبادی پر قابو پانے کے لئے لگ بھگ ساڑھے لاکھ فوجیوں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کو کنٹرول کرنے کے لیے تشدد ہندوستانی حکومتوں کے طریقہ کار کا بنیادی ذریعہ اور لازمی جزو بن چکا ہے۔ شازیہ احد نے کشمیریوں پر منظم طریقے سے استعمال کیے جانے والے تشدد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات واقعہ کا انجام موت ہوتا ہے جیسے 28 سالہ کشمیری استاد رضوان اسد پنڈت کے ساتھ ہوا۔
اے پی ڈی پی اور جے کے سی سی ایس کی اس رپورٹ میں یہ نشاندہی کرنے میں مدد ملی ہے کہ انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کے مقصد سے تفتیش کرنے کے بجائے کشمیریوں کو تحویل میں رکھنا افسوس کا مظاہرہ کرنے کی اقساط کے قریب ہے۔
دی انٹرسیپٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ، قلندر کھٹانہ ایک چرواہے کو 1992 میں ہندوستانی حکام نے گرفتار کیا تھا ، جس پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ پاکستان کے راستے عبور کرنے والے ”عسکریت پسندوں“ کے رہنما کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔رپورٹس کے مطابق ، کھٹانہ کو جموں و کشمیر کے سری نگر میں واقع بدنام زمانہ جیل پاپا II میں قید میں رکھا گیا۔ تفتیش کے دوران ، ”اس کے [کھٹانہ] کے کولہوں اور دوسرے نرم حصوں سے گوشت کاٹا گیا اور اسے کھانے پر مجبور کیا گیا۔”مزید یہ کہ تفتیش کے دوران اس کی ٹانگیں ٹوٹ جانے کے بعد انھیں طبی سہولتیں فراہم کرنے سے سے انکار کردیا گیا جس کی وجہ سے اس کی ٹانگیں میگوٹس سے متاثر ہوگئیں ، اور بعد ازاں کٹوا دیا گیا۔
حتیٰ کہ کھٹانہ کی اہلیہ پر بھی شدید تشدد کیا گیا جس کے کچھ سالوں بعد اس کی موت ہوگئی۔ اب، کھٹانہ نے اپنی زندگی کشمیریوں کے مقصد کے لئے لڑنے اور کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی وکالت کے لئے وقف کردی ہے۔
مزید برآں ، ہندوستانی حکام نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کو ہمیشہ نظرانداز کیا ہے۔ حکومت اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ، (او ایچ سی ایچ آر) کے ساتھ کشمیر میں ہونے والے بڑے پیمانے پر قتل عام کی تحقیقات کے لئے تعاون بند کردیا ہے ۔
مقامی سول سوسائٹی کے کارکنوں کا خیال ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب افراد کی تحقیقات سے انکار کرنا بھارت کی پر تشدد اور کشمیر میں جاری پیشرفت سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کے لئے ہندوستانی حکومت کی کوشش کا ایک حصہ ہے۔ مزید براں ، کشمیری انسانی حقوق کے وکیل اور اس سٹڈی کے شریک مصنف ، پرویز امروز کا دعوی ہے ،”ہندوستانی حکومت کے پاس انسانی حقوق کی پامالی کے الزام کا کوئی ردعمل نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے“۔
امروز نے مزید کہا ، ” آج بھی تشدد برداشت کرنے والے ہزاروں افراد کشمیر میں رہ رہے ہیں۔ کشمیر بین الاقوامی سطح پر ایک غیر منقولہ مسئلہ ہے “۔ انہوںنے مزید کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر میں ہونے والی پامالیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے بھارتی حکومت پر دباو ڈالنے کی ضرورت ہے۔
-

پارلیمنٹ اجلاس ، شیری رحمان نے بڑا اعتراض کر دیا
پیپلز پارٹی کی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے بڑا اعتراض کر دیا انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو آج کے دن اجلاس میں ہونا چاہیے تھا،
باغی ٹی وی رپورٹ کےمطابق پیپلز پارٹی کی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو آچ کے دن اجلاس میں ہونا چاہیے تھا. مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد پاکستان کے وزیر شاہ محمود قریشی کے دورہ حج پر شدید تنقید کی جا رہی ہے. اس بات کو آج پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی واضح کیا ،
ادھر جب اجلاس کا آغاز ہوا تو اپوزیشن کی طرف سے نعرے بازی کی گئی کہ ‘وزیر اعظم حاظرہوں” اس پر شدیدہنگانہ آرائی ہوئی اوراجلاس ملتوی کرنا پڑا.حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اس قسم کی افرا تفری اور بد نظمی پر عالمی سطح پر اچھا پیغام نہیں گیا.