دفتر خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیرآئینی اورقابل مذمت اقدامات پربحث ہوگی۔
بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اور عالمی برادری خاموش ہے ، آگے بڑھ کر بھارت کے مظالم روکنا ہوں گے ، اوآئی سی
قبل ازیں سیکرٹری جنرل او آئی سی ڈاکٹر یوسف نے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ سے اپیل کی تھی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے کشمیر کے معاملے پر اجلاس بلاکر اس معاملے کا پرامن حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرنے کے اقدامات کرے اور سلامتی کونسل بھی اپنا کردار ادا کرے
Author: +9251
-
مقبوضہ کشمیرپر او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس آج جدہ میں ہوگا
-

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، کشمیر کے بارے اہم فیصلے متوقع
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو چکا، ٍحزب اقتدار اور حزب اختلاف کے قائدین کی بھر پور شرکت جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں.
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو چکا،اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدام کی مزمت اور حالات پر بحث ہو گی،قومی اسمبلی میںحزب اقتدار کے نمائندوں سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین اورممبران شرکت کر رہے ہیں.اجلاس میں تازہ ترین صورت حال اور بھارت کی طرف سے جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی زیر بحث آئے گی.
واضح رہے کہ بھارتی صدرنےمقبوضہ کشمیر کی 4 نکاتی ترامیم پردستخط کردیئے جس کے بعد بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیرکی علیحدہ قانون سازاسمبلی ہوگی ، لداخ کومقبوضہ کشمیر سےالگ کردیا گیا بھارتی صدرنے گورنرکا عہدہ ختم کردیا اوراختیارات کونسل آف منسٹرزکوتفویض کر دیئے ،کالے قانون میں مقبوضہ جموں کشمیرآج سےبھارتی یونین کاعلاقہ تصورہوگا ،کالےقانون میں مقبوضہ جموں کشمیراب ریاست نہیں کہلائے گی
-

مقبوضہ کشمیر پر انوپم کھیر کو مودی سرکار کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا
بھارت کے معروف اداکار انوپم کھیر کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے نریندن مودی کے فیصلے کی حمایت کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا۔
اداکار انوپم کھیر کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. انہوں نے مقبوضہ کشمیر کو حاصل نیم خود مختاری اور خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے مودی سرکار کے آرٹیکل اے اور 370 کی خلاف ورزی کر کے متعصبانہ عمل کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے انوپم کھیر پر شدید تنقید کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرارداد یاد دلائی جس میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ اور بھارت کو ووٹنگ کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
انوپم کھیر کو ٹویٹر پر کئی صارفین نے جواب دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو بھی ٹویٹ میں مینشن کیا جب کہ دیگر صارفین نے تاریخی حقائق، معلومات کی کمی اور حالات سے بے خبری پر انوپم کھیر کا خوب مذاق بھی اُڑایا.

ایک صارف نے ان کو جواب دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو مینشن کیا اور سوال اُٹھایا کہ کیا اقوام متحدہ کے بھارت سے تعلق رکھنے والے سفیر صرف نفرت اور پروپیگنڈے کو فروغ دیتے ہیں اور معصوم نہتے شہریوں کے قتل عام کا جواز پیش کرتے ہیں؟
واضح رہے کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا بڑھتی جا رہی ہے اور کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں. بھارت میں مسلمانوں کا رہنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے. بھارت کی جانب سے کلسٹر بم کا استعمال اپنے معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے.
-

ماضی کی معروف ہدایت کارہ،فلم پروڈیوسر اور اداکارہ شمیم آراء
اداکارہ شمیم آرا ۔۔!!
پیدائش
22 مارچ 1938 علی گڑھ
وفات
5 اگست 2016 (78 سال)
وفات لندن
شمیم آرا پاکستانی اداکارہ، فلمی ہدایت کار، فلم پروڈیوسر تھیں۔ وہ 1950ء کی دہائی سے 1970ء کی دہائی تک پاکستان کی مقبول عام اور صفِ اول کی اداکارہ تھیںابتدائی حالات
شمیم آرا 22 مارچ 1938ء کو علی گڑھ موجودہ بھارت میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا پیدائشی نام پتلی بائی تھا مگر فلمی دنیا میں وہ شمیم آرا کے نام سے مشہور ہوئیں۔
فلمی دور
1956ء میں شمیم آرا جب اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کو آئیں تو یہاں ایک فلمی ہدایت کار نجم نقوی نے اُنہیں ایک آئندہ فلم کے لیے کاسٹ کر لیا۔ نجم نقوی اپنی فلم کنواری بیوہ کے لیے کسی نئے چہرے کی تلاش میں تھے اور وہ شمیم آرا کی خوبصورت نرم آواز، معصومانہ انداز سے بہت متاثر ہوئے اور اُنہیں اپنی فلم کنواری بیوہ کے لیے کاسٹ کر لیا جو 1956ء میں ریلیز ہوئی۔ وہ شمیم آرا کی پہلی فلم تھی۔ فلمی دنیا میں شمیم آرا کو متعارف کروانے والے نجم نقوی ہی تھے۔ نجم نقوی نے اُنہیں شمیم آرا کے فلمی نام سے متعارف کروایا تھا۔ بدقسمتی سے یہ فلم پردے پر ناکام ثابت ہوئی۔ مگر کنواری بیوہ نے اپنے ناظرین کے دلوں میں کچھ زیادہ اثر تو نہ چھوڑا مگر شمیم آرا کی معصومانہ اندازِ بیاں اور خوبصورتی نے ناظرین و شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ اِس طرح پاکستانی فلمی دنیا میں ایک نئی اداکارہ کی جھلک ساٹھ کی دہائی ختم ہونے سے قبل ہی دکھائی دینے لگی تھی۔1958ء میں نور جہاں (گلوکارہ) کی ایک فلم انارکلی میں شمیم آرا نے مختصر سی اداکاری کی۔ اِس فلم میں وہ انارکلی کی چھوٹی بہن ثریا کے رول میں منظرعام پر آئیں۔ 1958ء سے 1960ء تک شمیم آرا نے متعدد فلموں میں اداکاری کی مگر وہ نمایاں ستارہ بن کر جگمگانے میں کامیاب نہ ہو رہی تھیں کہ 1960ء میں اُن کی فلم سہیلی (فلم) نے اُنہیں فلمی دنیا پر چمکنے کا قیمتی موقع فراہم کر دیا۔ سہیلی کی کامیاب نمائش پر وہ صفِ اول کی اداکاراوں میں شمار ہونے لگی تھیں۔ 1962ء میں اُن کی فلم قیدی کی نمائش ہوئی جس میں فیض احمد فیض کی غزل مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ شمیم آرا پر فلمائی گئی اور یہ فلم 1962ء میں کامیاب ترین فلم تھی۔ 1962ء میں شمیم آرا کی کئی کامیاب فلموں کی نمائش ہوئی جو یہ ہیں: آنچل، محبوب، میرا کیا قصور، قیدی، اِنقلاب ۔1963ء میں بھی وہ پاکستانی فلمی دنیا کی کامیاب ترین فلمیں دینے والی صفِ اول کی اداکارہ تھیں، 1963ء کی مشہور فلمیں یہ تھیں: دلہن، اِک تیرا سہارا، غزالہ، کالا پانی، سازش، سیماء، ٹانگے والا۔ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں اُن کی پہلی رنگین فلم سنگم کی نمائش 23 اپریل 1964ء کو ہوئی۔ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) میں 29 اکتوبر 1965ء کو شمیم آرا کی مقبولِ عام رنگین فلم نائیلہ کی نمائش ہوئی جس سے ناظرین شمیم آرا کی خوبصورتی سے واقف ہوئے اور اُن کی اداکاری کے چرچے عام ہو گئے۔1960ء کی دہائی کی وہ صفِ اول کی اداکارہ تھیں۔ 1970ء کی دہائی میں وہ فلمی کیرئیر سے پیچھے ہٹتی گئیں اور بطور فلمی ہدایت کارہ اور فلم پروڈیوسر کئی فلمیں بنائیں۔
بحیثیت فلمی ہدایت کار
بحیثیتِ فلمی ہدایت کار 1976ء میں شمیم آرا کی پہلی فلم جیو اور جینے دو تھی۔ 1978ء میں ایک اور فلم پلے بوائے کے نام سے پیش کی۔ 1979ء میں مس ہانگ کانگ نامی فلم پیش کی۔ 1984ء میں مس کولمبو کی نمائش ہوئی۔ 1985ء میں مس سنگاہور کی نمائش ہوئی۔ 1987ء میں لیڈی اسمگلر کی نمائش ہوئی۔ 1989ء میں لیڈی کمانڈو، 1993ء میں ہاتھی میرا ساتھی، 1994ء میں آخری مجرا، 1995ء میں منڈا بگڑا جائے، 1996ء میں ہم تو چلے سرال، 1996ء میں مس استنبول، 1996ء میں لو 95، 1997ء میں ہم کسی سے کم نہیں، جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی۔ 1995ء میں منڈا بگڑا جائے کامیاب ترین فلم تھی۔ بحیثیت فلمی ہدایت کار، پل دو پل اُن کی آخری فلم تھی جس کی نمائش 1999ء میں ہوئی۔
علالت اور وفات
2004ء میں شمیم آرا اپنے بیٹے کے ہمراہ لندن مقیم ہوگئیں۔ اِس دوران میں وہ پاکستان دو بار آئیں۔ 2011ء کے ابتدائی دنوں میں جب وہ لاہور میں مقیم تھیں۔ اِنہی دنوں جنوری 2011ء میں اُنہیں دماغی شریان پھٹ جانے کے باعث ہسپتال داخل کروایا گیا جہاں اکتوبر 2011ء میں اُن کے دماغ کا آپریشن کیا گیا مگر وہ ہوش میں آنے کی بجائے کوما میں چلی گئیں۔دسمبر 2011ء میں علاج کے لیے اُنہیں اُن کا بیٹا سلمان کریم مجید لندن لے گیا جہاں وہ تقریباً 6 سال علالت میں مبتلا رہنے کے بعد بروز جمعہ 5 اگست 2016ء کو 78 سال 4 ماہ 14 دِن کی عمر میں لندن، برطانیہ میں فوت ہوگئیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے شمیم آرا کی وفات کی خبر صبح 11 بجکر 40 منٹ پر ٹیلی ویژن سے نشر کی۔ بروز ہفتہ 6 اگست 2016ء کو نمازِ جنازہ بوقتِ ظہر اداء کی گئی اور تدفین لندن، برطانیہ میں کی گئی۔ شمیم آرا نے وارثوں میں ایک بیٹا، بہو اور دو پوتے پوتیاں چھوڑے ہیں۔
فلمیں
1956ء: کنواری بیوہ، مس56۔
1958ء: انارکلی، واہ رے زمانے۔
1959ء، عالم آراء، اپنا پرایا، فیصلہ، سویرا، مظلوم، راز، جائداد (پہلی پنجابی فلم)۔
1960ء: بھابھی، دو اُستاد، عزت، رات کے راہی، روپ متی باز بہادر، سہیلی۔
1961ء: انسان بدلتا ہے، زمانہ کیا کہے گا؟، زمین کے چاند۔
1962ء: آنچل، محبوب، میرا کیا قصور؟، قیدی، اِنقلاب۔
1963ء: دلہن، اِک تیرا سایہ، غزالہ، کالا پانی، سازش، سیماء، ٹانگے والا۔
1964ء: باپ کا باپ، چنگاری، فرنگی، حویلی، مے خانہ، پیار کی سزا، تنہا۔
1965ء: دیوداس، دل کے ٹکڑے، فیشن، نائیلہ (شمیم آرا کی پہلی رنگین فلم)۔
1966ء: آگ کا دریاء، جلوہ، مجبور، میرے محبوب، پردہ، قبیلہ۔
1967ء: دو راہا (نمائش: 25 اگست 1967ء)، ہم راز، لاکھوں میں ایک۔
1968ء: صاعقہ بطور فلم پروڈیوسر۔
1968ء: دل میرا دھڑکن تیری۔
1969ء: آنچ، دلِ بے تاب، سالگرہ۔
1970ء: آنسو بن گئے موتی، بے وفاء، مشر کماری (پہلی بنگالی فلم)۔
1971ء: پرائی آگ، سہاگ، وحشی، خاک اور خون۔
1972ء: انگارے۔
1973ء: خواب اور زندگی۔
1974ء: بھول (بطور فلم پروڈیوسر)۔
1978ء: پلے بوائے (بطور فلم پروڈیوسر اور ہدایت کارہ)۔
1981ء: میرے اپنے (بطور اداکارہ و ہدایت کارہ)۔
1989ء: تیس مار خان (دوسری اور آخری پنجابی فلم)۔
1999ء: پل دو پل۔ (آخری فلم بطور ہدایت کارہ)۔ -

آج مشہور اداکار کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش ہے
کمال ایرانی کی پیدائش
پاکستان کے مشہور کریکٹر ایکٹر کمال ایرانی کی تاریخ پیدائش 5 اگست 1932ءہے۔
کمال ایرانی کا اصل نام سید کمال الدین صفوی تھا اور وہ کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا اور مجموعی طور پر 244 فلموں میں کام کیا۔ ک
مال ایرانی کی یادگار فلموں میں جاگ اٹھا انسان، جھک گیا آسمان، زرقا، مٹھی بھر چاول اور امرائوجان ادا کے نام سرفہرست ہیں۔
ان کی آخری فلم سندھی زبان میں بننے والی فلم ’’میران جمالی‘‘ تھی جو ان کی وفات کے چند ماہ بعد 9 مارچ 1990ء کو ریلیز ہوئی تھی۔
12 ستمبر 1989ء کو کمال ایرانی وفات پاگئے۔۔!!! -

صادقآباد اہم ترین . ڈائیوو ٹرمینل سیل
ڈائیو اڈہ سیل . جب سے ڈائیو اڈہ صادق آباد والا بنا ہے یہ بغیر کمرشلائزیشن کے رہائشی اور زرعی زمین کے حساب سے چل رہا تھا سابقہ ادوار میں حصہ پانی لیکر افسران خاموش رہے اسسٹنٹ کمشنر کاشف ڈوگر نے معاملہ علم آنے پر کاروائی کا حکم دیا جس پر چیف آفیسر بلدیہ محمود چوہدری اور جام رمضان نے کاروائی کرتے ہوئے اڈہ سیل.کردیا ڈائیو کے اس اڈہ کے ذمہ ایک کروڑ روپے سے زائد کے واجبات ہیں..




-

محمود صدیقی کون تھے اور فن کی دنیا میں ان کا کیامقام ہے
محمود صدیقی کی وفات*
4 اگست 2000ء کو ٹیلی وژن اور ریڈیو کے معروف فن کار محمود صدیقی کراچی میں وفات پاگئے۔
محمود صدیقی 1944ء میں سکھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔
ان کے والد انہیں عالم دین بنانا چاہتے تھے لیکن وہ سیاست کی جانب مائل تھے۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا۔
اس سلسلہ میں انہوں نے قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔
انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور شیخ ایاز کے جونیئر کے طور پر وکالت کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
انہوں نے کچھ وقت ریڈیو پاکستان میں انائونسمنٹ بھی کی اور کچھ عرصہ کے لئے روزنامہ ’’ہلال پاکستان‘‘ میں بھی کام کیا۔
1973ء میں محمود صدیقی نے پاکستان ٹیلی وژن کے سندھی ڈرامہ بدمعاش سے اپنی ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز کیا اور زینت، گلن وار چوکری، تلاش اور رانی جی کہانی میں کام کرکے مقبولیت حاصل کی۔
رانی جی کہانی کو بعد میں ’’دیواریں‘‘ کے نام سے اردو میں بھی پیش کیا گیا جس کے بعدمحمود صدیقی نے ملک گیر شہرت حاصل کرلی۔
بعدازاں اردو ڈرامہ سیریل جنگل ، قربتوں کی تلاش، دنیا دیوانی اور کارواں نے ان کی شہرت کو مزید استحکام بخشا۔ کارواں میں انہوں نے بہترین اداکار کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے نہلے پہ دہلا کے نام سے ایک سیریل بھی بنائی تھی جسے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے تین مرتبہ نشر کیا مگر محمود صدیقی کو اس سیریل کے بدلے میں طے شدہ رقم کا صرف دس فیصد حصہ ادا کیا۔
محمود صدیقی نے یہ سیریل قرض لے کر بنایا تھا چنانچہ وہ ان مالی مشکلات سے بے حد دلبرداشتہ ہوئے اور اسی غم میں وفات پاگئے۔
محمود صدیقی کراچی میں ڈالمیا کے نزدیک واقع قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔.!! -

بھارت نے ایسا کر کے اپنی تباہی کا بٹن دبا دیا ہے ، مصطفی کمال
پاکستان پرچم پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے اپنا رد عمل پیش کرتے ہرئے کہا ہے کہ بھارت نےاپنی بربادی کابٹن خودہی دبادیاہے.22کروڑ عوام پاکستان کی فوج ہیں.افغانستان بھارت کےلیےقبرستان ثابت ہوا.
پی ایس پی کے صدر نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کى اربوں ڈالرزکى سرمایہ کاری ضائع ہوگئی ہے،کشمیر میں بھارت اپنى ہزیمت مٹانے کى کوشش کررہا ہے، کشمیری عوام آزادی کی جنگ لڑرہےہیں.کشمیری عوام بھارتی آئین پڑھ کراحتجاج نہیں کرتے، لاکھوں کشمیریوں نےجان کےنذرانےپیش کیے.وه ناکام رہےگا،کراچی صفائى مہم سمجھ سے باہرہے،صفائى چندہ اکٹھا کرکے ممکن نہیں
واضح رہے کہ بھارتی صدرنےمقبوضہ کشمیر کی 4 نکاتی ترامیم پردستخط کردیئے جس کے بعد بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیرکی علیحدہ قانون سازاسمبلی ہوگی ، لداخ کومقبوضہ کشمیر سےالگ کردیا گیا بھارتی صدرنے گورنرکا عہدہ ختم کردیا اوراختیارات کونسل آف منسٹرزکوتفویض کر دیئے ،کالے قانون میں مقبوضہ جموں کشمیرآج سےبھارتی یونین کاعلاقہ تصورہوگا ،کالےقانون میں مقبوضہ جموں کشمیراب ریاست نہیں کہلائے گی.
-

ماضی کے معروف گلوکار اخلاق احمد نے کب وفات پائی اور کتنا عرصہ وہ بیماری سے لڑتے رہے
اخلاق احمد کی وفات
4 اگست 1999ء کو پاکستان کے نامور گلوکار اخلاق احمد لندن میں وفات پاگئے۔ اخلاق احمد 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے کراچی کے اسٹیج پروگراموں میں شوقیہ گلوکاری کا آغاز کیا۔
1971ء میں انہیں کراچی میں بننے والی فلم ’’تم سا نہیں دیکھا‘‘ میں گلوکاری کا موقع ملا۔ اس فلم کے موسیقار امیر احمد خان اور نغمہ نگار یونس ہمدم تھے۔
اس کے بعد فلم ’’بادل اور بجلی‘‘ اور ’’پازیب‘‘ میں بھی اخلاق احمد کے گیت شامل ہوئے مگر وہ بھی زیادہ مقبول نہ ہوسکے۔
1974ء میں اداکار ندیم نے اپنی ذاتی فلم ’’مٹی کے پتلے‘‘ میں اخلاق احمد کے آواز میں ایک نغمہ شامل کیا اور لاہور ہی میں موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمد کی آواز میں اپنی فلم ’’چاہت‘‘ کا ایک نغمہ ’’ساون آئے، ساون جائے‘‘ ریکارڈ کروایا۔ یہ نغمہ اختر یوسف نے تحریر کیا تھا۔
یہ نغمہ اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایا۔
اس نغمے پر انہیں خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا۔ اسی دوران اخلاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کیا اور وہ ٹیلی وژن کے بھی مقبول گلوکار بن گئے۔
ساتھ ہی ساتھ فلمی دنیا میں بھی اخلاق احمد کی مقبولیت کا سفر جاری رہا۔ شرافت، دو ساتھی، پہچان، دلربا، امنگ، زبیدہ، انسان اور فرشتہ، انسانیت، مسافر، راستے کا پتھر، آئینہ، سنگم، آدمی، پرنس، انمول محبت، خاک اور خون، بندش، مہربانی، نادانی، دوریاں، بسیرا، لازوال ایسی فلمیں ہیں جن میں اخلاق احمد کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے۔
اخلاق احمد نے اپنی فنی زندگی میں 90 اردو فلموں میں مجموعی طور پر 140 نغمات گائے۔
ان کے 90 فیصد گانے سننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے۔
انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ نگار ایوارڈ حاصل کئے۔
1985ء میں انہیں خون کے سرطان کا موذی مرض تشخیص ہوا۔
انہیں علاج کے لئے لندن لے جایا گیا۔ وہ 14 برس تک اپنی جان لیوا بیماری سے لڑتے رہے مگر 4 اگست 1999ء کو اس بیماری کے ہاتھوں شکست کھاگئے۔
وہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں۔۔!!! -

بھارت، دہلی میں گھر میں آتشزدگی، 6افراد کی موت،10زخمی
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ذاکر نگر میں واقع ایک مکان میں پیر کو رات دیر گئے آگ لگنے سے چھ افراد جاں بحق ہو گئی، جبکہ 10 افراد آگ سے جھلس گئے۔
قطر ۔ ایران گیس فیلڈ میں دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی
فائر بریگیڈ کے ایک افسر کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں دو مرد، دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں. آگ میں جھلسنے والے افراد کو علاج کے لئے ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق چار منزلہ عمارت میں کل 13 فلیٹ تھے۔ آگ بجلی کے میٹر بورڈ سے پھیلی ۔ آگ سے پارکنگ میں کھڑی سات کاریں اور آٹھ موٹر سائیکلیں بھی جل کر راکھ ہو گئیں۔