Baaghi TV

Author: +9251

  • امجد اسلام امجد کب پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیمی مراحل کہاں مکمل کیے

    امجد اسلام امجد کب پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیمی مراحل کہاں مکمل کیے

    امجد اسلام امجد کی پیدائش
    امجد اسلام امجداگست 1944ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے جبکہ ابتدائی تعلیمی مراحل لاہور میں طے کیے۔ ایک انٹرویو مین اپنے بچپن کے واقعات کو یاد کرتے ہوۓ انھوں نے بتایا تھا کہ ان کا خاندان دستکاروں کا ایک خاندان تھا، جس میں ادب پڑھنا تو دور کی بات ہے، سرے سے پڑھنے لکھنے کا رواج ہی نہیں تھا:’’سوائے اس کے کہ یہ جسے آپ پڑھنے کی عادت کہتے ہیں، یہ مجھے اپنے والد صاحب سے ملی، جو ابنِ صفی کے جاسوسی ناول یا پھر تیرتھ رام فیروز پوری کے ترجمے اور شفیق الرحمان کی کتابیں بڑے شوق سے پڑھتے تھے تو یہ کتابیں مَیں نے بچپن ہی میں پڑھ لی تھیں، جس سے پڑھنے کا شوق تو مجھے ہو گیا تھا لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے گھر سے کوئی مزید مدد نہ مل پائی۔‘‘
    ادبی ذوق کو نکھارنے میں بنیادی کردار اُن کے اساتذہ نے انجام دیا:’’شاید میرے اساتذہ نے محسوس کیا کہ میرے لکھنے اور بولنے میں کوئی ایسی اضافی چیز ہے، جو مجھے باقی طالب علموں سے شاید ممتاز کرتی ہے، چنانچہ مجھے نویں جماعت میں سکول کے رسالے کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔‘‘
    امجد اسلام نے گریجوایشن گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب میں کالج کے ابتدائی برسوں میں آیا تو اُس وقت مجھے یہ محسوس ہوا کہ مَیں لکھ سکتا ہوں، شاعری یا نثر کی زبان میں‘۔
    اُس دور میں وہ بنیادی طور پر کرکٹر بننا چاہتے تھے:’’مَیں اچھی کرکٹ کھیلتا تھا اور مَیں نے یونیورسٹی کی سطح تک کرکٹ کھیلی۔ ادب کا رجحان ایک ذیلی رَو تھی اور کرکٹ کے بعد یہ میری دوسری چوائس تھی۔‘‘
    امجد اسلام امجد کے مطابق جب کرکٹ کے کھیل میں اُنہیں یکے بعد دیگرے کچھ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف کالج میں گریجوایشن میں اردو میں زیادہ نمبر حاصل کرنے پر اسکالر شپ مل گئی تو کرکٹ کی بجائے اُن کی مکمل توجہ شعر و ادب کی طرف ہو گئی:’’ہمارے ایک محلّے دار تھے، آقا بیدار بخت، جو بچپن سے میری بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ تم لکھا کرو، پڑھا کرو، مَیں اپنی ابتدائی شاعری بھی اُنہی کو دکھاتا تھا۔ پھر چلتے چلتے جب مَیں یونیورسٹی میں آیا تو مَیں نے سنجیدگی سے شعر و ادب پر توجہ دینا شروع کر دی اور پرانے کلاسیکی شاعروں کو خاص طور پر پڑھا، جن پر بعد میں مَیں نے ’نئے پرانے‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی۔‘‘
    امجد اسلام امجد کا کہنا تھا کہ کلاسیکی شعراء کو پڑھنے کے بعد ہی آپ موجودہ دور کی شاعری کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اُنہوں نے میر تقی میر کے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو چیز بعد ازاں کارل مارکس نے طویل تحقیق کے بعد پیش کی، وہ اُن کی پیدائش سے بھی پہلے میر اپنے اس شعر میں بیان کر گئے تھے کہ ؃
    امیر زادوں سے دلّی کے مَت مِلا کر میر
    کہ ہم غریب ہوئے ہیں، اُنہی کی دولت سے
    پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد انہوں نے ایک استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کا آغاز لاہور ہی کے ایم اے او کالج سے کیا۔ 1975ء سے لے کر 1979ء تک وہ پاکستان ٹیلی وژن سے بطور ڈائریکٹر وابستہ رہے۔ وہ ’اردو سائنس بورڈ‘ اور ’چلڈرن لائبریری کمپلیکس‘ سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمے داریاں نبھاتے رہے ہیں۔
    ریڈیو پاکستان سے بطور ڈرامہ نگار چند سال وابستہ رہنے کے بعد امجد اسلام امجد نے پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی وژن) کے لیے کئی سیریلز لکھیں، جن میں ’وارث‘ کے ساتھ ساتھ ’دہلیز‘، ’سمندر‘، ’رات‘، ’وقت‘ اور ’اپنے لوگ‘ بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں صحیح معنوں میں شہرت 1979ء میں دکھائی جانے والی سیریل’وارث‘ سے ملی کیونکہ ’جہاں شاعری کی رسائی محض ایک محدود طبقے تک ہی ہوا کرتی ہے، وہاں اُس زمانے میں بھی، جب ملک میں پی ٹی وی کی صورت میں محض ایک چینل ہوا کرتا تھا، ناظرین کی تعداد سات آٹھ کروڑ ہوا کرتی تھی‘۔
    اُنہوں نے شعر و ادب کی کئی جہات میں کام کیا ہے اور کئی تراجم کرنے کے ساتھ ساتھ تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے ہیں۔ وہ ’چشمِ تماشا‘ کے نام سے باقاعدگی کے ساتھ ایک کالم بھی لکھتے ہیں۔ نظم و نثر میں اُن کی چالیس سے زیادہ کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں جبکہ وہ اپنی ادبی خدمات کے بدلے میں ’صدارتی تمغہء حسن کارکردگی‘ اور ’ستارہء امتیاز‘ سمیت متعدد اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں۔۔!!

  • ایران اور روس کے درمیان خفیہ معاہدے کا انکشاف

    ایران اور روس کے درمیان خفیہ معاہدے کا انکشاف

    ایران اور روس کے درمیان خفیہ معاہدے کا انکشاف ہوا ہے
    ایرانی نیول فورسز کے سربراہ ایڈمرل حسین خانزادی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے ماسکو کا دورہ کیا جہاں دونوں ملکوں کےدرمیان ایک خفیہ فوجی معاہدہ بھی طے پایا ہے۔

    دونوں ممالک کےدرمیان حساس قسم کا معادہ جسے صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے روسی وزارت دفاع کے درمیان حساس نوعیت کا فوجی معاہدے طے پایا جس کے بعض پہلوئوں کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

    خانزادی نے خلیج میں جزیرہ کیش میں ‘عالمی فوجوں کی گہرے پانیوں میں تیراکی’ کے مقابلے کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سےخطاب میں کہا کہ تہران اور ماسکوکےدرمیان فوجی تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

    روسی وزارت دفاع کے ساتھ طے پائے سمجھوتے میں دونوں ملکوں کےدرمیان عسکری تعاون اور دونوں ملکوں کی نیول فورسز کے درمیان اشتراک عمل کو بہتر بنانا ہے۔

  • ڈاکو عیدی اکٹھی کرنےلگے

    ڈاکو عیدی اکٹھی کرنےلگے

    لاہور:حسب سابق عید کے موقع پر عید قریب آتے ہی ڈاکووں نے بھی اپنی عیدی اکٹھی کرنی شروع کردی ہے. اطلاعات کے مطابق صدر ڈویژن میں ڈاکوؤں کا گروہ سرگرم ہوگیا، موٹرسائیکل سوار ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر موبائل شاپ سے ساڑھے تین لاکھ لوٹ لئے، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔

    ایسی ہی واردات دن دیہاڑے سبزہ زار کے علاقے میں ہوئی جہاں موٹرسائیکل سوار ڈاکو اسلحہ لہراتے موبائل شاپ میں داخل ہوئے جنہوں نے گن پوائنٹ پر پہلے عملے کو یرغمال بنایا اور پھر لوٹ مار شروع کر دی۔ ڈاکوؤں نے شناخت سے بچنے کے لئے ماسک اور ہیلمٹ پہن رکھے ہیں جبکہ صدر ڈویژن میں سرگرم موٹرسائیکل سوار ڈاکوئوں نے ایک ہی گھنٹے میں تین وارداتیں کیں۔

  • اقوام متحدہ نے بھارت کے اقدام  پر اپنا موقف دے دیا

    اقوام متحدہ نے بھارت کے اقدام پر اپنا موقف دے دیا

    اقوام متحدہ نے بھارت کے اقدام پر اپنا موقف دے دیا.اقوام متحدہ نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر تشویش کا ظہار کیا ہے،

    اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیرمیں کشیدگی پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان STEPHANE DUJARRIC نے کہا کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیرمیں سخت پابندیوں سے آگاہ ہے۔

    مبصرگروپ نےایل اوسی پرفوجی سرگرمیوں میں اضافےکا مشاہدہ کرکے رپورٹ دی ہے۔ تنازع کے تمام فریقین سے اپیل ہے وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    انہوں نے تمام فریقوں پر صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ اس سے پہلے پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ نے کنٹرول لائن کا مشاہدہ کیا اور وہاں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کی رپورٹ دی۔

  • کشمریوں کی آواز نہ دبائی جائے ، فیس بک ہیڈ سے وزیراعظم کے نمائندے کی ملاقات

    کشمریوں کی آواز نہ دبائی جائے ، فیس بک ہیڈ سے وزیراعظم کے نمائندے کی ملاقات

    فیس بک پالیسی کے ہیڈ برائے پاکستان سے وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کی ملاقات ،
    وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد کی فیس بک کے پالیسی ہیڈ برائے پاکستان صارم عزیز سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے فیس بک کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کے غم و غصے پر غیر جانبدار رہنے کی زور دیا ہے.بھارتی ظلم و ستم کو جب بھی دنیا کے سامنے فیس بک یا سوشل میڈیا کے ذریعے عیا ں کیا جاتا ہے تو فیس بک کے پیجز اور اکاؤنٹ بند کردیے جاتےہیں. اسی طرح پاکستان کے اندر سے کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آواز کو فیس بک پر دبا دیا جاتا ہے
    واضح رہے کہ بھارتی صدرنےمقبوضہ کشمیر کی 4 نکاتی ترامیم پردستخط کردیئے جس کے بعد بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیرکی علیحدہ قانون سازاسمبلی ہوگی ، لداخ کومقبوضہ کشمیر سےالگ کردیا گیا بھارتی صدرنے گورنرکا عہدہ ختم کردیا اوراختیارات کونسل آف منسٹرزکوتفویض کر دیئے ،کالے قانون میں مقبوضہ جموں کشمیرآج سےبھارتی یونین کاعلاقہ تصورہوگا ،کالےقانون میں مقبوضہ جموں کشمیراب ریاست نہیں کہلائے گی.
    ان حالات میں کشمری اپنا احجاج اور بھارتی ظلم و ستم سوشل میڈیا کے ذریعے ہی دنیا کےسامنے آشکار کر یں گے.

  • وہاڑی : خطرناک تصادم میں جانی نقصان

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) ملتان روڈ موڑ رب راکھ کے قریب شانزے کوچ اور ٹرک میں خوفناک تصادم، ڈرائیور جاں بحق 8 افراد زخمی

    تفصیلات کے لئے ملتان روڈ موڑ رب راکھا کے قریب ملتان سے آنیوالےتیز رفتار ٹرک اور بوریوالا سے ملتان جانے والی شانزےکوچ کے درمیان تصادم ہوگیا تصادم کے نتیجہ میں کوچ ڈرائیور مقبول احمد سکنہ459 ڈبلیو بی موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ ایک بچی 2 خواتین سمیت8 افراد زخمی ہوگئے زخمیوں کو ریسکیو 1122ٹیم نے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا جہاں 2 خواتین کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے

  • بورے والا : امداد کیلئے پیش رفت

    بورے والا (نمائندہ باغی ٹی وی) اسسٹنٹ کمشنر رانا اورنگزیب ہمراہ نائب تحصیلدار تقی شاہ 187EB گگو منڈی میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والی بھینسوں کے مالک کے گھر اظہار افسوس کے لیے گئے.

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس مشکل گھڑی میں آپ کے ساتھ ہے۔ آپ کے اس نقصان کا ازالہ کیا جائیگا اور نائب تحصیلدار تقی شاہ کو ہدایت کی کہ ان کے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کی جائے تا کہ وہPDMA کو مالی امداد کے کیے بھجوائی جائے۔

  • ڈسپنسر طبقہ اور ان کے مسائل

    ڈسپنسر طبقہ اور ان کے مسائل

    بستی ملوک(نمائندہ باغی ٹی وی) حکومت ڈسپنسرز کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کرے ضلعی صدر ایسوسی ایشن ملتان۔تفصیل کے مطابق گزشتہ روز ڈسپنسر ایسوسی ایشن کا اجلاس ضلعی صدر ملتان خلیل احمد کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں ڈسپنسرز کے بنیادی مسائل کو زیر غور لایا گیا ضلعی صدر خلیل احمد کا کہنا تھا کہ سنیارٹی لسٹ کے مطابق اپ گریڈیشن کی جائے کنٹرکٹ ڈسپنسر کو مستقل تعینات کیاجائے میڈیکل سٹورز کے لائسنس اور پریکٹس پرمٹ کی اجازت دی جائے اجلاس میں ضلعی باڈی کے عہدیداران چیف آرگنائزر محمد ارشد شہزاد سرپرست اعلیٰ محمد ساجد چشتی،جنرل سیکرٹری پرویز اختر تحصیل جنرل سیکرٹری محمد شفیق جنجوعہ سابق صدر رستم علی نائب صدر حفیظ الرحمان نے اجلاس میں شرکت کی جس میں مسائل ہذا کی قرداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا اور وزیراعظم پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے مطالبہ کیا گیا کہ ہمارے مسائل کو ترجیح بنیادوں پہ حل کیا جائے کیونکہ ہمارا ڈسپنسر طبقہ ہمہ وقت انسانی خدمت میں دل جوئی سے کام کررہا ہے اور محکمہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان شجاع بار

  • پاکستانی نامور شخصیات کشمیر کی موجودہ صورت حال پر کیا کہتی ہیں، پڑھیے اس رپورٹ میں

    پاکستانی نامور شخصیات کشمیر کی موجودہ صورت حال پر کیا کہتی ہیں، پڑھیے اس رپورٹ میں

    بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور آرٹیکل 35اے ختم کرنے کو پاکستانی نامور شخصیات نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ متعدد پاکستانی مشہور شخصیات کو وادی کے عوام کے لئے اپنے خیالات کے ساتھ ساتھ ریاست میں پائے جانے والے تناو¿ کے بارے میں اپنے خیالات شیئر کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر جانے کا اشارہ دیا ہے۔
    اداکار جمال شاہ نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری کافی عرصے سے ناانصافی کا شکار ہیں .. ان کے حقوق ہندوستانی حکومت نے غصب کیے ہیں۔ انہیں یقینی طور پر کسی دوسری قوم کی طرح آزادی میں زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
    کشمیر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ، پاکستانی ماڈل راچیل خان نے کہا ،”پوری پاکستانی قوم کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے .. ان کے آزادی پسندوں کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے .. دنیا ہندوستانی حکومت کے طرز عمل کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ ہمیں فوری طور پر کشمیریوں کے نقصانات کی تلافی کے لئے حکمت عملی وضع کرنا چاہئے۔
    ”ہندوستان کا بدصورت چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ اس کے لئے مودی کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس تنازعہ کو دو طرفہ طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان میں حال ہی میں انتہا پسندی کی لہر اٹھ رہی ہے اور گاو رکشا جیسی مہمات میں مسلمان وہاں پر ناانصافی کا شکار ہیں۔ میں ان کے لئے دعاگو ہوں اور حکومت سے سفارتی چینل کے ذریعہ فوری کارروائی کرنے کی گزارش کروں گی ،“انہوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا۔
    ایک پاکستانی گلوکارہ ربی پیرزادہ نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کشمیریوں کے ساتھ متحد ہیں۔

    پاکستانی ٹیلی ویڑن انڈسٹری کے لیجنڈ فردوس جمال نے بھی کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مشتعل کردیا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سیارے پر متعدد مسلم ریاستیں ہیں۔ تاہم ، ہندوستان ، ہندو ملک کی فہرست میں تنہا رہتا ہے ۔“فردوس جمال نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
    انہوں نے مزید کہا ، ”ہندوستان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر وہ (بھارت) کشمیر میں ان کی مذموم حرکت کے نتیجے میں صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے تو ، رام یا کرشنا کی تعریف کرنے کے لئے کوئی باقی نہیں بچ سکے گا ، جبکہ اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ رہیں گے۔ ہندوستان کو عہدہ چھوڑنا چاہئے اور قرارداد واپس لینا چاہئے ورنہ اسے مسمار کردیا جائے گا۔ کشمیری جیتیں گے ، اسلام جیت جائے گا۔“
    ایک اور پاکستانی اداکارہ لیلیٰ زبیری نے کہا کہ کوئی بھی ہندوستان کی جانب سے نسل کشی پر بین الاقوامی سطح پر آواز نہیں اٹھا رہا ہے کیونکہ ہندوستان واضح طور پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ہم بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ متحد ہیں۔
    ایک پاکستانی موسیقار علی شیر نے بھی باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کومسئلہ کشمیر کو ٹیبل پر حل کرنا چاہیے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور حل نہیں بچا ہے۔ کشمیر میں انسانوں کے قتل عام میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور یہ سراسر ناقابل قبول ہے۔

    نہ صرف پاکستانی میڈیا انڈسٹری بلکہ پوری قوم آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے پر مذمت کر رہی ہے۔
    باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن طلحہ برکی نے کہا۔
    ”ہم سب کشمیر کی موجودہ صورتحال پر متحد ہیں۔ ہر پاکستانی کشمیر کی حمایت کر رہا ہے اور ہم سب متحد ہیں اور اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے تیار ہیں۔ ہم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کشمیر کے لئے لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ مودی سرکار کشمیر میں جو کچھ کر رہی ہے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔“
    ”ہم سب کو اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھنا چاہئے اور اس مقصد کے لئے متحد ہونا چاہئے۔ ہم پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کھڑے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔ “انہوں نے مزید کہا۔

    پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان ، جاوید میانداد نے بھی باغی ٹی وی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، "آپ کشمیریوں کو قتل نہیں کرسکتے ہیں۔ مودی کی قیادت میں بھارت ایک ضدی کردار کی طرح برتاو¿ کررہا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ، نریندر مودی نے کشمیر کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔
    میانداد نے کشمیری بھائیوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، ”ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔“ انہوں نے عالمی برادری خصوصاً ریاستہائے متحدہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، روس ، ایران اور چین پر زور دیا کہ وہ کشمیر کی سنگین صورتحال کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ دنیا کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر خاموش کیوں ہے؟ انہوں نے مسلم ممالک سے مسئلہ کشمیر کی حمایت کا مطالبہ کیا۔
    انہوں نے بھارتی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ کشمیریوں کو نظرانداز اور بدتمیزی کرنے کے ان حربوں سے نکل آئے۔ کشمیری اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

  • کشمیر 3 حصوں میں تقسیم کرنا عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی، نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    کشمیر 3 حصوں میں تقسیم کرنا عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی، نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    لیہ: سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھا تو کہا تھا کشمیر کے تین حصے ہونے چاہیے آج ہندوستان نے کشمیر کے تین حصے کردیئے ہیں.

    تفصیلات کے مطابق لیہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھا تو کہا تھا کشمیر کے تین حصے ہونے چاہیے آج ہندوستان نے کشمیر کے تین حصے کردیئے ہیں. یاد رہے کہ بھارت نے آج آرٹیکل 35 اے اور 370 ختم کرکے نہ صرف کشمیر کی خود مختاری ختم کی بلکہ کشمیر کو تین حصوں میں بھی تقسیم کردیا ہے.

    دوسری جانب بھارتی فوج کی جانب معصوم کشمیریوں پر ظلم کا سلسلہ جاری ہے. اس ظلم کیخلاف پاکستان بھر میں ریلیوں کا انتظام بھی کیا جارہا ہے.