Baaghi TV

Author: +9251

  • گمنام۔ تحریر : غازیا

    گمنام۔ تحریر : غازیا

    مہتاب ہو ، آفتاب ہو ، آسمان بھی ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    گمنام ہو چھپے ہوے سے مانند راز ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    وہ لوگ آسمان کی مانند ہوتے ہیں، بجلیاں جن کا سینہ چیر کر ان میں سے گزر جاتی ہیں ، ان کے وجود سے جڑے تارے ٹوٹ ٹوٹ کر دشمن کو بجتے ھی رہتے ہیں ، دھرتی ماں کو سیراب کرنے کے لئے انکے آنسو ہوتے ہیں لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    کبھی کسی نے آسمان میں نمی دیکھی ؟؟؟
    ستارے ٹوٹنے سے کبھی آسمان کی خوبصورتی میں کمی ہوئی ؟؟؟
    کیا بجلی کی کوئی کڑک آسمان میں دراڑ ڈال سکی ؟؟؟ نہیں نہ تو پھر کیسے کوئی انکی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ؟؟؟
    کیسے کوئی انکا درد جان سکتا ہے ؟؟؟
    کیسے کوئی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟؟؟
    شائد نہیں یقیناً کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا ۔
    مگر کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے وہ آفتاب کی مانند ہوتے ہیں جن کی طرف کبھی کوئی دیکھ ھی نہیں سکتا اس کوشش سے ھی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ، کسی میں طاقت ہوتی ھی نہیں کہ سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی ان کو دیکھ پائیں ۔
    اگر کبھی وہ مدھم ہوں بھی تو اپنے ارد گرد بادلوں کا ہجوم بنا لیتے ہیں ٹھنڈی ہوائیں چھوڑ دیتے ہیں تب دشمن موسم کی اس دلفریبی میں کھو جاتے ہیں اور وہ اپنا مشن مکمل کر کے دوبارہ اسی جلال میں آ جاتے ہیں اسی طرح وہ چپ چاپ اپنی زندگی کا مقصد پورا کرتے رہتے ہیں اور جب ان میں سے کسی بھی آفتاب کی زندگی کی شام ہوتی ہے نہ _ تب بھی وہ غروب کہاں ہوتے ہیں مہتاب میں ڈھل جاتے ہیں پھر ساری دنیا دیکھتی ہے انکو۔
    پھر احساس ہوتا ہے کہ ان میں کتنی رعنائی تھی ، وہ کتنے دلکش تھے ، ان کا وجود کتنی ٹھنڈک کا باعث تھا ۔
    پھر راز کھلتے ہیں کہ انکا زہر ، انکا قہر انکی سختیاں صرف دشمن کے لئے تھیں پھر یہ پتہ چلتا کہ وہ انسانوں کے روپ میں ایسے فرشتے تھے کہ ایک ایک سینکڑوں پہ بھاری ، پھر سمجھ آتی ہے کہ وہ لوگ آئی_ایس_ آئی تھے ۔

  • پاک فوج کے زیراہتمام بلوچستان پولیس کے 236 ریکروٹس کی تربیت مکمل.

    کوئٹہ میں پاک فوج کے زیر انتظام بلوچستان پولیس کے 12 ویں بیج نے تریبت مکمل کر لی۔ پاسنگ آئوٹ تقریب ریجنل ٹریننگ سینٹر میں منعقدہ ہوئی۔ پریڈ میں تربیت مکمل کرنے والے 236 ریکروٹس نے حصہ لیا اور مہمان خصوصی ایڈینشل آئی جی پولیس جہانزیب خان کو سلامی دی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پولیس جہانزیب خان نے کہا کہ ریکروٹس کو عوام کی خدمت کے ساتھ دہشت گردوں سے نمٹنے کے چیلنجز درپیش ہوں گے۔
    ایڈیشنل آئی جی پولیس نے مزید کہا کہ ریکروٹس کو اپنی تربیت کی روشنی میں ملک کی خدمت کرنی ہے۔ تقریب کے اختتام پر بہترین ریکوروٹس کو انعامات سے نوازا گیا۔

  • بلوچستان بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں

    کشمیریوں پر بھارتی ظلم کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں تقریبات ریلیاں اور مظاہرے منعقد کئے گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ انسانی حقوق سے متصادم قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
    بلوچستان حکومت کی ہدایت پر کوئٹہ کی جامعہ بلوچستان، سائنس کالج، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں سیمینار اور پروگرام منعقد کئے گئے جن میں کشمیر میں بھارتی بربریت کی مذمت سمیت کشمیری عوام سے یکجہتی کے موضوع پر ٹیبلوز پیش کئے گئے ایس بی کے میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی گئی۔ شرکاء نے بھارت مخالف بینرز اٹھا رکھے۔ انہوں نے کشمیروں کے حق مین نعرے لگائے جب کے کوئٹہ کے علاوہ نصیر آباد، ڈیرہ مراد جمالی، لسبیلہ، اوتھل، حب، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، گوادر، تربت، پسنی، نوشکی، ہرنائی، سبی، بارکھان، موسیٰ خیل، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی، خضدار، چاغی، خاران، آواران اور واشک سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور ضلعی انتظمایہ کی قیادت میں ریلیاں، مظاہرے، جلسے، جلوس، سیمینار اور پروگرامات منعقد کئے گئے جن میں سیاسی و سماجی رہنمائوں، شہریوں، علماء کرام، اساتذہ، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے کشمیریوں کے خلاف بھارتی ظلم و ستم کی بھرپور انداز میں مذمت کی اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔

  • کشمیر کے الگ ہونے سے بھارتی جمہوریت دم توڑ گئی، بھارتی نیوز سائٹ ہف پوسٹ

    کشمیر کے الگ ہونے سے بھارتی جمہوریت دم توڑ گئی، بھارتی نیوز سائٹ ہف پوسٹ

    بھارتی نیوز ویب سائٹ ہف پوسٹ کے چیف ایڈیٹر امن سیٹھی نے اپنے کالم میں کشمیر کی موجودہ صورتحال کوبھارتی جمہوریت کے ساتھ جوڑا ہے۔
    کشمیر میں مزید کاروائی ہوئی تو سنگین نتائج ہوں گے، پاکستان نے بھارت کو آگاہ کر دیا
    امن سیٹھی کے مطابق قانون سازی کے ذریعہ ریاست جموں و کشمیر کو ختم کرنے کا فیصلہ مطلق راز میں کیا گیا تھا ۔ سڑکوں پر ہزاروں فوجی تعینات کردیئے گئے ، حزب اختلاف کے رہنماوں کو آدھی رات کے وقت نظربند کردیا گیا ، انٹرنیٹ کو بند کردیا گیا اور فون لائنوں کو منقطع کردیا گیا۔

    امن سیٹھی نے لکھا ہے کہ کابینہ کا اجلاس ہوا ، اور پھر اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ، جہاں شور مچانے والی لیکن بڑی حد تک غیر موثر حزب اختلاف کو ایک گھنٹہ دیا گیا تاکہ وہ ہندوستان کے سیاسی نقشہ کو دوبارہ بنا سکے۔اگر سبھی کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو ریاست جموں وکشمیر کی جگہ دو مرکزی خطے لیں گے۔کشمیر ، ہندوستانی جمہوریت کی ایک باونڈری کنڈیشن ہے۔ اور اب اندھیرے میں جمہوریت مر چکی ہے۔

    امن سیٹھی نے مزید لکھا کہ کشمیری اس سب کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اس وقت یہ کہنا ناممکن ہے۔ ریاست سے آنے والی خبروں کو عام طور پر مواصلات کی تمام لائنیں بند کرکے ، ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی ، اور کسی بھی عوامی مجلس پر پابندی لگا کر گلہ گھونٹ دیا گیا ہے۔ کشمیریوں کو خاموش کردیا گیا ہے اور اس خاموشی میں ہم ہندوستانی جمہوریت کا خاتمہ دیکھتے ہیں۔

    امن سیٹھی کے مطابق اس عجلت میں مزید کونسا ہنگامہ برپا ہوگا؟ امت شاہ کے چاقو کی تیز دھار کو کون سی ریاست محسوس کرے گی؟ کس شہر ، ضلع ، تالاب ، پہاڑ کی طرف ، ندی کی وادی ، گنے کے کھیت کی آبادی کو جمہوریت میں حصہ لینے کی اجازت نہ ہونے پر تکلیف ہوگی؟

    امن سیٹھی نے اپنے مضمون میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا مغربی بنگال جیسے ایک پریشان کن صوبے کو اچانک پتہ چلے گا کہ اسے ایک مرکزی خطے میں تبدیل کر دیا گیا ہے ؟ یا ریاست تامل ناڈو ، جس کی پوری سیاست دہلی کی خود مختاری کی تردید پر مبنی ہے ،کو اچانک معلوم ہوگا کہ اسے جمہوریت کی سیڑھیوں سے فوری طور پرالگ کر دیا گیا؟

    یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں کشمیر کا خاتمہ کیسے ہوگا۔ حکومت کے حمایتینیوز اینکرز نے پہلے ہی اپنے آقا کی دھنوں پر رقص کرنا شروع کردیا ہے۔ کسی موڑ پر،کوئی اسے سیاسی ماسٹر اسٹروک کے طور پر قبول کرے گا یاپھر کوئی اپوزیشن کو مورد الزام قرار دینے کا راستہ تلاش کرے گا۔

  • ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ۔۔۔ نعمان علی ہاشم

    1931 سے اس پاکستان کے نام پر کشمیریوں نے جانیں دی ہیں میرے حکام بالا….. جب پاکستان نہیں تھا تب بھی کشمیریوں کے دل میں پاکستان تھا….. پاکستان بننے کے بعد ہر اٹھنے والے جنازے ہر لٹنے والی عزت اور یتیم ہونے والے بچے ہر بے سہارا ماں اور ہر بے کس بوڑھے نے پاکستان کے پرچم کی سربلندی کے لیے سب برداشت کیا.. قائد گئے تو تم سے ایک چپہ بھی نہ لیا گیا. ظلم یہ کیا کہ ایل او سی بنوا دی. ہم نے مصلحت کہہ دیا. ستر سالوں سے تمہاری منہ سے نکلتی گولیوں پر اعتبار کیا. تمہارے چھوٹے موٹے ایڈوینچرز میں ہزاروں کشمیری جان سے گئے املاک تباہ ہوئی. مگر تمہاری ٹویٹس نے خاموش کروا دیا. ہم نے مان لیا. ہمارے بزرگوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تمہیں کچھ نہیں دے گا. پر تم نے کہا جی ہم نے سائن کیے ہیں اسی پر فیصلہ ہو گا. ہم بے مان لیا. مجاہدین پر پابندیاں، نظربندیاں، گرفتاریاں اور مقدمات ہوئے ہم نے کہا کہ مشکل حالات میں سٹیٹ کی ساتھ کھڑے ہو جاؤ اللہ خیر کرے گا. تم نے ترانے بنا کر رانجھا راضی کیا اور کشمیریوں کے خون پر ناچ گانا شروع کر دیا. ہم نے مان لیا کہ چلو شاید یہی سفارتی زبان ہے. پوری دنیا میں مستقل مندوب رکھے مشیر بھیجے عیاشیاں کی مگر ہم نے کہا چلو کام تو ہو رہا ہے. میرے کشمیری شیروں کی طرف جانیں دیتے رہے. اور تم گیدڑوں کی طرح اپنی بیرکوں اور سرکاری بنگلوں سے ٹویٹ کرتے رہے. افسوس صد افسوس… ایک لاکھ جانیں جانا، ہزاروں عصمتیں لٹ جانا بچوں کا یتیم ہونا ماؤں کی آہیں سب کے لیے چند ٹویٹس اور گانے ہی تھے. کیا سفارتکاری کا یہ ثمر ہوتا ہے. ہم نے ہر موڑ پر آپکا ساتھ دیا مگر یاد رکھیں محبت کی وجوہات مٹ رہی ہیں، اسلام محفوظ نہ پاکستان گالی نہیں دیتا مگر اپنے گریبان میں جھانکے گا ضرور جانیں دینے والوں کو دہشت گرد کہلوایا تم نے. امن کے لالی پاپ دے کر بیغیرتی کی نیند سلایا تم نے. کشمیر پر ستر سال سیاست سیاست اور سیاست. ابھی بھی وقت ہے اس سے پہلے کشمیری پاکستان کے منکر ہو جائیں ان کی چیخوں سسکیوں آہوں کا حساب لو. ہندو بنیے سے جواب لو. کشمیر بزور شمشیر لو. اعلامیے مذمتیں اور یو این او کے لالی پاپ اب پرانے ہو چکے. تم اپنے بے پناہ چاہنے والوں کو اپنا دشمن بنا لو گے اگر تم نے کشمیر سے غداری کی. کہنے سننے کو بہت کچھ ہے مگر………..

  • دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، ایسا اسلحہ برآمد کہ سن کر حیران رہ جائیں گے

    دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، ایسا اسلحہ برآمد کہ سن کر حیران رہ جائیں گے

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشتگردی کابڑامنصوبہ ناکام بناتے ہوئے بھاری تعداد میں اسلحہ اورگولہ بارود برآمد کر لیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں اسلحہ میں ریمورٹ کنٹرول بم، تھری ناٹ تھری گن اورسیکڑوں راؤنڈزبھی شامل ہیں، برآمدکئےگئےاسلحےمیں ایئرکرافٹ راؤنڈزبھی شامل ہیں،

    اسسٹنٹ کمشنرذوہیب الحق کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کاعید اور یوم آزادی کےموقع کارروائی کاارادہ تھا اور وہ تخریب کاری و دہشت گردی کے ذریعہ پاکستانیوں‌ کو خون میں نہلانا چاہتے تھے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان سے اسلحہ برآمد کر کے مزید کاروائی کا آغاز کر دیا ہے،

  • "ایام حج کے اسباق۔۔۔” جویریہ چوہدری

    "ایام حج کے اسباق۔۔۔” جویریہ چوہدری

    وہ روح پرور لمحات جب دنیا بھر کے مسلمان۔۔۔گورے،کالے
    قد آور۔۔۔پست قامت
    امیر۔۔۔غریب
    چھوٹے۔۔۔۔بڑے
    اُس بلد الامین میں۔۔۔شہر مبارک میں۔۔۔بیت الحرم کا دیوانہ وار طواف کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔لاکھوں فرزندان اسلام
    ایک ہی لباس۔۔۔ایک انداز۔۔۔ایک جذبہ۔۔۔۔ایک سی وارفتگی کے عالم میں اس گھر کے دیدار کے لیئے دنیا بھر سے اکھٹے ہوتے ہیں۔۔۔۔جہاں کے چٹیل میدان سے پھوٹنے والے چشمے کے پانی میں تو کمی نہیں آئی مگر اس کے گرد تشنہ لب ہجوم کا پھیلاؤ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔
    اپنے پروردگار کی بارگاہ میں فقیر بنے ایک ہی صدا نکالتے ہیں:
    "لبیک اللھم لبیک۔۔۔۔۔۔”
    اپنی واحدانیت کے ترانے الاپنے والوں پر رب رحمٰن بھی کتنا خوش ہوتا ہے کہ میدانِ عرفات میں ڈیرہ ڈالے مسافروں کی معافی کااعلان کرتا ہے۔۔۔

    ایسا روح پرور ماحول سال کے باقی ایام میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔۔۔۔
    یہ ایام ذوالحجہ اپنی فضیلت اور اعمال کی رفعت کے اعتبار سے ویسے بھی سال کے دیگر ایام کی نسبت عظمت والے ہیں۔۔۔
    کیونکہ ان ایام میں مسلمانوں کی تمام عبادات۔۔۔۔مثلاً۔۔۔نماز،عرفہ کاروزہ،صدقہ،قربانی،حج،
    اذکار،تکبیرات یعنی سب عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ان ایام کو بڑی فضیلت والے دن کہا گیا۔۔۔۔!!!!!

    اگرچہ اکثر اوقات ہم ان ایام کو لاپرواہی سے عام دنوں کی طرح گزار دیتے اور وہ اجر و ثواب حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔۔۔۔جس کا ان ایام کے اعمال پر وعدہ کیا گیا ہے۔۔۔!!!

    حج بیت اللہ جیسی عظیم عبادت ہمیں کچھ اسباق بھی ازبر کرانے کا ایک اہم موقع ہے۔۔۔

    1)۔اتحاد و اتفاق کی دعوت:
    ان ایام میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر مسلک کے ماننے والے اپنے پروردگار کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوتے ہیں،اور اس گھر کا طواف کرتے ہوئے،اور دیگر ارکان حج بجا لاتے ہوئے باہم محبت و شفقت کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔
    اتفاق و اتحاد کا یہ سبق اپنے اپنے ممالک میں بھی اسی انداز میں یاد رکھنے کا بہترین پیغام ہے۔۔۔نفرتوں،باہم عداوتوں،حسد،بغض،تکبر سب سے جان چھڑانے کا بہترین سبق ہے۔ مگر اکثر اسے بھلا دیا جاتا ہے۔

    2)۔فکر آخرت:
    یہ دن ہمیں یوم قیامت کی یاد بھی دلاتے ہیں کہ جسطرح ایک سفید لباس میں ملبوس۔۔۔۔دنیا و مافیھا سے بے غرض۔۔۔۔گھر بار،کاروبار سے دور۔۔۔
    بچوں اور خاندان سے دور۔۔۔
    اسی طرح ایک سفید لباس پہنا کر ہم اکیلے ہی اس دنیا سے جانے والے ہیں۔۔۔۔اور پھر سبھی یوم قیامت حساب کتاب۔۔۔۔جزا و سزا کے لیئے اکھٹے بھی کیۓ جائیں گے۔۔۔
    جہاں اپنے اعمال کے سوا کچھ کام نہیں آئے گا۔۔۔مال و دولت۔۔۔
    اولاد،خاندان وغیرہ۔

    3)۔نماز کی پابندی:
    اکثر کہا جاتا ہے کہ جو لوگ نماز کے عادی نہیں ہوتے،وہ اگر سفر حج کریں تو ان کی یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے۔۔۔
    تو اسی نکتے کو لے کر غور کیجیئے کہ اگر یہ مبارک سفر طے کرنے کے بعد بھی حاجی،حاجن کہلا کر بھی ہم نماز کی پابندی کی کوشش نہیں کریں گے تو وہ سبق کہاں کھو گیا۔۔۔۔جو ہم ایام حج میں وہاں سیکھتے ہیں۔۔۔؟؟؟

    4)۔عاجزی و سادگی کا پیام:
    سفر حج ہمارے لیئے عاجزی اختیار کرنے اور سادگی اختیار کرنے کا ایک اہم موقع اور سبق ہے۔۔۔۔
    عجیب و غریب فیشنز سے اجتناب کی عملی مشق ہے۔۔۔۔اسلامی طرزِ حیات اپنانےاور لباس وغیرہ کے معاملےمیں اصلاح کا بہترین موقع ہے۔۔۔۔
    جسےزندگی کے بقیہ ایام میں بھی زندگی کا حصہ بنا کر ہم عاجزی و وقار کا عملی نمونہ بن سکتےہیں۔۔۔!!!!!

    5)۔لڑائی جھگڑے سے اجتناب:
    حج کا موقع ہمارے اندر تبدیلی کا ایک جذبہ بیدار کرنے،تقصیرات پر قابو پانے،اور رب کی رضا کے حصول کی طرف محو سفر ہونے کا موقع ہے۔۔۔!!!
    جس طرح ایام حج میں لڑائی جھگڑے،جھوٹ،چغلی،بد عہدی،فسق و فجور،نشہ وغیرہ سے اجتناب کا حکم ہے،اپنے ہم سفروں کی غلطی سے درگزر،برداشت کرنے کا جو پیام ان دنوں میں ملتا ہے۔۔۔
    انہی باتوں پر ہم بقیہ ایام میں عمل کر کے سکون و امن کی زندگی گزار سکتے ہیں۔۔۔!!!

    6)۔رزق حلال:
    پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اللّٰہ پاک ہے،اور صرف پاکیزہ مال قبول کرتا ہے،
    پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی کا ذکر کیا،جو لمبی مسافت طے کر کے آتا ہے۔۔۔مقدس مقامات پر،غبار سے اٹاہوا،گرد آلود ہے۔۔۔
    پھر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے:
    حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے،
    اس کا پینا حرام ہے۔۔۔
    اس کا لباس حرام ہے
    اور وہ حرام پر ہی پلا۔۔۔تو ایسے شخص کی دعا کیوں کر قبول ہو سکتی ہے؟؟؟”
    (صحیح مسلم)۔
    تو پتہ چلا کہ اللّٰہ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کو مقبول بنانے کے لئیے اس کے احکامات پر عمل بھی ازحد ضروری ہے
    کیونکہ:
    انما یتقبل اللّٰہ من المتقین¤
    {المائدہ}۔
    اور متقین کون ہوتے ہیں؟
    جو ناجائز طریقے سے مال نہیں کماتے۔۔۔
    کسی کا حق نہیں مارتے۔۔۔۔
    کسی کی جائداد پر ناحق قبضہ نہیں کرتے۔۔۔
    رشوت و سود سے بچتے ہیں۔۔۔

    7)۔دعا کااہتمام:
    بیت اللّٰہ کا حج کرنے والوں کو دعا کا اہتمام بھی خشوع و خضوع سے کرنا چاہیئے۔۔۔
    اپنی دعاؤں میں امت مسلمہ اور مظلوم مسلمانوں کی ابتر صورت حال سے نجات اور آذادی کے لیئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں۔۔۔!!!!!
    دنیا و آخرت کی بھلائی مانگی جائے۔۔۔وطن عزیز پاکستان کے استحکام کی دعائیں مانگی جائیں۔۔۔!!!
    اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان ایام میں نیک اعمال کرنے کی توفیق بخشے،
    اور اعمال کو اس انداز میں اتباع رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کرتے ہوئے بجا لانے کی توفیق دے کہ وہ اس کی بارگاہ میں قبولیت کے معیار پر پورا اتریں۔۔۔۔آمین!!!!!
    وہ چھوٹے سے چھوٹے ہوں یا بڑےسے بڑے۔۔۔!!!!!
    سب ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے اعمال کرنے کی کوشش کریں۔۔۔بالخصوص تسبیح،تحمید،تہلیل،تکبیر،یوم عرفہ کا روزہ وغیرہ۔۔۔!!!!
    کیونکہ حج اور قربانی تو صاحب استطاعت پر فرض ہیں۔۔۔
    اگر یہ عمل نہیں بھی ممکن تو درج بالا اعمال سے ہرگزغافل نہ رہیں۔۔۔!!!

  • بھارتی ایجنسی نے میرے خلاف کیا اقدام اٹھایا ہے؟ مشعال ملک نے صاف بتا دیا

    بھارتی ایجنسی نے میرے خلاف کیا اقدام اٹھایا ہے؟ مشعال ملک نے صاف بتا دیا

    جموں‌ کشمیر لبریشن فرنٹ‌ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کوایل اوسی کےعلاقوں تک محدودکرکےمہاجرکا درجہ دیناچاہتا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ یاسین ملک کی صحت تشویشناک ہےانہیں پنجرےنماسیل میں رکھاگیاہے، میرانام بھی بھارتی ایجنسی این آئی اےکی فہرست میں شامل کرلیاگیا ہے، مقبوضہ کشمیرگئی تو مجھے گرفتار کرلیا جائے گا،

    واضح‌ رہے کہ بھارت میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں جموں‌ کشمیر لبریشن فرنٹ‌ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کی انتہائی تشویشناک حالت میں تصاویر منظر عام پر آئی ہیں جس پر کشمیری قوم میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، حریت رہنما یاسین ملک کی تازہ ترین تصاویر تہاڑ جیل کے پنجرہ نما بیرک کی ہیں جہاں انہیں‌ سخت تشویشناک حال میں باہر نکال کر صوفے پہ لٹایا گیا ہے، اس حوالہ سے بعض اطلاعات انتہائی دلسوز ہیں، یاد رہے کہ یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے بھی ایک دن قبل کہا تھا کہ ان کے شوہر کی حالت انتہائی خراب ہے اور وہ اپنے قدموں پر کھڑے بھی نہیں‌ ہو سکتے، انہوں نے کہا تھا کہ عالمی اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور انہیں رہا کروانا چاہیے. یٰسین ملک کو رہا نہ کئے جانے پر کشمیری قوم میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے،

  • فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے زیراہتمام کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے واک

    فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے زیراہتمام کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی فوج کے ظلم وستم کی مذمت کے لئے مختلف پروگرامز کا اہتمام کیا گیا جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی چوہدری،میڈیکل سپرنٹنڈنٹس الائیڈ وڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ڈاکٹر خرم الطاف و ڈاکٹر خالد فخر،فیکلٹی ممبرز،میڈیکل طلباء اور پیرامیڈیکل سٹاف نے شرکت کی۔اس موقع پر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی سے الائیڈ ہسپتال تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی اور اس سے قبل کشمیری مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔بعدازاں شرکاء نے ”کشمیر بنے گا پاکستان“۔”کشمیریوں پر مظالم بند کرو“کے فلک شفاف نعرے لگائے گئے۔فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی آڈیٹوریم میں کشمیر کے مسئلہ پر سیمینار اور طلباء کے مابین تقریری مقابلے بھی منعقد ہوئے جن میں حق خود ارادیت کے لئے کشمیریوں کی جدوجہد کو اجاگر اور مقبوضہ کشمیر پر انڈیا کے ناجائز تسلط کو ختم کرنے کے لئے عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کا احساس دلایا گیا۔اس سے قبل الائیڈ ہسپتال سے فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی تک واک منعقد ہوئی جس کی قیادت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی چوہدری نے کی۔واک کے شرکاء نے کشمیری بھائیوں سے یکجہتی اور بھارتی افواج کے ظلم وبربریت کے خلاف نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • مسلئہ کشمیر: اپوزیش اور حکومت نے مل کر ایسا اعلان کردیا کہ بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

    مسلئہ کشمیر: اپوزیش اور حکومت نے مل کر ایسا اعلان کردیا کہ بھارت میں صف ماتم بچھ گئی

    اسلام آباد: چیئرمین خارجہ امور کمیٹی سینیٹ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنا ہائی کمیشنر دہلی سے واپس بلا لینا چاہیئے، جس پر حکومتی سینیٹر محمد علی سیف نے ان کی بات سے اتفاق کیا.

    تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین خارجہ امور کمیٹی سینیٹ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کو اپنا ہائی کمیشنر دہلی سے واپس بلا لینا چاہیئے، جس پر ساتھ بیٹھے رکن قانون و انصاف کمیٹی سینیٹ سینیٹر محمد علی سیف نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو نہ صرف اپنا ہائی کمیشنر دہلی سے واپس بلانا چاہیئے بلکہ بھارت کے ہائی کمیشنر کو بھی واپس بھارت بھیج دینا چاہیئے جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ملک میں ڈپلومیٹک ایمرجنسی ڈیکلئر کردینی چاہیئے، اس وقت کشمیر کا ایک ہی ایجنڈا ہے جسے مل کر حل کرنے کی ضرورت ہے.

    واضح رہے کہ بھارت نے آج آرٹیکل 35 اے اور 370 منسوخ کردیا ہے جس سے کشمیر اب علیحدہ سے ریاست نہیں رہی.