Baaghi TV

Author: +9251

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جا رہا

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جا رہا

    مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کی ترمیم کے بعد بھارت کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جارہا ہے ، اس لحاظ سے مقبوضہ کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہے گا بلکہ وہ بھارت کی یونین کاحصہ بن گیا ہے .

    باغی ٹی وی کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کی ترمیم کے بعد بھارت کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنے جارہا ہے ، اس لحاظ سے اب مقبوضہ کشمیرکو ریاست کا درجہ نہیں رہےگی بلکہ وہ بھارت کی یونین کاحصہ بن گیا ہے ہے.جیسے اسرائیل میں وہاں کے فلسطینیون کو ان کی اپنی شناخت نہیں ہے اور اسرائیل وہاں اپنی دھونس سے ہر طرح کی تبدیلی کر رہا ہے ایسے ہی کشمیر کی وادی میں بھی بھارت اسرائیل ماڈل قائم کرنےجا رہا ہے .جس کے ذریعے وہ مرضی کے قوانین بنا کر کشمیر عوام کا ہر طرح‌ کا استحصال کر سکے گا.
    واضح‌رہے کہ بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی قرارداد پیش کی جس پر ایوان میں خوب ہنگامہ ہوا ، راجیہ سبھامیں اپوزیشن نے اسپیکرڈائس کے سامنے احتجاج کیا ، بھارتی وزیرداخلہ کی آرٹیکل 370 اور 35 اےمنسوخ کرنے کی تجویز دی.

  • فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے انوکھا انداز، ایمان پرور لمحات

    فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے انوکھا انداز، ایمان پرور لمحات

    ہزاروں میل سفر طے کر کے ، حج کے لیے انوکھا انداز اپنانے والے سائیکل سوار دیار حرم پہنچ گئے ، طویل سفر طے کرنے کے بعد جزباتی مناظر دیکھنے کو ملے.

    تفصیلات کےمطابق پاکستان سمیت مختلف ملکوں کے سائیکل سوار حج کی ادائی کے لیے 4 ہزار میل کا سفر طے کر کے برطانیہ سے سعودی شہر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

    ان سائیکل سواروں نے 17 ملکوں سے گذرنے کے بعد حجاز مقدس کا یہ سفر 60 دن میں طے کیا، جن میں برطانیہ کے سائیکل سوار عازمینِ حج بھی شامل ہیں۔

    ارضِ مقدس میں شہرِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پہنچنے اور اپنے شاندار استقبال پر متعدد سائیکل سواروں کے خوشی کے باعث آنسو رواں ہو گئے اور سب نے ایک دوسرے کو گلے لگ کر مبارک باد بھی دی۔

  • چھری کانٹے کی برآمدات میں بڑا اضافہ…

    چھری کانٹے کی برآمدات میں بڑا اضافہ…

    اسلام آباد:مالی سال2018-19 میں پاکستان کی کٹلری برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 1.73 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ہے، مالی سال 2017-18 میں پاکستان نے کل 89.773 ملین ڈالر کے چھری کانٹے برآمد کیے اور گزشتہ مالی سالی سال 2018-19 میں 91.325 ملین ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں جو کے 1.73 فیصد زائد ہیں تفصیلات کے مطابق یہ اعداد و شمار بروز ہفتہ پاکستان بیوروآف سٹیٹسٹکس کی طرف سے جاری کیے گئے

  • بھارت کشمیر کی حیثیت تبدیل کر رہا جبکہ ہم نے کشمیر کی  موثر آوازوں کو بھی خاموش کردیا

    بھارت کشمیر کی حیثیت تبدیل کر رہا جبکہ ہم نے کشمیر کی موثر آوازوں کو بھی خاموش کردیا

    بھارت کشمیر کی حیثیت تبدیل کر رہا جب کہ ہم نے کشمیر کی موثر آوازوں کو بھی خاموش کردیا، کشمیر کے لیے بھارت کیا کر رہا ہے اور ہم کہاں کھڑ ے ہیں.انصار عباسی کی حالات کے تناظر میں اہم ٹویٹ

    تفصیلات کےمطابق مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر سینئر صحافی انصار عباسی نے ٹویٹ کرتےہوئے کہا ہےکہ بھارت کشمیر کی تاریخی حیثیت تبدیل کر رہا ہے. جب کہ ہم اس بات پر بہت خوش ہیں کہ امریکا نے ہمیں مصالحت اور ثالثی کا لولی پوپ دے دیا ہے .یہ لولی پوپ بھی اگر مگر کے ساتھ ہے کہ اگر بھارت سرکار کی خوشنودی ہو تو پھر ملے گی.
    جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے پہلے ہی کشمیر کے متعلق موثر اور بلند آوازوں کے حامل افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کر رکھا ہے ، صرف اس لیے کہ بھارت اور امریکا ہم سے یہ چاہتا تھا.ان حالات میں آگے کیاہوتا ہے؟ یہ بات قابل تشویش ہے.


    واضح رہےکہ حکومت جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کو جیل میں ڈال رکھا ہے جن کو ملک بھر میں کشمیراور کشمیریوں‌کی آزادی کی موثر آواز سمجھا جاتاہے. اسی طرح انکی جماعت بھی تبدیلیوں کی شکار ہے جسے مکمل طور پر غیر فعال کر دیا ہے.

  • انوشکا شرما کی ٹھکرائی ہوئی سپرہٹ فلمیں

    انوشکا شرما کی ٹھکرائی ہوئی سپرہٹ فلمیں

    بالی ووڈ کی ناموراداکارہ انوشکاشرما کا شمار بالی ووڈ انڈسٹری کی صف اول کی ادکاراؤں میں ہوتاہے جن کی کیریئر میں کئی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں-تاہم انہوں نے کئی فلموں کو ٹھکرایا بھی ہے جو ریلیز ہونے کے بعد ہٹ ثابت ہوئیں-
    2015 میں ریلیزہونے والی فلم ”تماشا”میں رنبیر کپوراور دپیکاپڈوکون کی اداکاری آج بھی لوگوں کو یاد ہے اس فلم کے ہدایت کار امتیازعلی نے پہلے اداکارہ دپیکا کی بجائے انوشکا شرما کو پسند کیا تھا لیکن انوشکا نے یہ کہہ کر فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا ہے انہیں اس فلم میں اپنا کردار پسند نہیں-
    ارجن کپور اور عالیہ بھٹ کی فلم”2اسٹیٹس” بھی پہلے انوشکا شرما کو آفر ہوئی تھی لیکن انوشکا نے فلم میں کام کرنے سے انکار کر دیا. فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی-
    ارجن اور کرینہ کپور کی فلم”کی اینڈ کا ”بھی انوشکا کو آفر ہوئی لیکن انوشکا شرما نے فلم کو ٹھکرا دیا .تاہم یہ فلم باکس آفس پر اوسط درجے کا بزنس ہی کرسکی-
    یہاں ایک ایسی فلم کا ذکر بھی ہے جسے انوشکا نے ٹھکرایا تو نہیں لیکن وہ فلم انوشکا کے حصے میں نہ آسکی – یہاں بات ہو رہی ہے عامر خان اور کرینہ کپور کی 2009 میں ریلیز ہونے والی کامیاب فلم ”تھری ایڈیئٹس’کی انوشکا شرما نے اس فلم میں کرینہ کپور والے رول کیلئے آڈیشن بھی دیا تھا لیکن اس فلم کے ہدایت کار راجکمار ہیرانی کو پتہ ہی نہیں چلا لیکن جب بعد میں انوشکا شرما نے انہیں آڈیشن والا کلپ دکھایا تو وہ حیران رہ گئے-

  • بھارتی آئین میں  آرٹیکل35 اے اور آرٹیکل 370 کیاہے ، جانیے خصوصی رپورٹ

    بھارتی آئین میں آرٹیکل35 اے اور آرٹیکل 370 کیاہے ، جانیے خصوصی رپورٹ

    بھارت اپنے آئین میں تبدیلی کر کے آرٹیکل35 اے اور آرٹیکل 370 میں ترمیم کرنے جا رہاہے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق بھارت کی اسمبلی راجھیہ سبھا میں وفاقی وزیر امت شاہ نے ان شکوں کی ترمیم کے لیے قرارداد جمع کرا دی ہے جس کو صدارتی آرڈینینس کے بعد منظور کر لیا گیا ہےاس ترمیم کے بعد کشمیریوں کی خصوصی شناخت ختم ہو جائے گی اور بھارت وادی کشمیر میں ڈیموگرافک تبدیلی کر کے مسلم اکثریت کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا. اس کے بعد کل اگر جموں کشمیر میں استصواب رائے کرایا بھی جائے تو اکثریت ہندوؤں کی ہوگی . آرٹیکل 25 اے اور آرٹیکل 370 کیا ہے اس بارے میں باغی ٹی کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں.

    وکی پیڈیا میں آرٹیکل 370 کی تشریح کچھ یوں ہے. بھارتی آئین کی دفعہ 370 ایک خصوصی دفعہ ہے جو ریاست ریاست جموں و کشمیر کو جداگانہ حیثیت دیتی ہے۔ یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ہے جبکہ زیادہ تر امور میں وفاقی آئین کے نفاذ کو جموں کشمیر میں ممنوع کرتی ہے۔ اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی امور، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں متحدہ مرکزی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔ دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔

    اس دفعہ کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے بہت سے بنیادی امور جن میں شہریوں کے لیے جائداد، شہریت اور بنیادی انسانی حقوق شامل ہیں ان کے قوانین عام بھارتی قوانین سے مختلف ہیں۔ مہاراجا ہری سنگھ کے 1927ء کے باشندگان ریاست قانون کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے چنانچہ بھارت کا کوئی بھی عام شہری ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائداد نہیں خرید سکتا، یہ امر صرف بھارت کے عام شہریوں کی حد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر نجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائداد حاصل نہیں کر سکتی ہیں۔ اس قانون کے مطابق ریاست کے اندر رہائشی کالونیاں بنانے اور صنعتی کارخانے، ڈیم اور دیگر کارخانے لگانے کے لیے ریاستی اراضی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی قسم کے تغیرات کے لیے ریاست کے نمائندگان کی مرضی حاصل کرنا ضروری ہے جو منتخب اسمبلی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔
    آرٹیکل 35 اے ریاست جموں و کشمیر کے جداگانہ قومی و سیاسی تشخص کا مظہر اور ریاستی عوام کے معاشی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی مفادات کا محافظ ہے۔

    بھارتی آئین میں موجود ہونے کے باوجود، ریاست جموں و کشمیر میں نافذ کوئی بھی موجودہ قانون اور اس کے بعد کوئی بھی قانون جسے ریاستی قانون سازی کے عمل کے ذریعے نافذ کیا جائے:

    (a)ریاست کے مستقل شہریوں کی موجودہ یا مستقبل کی درجہ بندی، یا(b)ایسے مستقل شہریوں کو کوئی بھی ایسی مراعات یا حقوق ودیعت کرنے یا دوسرے لوگوں پر کوئی بھی ایسی حدود و قیود لگانے کے لئیے جن کا تعلق(1) ریاستی حکومت کے ماتحت ملازمت(2) ریاست کے اندر غیرمنقولہ جائیداد کے حصول(3) ریاست کے اندر سکونت اختیار کرنے(4) وظیفوں کے حق اور ریاست کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کی دیگر اقسام اس بنیاد پر منسوخ نہیں ہوں گی کہ (آئین کے) اس حصے کے تحت حاصل امتیازی (حقوق و مراعات اور اختیارات) بھارت کے دیگر شہریوں کو حاصل (آئینی) حقوق سے متصادم ہیں۔

    آرٹیکل 35A کے اس متن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آرٹیکل ریاست جموں و کشمیر کے قانون ساز اداروں کو اختیارات دیتا ہے کہ وہ ریاست میں مستقل سکونت کے ضوابط کا تعین کریں اور اس بنیاد پر لوگوں کو مراعات و فوائد دیں۔

    گویا دوسرے لفظوں میں بھارتی آئین کا آرٹیکل 35A ریاست جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کے حقوق کا تعین کرتا ہے اور غیر ریاستی باشندوں پر غیرمنقولہ جائیداد کی خرید پر پابندی عائد کرتا ہے۔

    یہ آرٹیکل درحقیقت مہاراجہ ہری سنگھ کے قانون باشندہ ریاست سے اخذ کیا گیا ہے اور ریاستی باشندوں کو وہی حقوق و مراعات دیتا ہے اور غیر ریاستی باشندوں پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے جنہیں مہاراجہ ہری سنگھ کے قوانین باشندہ ریاست کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔

    اس آرٹیکل کو 14 مئی 1954 میں بھارتی آئین میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔ اس صدارتی حکم کا عنوان تھا (آئینی (نفاذِ جموں و کشمیر) حکم 1954۔ اور تب سے یہ صدارتی حکم نامہ بھارتی آئین کا حصہ ہے۔

    صدارتی حکم نامے کے اس آرٹیکل 35A کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں کوئی ایسا شخص جو ریاست کا مستقل باشندہ نہیں ہے وہ (1) ریاست میں کوئی غیرمنقولہ جائیداد حاصل نہیں کر سکتا، (2) ریاست میں کوئی سرکاری ملازمت اختیار نہیں کر سکتا اور (3) کسی ایسے پیشہ وارانہ ادارے میں داخلہ نہیں لے سکتا جسے ریاستی حکومت چلاتی ہے اور نہ ہی ریاست کی طرف سے فراہم کردہ کوئی امداد یا وظیفہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ آرٹیکل نہ صرف ریاستی شہریوں کے لئے مخصوص حقوق و مراعات کا تعین کرتا ہے بلکہ اس اصول کا تعین بھی کرتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے اندر ریاستی شہریوں کو حاصل ان حقوق و مراعات اور غیر ریاستی شہریوں کے مقابلے میں حاصل امتیازی درجے کو بھارتی آئین کی کسی اور شق کو بنیاد بنا کر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

  • سوشل میڈیا پہ کیا جانے والا پروپیگنڈہ جھوٹ،مخالفین سازشیں کررہے ہیں

    سوشل میڈیا پہ کیا جانے والا پروپیگنڈہ جھوٹ،مخالفین سازشیں کررہے ہیں

    جہانیاں (نمائندہ باغی ٹی وی)کے حلقہ پی پی 210 کے لیگی ایم پی اے حاجی عطاالرحمان پر مبینہ الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ہی یونی ورسٹی کی طالبہ سے زیادتی کی اور بعد میں بلیک میلنگکی بنا پر پے در پے زیادتی کا نشانہ بناتارہا ہے۔حاجی عطاالرحمان نے اپنے سوشل میڈیا پہ جاری بیان میں کہا کہ میں کسی ایسے گھناؤنے کام میں ملوث نہیں۔سوشل میڈیا پہ میرے مخالفین میرے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔

  • لیگی ایم پی اے گیارہ ماہ تک زیادتی کرتا رہا

    لیگی ایم پی اے گیارہ ماہ تک زیادتی کرتا رہا

    جہانیاں(نمائندہ باغی ٹی وی)ن لیگی ایم پی اے حاجی عطاالرحمان اپنی ہی یونی ورسٹی کی طالبہ سے گیارہ ماہ تک زیادتی کرتا رہا۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لیگی ایم پی اے کی زیادتی کی شکار لڑکی نے میڈیکل رپورٹس اور عدالت کو دی جانے والی درخواست سوشل میڈیا پہ وائرل کردیں۔درخواست میں لڑکی نے موقف اختیار کیا کہ میں ملتان میں لیگی ایم پی اے کی نجی یونی ورسٹی میں زیر تعلیم ہوں ۔حاجی عطالرحمان مجھے ایک دو بار اپنے ساتھ لے گیا اور میری قابل اعتراض ویڈیوز بناکر مجھے گیارہ ماہ تک بلیک میل کرکے میرے ساتھ زیادتی کرتا رہا۔میرے اداروں پہ پاس جانے پہ مبینہ ملزم نے مجھے سات کروڑ روپے کی پیشکش بھی کی۔

  • مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    ہاتھ میں موجود کرکٹ کے بلے کو گن سے تبدیل کرنے والے مہندر سنگھ دھونی نے جولائی 2019 میں انڈین آرمی کو بطور لیفٹیننٹ کرنل جوائن کیا۔ مہندر سنگھ دھونی کی بطور آرمی آفیسر پہلی ڈیوٹی کشمیر میں لگائی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب سے دھونی نے کشمیر میں انڈین آرمی کو جوائن کیا ہے تب سے خطہ کشمیر میں انڈین آرمی کی جارحانہ کاروائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔
    مہندر سنگھ دھونی کے علاوہ انڈیا نے کشمیر کی وادی میں 28 ہزار مزید انڈین فوجی تعینات کر دئیے ہیں۔انڈیا نے ائر فورس کو الرٹ کردیا ہے۔ انڈین نیوی کی نقل و حرکت سمندروں میں بڑھا دی گئی ہے۔کشمیر میں لوکل پولیس سے انتظام لے کر انڈین آرمی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس سمیت دیگر ایسی جگہوں پرانڈین فوج آکر بیٹھ گئی ہے۔ انڈین آرمی کو چار ماہ کا راشن جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کشمیر میں لوگوں نے خوراک سٹاک کرنی شروع کر دی ہے۔ان کے نیتجے میں آنے والے دنوں میں کشمیر میں خوفناک خونریزی کے امکانات ہیں جس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔انڈین آرمی نے کشمیر میں جاری ظالمانہ کاروائیوں میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ حال میں انڈیا کی بزدل فوج نے نہتے کشمیری شہریوں پر خوفناک کلسٹر بموں سے حملہ کیا ہے جس سے شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انڈین فوج نے کشمیر میں موجود تمام غیرملکی سیاحوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم بھی دے دیا ہے جس کے باعث جنت نظیر وادی کشمیر میں موجود سیاح تیزی سے اپنے ممالک واپسی کا رخ کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ انڈین فوج نے کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو بھی نافذ کردیا ہے جس سے خطے میں اور بالخصوص کشمیری شہریوں میں تشویش کی شدید لہر دوڑ گئی ہے
    مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر میں تعیناتی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ ان کو تعینات کرنے کے بعد انڈین آرمی کی بزدلانہ کاروائیوں میں کیا گیا اضافہ کہیں کوئی پیغام تو نہیں ہے؟ ان کاروائیوں سے انڈیا کے مجرمانہ عزائم کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر جیسے متنازعہ علاقے میں تعیناتی کہیں اپنے کھلاڑیوں میں تشدد اور شدت پسندی کو اجاگر کرنا تو نہیں ہے؟ مہندر سنگھ دھونی نے اپنی تعیناتی کی بعد کشمیر یوں پر ڈھائے جانے مظالم کے بارے میں اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہندر سنگھ دھونی مظلوم و معصوم نہتے کشمیریوں پر کی جانے والی ان بزدلانہ ظالمانہ کاروائیوں میں اپنی آرمی کے ساتھ ہے۔
    عالمی سطح پر دنیا اس وقت جن خطرات کا سامنا کر رہی ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ امن کو ہے اور بلاشبہ کشمیر کا امن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ تقسیم ہند کے وقت برطانوی سامراج کی جانب سے پیدا کئے گئے اس مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں اور موجودہ حالات کے پیش نظر اس وقت پھر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایٹمی اور جوہری طاقت رکھنے والی دونوں قوتوں میں اگر خدانخواستہ جنگ ہوگئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے امن کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جنگی جنون میں مبتلا انڈیا حالات کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے نہ صرف کشمیر میں فوج اور مظالم بڑھا رہا ہے بلکہ کھلے عام پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہورہا ہے۔ بارڈر لائن ہر بھارت کی اشتعال انگیز فائرنگ اور بمباری سے اب تک نہ صرف درجنوں پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں بلکہ ہزاروں انڈین فوجی بھی جہنم کی راہ دیکھ چکے ہیں۔
    ایک کروڑ کی آبادی اور 84 ہزار مربع میل پر مشتمل کشمیر پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر بہنے والے تمام دریا کشمیر کی وادی سے ہی نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ کشمیر کے مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں جس کا مطالبہ کشمیری عوام اور لیڈران بارہا کر چکے ہیں۔ جبکہ انڈیا اپنی اذلی بے حسی اور ڈھٹائی سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکاری ہے بلکہ یہ مطالبہ کرنے والے کشمیری رہنماؤں کو وقتا فوقتا پابندی اور ظلم کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔
    پاکستان کے نام میں موجود "ک” کا حرف کشمیر سے منسوب کیا گیا تھا۔ مذہبی و خونی رشتوں، تجارتی تعلق، آبی و جغرافیائی حیثیت کی بناء پر ہر لحاظ سے کشمیر پاکستان کا حصہ بنتا ہے۔ بدقسمتی سے ریڈ کلف ایوارڈ کے وقت انگریزوں اور ہندوؤں کے باہم گٹھ جوڑ نے کشمیر کو پاکستان سے ملحق کرنے کے بجائے ایک سازش کے تحت اسے متنازعہ بنادیا۔ اقوام متحدہ کی بارہا کوششوں کے باوجود انڈیا کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کسی حد تک سیریس دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکی صدر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی آفر کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ سراہا بھی ہے جبکہ انڈیا اس سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔
    کشمیر میں اپنی تعیناتی پر خوش مہندر سنگھ دھونی کشمیریوں کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث بن چکے ہیں کیونکہ ان کی آمد کے بعد سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان سے امن اور محبت کے پیام و پیغام کی جو توقع کی جارہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئے ہیں۔

  • مسئلہ کشمیر کشیدگی پر دونوں ممالک تحمل سے کام لیں ، اقوام متحدہ

    مسئلہ کشمیر کشیدگی پر دونوں ممالک تحمل سے کام لیں ، اقوام متحدہ

    مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی پر اقوام متحدہ نے پاکستان اور بھارت سے تحمل کی اپیل کی ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ مبصر گروپ نے صورت حال سے متعلق رپورٹ دی ہے، لائن آف کنٹرول پر حالیہ دنوں میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفین دجارک نے ایک سوال کے جواب میں ای میل کے ذریعے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور بھارت میں افواج کی نگرانی کرنے والے اقوامِ متحدہ کے گروپ (یو این موگپ) نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ حالیہ عرصے میں لائن آف کنٹرول پر فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے’۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’اقوامِ متحدہ دونوں ممالک سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی اپیل کرتی ہے کہ صورتحال مزید نہ بگڑے‘۔