Baaghi TV

Author: +9251

  • آپ بکے ، خواجہ آصف ، نہیں‌آپ بکے ، شیریں رحمان ، آپ نہیں‌ توپھر کون بکا ؟ مولانا فضل الرحمن ، اپوزیشن بکھر گئی

    آپ بکے ، خواجہ آصف ، نہیں‌آپ بکے ، شیریں رحمان ، آپ نہیں‌ توپھر کون بکا ؟ مولانا فضل الرحمن ، اپوزیشن بکھر گئی

    اسلام آباد: اپوزیشن بکھر گئی ، سینیٹ الیکشن میں ایک دوسرے پر بکنے کے الزامات لگانے لگے، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایک دوسرے پر وفاداری تبدیلی کا الزام عائد کردیا۔ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں‌آپ دونوں میں سے کوئی نہیں بکا تو پھر کون بکا ؟ اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن اب بکھر چکی ہے


    رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف اور پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا معاملہ عوام کے سامنے لے آئے جہاں دونوں نے اپوزیشن کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔

    پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف ببانگ دہل یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ان کی اتحادی جماعت نے بے وفائی کی ہے اور ایک معاہدے کے تحت بکے ہیں ، خواجہ آصف کااشارہ پیپلز پارٹی کی طرف تھا ، دوسری طرف پاکستان پییپلز پارٹی کی سینیٹر مرکزی رہنما شیریں رحمان نے خواجہ آصف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ پیپلزپارٹی بکنے والی جماعت نہیں یہ بے وفائی ن لیگ کے سینیٹروں نے کی ہے،

    تاہم دونوں جماعتیں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ میں ضابطہ اخلاق کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

    اپوزیشن جماعتوں کے ایک دوسرے کے خلاف بیان اور الزامات کے بعد جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس وقت سخت ناراض ہیں . اطلاعات یہی ہیں‌ کہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اگر یہ دوجماعتیں نہیں‌بکی تو پھر کون بکا ہے . جن کی وجہ سے آج اپوزیشن کو رسوائی کا منہ دیکھنا پڑرہاہے

    سینیٹ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ان جماعت پارلیمانی قوانین کی تبدیلی کی خواہشمند ہے جن میں ایوان میں ووٹنگ کے دوران خفیہ رائے شماری شامل ہے۔

  • شہدائے پولیس کو آرمی چیف کا خراج تحسین،یوم شہدائے پولیس پر پیغام

    شہدائے پولیس کو آرمی چیف کا خراج تحسین،یوم شہدائے پولیس پر پیغام

    پولیس نے دہشت گردی کے خلاف کو ایک مضبوط فورس کے طور پر خود کو پیش کیا ، شہید افسران اور سپاہیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں.آرمی چیف کا بیان

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شہدائے پولیس کے دن کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملک و قوم کے تحفظ کےلیے پولیس افسران اور سپاہیوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی . دیگر سیکیورٹی فورسز کی طرح پولیس نے بھی بے مثال قربانیاں دی ہیں. تمام ادارے کی طرح پیش ورانہ فرائض انجام دیے اور خود کو پہلے سے مضبوط اور فعال بنایا ہے.
    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے افسروں اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آج یوم شہدائے پولیس منایا جا رہا ہے۔ملک بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے.

    واضح رہے کہ اس سلسلے میں آئی جی پنجاب پولیس عارف نواز نے پولیس کے شہداء کے دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ پنجاب پولیس آج اپنے 15 سو شہداء ساتھیوں سے محروم ہے لیکن اس کے باوجود پنجاب پولیس صوبے کے عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

    اس موقع پر سی ٹی او ٹریفک پولیس لاہور کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے شہید احمد مبین کی قبر پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی

    سی ٹی او کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے کہا کہ احمد مبین شہید نے اپنی جان قربان کر کے پولیس کے نام کو اعلی مرتبہ دیا، تجدید عہد ہے کہ ہم اپنے شہدا کو نہیں بھولے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہباز گل نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج یوم شہدائے پولیس ہے۔

  • محبت کا شک ، پیپلز پارٹی نے وزارتیں بانٹنا شروع کردیں

    محبت کا شک ، پیپلز پارٹی نے وزارتیں بانٹنا شروع کردیں

    کراچی:پی ٹی آئی سے محبت کی خبریں‌تو کئی دنوں سے چل رہی تھیں ، پیپلزپارٹی کی قیادت کواس محبت پر شک تھا. پیپلز پارٹی نے اسی ڈر سے کہ کہیں پی پی ارکان پی ٹی آئی والوں کو دل نہ دے بیٹھیں ان کے لیے وزارتوں کے دروازے کھول دئیے ہیں.

    کراچی سے ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ میں توسیع کا اصولی فیصلہ کیاگیا،کابینہ میں چار صوبائی وزیر اور دو مشیرحلف اٹھائیں گے،گورنر سندھ عمران اسماعیل ارکان سے حلف لیں گے،کابینہ میں چار صوبائی وزیر اور دو مشیرحلف اٹھائیں گے، حلف برداری کی تقریب آج گورنر ہاؤس میں ہوگی۔

    حلف برداری تقریب آج دو بجے گورنر ہاؤس میں ہوگی،کابینہ میں سید ناصر حسین شاہ اور عبدالباری پتافی کو دوبارہ شامل کرنے کا امکان ہے،اکرام اللہ دہاریجو،سہیل انور سیال کو بھی کابینہ میں شامل کرنے کے فیصلے پر غور کیا جائے گا،دو مشیر شامل کئےجائیں گے ، جن میں نثار احمد کھوڑو اور سردار بنگل خان مہر متوقع امیدواروں میں شامل ہیں، علاوہ ازیں سندھ کابینہ میں شامل ارکان کےمحکموں میں بھی ردو بدل کا امکان ہے۔

  • بھارت کو کلسٹر بموں کے استعمال سے روکنے کا بڑا مطالبہ آگیا

    بھارت کو کلسٹر بموں کے استعمال سے روکنے کا بڑا مطالبہ آگیا

    بھارت کو کلسٹر بموں کے استعمال سے روکنے کا بڑا مطالبہ آگیا .بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کا استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے.ریڈ کراس

    تفصیلات کے مطابق عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ریڈ کراس نے بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کا استعمال کرنے پر کہا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے. ریڈ کراس نے بھارت کو کلسٹر بموں کے استعمال نہ کرنے پر عالمی برادری سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

    اس سے پہلے .آئی ایس پی آر نے عالمی برادری سے کلسٹر بموں کےاستعمال پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا. ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کو بے نقاب کیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول کے جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلسٹر بم کا استعمال شروع کر دیا ہے جس سے ایک بچے سمیت دو شہری جاں بحق ہوئے ہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ عالمی دنیا بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے ،رواں برس بھارت نے اب تک 1824 بار ایل او سی معاہدے کی خلاف ورزی کی

  • منشا بم واقعی ہی بم ، پولیس اہکارنوکری سے فارغ

    منشا بم واقعی ہی بم ، پولیس اہکارنوکری سے فارغ

    لاہور: منشا بم واقعی بم ثابت ہوا ، پولیس والے بھی ڈرتے ہیں اس بم سے ، تازہ ترین واقعہ میں‌ایل ڈی اے نے قبضہ مافیا کے سرغنہ منشا بم اور اس کے بیٹے کو پروٹوکول دینے پر تین ملازمین کو معطل کردیا۔

    اطلاعت کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کےڈائریکٹر جنرل محمد عثمان معظم نے تین ملازمین کو معطل کردیا ہے۔ معطل ہونے والوں میں ون ونڈو سیل پر تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر زاہد عزیز، قائداعظم ٹاؤن میں تعینات اسسٹنٹ نعیم اللہ اور ڈی جی سیل کا نائب قاصد قاسم عباس شامل ہیں۔

    منشا بم کو پروٹوکول دینے کے حوالے سے کی جانے والی انکوائری رپورٹ کے مطابق ایل ڈی اے کے دفتر میں منشا بم کا داخلہ بند ہونے اور سکیورٹی گارڈز کی طرف سے اسے روکے جانے کے باوجود اسسٹنٹ ڈائریکٹر زاہد عزیز خود جاکر منشا بم اور اس کے بیٹے کو ون ونڈو سیل پر لے آئے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باقی دونوں ملازمین نے بھی اس کے ون ونڈو سیل میں داخل ہونے میں مدد کی جس پر ڈائریکٹر جنرل نے ایکشن لیا، ان ملازمین کو پیڈا ایکٹ کے تحت شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔

  • وہی پولیس ، پرانی عادتیں‌ ، تھانے ماڈل ، اصطلا حیں‌ بدل گئیں ، مگر عادتیں‌ نہ بدل سکیں‌

    وہی پولیس ، پرانی عادتیں‌ ، تھانے ماڈل ، اصطلا حیں‌ بدل گئیں ، مگر عادتیں‌ نہ بدل سکیں‌

    لاہور: پنجاب حکومت نے ماڈل تھانوں کے قیام کا اعلان کرکے حیران کردیا ہے کہ یہ کیسی تبدیلی ہے کہ جب وہی پولیس اہلکار رہیں گے جن کی وجہ سے پولیس بدنام ہے اور وہ اپنی کرپشن اور ظلم کی وجہ سے مشہور ہیں‌تو پھر عمارت کو رنگ کرنے یا تختیاں لگانے سے کون سی تبدیلی آجائے گی .

    پولیس کا اپنا کلچر اپنی جگہ مگر حکومت نے اس کے باوجود ماڈل تھانوں کے بعد تھانوں کو اپ گریڈ کرنے کا ایک اور منصوبہ، ڈی آئی جی آپریشنز نے کہاہے کہ ابتدائی طور پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر لاہور میں تھانوں کا انتخاب کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ”بیک ٹو دی بیسک” کے نام سے نئے پراجیکٹ کا آغاز کر دیا گیا ہے، ان تھانوں میں فرنٹ ڈیسک کے ساتھ فسیلٹیشن ڈیسک بنایا جائے گا، جہاں انویسٹی گیشن ونگ اور آپریشنز ونگ کے ڈیوٹی افسربھی تعینات ہوں گے,جو ہر آنے والے سائل کے مسائل کا فوری ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مدد بھی کریں گے۔

    پولیس کے اعلیٰ‌حکام کے مطابق ابتدائی طور پر اس پروجیکٹ میں‌ 6 تھانوں میں بادامی باغ ، رائیونڈ سٹی، ڈیفنس اے، مناواں، کاہنہ اور اقبال ٹاون تھانہ شامل ہیں

  • وہاڑی : شہداء پنجاب پولیس کو خراج تحسین

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) شہدائے پولیس کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یادگار شہداء سمیت ضلع وہاڑی کے مختلف علاقوں میں چراغاں اور شمعیں روشن کرنے کی تقاریب منعقد کی گئیں.

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وہاڑی ثاقب سلطان المحمود نے پولیس لائنز وہاڑی کا دورہ کیا اور یادگار شہداء پر حاضری دی, فاتحہ خوانی اور شہداء شمعیں روشن کیں اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز شہزاد منظور اور پولیس لائنز و دفتری سٹاف بھی موجود تھا. ایس ڈی پی اوز اور تھانہ جات کے ایس ایچ اوز نے بھی شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اپنے اپنے علاقوں میں شمعیں روشن کیں.

    اس موقع پر ڈی پی او وہاڑی ثاقب سلطان المحمود نے کہا کہ وہاڑی پولیس کے شہداء لازوال قربانیوں کی داستان ہیں ان کی قربانیوں نے پوری فورس کے حوصلوں کو بلند کیا ہے، ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا پنجاب پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قربانیوں سے دریغ نہیں کرے گی۔ ہمیں اپنے شہداء پولیس پر فخر ہے.

  • بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    3جون1947ء کے تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ریاستوں کی آزادی اور الحاق کے بارے میں جو اصول طے ہوئے تھے، ان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ بننا تھا، لیکن جب کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا موقع نہیں دیا گیا تو کشمیریوں نے اولاً 19 جولائی 1947ء کو الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی۔ بعد میں 24 اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

    قائداعظمؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنی کتاب ’’مائی برادر‘‘ میں بھی قائداعظمؒ کی کشمیر سے وابستگی اور تشویش کے بارے میں جو اشارہ دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ کشمیر کے بارے میں کس حد تک فکر مند تھے۔

    آپ لکھتی ہیں کہ قائداعظمؒ کے آخری ایام میں ان پر جب غنودگی اور نیم بے ہوشی کا دورہ پڑتا تھا تو آپ فرماتے تھے کہ کشمیر کو حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے آئین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کئے۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1926ء میں کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کشمیری زعما سے ملاقاتیں بھی کیں۔ اس وقت اگرچہ کشمیر میں تحریک حریت کے خدوخال زیادہ نمایاں نہیں تھے، لیکن کشمیری مسلمانوں کی حالت دِگرگوں تھی اور انہیں ہندؤوں کے مقابلے میں دوسرے تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔

    قائدا عظم ؒ دوسری بار 1929ء، تیسری بار 1936ء اور چوتھی بار1944ء میں کشمیر گئے،جہاں آپ نے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے اجلاسوں سے خطاب بھی کیا اور کم و بیش ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ کشمیر میں قیام کیا۔
    بھارت مقبوضہ کشمیر کو3حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے آئین میں ایسی شقیں موجود ہیں جس کے تحت پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع کسی بھی ریاست کی سرحدیں تبدیل کی جا سکتی ہیں تاہم پاکستانی قانونی ماہرین کے مطابق ایسی کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور حتیٰ کے بھارتی آئین کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کرنے اورنئی سرحدیں بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370ہے۔ آرٹیکل35-A کے برعکس آرٹیکل 370آئین کا باضابطہ حصہ ہے اور ریاست کو خودمختارانہ حیثیت دیتا ہے۔ آرٹیکل35-A کو آئین میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔

    یہ آرٹیکل ریاستی اسمبلی کو ریاست کے مستقل رہائشیوں کا تعین کرنے کی اجازت دیتا ہے اور مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دیتا ہے۔ بھارتی ماہرین کے مطابق یہ دونوں قوانین ابتدا میں عارضی طور پر بنائے گئے تھے۔ ان کے باضابطہ ہونے کی بنیاد مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی ہے جس نے ریاست کا آئین تشکیل دیا اور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی سفارش کئے بغیر اس نے خود کو تحلیل کر دیا۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق آرٹیکل 370 میں آرٹیکل 368(1)کے ذریعے ترمیم کی جا سکتی ہے جس کیلئے لوک سبھا میں ایک تحریک پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں آرٹیکل 368(1) کے ذریعے آرٹیکل 370منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جائے جو پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا طریقہ کار طے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    پا رلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کویہ ترمیم منظور کرنا ہوگی اور اس کے بعد بھارت کی آدھی ریاستوں کو اس کی توثیق کرنا ہوگی اور یہ عمل مکمل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر کی سرحدوں کے ازسر نو تعین کا اختیار حاصل ہو جائیگا۔اس کے بعد پارلیمنٹ آرٹیکل 3کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریاست کو مختلف حصوں میں تقسیم یا اس کی سرحدوں کا دوبارہ تعین کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370کی موجودگی میں یہ اقدام غیرقانونی ہو گا۔

    بھارت کی نیوز ایجنسی ’’آئی اے این ایس‘‘ کے مطابق لوک سبھا کے سابق سیکرٹری جنرل سبھاش کیشپ نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 370آئین کی خصوصی نہیں عارضی شق ہے اور مختلف عارضی، عبوری اور خصوصی شقوں میں عارضی شق سب سے کمزور ہوتی ہے اور فیصلہ صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس شق کو کب اور کیسے ختم کرنا ہے۔

    بین الاقوامی قانون کے ممتاز پاکستانی ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بھی کوشش جو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کرے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ایسا کوئی بھی اقدام چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہو گی، حکومت پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے سامنے بھرپور طریقے سے اٹھانا چاہئے۔

    بین الاقوامی قانون کے ایک اور ماہر بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-Aمقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متنازعہ علاقے کے طور پر مقبوضہ وادی کی حالت جوں کی توں رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ آرٹیکل ختم کرنے سے بھارت کی عالمی برادری سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہو گی اور اس کا آزاد کشمیر کی حیثیت پر بھی پڑیگا۔ پاکستان کو فوری طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ بھارت کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لئے عالمی دباؤ ڈالا جا سکے۔اس سلسلے میں سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    پاکستان کو یہ اقدام بھارتی جارحیت تصور کرنا چاہئے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانا اس علاقے کو ضم کرنے کے مترادف ہے جس پر پاکستان دعویٰ رکھتا ہے۔ بیرسٹر اسد رحیم خان نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی اور یہ امن کوششوں کیلئے تباہ کن ہوگا۔

    بھارت شملہ معاہدے میں اس امر پر اتفاق کر چکا ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ مقبوضہ وادی میں ہندوؤں کی آبادکاری اور مسلم رہائشیوں پر مظالم کے ذریعے مودی کا ہندوتوا منصوبہ نہ صرف وادی کو تباہ کر دے گا بلکہ کئی دہائیوں میں طے پانے والے قانونی اتفاق رائے کا بھی خاتمہ کردیگا۔
    پاکستان کو اس حساس ایشو میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم کشمیری عوام کا بھرپور ساتھ دینا اور مدد کرنی چاہئے۔

  • مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی کی نازک صورت حال وزیرا عظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا جلاس بلالیا

    مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی کی نازک صورت حال وزیرا عظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا جلاس بلالیا

    وزیر اعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلا لیا، بھارت کی جانب سے مقبو ضہ کشمیرمیں ظلم اور ایل و سی پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اجلاس بلا یا ہے، بھارت کی جانب سے کلسٹربموں کا استعمال اور دیگر خلاف ورزیوں اور قومی سلامتی امور پر اہم فیصلے متوقع ہوں گے.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق :وزیر اعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلا لیا، بھارت کی جانب سے کشمیر اور ایل و سی پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر وزیراعظم عمران خان نے اجلاس بلا لیا، بھارت کی جانب سے کلسٹربموں کا استعمال اور دیگر خلاف ورزیوں اور قومی سلامتی امور پر اہم فیصلے متوقع ہوں گے..
    مزید پڑھیں:بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ، سات کشمیری نوجوان شہید کردیے

    واضح رہے کہ ان حالات میں کشمیر میں شیدید کشیدگی پائی جاتی ہے .مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کے حکم کے بعد سیاحوں نے کشمیر سے جانا شروع کر دیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 38 ہزار مزید بھارتی فوج کی تعیناتی کے بعد کشمییر میں کرفیو کا سا سماں ہے، پٹرول پمپوں پر پٹرول ختم اور اے ٹی ایم پر بھی رش دیکھنے کو ملا.

  • "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    صدیوں پہلے اللّٰہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے میں اپنے پروردگار سے دعا مانگتے ہیں۔۔۔۔:
    رَبِّ ھَب لِی مِنَ الصّٰلِحِین¤
    "میرے رب مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔۔۔”
    اللّٰہ تعالی نے اپنے خلیل کی دعا قبول کرتے ہوئے بردبار لڑکے کی بشارت دی۔۔۔
    مگر آزمائش کا دور ابھی باقی تھا۔۔۔بیٹا جب دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللّٰہ کے خلیل پیغمبر خواب میں دیکھتے ہیں کہ اسے ذبح کر رہے ہیں۔۔۔
    اپنے فرمانبردار اور صالح بیٹے سے مشاورت کی۔۔۔۔کیونکہ پیغمبروں کے خواب بھی وحی ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔!!!
    تو بیٹے نے نہایت عاجزی اور ثابت قدمی سے کہا:
    ابا جان!
    آپ کو جو حکم اللہ کی طرف سے ملا ہے۔۔۔۔اسے بجا لایئے۔۔۔
    کر گزریئے۔۔۔!!!!!
    ان شآ ء اللّٰہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔۔۔
    باپ اپنے لاڈلے بیٹے کو لے کر چل پڑا۔۔۔۔اور چھری تلے گردن رکھ دی۔۔۔
    جہانوں کا خالق اپنے بندے کی فرمانبرداری کے نظارے عرش پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔:
    فرشتے کے ذریعے ندا آئی۔۔۔”یقیناً تو نے خواب سچ کر دکھایا۔۔۔”
    تیرے اس بھاری عمل کی لاج اب ہم یوں رکھیں گے کہ قیامت تک تیری اس سنت کو زندہ رکھیں گے۔۔۔۔
    اور اہل ایمان قیامت تک اللّٰہ کی رضا کے لیئے تیری اس قربانی کی یاد میں اپنے جانور اللّٰہ کی راہ میں قربان کرتے رہیں گے۔۔۔
    "اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔
    ابراھیم علیہ السلام پر سلام ہو۔
    ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
    بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔۔۔”(سورۃ الصّٰفٰت)
    اسکے ساتھ یہ سبق بھی ابراھیم علیہ السلام کی سنت کی اتباع کرنے والوں کے لیئے اہمیت رکھتا ہے کہ جب وقت آ گیا حق کے لیئے وہ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔۔۔!!!!

    بیسویں صدی کے باسیانِ ہندوستان نے بھی ایک خواب دیکھا تھا کہ اگر ان غیور و باشعور مسلمانوں کے لیئے برصغیر کے اندر الگ سے ایک نمائندہ ریاست قائم ہو جائے۔۔۔جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق جی سکیں۔۔۔۔اپنے دین کی تعلیمات پر آذادی سے عمل کر سکیں۔۔۔
    ظاہر سی بات تھی کہ یہ انسانوں کی زبان سے نکلتی بات تھی۔۔۔جسے دیوانے کا خواب بھی کہا گیا۔۔۔۔نا قابل عمل بھی کہا گیا۔۔۔مگر سنت ابراہیمی سے پیار رکھنے والوں نے تاریخ کے انمٹ ابواب پر خونِ دل سے تحریر کر دیا کہ لا الہ الا اللہ کے وارث کسی دور میں بھی قربانیوں سے ہچکچائے نہیں ہیں۔۔۔
    امتحان بڑا سخت تھا۔۔۔
    سفر بڑا کٹھن اور راہیں بڑی دشوار گزار تھیں۔۔۔!!!!
    مال کی قربانی تھی۔۔۔۔جان کی بھی۔۔۔۔
    گھر بار کی۔۔۔تو خاندان کی بھی۔۔۔
    مگر قافلہ ہجرت چل پڑا تھا۔۔۔جانبِ منزل۔۔۔۔آبلہ پا۔۔۔سورج کی حدت اور موسم کی شدت سے بے پرواہ ہو کر۔۔۔
    ایک ہی امید کا چراغ دلوں میں جلائے۔۔۔کہ خواب سے تعبیر تک کا سفر طے ہو جائے۔۔۔
    آذاد دھرتی۔۔۔پاک وطن۔۔۔پاکستان کی مٹی کا بوسہ نصیب ہو جائے۔۔۔!!!!!!
    ردا و آنچل۔۔۔۔
    لختِ جگر۔۔۔۔
    ماؤں کی ممتا۔۔۔
    شفقتِ پدری۔۔۔۔
    کی قربانیاں دے کر یہ قافلہ ہجرت اپنے مشن میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔۔۔
    14اگست 1947ء اقوام عالم کی تاریخ کا تابناک دن جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کی ریاست”پاکستان” کے انوکھے اور پیارے نام کے ساتھ ابھری۔۔۔
    دشمن کے سینے آگ سے بھڑک اٹھے تھے مگر۔۔۔۔۔
    اللّٰہ کا وعدہ بھی برحق تھا:
    "ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔”

    اس پاک وطن کی عمارت۔۔۔۔ انسانوں کے اعضاء اور پاکیزہ لہو کے گارے سے چُنی گئی۔۔۔
    کتنی نسلوں کی قربانیوں سے ملا۔۔۔۔
    اے وطن تو ہماری وفا کا صلہ۔۔
    خواب سے تعبیر تک سفر تو کس عزم سے طے ہوا تھا۔۔۔۔شاید ہم جیسے اس کا ادراک کبھی صحیح معنوں میں نہ کر سکیں۔۔۔
    ہاں چودہ اگست تک جوش و خروش باقی رہے گا۔۔۔پھر وہی ڈگر۔۔۔؟؟؟
    لیکن سوچنا یہ ہے کہ اپنی اپنی”میں”سے ہٹ کر ہم سب مل کر اس پاک وطن کی مضبوطی اور نا قابل تسخیر دفاع میں شامل ہو جائیں۔۔۔
    اس آذادی کے تحفہ کی دل و جان سے قدر اور بقاء کے لیئے کمر بستہ ہو جائیں۔۔۔
    اس پاک وطن کے دفاع میں اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹ جائیں۔۔۔
    اور پاکستان کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام پہنچا دیں کہ ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں عید و یومِ آذادی مناتی یہ قوم کبھی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس کے جوان بیٹے آج بھی اپنے پاکیزہ لہو سے اس کے در و دیوار کا بھر پور دفاع کر رہے ہیں۔۔۔
    جس طرح 12،13،14اگست کو ہم مالی قربانی کریں گے۔۔۔۔
    اسی طرح 14اگست کو یوم آزادی مناتے ہوئے اس عہد کا اعادہ بھی کریں گے کہ اس دیس کی حرمت ہمیں جانوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔۔!!!
    اور لاریب اس وطن پاک کو بھی قیامت تک پائندہ و سلامت رہنا ہے۔۔۔۔۔!!!!!
    ہم اس دھرتی کے روشن مستقبل کے خواب کو کبھی بکھرنے نہیں دیں گے۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔
    آیئے!
    اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس وطن کی ترقی و استحکام کے لیئے اپنے اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لیں۔۔۔۔کہ آذادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے۔۔۔سب سے پہلی چیز یہی”آذادی” ہے۔۔۔۔
    کیونکہ جب ہم آذاد ہوں گے تو آزادانہ اپنے تمام عملوں کو بھی بجا لا سکیں گے۔۔۔۔!!!!!
    اس کا بہترین مشاہدہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کی حالت زار سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔!!!
    تو سلامت وطن۔۔۔۔تا قیامت وطن۔۔۔!!!
    دل دل کی آواز۔۔۔۔ہر دل کی آواز "پاکستان زندہ باد”