Baaghi TV

Author: +9251

  • 42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے

    Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani

    ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،

    انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا

    Mukesh Ambani

    لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،

    لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
    انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے

  • مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجی دستے ، بھارت کے ممکنہ مذموم مقاصد کیا ہو سکتے ہیں ، اہم رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجی دستے ، بھارت کے ممکنہ مذموم مقاصد کیا ہو سکتے ہیں ، اہم رپورٹ

    ہزروں کی تعداد میں فوجی دستوں کی مقبوضہ کشمیر میں تعیناتی کے پیچھے بھارت کے کئی ممکنہ مزموم مقاصد کارفرما ہیں

    تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مزید ہزاروں دستےتعینات کرنے کے پیچھے بھارت کے کئی مذموم مقاصد سامنے آ سکتے ہیں،جن میں بھارت مقبوضہ کشمیر سے 28000 ریگولر فوجیوں کو مذموم مقاصد کے تحت بارڈر پر بھیجنا چاہتا ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کو ختم کر رہا ہے.جس وجہ سے اس کو مقبوضہ کشمیر میں غیر معمولی مذاہمت کا سامنا ہو گا اس پر کشمیری عوام کے رد عمل اور مزاہمت کو روکنے کے لیے بھارت مزید اتنی بھاری نفری وادی میں مقرر کر رہا ہے.اس کےعلاوہ مذموم مقصد یہ کہ .بھارت پاکستان کے ساتھ آزاد کشمیر تک محدود /مکمل جنگ کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور یہ فوجی اس جنگ کے دوران بھارتی سپلائی لائن کی حفاظت کریں گے جس، کو مقامی مزاحمت سے خطرہ ہے

    واضح رہے کہ لاائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے سیز فائر معاہدے کی جاری خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا کنفرم کر رہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں25000 نیم فوجی دستے تعینات کر ریا ہے جو کہ پہلے سے موجود فوج کے علاوہ ہیں یہ صورتحال مندرجہ ذیل 3 میں سے، کسی ایک ممکنات کی طرف اشارہ کرتی ہے.ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارتی آئین سے آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اضافی بھارتی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد وادی میں ممکنہ ردعمل اور مظاہروں کو روکنا ہے۔
    مودی سرکار آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت غیر ریاستی بھارتی باشندے جموں و کشمیر میں جائیدادیں اور زمینیں خرید سکیں گے جس سے متنازع خطے میں مسلم اکثریت خطرے میں پڑ جائے گی۔

    مزید پڑھیں:بھارت نے مزید 25 ہزار فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے

    ؛

  • بابون آزادی فیسٹیول میں گجرات کے بائیکرز کی بڑی تعداد شریک ہو گی

    بابون آزادی فیسٹیول میں گجرات کے بائیکرز کی بڑی تعداد شریک ہو گی

    گجرات ( نمائندہ باغی ٹی وی ) وادی نیلم میں بابون آزادی فیسٹیول 14 اور15اگست کو منایا جائے گا جس میں گجرات سے موٹر بائیکرز کی بڑی تعداد شرکت کرے گی تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں دوسرا بابون آزادی فیسٹیول 14اور15اگست کو منایا جائے گا جس میں گجرات سے تقریباً ایک درجن سے زائد موٹر سائیکلوں پر بائیکرز شرکت کریں گے آزادی موٹر سائیکل ریلی 13اگست کو رات 2بجے جی ٹی ایس چوک گجرات سے سینئر صحافی طارق محمود کی قیادت میں روانہ ہو گی جو راو لپنڈی ، مری ، کوہالہ اور مظفر آباد سے ہوتی ہوئی وادی نیلم کے صدر مقام آٹھ مقام شام چار بجے پہنچے گی اور اگلی صبح پانچ بجے روانہ ہو کر صبح آٹھ بجے بابون ٹاپ پہنچ کر آزادی فیسٹیول میں شرکت کریں گے بابون آزادی فیسٹیول میں شرکت کرنے والوں کے لئے 5اگست بکنگ آخری تاریخ رکھی گئی ہے

  • شوبز میں انٹری کی وجہ سے والد ناراض ہو گئےتھے،مایاعلی

    شوبز میں انٹری کی وجہ سے والد ناراض ہو گئےتھے،مایاعلی

    نامورپاکستانی اداکارہ مایا علی کا کہنا ہے کہ شوبز میں کام کر نے کی وجہ سے ان کے والد ان سے بہت ناراض ہو گئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے مایا علی سے 8 سال تک بات نہیں کی تھی-
    نامور اداکارہ مایا علی نے حال ہی میں بی بی سی ایشین نیت ورک کو دیئے گئے انٹر ویو میں شوبز انڈسٹری میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بات کی ان کا کہنا تھا کہ کیریئر کے آغاز میں انہیں لوگوں سے اتنی محبت نہیں ملی تھی بلکہ اُلٹا ان پر تنقید کی جاتی تھی.لیکن بعد میں لوگوں نے ان کے کام کو بے حد سراہا-
    مایا علی کا کہنا تھا کہ شوبز میں انٹری کی وجہ سے ان کے والد بھی ان سے ناراض ہوگئے تھے 8 سال تک انہوں نے مجھ سے بات نہیں کی تھی میں اُن سے بات کرنے کی کوشش کرتی تھی لیکن وہ جواب نہیں دیتے تھے یہ چیزیں مجھے تکلیف پہنچاتی تھی-لیکن آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں.میری خواہش ہے کہ آج وہ میرے ہوتے تو میری کامیابی دیکھ کر بہت خوش ہوتے-
    مایا علی نے بتایا کہ برسوں مجھ سے ناراض رہنے کے بعد میرے والد بھی میری اداکاری کے معترف ہوگئےتھےاور وفات سے 6 ماہ قبل انہوں نے مجھ سے بات کی اور میرے ایوارڈ نہ جیتنے پر انہوں نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا کوئی بات نہیں اگلے سال تم ضرور ایوارڈ جیتو گی اور پھر ایسا ہی ہوا لیکن میرے والد میرے ساتھ نہیں تھے-
    انہوں نے تمام والدین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو اپنے خواب پورے کرنے دو تا کہ انہیں زندگی میں کسی قسم کا افسوس نہ ہو-
    ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ماہرہ خان کو بہت پسند کرتی ہوں اور ان کی بہت بڑی مداح ہوں اور خوش ہوں کہ بڑی عید پر میری ،ماہرہ خان اور حریم فاروق کی فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں ،بالآخراب ہماری انڈسٹری نے آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے-

  • کرکٹ ٹیم  پر پی سی بی کا آج آپریشن اہم فیصلے متوقع

    کرکٹ ٹیم پر پی سی بی کا آج آپریشن اہم فیصلے متوقع

    پی سی بی کرکٹ کمیٹی آج شام لاہور میں پاکستان کر کٹ ٹیم کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لے گی اور مستقبل کے لئے بورڈ کو نیا روڈ میپ دے گی۔

    سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا سرفراز احمد مستقبل میں بھی کپتانی کریں گے یا مکی آرتھر کو تین سال بعد اپنی کوچنگ ٹیم کے ساتھ گھر جانا ہوگا۔ کر کٹ کمیٹی کی سفارشات کو ماننا اور رد کرنا احسان مانی کا آئینی استحقاق ہے۔
    پی سی بی کا کہنا ہے کہ کمیٹی کا کردار ایڈوائزری ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ سوچ و بچار کے بعد نئے کوچنگ اسٹاف اور کپتان کا تقرر تین سے چار سال کے لئے کریں گے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے۔ خامیوں اور کو تاہیوں کا جائزہ لے کر گزشتہ تین سال کی کارکردگی کا تجزیہ کریں گے۔ کپتان اور کوچ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ نئے کوچنگ اسٹاف سے شرائط طے ہونے میں کچھ وقت بھی لگ سکتا ہے اس لئے اگر وقت لگا تو عارضی مدت کے لئے ٹیم انتظامیہ لائیں گے لیکن مستقل ٹیم انتظامیہ تین سے چار سال کے لئے ہوگی

  • بھارت نے مزید 25 ہزار فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے

    بھارت نے مزید 25 ہزار فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے

    بھارت نے مزید 25 ہزار فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دیئے، چند روز پہلے بھی 10 ہزار فوجی مقبوضہ وادی بھیجے گئے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق بھارت نے جنت نظیر وادی میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کا گھناؤنا منصوبہ بنا لیا۔ علاقے کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے کیس آرٹیکل 35 اے کی سماعت جلد متوقع ہے۔ اسی کے پیش نظر بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 25 ہزار فوجی بھیج دئیے۔ 280 کمپنیوں پر مشتمل یہ فوجی سری نگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے۔

    ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارتی آئین سے آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اضافی بھارتی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد وادی میں ممکنہ ردعمل اور مظاہروں کو روکنا ہے۔
    مودی سرکار آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت غیر ریاستی بھارتی باشندے جموں و کشمیر میں جائیدادیں اور زمینیں خرید سکیں گے جس سے متنازع خطے میں مسلم اکثریت خطرے میں پڑ جائے گی۔

  • معروف شاعر شہزاد احمد کی آج ساتویں برسی ہے

    معروف شاعر شہزاد احمد کی آج ساتویں برسی ہے

    معروف شاعر شہزاد احمد کی
    آج ساتویں برسی ہے *

    چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی
    بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی

    آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھو
    منہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی

    ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر
    ثبت پھیلی ہوئی بانہوں پہ حرارت اس کی

    وہ اگر جا بھی چکی ہے تو نہ آنکھیں کھولو
    ابھی محسوس کئے جاؤ رفاقت اس کی

    وہ کبھی آنکھ بھی جھپکے تو لرز جاتا ہوں
    مجھ کو اس سے بھی زیادہ ہے ضرورت اس کی

    وہ کہیں جان نہ لے ریت کا ٹیلہ ہوں میں
    میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اس کی

    بے طلب جینا بھی شہزاد طلب ہے اس کی
    زندہ رہنے کی تمنا بھی شرارت اس کی
    ….
    جناب شہزاد احمد ایک سچے شاعر تھے انہوں نے "جام بکف” شاعروں کی طرح اپنی تشہیر کی خاطر کوئی منفی راستہ نہیں اپنایا حالانکہ وہ ادبی ادارے کے سربراہ بھی رہے۔ان کا ایک شعر ملاحظہ کیجئے ۔۔بہت دیر تک اس شعر کی کیفیت آپ کو سرشار رکھے گی۔۔!!

    اس راہ سے گزرے تھے کبھی اہل نظر بھی
    اس خاک کو چہرے پہ ملو آنکھ میں ڈالو

  • شام: بشار حکومت ادلب میں مشروط جنگ بندی پر تیار

    شام: بشار حکومت ادلب میں مشروط جنگ بندی پر تیار

    شامی حکومت نے شام کے اہم شہر ادلب میں مشروط جنگ بندی پرآمادی کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں ادلب کو اسلحہ سے خالی علاقہ قرار دینے کی روسی اور ترک تجویز کے بعد سرکاری فوج جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔

    شام کی سرکاری نیوز ایجنسی’سانا’ کے مطابق ترکی اور روس نے ادلب کو اسلحہ سے خالی علاقہ قرار دینے کا ایک معاہدہ کیا ہے اور شامی حکومت کو بھی اس حوالے سےمطلع کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آستانا میں شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے شامی حکومت کی طرف سے ادلب میں جنگ بندی پرعمل درآمد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

    خیال رہے کہ ترکی اور روس نے گذشتہ برس ستمبر میں ادلب میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خطرات ٹالنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا مگر اس پرعمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ادلب وہ شہر ہے جہاں بشار الاسد کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت پائی جاتی ہے.

  • عدیم ہاشمی اردو کے ممتاز شاعر،ادیب اور ڈرامہ نگار کب پیدا ہوئے

    عدیم ہاشمی اردو کے ممتاز شاعر،ادیب اور ڈرامہ نگار کب پیدا ہوئے

    عدیم ہاشمی کی پیدائش*
    اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار عدیم ہاشمی کی تاریخ پیدائش اگست1946ء ہے۔
    عدیم ہاشمی کا اصل نام فصیح الدین تھا اور وہ بھارت کے شہر ڈلہوزی میں پیدا ہوئے تھے۔
    عدیم ہاشمی کا شمار اردو کے جدید شعرا میں ہوتا تھا۔
    ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے جن میں ترکش، مکالمہ، فاصلے ایسے بھی ہوں گے، میں نے کہا وصال، مجھے تم سے محبت ہے، چہرا تمہارا یاد رہتا ہے، کہو کتنی محبت ہے اور بہت نزدیک آتے جارہے ہو کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے ایک ڈرامہ سیریل ’’آغوش‘‘ بھی تحریر کیا اور مشہور ڈرامہ سیریز گیسٹ ہائوس کے لئے بھی کچھ ڈرامے تحریر کئے۔
    5 نومبر 2001ء کو عدیم ہاشمی امریکا کے شہر شکاگو میں وفات پاگئے اور وہیں پاکستانیوں کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
    ان کے اشعا ر ملاحظہ ہوں-:
    بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
    اڑا دیئے ہیں پرندے شجر میں بیٹھے ہوئے
    ……٭٭٭……
    فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
    سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
    ……٭٭٭……
    بہت نزدیک آتے جارہے ہو
    بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ چشمِ زر کہاں، یہ مِری چشمِ تَر کہاں
    ٹکرائی بھی تو جا کے نظر سے نظر کہاں

    جانا ہے تم کو جاؤ، چلے ہو مگر کہاں

    میں ڈھُونڈتا پھروں گا تمہیں دَر بہ دَر کہاں

    قصر شہی کی بات ہے قصر شہی کے ساتھ

    تیری گلی کہاں ، تِرے دیوار و دَر کہاں

    دولت سے خوابگاہ تو جو بھی خرید لو

    نِیندیں مگر خرید سکے مال و زَر کہاں

    تُو آگ ہی لگا کے ذرا خُود کو دیکھ لے

    تجھ پر یونہی پڑے گی کِسی کی نظر کہاں

    میں اپنا آپ ڈھُونڈ رہا ہوں جہان میں

    مجھ کو عدیم اور کِسی کی خبر کہاں

    یہ کِس مقابلے کے لیے جا رہے ہو تم

    آنسو کہاں عدیم، صدف کا گہر کہاں

  • صادق آباد: لنڈا پھاٹک کے قریب چندرامی روڈ پر بائیک اور کارکی ٹکر، دو افراد زِخمی ، ہسپتال منتقل

    صادق آباد: لنڈا پھاٹک کے قریب چندرامی روڈ پر بائیک اور کارکی ٹکر، دو افراد زِخمی ، ہسپتال منتقل

    تفصیلات کے مطابق صادق آباد لنڈا پھاٹک کے قریب چندرامی روڈ پرتیز رفتار بائیک اور کارکی ٹکر، دو افراد زِخمی زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے. حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا جس کی وجہ سے کار اور موٹر سائیکل کو نقصان پہنچا.