Baaghi TV

Author: +9251

  • ایف بی آر کی آگاہی مہم ہوا میں اُڑا دی گئی ، کیسے ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    ایف بی آر کی آگاہی مہم ہوا میں اُڑا دی گئی ، کیسے ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    لاہور : ایف بی آر کی آگاہی مہم ناکام ہوتے ہوئے نظر آرہی ہے ، اس مہم کو ناکام بنانے میں گورنمنٹ کے اپنے ہی ملازم شامل ہیں ،اطلاعات کے مطابق پولیس، نیب، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے سمیت مختلف محکموں کے 26 ہزار 500 افسروں اور ملازمین نے تاحال اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق گوشوارے جمع نہ کرانے والوں میں سب سے زیادہ پولیس کے افسران و ملازمین شامل ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز کے 14 ہزار ، پنجاب کانسٹیبلری کے 11 سو افسران و اہلکار تاحال نان فائلر ہیں۔

    گوشوارے نہ جمع کروانے کے حوالے سے ایف بی آر نے جو تفصیلات بتائی ہیں‌ان کے مطابق ڈی آئی جی سکیورٹی آفس کے 1 ہزار افسران واہلکار، ڈی آئی جی سپیشل برانچ کے ایک ہزار 200 افسروں اور اہلکاروں نے تاحال گوشوارے جمع نہیں کروائے، ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے 4580، ٹریفک پولیس کے 3 ہزار200 افسران و ملازمین نے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔

    اس مہم کو ناکام بنانے والوں میں اس ادارے کے لوگ بھی شامل ہیں‌جن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایف بی آرکے ساتھ تعاون کریں ، مثال کے طور پر ایف آئی اے کے 500 افسران و ملازمین نان فائلرز ہیں، اے جی پی آر کے 64، اے جی پنجاب کے 140 افسران و ملازمین تاحال نان فائلر ہیں، لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے 450 افسران و ملازمین نان فائلرز ہیں-

    ایف بی آر نے جو حقائق جاری کیے ہیں ان کے مطابق آئی بی کے 1100 اور نیب کے 125 افسران و ملازمین نے بھی تاحال گوشوارے جمع نہیں کروائے ہیں۔یہ سرکاری افسران کب تک اپنے گوشوارے جمع کرواتے ہیں اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں‌کہا جاسکتا ،

  • امریکہ کا جنوبی لبنان کے پائیدار استحکام کا اعادہ

    امریکہ کا جنوبی لبنان کے پائیدار استحکام کا اعادہ

    امریکی وزیر ِ خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک لبنان میں استحکام کے قیام کے نظریے سے وابستہ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق لبنانی دفترِ خارجہ سے اس ضمن جاری تحریری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پومپیو نے لبنانی ہم منصب جبران باسیل کو ایک خط بھیجا ہے۔
    اس خط میں جنوبی لبنان میں متعین اقوام متحدہ کی عبوری ٹاسک فورس سے تعاون کو جاری رکھنے کا ذکر کرتے ہوئے پومپیو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنوبی لبنان میں بنیادی کردار کی مالک اس ٹاسک فورس کا تحفظ لازمی ہے۔

    اقوام متحدہ سے منسلک قوتوں کے امن و سلامتی کے معاملے میں در پیش مسائل کے حل میں ایک بنیادی عنصر ہونے کا ذکر کرنے والے پومپیو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ لبنان میں استحکام کے قیام کے نظریے پر اٹل ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی لبنان کا مسئلہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان متنازعہ چلا آرہا ہے. 1978ء میں اسرائیلی افواج کی جانب سے دریائے لیطانی عبور کرکے لبنان پر کی جانے والی جارحیت کو "جنوبی لبنان تنازع 1978ء” کا نام دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے اسے آپریشن لیطانی کا نام دیا۔ صیہونی افواج نے اس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے منتظمہ تحریر الفلسطینیہ (پی ایل او) کے دستوں کو دریا کے شمالی جانب دھکیل دیا۔ تاہم لبنانی حکومت کی جانب سے احتجاج پر "اقوام متحدہ کی عبوری افواج برائے لبنان (UNFIL)” تخلیق کی گئیں اور اسرائیل عارضی طور پر علاقے سے دستبردار ہو گیا۔

  • وہاب ریاض نے بھی  ٹیسٹ کرکٹ سے  جدائی کا فیصلہ کرلیا

    وہاب ریاض نے بھی ٹیسٹ کرکٹ سے جدائی کا فیصلہ کرلیا

    لاہور : وہاب ریاض نے بھی ٹیسٹ کرکٹ سے جدائی کا فیصلہ کرلیا . اطلاعات کے مطابق محمد عامر کے بعد وہاب ریاض کا بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے اور اپنے اس فیصلے سے متعلق چیئر مین کرکٹ بورڈ احسان مانی کو آگاہ کردیا ہے.

    دوسری طرف ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے فاسٹ باﺅلر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔وہاب ریاض اس وقت کینیڈا میں ٹی20 لیگ کھیلنے میں مصروف ہیں جہاں سے واپسی کے بعد وہ ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔

    یاد رہے کہ وہاب ریاض نے اپنے دس سالہ کیرئیر میں 27 میچ کھیل کر 83 شکار کئے ہیں۔ ان کی بہترین باو لنگ 83 سکور دے کر 5 وکٹیں ہیں۔ اپنے کیریئر میں دو مرتبہ پانچ وکٹیں جبکہ تین مرتبہ چار وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ قومی ٹیم کے سابق سپیڈ سٹار شعیب اختر نے پیشگوئی کی تھی کہ محمد عامر کے بعد وہاب ریاض،حسن علی و دیگر کھلاڑی بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔اس ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کب ہوگا آنے والے چند دنوں میں اس کا پتہ چل جائے گا

  • ثانیہ مرزا کا وزن 26 کلوگرام کیسے کم ہوا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    ثانیہ مرزا کا وزن 26 کلوگرام کیسے کم ہوا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    ممبئی: پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ اپنا وزن کم کرنے میں‌کامیاب ہوگئی . اطلاعات کے مطابق بھارتی ٹینس پلیئر ثانیہ مرزا روزانہ 4گھنٹے ٹریننگ کرتی اور 26کلو تک وزن کم کرچکی ہیں۔بھارتی ٹینس پلیئر ثانیہ مرزا آئندہ برس جنوری سے ایک بار پھر ٹینس کورٹ میں اترنے کو تیار ہیں

    ورلڈ ٹینس پلیئر ثانیہ مرزا نے اپنی کامیابیوں کے حوالے سے بتایا کہ وہ اپنے کیریئر میں پہلے ہی سب کچھ حاصل کرچکیں، اب دوسری اننگز میں کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتی ہیں، اس دوران وہ جو بھی کامیابیاں حاصل کریں گی وہ ان کیلئے بونس ہوگا۔

    ثانیہ مرزا نے اپنے بیٹے اذہان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا اذہان کھیل میں واپسی کیلئے میری بڑی تحریک ہے، میں صرف اس لیے کورٹ میں واپس آنا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے کھیل سے پیار ہے۔ انہوں نے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے کو بھی اپنا مقصد قرار دیا۔

  • کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ضامن قانون 35 اے کو کسی صورت چھیڑنے نہیں دیں گے، کشمیری رہنما حکیم یاسین

    کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ضامن قانون 35 اے کو کسی صورت چھیڑنے نہیں دیں گے، کشمیری رہنما حکیم یاسین

    پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے کہاہے کہ انکی تنظیم دفعہ 35-اے اور دفعہ 370،کو کسی صورت تبدیل نہیں کرنے دیں گے . اس سے کشمیر کو بھارت کی جھولی میں دینے والی بات ہے.

    چیئرمین حکیم یاسین نے کہا ہے کہ دفعہ35-اے اور دفعہ370 کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑکے بھیانک نتائج برآمد ہونگے جو ملک کے لئے سطح نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکیم یاسین نے جموں بار سے وابستہ ان وکلاء اور سول سوسائٹی ممبران کی ستائش کی جنہوں نے متحد ہوکر دفعہ 35-اے کے تحفظ کے حق میں آواز اٹھائی . انھوں نے کہا کہ دفعہ 35-اے ریاست کے تینوں خطوط- کشمیر، جموں اور کشمیر کے لوگوں کے مفادات کی ضامن ہے اور اس دفعہ کے جانے سے ریاست کی انفرادیت اور ساخت کو دھچکا لگے گا۔

    ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارتی آئین سے آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اضافی بھارتی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد وادی میں ممکنہ ردعمل اور مظاہروں کو روکنا ہے۔
    مودی سرکار آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت غیر ریاستی بھارتی باشندے جموں و کشمیر میں جائیدادیں اور زمینیں خرید سکیں گے جس سے متنازع خطے میں مسلم اکثریت خطرے میں پڑ جائے گی۔

  • کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    کشمیر ۔ امرناتھ یاترا اور 35A ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    ایک طرف پاکستان کی جانب سے کشمیر پر اٹھنے والی ھر آواز پابند ھے۔۔۔ کشمیریوں کے نعروں کا جواب دینے والا اب کوئی نہیں رھا۔۔۔ سیاسی طور پر چئیرمین کشمیر کمیٹی مشہور زمانہ "شہد والی سرکار” جو شاید زیادہ شہد پی بیٹھے ھیں۔۔۔ اور کشمیر پر بات کرنے کے لئے نہ میڈیا تیار ھے نہ عوام۔۔۔ دو روز قبل بھارت کی جانب سے ایل او سی پر ھونے والی فائرنگ کی خبر ھمارے میڈیا کی زینت بن سکی، نہ سیاسی ایوانوں میں کہیں اسکا ذکر مناسب سمجھا گیا ھے۔۔۔ اور شاید ستو یا شہد پینا اب راولپنڈی میں بھی عام ھو گیا ھے۔۔۔

    انکل ٹرمپ نے ھمارے خان صاحب کو کشمیر پر ثالثی کی آفر تو کر دی ھے، مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجئے۔۔۔

    انڈیا کی قومی سلامتی کا مشیر اجیت دووال اور انکا وزیر داخلہ امیت شاہ پچھلے 4 ماہ سے کشمیر کو اپنا دوسرا گھر بنائے ھوئے ھیں۔۔۔ انڈین میڈیا کے مطابق 27 جولائی سے کشمیر میں 10 ھزار تازہ دم فوجیوں کے دستے کشمیر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جبکہ درحقیقت یہ تعداد کم ازکم 25 ھے۔۔۔ محکمہ ریلوے اور دیگر سرکاری محکموں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ھے۔۔۔ اور اگلے 4 ماہ تک چھٹیاں منسوخ اور راشن سٹور کرنے کی ھدایات جاری کر دی گئی ھیں۔۔۔

    تمام حریت راھمنا نظر بند یا جیلوں میں ھیں۔۔۔ جمون کشمیر کے پانچوں ایس پیز کو فی الفور اپنے علاقوں کی تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا ھے۔۔۔
    بھارتی سرکار کے مطابق یہ سب کچھ 15 اگست (بھارت کے یوم آزادی) اور امرناتھ یاترا کی سیکیورٹی کے مدنظر کیا جارھا ھے۔۔۔

    درحقیقت 15 اگست پر ھر سال کشمیری سرینگر سمیت پورے جموں کشمیر میں سبز ھلالی پرچم لہرا دیتے ھیں، جبکہ اس سال بڑے پیمانے پر سرکاری سطح پر انڈین پرچم لہرانے کے بندوبست کیے جارھے ھیں۔۔۔

    جموں میں امرناتھ کے مقام پر ہندوؤں کا ایک بڑا اھم مندر ھے، جسکا راستہ ایک بڑے پہاڑی غار سے ھوکر جاتا ھے۔۔۔ جو سارا سال برف کی وجہ سے ڈھکا رھتا ھے اور گرمیوں میں یہ راستہ کھلتا ھے تو ھزاروں ھندو اسکی یاترا کے لئے جمع ھوتے ھیں۔۔۔ 1989 تک اس یاترا میں 10 سے 12 ھزار ھندو آیا کرتے تھے۔۔۔ 1991 سے 1996 تک حرکت المجاھدین کی دھمکی کی وجہ سے یہ یاترا بند رھی اور اسکے بعد مسلسل تقریبا ھر سال یہ یاترا مجاہدین کے نشانے پر رھی۔۔۔ بھارتی سرکاری سرپرستی کے سبب یاتریوں کی تعداد میں ھر سال اضافہ ھوتا رھا اور 2017 میں یہ تعداد 6 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔۔۔ ویسے تو یکم جولائی سے 15 اگست تک 45 دن اس ایونٹ کے لئے مختص ھیں۔۔۔ مگر اس سال 4 اگست کو امرناتھ یاترا کا سرکاری اعلان کیا گیا ھے۔۔۔

    20 دسمبر 2018 کو 6 ماہ کے لئے جموں کشمیر میں صدارتی حکم یا گورنر راج نافذ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور 3 جولائی کو اسے مزید 6 ماہ کے لئے نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ھے، جو خلاف قانون بھی ھے۔۔۔ اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی سیٹ اپ نہ ھونے پر دونوں سابق چیف منسٹرز پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ مسلسل الیکشنز کا مطالبہ بھی کررھے ھیں اور موجودہ صورتحال پر احتجاج کناں بھی ھیں۔۔۔

    تقسیم کے وقت سے ھی دونوں اطراف کے کشمیر کی خصوصی حیثیت برقرار رکھی گئی تھی، جسکے تحت 4 شعبوں دفاع، خزانہ، خارجہ، اور اطلاعات کے علاوہ کشمیر اپنے لئے قانون سازی میں خود مختار ھوگا۔۔۔
    اسی لئے 1949 میں ایک ترمیم کے تحت انڈین آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا۔۔۔ جس کے تحت بھارت سرکار کو اپنا کوئی بھی قانون کشمیر میں لاگو کرنے کے لئے کشمیری حکومت سے اجازت لینا ھوگی۔۔۔
    آرٹیکل 370 کی ایک شق 35A کے تحت کشمیر میں سوائے کشمیریوں کے کوئی دوسرا شہری مستقل رھائش اختیار نہیں کر سکتا۔۔۔ 2019 کے الیکشن میں بی جے پی کے ایجنڈے میں سرفہرست اسی آرٹیکل کا خاتمہ تھا۔۔۔ اور کشمیریوں کے بقول اب ساری منصوبہ بندی اسے قانون کے خاتمے کے لئے کی جارھی ھے۔۔۔

    مگر کیوں۔۔۔؟

    امرناتھ یاترا کے بڑے پیمانے پر بندوبست اور 35A کے خاتمے کے پیچھے صرف ایک مقصد ھے کہ کسی طرح اسرائیلی یہودیوں کی طرح پورے بھارت سے ھندوؤں کو لاکر جموں و کشمیر میں بسایا جائے۔۔۔ اور بالخصوص جموں کو ھندو اکثریت کے نام پر ھندو سٹیٹ بنا دیا جائے۔۔۔ اور مسلمان اپنی ھی زمین پر بے گھر ھو جائیں یا قیدی۔۔۔

    بقول محبوبہ مفتی: "کشمیر میں بارود کو آگ لگائی جا رھی ھے۔۔۔” اب دعاؤں کے سوا اور کوئی ھتھیار بچا بھی نہیں ھے ھمارے پاس۔۔۔!

    اے اللہ۔۔۔! مظلوم کشمیریوں کی مدد و نصرت فرما۔۔۔
    دشمن کی چالوں کو نیست و نابود فرما۔۔۔
    ھمارے حکمرانوں کو عقل و دانش عطا فرما۔۔۔

  • کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر بھارتی تسلط اور 35-A کا قانون ۔۔۔محمد عبداللہ گل

    کشمیر پر انڈیا کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہے۔قبضے سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر پر ڈوگرا راج تھا۔انڈیا کے آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفع 35-A کا مسئلہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ اس قانون کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے تھے اور ان ہی قوانین کو سنہ 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرلیا گیا۔انڈیا کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق انڈین آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پرجموں کشمیر کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی کوششیں آخر کیوں؟؟ اس سوال کا جواب یہ ھے کہ جس طرح فلسطین یروشلم پر اسرائیل نے قبضہ کیا تو کچھ سال بعد اس کی قانونی حثیت ختم کی اور ادھر اپنا سفارت خانہ قائم کر لیا۔اسی طرح بھارت بھی کشمیر کی قانونی حثیت ختم کرنا چاہتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قانون ختم ہو جاتا ہے تو بھارت ایک حربہ استعمال کرے گا وہ یہ کہ کشمیر میں کثیر تعداد میں ہندو متین کر دے گا اور جیسا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر میں استصواب رائے کا ہے تو یہاں کشمیری عوام اکثریت میں پاکستان سے الحاق چاہتی ہے تو جب وہ اپنے نمائندے متین کرے گا وہ بھی کثیر تعداد میں تو استصواب رائے کا فیصلہ بھارت کے حق میں ہو جائے گا۔میں حیران ہوں جب میں نے تحریر کے لیے ریسرچ کی تو سامنے آیا کہ آرٹیکل 35 اے کو بنانے کے پیچھے جو نظریہ تھا وہ یہ تھا کہ کشمیر کا تعلق لاہور، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ سے بھرپور تھا جب ہندو پنڈتوں نے دیکھا کہ مسلمان ادھر کشمیر میں دوسرے علاقوں سے آنا شروع ہو گئے ہیں تو ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ ہم تو صرف 2 سے 3 فیصد ہے اگر باہر سے بھی مسلمان آنا شروع ہو گے تو ہمارا اقتدار، ہمارا ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم نہ ہوجائے اب 2019 کو دیکھ کے بے جے پی کا نریندر مودی جس کو بھی یہ ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے کہ جس طرح اب بین الاقوامی سطح پر مسلہ کشمیر اجاگر ہو چکا ہے۔اگر کشمیر میں استصواب رائے شروع ہو گئی تو میرا تو کام خراب ہو جائے گا میرے ہاتھوں سے تو کشمیر پھسل کر پاکستان سے مل جائے گا ۔اسے بھی پتہ ہے کی کشمیر کو بالآخر آزادئ ملنی ہی ملنی ہے میرا یہ ہٹ دھرمی والا قبضہ ختم ہونا ہے ۔اس لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے۔اس کے بعد اگر دیکھے تو بھارت نے 10 ہزار مزید فوج وادی کشمیر میں بھیج دی ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اب تک تقریبا 10 لاکھ کے قریب بھارت کی فوج ایک چھوٹے سے خطے میں موجود ہے۔کیا یہ اقوام متحدہ کو نظر نہی آ رہا۔غیر مسلم ممالک کا کوئی کتا بھی مر جائے تو قوانین آ جاتے ہیں ادھر ہمارے کشمیری مظلوم اور غیور مسلمانوں پر انڈین مظالم کی انتہا ہے۔اب تک سینکڑوں نہی ہزاروں نہی لاکھوں کو انڈین آرمی اپنے ظلم و ستم کا شکار کر چکی ہے۔میرا سوال ہے کدھر اقوام متحدہ ہے ،کیا سلامتی کونسل سو گئی ،کہاں گئے انسانی حقوق، کہاں گئی بین الاقوامی وہ تنظیمیں اور ادارے جو آزادی پسند ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ نا قابل برداشت ہے۔وہ کشمیری عوام پاکستان کو پکار رہی ہے ۔پاکستان کو چاہیے یہ مسلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کریں

  • مقبوضہ کشمیر ، مجاہدین کے حملے، بھارتی فوجی ہلاک و زخمی .گاڑی تباہ

    مقبوضہ کشمیر ، مجاہدین کے حملے، بھارتی فوجی ہلاک و زخمی .گاڑی تباہ

    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملوں سے بھارتی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گیا جبکہ ایک دوسرے واقعے میں فوجی گاڑی بارودی سرنگ سے جزوی طور پر تباہ ہو گئی
    مقبوضہ کشمیر جنوبی ضلع شوپیان وقت ایک فوجی اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا جب جنگجوئوں اور فورسز کے مابین شدید معرکہ آرائی ہوئی۔

    یہ معرکہ آرائی رات اُس وقت شروع ہوئی جب فوج ،سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے مشترکہ طورپاندوشن نامی گائوں کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن کا آغاز کیا۔

    دفاعی ذرائع نے فوجی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مہلوک فوجی کی شناخت 8جاٹ کے رنبیر کے طور کی جو34آر آر سے وابستہ تھا۔زخمی فوجی کی شناخت دیپک کے طور ہوئی ہے۔

    ادھر دوسری طرف جنوبی ضلع پلوامہ میں جمعہ کی صبح جنگجوئوں نے ایک فوجی گاڑی کو بارودی دھماکے کی زد میں لاکر گاڑی کو نقصان پہنچایا ۔یہ واقع اس وقت پیش آیا جب ایک فوجی گاڑی لیتر علاقے سے گذر رہی تھی اور وہ ایک زیر زمین بارودی سرنگ کی زد میں آگئی۔

  • ماہرہ خان کا  فردوس جمال کی تنقید کا جواب

    ماہرہ خان کا فردوس جمال کی تنقید کا جواب

    پاکستان کی سپراسٹارماہرہ خان نے اداکار فردوس جمال کی تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ وہ ماں کا کردار اداکرچکی ہیں اب ان کا منصوبہ نانی ،دادی اور پرنانی کا کردارادا کرنے کا ہے-
    اداکار فردوس جمال کے ماہرہ خان کے بارے میں تبصرے نے سوشل میڈیا پرآگ لگائی ہوئی ہے-
    جہاں ماہرہ خان کے مداح اپنی پسندیدہ اداکارہ کی حمایت کررہے ہیں وہیں فردوس جمال کے چاہنے والے بھی ان کی حمایت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہر انسان کی اپنی رائے ہوتی ہے جس کا اظہار اُس کا حق ہے.
    فردوس جمال کے تبصرے پر ماہرہ خان اپنا ردعمل دے چکی ہیں تاہم اس حوالے سے ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ماں کا کردار پہلے ہی ادا کرچکی ہیں اب وہ نا نی ،دادی بلکہ پرنانی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں-
    ماہرہ خان نے کہا کہ اس طرح کے موضوعات پر خاموشی اختیار کرنا پسند کرتی ہوں لیکن میں ایک بات کرنا چاہتی ہوں میری حمایت میں جس طرح پوری انڈسٹری باہرآئی میں اس کے لیے شکر گزار ہوں-

  • ٹرک ڈرائیور کی بیٹی نے پنجاب یونیورسٹی میں ٹاپ کر دیا

    ٹرک ڈرائیور کی بیٹی نے پنجاب یونیورسٹی میں ٹاپ کر دیا

    چکوال کی تحصیل تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والی نوشابہ نے پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں بی ایس سی کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے اور ثابت کردیا کہ دنیا میں محنت،شوق اور مستقل مزاجی کا کوئی نمل بدل نہیں اور اگر کوئی شخص ان خصوصیات کو اپنی شخصیت میں ڈھال لے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے، نوشابہ نے پنجاب یونیورسٹی سے الحاق شدہ وی آئی پی گرلز ڈگری کالج سے بی ایس سی کی تعلیم حاصل کی اور اول پوزیشن حاصل کی،
    تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی نے بروز منگل بی اے اور بی ایس سی کے نتائج کا اعلان کیا اور ٹاپ کرنے والی لڑکی نوشابہ نے 800 میں سے 714 نمبر حاصل کیے جو کہ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ کے بی ایس سی میں حاسل کیے جانے والے سب سے زیادہ نمبر ہیں