Baaghi TV

Author: +9251

  • صوبائی وزیر بہبود آبادی کا دارالسلام انٹرنیشنل کادورہ، ادارہ کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا

    صوبائی وزیر بہبود آبادی کا دارالسلام انٹرنیشنل کادورہ، ادارہ کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا

    صوبائی وزیر بہبود آبادی کا دارالسلام انٹرنیشنل کادورہ، ادارہ کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا

    لاہور ۔ یکم اگست(اے پی پی )صوبائی وزیر بہبود آبادی کرنل(ر)ہاشم ڈوگر نے لاہور میں دارالسلام انٹرنیشنل کادورہ کیا اور ادارہ کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا، دارالسلام انٹرنیشنل کے ایم ڈی عبدالمالک مجاہد نے صوبائی وزیر کا استقبال کیا اور دارالسلام انٹرنیشنل کے متعلق بریفنگ دی،عبدالمالک مجاہد نے صوبائی وزیر کوبتایا کہ دارالسلام انٹرنیشنل دنیا کی 26 عالمی زبانوں انگلش، جرمن، فرانسیس، عربی، اردو، البای، ہندی، چائنیز، گورمکھی اور دیگر زبانوں میں کتابیں ، قرآن مجیدکے تراجم اور تفاسیر شاءع کررہاہے،اپنے اعلی معیار اورخوبصورت طباعت کی وجہ سے دارالسلام کی کتابیں یورپ سمیت دنیاکے تمام ممالک میں بہت پسند کی جاتی ہیں ، انہوں نے بتایا کہ یورپ کی لائبریریوں میں دارالسلام کی کتب ریفرنس کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور یہ کتابیں پڑھ کرغیرمسلم حلقہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں ،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر کرنل( ر) سردارہاشم ڈوگر نے دارالسلام کے قیام پر عبدالمالک مجاہد اور عکاشہ مجاہد کو خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ ہ میں دارالسلام انٹرنیشنل کے قیام پر فخر ہے اس لئے کہ یہ ادارہ پوری دنیا میں پاکستان کانام روشن کر رہا ہے، صوبائی وزیر نے کہا کہ دارالسلام کا دورہ کرنا میرے لئے باعث سعادت ہے، دارالسلام انٹرنیشنل کی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی وزیر کرنل( ر) ہاشم ڈوگر کواسلامی کتب کا تحفہ بھی پیش کیا گیا ۔

  • بلاول بھٹو آئیں‌ گے کل لاہور، کہا ضمیر فروشوں‌ کو سامنے لائیں گے

    بلاول بھٹو آئیں‌ گے کل لاہور، کہا ضمیر فروشوں‌ کو سامنے لائیں گے

    بلاول بھٹوزرداری کل لاہورآئیں گے اور پیپلزپارٹی کی پنجاب ایگزیکٹو کمیٹی ، تنظیموں سےملاقات کرینگے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک کی ناکامی پرپارٹی رہنماؤں سے مشاورت کرینگے،

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ضمیر فروشوں کو سامنے لائیں گے، واضح‌ رہے کہ سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیخلاف تحاریک عدم اعتماد کی ناکامی پر اپوزیشن جماعتوں‌میں سخت بے چینی اور مایوسی کی لہر پائی جاتی ہے،

  • ’ایسےوفاقی وزیر بھی ہیں جن کے اسلام آباد میں کھوکھے ہیں‘ہائی  کورٹ

    ’ایسےوفاقی وزیر بھی ہیں جن کے اسلام آباد میں کھوکھے ہیں‘ہائی کورٹ

    اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں چار سو سے زائد کھوکھوں کے حوالے سے سی ڈی اے آپریشن کے خلاف کیس کا فیصلہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد محفوظ کرلیاہے۔

    کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس عامرفاروق اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی۔ مئیر اسلام آباد شیخ انصر عزیز عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔

    ایک سوال کے جواب میں مئیر اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایسےوفاقی وزیر بھی ہیں جن کے اسلام آباد میں کھوکھے ہیں،ساری ساری رات وفاقی وزراء ان پر بیٹھتے ہیں۔جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ بہت اچھا کاروبار ہے؟مئیر اسلام آباد نے کہا کہ کھوکھے والوں کے پیچھے اور لوگ ہیں جو طاقت ور ہیں۔

    عدالت نے کہا سی ڈی اے نے خود ماسٹر پلان کی خلاف ورزی میں کھوکھے والوں کو آفر دی ۔ آفر کرکے آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی۔مئیر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ چار، چھ، دس کنال پر کسی نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

    عدالت نے مئیر اسلام آباد سے پوچھا کیا ایسے کھوکھے موجود ہیں جو نان کنفرمنگ استعمال میں ہوں؟مئیر اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جی گرین ایریاز میں کھوکھے بنے ہوئے ہیں۔

    ہائی کورٹ نے پوچھا کیا پلان کے مطابق کسی مرکز میں کھوکھے کی اجازت ہے؟ پر میئر اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مراکز میں کھوکھے بنانے کی اجازت نہیں ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • ڈائریکٹوریٹ،ریجنل دفاتراورسکولوں میں اساتذہ سے غیرتدریسی کام لئے جانے کا دوبارہ نوٹس لے لیا۔

    ڈائریکٹوریٹ،ریجنل دفاتراورسکولوں میں اساتذہ سے غیرتدریسی کام لئے جانے کا دوبارہ نوٹس لے لیا۔

    وزیراعظم سٹیزن پورٹل نے ایف جی ای آئی (سی/جی)ڈائریکٹوریٹ،ریجنل دفاتراورسکولوں میں اساتذہ سے غیرتدریسی کام لئے جانے کا دوبارہ نوٹس لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق متعددوالدین نے وزیراعظم شکایت سیل پر شکایت کی تھی کہ ایف جی ای آئی(سی/جی) کے اساتذہ کوروزانہ ایسے احکامات دے جاتے ہیں جن سے سرکاری سکولوں میں تدریس میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اساتذہ کرام‘ پرنسپل‘ محکمہ تعلیم کے افسران چاہتے ہیں کہ تعلیم کا معیار بڑھے لیکن ڈائریکٹوریٹ اورحکومتی احکامات پر عملدرآمد کرنا ان کی مجبوری ہے۔ اساتذہ کرام سے غیر تدریسی کام کثرت سے لئے جا رہے ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔والدین نے اپنی شکایت میں کہاکہ ڈائریکٹوریٹ،علاقائی دفاتر،سکولوں اورکالجوں میں غیرتدریسی کام،کلریکل کام، پولیو کے قطرے پلانا‘ مردم شماری کرانا،امتحانات،الیکشن کی ڈیوٹیاں دینا جن میں ووٹر لسٹوں سے لے کر الیکشن کرانا تک شامل ہے۔

    دیکھنے میں آرہا ہے کہ کسی سکول میں ٹیچر بچوں کو پڑھانے کے بجائے پرنسپل کی اشیرباد حاصل کرنے کیلئے دفتری کام کرتے نظر آتے ہیں جبکہ سکول کا کلرک کمپیوٹر پر فیس بک سے مستفید ہو رہا ہوتا ہے یا گیمز کھیل رہا ہوتا ہے۔ اگر اسے کوئی کام کہا جائے تو کہتا ہے مجھے کمپیوٹر چلانا نہیں آتا۔ والدین نے مطالبہ کیاکہ حکومت کو تمام اداروں کا سروے کرانا چاہئے کہ خواتین کے سکولوں میں کلرک ان سے لوٹ مار کر رہے ہیں۔ ان کا تھوڑا سا بھی جائز کام کرنے کے لئے بھاری رشوت طلب کرتے ہیں اگر حکومت اس پر خصوصی توجہ دے تو لاکھو ں اساتذہ کا بھلا ہو جائے گااور ٹیچر بچوں کو تعلیم دیں گے اور تمام اساتذہ سکول میں موجود کلرک کی لوٹ مار سے بھی بچ جائیں گے۔ والدین نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ ایف جی ای آئی ڈائریکٹوریٹ کو حکم جاری کیاجائے کہ اساتذہ کوصرف تدریسی کام میں مصروف رکھاجائے اور تمام اساتذہ کی سکولوں میں حاضری یقینی بنائی جائے تاکہ طلباء حقیقی معنوں میں علم کی روشنی سے مستفیدہوسکیں۔

    وزیراعظم پورٹل پرشکایت پر ٍڈائریکٹرجنرل فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنزکینٹ گیریژن ڈائریکٹوریٹ راولپنڈی میجرجنرل محمداصغرکی واضح ہدایات کے باوجودایف جی ای آئی ڈائریکٹوریٹ،ریجنل دفاتراورسکولوں میں اساتذہ سے غیرتدریسی کام لیاجارہاہے۔ذرائع کے مطابق والدین کی وزیراعظم شکایت سیل پردرج شکایت پرڈائریکٹرجنرل فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنزکینٹ گیریژن ڈائریکٹوریٹ میجرجنرل محمداصغرنے ہدایات جاری کیں تھیں کہ اساتذہ سے دفاترمیں کام نہیں کروایاجائے گااورایسے تمام اساتذہ جوسکولوں اورکالجوں سے ڈائریکٹوریٹ اورعلاقائی دفاترمیں اٹیچ ہیں انہیں فوری واپس اپنے اداروں میں بھیج دیاجائے تاہم اس پرتاحال عملدرامدنہیں کیاگیاہے۔

    ڈائریکٹوریٹ کے جانب سے اٹیچمنٹ ختم کرنے کے مراسلے مورخہ 26جولائی اور29جولائی کوجاری کئے گئے تاہم ڈائریکٹوریٹ میں موجود اساتذہ کو واپس ان کے تعلیمی اداروں میں نہیں بھیجاگیاہے اوروہ ڈائریکٹوریٹ،علاقائی دفاتراورسکولوں کالجوں میں کلیریکل کام کرنے پرمجبورہیں۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ میں 2سینئرپرنسپل،ایس ایس ٹی، ٹی جی ٹی،کمپیوٹرانسٹرکٹرزاورای ایس ٹی اساتذہ،اسی طرح علاقائی دفاترمیں بھی اساتذہ کواٹیچ کیاہواہے جہاں ان سے کلیریکل کام لئے جارہے ہیں۔وزیراعظم پورٹل نے ایف جی ای آئی ڈائریکٹوریٹ سے فوری جواب طلب کرلیاہے اورحکم دیاگیاہے کہ تمام زبانی اورتحریری طورپراٹیچ اساتذہ کوسکولوں،کالجوں،علاقائی دفاتراورڈائریکٹوریٹ سے فوری واپس اپنے اپنے اداروں میں بھیجاجائے۔

  • چیئر مین سینیٹ کو ہٹانے میں‌ناکامی کےبعد اپوزیشن نے اےپی سی بلانے کا اعلان کردیا

    چیئر مین سینیٹ کو ہٹانے میں‌ناکامی کےبعد اپوزیشن نے اےپی سی بلانے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد : چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے میں ناکامی پر اپوزیشن اپنے ہی ارکان کو غدار اور ضمیر فروش کہنا شروع کردیا. اپوزیشن نے ناکامی کو چھپانے کے لیے اے پی سی بلانے کا اعلان کردیا ،

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے ہی پارٹی کے سینیٹرز کو ضمیر فروش کہہ کر ان کی توہین کرتے ہوئے کہا ہےکہ جنہوں نے صادق سنجرانی کو ووٹ دے کر اپنا ضمیر بیچ دیا ہے. شہباز شریف نے کہا کہ ضمیر بیچنے والوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا . ازادانہ ووٹنگ میں چیئرمین سینیٹ ہارے

    بلاول بھٹونے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ہارکر بھی جیتی ہے. اس کے باوجود ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے. بلاول بھٹو نے کہا کہ جن لوگوں نے ضمیر بیچا ہے ان کا حساب لیں گے،کٹھ پتلی حکومت کے حملے جاری ہیں.14 سینیٹرز نے پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے.اب ہم سڑکوں پر آکر یہ جنگ لڑیں گے

    مولانا اسد الرحمان نے کہا کہ ہم جمہوریت کی بقا کے لیے لڑرہے ہیں اور اس پر قائم ہیں. مولانا اسدالرحمان نےمزید کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کی بحالی کے لیے کوشاں رہے گی

  • جمہوریت کی فتح ہوئی،صمصام بخاری کی صادق سنجرانی کو مبارکباد.

    جمہوریت کی فتح ہوئی،صمصام بخاری کی صادق سنجرانی کو مبارکباد.

    جمہوریت کی فتح ہوئی،صمصام بخاری کی صادق سنجرانی کو مبارکباد.

     جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو آئندہ بھی منہ کی کھانا پڑے گی.  ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے جمہوری اداروں کی توڑپھوڑ پر یقین رکھنے والے عناصر ملک و قوم کے دوست نہیں ہو سکتے.

    لاہوریکم اگست:صوبائی وزیرسید صمصام علی بخاری نے تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پرچیئرمین سینٹ سردار صادق سنجرانی کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ آج جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے خلاف سازشیں ناکام ہو گئی ہیں۔چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی سینٹ کے جمہوری ادارے کو کامیابی سے چلاتے رہیں گے۔صمصام بخاری نے کہا کہ جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو آئندہ بھی منہ کی کھانا پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام کے استحکام کے لئے اداروں کا استحکام بہت اہم ہے اور ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے جمہوری اداروں کی توڑپھوڑ پر یقین رکھنے والے عناصر ملک و قوم کے دوست نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں ملک میں کرپشن کے خلاف کھلی جنگ شروع کی جا چکی ہے۔ کچھ عناصر کرپشن کے اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ارکان کی خرید و فروخت جیسی قبیح حرکت کے ذریعے سسٹم کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے تھے۔ تاہم جمہوریت پر اعتماد رکھنے والے ارکان نے اس ٹولے کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔
    ٭٭٭

  • سینٹرل کنٹریکٹ : پاکستان کرکٹ بورڈ کا اہم اجلاس بے نتیجہ ختم

    سینٹرل کنٹریکٹ : پاکستان کرکٹ بورڈ کا اہم اجلاس بے نتیجہ ختم

    لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ کا اجلاس بے نتیجہ ختم ، قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ معاملات طئے نہ پاسکے ۔ چیف سلیکٹر کی عدم موجودگی کے باعث کمیٹی کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہناہے کہ کرکٹرز کی تعداد اور میچز کے معاوضے بھی نہ طے ہوسکے۔ ایم ڈی پی سی بی وسیم خان نے اجلاس کی صدارت کی۔

    ڈائریکٹر کرکٹ اکیڈمیز مدثر نذر، ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہارون رشید اورڈائریکٹر انٹر نیشنل کرکٹ ذاکر خان اجلاس میں شریک ہوئے۔ کوچ مکی آرتھر نے بھی اجلاس میں اپنی رائے دی ۔

    ذرائع کے مطابق پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا اجلاس کل شام 5 بجے قذافی اسٹیڈیم میں ہو گا۔قومی مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ کرکٹ کمیٹی کا ایڈوائزری پینل سفارشات مرتب کرکے چیئرمین پی سی بی کو پیش کرے گا۔

  • پنجاب کے تمام اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری ،سردار آصف نکئی

    پنجاب کے تمام اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری ،سردار آصف نکئی

    وزیر اعظم اور وزیر اعلی کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب کے تمام اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، آصف نکئی

    لاہور ۔ یکم اگست(اے پی پی )صوبائی وزیربرائے مواصلات وتعمیرات سردار محمد آصف نکئی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدارکی ہدایات کی روشنی میں پنجاب کے تمام اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، ان اصلاحات کی بدولت عوام کو بہتر سہولیات میسر ہوں گی اور اداروں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی، ورثے میں ملے بحرانوں سے نجات کے ساتھ ساتھ حکومت معاشی استحکام کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، ملکی حالات میں بہتری اسی صورت آئے گی جب حکومت اور عوام ایک پیج پر ہوں گے جس کے آثار نمایاں ہیں کیونکہ پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ آصف نکئی نے کہا کہ کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچادیا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کی قیادت میں کرپشن کا خاتمہ کر کے ملک کو سنوارنے کا عزم رکھتی ہے، بدعنوانی کے مرتکب افراد کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو گی اور انہیں حساب دینا ہوگا ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ بلا امتیاز احتساب کے باوجود بھی اپوزیشن کی چیخیں بند نہیں ہو رہیں ۔ لوٹ مار، ذاتی مفادات اور چہیتوں کو نوازنے کی سیاست کی وجہ سے پاکستان ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہوا ۔ انہوں نے کہا ملک میں بلاتفریق احتساب کے بغیر ترقی ناممکن ہے اگر اپوزیشن لیڈروں کے ہاتھ صاف ہیں تو چیخنے چلانے کی بجائے عدالتوں کا سامنا کریں ۔

  • چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کیخلاف تحاریک عدم اعتماد ناکام، اپوزیشن میں مایوسی کی لہر

    چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کیخلاف تحاریک عدم اعتماد ناکام، اپوزیشن میں مایوسی کی لہر

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک ناکام ہوگئیں،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی قراردادتین ووٹوںسے مسترد ہوگئی، کل 100ارکان نے ووٹ ڈالے ، قرارداد کے حق میں 50 مخالفت میں 45، پانچ ووٹ مسترد ہوئے جبکہ تین ارکان نے ووٹ نہیںڈالا،جبکہ سلیم مانڈوی والا کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے حق میں 32 ووٹ آئے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحاریک عدم اعتماد کے عمل کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔سینیٹ کی تاریخ میں پہلی بار جمعرات کوچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر رائے شماری ہوئی۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس کے سامنے ووٹوں کی گنتی کی گئی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی قراردادتین ووٹوںسے مسترد ہوگئی، کل 100ارکان نے ووٹ ڈالے ، قرارداد کے حق میں 50 مخالفت میں 45، پانچ ووٹ مسترد ہوئے جبکہ تین ارکان نے ووٹ نہیں ڈالا، عدم اعتماد کی تحریک مسترد ہونے پر ایوان ایک سنجرانی سب پے بھاری کے نعروں سے گونج اٹھا،

    وزیربرائے پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی نے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی اعلیٰ قیادت کو تحریک کے مسترد ہونے کی خبردی، پہلاووٹ حافظ عبدالکریم، دوسرا عبدالغفور حیدری اور تیسرا ووٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے ڈالا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ، شیخ عتیق اور نجمہ حمید پہلی بار ووٹ ضائع ہونے پر دوبارہ ووٹ جاری کیے گئے، جماعت اسلامی عدم اعتماد کی تحریک سے الگ رہی جبکہ مسلم لیگ ن کے چوہدری تنویر نے ووٹ نہیں ڈالا، تحریک کے حق میں اپوزیشن کے 64ارکان کھڑے ہوئے جبکہ قرارداد کے حق میں 50ارکان نے ووٹ دئیے، ایوان میں ووٹنگ کے دوران ثناء جمالی تلاوت کرتی رہیں، صادق سنجرانی پراعتماد دکھائی دئیے جبکہ اپوزیشن کے رہنما بے چین نظرآئے۔

    جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسرمحمد علی سیف کی سربراہی میں ہوا ۔ اجلاس میں قائدحزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی۔ تحریک کے حق میں 64ارکان کھڑے ہوئے جس پر ایوان میں عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی گئی، قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہاکہ قانون کے مطابق تمام ارکان اس حوالے سے تقریر کرسکتے ہیں مگر ہم ایوان کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے اس لئے جلد ازجلد رائے شماری کرائی جائے۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہم بھی تقریر نہیںکرنا چاہتے ، ڈٹ کر عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کریں گے جس پر پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی سیف نے خفیہ رائے شماری کا عمل شروع کروایا۔ پہلا ووٹ حافظ عبدالکریم نے ڈالا جبکہ دوسرا ووٹ سابق ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے اور تیسرا جنرل(ر) عبدالقیوم نے ڈالا جبکہ آخری ووٹ سینیٹر ولید اقبال نے ڈالا، ووٹنگ کے دوران ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں محمد عتیق پہلے سینیٹر تھے جن کاووٹ خراب ہوا تو انہوں نے دوسرے ووٹ کی استدعا کی جس پر ان کو دوسرا ووٹ جاری کیا گیا۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو جب ووٹ دیا گیا تو وہ بھی اپنا ووٹ خراب کر بیٹھے اور غلطی سے آدھی اسٹمپ دوسرے خانے میں چلی گئی جس پر انہوں نے بھی دوسرا ووٹ لینے کی استدعا کی۔ جبکہ تیسرا ووٹ مسلم لیگ ن کی سینیٹر نجمہ حمید کا ضائع ہوا انہوں نے بھی دوبارہ ووٹ کی استدعا کی جس پر ان کا پہلا ووٹ منسوخ کرکے نیاووٹ جاری کیا گیا ۔ سینیٹر عائشہ رضا نے ان کے ساتھ ووٹ پرمہر لگانے کیلئے پولنگ بوتھ میں جانے کی استدعا کی جس کو پریزائیڈنگ افسر نے مسترد کردیا کہ کوئی سینیٹر دوسرے سینیٹر کے ساتھ پولنگ بوتھ میں نہیں جا سکتا اور ایک خاتون اہلکار کو نجمہ حمید کے ساتھ جانے کا حکم دیا کہا کہ جس پر وہ کہیں اس پر مہر لگا دیں۔ اسی دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر آصف کرمانی نے اعتراض کیا کہ رول کے تحت عائشہ رضا ان کے ساتھ جاسکتی ہے جس پر پریزائیڈنگ افسر اور آصف کرمانی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، محمد علی سیف نے کہاکہ میں یہاں ایک آئینی کام کیلئے بیٹھا ہوں، غیر پارلیمانی طریقہ نہیں چلے گا جو ایسا کرے گا میں اس کا ووٹ منسوخ کردوں گا۔ یہ میری آئینی ذمہ داری ہے کہ اس عمل کو مکمل کروں اور امید ہے کہ آپ میرے ساتھ تعاون کریں گے ۔ یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں۔

    ووٹنگ کے عمل میں جماعت اسلامی کے سینیٹر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق اور مشتاق احمد نے حصہ نہیںلیا جبکہ مسلم لیگ ن کے ایک سینیٹر چوہدری تنویر بھی ایوان میں نہیں آئے۔ چاربجے پولنگ کا عمل مکمل ہوا اور گنتی کا عمل شروع ، گنتی کرنے سے پہلے سیکرٹری سینیٹ نے تین ارکان جنہوںنے ووٹ نہیں ڈالے ان کے نام دوبارہ لئے کہ اگر وہ ووٹ ڈالنا چاہیں توڈال لیں، مسلم لیگ ن کی طرف سے سینیٹر جاوید عباسی اور تحریک انصاف کی طرف سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹ بنایا گیا تھا۔ ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو سینیٹر اعظم سواتی ساتھ ساتھ ووٹ گنتے رہے، جیسے ہی ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی اس سے پہلے ہی سینیٹر اعظم سواتی اپنی سیٹ سے فوراً اٹھے اور لابی کی طرف چلے گئے اور اعلیٰ قیادت کو فون کرکے آگاہ کیا کہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی ہے۔ سینیٹر شبلی فراز فوراً ان کے پیچھے اور ان کو واپس ایوان میں لے آئے۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی ارکان نے جشن منانا شروع کردیا جس پر بیرسٹر علی سیف نے ان کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کا حکم دیا۔پریزائیڈنگ افسر نے اعلان کیا کہ قرارداد کے حق میں50ووٹ پڑے مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہ پڑنے کی وجہ سے قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔ ان کے اعلان کے ساتھ ہی بلوچستان کے سینیٹر نے ایوان میں شدید نعرے بازی کی ، ایوان ایک سنجرانی سب پے بھاری کے نعروں سے گونج اٹھا جس پر پریزائیڈنگ افسر نے دوبارہ حکم دیا کہ نعرے باہر جا کر ماریں ایوان کا تقدس کا خیال رکھیں۔

    چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں 50ووٹ ،مخالفت میں 45 اورپانچ ووٹ ضائع ہوئے۔چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور حکومتی اراکین کی جانب سے ایک سنجرانی سب پر بھاری کے نعرے لگائے گئے۔چیرمین صادق سنجرانی کے خلاف ووٹنگ کے بعد قائد ایوان شبلی فراز نے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کو ہٹانے کیلیے تحریک عدم اعتماد پیش کی۔اپوزیشن نے ڈپٹی چیئرمین کیخلاف ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے رائے شماری میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور ووٹ نہیں ڈالے، لیکن اس فیصلے کے خلاف 5 اپوزیشن اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا جن میں پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا، روبینہ خالد، محمد علی جاموٹ اور قرا العین مری جبکہ ن لیگ کے ساجد میر شامل تھے۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلیے حکومت کو بھی 53 ارکان کی ضرورت تھی لیکن اسے 32 ووٹ ملے۔ اس طرح ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔۔چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحاریک عدم اعتماد کے عمل کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
    محمد اویس

  • میں ان کو بڑا رلاوں گا ، ٹویٹر پر عمران خان کا یہ بیان مقبول ہونےلگا

    میں ان کو بڑا رلاوں گا ، ٹویٹر پر عمران خان کا یہ بیان مقبول ہونےلگا

    لاہور : سینیٹ میں‌چیئر مین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان ٹویٹر پر عمران کی تصویر کے ساتھ جس میں‌عمران خان نے کئ بار کہا تھا کہ "میں‌ان کوبڑا رلاوں گا” کی تحریر لگا کر اپوزیشن کو مزید رونے پر مجبور کررہے ہیں

    ٹویٹر پر پر پارٹی پرچم کا لوگو لگا کر ساتھ عمران خان کی یہ تصویر لگا یہ تحریر بڑی شیئر کی جارہی ہے کہ میں ان کو بڑا رلاوں گا