Baaghi TV

Author: +9251

  • شاہ رخ نے ماہرہ خان کے بارے کیا کہہ دیا کہ ہرکوئی ماہرہ خان کا دیوانہ ہوگیا

    شاہ رخ نے ماہرہ خان کے بارے کیا کہہ دیا کہ ہرکوئی ماہرہ خان کا دیوانہ ہوگیا

    اسلام آباد:ماہرہ خان اور فردوس جمال کے درمیان ہونے والے بیان بازی کے معاملے میں دنیا کے بڑے بڑے نام بھی ماہرہ خان کی حمایت میں بول اٹھے، ماہرہ خان کی حمایت میں‌ آنے والے ایک بیان نے تہلکہ مچا دیا جس میں‌بھارتی اداکار شاہ رخ خان نے ماہرہ خان کو اداکارانہ صلاحیتوں سے بھرپور شخصیت قرار دےدیا۔

    ماہرہ خان اور فردوس جمال کے تنازہ بیان بازی میں جہاں شدت میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار شار رخ خان کا کہنا ہے کہ ماہرہ خان ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں اور فلم ” رئیس “ میں ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھا ہے۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماہرہ خان کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہیں ہر موضوع پر بات کرنے کا عبور حاصل ہے اور ان کو یقین ہے کہ وہ ایک دن اداکاری میں بہت اعلی مقام حاصل کریں گے۔

  • کوئٹہ دکانیں سیل ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری کو طلب کر لیا۔

    کوئٹہ میں دکانیں سیل کرنے کا معاملہ ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری کو طلب کرلیا دکانیں سیل کرنے پر چیف سیکریٹری کو پیش ہونے کا حکم دے دیا اور بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں دکانیں سیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کی درخواست گزاروں کی جانب سے نصیب اللہ ترین ایڈوکیٹ پیش ہوئے جب کے سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر کوئٹہ عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلی تاریخ پر چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا اور سماعت ملتوی کردی۔

  • ہانیہ عامر کی پشتو گانے پر ڈانس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    ہانیہ عامر کی پشتو گانے پر ڈانس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    اسلام آباد :پشتو گانا اور وہ ہانیہ عامر گائے تو کیون نہ ہوں شائقین دیوانہ ، پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامرکی پارٹی میں پشتو گانے پر ڈانس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔فلم ”جانان“ کی اداکارہ ہانیہ عامر نے ایک پارٹی میں پشتو گانے پر ڈانس کر کے شائقین کے دل جیت لئے،
    https://www.instagram.com/p/B0eGKGYHqJ5/?utm_source=ig_embed&utm_campaign=embed_video_watch_again

    یاد رہے کہ ہانیہ عامر نے نے بہت کم وقت میں شائقین کے دلوں میں گھر کر لیا ہے.ان دنوں ہانیہ ڈرامہ سیریل ”انا“ میں دکھائی دے رہی ہیں جبکہ حال ہی میں وہ عاصم اظہر کے ساتھ ٹیلی فلم ”پیار کہانی“ میں دکھائی دیں۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت دیکھی جارہی ہے.

  • خواتین وہ کچھ بن سکتی ہیں جو وہ بننا چاہتی ہیں

    خواتین وہ کچھ بن سکتی ہیں جو وہ بننا چاہتی ہیں

    دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ ایئربس A380 اڑانے والی اماراتی پائلٹ عائشہ المنصوری اتحاد ایئر ویز کی ایک سینئر فرسٹ آفیسر ہیں۔

    گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق عائشہ المنصوری کی بہن پہلے سے پائلٹ تھیں، اسے ایک ایئر شو میں لے کر گئی۔

    عائشہ المنصوری کے مطابق ایونٹ کے دوران کچھ لوگوں نے مجھے بتایا کہ اتحاد میں قومی کیڈٹ پروگرام شروع ہو رہا ہے لہذا میں نے اس پروگرام میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیااور آٹھ ماہ میں ہی مجھے ملازمت مل گئی ۔

    عائشہ کی پہلی ایئربس A320اردن کے لیے تھی۔

    ”میں نے پہلے ہی طیارہ اڑانے کی بہت زیادہ تربیت کی تھی جس میں سیسنا 172 اڑانا بھی شامل تھا – لیکن پہلی بار کاک پٹ ایک بہت ہی مختلف احساس تھا۔“عائشہ نے کہا۔

    عائشہ نے بڑا طیارہ A330اڑانے سے پہلے پانچ سال تک A320 اڑایا ۔میں نے پہلے ہی سمولیٹر پر تربیت حاصل کی تھی لیکن جب طیارے کو قریب سے دیکھا کہ آپ کو اس کا سائز معلوم ہو جاتا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی عمارت کو اڑانے کی ۔

    پائلٹ نے کہا ، ”میں فی الحال A380 پر درمیانے فاصلے سے طویل فاصلے جیسے سڈنی ، نیو یارک سٹی ، پیرس اور لندن تک پرواز کرتی ہوں ۔ جب میں نے A380 سے آغاز کیا تو میں اس کے سائز سے حیرت زدہ تھی۔ میں نے پہلے ہی سمولیٹر پر تربیت حاصل کی تھی لیکن جب طیارے کو قریب سے دیکھا کہ آپ کو اس کا سائز معلوم ہو جاتا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی عمارت کو اڑانے کی طرح ہے۔“
    عائشہ کے مطابق ”A380 اڑانا حیرت انگیز ہے ، یہ ایک بہت بڑا طیارہ ہے ، لیکن اسے A320 کی طرح ہینڈل کیا ہے ، اسے اڑانا واقعی لطف انگیز ہے۔“

    اپنی ملازمت کو کام سے زیادہ لائف اسٹائل قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: "پائلٹ ہونے کے بارے میں ایک انوکھی چیز یہ ہے کہ یہ محض ایک ملازمت سے زیادہ کام نہیں ہے ، بطور پائلٹ آپ کو اپنے لائف اسٹائل کو طویل فاصلے پر پروازیں اور اس کے ساتھ آنے والے مختلف ٹائم زونز کے ساتھ آپ سب کوسرانجام دے سکیں۔

    ”لمبی پروازیں کرنے سے پہلے جس چیز پر میں اپنی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتی ہوں وہ یہ ہے کہ مجھے اچھی طرح سے آرام حاصل ہو ، یہ میرے لئے سب سے اہم چیز ہے۔ رات کی پروازیں عام طور پر مشکل ہوتی ہیں ، مثال کے طور پر اگر مجھے صبح 3 بجے اڑان لینی ہو تو مجھے بنیادی طور پر دن یا سہ پہر میں سونا پڑتا ہے۔“

    سخت قوانین کا مطلب ہے کہ پائلٹوں کو پرواز سے قبل کم از کم 24 گھنٹے آرام کرنا چاہئے۔

    ”یہ یقینی بنانے کے علاوہ کہ میں اچھی طرح سے آرام کر رہی ہوں ، باقی سب کچھ میں صحت کے مثبت انداز کو برقرار رکھتی ہوںجس میں متوازن کھاناپینا شامل ہے۔“

    جہاں تک پرواز کا تعلق ہے ، المنصوری کا کہنا ہے کہ ان کا فیورٹ ہاتھ سے ٹیک آف اور لینڈنگ ہے۔

    ”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ میں کس منزل کی جانب پرواز کر رہی ہوں ، سب سے لطف اندوز حصہ ہوائی جہاز اڑانا ہے۔ میرے پسندیدہ لمحات ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران ہیں۔ نیویگیشن اور خرابیوں کا سراغ لگانا جیسی چیزوں کے لیے اعلی ٹیکنالوجی کا ہونا بہت اچھا ہے ، لیکن جب ٹیک آف اور لینڈنگ کی بات ہو تو میں ہاتھ سے مینول طریقے سے پسند کرتی ہوں ۔ “

    اور پرواز کے ان طویل اوقات میں المنصوری دراصل کیا کرتی ہے؟

    مسافروں کے برعکس ، پائلٹوں کے پاس تفریح کے لیے ٹیلی ویژن نہیں ہوتے۔

    انہوں نے کہا ،”مینوفیکچررز اور کمپنیاں فلائٹ کے دوران ہمارے لئے کرنے کے لئے بہت اچھی فہرستیں بناتی ہیں ، لہذا ہم صرف وہاں بیٹھے کچھ نہیں کرتے ۔ہم ایندھن ، وقت ، نیویگیشن جیسی چیزوں پر مستقل چیکنگ کر رہے ہوتے ہیں اور یہ بھی چیک کر رہے ہوتے کہ تمام آلات صحیح طور پر کام کر رہے ہیں۔ جب آپ باقاعدگی سے اڑان بھرتے رہتے ہیں تو آپ بھی طویل اوقات کو استعمال کرنے کی عادت ڈالیں گے ، پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ واقعی مشکل ہوگا ، لیکن اب میرے لئے یہ واقعی معمول ہے۔ “

    ”ایک اچھی چیز یہ ہے کہ ہم ایک بہت کثیر الثقافت ایئر لائن ہیں لہذا ہم ایک دوسرے کے ممالک اور اپنی ثقافتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں ، اور اس لیے کام کرنے والے ساتھی کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔“

    اور طویل سفر کے بارے میں ، المنصوری نے کہا کہ پائلٹوں کو کچھ دیر سونے کی اجازت ہے۔

    ”ہم بہت لمبی پروازوں کے لئے دو عملوں کی صورت میں جاتے ہیں ، ایک عملہ پرواز شروع کرتی ہے اور آدھے راستے سے دوسرے عملے کی پرواز ہوگی ، اور اس طرح آپ پرواز کے پہلے حصے یا دوسرے عملے کے اقتدار سنبھالنے کے دوران آرام کر سکتے ہیں۔“
    بطور خاتون سینئر افسر کی حیثیت سے اپنے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے ، المنصوری نے کہا کہ وہ دوسری خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے لئے ایک مثبت مثال بننے پر خوش ہیں۔

    "خواتین وہ بن سکتی ہیں جو وہ بننا چاہتی ہیں ، میرے خیال میں یہی میری مثال دکھاتی ہے۔ تمام خواتین کو کیریئر کے ایسے راستے پر چلنا چاہئے جو ان کی حوصلہ افزائی کر سکے اور خوش کرسکے۔

    ”متحدہ عرب امارات میں آپ کے لیے تمام شعبوں کی رسائی ممکن ہے اگر آپ واقعتاً چاہتے ہیںاور اس لئے اگر وہاں کوئی ایسی عورت ہے جو یقین رکھتی ہے کہ وہ پائلٹ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے پاس ضروری مہارت ہے تو اسے اس کے لیے جانا چاہیے۔“

    فلائٹ اٹینڈنٹ کی حیثیت سے کام کرنا۔

    یوکرین سے تعلق رکھنے والی علینہ گالات ، جو اتحاد ایئر ویز کے ساتھ بطور ایک منتظمہ کام کرتی ہیں ، نے کہا کہ ان کا دنیا کا سفر کرنے کا جنون ہے جس نے انہیں اس کردار کی طرف راغب کیا۔

    گالات نے کہا”میں ہمیشہ دنیا کا سفر اور دنیا دیکھنا چاہتی تھی ، جب میں پہلی بار متحدہ عرب امارات گئی تو میں نے ایک ہوٹل کے لئے کام کرنا شروع کیا تھا اور بعد میں جب میرے دوست نے مجھے تربیتی پروگرام میں شامل ہونے کا مشورہ دیا تو میں فلائٹ اٹینڈنٹ بن گئی۔ مجھے تربیت پسند تھی اور میں خوش قسمت تھی کہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ میرے لئے اب تک کا حیرت انگیز تجربہ رہا ہے ، میں اب ساڑھے تین سال سے فلائٹ اٹینڈنٹ ہوں اور میں اب بھی ہر روز لطف اٹھاتی ہوں۔ “

    گالات کا کہنا ہے کہ سفر کے ساتھ گلیمر کے باوجوداس جاب کے بہت سارے چیلنجز ہیں۔

    گالات کے مطابق ”اس کے لئے بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ طویل فاصلہ طے کرنے والی پروازوں کے لئے ہم زیادہ تر مسافروں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے ہیں لہذا مجھے لمبے وقت تک کام کا احساس نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ فلائٹ مکمل ہو جائے اور میں جہاز سے باہر آجاﺅں۔ اس کام کو صحیح طریقے سے انجام دینے کے لیے اپنے جسم کی دیکھ بھال کرنا ضروری ہے۔

    ”مختلف اوقات کے زون میں مستقل طور پر سفر کرنا بھی ایک اور بہت بڑا چیلنج ہے اور لہذا آپ کی نیند کے انداز ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ اس کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے لیے آپ کو اس میں واقعتا ایک بہت بڑا شوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔“

    عجیب و غریب درخواستیں

    گالات کے مطابق مسافروں کو خوش رکھنا ایک اور بہت بڑا چیلنج ہے ، جو پروازوں کے دوران آپ سے کچھ عجیب و غریب درخواستوں کرتے ہیں۔
    گالات نے کہا ”ایک مسافر ایسا تھا جسے آن بورڈ ٹیلی ویڑن اسکرین کی چمک پسند نہیں تھی اور اسی وجہ سے مسافر نے درخواست کی کہ اگر میں اسکرین کو تھوڑا سا بائیں طرف منتقل کردوں۔ میں نے مسافر سے اچھے انداز سے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گی کیونکہ میں انجینئر نہیں تھی۔

    ”مشکل یہ ہے کہ جب کچھ مسافر یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ میں ان کے لئے سب کچھ نہیں کرسکتا ، وہ ہمیں وردی میں دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہر مسئلے کو حل کر سکتے ہیں، ہم ظاہر ہے کہ اپنی پوری کوشش کر تے ہیں ، لیکن کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو ہمارے کنٹرول باہر ہیں۔ “انہوں نے مزید کہا۔

    گالات کے مطابق ”فلائٹ اٹینڈنٹ ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ مسافروں کو سمجھنا بھی ضروری ہے ، شاید وہ کسی مسئلے سے گزر رہے ہوں لہذا ہمیں بدتمیزی کرنے کی بجائے ان کی بات سننے کی ضرورت ہے ، ہمیشہ حسن سلوک کرنا اور مثبت رویہ اختیار کرنا اچھا ہے ۔“

  • امریکی پابندیوں سے کچھ فرق نہیں پڑ ے گا ، ایرانی وزیر خارجہ کا رد عمل

    امریکی پابندیوں سے کچھ فرق نہیں پڑ ے گا ، ایرانی وزیر خارجہ کا رد عمل

    امریکی پابندیوں پر اپنا رد عمل پیش کرتےہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہاہے کہ مجھ اس بات پر خوشی ہے کہ امریکہ ہماری منطق سے خوف زدہ اور ہمارے ایجنڈے کو اپنے لیے نقصان دہ تصورکرتا ہے

    تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک ٹوئٹ میں امریکی پابندیوں پر رد عمل پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ نے "پوری دنیا میں بحثیت ایرانی ترجمان” کے ان کے خلاف پابندیاں لگائی ہیں؛ کیا حقیقت اتنی تکلیف دہ ہے؟

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ پابندیاں، ان پر اور ان کے گھر والوں پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گی کیونکہ ان کے ملک سے باہر کوئی اثاثہ نہیں ہے۔

    انہوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو مجھے اپنی منصوبہ بندیوں کے خلاف بڑا خطرہ سمجھنے کا شکریہ۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے خلاف اپنی مخاصمانہ پالیسیوں کے تسلسل میں جمعرات کی رات ایران کے وزیر خارجہ کے نام کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔

    امریکی وزیر خزانہ نے یہ اقدام اس لئے کیا کہ حال ہی میں ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر امریکی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیا تھا جس پر امریکی وزیر خارجہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔

  • بجلی کا بس ایک جھٹکا ، بڑھاپے کے تمام امراض سے افاقہ ، نیا طریقہ علاج دریافت

    بجلی کا بس ایک جھٹکا ، بڑھاپے کے تمام امراض سے افاقہ ، نیا طریقہ علاج دریافت

    لندن : بجلی کی مدد سے مختلف بیماریوں کا علاج ممکن ہے ،بڑھاپا کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتا ہے اور اس عمر میں کان کی لو پر ہلکی بجلی پہنچا کر عمررسیدگی سے وابستہ کئی امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے یا کئی بیماریوں کو روکا جاسکتا ہے۔ماہرین نے اسے ایئر ٹکلنگ تھراپی کا نام دیا ہے۔

    یہ بجلی کا جھٹکا کیسے اور کہاں لگایا جائے کہ بیماریوں سے آرام آجائے اس کے بارے میں برطانوی ماہرین نے کہا ہے کہ کان پر ایک خاص رگ ہوتی ہے جسے ویگس نرو کہا جاتا ہے۔ یہ رگ جسم کی طویل ترین رگ بھی ہے جو دل، آنتوں اور جسم کے مختلف حصوں تک جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی کارکردگی اعصابی نظام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جسے پیرا سمپیتھے ٹک نروس سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔

    برطانوی ماہرین کا کہنا ہےکہ پیراسمپیتھے ٹک اور سمپیتھے ٹک نروس سسٹم دونوں مل کر خودکار اعصابی نظام کی تشکیل کرتے ہیں جو سانس لینے اور دل کی دھڑکن جیسے عمل کو خودبخود ممکن بناتے ہیں۔

    دوسری طرف یونیورسٹی آف لیڈز اور گلاسگو یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس رگ کا ایک اہم گوشہ کان کے پاس موجود ہوتا ہے اور بیرونی جانب محسوس ہوتا ہے۔ اس پر ہلکی بجلی دے کر آٹونومک یا خوداختیار نروس سسٹم کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس نروس سسٹم کو بہتر کرکےصحت کو بہتر رکھا جاسکتا ہے اور بڑھاپے کے امراض کو ٹالا جاسکتا ہے۔ ان امراض میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

    برطانیہ میں اس بات کا پتہ لگانے کے لیے کہ کیا واقعی یہ طریقہ علاج مفید ہے اس تجربے کے لیے 55 سال سے زائد عمر کے کئی افراد کے اعصاب پر ہلکی بجلی دی گئی۔ شرکا کو ذیابیطس، بلڈ پریشر، مرگی اور امراضِ قلب کی کوئی شکایت نہیں تھی۔ پہلے مرحلے میں 14 افراد کو ویگس اعصاب پر بجلی دی گئی۔

    برطانوی ماہرین طب کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں بہت زیادہ کامیابی ملنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ اس پر مزید تجربات کیے جائیں ، اس سلسلے میں‌دوسرے مطالعے میں 51 افراد کو ایک ایک مرتبہ بجلی کے ہلکے جھٹکے دیئے گئے۔ 29 افراد کو دو ہفتے تک روزانہ اعصابی بجلی کے جھماکے دیئے گئے۔ صرف دو ہفتوں بعد ان کے خود کار اعصابی نظام میں بہتری پیدا ہوئی اور سب نے نیند، موڈ اور ہاضمے میں بہتری کے علاوہ معیارِ زندگی بہتر ہونے کا قرار کیا۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان تجربات سے جو فوائد سامنے آئے ہیں وہ بہت معمولی ہیں جبکہ یہ تکنیک کئی طرح سے انسانوں اور بالخصوص بزرگوں کی صحت پر انتہائی مفید اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس سے بڑھاپے کے ساتھ ساتھ لاحق ہونے والے مرض کو بھی ٹالا جاسکتا ہے۔ماہرین نے اسے ایئر ٹکلنگ تھراپی کا نام دیا ہے۔

  • گجرات میں بارش کا سلسلہ جاری، نشیبی علاقے زیر آب، بجلی کی آنکھ مچولی

    گجرات میں بارش کا سلسلہ جاری، نشیبی علاقے زیر آب، بجلی کی آنکھ مچولی

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی وی ) گجرات میں موسلا دھار بارش،نشیبی علاقے زیرآب، گرمی کا زور ٹوٹ گیا تفصیلات کے مطابق آج گجرات اور اس کے گردونواح میں صبح سویرے ہی گہرے بادل چھا گئے جس کے بعد موسلادھار بارش کا آغاز ہوا جس سے گجرات اور گردونواح کے نشیبی علاقے زیر آب گئے گجرات کے اکثر علاقوں میں بجلی بند ہو گئی بارش ہونے سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا تا حال وقفے وقفے سے بارش کا یہ سلسلہ جاری ہے

  • اگر کوئی شخص دانتوں کےساتھ ناخن کتراتا ہے تو سمجھ لو وہ شکار ہے ، کس چیز کا ؟ ڈاکٹروں نے بتا دیا

    اگر کوئی شخص دانتوں کےساتھ ناخن کتراتا ہے تو سمجھ لو وہ شکار ہے ، کس چیز کا ؟ ڈاکٹروں نے بتا دیا

    لاہور : ہمارے ہاں ناخن کُترنا ایک عام سی عادت سمجھی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباً 20 سے 30 فیصد لوگ اس عادت میں مبتلا ہیں. ایسے افراد کئی قسم کی بیماریوں میں‌ مبتلا ہوجاتے ہیں ،لیکن طبی ماہرین اس دباؤ، بے چینی، اور احساس کمتری کو اس عادت کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔

    ڈاکٹروں کےمطابق ناخنوں کے اندر بے شمار جراثیم پائے جاتے ہیں، اگر کوئی شخص ناخن کُترنے کی عادت میں مبتلا ہے تو وہ جلد اس سے پیچھا چُھڑا لے کیونکہ اس عادت کی وجہ سے صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ڈاکٹروں کے مطابق ناخن کُترنے کی عادت سے نزلہ اور زکام کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، اس کے علاوہ قوت مدافعت بھی شدید متاثر ہوتی ہے جس کے باعث جراثیم جسم پر باآسانی حملہ آور ہوتے ہیں۔

    انسانی صحت کے حوالے سے دی اکیڈمی آف جنرل ڈینٹسٹری نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق ناخن چبانے کی عادت سے ناصرف ہمارے دانت اور مسوڑں کو شدید نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس کے باعث نظام ہضم بھی متاثر ہو جاتا ہے۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عادت میں مبتلا افراد کو انگلیوں کے انفیکشن ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے کیوںکہ ناخن چبانے سے انگلیوں کا میل براہ راست پیٹ میں جاتا ہے جو ہیضے، معدے کی خرابی اور پیٹ درد جیسی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ’چوئنگ گم‘ کا استعمال موثر ہے تاکہ ذہن ناخن کُترنے کے بارے میں نہ سوچے۔ اگر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا گیا تو یہ عادت مہلک بیماریوں کا شکار کر سکتی ہے اور انسان صحت مند زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھ سکتا ہے۔

  • شہنشاہ تعمیرات کی تیسری برسی عقیدت و اخترام سے منائی گئی

    شہنشاہ تعمیرات کی تیسری برسی عقیدت و اخترام سے منائی گئی

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودھا کے حلقے این اے 91 سے مسلسل سات بار الیکشن جیتنے والے انور علی چیمہ کو ضلع میں شہنشاہِ تعمیرات کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے_انور علی چیمہ نے پہلا الیکشن 1985 میں لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔مبر قومی اسمبلی عامر سلطان چیمہ ، ممبر صوبائی اسمبلی منیب سلطان چیمہ نے کہا ہے کہ سابق وفاقی وزیر انور علی چیمہ نے اپنی ساری عمر عوام کی خدمت اور علاقائی تعمیر وترقی میں گزار دی انہوں نے جتنے ترقیاتی کام کروائے اس کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی ان کی خدمات کی وجہ سے لوگ انور علی چیمہ کو شہنشاہ تعمیرات کے نام سے پکارتے ہیں ہم سے بچھڑے انہیں تین سال گزر چکے ہیں لیکن عوام آج بھی ان سے بے پناہ محبت کرتی ہے ہم چوہدری انور علی چیمہ کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں حلقہ کی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں یہ بات انہوں نے سابق وفاقی وزیر چوہدری انور علی چیمہ کی تیسری برسی کے موقع پر آبائی گاؤں چک35جنوبی میں خطاب کر تے ہوئے کہی ، مزید براں انہوں نے کہا کہ عوام سے کئے تمام وعدے پورے کریں گے ۔

  • موجودہ حکومت اب تک پیٹرول کتنا مہنگا کر چکی، پڑھیے  خاص رپورٹ میں

    موجودہ حکومت اب تک پیٹرول کتنا مہنگا کر چکی، پڑھیے خاص رپورٹ میں

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں‌اب تک 25 روپے پیٹرول میں اضافہ ہو چکا ہے،موجودہ حکومت اب تک تیل مصنوعات میں 6 مرتبہ اضافہ کر چکی ہے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں‌اب تک 25 روپے پیٹرول میں اضافہ ہو چکا ہے،موجودہ حکومت اب تک پٹرولیم مصنوعات میں 6 مرتبہ اضافہ کر چکی ہے
    موجودہ حکومت جب اگست 2018میں برسراقتدار آئی تو اپنے پہلے مہینے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ۔ یکم نومبر2018کو پہلی مرتبہ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا اور پٹرول کی قیمت میں 5روپے ، ہائی سپیڈل کی قیمت میں 6روپے 37پیسے ، لائٹ ڈیزل میں 6 روپے 48 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔اس کے بعدمارچ سے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافےکا جو سلسلہ شروع ہوا اس نے عوام پر بہت بھوجھ ڈالا. اب اگست میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا ہے ۔

    واضح رہے کہ موجودہ حکومت جب اگست 2018 میں برسراقتدار آئی تھی تو پٹرول کی قیمت 92 روپے 83 پیسے تھی جو بڑھ کر اب 117 روپے 83 پیسے ہوگئی ہے ۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت 106 روپے 94 پیسے سے بڑھ کر 132 روپے 47 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 84 روپے سے بڑھ کر 103.84 فی لٹر ہوگئی ہے ۔