Baaghi TV

Author: +9251

  • گرفتار جاسوس کی تصویر جاری، بھارتی خفیہ ایجنسی را نے بھیجا تھا بلوچستان

    گرفتار جاسوس کی تصویر جاری، بھارتی خفیہ ایجنسی را نے بھیجا تھا بلوچستان

    بلوچستان میں گزشتہ روز پکڑے گئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کی تصویر جاری کر دی گئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے ایک اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کا جاسوس اور دہشت گرد پکڑا گیا ہے جس کا نام راکھی راج بتایا گیا ہے. یہ انڈیا کا رہنے والا اور بلوچستان میں تخریب کاری و جاسوسی کے سپیشل مشن پر تھا،

    پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اسے کافی عرصہ سے نظر میں رکھے ہوئے تھی جسے انٹرسیپٹ ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سمیت کئی جاسوس اور دہشت گرد پکڑے جاتے رہے ہیں،

  • جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ آئی ایس پی آر، کہا اللہ نے پاکستان کو متحرک اور ذہین نوجوانوں سے نوازا ہے

    جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ آئی ایس پی آر، کہا اللہ نے پاکستان کو متحرک اور ذہین نوجوانوں سے نوازا ہے

    پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ اللہ نے پاکستان کو متحرک اور ذہین نوجوانوں سے نوازا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف نے آئی ایس پی آرانٹرن شپ پروگرام میں نوجوانوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز آئی ایس پی آر کا دورہ کیا اور گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان بالخصوص گزشتہ دو عشروں کے دوران بے شمار چیلنجز سے گزرا ہے، ان کا کہنا تھا کہ چیلنجز سے نمٹنے میں نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے،

  • ایک اور  بھارتی جاسوس  راجو لکشمن ڈیرہ غازی خان سے گرفتار

    ایک اور بھارتی جاسوس راجو لکشمن ڈیرہ غازی خان سے گرفتار

    ڈی جی خان: ایک اور بھارتی جاسوس پاکستان میں جاسوسی کرتے پکڑا گیا ، بارڈر ملٹری فورس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ راکھی گاج سے مبینہ بھارتی جاسوس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    دوسری طرف بارڈر ملٹری فورس کا کہنا ہے کہ گرفتار بھارتی شہری کی شناخت راجو لکشمن کے نام سے کی گئی، گرفتار بھارتی شہری کو تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ تین سال قبل 3 مارچ 2016 کو پاکستان کے حساس اداروں نے بلوچستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس اور ریکارڈز کے مطابق بھارتی نیوی کے حاضرسروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔پاکستانی فورسز نے ایک اور بھارتی جاسوس حامد نہال انصاری کو بھی گرفتار کیا تھا، تاہم سزا پوری ہونے پر اسے 17 دسمبر 2018 کو رہا کر دیا گیا تھا۔

    راجو لکشمن نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے غلط قدم اٹھایا جس کی قیمت مجھے ہی ادا کرنا پڑی، میں غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے کی کوشش کررہا تھا اسی دوران بارڈر پر تعینات پاکستانی محافظوں نے مجھے گرفتار کیا۔

  • دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    سردار کوڑے خان جتوئی ضلع مظفر گڑھ کا ایک رئیس گزرا ہے۔ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود اپنی معاملہ فہمی ، تدبر ، سخاوت اور رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتا تھا ۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ” خان بہادر ” کے خطاب سے نوازااور انہیں آنریری مجسٹریٹ کاعہدہ دیا گیا۔انہوں نےسر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک میں برصغیر میں سب سے زیادہ فنڈ دئیے، جو کہ تاریخ کا حصہ ہے۔
    سردار کوڑے خان نے پانچ شادیاں کیں لیکن خدا کی مرضی کہ ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔انہوں نے 1892ء میں اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ تقریبا ایک لاکھ (100000) کنال زمین رفائے عامہ کے کاموں کے لئے وقف کر کےاس وقت کی حکومت کے حوالے کر دی جو بعدازاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد ہو گئی۔اس زمین کی آمدنی کیا تھی اور یہ کہاں خرچ ہوتی تھی اس کا کوئی حساب نہ رکھا گیا اور یہ مال غنیمت کی طرح کئی دہائیاں خرد برد ہوتی رہی۔ضلع کونسل نے 1983 ء میں سردار کوڑے خان پبلک سکول کی بنیاد رکھی اس سکول کو پہلے پانچ سات سال تو ضلع کونسل نے چلایا پھر خود مختیار ادارہ بنا کر اس سے ہاتھ کھینچ لیاگیا۔ دو چار سال ایک مختصر سی سالانہ گرانٹ بھی دی جاتی رہی جو بعد میں 1992ء میں بند کر دی گئی۔اس کے بعد یہ ادارہ خود کماؤ خود کھاؤ کے اصول کے مطابق چلنے لگا۔انہی دنوں حکومت کی طرف سے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر ڈویژنل پبلک سکول بنانے کے لئے فنڈ آئےجس کے لئے زمین بھی دی گئی تھی لیکن معلوم نہیں کیوں مظفر گڑھ میں "ڈویژنل پبلک سکول ” نہ بن سکا بلکہ سردار کوڑے خان پبلک سکول کو ہی” ڈویژنل پبلک سکول” کے طرز پر چلایا جانے لگا۔سکول کا انتظام چلانے کے لئے اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز بنائے گئے۔ڈویژن کے کمشنر کو اس بورڈ کاچئیر مین اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو اس کاوائس چئیرمین بنایاگیا جبکہ سکول کا پرنسپل اس کا جنرل سیکرٹری ہوتا تھا۔ کمشنر کی مصروفیات کے باعث اکثر اوقات ڈپٹی کمشنر ہی کمشنر کی نمائندگی کرتا اور تمام معاملات بورڈ آف گورنرز کی مشاورت سے طے پاتےرہے۔سردار کوڑے خان پبلک سکول جس کا آغاز ایک پرائمری یا مڈل سکول کے طور پر ہوا تھا بہت سے گرم سرد حالات سہتا ہوا آگے بڑھتا رہا – 1994 ء میں کرنل صابر جب اس کے پرنسپل بنے تو اس سکول میں طلباءکی تعدار بمشکل دو اڑھائی سو تھی۔انہوں نے سکول میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور اس کو خود مختیار ادارہ بنا پر محنت کی اور اس کی بنیاد کو اتنا مضبوط کیا کہ لوگوں کا اس کی طرف رحجان ہوا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سکول تیزی سے ترقی کرنے لگا ۔ مختلف سربراہان کے دور میں بھر پور محنت کے بعد یہ ادارہ ضلع کے تعلیمی میدان میں اپنا منفردمقام بنانے میں کامیاب ہو گیا۔سردار کوڑے خان پبلک سکول پہلے سکینڈری بعدازاں 2001ء میں ہائیر سکینڈری سکول کے درجے پر پہنچ گیااور اس وقت اس سکول میں طلباء کی تعدا پندرہ سو کے لگ بھگ ہو گئی۔ 2005ء میں پروفیسر خورشید نے بطور پرنسپل اس ادارے کا چارج سنبھالا تو اس کے اندر انقلابی تبدیلیاں آئیں کئی نئی عماراتیں بنائی گئیں اور مختلف شعبہ جات کا آغاز کیاگیاساتھ ہی سکول میں نئے سٹاف کی بھرتی کے لئے ایک نیا اور جدید سسٹم متعارف کرایا گیا۔اساتذہ بھی اس سسٹم میں امتحان دے کر اگلے گریڈ میں ترقی کرتے تھے۔ اس دوران ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں اس سکول نے مسلسل میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں نمائیاں نتائج حاصل کیے۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد بھی چار ہزار کے قریب پہنچ گئی۔پروفیسر خورشید تقریبا نو سال پرنسپل رہے اورسکول کو مالی لحاظ سے بھی ایک مستحکم بنیاد فراہم کر گئے۔ان اصلاحات کی وجہ سے ہی آج اس سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد پینتالیس سو سے تجاوز کر چکی ہے۔اس دوران مظفر گڑھ کے ایک سرائیکی قوم پرست رہنما”مظفر خان مگسی ” نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سردار کوڑے خان جو جائیداد وقف کر گئے تھےاس کا ضلعی حکومت سے حساب لیا جائے ۔ کوئی تیس سال یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہااور بلآخرسپریم کورٹ نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا کہ سردار کوڑے خان کی ساری جائیداد کوقبضہ گروپوں سے واگزار کراکے اس کا ٹرسٹ بنایا جائے۔سردار کوڑے خان ٹرسٹ کا چئیر مین ڈسٹرکٹ سیشن جج مقرر کیا گیاساتھ ہی سردا کوڑے خان کے نام سے چلنے والے تمام سکولوں کو ٹرسٹ کے تحت چلائےجانےکا فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کے نتیجہ میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ قائم ہوا اورسردار کوڑے خان کی جائیداد کی آمدنی جو چند لاکھ روپے تھی تھوڑے ہی عرصے میں چالیس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پہلے 2005ء میں ضلع کونسل نے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بھی سردار کوڑے خان کے نام سے مڈل سکول بنا دئیے گئے تھےجو زیادہ تر سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول کی طرف سے دئیے گئے قرض اور امداد پر چلتے رہے۔ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سردار کوڑے خان پبلک سکول جتوئی،
    سردار کوڑے خان پبلک سکول علی پوراورسردار کوڑے خان پبلک سکول کوٹ ادو کو ٹرسٹ میں لے لیا۔فروری 2019ء میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ کےچئیرمین ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو خط لکھا اور سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول مظفر گڑھ کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کو کہا لیکن ڈپٹی کمشنرمظفرگڑھ نےاس سکول کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کی بجائے سکول میں سے عارضی طور پر رکھے گئے اساتذہ کو نکال دیاتاکہ سکول کی کارکردگی متاثر ہو اور لوگوں کو اس سکول سے شکایت ہوں لیکن اساتذہ نے اپنی فطری محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے اس مسئلے کا سامنا کیا۔سال 2019 کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر نےسردار کوڑے خان سکول مظفرگڑھ کو ایک غیر سرکاری تنظیم care foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تو سکول کے اندر اور باہر سے آنے والے شدید ردعمل پر بلآخر انہیں اپنے فیصلہ کو عارضی طور پر ترک کرنا پڑا ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ڈپٹی کمشنر کا خیال تھا کہ والدین اور اساتذہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے سکول کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے ایک منصوبے کے تحت سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کوcare foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیاگیا اور اس پر موقف یہ اپنایا گیاکہ سکول کی گرتی ہوئی تعلیمی حالت کے پیش نظر سکول کو ترقی دینے کے لئے یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے ۔ اتفاقا میٹرک سالانہ امتحان 2019 ء کا رزلٹ آیا تو سکول کی ایک طالبہ نےنا صرف ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں بلکہ پورے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن لی۔اس طرح پورے سکول کا رزلٹ بھی پنجاب بھرمیں نمائیاں رہا۔تقریبا 450 بچوں نے میٹرک کا امتحان دیا جس میں سے 45بچوں نے 1050 سے زیادہ نمبر حاصل کیئے ،150 سے زائد بچوں نے 90 فیصد سے سے زیادہ نمبر لے کر A پلس گریڈ حاصل کیا ۔ صرف نو بچے ایسے ہیں جنہیں ایک یا دو مضامین میں سپلی لگی۔ پاس ہونے والے بچوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے فرسٹ ڈویژن نہ حاصل کی ہو ۔
    ڈپٹی کمشنر کو سوچنا چاہیے یہ کس طرح سے گرتا ہوا تعلیمی معیار ہے جس میں سکول کےامتحانی نتائج کا مقابلہ ضلع بھر کا کوئی ادارہ نہیں کرسکتا ۔
    سکول کسی کی امداد پر نہیں چلتاہے بلکہ اس کے بہترین کیمپس ،کوالیفائیڈ اساتذہ کی محنت کی وجہ سے آج سکول کے نام پر بنک میں کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے مسلسل بہترین نتائج کی وجہ سے آج ضلع کےہر بچہ کا خواب ہےکہ وہ سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کا طالب علم بنے۔ڈپٹی کمشنر کواگر اساتذہ سے اور اس سکول کے طلباء سے تھوڑی بہت بھی ہمدردی ہے تو اسے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ٹرسٹ کے حوالے کردیں جو کمی کوتاہی ہو گی وہ ٹرسٹ خود دیکھ لے گا۔اہلیان مظفرگڑھ آج حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس درویش صفت شخص سردار کوڑے خان کی طرف سے اللہ کے نام پر دی گئی اس وسیع جائیدادکی آمدن سے ہی اس بہترین ادارہ کو چلانے کے لئے اس سکول کو سردار کوڑے خان ٹرسٹ کے حوالے کرے۔اس سکول کو care foundation جیسی این جی او کے حوالے کر کے مظفرگڑھ کے اس اعلی درجہ کے تعلیمی ادارے کوبرباد نہ کیا جائے ۔

  • وزیر اعظم کا ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النیہان کو فون، دوطرفہ تعاون پر زور

    وزیر اعظم کا ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النیہان کو فون، دوطرفہ تعاون پر زور

    وزیراعظم عمران خان نے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النیہان کو ٹیلی فون کر کے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ مستحکم تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے 700 پاکستانی قیدیوں کی رہائی پرابوظہبی کے ولی عہد کا شکریہ ادا کیا، وزیراعظم نے ایف اے ٹی ایف میں حمایت پر بھی متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا، دونوں رہنماؤں کا دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا،

  • پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 12 سال میں کے ای ایس سی کا نام تبدیل کر کے کراچی الیکٹرک رکھنے کے علاوہ اس میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے.

    اب اسے اپنا نام قاتل الیکٹرک رکھ لینا چاہیے۔ شہر میں صرف چند گھنٹوں کی بارش میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں 21 لوگ جانبحق ہو گئے جن میں چار معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی دل رکھنے والا شخص ان واقعات پر دہل جائے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ 12 سال پہلے بھی لوگ مرا کرتے تھے اور آج بھی لوگ کرنٹ لگنے سے مر رہے ہیں۔ بارشوں میں صرف کے الیکٹرک کی بے حس انتظامیہ ہی نہیں بلکہ ملک کو چلانے والی اشرافیہ بے نقاب ہو گئی ہے۔ عوام اب حکمرانوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔

    کراچی کی عوام میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے، یہاں لوگ مر رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ان خیالات کا اظہار سید مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے بزنس فورم کے ذمے داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کراچی والوں کو مہنگی ترین بجلی دینے کے باوجود عوام کی جان و مال کا تحفظ تک یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ عوام کا مالی تحفظ تو درکنار 12 سال گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک نے کراچی سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ تک نہیں کیا ہے۔ کراچی میں کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ حکمرانوں کو کراچی سے ٹیکسز تو چاہئے لیکن اس کی دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے کی ذمے داری لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔

    ٹیکس کے بدلے عوام کو سہولیات تو دور بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ہیں۔ وفاقی حکومت سارا ملبہ صوبائی حکومت پر جبکہ صوبائی حکومت شہری انتظامیہ پر ڈالنا چاہتی ہے جو اختیارات کا رونا روتے رہتے ہیں جبکہ پی ایس پی موجودہ اختیار کے ساتھ بھی کراچی کو پہلے کی طرح بحال کر سکتی ہے۔ ان حالات میں عوام کس سے سوال کریں، موجودہ حکمران ان بے گناہ لوگوں کے گھروں تک بھی نہیں گئے بلکہ مذمتی بیانات دے کر اپنی ذمے داریاں پوری کر رہے ہیں۔ انہیں قبر اور آخرت تک کا خوف نہیں ہے۔ پاک سرزمین پارٹی ان سب مظالم پر خاموش نہیں رہے گی بلکہ ہر ممکن سطح پر کراچی والوں کی آواز بلند کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ کب تک ظلم برداشت کریں گے اور یونہی مرتے رہیں گے، خاموش رہ کر ظلم سہنے والے ظالموں کے ساتھی ہیں، بارشیں گزرنے کے بعد لوگ اس قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو بھول جائیں گے اور کیا ضمانت ہے کہ اگلے سال اسی قسم کے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہونگے۔

  • فردوس عاشق اعوان کی سعودی ہم منصب ترکی بن عبداللہ الشبانہ سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    فردوس عاشق اعوان کی سعودی ہم منصب ترکی بن عبداللہ الشبانہ سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی سعودی ہم منصب ترکی بن عبداللہ الشبانہ سے ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر انہوں نے اسلام کے حقیقی چہرے کو اجاگر کرنے کیلئے سعودی عرب کیساتھ مشترکہ کمیونیکیشن سٹریٹیجی ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ فلم، ثقافت اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون دونوں ملکوں کے مابین لوگوں کے آپسی روابط کو مضبوط کرنے کیلئے اہم ہے ۔ان شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے تشخص کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔وزیراعظم کی معاون خصوصی کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین ڈبنگ کیساتھ ڈراموں کے تبادلوں کی تجویز دی گئی ہے، اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ فلم اور ڈرامے کسی بھی معاشرے کی اقدار اور ثقافت کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اپنے ہیروز سے روشناس کروانا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان سیاحت کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں,فلم کے شعبے میں تعاون پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی اور حسین مقامات کو اجاگر کرنے میں کارگر ثابت ہو گا۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کی جانب سے دونوں ممالک کے ریڈیو کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا، دونوں ممالک کے صحافیوں کے وفود کے تبادلے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ حاصل کرنے کا باعث بنیں گے۔پاکستان کے عوام سعودی قیادت اور لوگوں سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین تاریخی ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ بطور وزیر اطلاعات یہ کسی بھی ملک میں یہ میرا پہلا دورہ ہے۔اس ضمن میں پاکستان میرا پہلا انتحاب ہے۔ترکی بن عبداللہ الشبانہ.سعودی وزیرِ اطلاعات نے دونوں ممالک کے مابین فلم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کے حوالے سے معاون خصوصی کے خیالات کو سراہا۔ملاقات میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی,سیکرٹری اطلاعات زاہدہ پروین کے علاوہ دونوں اطراف کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔

  • سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا لاہور ہائیکورٹ کا دورہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا لاہور ہائیکورٹ کا دورہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا لاہور ہائیکورٹ کا دورہ

    لاہور ۔ 31 جولائی(اے پی پی )سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی گز شتہ روز لاہور ہائیکورٹ دورے پر آئے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے ججز کا استقبال کیا ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار شمیم خان نے چائے پر مدعو کیا تھا، ملاقات میں لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس مامون الرشید، جسٹس شاہد مبین ، جسٹس طارق سلیم شیخ سمیت دیگر ججز نے بھی شرکت کی ۔ ملاقات میں سپریم کورٹ کے ججز نے ماڈل کورٹس کی کارکردگی اور جینڈر بیس وائلنس سے متعلق ورکشاپ کے انعقاد پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے اقدامات کی تعریف کی ۔

  • وفاقی حکومت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو کا نوٹی فکیشن جاری کردیا

    وفاقی حکومت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو کا نوٹی فکیشن جاری کردیا

    اسلام آباد : وفاقی حکومت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تشکیل نو کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے اور وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن حماد اظہر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا رکن مقرر کرنے کے ساتھ ہی کمیٹی کی تشکیل نو کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

    وفاقی حکومت ذرائع کے مطابق نوٹی فکیشن کے مطابق وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید اور وفاقی وزیر پیٹرولیم عمر ایوب بھی ای سی سی ارکان میں شامل ہیں۔

    اس نوٹی فکیشن کے مطابق وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم ، وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز سیّد علی حیدر زیدی اور وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ صاحبزادہ محمد محبوب سلطان بھی ای سی سی کے ارکان میں شامل ہیں۔

    وفاقی حکومت سے حکومتی ذرائع کےمطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار، نجکاری کے وزیر محمد میاں سومرو، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور آبی وسائل کے وزیر فیصل واڈا بھی ای سی سی کے ارکان کی فہرست میں شامل ہیں۔

  • 12 سے 15 اگست تک عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان ، خوشیاں دوبالا ہوگئی

    12 سے 15 اگست تک عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان ، خوشیاں دوبالا ہوگئی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت کی طرف سے چھٹیوں کے اعلان نے ملازمین کی موجیں ہوگئیں. وزارت داخلہ نے 12 سے 15 اگست تک عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔وزارت داخلہ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے پیر سے جمعرات تک عام تعطیل ہوگی۔

    وفاقی حکومت کی طرف سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ 16 اگست بروز جمعہ سے وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے کھل جائیں گے، جبکہ 17 اگست بروز ہفتہ بھی تمام دفاتر میں معمول کے مطابق کام ہوگا۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے پاکستان میں ذی الحج کا چاند 2 اگست کو نظر آنے اور عید الاضحیٰ 12 اگست بروز پیر ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔