Baaghi TV

Author: +9251

  • پلی بارگیننگ شروع 2ارب 12کروڑ روپے کے عوض دوملزمان کی  درخواست منظور

    پلی بارگیننگ شروع 2ارب 12کروڑ روپے کے عوض دوملزمان کی درخواست منظور

    اسلام آباد: احتساب عدالت نے نوری آباد پاور کمپنی اور سندھ ٹرانسمیشن فنڈز میں خوردبرد کے معاملے میں ملوث ملزمان کی پلی بارگین درخواست منظور کرلی ۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق ملزمان سید آصف محمود اور سید عارف علی چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی طرف سے پلی بارگینگ کی درخواست منظور ہونے کے بعد احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

    ان ملزمان کی طرف سے دی جانے والی پلی بارگیننگ کی درخواست چیئرمین نیب کے منظوری کے بعد احتساب عدالت نے منظور کر لی۔ تفتیشی افسر نے پلی بارگین کی رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرا دی۔

    اس موقع پر جب جج احتساب عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں کتنے پیسے دینے کے لئے ملزمان تیار ہیں؟ کیا آپ اپنے خوشی سے پلی بارگین کر رہے ہیں؟ملزمان کی طرف سے جواب دیا گیا کہ وہ جی خوشی سے پلی بارگین کر رہے ہیں۔

    جج محمد بشیر نے پھر پوچھا کسی کی جانب سے پلی بارگین کے لئے دباؤ تو نہیں ہے نہ؟ملزمان کی طر ف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں ملزمان 2.12 ارب روپے دینے کے لئے تیار ہیں۔ دونوں ملزمان کاروبار میں برابر کے پارٹنر ہیں۔ ملزمان سید آصف محمود اور سید عارف علی نے سندھ حکومت کے افسران سے ملکر کرپشن کی۔

  • چیئرمین سینیٹ کی کوئٹہ دھماکہ کی مذمت، کہا دہشت گرد مذموم عزائم میں کامیاب نہیں‌ ہوں‌ گے

    چیئرمین سینیٹ کی کوئٹہ دھماکہ کی مذمت، کہا دہشت گرد مذموم عزائم میں کامیاب نہیں‌ ہوں‌ گے

    چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کوئٹہ دھماکے میں قیمتی جانوں کےضیاع پراظہار افسوس کیا ہے،

    کوئٹہ میں زوردار دھماکہ، 5 افراد جاں بحق، 36 سے زائد زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے دھماکہ کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ دہشت گرداپنےمکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے، انہوں نے کہاکہ ملک و قوم کیلیے شہداکی عظیم قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی،

    واضح‌ رہے کہ آج کوئٹہ میں پولیس تھانہ کے سامنے دھماکہ ہوا ہے جس میں پانچ افراد جاں بحق اور تیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں، وزیر اعظم عمران خان اور دیگر نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے،

  • ریاست اور افواج پر حملہ بغاوت کے زمرے میں شمار ہو گا،پیغام پاکستان کانفرنس

    ریاست اور افواج پر حملہ بغاوت کے زمرے میں شمار ہو گا،پیغام پاکستان کانفرنس

    لاہور: ریاست اور فوج پر حملہ بغاوت ہے . اس بغاوت کی پاکستانی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں‌ ہے. ان خیالات کا اظہار آج لاہور میں ہونے والی پیغام پاکستان کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ دستور پاکستان کے مطابق کوئی قانون قران و سنت کے منافی نہیں ہونا چاہیے۔

    ۔ کانفرنس کے اعلامیے میں میں واضح کیا گیا گہ ریاست اور افواج پر حملہ بغاوت کے زمرے میں شمار ہو گاجبکہ تمام قوانین قرآن و سنت کے تابع ہونگے۔اس سلسلے میں‌آج گورنر ہاؤس لاہور میں پیغام پاکستان کانفرنس میں پانچوں وفاق المدارس کے سربراہان نے شرکت کی

    پیغام پاکستان کانفرنس میں چودھری سرور نے کہا کہ دنیا کو علم ہو چکا پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کا امیج تبدیل ہو رہا ہے، افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کی رائے کا احترام ناگزیر ہے۔پاکستان کی مسلح افواج نے پاکستان کی مذہبی جماعتوں پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے مل کر کام کیا ہے۔ کرتار پور فیصلے سے پاکستان امیج اور بہتر بنا اور انٹرنیشل لیول پر پاکستان کی تعریف ہوئی ہے۔

    پیغام پاکستان کانفرنس میں وفاقی وزیر پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ الیکشن میں ناکام ہونیوالے سیاست چمکانے کے لیے مذہب کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔پاکستان کا متفقہ قانون اسلام کی عکاسی کرتاہے، اس میں ریاست اور مذہب جدا نہیں ہے۔

    نورالحق قادری نے کہا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے،ہر چیز نے اپنے اصل کی طرف واپس لوٹنا ہے،اس ملک نے بھی ریاست مدینہ کی طرف جانا ہے۔ یہ کام عمران خان کے ذمہ لگے یا کسی بھی دوسرے شخص کے مگر یہ کام ہونا ہے۔

  • سرکاری ہسپتالوں میں مزید بہتری لا کر انہیں مثالی علاج گاہ بنایا جائے گا،ڈپٹی کمشنرخانیوال

    سرکاری ہسپتالوں میں مزید بہتری لا کر انہیں مثالی علاج گاہ بنایا جائے گا،ڈپٹی کمشنرخانیوال

    سرکاری ہسپتالوں میں مزید بہتری لا کر انہیں مثالی علاج گاہ بنایا جائے گا،ڈپٹی کمشنرخانیوال

    خانےوال ۔ 30 جولائی (اے پی پی) ڈپٹی کمشنر اشفاق احمدچوہدری نے کہا ہے کہ ضلع خانیوال کے سرکاری ہسپتالوں کے انتظامی امور اور سروسز میں مزید بہتری لا کر انہیں مثالی علاج گاہ بنایا جائے گا، محکمہ صحت کے افسران ہیلتھ کونسلوں کے فنڈز کو استعمال میں لاکر بنیادی ضروریات اورطبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ مریضوں کو علاج معالجہ کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ا نہوں نے یہ بات ہیلتھ کونسل ڈی ایچ کیو ہسپتال خانیوال کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں ڈی ایچ او ڈاکٹر بلال ، ایم ایس ڈاکٹر زاہد اختر چوہدری ، ڈاکٹرمحمد رفیع سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں نئی او پی ڈی کے عقب میں قائم باءونڈری وال پر خار دار لگانے،ٹوٹی ہوئی ٹائلوں کی مرمت ، ہسپتال کی روشوں پر سفید اور زرد مارکنگ ;47; لائننگ،طبی آلات کی معمولی مرمت سمیت دیگر کاموں کی منظوری دی گئی ۔

  • روس ایران فوجی تعاون : سمجھوتے پر دستخط

    روس ایران فوجی تعاون : سمجھوتے پر دستخط

    تہران : روس اور ایران کے درمیان فوجی تعلقات مزید مضبوط ، اطلاعات کے مطابق ایران اور روس کے درمیان فوجی تعاون کے سمجھوتے پر دستخط ہوچکے .

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں‌ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل حسین خانزادی نے جو ان دنوں سینٹ پیٹرز برگ کے دورے پر ہیں، حسین خانزادی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کی نمائندگی میں، مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف آفس اور روسی وزارت دفاع کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ ہے جسے بلا شبہ تہران اور ماسکو کے درمیان دفاعی تعاون کا نیا باب قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • 14 اگست : جشن آزادی کے حوالے سے تھیٹر فیسٹیول کا آغاز

    14 اگست : جشن آزادی کے حوالے سے تھیٹر فیسٹیول کا آغاز

    لاہور : 14 اگست یوم آزادی کی تقریبات، لاہور آرٹس کونسل میں جشن آزادی کے سلسلے میں تقریبات کے حوالے سے الحمرا آرٹ سینٹر میں تھیٹر فیسٹیول کا آغاز ہو گیا، 6 روزہ ڈراما فیسٹیول کے پہلے روز ڈراما پرمیشور سنگھ پیش کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں‌الحمرا آرٹ سینٹر میں 6 روزہ ڈراما فیسٹیول کے پہلے روز ماس تھیٹر کے ڈراما پرمیشور سنگھ کو پیش کیا گیا۔ ڈرامے کی کہانی برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے وقت کی ہے جب مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان آپسی بھائی چارے اور جھگڑوں کو نمایاں کیا گیا۔

    دوسری طرف انتظامیہ نے لوگوں کی دلچسپی سے متعلق رپورٹ دیتےہوئے کہا ہے کہ فیسٹیول کے پہلے روز شائقین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور ڈراما دیکھا۔ جشن آزادی کی ثقافتی تقریبات کے حوالے سے تھیٹر فیسٹیول کا انعقاد خوش آئند بات ہے اس سے شائقین کو تفریح بھی ملے گی۔

  • جعلی اکاؤنٹس کیس میں کس نے پلی بارگین کے تحت 1 ارب 11 کروڑ کی پہلی قسط جمع کروائی، تہلکہ خیر انکشاف

    جعلی اکاؤنٹس کیس میں کس نے پلی بارگین کے تحت 1 ارب 11 کروڑ کی پہلی قسط جمع کروائی، تہلکہ خیر انکشاف

    جعلی اکاﺅنٹس کیس میں نیب کے ساتھ پلی بارگین کا آغاز ہوگیا ہے اور پہلی قسط کے طور پر ایک ارب 11 کروڑ روپے جمع ہوگئے ہیں، یہ دعویٰ سینئر صحافی اور اینکر کامران خان نے کیا ہے ان کے اس دعویٰ کے بعد یہ خبر سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہوئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق سینئر صحافی کامران خان نے پاکستانی عوام کو مبارکباد دی اور کہا ہے کہ اب نہ تو اومنی گروپ بچے گا اور نہ ہی زرداری مافیا بچے گا. ان کا کہنا تھا کہ جعلی ینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس کے درجنوں معاملات چل رہے ہیں تاہم کرپشن کے ان بڑے کیسوں میں بیسیوں‌ ملزمان میں سے پہلے دو نے آج نیب سے دو ارب 30کروڑ کی پلی بار گین کر لی ہے اور ایک ارب 11 کروڑ رپے جمع کرا دیے ہیں،

    سابق صدر آصف علی زرداری ماضی میں کہتے رہے ہیں کہ وہ کسی کو سات ارب ڈالر تو کیا سات ڈالر بھی نہیں دیں‌ گے لیکن اب پلی بارگین کی یہ خبریں‌ عام زیر بحث ہیں، واضح‌ رہے کہ سال2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور بڑے بڑے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں، اس سلسلے میں ایف آئی اے نے ابتدائی طور پر معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

  • نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ابھی گزشتہ روز ہی وزیراعلی پنجاب نے آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں اردو ذریعہ تعلیم کاحکم یہ کہہ کر دیا کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے طلباء ترجموں میں الجھےرہتے ہیں۔اس لئے علم کے ابلاغ کے لئے پرائمری سطح پر تعلیم اردو میں دی جائے گی۔انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا۔ وزیراعلی پنجاب کے اس فیصلے سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔ جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار ائی تھی ۔یہ اس کا اب تک کیا گیا سب سے مقبول فیصلہ تھا لوگوں نے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شئر کیا۔اس پر تبصرے کئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو ذریعہ تعلیم کرنے کا یہ فیصلہ صرف پرائمری تعلیم تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر ثانوی سطح اور اعلی تعلیم تک بھی لے جایا جائے ۔ابھی لوگ اس فیصلے کو خوش امدید ہی کہہ ہی رہے تھے اس سلسلے میں اج کا روزنامہ جنگ کا اداریہ نے بھی موجودہ حکومت کے اردو ذریعہ تعلیم کرنے پر شاندار اداریہ تحریر کیا’ کہ انگریزی میڈیم اور اشرافیہ کے مفاد کے ” محافظ” وزیرتعلیم پنجاب جناب مراد راس نے آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ
    "اردو میڈیم کا اطلاق صرف سرکاری اداروں پر ہوگا۔”
    سوال یہ ہے کہ کیا وزیرتعلیم صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کے وزیر تعلیم ہیں؟ کہ ان کی پالیسی کی ذد میں صرف سرکاری ادارے ائیں گے؟ نجی انگریزی میڈیم ادارے اس حکم سے مستثنی ہونگے؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ نفاذ اردو فیصلہ دستور کا تقاضا اور سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ کیا ائین پاکستان کا نفاذ ریاست کے کسی خاص گروہ پر ہوگا؟ اور باقی ” منتخب گروہ” کو ائین سے اسثثنی حاصل ہوگا؟
    کیا ائین پاکستان تمام شہریوں کو تعلیم اور صحت کے مساوی حقوق نہیں دیتا؟
    تیسری بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا نعرہ "یکساں نصاب تعلیم ‘ یکساں نظام تعلیم” تھا۔ کیا وزیرتعلیم مراد راس کا مذکورہ اقدام خود تحریک انصاف کی پالیسی سے انحراف نہیں ہے؟
    سب سے بڑی بات نفاز اُردو کا حکم اس ملک کی سب سے اعلی عدالت دے چکی ہے اب اس حکم کی خلاف ورزی کرنا توہین عدالت ہے۔ اس فیصلے کو دینے والے محسن اردو سابق ایچی سونین چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سب سے پہلے نفاذ اردو فیصلے کو اپنی ذات پر لاگو کیا اس نے لاہور میں ایک سکول قائم کرکے اپنی ال اولاد کو مہنگے انگریزی میڈیم’ سکول سے اٹھا کر اپنے قائم کردہ سکول میں داخل کیا جہاں تعلیم سماجی مساوات کا عملی مظاہرہ ہے
    جہاں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کررہا ہے۔۔
    وزیرتعلیم ماشاءاللہ بے حد تعلیم یافتہ اور بیرون ممالک کے ڈگری یافتہ ہے ان سے سوال ہے کہ وہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر بتائیں کہ اور کتنے ممالک میں پرائمری تعلیم غیرملکی زبان میں دئیے جانے کا تماشا ہورہا ہے؟ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیں کے کیا کسی ملک میں سر کاری اور نجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعہ تعلیم میں بھی فرق ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کے بائس کڑوڑ عوام کو اپ تعلیم کے نام پر احمق کیوں بنا رہے ہیں؟
    اپ اس ملک کے عوام پر رحم کریں!
    جن .1 فی صد انگریز اشرافیہ نے اج اپ کو ہنگامی پریس کانفرنس کے لئے مجبور کیا ہے ان کو بالکل ائین پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں بالکل ” کورا اور سچا ” جواب دیں کہ ” میں نفاذ اردو فیصلے کے لئے عدالت عظمیٰ کے حکم کا پابند ہوں ‘ تمہارے مفادات کا نہیں۔ تم نے اپنے انگریزی میڈیم ادارے کھولنے ہے تو ان ممالک میں کھولو جہاں کی زبان انگریزی ہے ۔یہ پاکستان ہے یہاں کی زبان اردو ہے لہذا دنیا کے اصولوں کے مطابق یہاں کی عدالت ‘ سرکار ‘ تعلیم کی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی’ اگر اپ نے اپنے سکول قائم کھنے ہیں تو اس اصول پر اپ کو بھی عمل کرنا ہوگا”
    پاکستان میں بہتر سال سے انگریزی جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے
    سرکار ی زبان انگریزی
    عدالت کی زبان انگریزی
    تعلیمی زبان انگریزی
    عسکری اور مقابلے کے امتحان کی زبان انگریزی
    تمام ملازمتوں کے حصول کے لئے انٹرویو کی زبان انگریزی
    اتنی انگریزی مسلط ہونے کے باوجود پاکستان نے علم سائنس ‘ اور ٹیکنالوجی میں کتنی ترقی کی ہے؟ اور جن ممالک نے پاکستان کے ساتھ یا بعد میں جنم لیا وہ اپنی زبان میں تعلیم کے بل بوطے پر کہاں جا پہنچے؟ چین اور کوریا اس میں سر فہرست ہیں۔
    اعلی انگریزی میڈیم ادارے کا پیدا کردہ ایک سائنس دان یا انگریزی کا نوبل پرائز کا حامل ایک ادیب ہی بتادیں۔
    ڈاکٹر عبدا لقدیر’ ڈاکٹر عبد السلام ‘ ڈاکٹر قمر الزماں سب اردو میڈیم ٹاٹ سکول کی پیداوار ہیں۔ اور اگر ان کا زریعہ تعلیم بھی میٹرک کی سطح تک انگریزی ہوتا تو یہ بھی کسی ادارے میں زیادہ سے ” بابو ” کی نو کری کر رہے ہوتے ۔پاکستان کبھی بھی ایک جوہری طاقت نہ بنتا۔ ان کی بنیاد اردو زریعہ تعلیم تھی۔
    انگریزی کو بنیادی زریعہ تعلیم بنانے والوں نے اس ملک کو گونگی ‘بہری ‘ رٹاباز ‘ ٹیوشن مافیا’ ںوٹی مافیا’ اقدار و اخلاق سے عاری ‘ دونمبر ‘ نمود و نمائش ‘ بدعنوانی اور جعلسازی سے بھرپور قوم بنایا ہے ۔
    وزیراعظم صاحب! اپ سے درخواست ہے کہ اپ وزیر تعلیم پنجاب کی اج نفاذ اردو فیصلے سے انحراف کی پریس کانفرنس کی جواب طلبی کریں۔ کیونکہ پاکستانی عوام اپ سے اپ کی اردو کی محبت سے واقف ہے اپ نے اپنی خود نوشت میں خود انگریزی غلامی بیزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔
    آپ کا فرمان ہے’
    ” پاکستانیوں سے انگریزی میں بات کرنا بائیس کڑوڑ عوام کی توہین ہے”
    اور ہم اس میں اضافہ کرتے ہیں کہ
    پاکستان میں انگریزی کا ناجائز جبر برقرار رکھنے کی بات کرنا دراصل:
    توہین فرمان قائد اعظم ہے
    توہین آئین ہے
    توہین عدالت ہے
    توہین عوام
    توہین وقار پاکستان ہے!
    وزیراعظم صاحب! لوگوں کی نفاز اُردو کے لئے اپ سے بہت زیادہ امید یں وابستہ ہیں ۔براہ کرم ! انہیں مایوس نہ کیجئے!
    براہ کرم! انگریزی کےناجائز تسلط اور غلامی کے خاتمے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے!

  • ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ملاحظہ کیجئے
    پاکستان کے سب سے
    پہلے نظریاتی اخبار "نوائے وقت” میں انگریزی غلامی میں لتھڑی ہوئی یہ تحریر! ” اس قوم پر رحم کریں”
    فاضل کالم نگار اکرم چوہدری یا تو انتہائی جاہل مطلق ہے’ جنہیں نہ نفسیات کا علم ہے ‘ نہ اقوام متحدہ کے منشور کا علم ہے جو چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری اور رابطے کی زبان میں دو۔ پرائمری تعلیم کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو اپنی مقامی آبادی سے رابطے کے قابل بنانا ہے بعد میں جس کے ارتقاء میں وہ پورے ملک اور پوری دنیا سے رابطہ کرنے کی اہلیت حاصل کرسکتا ہے ۔
    خود موصوف کالم نگار کے دوغلے پن اور غلامانہ روئیے کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ وہ انگریزی کے حق اور اردو کے خلاف اپنے دلی جذبات کا ظہار خود اردو میں کررہے ہیں۔ یا تو وہ انگریزی کا مقدمہ انگریزی میں لڑنے کی اہلیت سے محروم ہیں یا پھر انہیں پتا ہے کہ ” سودا پاکستان میں صرف اردو ہی میں بکتا ہے”
    حیرت ہے کہ موصوف نہ تو سائنسدان ہیں ‘ نہ ماہر تعلیم ہیں’ نہ ہی فطرت اور تعلیمی نفسیات سے واقف ہیں لیکن انگریزی زریعہ تعلیم کء حق میں سر کھپائی یوں کر رہے ہیں۔ جیسے علم و دانش کا سمندر ہو!
    معزز کالم نگار ! اپ پرائمری تعلیم کو انگریزی میں کرنے کا یہ مشورہ چین ‘ فرانس ‘ ایران’ ترکی’ کوریا’ جرمنی کے سر براہوں کو بھی بھیجیں ۔ اور وہاں سے جو جواب موصول ہو اس سے قوم کو بھی اگاہ کریں ۔
    قوم کو بہتر سال سے پاکستان میں انگریزی دن رات مسلط ہے
    مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان’ عدالت کی زبان ‘ سرکار کی زبان ‘ زریعہ تعلیم سب ” بین الاقوامی” زبان میں!
    یہ بتائیے کہ پاکستان نے اج تک کتنی ترقی کی ہے؟
    ویسے افسوس تونوائے وقت پر ہے جس نے مجید نظامی مرحوم کے انکھیں بند کرتے ہی ان کے نظرئیے سے نوے ڈگری کا انحراف کرلیا۔ کاش مجید نظامی مرحوم اپنا جانشین اپنی ہی طرح کا کسی نظریاتی پاکستانی کو بنا کر جاتے ! اے کاش !
    اے کاش!
    لارڈ میکالے کے اصلی اور کھرے غلاموں! تم اس قوم پر رحم کرو!
    انگریزی کی مالا جپنے کے لئے تم پاکستان سے نکل جاؤ! وہاں جاکر اس کی رطب اللسانی اور اہمیت کے گن گاو جن ملکوں کی یہ زبان ہے!
    انگریزی کی غلامی کا پرچار کرنا توہین عدالت
    توہین ائین
    توہین پاکستان
    توہین عوام ہے!

  • ڈیرہ اسماعیل خان، وائس چانسلرزکی مدت ملازمت میں توسیع ایکٹ2012 کے منافی ہے، ڈاکٹر سرتاج عالم

    ڈیرہ اسماعیل خان، وائس چانسلرزکی مدت ملازمت میں توسیع ایکٹ2012 کے منافی ہے، ڈاکٹر سرتاج عالم

    ڈیرہ اسماعیل خان، وائس چانسلرزکی مدت ملازمت میں توسیع ایکٹ2012 کے منافی ہے، ڈاکٹر سرتاج عالم

    ڈیرہ اسماعیل خان ۔ 30 جولائی ( اے پی پی )وائس چانسلرزکی مدت ملازمت میں توسیع ایکٹ2012 کے منافی ہے، فپواسا راست اقدام کرنے پر مجبور ہوگی، کرپٹ مافیا کو مزید توسیع دینا اداروں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے، قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر سرتاج عالم صدر فیڈریشن آف آل پاکستان ایکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے پی چیپٹر نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی،اور ایبٹ آباد یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلرز کیونکہ اعلیٰ حکام کے من پسند ہیں اس لئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی آسامی کو مشتہر نہیں کیا گیا ہے اور دوسری طرف سابقہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈاکٹر سرور، جن پر کرپن کے الزامات ہیں اور گورنر سپشل انکوائری کمیٹی کی سفارشات میں ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، ان کو مزید توسیع دینا اداروں کے ساتھ مزاق ہو گا اور ایکٹ 2012 کی صریحاً خلاف ورزی ہو گی، فپواسا ان اقدامات کی بھرپور مزاحمت کریگی اور ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔