Baaghi TV

Author: +9251

  • بستی ملوک: پولیس مقابلہ یا کچھ اور

    بستی ملوک (نمائندہ باغی ٹی وی) تھانہ بستی ملوک کے علاقہ کالی پل کے قریب نامعلوم افراد کی طرف سے پولیس پارٹی پر فائرنگ۔

    تفصیلات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں زیر حراست ملزم طارق ولد محمد صادق ہلاک ہو گیا ملزم کو گزشتہ شب ہونے والی دوران ڈکیتی قتل کی واردات میں ملوث ہمراہی ملزم محمد خاور کی گرفتاری کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ کالی پل کے قریب 3 نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے اپنے ساتھی طارق کو چھڑوانے کی غرض سے پولیس پر فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ سے زیر حراست ملزم زخمی ہو گیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔حملہ آور ملزمان رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔علاقہ کی ناکہ بندی کروا دی گئی ہے اور فرار ہونے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے کر ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ فرار ہونے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

  • عراق میں ایرانی ‘القدس’ ملیشیا کے مالیاتی نیٹ ورک میں تبدیلیاں

    عراق میں ایرانی ‘القدس’ ملیشیا کے مالیاتی نیٹ ورک میں تبدیلیاں

    ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں کی ذمہ دار’فیلق القدس’ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے عراق میں تنظیم کے مالیاتی نیٹ ورک غیرمعمولی تبدیلیاں شروع کی ہیں۔ یہ تبدیلیاں مالیاتی نیٹ ورک کے علاوہ ‘مقامات مقدسہ کی تعمیر ومرمت’ کی ذمہ دار کمیٹی کی قیادت میں بھی کی گئی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق جنرل قاسم کی طرف سے ‘فیلق القدس’میں کی جانے والی تبدیلیوں کا مقصد عراق میں ایرانی اثرو نفوذ میں اضافہ کرنا ہے۔ ایران ‘فیلق القدس’ کو امریکا کی طرف سے عاید کی جانے والی پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لیے استعمال کررہاہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کی ماتحت ‘فارس’ نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے دو سینیر پاسداران انقلاب افسران کو’فیلق القدس’ میں تعینات کیا۔ دونوں کا تعلق جنوبی ایران کے ضلع کرمان سے ہے۔

    نئی تبدیلیوں کے ضمن میں کرمان کے سابق میئر محمد جلال مآب کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ انہیں عراق میں مقامات مقدسہ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار کمیٹی کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کے سابق ڈائریکٹرحسن بُلارک کو عراق میں تنظیم کے مالیاتی نیٹ ورک میں معاون خصوصی اور مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

  • ٹھٹھہ: بس تیز رفتاری کے باعث کھائی میں جا گری، 4 افراد جاں بحق

    ٹھٹھہ: بس تیز رفتاری کے باعث کھائی میں جا گری، 4 افراد جاں بحق

    ٹھٹھہ: بس تیز رفتاری کے باعث کھائی میں جا گری، 4 افراد جاں بحق ہو گئے.

    تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ کے قریب بس تیز رفتاری کے باعث کھائی میں گرگئی، حادثے میں 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔
    ٹھٹھہ کے قریب کراچی سے کینجھر جھیل جانے والی بس تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوکر کھائی میں گر گئی، حادثے کے بعد امدادی ٹیم موقع پر پہنچ گئی، لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، مرنے والے میں خاتون اور 3 بچے شامل ہیں۔

  • گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی ریفرینڈم 2020  کی حمایت کا اعلان کر دیا

    گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی ریفرینڈم 2020 کی حمایت کا اعلان کر دیا

    گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی ریفرینڈم 2020 کی حمایت کا اعلان کر دیا. چوہدری سرور سکھوں کے خالصتان میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی ریفرینڈم 2020 کی حمایت کا اعلان کر دیا. چوہدری سرور سکھوں کی آزاد ریاست خالصتان میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب انہوں نے اپنے آفیشل اکائنٹ سے سکھوں کے ریفرینڈم 2020 کی تصویر شئیر کی.
    https://twitter.com/ChMSarwar/status/1155207783387676677?s=08
    بھارتی پنجاب سمیت سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر کےسکھ قائدین بھارتی قبضے سے خو د کو آزاد کرانے اور خالصتان سکھ سٹیٹ قائم کرنے کے لیے کافی عرصے سے کوشاں ہیں اسی سلسلے میں بھارتی پنجاب کو آزاد کرانے کے حوالے سے مہم زوروشورسے جاری ہے 2020ء میں پنجاب کو آزاد کرانے کے حوالے سے ریفرنڈم ٹونٹی ٹونٹی ہوگا۔

    جس کے لئے اگست میں پوری دنیا میں سکھوں کی ووٹ رجسٹریشن کا سلسلہ شروع ہوگا اور نومبر میں ریفرنڈم ہوگاجس میں بھارت سمیت دنیا بھر میں موجود سکھ برادری اپنا ووٹ کا حق استعمال کرے گ.پنجاب کے لوگ اپناحق خود مختاری استعمال کرکے جمہوری عمل کو مکمل کریں گے۔ ریفرنڈم کے لئے پولنگ شمالی امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، کینیا اور مشرق وسطی کے ممالک اور ہندوستانی پنجاب میں ہو گی۔

  • حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اقوام متحدہ کی 23 ٹن امدادی گندم کو آگ لگا دی گئی

    حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اقوام متحدہ کی 23 ٹن امدادی گندم کو آگ لگا دی گئی

    یمن میں حوثی ملیشیا نے 8 ٹن گندم کو جلا دیا ہے۔ یہ گندم عالمی خوراک پروگرام کے ذریعے شمالی صوبے ریمہ کے متعدد مستحقین کے واسطے پیش کی گئی تھی۔

    تفصیلات کے مطابق حوثی باغی ملیشیا نے عالمی خوراک پروگرام کو ریمہ صوبے کے بعض علاقوں میں امداد تقسیم کرنے سے روک دیا۔ اس کے نتیجے میں 14.8 میٹرک ٹن گندم خراب ہو کر برباد ہو گئی۔ اس کے علاوہ صوبے میں حوثیوں کے نگراں عناصر نے مذکورہ پروگرام کے ایک گودام پر دھاوا بول کر وہاں موجود امداد کو آگ لگا دی۔

    یمنی ہائی ریلیف کمیٹی نے انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارک لوکک اور یمن میں انسانی امور کی رابطہ کار لیزا گرینڈی سے فوری مداخلت اور ان واقعات کی تحقیقات اور اس کی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کمیٹی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدہ اور ٹھوس مواقف اختیار کر کے امدادی کارروائیوں کے خلاف ایران نواز باغی حوثی ملیشیا کی سنگین خلاف ورزیوں پر روک لگائے۔ اسی طرح کمیٹی نے باور کرایا ہے کہ امداد کو مستحقین تک پہنچانے اور حوثی ملیشیا کے ہاتھوں لُوٹے جانے سے بچانے کو یقینی بنانے کے واسطے اقدامات کیے جائیں۔

    حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں امدادی کام کے خلاف کارستانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی خوراک پروگرام نے دارالحکومت صنعاء میں امداد پیش کیے جانے کا عمل جزوی طور پر معلق کر دیا ہے۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں حوثی ملیشیا پر غذائی امداد چوری کرنے اور اسے مارکیٹ میں فروخت کر دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

  • 14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست یوم آزادیِ پاکستان ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل
    آج کی میری اس تحریر کا مقصد یوم آزادی پر ہماری ذمہ داریاں کی نشان دہی کرنا ہے۔آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جن نے کچھ کھویا ہوتا ہے اس کے لیے یا جن کے پاس یہ نعمت نہی ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کا جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔
    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی جو بیرونِ ملکوں میں مقیم ہیں وہ بھی بہت جوش خروش سے اس دن کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔۔ بلخوص پچھلے سال مجھے دبی میں 14 اگست منانے کا موقع ملا ۔۔ یہ دن وہاں موجود پاکستانیوں کے لیے باعث فخر اور پرمصرت ہوتا ہے ۔۔ اس دن نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک میں بھی لوگ پاکستان جھنڈوں سے گھروں کمروں ، اپنی رہائش گاہوں کو سجاتے ہیں ۔۔ دنیا کو دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پاکستان اس دن آزاد ہوا تھا اور دو قومی نظریہ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا ۔۔پاکستان بنانے کے لیے بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں ، یعنی مسلمانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔14 اگست 1947ء کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا تھا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤوں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔ آزادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔ نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپو شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کی داستاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر ہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے۔ یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں: لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛ اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لا الہ الا اللہ
    یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کی غلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جاسکتی تھی، مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔پاکستان کا قیام شب قدر، جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947ء عمل میں آیا۔ ظہور پاکستان کا یہ عظیم دن جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک اور شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خالق و مالک کائنات کی اس عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے 13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-
    ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو انگنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔دو قومی نظریہ کیا یا اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا انداز بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی اس تقریر سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 8 مارچ 1944 کو علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا کے اجتماع میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا۔ ’’پاکستان اس دن معرض وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا‘‘ اسی طرح 17 نومبر 1945 کو بابائے قوم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
    اب کچھ عرصے سے ان عناصر کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا پاکستان بھارت کو اس لئے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دے کہ اس بھارت نے 1947ء سے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو اپنے پنجہ استبداد میں لے رکھا اور اپنے وطن کشمیر کو آزاد کرانے کی جدوجہد کرنے والے لاکھوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرچکا اور کرتا رہتا ہے۔
    بھارت پاکستان آنیوالے دریائوں پر اپنے زیر تسلط علاقوں میں غیر قانونی بند باندھ کر پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی روش پر قائم ہے جس کا مقصد پاکستان کے سرسبز علاقوں میں پانی کی ترسیل بند کرنا اور اسے ریگستانوں میں تبدیل کرنا ہے۔ تاکہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایتھوپیا ایسے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے یہاں کے لوگ اناج کے ایک ایک دانے کو ترسیں۔دوقومی نظریہ اور پاکستان کے بارے میں جو لوگ غلط باتیں کرتے ہیں انھیں کشمیر کے حالات نظر نہیں آ رہے ۔۔ ِ؟؟ جمعوں کشمیر میں بھارتی کیسے ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ۔۔دو قومی نظریے کی بنیاد غیر منقسم ہندوستان میں سب سے پہلے البیرونی نے اپنی کتاب ”کتاب الہند“میں پیش کی۔ اس نے واضح طور پر لکھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں بلکہ اس نے تو یہاں تک بتایا کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ قوم قرار دیتے ہیں اور ان سے کراہیت کرتے ہیں۔شبہ مسلمان اور ہندو سینکڑوں سال سے رہ رہے تھے مگر جیسا کہ البیرونی کی کتاب ” کتاب الہند ” میں ذکر ہے کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ سمجھتے تھے ۔ مسلمان ایک نیچ قوم کی حیثیت سے ذہنی غلام تھے ۔ یا د رہے کہ یہ وہ مسلمان نہیں تھے جو ایران ، ترک یا عرب سے آئے تھے ان سیدوں ،شیرازیوں ، گیلانیوں ، برلاس ، قریشیوں بخاریوں کو مقام حاصل تھا یہ وہ مسلمان تھے جن کا نسلی تعلق ہندووں ہی کی مختلف برادریوں سے تھا جن میں بگٹی ، مینگل ، بھٹو ، بھٹی ، شیخ ، راو ، رانا ،کھوکھر، سبھی شاامل تھے ۔مگر ان کے قبول اسلام ہی سے وہ ہندو قوم سے جدا ہو کر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے اور ہندووں کی نظر میں نیچ کہلائے ۔برصغیر میں دو قومی نظریہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی تاریخِ اسلام پرانی ہے ۔ پاکستان بنانے کا مقصد بہت عظیم تھا
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان 14 اگست کو نہیں بلکہ پندرہ اگست کو بنا جناب بات یہ کہ اعلان کو ہوا ، اور ہجرت بھی لوگوں نے 14 اگست سے شروع کر دی ، یہ بات نہیں ہے کہ کب پہنچے یا کب انکو منزل پر پہنچے کی مبارک باد دی گئی ۔۔ جب اعلان ہوا کہ پاکستان بن گیا ہے لوگ ہجرت کر کے یہاں آجائیں ۔۔ وقت اوردن تو وہ نوٹ کیا جاتا ہے ۔۔ اور سب سے بڑھ کر شب قدر کی مبارک شب تھی اور 14 اگست کا دن تھا ۔۔
    کچھ لوگ نئی نسل کو کس بحث مباحثے میں ڈال رہے ہیں ؟؟ اس سے کیا حاصل ۔۔ ملک اور آزادی کی قدر غلام ملکوں سے پوچھو ، کشمیریوں سے فلصطینیوں ، اعراقیوں سے پوچھو ۔۔پاکستانیوں آپ کی نگاہ اس طرف کم گئی ہے دنیا کی تاریخ میں اتنی قلیل مدت میں یہ وہ پاکستان ہے جس نے 63 سال کی عمر میں 8 جنگیں لڑیں تقسیم کے وقت1948 کشمیر کی جنگ، 1965 میں ہندستان کی مسلط کردہ جنگ، 1971 میں ہندوستان کی مسلط کردہ جنگ، 1999 میں کارگل کی جنگ، دنیا کی سپر پاور روس سے افغانستان میں جنگ، دنیاکی سب سے بڑی 50 لاکھ مہاجرت کو اپنے ملک میں پناہ دی. موجودہ دوسری سپر پاور امریکہ سے جنگ اس کے باوجود پاکستانیوں پاکستان زندہ بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے. یہ وہ پاکستان ہے جس کے خلاف اسرائیل، انڈیا اور امریکہ نے اتحاد کرلیا ہے لیکن اس وقت تک اللہ کے حکم سے ناکام ہیں یہ وہ پاکستان ہے جس نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے چھ ایف سولہ جہاز گرائے تھے۔14 اگست وہ دن ہے جب ہر ایک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔پا کستان جیسی فوج کسی ملک کے پاس نہی ہے۔پا کستان جیسی عوام کسی ملک کے پاس نہی ہے۔بس چند ایک دشمن ممالک کے ایجنٹ جو پا کستان کے خلاف بکتے ہیں۔کبھی سندھ تحریک شروع کرتے ہیں اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے تو کبھی بلوچستان میں ٹی ٹی پی آ جاتی ہے ۔کبھی انڈیا کلبھوشن لانچ کرتا ہے ۔تو کبھی امریکہ شکیل آفریدی لانچ کرتا ہے۔کبھی خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ایم آ جاتی ہے ۔اس کے نمائندے پاک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔پاک فوج کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں۔دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔جس ملک کی فوج نہی ہوتی وہ کبھی کامیاب ہو ہی نہی سکتا۔ہم سب کو آج پاکستان کی ترقی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اور ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔اگر آزادی کی نعمت کو جاننا اور پہچاننا ہے تو فلسطین کی عوام سے پوچھو ،اگر آزادی کی نعمت کوپہچاننا ہے تو مظلوم کشمیریوں سے پوچھو ،غزہ کی عوام سے پوچھو،برما کی عوام سے پوچھو ۔اس لیے آزادی کی قدر کرو اور اپنے ملک۔کی ترقی کے لیے کوشاں ہو جاؤ۔

  • غزہ پٹی کی سرحد پر اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان جاں بحق

    غزہ پٹی کی سرحد پر اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان جاں بحق

    غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر جھڑپوں کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان جاں بحق ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزارت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 23 سالہ احمد القرا جمعے کے روز خان یونس کے مشرق میں پیٹ میں گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا تھا۔ وہ فلسطینیوں کی جانب سے ہفتہ وار مظاہرے میں شریک تھا جس میں پناہ گزینوں کے لیے حق واپسی اور غزہ پٹی کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

    قابض اسرائیلی فوج کی ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحدی باڑ کے نزدیک 5500 کے قریب مظاہرین اور بلوائی جمع ہو گئے تھے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مظاہرین نے بم اور دھماکا خیز مواد پھینکے اور باڑ کے نزدیک آنے کی کوشش کی۔

    مارچ 2018 کے اواخر میں اسرائیل اور غزہ پٹی کے درمیان سرحدی باڑ پر احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 296 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت نے احتجاجی مظاہروں میں اور دیگر نے اسرائیلی فضائی حملوں یا توپوں کی گولہ باری میں اپنی جان گنوائی۔

  • گجرات میں چیکار ایکسپلور بائیک ریلی کا بابر امتیاز کی قیادت میں والہانہ استقبال

    گجرات میں چیکار ایکسپلور بائیک ریلی کا بابر امتیاز کی قیادت میں والہانہ استقبال

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی) گلائڈرز بائیکرز اور مریدکے ایڈوینچر کلب کی بائیک ریلی چیکار ایکسپور بائیک گجرات جی ٹی ایس چوک گجرات پیالہ پہنچی۔ چیف پیٹرن بابر امتیاز کی قیادت میں جی ٹی بائیکرز کے ممبران نے ریلی کا شاندار استقبال کیا۔ ریلی کے شرکاء پر پھول پتیاں نچھاور کی گئیں اور پھولوں کے ہار بھی پہنائے گے۔ ریلی کو نعروں کی گونج میں پنڈال لایا گیا ریلی کے منتظم قدیر گیلانی اور ان کے ساتھ سینئر بائیکرز کو سٹیج پر جگہ دی گئی جی ٹی بائیکرز کے چیف پیٹرن بابر امتیاز بھی سٹیج پر موجود تھے ریلی کے شرکاء اور میزبان ممبران آپس میں گھل مل گئے اور خوش گپیوں میں مصروف رہے اس موقع پر چیکار ایکسپلور ریلی اور جی ٹی بائیکرز کا کیک کاٹا گیا اور ریلی کے شرکاء کو چائے پیش کی گئی شاندار استقبال پر ریلی کے منتظم قدیر گیلانی نے جی ٹی بائیکرز کا شکریہ ادا کیا۔ ریلی لاہور سے روانہ ہوئی اور آزاد کشمیر کے سیاحتی مقام چیکار پر اختتام پذیر ہوگی۔ ریلی میں شریک ہر موٹر سائیکل پر پاکستانی اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرا رہے تھے۔ رات ہونے کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہو گئی اور بائیکرز سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

  • اپناخون، پسینہ اور سب کچھ پیش کرنے والی لڑکی کے خلاف "انسٹا گرام ” نے کیا کر دیا

    اپناخون، پسینہ اور سب کچھ پیش کرنے والی لڑکی کے خلاف "انسٹا گرام ” نے کیا کر دیا

    انسٹا گرام کی نا انصافی کا یہ عالم کہ صارفین سر عام دھائیاں دینے لگے اور احتجاج کرتے ہوئے اکاونٹ ہی بند کر دیے.

    باغی ٹی وی رپورٹ انسٹا گرام کا نیا ورژن "لائک کاؤنٹ بین” دنیا بھر کے ممالک میں ٹرول کیا جارہا ہے، جن ممالک میں یہ ٹرولنگ جاری ہے ان میں آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، جاپان ، اٹلی ،آئرلینڈ اور برازیل شامل ہیں.

    گرام یوزر صارف خاتون میکائلہ تسستا کہ جس نے اپنا خون پسینہ ، وقت اور سب کچھ انسٹا گرام پر لگا دیا .لیکن اس کی محنت اکارت گئی اور اس کو ریچ نہ مل سکی اس خاتون نے سوشل میڈیا پر خوب احتجاج کیا اور اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ کو بند کرنے کاا علان کر دیا. اس طرح‌ دیگر کئی اور انسٹا گرام صارفین نے ایسی شکایات کی ہیں.

    ان میں بعض نے کئ سالوں اور مہینوں کی محنت کو رائیگاں کیے جانے کا بھر پور شکوہ کیا اور احتجاج بھی کیا جب ان کے کاروبار اور دیگر سوشل ایکٹی وٹی کو انسٹا گرام نے کوڑی کامول نہ دیا اور ہائیڈ کر دیا. انسٹا گرام کی اسی نا انصافی پر بعض انفلوئنسرز نے احتجاجا اپنا اکاؤنٹ بند کر دیا.

  • کرتارپور راہداری منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل

    کرتارپور راہداری منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل

    نارووال:عمران خان کی ذاتی کوششوں سے کرتارپور راہداری منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوگیا، منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، گوردوارہ سے زیرو لائن تک تمام سڑکیں مکمل کی جارہی ہے۔

    کرتارپورکمیٹی سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق شائقین کو کرتارپورکوریڈورتکمیل سے گوردوارہ نیا شہر دیکھنے کو ملے گا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ درشن پوائنٹ زیرو لائن ٹرمینل پرکام تیزی سے جاری ہے، کرتارپور راہداری سڑک پرکارپٹنگ کا کام شروع کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت گوردوارہ سے زیرو لائن تک تمام سڑکیں مکمل کی جا رہی ہے، کوریڈور سڑک پر دریائے راوی کا پل تعمیرکرلیا گیا، یاتریوں کی رہائش، لنگر خانے کا 70 فیصد کام مکمل ہوگیا، گوردوارہ داخل ہونے والی پہلی چیک پوسٹ کی سڑک مکمل ہوگئی۔
    فردوس جمال کو ماہرہ خان پر تنقید مہنگی پڑ گئی، ساتھی اداکاروں کی طرف سے جوابی وار شروع
    یاد رہے کہ رواں ماہ 14 جولائی کو کرتارپور راہداری منصوبے پر پاک بھارت مذاکرات کا دوسرا دور واہگہ بارڈر پر ہوا تھا، مذاکرات کے اس دور میں 13 رکنی پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی سارک اور ساؤتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل نے جبکہ 8 رکنی بھارتی وفد کی نمائندگی جوائنٹ سیکرٹری خارجہ دیپک متل نے کی تھی۔