کویٹہ شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک تفریح مقام جہاں پر دور دور سے لوگ آتے ہیں سیاحت کیلئے یہ جگہ سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے.جہاں پر مختلف پھلوں کے باغات ہیں اور پانی بھی بہت ہے،وادی ہونے کی وجہ سے یہاں پر بارش بھی توقع سے زیادہ ہوتی ہے وادی ہنہ کے مقام سے شمال کی طرف جانے والی سڑک کے اختتام پر ہنہ جھیل واقع ہے، یہ انگریز کے دور میں کویٹہ شہر اور اس کے مضافات میں پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک تفریح مقام ہے. کہا جاتا ہے کہ کہ اس کا تعمیر 1901 میں شروع ہوئی اور 1909 میں تکمیل کے بعد جھیل کی شکل میں وجود میں آیا.
اس کو مقامی لوگ(نار تالاؤ) کہتے ہیں.
اس کیلئے پانی پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کے پانی ایک مخصوص نالے کے ذریعے آتا ہے جس کی وجہ سے آس پاس علاقے کے علاوہ کلی ناصران، کلی الماس، چھاونی، کویٹہ شہر اور کہی جگوں پر پانی کے قلت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، اس پانی کو جھیل تک پہنچانے میں کلی عطا محمد کے قریب بنے ہوے ہیڈ ورکس کے شکل میں بند بنے ہوئے ہیں جو پانی کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے یہ ہیڈ ورکس انگریز دور میں ایک خاص لوہے Dorman. Long& C.L,Middlesbrough,England کا استعمال ہوا ہے.
ہیڈ ورکس سے تقریباً ایک کلومیٹر طویل نہر کے ذریعے ہنہ ندی کے پانی جھیل تک پہنچانے کا اہتمام کیا گیا ہے. یہ 1910 میں تعمیر کیا گیا ہے.
اب صحیح انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی سارا ضائع ہورہا ہے اب حال ہی میں بہت ہی بڑا سیلابی ریلا آیا تھا جس کا پانی نہ ہونے کے برابر جھیل گیا باقی سارا پانی دوسرے نالے میں بہہ گیا جو کسی کام کا نہیں اور اس طرح پانی ضائع ہو رہا ہے، جو کہ علاقے کیلئے بہت نقصان دہ ہے علاقے کے باغات بھی سارے خشک ہوگیے.
تو ہم موجودہ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کیلئے اقدامات کریں اور ان ہیڈ ورکس کو بحال کریں تاکہ علاقے والے اس جھیل سے فائدہ اٹھائیں.
Author: +9251
-
کوئٹہ پانی کی قلت انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی ضائع ہوجاتا۔
-
انتخابات 2018 ء پس منظر سے پیش منظر ۔۔۔ خنیس الرحمان
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں الرباط ویب سائٹ چلایا کرتا تھا. ندیم اعوان بھائی معروف ٹورسٹ ہیں ان کے توسط سے فاروق اعظم بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے گیا تھا وہاں کی یادوں کو میں نے قلمبند کیا ہے تو آپ اس سفر نامے کو اپنی ویب سائٹ پر لگادیں میں نے بخوشی لگانے کی حامی بھر لی اور وقفے وقفے کے ساتھ 7 قسطوں پر مشتمل ان کا سفر نامہ حرمین ویب سائٹ پر لگا دیا. فاروق بھائی کا لکھنے کا انداز اور ضبط تحریر انتہائی شاندار تھا. گزشتہ چند ہفتے قبل انہوں نے فیس بک پر ایک کتاب کی تصویر لگائی انتخابات 2018ء پس منظر سے پیش منظر تک جب میں نے نیچے مصنف کا نام دیکھا تو وہ فاروق بھائی ہی کی تصنیف تھی. میں نے فوری فاروق بھائی سے ایک کتاب بھیجنے کا کہا, تقریباََ تین دن بعد کتاب خوبصورت سرورق میں میرے ہاتھوں میں تھی اور کتاب پہنچنے کی ان کو اطلاع دی ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا. کتاب تو میں نے ایک ہی دن میں پڑھ ڈالی.کتاب کے حوالے سے بات کرنے سے قبل میں فاروق بھائی کے حوالے سے بتاتا چلوں.فاروق اعظم بھائی کا تعلق کراچی سے ہے اور سیاسیات کے طالب علم ہیں, انہوں نے 2014ء میں جامعہ کراچی سے سیاسیات میں بی اے آنر کیا اور 2015 ء میں ایم اے سیاسیات مکمل کیا.اس کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا ممنواتے رہے. فاروق اعظم بھائی آج کل جامعہ کراچی میں شعبہ سیاسیات میں بطور تحقیق کار وابستہ ہیں.
اب چلتے ہیں فاروق بھائی کی تصنیف کی طرف انہوں نے اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے .کتاب کا مقدمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر مشتمل ہے یعنی انہوں نے مختصر مگر جامع انداز میں پاکستان کے 1947 ء سے 2013 ء تک کے انتخابات کے حوالے سے لکھا. انہوں نے کتاب کا پہلا حصہ انتخابات کا پس منظر کے عنوان سے ترتیب دیا ہے اس میں انہوں نے سب سے پہلے انتخابات کا پس منظر کہ کون کون سی جماعت مد مقابل تھی, کونسی نئی جماعت اور چہروں نے انتخابات میں حصہ لیا, جو مذہبی جماعتیں الیکشن کو درست نہیں سمجھتی تھیں ان کا انتخابات میں حصہ لینا اور نمائندگان کو درپیش مسائل اور جو نااہل ہوئے کس بنیاد پر ہوئے ان وجوہات پر روشنی ڈالی اس کے علاوہ جو انتخابات کے دوران خونریزی دھماکے ہوئے اور کون کون سے سیاستدان شکار ہوئے اس حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کیا .جو کتاب کا دوسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے نتائج کے حوالے سے لکھا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج میں کن جماعتوں نے اپنی بہتر کارگردگی دکھائی, کون کون سے بڑے برج الٹے اور کون سے نئے چہرے سامنے آئے, انہوں نے ہر صوبے کے حوالے سے الگ الگ نتائج اور کارگردگی کو سامنے رکھ کر زبردست رپورٹ مرتب کی, اس میں انہوں نے ووٹوں کی تعداد اور جماعتوں کے ووٹ بنک کا خاکہ الیکشن کمیشن اور دیگر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق ترتیب دیا. جو کتاب کا تیسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے حکومت سازی کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح سے کلین سویپ کرنے والی جماعت نے وفاق میں اپنی حکومت قائم کی اور دیگر صوبوں میں کس طرح کن جماعتوں نے اپنی حکومت قائم کی, وزیر اعظم, وزرائے اعلی کے انتخابات کے حوالے سے بتایا اس کے علاوہ ممبران کابینہ وفاق اور صوبائی اسمبلیوں کے نام بمع وزارت لکھے . اس میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ فاروق بھائی نے کتاب پہلے ترتیب دی اس لیے 9 ماہ کے اندر حکومت نے وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں کئی چہروں کو ان کی غیر مناسب کارگردگی کی بنیاد پر ہٹا کر نئے چہرے سامنے لائے کچھ کی وزارت تبدیل کی گئی, اس کے بعد اس حصہ کہ آخر میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر روشنی ڈالی. اب کتاب کا جو چوتھا حصہ ہے اس میں انہوں نے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح کن جماعتوں نے کس لیڈر کو چنا اور اپوزیشن کا صدر کے انتخاب کے لئے نمائندہ منتخب کرنے میں اختلاف کے حوالے سے بتایا اور صدارتی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی اس کے بعد صدر عارف علوی کے خطاب پر روشنی ڈالی اور انہوں نے صدر صاحب کے خطاب سے متعلق کہا کہ اگر اس کا موازنہ وزیراعظم کے خطاب سے کیا جائےتو غلط نہ ہوگا. اس کے علاوہ صدارتی اختیارات کے حوالے سے انہوں نے پرانے صدور اور حال پر نظر ڈالی. جو کتاب کا آخری حصہ ہے اس میں انہوں نے ضمنی انتخابات کو سامنے رکھا.
اس کتاب سے متعلق میں نے کچھ ساتھیوں سے تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے انٹر نیٹ کے دور میں اس کتاب کی ضرورت نہیں تھی میں سمجھتا ہوں جو کچھ فاروق بھائی نے لکھا وہ آسانی سے کسی بھی ویب سائٹ سے نہیں مل سکتا کیونکہ انہوں نے خود انتخابات کے دوران کوریج میں حصہ لیا اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سارا احوال لکھا جو کہ ایک سیاسیات کے طالب علم کا بہت بڑا کارنامہ ہے. میں حکومت اور تعلیمی اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو تاریخ پاکستان کے حوالے سے نصاب میں شامل کیا جائے اور تمام لائبریرین اس کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں کیونکہ نا اس میں کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا نا کوئی انکشافات کیے گئے بلکہ انہوں نے تاریخ پاکستان کی ایک ضرورت کو مکمل کیا۔

-

وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان آمد پر کون کرے گا استقبال اور کیا ہیں تیاریاں؟ اہم خبر
وزیراعظم عمران خان کی دورہ امریکہ سے واپسی پر وفاقی وزیرہوابازی غلام سرورخان ان کا استقبال کریںگے،
امریکی کانگریس نے عمران خان سے متعلق کی ایسی بات کہ پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا
وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان آمد، کل وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے استقبال کے موقع پر فردوس عاشق اعوان،جہانگیرترین،اعظم سواتی و دیگر رہنما بھی موجود ہوں گے، وزیر اعظم عمران خان آج رات پاکستان پہنچ رہے ہیں، ان کا یہ دورہ امریکہ تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے جس میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو ایک نئی جہت ملی ہے،
وزیر اعظم عمران خان کی آمد پر ان کے استقبال کی زبردست تیاریاں کی گئی ہیں، اسلام آباد ایئرپورٹ تک ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی جس میں پی ٹی آئی کے مرکزی عہدیداران سمیت کارکنان کی بڑی تعداد شریک ہو گی، اس سلسلہ میں تمام تیاریاں و انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں،
-

بھارت میں ہجومی تشدد کا خاتمہ کریں ، ایسا نہ کیا تو …پھر، مودی کے نام 49 ممتاز شخصیات کا خط
نئی دہلی:موب لنچنگ یا ہجومی تشدد کے ہر روز رونما ہوتے واقعات کے خلاف ملک کی اہم شخصیات نے آواز بلند کی ہے، بھارت کی ممتاز 49شخصیات نے وزیراعظم مودی کو خط لکھ کر ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگرایسا نہ ہوسکا تو پھر بھارت کے وجود کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں.
وزیر اعظم کو لکھے گئے اس خط میں ہجومی تشدد کے بڑھتے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط لکھنے والے لوگوں میں سنیما، آرٹ، میڈیکل وغیرہ سے جڑی شخصیات شامل ہیں۔ وزیر اعظم مودی کو لکھے خط پر منی رتم ، ادور گوپال کرشنن، رامچندر گوہا، انوراگ کشیپ جیسے دانشوران کے دستخط موجود ہیں۔
مودی کے لکھے گئے اس خط میں لکھا ہے کہ ہمارے آئین کے مطابق ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے جہاں ہر مذہب، طبقہ، صنف اور ذات کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔خط کے ذریعے دانشوران نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کی لنچنگ پر فوری پابندی لگائی جائے۔
خط میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ یکم جنوری 2009 سے لے کر 29 اکتوبر 2018 کے درمیان مذہب کی بنیاد پر 254 جرائم درج کیے گئے، اس دوران 91 لوگوں کو قتل کیا گیا اور 579 افراد زخمی ہوئے۔ خط کے مطابق مسلمان جو ہندوستان کی آبادی کے 14 فیصد ہیں وہ 62 فیصد جرائم کا شکار بنے، جبکہ عیسائی جن کا آبادی میں حصہ محض 2 فیصد ہے وہ 14 فیصد جرائم کا شکار ہوئے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایسے 90 فیصد واقعات مئی 2014 یعنی نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد رونما ہوئے۔
بھارتی ممتاز شخصیات نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنت میں لنچنگ کے واقعات پر تنقید کی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ خط میں مزید لکھا ہے۔ ”ایسا جرم کرنے والوں کے خلاف کیا قدم اٹھایا گیا۔ ہمارا موقف ہے کہ ایسے جرائم کرنے والوں کی ضمانت نہیں ہونی چاہیے اور قصورواروں کو ایسی سزا دی جائے کہ وہ دنیا والوں کے لیے ایک مثال بن جائے۔ جب قتل کے قصورواروں کو بنا پیرول کے عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے تو لنچنگ کے معاملات میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا! ہمارے ملک کے کسی شہری کے دل میں خوف نہیں رہنا چاہیے۔“
-

"جو نہ بولے جے شری رام، بھیج دو اس کو قبرستان” یوٹیوب پر نفرت انگیز ویڈیو وائرل
’ جو نہ بولے جے شری رام، بھیج دو اس کو قبرستان ‘ انتہا پسند ہندووں نے نفرت آمیز گانا یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرکے ہندتوا کا ثبوت پیش کردیا .تفصیلات کے مطابق ’جے شری رام‘ کے نام پر قتل عام کو فروغ دینے والا گانا تیار کر کے یو ٹیوب چینل پربار بار اَپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ حیران کن یہ ہے کہ اس کے خلاف کسی طرح کی کارروائی بھی اب تک نہیں ہوئی ہے۔
معتبر ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دراصل ایک گانا گزشتہ دنوں ریلیز ہوا ہے جس کے بول ہیں ’جو نہ بولے جے شری رام، بھیج دو اس کو قبرستان‘۔ یہ گانا سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اس گانے کو ’ورون بہار آفیشیل‘ نامی یو ٹیوب چینل پر اَپ لوڈ کیا گیا ہے۔ گانا 23 جولائی کو اَپ لوڈ کیا گیا ہے اور اس میں جس طرح کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے کافی ہیں۔
مسلمان رہنماوں نے ہندودہشت گردانہ سوچ کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا ویڈیو ہے جو ’جے شری رام‘ کا نعرہ زبردستی لگوانے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے گا اور موب لنچنگ جیسے واقعات کو بڑھائے گا۔ یہی سبب ہے کہ کئی لوگ اس ویڈیو کو خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ ویڈیو بنانے اور اَپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف اس لیے بھی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کی موب لنچنگ پر ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے نوجوانوں کے خلاف قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس تعلق سے ٹک ٹاک اسٹار محمد رضوان فیضل اور اس کی ٹیم کے خلاف ممبئی پولس میں کیس درج ہوا ہے۔
مسلمان زعما کے مطابق ملک بھر میں ہو رہے موب لنچنگ کے واقعات سے دلت اور اقلیتی طبقہ فکر مند ہے اور لگاتار اس کے خلاف آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں، لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اُن سماج دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو مذہبی تشدد پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ جبراً ’جے شری رام‘ کہلوانے کا تو جیسے چلن ہی عام ہو گیا ہے اور ایسی صورت میں یہ خبر حیران کرنے والی ہے کہ
If a FIR against this hate video makers is not registered by you, I, Tehseen Poonawalla will protest by playing this video outside the residence of hon @PMOIndia shree @narendramodi ji.
Kindly take note .
Cc @HMOIndia @CPDelhi@DCPCentralDelhi @DCP_CCC_Delhi @DelhiPolice pic.twitter.com/g1oYvqqxn2— Tehseen Poonawalla Official 🇮🇳 (@tehseenp) July 24, 2019
ایک ٹوئٹر یوزر نے اس میوزک ویڈیو کا لِنک شیئر کرتے ہوئے لکھا ‘ ہے کہ ’’ہندوستان واحد ایسا ملک ہے جہاں دہشت گرد اپنا میوزک ویڈیو بناتے ہیں اور یو ٹیوب پر چلاتے ہیں۔ اس معاملے میں طالبان اور آئی ایس آئی ایس اس تکنیک تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کے ساتھ ڈیجیٹل دہشت گردی۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ پرشانت صحافت پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے متعلق قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے الزام میں انھیں حال ہی میں یو پی پولس نے گرفتار بھی کیا تھا۔
دوسری طرف بہت سے لوگوں نے گانا بنانے اور یو ٹیوب پر اَپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت اس سوچ کا خاتمہ کرے ورنہ اکھنڈ بھارت نہیں رہے گا.
-

ایک اور خوشخبری، برطانیہ میں کس پاکستانی کو کابینہ میں بڑا عہدہ دے دیا گیا؟ اہم خبر
برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ کی تشکیل شروع کر دی ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد ساجد جاوید برطانوی وزیرخزانہ کےعہدے پر فائز ہو گئے، ساجدجاویدبرطانوی وزیرخزانہ کےعہدےپرفائزپہلےغیرسفیدفام رکن پارلیمنٹ ہیں،
برطانیہ میں وزیرخزانہ کاعہدہ وزیراعظم کےبعد اہم ترین تصور کیا جاتا ہے، ساجدجاویداس سےقبل ٹریزا مےکی حکومت میں وزیر داخلہ تھے، واضح رہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے برطانیہ کے نومنتخب وزیر اعظم بورس جانسن کو مبارکباد بھی پیش کی ہے،
-

عمران خان کی نومنتخب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد
اسلام آباد:وزیراعظم پاکستان عمران خان نے برطانیہ کے نو منتخب وزیراعظم بورس جانس کو منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ آپ کی قیادت میں مزید ترقی کرے گا.
Congratulations Rt. Hon. Boris Johnson MP on your election as Conservative Party Leader & on assuming PM's Office. I am confident that under your leadership not only the UK & its people will prosper but our bilateral relations will also flourish.I look forward to working with you
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) July 24, 2019
عمران خان نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کا رہنما منتخب ہونے اور وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر آپ کو دلی مبارکباد . عمران خان نے کہا کہ مجھے قومی امید ہے کہ آپ کی زیر قیادت برطانیہ اور اسکے عوام ہی ترقی نہیں کریں گے بلکہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کو بھی جلا ملے گی۔ میں آپ کے ساتھ باہم کام کرنے کو تیار ہوں۔ -

نئی دہلی جیل سے رہا چار کشمیریوں کے سری نگر پہنچنے پر رقت آمیز مناظر
بھارت کی ایک عدالت نے گزشتہ 23 سال سے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر قید چار کشمیریوں کو رہا کردیا ہے اور یہ کشمیری آج نئی دہلی سے سری نگر پہنچ گئے ہیں،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس دوران جب وہ اپنے اہل خانہ سے ملے تو رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اوریہ صورتحال دیکھ کر ہر شخص غم کی تصویربنا رہا، نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے مرزا نثار احمد، علی محمد کلے، لطیف احمد وازہ اور اسداللہ آج نئی دہلی سے سری نگر پہنچے، بھارتی ریاست راجستھان کی ایک عدالت نے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا، مذکورہ کشمیریوں کو بھارتی پولیس نے نئی دہلی کے علاقے لاجپت نگر میں مبینہ طور پر ایک بم دھماکے کے بعد گرفتار کیاتھا،

بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی کی ہدایت پر بلال احمد صدیقی، مولوی بشیر احمد، فیروز احمد خان اور سید محمد شفیع پر مشتمل حریت کانفرنس کے ایک وفد نے سری نگر کے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا،
-

عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران بلاول بھٹو بھیس بدل کرچھپتےرہے ، فردوس عاشق اعوان
کراچی: جب وزیراعظم عمران خان امریکہ میں پاکستانیت کی بات کررہے تھے تو اس دوران بلاول بھٹو بھیس بدل کر گھومتے رہے . ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے علیم عادل شیخ کے گھر عیشائیے پر کیا.ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ الیکشن میں ہارنا اتار چڑھاؤ کے عمل کا حصہ ہے۔ مقابلہ سخت ترین تھا ۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی نے حلیم عادل شیخ کے گھر عشائیے میں شرکت کی اور مختلف پی ٹی آئی رہنماوں سے ملاقات کی۔عشائیے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے حلیم عادل شیخ کو سپریم کمانڈر بنایا ہے اور سندھ کو فتح کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے استحصالی ٹولے کے خلاف ہار نہیں مانیں گے۔ کرپشن پر سب کا احتساب ہوگا۔
-

معاشرے سے بدعنوانی کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی مقصد ہےوزیرجنگلات خیبرپختونخوا
معاشرے سے بدعنوانی کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی مقصد ہے،معاشرے سے بدعنوانی کا خاتمہ پاکستان تحرےک انصاف کا بنیادی مقصد ہے اور جنگلی حیات خیبرپختونخوا
پشاور ۔ 24 جولائی (اے پی پی)خیبرپختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات اور جنگلی حیات سید محمد اشتیاق ارمڑ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے، معاشرے سے بدعنوانی کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی مقصد ہے ۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اشتیا ق ارمڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی انقلابی اور تاریخی فیصلوں سے آج اداروں کا نقشہ بدل گیا ہے اور اداروں میں اقدامات اور اصلاحات موجودہ حکومت کا بڑا کارنامہ ہے، صوبہ بھر بشمول ضم شدہ اضلاع کے عوام کو مفت علاج ومعالجے کی فراہمی کے لئے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک مےں ٹےلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، نوجوان نسل کا مستقبل تاریک نہیں ہوگا غرےب اور امیر دونوں کے بچوں کا مستقبل روشن ہوگا ، انہیں یکساں نظام تعلیم کے مواقع میسر ہوں گے اور روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے اور ان کی محرومی ختم ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائد اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ولولہ انگیز قےادت کی بدولت ملک سے بد امنی کا خاتمہ ہو رہا ہے اور عوام کرپٹ اور سازشی عناصر کے خلاف متحد ہےں ، ملک بھر میں تحریک انصاف کی مقبولیت سے مخالفین کی نیندیں حرام ہوئی ہےں ۔