Baaghi TV

Author: +9251

  • مجھے لاہور بہت یاد آتا ہے، اداکارہ شبنم

    مجھے لاہور بہت یاد آتا ہے، اداکارہ شبنم

    بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی اداکار شبنم کو رواں‌برس پاکستان کے لکس ایوارڈزمیں لا ئف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے-

    شبنم پاک وہند کی واحد اداکارہ ہیں جنہوں نے مسلسل 30 برس تک ہیروئن کا کردار ادا کیا.اپنے 40 سالہ فلمی کریئرمیں انہوں نے 200 کے قریب فلموں میں کام کیا اور اس دوران انہیں 13 مرتبہ نگاراور3 مرتبہ نیشنل ایوارڈ بھی ملے.پاکستان میں شبنم اور ندیم کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا تھا ان دونوں نے ایک ساتھ کئی یادگار فلموں میں‌کام کیا جن میں‌ بندش ،دیوانگی اور خوبصورت وغیرہ شامل ہیں-
    لائف ٹائم اچیو منٹ‌ایوارڈ ملنے پر شبنم کا کہنا تھا کہ میں‌بہت خوش ہو کہ مجھے یہ ایوارڈ میری زندگی میں ملا ان کا کہنا تھا کہ جو کام مجھے ملا اور جوکام میں نے کیا اس خوشی کو میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی.ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ ایوارڈ مجھے میری زندگی میں ملا اگرمرنے کے بعد ملتا تو کچھ فا ئدہ نہ ہوتا.

    فلمی کریئر کے عروج پر پاکستان چھوڑجانے کے سوال پر شبنم کا کہنا تھا کہ میرے والد کو اٹیک ہوا تھا اس وجہ سے مجھے پاکستان چھوڑنا پڑا میں خوش قسمت ہوں کہ تین سال مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا.
    شبنم کا پاکستان کے بارے میں مزید کہنا تھا کہ مجھے لاہور بہت یاد آتا ہے لاہور کے لوگ بہت ہیار کرنے والے تھے یہ سب چیزیں مجھے بہت یاد آتی ہیں –

  • رکبر خان کے بچے اب بھی چیخیں مار کر روتے ہیں۔ بھارتی مسلم خاندان کی المناک داستان پر مبنی سپیشل رپورٹ

    رکبر خان کے بچے اب بھی چیخیں مار کر روتے ہیں۔ بھارتی مسلم خاندان کی المناک داستان پر مبنی سپیشل رپورٹ

    میوات سے تعلق رکھنے والے مسلمان رکبر خان جو گائے سمگلنگ کے الزام میں گزشتہ برس الوار کے لالہ ونڈی گاؤں میں شہید کر دیئے گئے تھے، کا خاندان تاحال انصاف کا منتظر ہے۔خان اپنے دوست کے ساتھ دو گائے خرید کر میوات جارہے تھے جب ان کا ایک پرتشددگروپ سے سامنا ہوا۔ ہجوم نے خان کو پکڑ لیا جبکہ اسلم نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

    انتہا پسند ’گاؤ رکشکوں‘ کے ہاتھوں تین اور مسلمان شہید

    گائے سمگلنگ کے الزام میں کولگاؤن گاؤن کے خان کا قتل پہلا نہیں تھا۔ اس سے پہلے پہلو خان کو جے سنگھ پور گاؤں میں اسی الزام کے تحت شہید کر دیا گیا تھا۔
    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 20جولائی 2018کے واقعات ابھی تک آسمینہ کے ذہن میں تازہ ہیں۔ آسمینہ نے کہا کہ میں نے اسے باربار فون کیا لیکن اس کا فون بند کردیا گیاتھا۔اگلے دن گاؤں ک سربراہ کی طرف سے ایک فون میں خان کی شہادت کی اطلاع دی گئی۔
    آسمینہ کے مطابق اسے پولیس میں لے جایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے اسے قتل کیوں کیا؟انہوں نے ایک گائے کے لیے انسانی زندگی کو ختم کر دیا۔ ایک جانور کی زندگی سے تو پیار ہے لیکن انسانی زندگی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔

    آسمینہ نے کہا کہ خان کا واحد جرم مسلمان ہونا تھا۔ ہم گائے سے بچوں کی طرح سلوک کرتے تھے۔ ہماری آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔ ہم گائے کے دودھ فروخت کر کے گزر بسر کر رہے ہیں۔
    اس دن خان نے آسمینہ سے 30000روپیہ لیا اور اسے کہا کہ وہ رامگڑھ سے گائے خریدیں گے۔ خان زیادہ دوھ فروخت کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنا چاہتا تھا اور اپنے بچوں کو اسکول میں بھیجنا چاہتا تھا۔ آسمینہ جانتی تھی کہ وہ اپنی زندگی کے بڑا خواب کو پانے کے لیے کچھ بھی قیمت ادا کر لے گا۔
    ”قاتلوں نے اسے بے رحمی سے قتل کیا، اس کی گردن تین جگہ سے ٹوٹ گئی تھی۔ اب صرف اس کی یادیں رہ گئی ہیں جنہیں میں کوشش کر کے بھی بھلا نہیں سکتی۔ وہ ایک محبت کرنے والے والد اور شوہر تھے۔“ آسمینہ نے کہا۔

    دہلی، جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پرہندو انتہا پسندوں نے کیا امام مسجد پر تشدد
    خان نے آسمینہ اور سات بچے چھوڑے ہیں۔ سب سے بڑی 14سالہ بیٹی ساہیلا اور سب سے چھوٹی 7سالہ مانشیلا اپنی ماں کے ساتھ رہ رہی ہیں جبکہ ان کے بھائی علی گڑھ میں ایک خیراتی مدرسے میں زیرتعلیم ہیں۔
    آسمینہ کے مطابق ان کے بچوں کو اامید ہے کہ وہ کچھ بہتر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ان کو بااختیار بنائے گا اور ان سے زندگی کا حق اس طرح نہیں چھینے گا جیسے ان کے باپ کے ساتھ ہوا۔
    آسمینہ نے کہا کہ بچے والد کی شہادت کے بعد 15دنوں کے اندر اندر علیگڑھ چلے گئے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن مجھے ان کے بہتر مفاد میں فیصلہ کرنا تھا۔ میں کسی طرح کی حمایت کے بغیر ان سب کی دیکھ بھال کیسے کر سکتی تھی؟

    تاہم، اس کے بعد کے دن اسماء اور اس کے بچوں دونوں کے لئے آزمائش تھے۔ ”ہاسٹل وارڈن اکثر کال کرتے تھے کہ میرے بچے چیخیں مار کر روتے تھے۔ جب وہ اپنے والد کو یاد کرتے ہیں تو وہ اپنے آنسو کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ وہ اسے بہت یاد کرتے ہیں۔میرا گھر جہاں ہر وقت خوشیاں ہوتی تھیں اب خالی ہو گیا ہے۔خان کے جانے کے بعد زندگی میں کوئی خوشی نہیں ہے۔وہ اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔یہاں تک کہ محدود وسائل کے ساتھ، انہوں نے تمام وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ لڑکیاں ان کو یاد کر کے اب بھی روتی ہیں۔“ اس نے کہا

    بھارت میں ٹوپی پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان نوجوان پر تشدد
    اس حادثے کے بعد، ہریانہ حکومت اور ہریانہ وقف بورڈ نے خاندان کو 5 لاکھ اور 3 لاکھ کا معاوضہ دیا.
    جب آسمینہ اپنے شوہر کے کھونے کے غم کو کم کر رہی تھی، اس کے ایک سانحہ ہو گیا۔ خاوند کی شہادت کے چار ماہ بعد جب آسمینہ، اس کی بیٹی ساحلہ اور بھانجی سنجیدہ کے ساتھ دیگر فیملی ممبرز کو ملنے علی گڑھ جا رہے تھے کہ ان کی کار کو حادثہ پیش آگیا

    آسمینہ نے کہا، ”میں پہلی بار بچوں سے ملنے جا رہی تھی۔ صبح سویرے ہم کرائے کی کار میں ہائی وے تک پہنچے جب ایک ٹرک نے ان کی کار کو ٹکر مار دی۔ یہ سب چند سیکنڈوں میں ہو گیا۔ مجھے تین دن بعد ہوش آیا تو میں ہسپتال کے بیڈ پر تھی۔“

    سنجیدہ کو کم چوٹیں آئیں جبکہ آسمینہ اور اس کی بیٹی شدید زخمی ہوئیں۔آسمینہ 20دن کے لیے نئی دہلی کے ٹراما سنٹر میں زیر علاج رہیں جبکہ ساحلہ کا میوات کے میڈیکل کالج میں علاج معالجہ ہوا۔
    آسمینہ حادثے کے بعد سے بیڈ ریسٹ پر ہے اور اپنے میکے رہ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کو بھی اس کے دوبارہ چلنے کی امید نہیں ہے۔ آسمینہ کی والدہ کریمن کے مطابق ماں بیٹی کے علاج پر ایک لاکھ روپے کا خرچہ ہوا ہے۔
    تمہیں‌ پاکستان ہونا چاہیے، بھارت میں‌ مسلم نوجوان کے نام بتانے پر ہندوانتہاپسندوں نے گولی مار دی

    والدہ کے مطابق بینک اکاؤنٹ کولگاؤن کے قریب دوہا گاؤں میں ہے۔ آسمینہ کے سسرال والے اس کے رقم نکالنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم نے دو مواقع پر 50000روپے آسمینہ کے علاج معالجہ پر خرچ کیے۔
    آسمینہ نے کہا کہ اسے انصاف ملنے کی بہت تھوڑی امید ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد ایک سال بعد بھی تمام ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا رہا ہے۔تاہم، وہ چاہتی ہے کہ قاتلوں کو سزائے موت دی جائے۔جنہوں نے خان کو قتل کیا ہے اسے سزائے موت یا زندگی قید دی جانی چاہئے۔ حکومت نے ان کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔

    گذشتہ سال، ساحلہ کولگاؤن کے قریب سرکاری اسکول میں کلاس 5 میں زیرتعلیم تھی۔ خان کے بعد ساحلہ نے گھر کی ذمہ داری سنبھال لی اور اسے سکول چھوڑنا پڑا۔ وہ صبح سویرے جاگ کر گائے کو چارہ ڈالتی اور آٹھ بجے سکول چلی جاتی اور سہ پہر تین بجے واپس آتی۔ اب وہ سکول کو یاد کرتی ہے۔
    ساحلہ کے مطابق وہ ہندی، ریاضی اور انگلش کو پسند کرتی تھی۔ ہمیں سکول میں انگلش سکھائی جارہی تھی۔ مجھے انگلش حروف اب بھی یاد ہیں اور کچھ لکھ بھی سکتی ہوں۔

    ”اگر مجھے موقع ملا میں دوبارہ سکول جاؤں گی۔پڑھنے کے بعد میں وکیل یا استاد بن سکتی ہوں۔ میں علم کے بغیر کیا کر سکتی ہوں؟“
    گذشتہ سال 21جولائی کو ساحلہ مدرسہ میں تھی جب ایک لڑکے نے اسے والد کی موت کی خبر دی۔ساحلہ نے کہا ”مدرسہ میں مجھے ایک طالب علم نے بتایا کہ میرا باپ قتل ہو چکا ہے۔ میں نے اسے جانے کا کہا کہ یہ درست نہیں ہو سکتا۔ میرا باپ تو کام پر گیا تھا۔“

    ساحلہ نے اپنے باپ کو راجھستان سے کپڑے اور برفی لانے کا کہا تھا۔ ”ا س نے تمام اشیاء لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ کبھی واپس نہیں آیا۔ میں اسے بہت یاد کرتی ہوں“۔ ساحلہ نے کہا

    خان کے ساتھ جانے والے اسلم بچ جانے میں کامیاب ہو گیا لیکن وہ اور اس کا خاندان خوف کی زندگی گزار رہے ہیں
    واقعہ کے عینی شاہد نے بتایا کہ قاتلوں نے اسے دھمکی دی جب میں نے انہیں عدالت میں شناخت کیا۔ اس کے بعد سے وہ گاؤں سے باہر جانے سے اجتناب کرتا ہے

    اسلم نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ”ہم دو کو گائے سمگلر قرار دے کر، انہوں نے خان کو لاٹھی اور رائفلوں کے بٹ سے مارنا شروع کر دیا۔ اسی اثنا میں اسلم کاٹن کے کھیت میں گھس گیا“
    ”میں گھنٹوں وہاں چھپا رہا۔ میں بچ گیا تھا لیکن میں خان کے ساتھ جو ہوا کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ مسلسل معافی مانگتا رہا لیکن ان کا دل نہیں پسیجا۔“
    اسلم نے عدالت میں پانچ لوگوں کو شناخت کر لیا تھا جن میں سے تین زیر حراست ہیں۔

  • علیزے شاہ کا نیا برائیڈل فوٹو شوٹ مکمل

    علیزے شاہ کا نیا برائیڈل فوٹو شوٹ مکمل

    اسلام آباد (اے پی پی) پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ نے نیا برائیڈل فوٹو شوٹ مکمل کرا لیا ہے۔ علیزے شاہ ڈراموں کے بعد کپڑوں کی متعدد برانڈز کے لئے فوٹو شوٹ کروا چکی ہیں جس کے بعد ان کا نیا فوٹو شوٹ برائیڈل ڈیزائنر خدیجہ بتول کے لئے کرایا ہے جس میں انہوں نے گلابی اور مختلف رنگوں پر مشتمل کپڑے پہنے ہوئے ہیں

  • لاہور،ڈیوس روڈ پر عمارت گرنے سے بہاولپور کا مزدورجاں بحق ،

    لاہور،ڈیوس روڈ پر عمارت گرنے سے بہاولپور کا مزدورجاں بحق ،

    لاہور:ڈیوس روڈ پر زیر تعمیرعمارت کی دیوار گرنے سے48 سالہ مزدور جاں بحق ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈیوس روڈ پر افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں پر زیر تعمیرعمارت کی دیوار گرگئی ہے جس کے ملبے تلے دب کر مزدور نور جمال جاں بحق ہوگیا، حادثے کی اطلاع ملنے پر پولیس اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور لاش قبضہ میں لے کر ضروری کارروائی کیلئے مردہ خانے منتقل کردی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیوار گرنے سے جاں بحق ہونے والا محنت کش بہاولپور کا رہاشی تھا ۔یاد رہے کہ حالیہ تیز بارشوں کی وجہ سے پہلے بھی حادثات ہوچکے ہیں. پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیوار گرنے والے مزدور کی لاش ضروری کارروائی کرکے مردہ خانہ منتقل کی جائے گی اور جب ورثا رابطہ کریں گے تو ان کے حوالے کی جائے گی

  • مظفرگڑھ پولیس کو خاکروب پر تشدد کرنا مہنگا پڑگیا

    مظفرگڑھ میں پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف بلدیہ کے خاکروبوں نے احتجاجا تھا نہ خان گڑھ میں کچرے اور گندگی ڈال دی اور احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور بلدیہ ملازمین کے مابین دھکم پیل بھی ہوئی.مظفرگڑھ کے علاقے خانگڑھ میں بلدیہ کے ایک خاکروب پر مبینہ پولیس تشدد کیخلاف خاکروبوں نے تھانے میں احتجاج کیا.خاکروبوں نے کچرے اور گندگی سے بھری ٹرالیاں احتجاجاً تھانہ خانگڑھ کے احاطے میں کھڑی کردیں اور خاکروب پر تشدد کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔اس دوران تھانے میں پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں دھکم پیل بھی ہوئی.تشدد کا شکار بننے والے اہلکار کیساتھ احتجاج کرنے والے بلدیہ خانگڑھ کے خاکروبوں کا کہنا تھا کہ خانگڑھ تھانے کے اے ایس آئی مجاہد نے بااثر افراد کی ایماء پر بلدیہ ملازم عنصر عباس کو نہ صرف غیرقانونی طور پر حراست میں لیا بلکہ بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا.دوسری جانب پولیس ترجمان وسیم خان گوپانگ کیمطابق واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں،اگر کوئی تفتیشی افسر یا اہلکار تشدد میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی.بعدازاں پولیس افسران سے مذاکرات اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاکاروائی کی یقین دہانی کے بعد بلدیہ خان گڑھ کے خاکروبوں نے اپنا احتجاج ختم کردیا۔

  • مہوش حیات کی نئی ورزش وڈیو جاری

    مہوش حیات کی نئی ورزش وڈیو جاری

    اسلام آباد (اے پی پی)پاکستانی ا داکارہ مہوش حیات نے ورزش کی وڈیو شیئر کی ہے۔ مہوش حیات نے ٹوئٹر پر ورزش کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں امی ہمیں غصے میں کہتی تھیں کہ الٹا لٹک دوں گی اوراب ہم نے اس کو بطور ورزش اپنا لیا ہے۔

    exercise video of mehwish hayat

  • سدھارتھ ملہوترا نے ایسا کیا کہا کہ کرینہ کپور خوش ہو گئی

    سدھارتھ ملہوترا نے ایسا کیا کہا کہ کرینہ کپور خوش ہو گئی

    ممبئی: بالی ووڈ اداکار سدھارتھ ملہوترا نے سیف علی خان کو کرینہ کپور جیسی اہلیہ ملنے پر خوش قسمت قرار دے دیا۔

    حال ہی میں اداکار سدھارتھ ملہوترا اور پرینیتی چوپڑا اپنی فلم’’جبریا جوڑی‘‘کی پروموشن کے سلسلے میں ریلئیٹی شو’’ڈانس انڈیا ڈانس ‘‘ میں پہنچے، جہاں انہوں نے بالی ووڈ کے نواب سیف علی خان اور ان کی خوبصورت بیوی کرینہ کپور کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    شو کے دوران سدھارتھ ملہوترا نے بتایا کہ مجھے سیف علی خان بہت پسند ہیں اور میں ان کا مداح ہوں. میں اپنی زندگی میں اکثر کوشش کرتا یوں کہ ان سے کچھ سیکھ سکوں. اس دوران سدھارتھ نے سیف علی خان اور کرینہ کپور کی جوڑی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سیف علی خان بہت خوش نصیب ہیں کہ ان کی شادی کرینہ سے ہوئی ہے۔

    اس بات پر کرینہ نے سدھارتھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی بہت ٹیلینٹڈ ہیں اور مستقبل میں اچھا کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

    واضح رہے کہ بھارت کے نمبر 1 ریلئیٹی شو ’’ڈانس انڈیا ڈانس‘‘سیزن 7 میں رفتار, مارٹس کے ساتھ کرینہ کپور جج ہیں۔ کرینہ کپور پہلی بار کسی ریلئیلٹی شو میں شرکت کر رہی ہیں اور ان کے مداح ان کو جج دیکھ کر بہت خوش ہیں. دوسری جانب سدھارتھ اور پرینیتی کی فلم "جبریا جوڑی” اگلے ماہ 2 اگست کو سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی.

  • ڈاکٹروں کی عید ہوگئی  ،حکومت نے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا

    ڈاکٹروں کی عید ہوگئی ،حکومت نے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا

    لاہور:ہر روز ہڑتالیں‌کرنے والے ڈاکٹرز کا مطالبہ حکومت نے مان کر ان کو مستقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے. کیا یہ ڈاکٹرز اب مریض کے لیے مسیحا بنیں گے یا پھر روایتی ہٹ دھرمی پر رہتے ہوئے آئے روز بائیکاٹ کرکے مریضوں کو تڑپتے ہی رہنے دیں‌گی ، بہر کیف ڈاکٹروں کے لیے اچھی اور خوشی کی خبر یہ ہے کہ حکومت نے4 سال کنٹریکٹ مدت والے ہزاروں ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے4 سال کنٹریکٹ مدت والے ڈاکٹروں کو مستقل کرنے کا فیصلہ کرلیا، محکمہ پرائمری ہیلتھ نے سرکاری ہسپتالوں کو مراسلہ بھی جاری کردیا، مستقل ڈاکٹروں کیلئے تین سال تک دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینا لازمی ہوگا،سپیشل پے پیکج پر کام کرنے والوں کو مستقل نہیں کیا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکستان میں اب یہ کلچر بن کر رہ گیا ہے کہ ڈاکٹرز آئے روز کوئ نہ کوئی ایشو بناکر ہسپتالوں کا بایئکاٹ کرتے ہیں جس سے مریضوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

  • ہریانہ، کتوں نے نوزائیدہ بچی کو  بچالیا

    ہریانہ، کتوں نے نوزائیدہ بچی کو بچالیا

    بھارتی ریاست ہریانہ میں کیتھل ٹاؤن کے قریب ایک خاتون نے ایک نوزائیدہ بچی کو پلاسٹک میں لپیٹ کر ایک نالہ میں پھینکا گیا تھا۔
    کتوں نے اس بچی کو نالہ سے نکالا اور بھونکنا شروع کر دیا۔ پاس گزرتے مسافروں نے پولیس کو اطلاع دی۔
    قریبی سی سی ٹی وی کیمروں نے واقعہ کو ریکارڈ کر لیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق خاتون کو بچی کو پھینکتے ہوئے اور نالہ سے کتوں کو بچی کو نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سول ہسپتال میں بچی کا علاج معالجہ جاری ہے۔ بچی کا وزن تقریباً ایک کلو جبکہ اس کی حالت بھی خطرے میں ہے۔
    پولیس نے نامعلوم خاتون کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

  • یونیورسٹی آف سرگودہا میں بھرتیوں سے متعلق اہم انکشافات

    یونیورسٹی آف سرگودہا میں بھرتیوں سے متعلق اہم انکشافات

    سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)یونیورسٹی آف سرگودہا میں بھرتیوں سے متعلق اہم انکشافات،تفصیلات کے مطابق ہائر ایجوکیشن پنجاب کی انکوائری رپورٹ میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں رپورٹ کے مطابق میٹرک پاس شخص اسسٹنٹ کنٹرولر کی گریڈ 17 کی پوسٹ پر تعینات ہے،جونیئر کلرک اظہار الحق ایڈیشنل رجسٹرار کی پوسٹ پر تعینات ہے جبکہ فیاض الحق،محمد مقصود اور ڈاکٹر بشیر سمیت دیگر کو میرٹ سے ہٹ کر تعینات کیا گیا،یونیورسٹی سینڈیکیٹ سے ان تقرریوں اور پروموشن کو خفیہ رکھا گیا ، وائس چانسلر اشتیاق احمد اور سابق وی سی ریاض الحق نے غیر قانونی بھرتیاں کیں متعدد بھرتیاں ڈاکٹر اشتیاق احمد نے بغیر اشتہار دیے غیر قانونی کیں انکوائری رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی گئی رپورٹ میں وائس چانسلر اور متعلقہ رجسٹراروں کے خلاف کاروائی کرنے کی استدعا