Baaghi TV

Author: +9251

  • سی ڈی اے کا عدم ادائیگی پر کمرشل عمارتوں کیخلاف بڑا فیصلہ، نادہندگان کی ہوئی فہرست بھی جاری

    سی ڈی اے کا عدم ادائیگی پر کمرشل عمارتوں کیخلاف بڑا فیصلہ، نادہندگان کی ہوئی فہرست بھی جاری

    وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) کے شعبہ ریونیو نے واجبات کی عدم ادائیگی پر کمرشل عمارتوں کو سربمہر کر نے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، شعبہ ریو نیو کی جانب سے مختلف سیکٹرز کے 60 نادہندگان کی فہرست جاری کی گئی ہے جن میں سے متعدد کے خلاف بدھ کے روز کاروائی بھی کی گئی ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق سی ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریو نیو کی مد میں کمرشل پراپرٹی مالکان کے خلاف کرو ڑوں روپے کے نادہند گان ہونے کے سبب گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے کاروائیو ں کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں ان جا ئیدادوں کو سیل کر نا شامل ہے جن سیکٹرز میں ان کمرشل پراپرٹیز کو سیل کیا جارہا ہے ان میں سیکٹر آئی نائن کی 8،سیکٹر ایف ایٹ کی 3، سیکٹر آئی ایٹ 8،سیکٹر ایف ٹین کی 3، سیکٹر ایف الیو ن کی 2، سیکٹر جی ٹین کی 3،سیکٹر آئی ٹین کی 24، سیکٹر جی سکس کی 4 اور بلیو ایریاکی 4پراپرٹیز شامل ہیں،

    سی ڈی اے ذرائع کے مطابق مذکورہ فہرستیں پہلی قسط ہیں جبکہ دیگر سیکٹرز کی کمرشل پراپرٹیز کے نادہندگان کی فہرستیں بھی مکمل کی جارہی ہیں اور ان پراپرٹیز کو سیل کرنے سے ممکنہ طور پر اربوں روپے کا ریونیو حا صل ہو گا، سی ڈی اے نے نادہندگان کی پراپرٹیز کو سیل کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے بھی معاونت حا صل کر لی ہے اور سیل کرنے کے دوران متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور تھانے کی پولیس بھی سی ڈی اے ریو نیو سٹاف کے ہمراہ ہو گی۔
    محمد اویس

  • ملتان کے چونسے آم کے بعد اب مینگو پیزہ ،شہری مینگو فیسٹیول دیکھنے پہنچ گئے

    ملتان کے چونسے آم کے بعد اب مینگو پیزہ ،شہری مینگو فیسٹیول دیکھنے پہنچ گئے

    ملتان:آم ہوں ملتان کے تو پھر کوئی کھائے بغیر رہ سکے ایسا نہیں ہو سکتا .لیکن اگر عام سے پیزہ تیار کرکے لوگوں کو کھلایا جائے تو پھر آم کی شہرت تو عام ہو کررہے گی . تاہم پاکستان کے شہر ملتان میں مینگو فیسٹیول کے دوران آم کا پیزا بنا دیا گیا۔

    حکومت پنجاب کی طرف سے ملتان میں ہونے والی مینگو کانفرنس کا آغاز صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال نے کیا۔ اس فیسٹیول میں ملتان کے پچاس سے زائد اقسام کے آم لائے گئے تھے اس نمائش کو دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد دیکھنے پہنچ گئی۔ جہاں نہ صرف دنیا کے مشہور ذائقہ کے حامل آم ہر شہری کی توجہ کا مرکز بنے رہے وہاں عام کی ایک نئی ڈش نے دھوم مچا دی ہے.

    اس فیسٹیول میں زرعی یونیورسٹی کی جانب سے آم سے تیار کردہ اشیاء کی نمائش کی گئی جس کو دیکھنے کے لیے طالعبلموں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے رُخ کیا اس تین روزہ نمائش کی سب سے بڑی خبر یہ تھی یہاں مینگو پیزا بھی رکھا گیا اور اس کی آئس کریم اور مختلف اقسام کی چٹنیاں بھی رکھی گئیں۔ خصوصی طور پر طلبہ آم کے رنگ برنگی قسمیں دیکھ کر کافی محظوظ ہوئے۔ یاد رہے کہ ملتان کے آم دنیا بھر میں مشہور ہیں اور اور اب تو اس موسم میں ملتان کے آموں کی خوشبو دنیا کےکسی بھی کونے میں محسوس کی جاسکتی ہے.

  • ورلڈ کپ کے بڑے مقابلے میں بھارت کی بڑی شکست

    ورلڈ کپ کے بڑے مقابلے میں بھارت کی بڑی شکست

    ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزیلینڈ نے بھارت کو 18 رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی. جان بوجھ کر ہار کر پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے والا بھارت خود بھی ورلڈ کپ کی ریس سے باہر ہو گیا.
    کیویز کی شاندار پرفارمنس نے بھارت کی بیٹنگ کو دو چار کر دیا اور ورلڈ کپ کے پہلے فائنلسٹ بن گئے. ہینری 3 وکٹیں لے کر مین آف دی میچ قرار.

    کیویز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا لیکن اچھا سکور نہ کر سکے.1 رن پر ہی پہلی وکٹ گواہ دی. 47 ویں اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 211 رنز بنائے پھر بارش نے کھیل میں خلل ڈال دیا اور بقیہ میچ اگلے دن تک ڈیلے کر دیا گیا.

    نیوزیلینڈ نے بھارت کو جیت کے لیے 240 رنز کا ہدف دیا. روز ٹیلر نے پریشر میں 74 رنز کی شاندار اننگز کھیلی, کپتان کین ولیئمسن نے 67 رنز بنائے.

    ہدف کے تعاقب میں بھارت کی پہلی وکٹ 4 رنز پر گر گئی. روہت شرمہ 1 سکور بنا کر ہینری کی بال پر آؤٹ ہو گئے. 5 سکور پر 3 وکٹیں گر جانے پر بھارت کے سپورٹر اداس ہو گئے تاہم دھونی اور جدیجہ کی پارٹنر شپ سکور آگے لے گئی. جدیجہ نے 77 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور ٹیم کو امید کی کرن دکھائی لیکن ٹرینٹ بولٹ نے جدیجہ کو بھی آؤٹ کر دیا.

    کیویز نے ورلڈ کپ کی نمبر ون ٹیم کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا. پاکستانی قوم بھی بھارت کے باہر ہونے پر بہت خوش ہے اور مٹھائیوں کی تقسیم جاری ہے.

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے انڈونیشیا کے سفیر کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے انڈونیشیا کے سفیر کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    پاکستانی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے انڈونیشیا کے سفیرنے ملاقات کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کےامور اورعلاقائی سیکیورٹی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا ہے.

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں دفاعی تعلقات اوردفاعی شعبےمیں تعاون بڑھانےسےمتعلق اموربھی زیربحث آئے. اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان انڈونیشیا سے ثقافتی اورتاریخی تعلقات کو قدرکی نگاہ سےدیکھتا ہے،

  • دورہ امریکہ سے متعلق قیاس آرائیاں‌، وزیر اعظم عمران خان نے کس طرح کی حقیقت واضح؟ اہم خبر

    دورہ امریکہ سے متعلق قیاس آرائیاں‌، وزیر اعظم عمران خان نے کس طرح کی حقیقت واضح؟ اہم خبر

    وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے متعلق متضاد خبریں‌ آ رہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس کی تصدیق نہیں‌ کی تاہم وزیر اعظم نے آج کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں‌ امریکا جا رہا ہوں اور وہاں میں‌ پاکستانی سفارتخانے میں رکوں گا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کی طرف سے امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے میں قیام کی بات کرنا دورہ امریکہ کی درحقیقت تصدیق کرنا ہے. آج ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا کے حوالے سے قیاس آرائیوں کے برخلاف حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے حوالہ سے امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان مارگن آرٹاگس نے کہا ہے کہ معلوم نہیں کہ وزیراعظم عمران خان اس ماہ امریکا کا دورہ کررہے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورے کی تصدیق وائٹ ہاؤس سے کی جائے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں وائٹ ہاؤس نے عمران خان کے دورے کی کوئی اطلاع نہیں دی سنا ضرور ہے، عمران خان کے دورے کے متعلق سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا، وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے دورے کی تفصیلات حاصل کریں گے۔
    وزیراعظم پاکستان عمران خان کے 20 جولائی کو امریکہ کا دورہ کرنے کا کہا گیا تھا.

    وزیراعظم کا وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا دورہ امریکا ہو گا . واضح رہے کہ گزشتہ برس جب تحریک انصاف کی حکومت قیام میں آئی تھی اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کو بہت کچھ دیا لیکن اس نے بدلے میں کچھ نہیں دیا.امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرپیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 75 ہزار جانیں قربان کیں اور معیشت کو ایک سو 23 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا جبکہ امریکی امداد صرف 20 ارب ڈالر تھی۔ ستمبر 2001 کے حملے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن پھر بھی پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس جنگ میں ہمارے قبائلی علاقے تباہ ہوئے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ نے پاکستانی عوام کی زندگیوں پر بدترین اثرات مرتب کیے .

  • ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی: وزیراعظم کا تاجروں ،صنعت کاروں سے خطاب

    ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی: وزیراعظم کا تاجروں ،صنعت کاروں سے خطاب

    کراچی:وزیر اعظم کا ایک روزہ دورہ کراچی بڑی اہمیت کا حامل بن گیا ہے اور اس وقت ملک اور بیرون ملک بزنس کمیونٹی وزیراعظم کے دورہ کراچی اور مصروفیات پر نظر رکھے ہوئے ہیں.اپنے دورہ کراچی کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی۔

    عمران خان سے گورنر ہاؤس میں تاجروں اور آٹوموٹوو سیکٹر کے وفد نے ملاقات کی جس میں سراج قاسم تیلی، جنید اسماعیل مکدہ، زبیر موتی والا اوردیگر بھی موجود تھے جب کہ حکومتی ٹیم سے گورنر سندھ عمران اسماعیل، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ سید زبیر حیدر گیلانی، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، مشیر اصلاحات عشرت حسین، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر بحری امور علی زیدی اور وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا بھی موجود تھے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں وفود نے ٹیکس نظام میں اصلاحات، مہنگائی پر کنٹرول، اسمگلنگ کی روک تھام، کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری میں فروغ، روزگار کے مواقع بڑھانے اور محصولات میں اضافہ کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔عمران خان تمام وفود کی تمام تجاویز کو بڑے غور سے سنا اور ان پر مزید مشاورت کرنے کا بھی کہا .وزیراعظم نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے تمام تر مسائل حلے کرے گی

    تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرے آنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ کے مسائل حل کروں، میری پوری معاشی ٹیم یہاں موجود ہے تاکہ مسائل کا فوری حل نکالا جائے، ہماری اولین ترجیح غربت کا خاتمہ اور معاشی عمل کو تیز کرنا ہے جس میں آپ کی مدد چاہیے، کاروباری برادری پارٹنر بن کر حکومت کے ساتھ کام کرے۔

    عمران خان اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے ہیں، وفاقی وزراء علی زیدی، حماد اظہر، فیصل واوڈا سمیت مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔یاد رہے کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا ستون گردانا جاتا ہے اور حکومت اور دیگر ذمہ دار ادارے بھی کراچی میں امن وامان اور کاروباری معاملات کو بہتر کرنے کےلیے مسلسل کوشاں ہیں

  • پورا پاکستان 10 بلین ٹری سونامی کی چھتری تلے متحد ہے، 20 جولائی شجرکاری کا قومی دن ہو گا، ملک امین اسلم

    پورا پاکستان 10 بلین ٹری سونامی کی چھتری تلے متحد ہے، 20 جولائی شجرکاری کا قومی دن ہو گا، ملک امین اسلم

    وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پورا پاکستان 10 بلین ٹری سونامی کی چھتری تلے متحد ہے اور یہ منصوبہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی علامت کے طور پر ابھرا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام صوبے آج ایک پیج پر ہیں کہ آنے والی نصلوں کیلئے مل کر درخت لگائیں۔ جو صوبائی حکومت شجرکاری میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی اس کی مقتدر جماعت کیلئے منفی سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام اس منصوبے کو بہت سنجیدہ لے رہی ہے۔ بلین ٹری سونامی خیبر پختونخواہ کی عالمی سطح پر پہچان بن چکا ہے اور دنیا خیبر پختونخواہ کو بلین ٹری سونامی کے حوالے سے جانتی ہے۔ 20 جولائی کو شجرکاری برائے پاکستان کے نام سے قومی دن کے طور پر منایا جائے گا جس کا با ضابطہ افتتاح وزیر اعظم پاکستان درخت لگا کر کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چوتھے وفاقی فاریسٹری بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی فاریسٹری بورڈ کا اجلاس بروز بدھ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیر مملکت محترمہ زرتاج گل وزیر، وفاقی سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی، چاروں صوبوں کے سیکرٹری جنگلات بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان،پاک فوج، پاکستان ریلوے، محکمہ قومی شاہرات، غیر سرکاری تنظیموں اور عالمی ماحولیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ 10 ارب درختوں کا منصوبہ قومی وحدت کی علامت بن چکا ہے یہی وجہ ہے آج تمام صوبے ایک ایجنڈے پر متفق ہیں اور وفاق کے ساتھ مل کر منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پرجوش ہیں۔ وزیر مملکت محترمہ زرتاج گل وزیر نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوانے جنگلات کی بحالی میں فقیدالمثال کام کیا ہے اور اس اکیلے سے مزید توقعات وابسطہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ دوسرے صوبے بھی آگے بڑھیں اور اپنے حصے کا کام کریں۔ انہوں نے کچھ صوبوں کی طرف سے حالیہ سال کا ٹارگٹ حاصل نہ کر سکنے پر سوال اٹھایا۔

    مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے صوبوں کی جانب سے حالیہ مون سون شجرکاری کا قلیل حدف رکھنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور ہدایات دیں کہ صوبے فوری طور پر اپنے اپنے اہداف پر نظر ثانی کرتے ہوئے جولائی کے اواخر سے 14 اگست تک کا مربوط پلان دیں۔ انہوں نے صوبوں کی جانب سے 10 بلین ٹری پراجیکٹ پر انفرادی طور پر بھی سوالات کیے اور ان پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ بورڈ نے تعلیمی معیار اور انتظامی امور کی خامیوں کی شکایات کی روشنی میں مطالبہ کیا کہ پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کو وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔ صوبہ سندھ اور خیبر پختونخواہ نے اس تجویز کی مخالفت جبکہ باقی تمام وفاقی اکائیوں نے اس کی توثیق کی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ قومی یکجہتی اور وفاق کی علامت ہے اور اس کے وفاق کے زیر انتظام آنے کیلئے یہی دلیل کافی ہے۔ اس معاملہ پر وزارت بین الصوبائی رابطہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    مشیر نے جنگلات کے موجودہ قوانین کی نرمی پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگلات کی کٹائی روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ پوری دنیا میں جنگلات کے حوالے سے قوانین سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے اپنے اپنے قوانین پر نظر ثانی کریں اور سخت سزائیں تجویزکریں۔ ماضی میں جنگلات کو شدید نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہماری حکومت اب ایسا نہیں ہونے دے گی۔ وزیر اعظم پاکستان نے مشکل ترین نامساعد معاشی حالات میں بھی اس منصوبے کیلئے ساڑھے سات ارب روپے مختص کیے جس سے اس منصوبے کی اہمیت اور بھی اجاگر ہو جاتی ہے۔ اجلاس میں سہ ماہی مالی قسطوں کی ادائیگی، گزارہ جنگلات کیلئے زمین کا حصول، شجرکاری میں خواتین کی حصہ داری، خیبر پختونخواہ میں محکمہ سیاحت اور محکمہ جنگلات کے مابین اختلافات، ٹمبر ٹیکس، شہری جنگلات اور بون چیلنج جیسے معاملات زیر بحث آئے۔ مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ہفتہ ایکنک کے اجلاس میں 10 بلین ٹری سونامی پرجیکٹ کا پی۔سی۔ون منظور ہو جائے گا جس کے بعد وہ پریس کانفرنس کے ذریعے اس کے مندرجات عوامی آگاہی کیلئے پیش کریں گے

  • جھوٹے ماڈرن

    جھوٹے ماڈرن

    آجکل ایک وڈیو کلپ بہت وائرل ہوا ہے جس میں ایک ادکار اور اینکر پرسن یاسر حُسین ایک نئی نئی ڈرامہ انڈسٹری سے مشہور اداکارہ اقرا عزیز کو سرٖعام شادی کی آفر کر رہے ہیں وہ نہ صرف آفر کر رہے ہیں بلکہ مسلسل ان کو گالوں پہ ماتھے پر اور سر پر چوم بھی رہے ہیں اور لوگ بجائے اس کے کہ اس بات کا برا منائیں کہ ہمارے کلچر کے حساب سے یہ تو بہت بری بات ہے لیکن یہ لوگ تو خوش ہو ہو کر انکی ویڈیو بنا رہے ہیں
    جو لوگ خوش ہو ہو کر وڈیو بنا رہے تھے کیا وہ اپنے بچوں کو یہ ویڈیو دیکھا سکتے ہیں اور دیکھائیں گے بھی تو کیا کہ کر دیکھائیں گے کہ تم لوگ بھی ایسا ہی کرنا ؟؟
    چلو جز بات میں آپ سے کوئی نازیبا حرکت ہو بھی گئی تو لوگ اس بات کو اتنا دھیان نہیں دیتے اور یہ بھی کہہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں اس بندے سے جذبات میں آ کر یا غیر دانستہ طور پر یہ حرکت ہو گئی خیر ہے مگر یہ صاحب تو باز ہی نہیں آ رہے مسلسل چومے ہی جا رہے ہیں ۔۔۔۔

    مانا کہ کسی کو شادی کی آفر کرنا بری بات نہیں لیکن ہر کام کا ایک طور طریقہ ہوتا ہے ماڈرن ہونا فیشن کرنا لیبرل ہونا
    تب برا ہے جب آپ اپنے کلچر اور روٹس سے باہر نکل جاتے ہیں ہاں اپنے کلچر میں رہ کر ماڈرن ہوں فیشن کریں
    معاشرے کو کلچر کو اپنے ساتھ لے کر چلیں اس میں کوئی حرج نہیں !
    بات یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں ؟؟؟ یہ سب جو ہو رہا ہے کچھ لوگ میری بات سے متفق نہیں ہونگے وہ کہہ رہے ہونگے کہ ویسے بھی تو ہمارے معاشرے میں اس سے زیادہ بہت کچھ ہو ریا ہے اگر ان لوگوں نے ایسے ایک دوسرے کو پروپوز کر دیا تو کون سا ایسا گناہ کر دیا میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ کیا یہ ہمارا کلچر ہے شاید ان پڑھے لوگوں نے یہ بات کہیں نہیں سنی یا پڑھی کہ جوُ قومیں اپنی روٹس اپنا کلچر اپنی رسمیں اپنے رواجوں کو بھلا دیتی ہیں ایک تو نہ وہ ترقی کرتی ہیں دوسرا وہ کہیں کی بھی نہیں رہتیں مطلب آپ نے اپنی پہچان ہی کھو دی تو آپ کے پاس کیا بچا ؟ ہاں ایک مثال تو ضرور سنی ہو گی کہ “کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا”

    تو مہربانی آپ لوگوں کی کے نئی نسلوں کو آدھا کوا اور آدھا ہنس نا بنائیں اور اپنے معاشرے کو جو آپکی پہچان ہے جس سے آپکی پہچان ہے اسکو تباہ برباد نہ کریں
    ہمارے ڈرامے کیوں دنیا میں مشہور اور کیوں پسند کیے جاتے ہیں کیوں کے ہمارے ڈرامے نے کبھی کلچر کا ہاتھ نہیں چھوڑا ہماری فلموں میں بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا رہا ہے قومیں اپنے کلچر کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں اصل میں قومیں اور کلچر ایسے ہی نہیں بن جاتیں صدیاں درکار ہوتی ہیں اپنی قوم اپنی ثقافت اپنی پہچان بنانے کے لیے اور آجکل کے جھوٹے ماڈرن لوگوں کو کون بتائے گا کہ ساری دنیا میں لڑائی ہی ثقافت یعنی کلچر کی ہے ہر قوم کہتی ہے کہ اسکے کلچر کو افضل مانا جائے جب کوئی کسی کے کلچر کو برا بھلا کہتا ہے تو جنگ لگ جاتی ہے مطلب دنیا میں ساری قومیں اپنی ثقافت کو لے کر جنگ کرنے کو تیار ہیں کہ خبردار ہمارے کلچر کو کچھ کہا تو ۔۔۔۔ اور اپنے کلچر یعنی اپنی ثقافت کو بچانے پر ڈٹی ہوئی ہیں
    ایک ہم ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنی ثقافت کا جنازہ نکال رہے ہیں ہم ہماری نسلوں کو خود کنفیوز کر رہے ہیں
    پہلے ہی اس شعبے یعنی شوبز کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اب نیا چاند چڑھ گیا ہے کہ سرعام اپنی ثقافت کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور کوئی روکنے والا نہیں !

    کلچر نے ہی ہر قوم کو ڈائریکشن دی ہے اسکی ترقی کے لئے تو مہربانی فرما کر آپ قابل عزت ہیں نئی نسل آپکو فالو کرتی ہے تو پلیز ایسی کوئی حرکت نہ کریں کہ جس کی وجہ سے ہماری آنے والی نئی نسلیں برباد ہو جائیں اور ہماری ثقافت بھی تباہ ہو جائے

  • خرید وفروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں ہوگی، وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ

    خرید وفروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں ہوگی، وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ

    راچی:پاکستان میں چند دن سے کچھ خبریں گردش کررہی تھیں کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کاروبار کے لیے شناختی کارڈ کی شرط ختم کردے .شناختی کارڈ کی شرط کے ختم کرنے کی افواہیں اس وقت دم توڑ گئیں جب کراچی میں ایک اہم اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے تاجروں سے وفد کیساتھ ملاقات میں واضح کر دیا ہے کہ خرید وفروخت کے لیے شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں ہوگی، بزنس پرانے طریقے سے نہیں چلے گا، مسائل حل کریں گے۔

    کراچی کے دورے پر آئے وزیراعظم عمران خان سے تاجروں کے وفد نے ملاقات کی اور انھیں خرید وفروخت پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے کی تجویز دی۔ تاہم وزیراعظم نے یہ شرط ختم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب کاروبار پرانے طریقے سے نہیں چلے گا۔عمران خان نے کہا کہ خوف کی فضا ختم کرکے کاروبار کی آسانی کے لیے کام کرینگے۔

    وزیر اعظم کے دورہ کراچی کے دروان کراچی کے تاجروں کی مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے .کراچی میں تاجروں کے وفود نے ٹیکس نظام میں اصلاحات، مہنگائی پر کنٹرول، سمگلنگ کی روک تھام، کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع بڑھانے اور محصولات میں اضافہ کیلئے بھی تجاویز پیش کیں۔تاجروں نے برآمدی شعبے پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی۔

    وزیر اعظم عمران خان نے یقین دلایا کہ حکومت تاجروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اب پاکستان کی معیشت پرانے طریقہ کار کے تحت نہیں چلائی جا سکتی۔ ہماری اولین ترجیح غربت کا خاتمہ اور معاشی عمل کو تیز کرنا ہے۔ ان مسائل کے حل کیلئے ہمیں تاجروں کی مدد چاہیے۔ کاروباری برادری پارٹنر بن کر حکومت کے ساتھ کام کرے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے کراچی آنے کا مقصد تاجروں کے مسائل حل کرنا ہے۔ مسائل کا فوری حل نکالنے کیلئے میری معاشی ٹیم موجود ہے۔

  • میانوالی ناقص کارکردگی پر ایس ایچ اوز کے تبادلے

    میانوالی ناقص کارکردگی پر ایس ایچ اوز کے تبادلے

    میانوالی،سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی ) ڈسڑکٹ پولیس آفیسر حسن اسد علوی نے تھانوں کے SHOs کو تبدیل کردیا اور ایڈیشنل SHOs، ڈسٹرکٹ انوسٹی گیشن برانچ میں افسران کے تبادلہ جات کر دیئے ہیں۔
    انسپکٹر شاہد نثار اکبر کو SHO داود خیل سے SHO سٹی
    انسپکٹر ریاض حسین کو SHO عیسی خیل سے SHO موسی خیل
    انسپکٹر جاوید اقبال کو SHO پائی خیل سے SHO چھدرو
    انسپکٹر افتخار احمد کو SHO مکڑوال سے SHO عیسی خیل
    انسپکٹر فیاض احمد کو SHO کمرمشانی سے SHO داود خیل
    سب انسپکٹر امیر احمد خان کو SHO سٹی سے SHO کمرمشانی
    سب انسپکٹر عبدالستار عاطف کو پولیس لائن سے SHO پائی خیل
    انسپکٹر ممتاز حسن کو SHO چھدرو سے انچارج ڈسٹرکٹ انوسٹی گیشن برانچ
    انسپکٹر محمد جاوید کو SHO چاپری سے ڈسٹرکٹ انوسٹی گیشن برانچ
    انسپکٹر محمد ممتاز کو انچارج ریموٹ سرچ پارک چشمہ سے ڈسٹرکٹ انوسٹی گیشن برانچ
    سب انسپکٹر آذر ندیم کو SHO تھانہ موسی خیل سے ڈسٹرکٹ انوسٹی گیشن برانچ
    T/SI ساجد خان کو تھانہ کمرمشانی سے ایڈیشنل ایس ایچ او تھانہ چاپری
    T/SI خلاص خان کو تھانہ سٹی سے ایڈیشنل ایس ایچ او تھانہ مکڑوال تبدیل کردیا گیا ہے.