Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران خان سے ملاقات کرنے والے رہنما نے منحرف ن لیگی اراکین کی اصل تعداد بتا دی

    عمران خان سے ملاقات کرنے والے رہنما نے منحرف ن لیگی اراکین کی اصل تعداد بتا دی

    پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق رہنما یونس انصاری نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پندرہ صوبائی اسمبلی اور پانچ قومی اسمبلی اراکین کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقا ت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق یونس انصاری نے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے انتخابات سے پہلے ہی ن لیگ کو چھوڑ دیا تھا. میں‌ نے جب وزیر اعظم عمران خان سے ملاقا ت کی تو میرے ساتھ پندرہ صوبائی اور پانچ قومی اسمبلی کے ممبران تھے. میں‌ اس سلسلہ میں پچھلے کئی برسوں‌ سے کام کر رہا تھا.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یونس انصاری نے الزام لگایا کہ ن لیگ کے عہدیدار لوگوں‌ کی تذلیل کرتے ہیں، جو لوگ میرے ساتھ گئے تھے وہ ہمارا اثاثہ ہیں میں ابھی ان کا نام نہیں‌ بتا سکتا. میں‌ ان کی عزت کا محافظ ہوں. انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں تحریک انصاف میں شامل ہونے کیلئے استعفی بھی دینا پڑا تو ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں‌اور دوبارہ منتخب ہو جائیں‌ گے.

    یونس انصاری نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں. واضح رہے کہ ن لیگ اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے اور لیگی اراکین اسمبلی وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سےملاقاتیں کر کے تحریک انصاف میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں.

  • ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    مسلمان جب سے ہدایت و جہاد کے راستے سے دور ہوئے تو غلامی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارا تابناک ماضی ہماری پہچان ہے تاریخ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد بہت سے مجاہد سلاطین گزرےجو بہت مشہور ہیں جنہوں نے صلیبیوں کے دانت کھٹے کیے۔ ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نورالدین زنگی، سلطان رکن الدین بیبرس، سلطانِ الپ ارسلان وغیرہ شامل ہیں۔
    میں تاریخ اسلام سے ایک ایسے عظیم مجاہد کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جن کے نام سےبہت کم لوگ واقف ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے لیے جہاد کا راستہ اپنایا اوربہت سی قربانیاں دیں اور اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک روشن دورکا آغاز ہوا۔

    خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس وقت تمام ترک قبیلوں کی صورت میں رہتے تھے۔ یہ تمام قبیلے خانہ بدوش تھے یہ سفر کرتے اور جہاں سر سبز علاقہ دیکھتے وہاں پر آباد ہو جاتے۔ ان میں ایک قائی قبیلہ تھا جو افراد کے لحاظ سے کافی مضبوط اور طاقتور تھا۔
    سلیمان شاہ قائی قبیلہ کے سردار تھے جو سچے مسلمان نڈر اور رحمدل انسان تھے۔
    ان کے مقاصد میں اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا کرنا شامل تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب مسلمان ہر جگہ کمزوری کا شکار تھے۔ منگول ہلاکو خان کی سربراہی میں بڑھتے چلے آ رہے تھے اور خلافت عباسیہ کے بعد سلجوق سلطنت انکی منزل تھی۔ بازنطینی سلطنت کےصلیبی اپنی سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ مسلمانوں کی مضبوط اور طاقتور سلجوک سلطنت اب زوال کے قریب تھی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ سردار سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جو بہت بہادر اور جنگجو تھے۔ سلمان شاہ تمام ترک قبائل کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ مسلمانوں کو صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جا سکے شام کے علاقے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے سلطان ملک العزیز ایوبی کی حکومت تھی جبکہ انا طولیہ میں سلجوق سلطان علاؤالدین کیقباد کی حکومت تھی۔ صلیبی دونوں سلطانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ اس خطے میں مسلمانوں کو کمزور کر کے ان کا خاتمہ کرسکیں۔
    سردار سلیمان شاہ نے ان سازشوں کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ایوبی سلطان قائی قبیلے کے دوست بن گئے۔ اور سلجوق سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان کی سلیمان شاہ کے بیٹے ارتغرل سے شادی ہوگئی۔
    سردار سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغرل قائی قبیلہ کے سردار بنے وہ بہت ذہین اور بہترین جنگجو تھے۔ جہادی سوچ ورثہ میں ملی تھی۔ انہوں نے سردار بننے کے بعد صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کی سازشوں کو ناکام کیا اوران کے مشہور قلعے کارہ چاہسار کوفتح کیا۔
    بہادری شجاعت اور وفاداری کی وجہ سے سلطان علاؤالدین کیقباد نے ارطغرل غازی کو تمام اغوض قبائل کا سردار اعلیٰ اور اناطولیہ کے سرحدی علاقے، جو بازنطین کے قریب تھے، کا نگران بنا دیا۔
    ارطغرل غازی کے ہاں تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان پیدا ہوئے۔ عثمان سب بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ ارطغرل غازی نے ان کی دینی اور جنگی تربیت کی اور وہ بڑے ہو کر والد کے شانہ بشانہ جہاد میں شامل ہوتے رہے۔ارطغرل غازی ایک مقصد کے لیے لڑ رہے تھے انہوں نے منگولوں کے بڑے بڑے سپہ سالار قتل کیے جن میں نویان اور آلنچک مشہور ہیں۔
    سلجوک سلطنت منگولوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی۔ اور ارطغرل نے تمام ترک قبیلوں کو سوگوت میں اکٹھا کیا۔ صلیبیوں سے چھینے گئے علاقوں کوایک ریاست کی شکل دی۔
    اور تعلیم و تربیت کے لیے درسگاہیں تعمیر کی گئیں تاکہ لوگ جدید علوم سے بہرہ ور ہوں اور اس طرح مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
    ارطغرل غازی نےمنگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لیے منگول سلطان برکا خان جو مسلمان ہو چکے تھے اورمصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو آمادہ کیا اور طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ اناطولیہ میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ کے بعد ہلاکو خان مر گیا۔
    غازی ارطغرل صلیبیوں اور منگولوں کو اس علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوگوت اب ایک ریاست بن چکی تھی غازی ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قائی قبیلہ کے سردار بنے اور ریاست سوگوت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ اب ریاست سوگوت کے سلطان کہلائے جاتے تھے۔ 1299ء میں خلافت قائم کی جو خلافت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
    سلطان عثمان غازی اپنے والد غازی ارطغرل کی طرح دلیر اور باصلاحیت مجاہد تھے انہوں نے اس خلافت کو مضبوط کیا۔ غازی ارطغرل کی اولاد سے سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد ثانی جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے حقدار ٹھہرے اور سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہوئے۔
    اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
    سلطنت عثمانیہ پر 1299سے 1922 تک 623 سالوں میں 36 سلاطین نے فرماروائی کی۔ مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ بلاشبہ یہ دور مسلمانوں کی عظمت اور عروج کا دور تھا اس دور میں مسلمان جہاد کرتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال اور عظمت سے لرزاں رہتے تھے۔

    اللہ پاک عظیم مجاہد غازی ارطغرل اور سلطان عثمان غازی پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

  • لودھراں : علاقے میں خوف و ہراس چھا گیا

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) کے نواحی علاقے اڈا شاہنال پر ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے جس میں ڈاکوؤں آتشی اسلحہ سے لیس تھے ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت دو افراد زخمی ہو گئے ہیں ،ڈاکو لاکھوں کی نقدی لوٹ کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے ہیں ذرائع کے مطابق مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ سےعلاقہ میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے ماڈل تھانہ سٹی پولیس بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئی ۔

  • مری پریس کلب کی نومنتخب باڈی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں. صدر ایمرا آصف بٹ، سلیم شیخ

    مری پریس کلب کی نومنتخب باڈی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں. صدر ایمرا آصف بٹ، سلیم شیخ

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ اور سیکرٹری سلیم شیخ و ایمرا باڈی کی جانب سے مری پریس کلب کے نومنتخب صدر سدھیر احمد عباسی اورجنرل سیکرٹری راجہ عرفان ، راجہ عباسی ، سینئر نائب صدر ظفر اقبال رحیم ، نائب صدر خواجہ وامق اقبال ، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری حیدر علی ، جوائنٹ سیکرٹری اظہر منہاس اور سہیل راجپوت کو سیکرٹری مالیات منتخب ہونے دلی مبارک باد پیش کی گئی ہے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر ایمرا محمد آصف بٹ اور ایمرا سیکرٹری سلیم شیخ نے مری پریس کلب کے صدر اور نومنتخب باڈی کے لئے نیک تمناوں اور خواہشات کااظہار کیا .

    انہوں‌ نے کہاکہ نومنتخب صدر سدھیر احمد عباسی اور جنرل سیکرٹری راجہ عرفان صحافیوں کی بقاء اور خدمات کے لئے گراں خدمات سرانجام دیں گے ۔ انہوں نے نومنتخب عہدیداران کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے.

  • قندھار میں طالبان کا خوفناک حملہ، الیکشن کمیشن کے 8 اہلکاروں‌ سمیت 50 سے زائد ہلاک

    قندھار میں طالبان کا خوفناک حملہ، الیکشن کمیشن کے 8 اہلکاروں‌ سمیت 50 سے زائد ہلاک

    افغانستان کے صوبہ قندھار میں‌ طالبان نے ضلعی ہیڈکوارٹر پر خوفناک حملہ کیا ہے جس میں‌ افغان الیکشن کمیشن کے 8 افسروں‌ و اہلکاروں‌ سمیت 50 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق یہ حملہ بارود سے بھری چار گاڑیوں کے ذریعہ کیا گیا ہے. دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ دور دور تک کے علاقے دہل کر رہ گئے. ا س خوفناک حملہ کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی او رکیا ہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر پر کئے جانے والے اس ہولناک حملہ میں‌ 57 اہلکار ہلاک ہو ئے ہیں تاہم افغانستان کی وزارت داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملہ میں‌ آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں.

    رپورٹ‌ کے مطابق طالبان کی طرف سے کیا جانے والا یہ حملہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے تاہم افغان حکومت اسے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے. میڈیا رپورٹس میں‌ کہا گیا ہے کہ جنوبی صوبہ قندھار کے ضلع معروف میں ضلعی ہیڈکوارٹر کی عمارت میں طالبان نے بارود سے بھری چار گاڑیاں داخل کرکے زوردارخودکش بم دھماکے کئے. کہا جارہا ہے کہ دھماکے کے وقت ضلعی ہیڈکوارٹر کی عمارت میں 70 کے قریب اہلکار موجود تھے۔

    بین الاقوامی میڈیا نے بھی طالبان کے اس حملہ کی خبروں‌ کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا اور کہا ہے کہ دھماکوں کے نتیجے میں 34 سے50 افراد ہلاک ہوگئے ہیں‌ جن میں زیادہ تر پولیس افسرشامل ہیں۔ افغانستان کے صوبائی گورنرکے ترجمان عزیزاحمد عزیزی نے کہا ہے کہ یہ حملہ بہت بڑا اورشدید نوعیت کا دھماکہ تھا جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم اْنہوں نے فوری طورپرہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی اور کہا ہے اس واقعہ کہ تحقیقات جاری ہیں۔

    افغان وزارت داخلہ اور قندھار پولیس کے سربراہ جنرل تادین خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افغان الیکشن کمیشن کے آٹھ اہلکار قندھارمیں ووٹروں کی رجسٹریشن کے لئے آئے تھے۔ افغان صدر اشرف غنی نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے. ادھر طالبان کے حملہ کے بعد پورے ضلع میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور جگہ جگہ سرچ آپریشن کیا جارہا ہے. ق

  • کھلاڑیوں‌ اور شائقین پر حملہ، پاکستان نے ایسا قدم اٹھا لیا کہ دشمن قوتوں‌ میں‌ کھلبلی مچ گئی

    کھلاڑیوں‌ اور شائقین پر حملہ، پاکستان نے ایسا قدم اٹھا لیا کہ دشمن قوتوں‌ میں‌ کھلبلی مچ گئی

    حکومت پاکستان نے ورلڈ کپ میں‌ افغانستان کے خلاف میچ کے دوران پاکستان مخالف بینرز لہرانے، پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں‌ پر حملے اور شائقین کے ساتھ لڑائی جھگڑے پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں سے ان واقعات کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستان اور افغانستان کے مابین کرکٹ میچ کے دوران ایک خاص گروہ کی طرف سے پاکستان مخالف بینرز لہرانے پر خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے پروپیگنڈے کیلئے کھیلوں کے میدان استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، ہم نے اس معاملہ کوسفارتی سطح پر اٹھایا ہے ۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین پر حملے اور مخالفانہ بینرز پر پاکستان کو سخت تشویش ہے۔ کھیل کے میدان کو گھناؤنے پراپیگنڈے کے لئے استعمال کو کسی طور برداشت نہیں‌ کیا جاسکتا. ہم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں‌ سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان واقعات میں‌ ملوث شرپسندوں‌ کو قانون کے کٹہرے میں‌ لایا جائے.

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے میچ کے دوران سٹیڈیم کے اندر اور باہر افغان تماشائیوں کی جانب سے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی شائقین پر حملے کئے اور اسی طرح اسٹیڈیم کے اندر بھی کھلاڑیوں‌ پر حملوں‌ کی کوشش کی گئی. اسی طرح‌ میچ کے دوران بھی ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ پر مبنی بینر لہرایا جاتا رہا. یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان کاروائیون‌ کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور این ڈی ایس کا ہاتھ ہے جنہوں‌نے مشترکہ منصوبہ بندی کے تحت یہ صورتحال پیدا کرنے کی سازش کی.

  • چاہتا تو آج بھی گاڑی پر وزارت کا جھنڈا لہرا سکتا تھا، جانیے چوہدری نثار نے ایسا کیوں‌ کہا؟

    چاہتا تو آج بھی گاڑی پر وزارت کا جھنڈا لہرا سکتا تھا، جانیے چوہدری نثار نے ایسا کیوں‌ کہا؟

    سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے کلر سیداں میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدارمیری منزل نہیں ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہو‌ں نے کہاکہ اپنے ضمیراورخمیرکا سودا کرکےعوام کیساتھ بےوفائی نہیں کرسکتا. چاہتا توآج بھی میری گاڑی پر کسی وزارت کا جھنڈا لہراسکتا تھا. آج کے حالات 1970 سے بھی زیادہ بد تر ہیں. 1970 میں دشمن بھارت ہمارےسامنےتھا، آج کا دشمن ہمارے سامنے نہیں.

    انہوں‌ نے کہاکہ ہم اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہیں. سیاستدان حالات کی سنگینی کےادراک کےباوجود کبوترکی طرح آنکھیں بند کیےہوئےہیں. کار ڈرائیور کو پائلٹ کی سیٹ پر بیٹھا نے والے ساری صورتحال کے ذمےدارہیں. بہت سے رازوں سےآگاہ ہوں سچ بولوں گا تو سب کو حیران کردوں‌ گا.

  • قیمتوں‌ میں اضافہ، اپٹما کا سوموار سے 200 سے زائد پروسیسنگ ملز بند کرنے کا اعلان

    قیمتوں‌ میں اضافہ، اپٹما کا سوموار سے 200 سے زائد پروسیسنگ ملز بند کرنے کا اعلان

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے کل سوموار سے 200 سے زائد پروسیسنگ ملز بند کرنے کا اعلان کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق اپٹما نے یہ فیصلہ قیمتوں‌ میں‌ اضافے کی وجہ سے بین الاقوامی خریداروں‌ کی طرف سے اشیاء کے آرڈر کینسل کرنے پر کیا گیا ہے. اپٹما کے عہدیداران نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے قیمتوں میں‌ حالیہ اضافہ کی وجہ سے پروسیسنگ ملز اپنے اخراجات بھی پورے نہیں‌ کر پار ہیں. ملز نے اخراجات میں اضافہ کی وجہ سے سے جب قیمتیں‌بڑھائیں‌ تو بین الاقوامی خریداروں‌نے مال خریدنے سے انکار کر دیا ہے.

    اپٹما کا کہنا تھا کہ کراچی میں تقریبا 200 ملز کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جہاں اراکین نے کہا کہ ان کے خریداروں نے نئی قیمتوں میں‌ خریداری کرنے سے انکار کر دیا ہے. اس طرح، ملزمالکان نے اپنے آپریشنوں کو نئے مالی سال کے پہلے دن سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

    رپورٹ کےمطابق اپٹما کے عہدیدار زاید مظہر نے کہا کہ 31 فیصد تک گیس ٹیرف میں اضافہ عام صنعت کے تابکاری اور خاص طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت میں آخری کیل تھا. انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے سے ہی مینوفیکچررز کے ناقابل برداشت اخراجات کا سامنا کر رہا تھا ، جو علاقائی حریفوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا.

  • مریم نواز کا ن لیگی اراکین اسمبلی کی عمران خان سے ملاقا ت پر شدید ردعمل

    مریم نواز کا ن لیگی اراکین اسمبلی کی عمران خان سے ملاقا ت پر شدید ردعمل

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان سے ن لیگی اراکین اسمبلی کی ملاقات کو حکومتی ذمہ داران میں‌پائی جانے والی مایوسی قرار دیا اور کہا ہے کہ اس طرح کی بے تکی باتیں جعلی حکومت کے کیمپ میں پائی جانے والی مایوسی اور ہیجان کو ظاہر کرتی ہے۔


    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق مریم نواز نے سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے کہ جعلی اعظم اور اسکی جعلی حکومت خوفزدہ ہیں اور خوف اور گھبراہٹ میں وہ انتقامی کاروائیوں میں تیزی لانے کی بیوقوفانہ مگر ناکام کوششش کر رہے ہیں۔آپ نے نا گبھرانا ہے نا ڈرنا ہے ۔یہ حرکتیں انکے اپنے زوال کا باعث ہوں گی انشاءاللہ ! شیرو ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے.

    رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے کہاکہ تحریک انصآف حکومت اپنی ناکامیوں‌ کو چھپانے میں کامیاب نہیں‌ ہو سکتی.

  • کشمیری اداکارہ زائرہ وسیم کے بالی وڈ چھوڑنے کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں، عمر عبداللہ، شاہ فیصل

    کشمیری اداکارہ زائرہ وسیم کے بالی وڈ چھوڑنے کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں، عمر عبداللہ، شاہ فیصل

    مقبوضہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ اور جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے صدر شاہ فیصل نے کہا کہ ہمیں کشمیری اداکارہ زائرہ وسیم کی طرف سے فلم انڈسٹری چھوڑنے کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے زائرہ وسیم کے فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹ کی اور کہا ہے کہ ہم کون ہوتے ہیں زائرہ وسیم کے فیصلے پر سوال اٹھانے والے؟ ان کی اپنی زندگی ہے، انہیں جو اچھا لگا انہوں نے وہی کیا۔ میں زائرہ وسیم کے لئے دعاگو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ مستقبل میں جو بھی کام کریں گی وہ اس سے خوش ہوں گی۔

    رپورٹ کے مطابق پیپلز موومنٹ کے صدر اور سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھاہے کہ میں نے ہمیشہ زائرہ وسیم کے اداکارہ ہونے کے فیصلے کا احترام کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اتنی کم عمر میں کسی دوسرے کشمیری نے اتنی کامیابی اور شہرت حاصل نہیں کی تھی۔ آج جب اس نے بالی ووڈ کو الوداع کہا، اس فیصلے کا احترام کرنے کے سوا میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ خوب ترقی کریں۔

    زکشمیواضح رہے کہ اٹھارہ سالہ زائرہ وسیم جنہوں نے اپنے مختصر فلمی کیریئر کے دوران تین بالی وڈ فلموں دنگل، سیکرٹ سوپر سٹار اور دی سکائی از پنک میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، نے بالی وڈ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔