Baaghi TV

Author: +9251

  • انگلینڈ کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    انگلینڈ کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    ورلڈ کپ کے 38 ویں میچ میں انگلینڈ نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے. کپتان ایون مورگن کہتے ہیں کہ اچھا ہدف دینے کی کوشش کریں گے.

    ٹیم بھارت کے کپتان کوہلی نے کہا کہ اگر ہم بھی ٹاس جیتتے تو بیٹنگ ہی کرتے. ٹیم بھارت کی جانب سے پلیئنگ الیون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی. چیکھر دھون ابھی بھی ان فٹ ہیں اور کھیل نہیں سکتے

    واضح رہے کہ ٹیم بھارت 11 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور ٹیم انگلینڈ 8 پوائنٹس کے ساتھ 5 ویں نمبر پر ہے. اگر آج انگلینڈ کو فتح ملتی ہے تو پاکستان کے لیے سیمی فائنل کی رسائی مشکل ہو جائے گی. پوری قوم بھارت کی فتح کے لیے دعا گوہ ہے.

  • خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کے خلاف پریس کانفرنس

    خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کے خلاف پریس کانفرنس

    خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کے متاثرہ طلبہ اور ان کے والدین بھی جرات کر کے یونیورسٹی انتظامیہ کے کی دھونس اور لوٹ مار کے خلاف میدان عمل میں آ گئے.
    پیپریکا (Peprika) ہوٹل خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیخلاف پریس کانفرنس ۔
    والدین نے موقف اختیار کیا کہ یونیورسٹی طلبا و طالبات سے ذبردستی 6500روپے انٹرنیٹ اور ٹرانسپورٹ کی مد میں وصول کرتی ہے جبکہ طلبا وطالبات نہ تو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں.اس موقع پر انھوں نے کہا کہ بارہا ہونہورسٹی انتظامیہ کی توجہ اس معاملے کی طرف مبزول کروانے کی کوشش کی ہے لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی. نیز یونیورسٹی انتظامیہ طلبا کے لیے لیبارٹریز میں خاطر خواہ حفاظتی انتظامات پر بھی توجہ نہیں دے رہے جس کے باعث تھوڑا عرصہ پہلے کیمسٹری لیب میں دھماکہ جیسے واقعات ہو رہے ہیں. اور ان واقعات میں طلبا و طالبات زخمی بھی ہوئے. جن ان واقعات کے بارے میں طلبا وطالبات نے میڈیا کو بتایا تو انتظامیہ نے نہ صرف امتحانات میں رزلٹ خراب کرنے کی دھمکیاں دیں بلکہ یونیورسٹی سے نکالنے کا بھی عندیہ دیا. طلبا وطالبات کے والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور طلبا وطالبات کو ان کا حق دلایا جائے.

  • حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    "جیے بھٹو”، "اک واری فیر شیر”، "25 لاکھ علماء کا وارث”، "انتہا درجے کی بوٹ پالشی”، "لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان عرف مغالطہ پاکستان پر قرآن و حدیث سے بڑھ کر ایمان” اور "سانہو کی سے تہانو کی” سطحی اور نیچ نعرے وہ گھٹیا افعال اور افکار ہیں جن سے ہماری مجموعی اور عمومی ذہنیت اور دماغی استعداد کار کا انداز کرنا بالکل مشکل اور ناممکن نہیں۔

    ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر منحصر لوگ ہیں جن کا انحصار ہمیشہ دوسروں پر رہا ہے, کبھی ہم میں سے کسی کو یہ خیال نہیں ستاتا کہ میں بھی انسان ہوں اور اللہ نے مجھے بھی دماغ دے کر پیدا کیا ہے سو میں کیونکر مسلسل ایک سوراخ سے بار بار ڈسا جاؤں؟

    ایسی قومیں ترقی نہیں تنزلی کی منزلیں بہت جلد اور تیز رفتار سے طے کرتی ہیں۔

    ہم اتنے پکے پیر مقلد اور مکلف ہیں اپنے بیچ موجود طاقتور افراد اور اداروں کے کہ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں جس کا نہ کوئی سرا ہے نہ ہی حد۔

    خود سے تحقیق اور تفتیش کا نہ ہم میں یارا ہے اور نہ ہی کوئی خاص شوق کہ ہم جان پائیں کہ آخر ہم کن نظریات اور افکار کی پیروی میں تباہی کی طرف گامزن ہیں۔

    ہماری محبتوں کی طرح ہماری نفرتیں بھی سیانی ہیں کہ یہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا فرق ہمارے کہے بنا کرلیتی ہیں۔

    پاکستان کو اللہ نے ہی سنبھالا ہوا ہے ورنہ ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی خود اس کو تباہ کرنے کی۔

    آج ہمیں قرضوں کی دلدل نظر آرہی ہے, ہمارا معاشی دیوالیہ نظرآرہا ہے, ہمارے موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور بیوقوفی یا سیدھے لفظوں میں عوام دشمنی نظر آرہی ہے پر ہمیں پہلے خبر ہونے کے باوجود سابقہ کسی بھی حکمران خواہ وہ جمہوری تھا یا غیر جمہوری کی کوئی برائی بھی برائی نہیں لگی۔

    ہم نے ہمیشہ لاڈلی اولاد کی طرح اپنے اپنے من پسند حکمرانوں کی لوٹ مار اور غلط فیصلوں کی حمایت ہی نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر دفاع بھی کیا اور آج جب بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے تب بھی ہمارے اندر سے ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی محبت جانے کا نام نہیں لے رہی۔

    واللہ آج جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو سمجھ پاتا ہوں کہ جب جب اللہ نے بت پرستی اور شرک کا قلع قمع کرنے کو نبی معبوث کیئے تو انہیں شدید ردعمل اور تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑا اور کیونکر بت پرست امتوں کو بت پرستی گناہ نہیں لگی اور کیونکر وہ بت پرستی سے دستبردار نہیں ہوئے؟

    ہمارے بیچ بھی بت پرستی نے جڑیں بہت گہری کرلی ہیں۔

    ہم نے شخصیات کے بت سجا لیے ہیں, نظریات کے بت سجا لیے ہیں, اداروں کے بت سجا لیے ہیں, افکار کے بت سجا لیے ہیں, ذاتیات کے بت سجا لیے ہیں, آزادی نام کی دیوی کے بت سجا لیے ہیں, بغاوت کے بت سجا لیے ہیں, دولت کے بت سجا لیے ہیں, شہرت کے بت سجا لیے ہیں, علم و عمل اور الفاظ کے بت سجا لیے ہیں, اور تو اور حق اور سچ کے بت بھی سجا لیے ہیں, غرض ہر وہ چیز؟ انسان، واقعہ، جگہ اور نظریہ ہماری بتوں کی لسٹ میں موجود ہے جس سے ہم متاثر ہوسکیں اور جن پر انحصار کرکے ہم زندہ رہنے کا بے ڈھنگا مقصد طے کرسکیں۔

    بت پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ انہیں ایک تو بتوں میں خدا اور ناخدا دونوں نظر آتے اور دوم انہیں کسی صورت اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ بت پرست ہیں۔

    آج ذرا ن لیگ والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پیپلز پارٹی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پی ٹی آئی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جمعیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جماعت اسلامی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فنڈا مینٹلز کا حال ملاحظہ کرلو, لبرلز کا حال ملاحظہ کرلو, ڈیموکریٹکس کا حال ملاحظہ کرلو, سینٹرکس کا حال ملاحظہ کرلو, صحافیوں کا حال ملاحظہ کرلو, ایکٹیوسٹس کا حال ملاحظہ کرلو, بوٹ پالشیوں کا حال ملاحظہ کرلو, فرقہ بازوں کا حال ملاحظہ کرلو, عصبیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, ملحدوں کا حال ملاحظہ کرلو, میں حق سچ کہتا اور لکھتا رہوں گا چاہے میری جان چلی جائے کہنے والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فیمنسٹس کا حال ملاحظہ کرلو اور دانشوروں کا حال ملاحظہ کرلو۔

    کون ہے ان مذکورہ اور وغیرہ وغیرہ میں جو کسی نا کسی بت کا پجاری اور اس بت کے مندر کا پروہت نہیں؟

    اب جب ان میں کوئی اللہ کا بندہ کوئی اللہ کا ولی اٹھ کر احساس دلاتا ہے, ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے یہ بتا کر کہ تمہارا مسئلہ بھوک, مہنگائی اور بیروزگاری مطلب روٹی, کپڑا اور مکان نہیں بلکہ بت پرستی ہے جو تم میں وطن پرستی, شخصیت پرستی, نظریہ پرستی اور انجمن پرستی وغیرہ کی شکل میں موجود ہے تو اسے لٹھ لیکر سب مارنے پر تل جاتے ہیں اور جہاں تک زور چلتا ہے کردار کشی اور گالیوں کے تیرو تفنگ کے ساتھ اس پر ہر وقت حملہ آور رہتے ہیں۔

    یہ جو سب افرا تفری اور تباہی و پریشانی کے ساز بج رہے ہمارے گردو نواح میں انہیں اب برداشت کرو کہ پوجا کا لازمی جزو ہے بے ہنگھم اور سر دردی والی موسیقی۔

    حق اور سچ کا صرف ایک ہی میعار ہوتا ہے اور وہ ہے خالص پن اور مضبوط دلائل, لہذا اپنے ذاتی میعارات سے دستبرداری اختیار کرو اور بت پرستی چھوڑ کر حق کی طرف چلے آؤ۔

    اذانِ حق ہر دور میں دی جاتی رہی ہے خواہ دور کوئی بھی ہو لہذا اپنے اپنے صنم کدے مسمار کرکے حق و سچ کے قبلے کی طرف منہ کرو اور حق و سچ کی پہچان یہی ہے کہ وہ تاثیر میں ٹھنڈے جبکہ ذائقے میں شدید کڑوے ہوتے ہیں۔

    جی ہاں جن جن بتوں کی ہم پوجا کررہے ان کی بدولت ہم بت پرست ہی ہوئے کہ یہ بت بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اور خود کو کسی نقصان سے بچا نہیں سکتے لہذا ان کی پوجا سوائے ہمارے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹنے کہ اور کچھ نہیں کررہی۔

    آئیے سوچنا اور تحقیق کرنا شروع کیجیے اور کڑوے سے کڑوے سچ کا سامنا کرنے کی ہمت کیجیے تاکہ ہم پر نادیدہ بتوں کی پوجا کی بدولت جو نادیدہ و دیدہ عذاب مسلط ہیں ان سے چھٹکارہ مل سکے۔

    سوچیے گا ضرور۔

  • پسنی میں‌3 ماہی گیر ڈوب گئے

    پسنی میں‌3 ماہی گیر ڈوب گئے

    پسنی کے قریب سمندر میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے 3 ماہی گیر ڈوب گئے، ایک ماہی گیر کی لاش نکال لی گئی، جبکہ باقی 2 کی تلاش جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گوادر کےعلاقے پسنی میں ساحل کےقریب سمندر میں ایک ماہی گیر باپ اپنے بیٹے اور بھتیجے کے ہمراہ جال لگا کر مچھلیاں پکڑ رہا تھا کہ سمندر میں اچانک آنے والی بڑی لہر تینوں ماہی گیروں کو بہا کر لے گئی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ماہی گیر باپ کی لاش پسنی کےقریب بدوک سےمل گئی ہے،تاہم باقی 2 کی تلاش جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق سمندر کی صورتحال کے باعث آج کل سمندر میں ماہی گیری پر مقامی طور پر بابندی عائد کی گئی ہے۔

  • نواز اور زرداری کو پیسے لے کر چھوڑنا چاہیے یا نہیں؟ جانیے باغی ٹی وی  پول رپورٹ

    نواز اور زرداری کو پیسے لے کر چھوڑنا چاہیے یا نہیں؟ جانیے باغی ٹی وی پول رپورٹ

    باغی ٹی وی کے اہم پول میں 25 بلین ڈالرز کے عوض نواز شریف اور زرداری کو چھوڑے جانے پر 60 فیصد کا ہاں میں ووٹ اور 40 فیصد کا نہیں میں ووٹ، قارئین کے دلچسپ اور اہم کمنٹس آ گئے. پول کا لنگ درج ذیل ہے

    باغی ٹی وی ویب سائٹ پر 25 بلین ڈالرز کے عوض نواز شریف اور زرداری کو چھوڑے جانے پر پول کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان تھا ” کیا حکومت کو 25 بلین ڈالرز کے عوض نواز شریف اور زرداری کو چھوڑ دینا چاہیے” اس پول میں اب تک 29,028 وزٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں، جن میں سے 60 فیصد نے "ہاں” اور 40 فیصد نے” نہیں” کہا.اس سلسلے میں کافی اہم تبصرے بھی دیکھنے کو ملے جن میں سے چند ایک اہم اور دلچسپ کمنٹس پیش خدمت ہیں.
    شاہد پرویز پنوار نےلکھا کہ
    ہاں اس طرح ان ڈرامہ پارٹیز سے جان چھوٹے ، جنرل مشرف کی طرح پیسے لے کر ملک سے باہر بھیج دیا،

    نزیر احمد لکھتے ہیں
    اس طرح کیا ان لوگوں کو یہ فیصلہ تسلیم ہوگا کہ جن کے عزیز قتل کیے اور کیا اس پیسے میں ان کا خون بہا بھی شامل ہوگا؟ اور کیا ان مقتولین کے رشتہ دارں کو انصاف مل جائے گا.

    تارڈ لکھتےہیں.
    ان کو چھوڑنا ہے تو جیل سے باقی سب چھوٹے چوروں کو بھی چھوڑنا ہو گا۔
    https://twitter.com/aatarar2
    عارف شاہ لکھتے ہیں
    مقدمات کا سامنا کریں اور پلی بارگین کے تحت سب کچھ قبول کر کے پیسے واپس کردیں۔ پھر جدھر جانا چاہیں چلے جائیں۔
    https://twitter.com/sacredmashah
    آمنہ بٹ لکھتی ہیں
    پیسے25 بلین کم ہیں .کم از کم 40 سئ 50 بلین ہونا چاہیے

    ارشد گجر لکھتےہیں
    لتر مار کے پیسہ نکالو اور دفعہ کرو

    خالد لکھتےہیں
    اقبالِ جرم کروانے اور لائیو ٹی وی پر عوام سے معافی کے بعد انہیں ملک بدر کر دینا چاہئے
    https://twitter.com/KhalidRadical1
    سیدہ بشریٰ شاہ لکھتی ہیں
    پیسے لیکر یں کمینو کو دفع کیا جا یے اور اوپن کورٹ ڈیل کا حرف حرف عوام کے سامنے ہو ۔۔ساتھ انکی معافی
    نامے بھی۔۔اس غلاظت کو یہاں رکھ کر سرکاری خرچے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔

    حمید لکھتے ہیں
    خدا کا خوف کرو جتنا انہوں نے لوٹا ہے اُتنا ہی واپس لینا چاہئے یہ غریبوں کا حق کھایا ہے انہوں نے اگر ایسا ہو تو ظلم ہی ہو گا۔

    مریم پشیرہانسی لکھتی ہیں
    ان کو کہا جائے کہ تما م پیسے دو اورپھر ان کو واپس آنے کی اجازت نہ دی جائے
    https://twitter.com/
    زپیر طالب لکھتےہیں
    اس طرح تو پھر پاکستان کے ہر چور سے چوری والے پیسے لے کر چھوڑ دینا چاہے۔
    اگر تو یہ چور ہیں تو پھر چوری والی رقم بھی واپس لی جائے، سزا بھی دی جائے تا کہ عبرت بن سکیں اور اچھا خاصہ جرمانہ کیا جائےکہ جس دلدل میں ان چوروں نے ڈالا ہےانہیں صرف سزا دینا اور پیسے واپس لینا کافی نہیں۔

    طیبہ اکرم لکھتی ہیں
    آج پاکستانی جو کچھ بھی جھیل رہے ہیں وہ صرف ان کی وجہ سے ہیےان کو سزا دیے بنا نہیں جانے دینا چاہیے

  • دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    تعریف

    یہ درد اکثر سر کے نصف حصہ میں دائیں یا بائیں جانب ہوتا ہے.
    بعض اوقات سارے سر میں درد ہوتا ہے.
    شقیقہ کے معنی ایک شق یعنی ایک طرف کے ہیں.
    یہ درد طلوع آفتاب سے شروع ہو کر دوپہر تک بڑھتا ہے اور جوں ہی زوال آفتاب شروع ہوتا ہے تو کم ہوتا جاتا ہے.

    اسباب

    تھکاوٹ، کمزوری، کثرت حیض، خرابی نظر، کثرت جماع، قبض اور بے خوابی اس کے اسباب ہیں.
    یہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے.

    علامات

    درد کے شروع ہونے سے پہلے طبیعت سست ہو جاتی ہے.
    یہ عموماً پندرہ سے پچیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے.
    اس میں دماغ کی رگیں پھیل جاتی ہیں.
    دماغ میں خون زیادہ مقدار میں پہنچتا ہے.
    سر گھومنے لگتا ہے اُبکائیاں آتی ہیں. مریض روشنی اور آواز برداشت نہیں کرتا اور چہرے کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے.

    علاج

    درد شروع ہونے سے پہلے اور درد کی حالت میں کوئی غذا کھانے کو نہ دیں.
    مریض کو مکمل آرام کرائیں.

    سفوف اکسیر دافع درد شقیقہ

    کشنیز خشک 30 گرام
    کلونجی 10 گرام
    اسطوخودوس 50 گرام
    فلفل سیاہ 15 گرام

    چاروں اجزاء کو بایک پیس کر سفوف بنائیں۔

    مقدار خوراک

    3 تا 6 گرام
    صبح، دوپہر اور شام استعمال کریں۔

  • ‘اقتدار کی پچ پر کھیلنےوالے ایسےتڑپ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی کےبغیر’ طنزیہ ٹویٹ جانیے تفصیل میں

    ‘اقتدار کی پچ پر کھیلنےوالے ایسےتڑپ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی کےبغیر’ طنزیہ ٹویٹ جانیے تفصیل میں

    فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن پر طنزیہ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اقتدار کی پچ پر کھیلنےوالے ایسےتڑپ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی کےبغیر’

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن پر طنزیہ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اقتدار کی پچ پر کھیلنےوالے ایسےتڑپ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی کےبغیر’اقتدار کی پچ پر لگاتار کھیلنے والوں کو سرکاری وسائل کے بغیر رہنے کی اب عادت ڈالنا ہو گی

    سوشل میڈیا پر اپنے ٹوئٹر پیغام میں انکا کہنا تھا کہ اپنے دور میں آئینی مدت پوری کرنے کی حمایت کرنے والے آج کس منہ سے مڈٹرم انتخابات کی بات کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ 10 ماہ اقتدار کے بغیر نہیں گزار سکتے، اقتدار کے بغیر ایسے تڑپ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی کے بغیر۔ اب انہیں چار سال ایسے ہی تڑپنا ہوگا۔ اقتدار کی پچ پر لگاتار کھیلنے والوں کو سرکاری وسائل کے بغیر رہنے کی اب عادت ڈالنا ہو گی۔

  • وہاڑی : گمشدہ بچے کو ورثاء کے حوالے کر دیا گیا

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) پولیس تھانہ دانیوال نے تین یوم قبل لاری اڈہ سے ملنے والے بچے کو اس کے لاہور کے رہائشی چچا کے حوالے کر دیا

    تفصیلات کے مطابق لاری اڈا وہاڑی سے تین دن قبل ملنے والا لاواث بچہ تھانہ دانیوال پولیس نے لاہور سے چچا کو تلاش کرکے ان کے حوالے کردیا تفصیل کے مطابق لاری اڈا وہاڑی سے ملنے والا لاواث بچہ ایس ایچ او تھانہ دانیوال ناصر تبسم کی دن رات محنت سے لاہور سے اس کے چچا کو ٹریس کرکے بچہ ان کو حوالے کردیا بچہ پچھلے تین دن سے ایس ایچ او کی کسٹڈی میں تھا اور بہت تگ و دو کے بعد بچہ کے چچا شہزاد کو لاہور سے ٹریس کیا اور بچہ ان کے حوالے کیا بچہ کے وارثوں نے ایس ایچ او کا شکریہ ادا کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں

  • وہاڑی : پولیس کی برق رفتار کاروائی چور گرفتار

    وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) تھانہ سٹی کی حدور 911 ڈبلیو بی ڈیرہ مال مویشیاں سے چوری ہونے والا واٹر پمپ چند منٹوں میں برآمد کرلیا شہریوں کا تھانہ سٹی پولیس کو زبردست خراج تحسین

    تفصیلات کے مطابق 911 ڈبلیو بی ڈیرہ مال مویشیاں میں سے چوری ہونے والا واٹر پمپ چند منٹوں میں برآمد کرلیا ایس ایچ او عامر مسعود جوئیہ ،اے ایس آئی بابر سعید نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم عبدللہ کو خانیوال چوک سے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ملزم عبدللہ سے واٹر پمپ برآمد کر کے مقدمہ درج اور ملزم کو حولات میں بند دیا۔

  • بھارت نے کھیل کو بھی نہ چھوڑا،میدانوں کو بھی گندی سیاست  سے آلودہ کر دیا، اہم رپورٹ

    بھارت نے کھیل کو بھی نہ چھوڑا،میدانوں کو بھی گندی سیاست سے آلودہ کر دیا، اہم رپورٹ

    بھارت نے کھیل کو بھی نہ چھوڑا میدانوں کو بھی گندی سیاست ڈرٹی پولیٹکس سے آلودہ کر دیا ، پاکستان مخالف مہم جاری رکھی.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارت نے کھیل کو بھی نہ چھوڑا میدانوں کو بھی گندی سیاست ڈرٹی پولیٹکس سے آلودہ کر دیا بھارت نے ورلڈکپ کو بھی اپنی گھٹیا سیاست سے آلودہ کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان لیڈز میں کھیلے گئے میچز کو اپنی گھٹیا سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیڈز میں کھیلے جا رہے پاکستان اور افغانستان کے میچ کے گراونڈ کے اوپر ایک طیارہ مسلسل پرواز کرتا رہا۔ اس طیارے کے ساتھ سیاسی نعروں والے 2 بینرز آویزاں تھے۔

    طیارے کے ساتھ ‘آزاد بلوچستان’ اور ‘پاکستان میں جبری گمشدگیاں بند کی جائیں’ کے نعروں والے بینرز آویزاں تھے۔ اس واقعے پر آئی سی سی کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا ہے۔

    آئی سی سی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے برطانوی پولیس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اعلان کیا ہے کہ کرکٹ کے کھیل کو ایسی سیاست سے آلودہ کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔