Baaghi TV

Author: +9251

  • سعودی عرب انٹرنیٹ کی دینا میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا خطے کا پہلا ملک بن گیا

    سعودی عرب انٹرنیٹ کی دینا میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا خطے کا پہلا ملک بن گیا

    سعودی عرب انٹرنیٹ کی دینا میں جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا خطے کا پہلا ملک بن گیا. سعودی عرب میں 5 جی سروس کا افتتاح ہو گیا یوں سعودیہ خطے کا پہلا ملک بن گیا جہاں 5 جی کا آغاز ہوا ہے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت ٹیلی کام کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان میں‌ کہا گیا ہےکہ نیوم سٹی کے ہوائی اڈے کا افتتاح‌ کردیا گیا ہے اور یہ ہوائی اڈہ اس اعتبارسے بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ پورے خطے میں پہلی بار اس ہوائی اڈے پر’5G’ سروس استعمال کی جا رہی ہے۔ یوں سعودی عرب پورے خطے میں فائیو جنریشن انٹرنیٹ سروس استعمال کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    مائیکروبلاگنگ ویب سائیٹ’ٹویٹر’ پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہےکہ سعودی عرب پورے خطےمیں ہوائی اڈوں پر5G سروس استعمال کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    اس ٹویٹ کےساتھ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وہ الفاظ بھی درج کیے جن میں انہوں‌نے کہا تھاکہ ‘ہم اپنے ملک کو مستقبل میں ایک منفرد مقام دلانے کی کوشش جاری رکھیں گے’۔ حکام کا کہنا ہےکہ ‘نیوم’ ہوائی اڈے پرانٹرنیٹ انتہائی تیز رفتاری کےساتھ چلایا جارہا ہے اور صارفین اس سے بھرپورطریقے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے گذشتہ منگل کو ‘خلیج نیوم’ ہوائی اڈے کے افتتاح کا اعلان کیا تھا۔ یہ ہوائی اڈہ سعودی عرب کے شمالی علاقے شرما میں واقع ہے۔ اس ہوائی اڈے سے کمرشل پروازوں کی اجازت دی گئی ہے۔

  • دنیا میں تشدد کے باعث ہر پانچ منٹ بعد ایک بچہ ہلاک ہورہا ہے.اقوام متحدہ

    دنیا میں تشدد کے باعث ہر پانچ منٹ بعد ایک بچہ ہلاک ہورہا ہے.اقوام متحدہ

    جنیوا:دنیا میں تشدد کے باعث ہر پانچ منٹ بعد ایک بچہ ہلاک ہورہا ہے.جسے ہر صورت روکنا ہوگا بچوں کو بھی زندہ رہنے کا حق ہےاقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال “یونیسف” کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بچہ تشدد کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتا ہے اور ان میں سے بہت تھوڑی تعداد کا تعلق جنگ زدہ علاقوں سے ہے۔یونیسف کی رپورٹ کے مطابق ایک اندازے کے مطابق روزانہ ہونے والی 345 اموات میں سے 75 فیصد پرامن ملکوں میں ہوتی ہیں۔

    قابل علاج امراض میں مبتلا ہوکر مرنے والے بچوں پر خاصی توجہ دی جاتی ہی لیکن ان کے بقول بچوں کے تحفظ کے معاملے پر بھی توجہ دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔یونیسیف کی برطانوی شاخ میں بچوں کے حقوق سے متعلق شعبے کی سربراہ لیاح کریٹزمین کہتی ہیں کہ برازیل میں سال 2000 کے بعد سے قابل علاج امراض میں مبتلا ہو کر مرنے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی لیکن تشدد کی وجہ سے تقریباً 15 ہزار بچے موت کا شکار ہوئے۔

    کینیا میں ہر تیسری لڑکی اور ہر چھٹا لڑکا جنسی تشدد کا شکار ہوتا ہے لیکن پولیس کے پاس ان واقعات کا صرف ایک فیصد ہی رپورٹ ہوتا ہے۔سوزان کہتی ہیں کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں شورش کی صورت میں حالات بچوں کے لیے مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ تعلیم بچوں کو بہت سے تنازعات میں بچا سکتی ہے۔ یہ بچوں کو نہ صرف معمولات کی سوچ دے سکتی ہے بلکہ انھیں اس بات کا ادراک بھی دے گی کہ مسلح گروپ انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں

  • بھارت:مدھیہ پردیش گئورکشکوں کی غنڈہ گردی کے خلاف قانون سازی،3 سال سزا تجویز کی گئی ہے

    بھارت:مدھیہ پردیش گئورکشکوں کی غنڈہ گردی کے خلاف قانون سازی،3 سال سزا تجویز کی گئی ہے

    بھوپال:مدھیہ پردیش گئورکشکوں کی غنڈہ گردی کے خلاف قانون سازی،3 سال سزا تجویز کی گئی ہےمجوزہ قانون کے تحت گﺅ رکشا کے نام پر اگر کوئی شخص تشدد کے معاملہ میں قصوروار قرار دیا جاتا ہے تو شخص کو 6 مہینے سے لے کر 3 سال کی سزا ہو سکتی ہے اور 25 ہزار سے لے کر 50 ہزار روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ کمل ناتھ حکومت اس مجوزہ قانون کو مانسون اجلاس کے دوران ہی اسمبلی سے منظور کرا لینا چاہتی ہےگائے کے نام پر ہونے والی موب لنچنگ پر لگام لگانے کے مقصد سے مدھیہ پردیش حکومت سخت قانون بنانے جا رہی ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی خود کو گﺅ رکشک بتا کر تشدد کرتا ہے اس کے خلاف کڑی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ غنڈہ گردی کرنے والے گﺅ رکشک کو گرفتار کیا جاتا ہے اور اس پر جرم اگر ثابت ہو جاتا ہے تو اسے 6 مہینے سے لے کر 3 سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔

    اضح رہے کہ گزشتہ 4-5 سالوں سے گﺅ رکشا کے نام پر بالخصوس مسلمانوں اور دلتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور درجنوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مودی حکومت اگرچہ گﺅ رکشا کے نام پر ہو رہی تشدد پر روک لگانے کے دعوے کرتی ہے لیکن اتنے ظلم و ستم کے بعد اب لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ غنڈہ عناصر کو سیاسی پست پناہی ملی ہوئی ہے اور حکومت کی شہ پر ہی یہ خونیں کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

    ان واقعات کو روکنے کے لئے مدھیہ پردیش حکومت نے بدھ کے روز ایک قانون کی تجویز پیش کی ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت گﺅ رکشا کے نام پر اگر کوئی شخص تشدد کے معاملہ میں قصوروار قرار دیا جاتا ہے تو شخص کو 6 مہینے سے لے کر 3 سال کی سزا ہو سکتی ہے اور 25 ہزار سے لے کر 50 ہزار روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ کمل ناتھ حکومت اس مجوزہ قانون کو مانسون اجلاس کے دوران ہی اسمبلی سے منظور کرا لینا چاہتی ہے۔ مدھیہ پردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (مویشی پروری) منوج شریواستو نے یہ معلومات فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک مرتبہ سزا پانے کے بعد دوبارہ اسی جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کی سزا دوگنی کر دی جائے گی۔

    ملک میں 2009 سے 2019 تک 287 ہیٹ کرائم سے متعلق معاملات رونما ہوئے۔ ان میں سے 98 لوگوں کی موت ہو گئی جبکہ 722 لوگ زخمی ہوئے۔ ان میں سب سےزیادہ 59 فیصد حملے مسلمانوں پر کیے گئے، اس کے بعد 15 فیصد عیسائیوں اور 14 فیصد ہندوو?ں (بالخصوص دلتوں پر) 14 فیصد حملے کیے گئے۔ نفرت کی بنیاد پر کیے گئے حملوں میں سب سے زیادہ 28 فیصد معاملہ گﺅ رکشا کے نام پر کیے گئے۔

  • اسرائیل : فلسطینی آتشی غباروں سے 20 مقامات پر آتش زدگی

    اسرائیل : فلسطینی آتشی غباروں سے 20 مقامات پر آتش زدگی

    مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینیوں کے کاغذی جہازوں اور آتش گیر غباروں نے اسرائیل کے 20 مقامات پر آگ لگا دی ، املاک اور فصلوں کو غیر معمولی نقصان اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک آگ بجھانے کی کوشش کی مگر آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ فلسیطنیوں کے آتش گیرغباروں سے غزہ میں 20 مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔زدگی کا یہ تازہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری طرف اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران گیسی غباروں کے نتیجے میں اسرائیل کو لاکھوں شیکل کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مجموعی طور پر 6000 دونم کے علاقے آگ کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ ان میں سے 400 دونم گندم کے کھیت شامل ہیں۔

    غباروں کے گرنے اور آگ لگنے کے بعد اسرائیلی ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ پہہنچ کیا گیا۔ گرمی کی وجہ سے آگ تیزی کے ساتھ وسیع رقبے میں پھیل گئی اور اسے بجھانے میں کئی گھنٹے صرف ہو گئے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے گیسی غبارے اور کاغذی آتش گیر جہاز روکنے کے لیے نیا نظام بھی نصب کیا ہے مگر اس کے باوجود صہیونی حکام فلسطینیوں کے اس مزاحمتی حربے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • نواز شریف اور مریم  نے 3 بلین ڈالر ادا کر دیے، مزید کتنے دیں‌ گے؟ سینئر صحافی کا دعویٰ

    نواز شریف اور مریم نے 3 بلین ڈالر ادا کر دیے، مزید کتنے دیں‌ گے؟ سینئر صحافی کا دعویٰ

    پاکستان کے معروف صحافی اور دانشور غلام حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز نے 3 بلین ڈالر واپس کر دیے ہیں‌ اور مزید 3 بلین ڈالر دینے کیلئے تیار ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق سینئر صحافی کی طرف سے یہ دعویٰ ایک نجی ٹی وی چینل پر پروگرام کےد وران کیا گیا ہے. سینئر صحافی غلام حسین کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز نے 3 بلین ڈالر واپس کردیے جبکہ مزید 3 بلین ڈالر دینے کو تیار ہیں.


    مسلم لیگ ن کے نائب صدر مریم نواز شریف نے سینئر صحافی کی اس ویڈیو جس میں انہوں نے 3 بلین ڈالر دینے کی بات کی سوشل میڈیا سائٹ ٹویٹر پر شیئر کی اور اس دعویٰ کا تمسخر اڑاتے ہوئے قہقہہ لگایا ہے.

    واضح رہے کہ سینئر صحافی غلام حسین اس سے قبل بھی کئی بڑے دعوے کرتے رہے ہیں جوبعد میں سچ بھی ثابت ہوئے تاہم ان کے اس دعویٰ کے جواب میں مریم نواز نے ان کی بات پر تمسخر اڑاور قہقہہ لگا کر اسے رد کیا ہے.

  • فرانس میں دہشت گردی، مسجد کے باہر فائرنگ سے امام مسجد سمیت 2 زخمی، حملہ آور کی خودکشی

    فرانس میں دہشت گردی، مسجد کے باہر فائرنگ سے امام مسجد سمیت 2 زخمی، حملہ آور کی خودکشی

    فرانس میں مسجد کے باہر نامعلوم کار سوار نے فائرنگ کر کے امام مسجد اور ایک شخص کو زخمی کر دیا جبکہ بعد میں اس نے خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کر لی ہے. اس واقعہ کے بعد فرانسیسی وزیرداخلہ نے ملک بھر میں تمام عبادت گاہوں کے سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ فرانس کے شہر برسٹ میں پیش آیا ہے جہاں‌ ایک مسجد کے باہر نامعلوم کار سوار شخص نے اچانک اندھا دھند فائرنگ کر دی. مذکورہ شخص کی فائرنگ سے امام مسجد اور ایک دوسرا شخص زخمی ہوگئے ہیں.

    واقعہ کے بعد فرانسیسی پولیس حرکت میں آ‌گئی اور فائرنگ کرنے والے مجرم کا پیچھا کیا تاہم جیسے ہی حملہ آور نے دیکھا کہ وہ پکڑا جائے گا تو اس نے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی. میڈیا رپورٹس میں‌ بتایا گیا ہے کہ فرانس میں‌ ساحلی شہر بریسٹ میں سہہ پہر ساڑھے چار بجے کار سوار نے مسجد کے سامنے کھڑے افراد پر فائرنگ کی۔زخمیوں میں امام رشید ایل جے بھی شامل ہیں جنہیں رشید ابو حذیفہ بھی کہا جاتا ہے۔

    مقامی پولیس کا کہنا ہےکہ وہ اس واقعہ سے متعلق تحقیقات کر رہی ہے اور حملہ آور سے متعلق جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ کون تھا، کہاں‌ سے آیا اور اس نے مسجد کے باہر فائرنگ کیوں‌کی؟.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل نیوزی لینڈ میں بھی ایک مسجد میں فائرنگ سے کئی لوگوں‌ کو شہید و زخمی کر دیا گیا تھا. مختلف مغربی ملکوں‌ میں انتہاپسندی کے ایسے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں.

  • پی ٹی سی ایل کی نجکاری سے ہزاروں ملازمین رسوا ہوئے،17 بلین ڈبو دیئے گئے، میں مظلوموں کا کیس لڑوں گا، مبشر لقمان

    پی ٹی سی ایل کی نجکاری سے ہزاروں ملازمین رسوا ہوئے،17 بلین ڈبو دیئے گئے، میں مظلوموں کا کیس لڑوں گا، مبشر لقمان

    اسلام آباد:پاکستان کے سینئر اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑے افسوس ک بات ہے کہ پی ٹی سی ایل انتظامیہ اپنے ہی اہل وطن کے خلاف دھوکہ اور فراڈ کررہے ہیں.مبشر لقمان نے 7 نیوز کے ٹیبل ٹاک پروگرام میں اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پی ٹی سی ایل انتظامیہ اپنے آپریٹرز سے ٹیکس کے نام پر وصولیاں تو کر رہے ہیں لیکن ان وصولیوں کا کہیں کوئی حوالہ یا ذکر نہیں.میزبان جمیل فاروقی کے ایک سوال کےجواب مٰیں مبشر لقمان نے کہا کہ سب کو علم ہے کہ پی ٹی سی ایل کو پرائیویٹ کیا گیا تو یہ پاکستان کی کمپنی دبئی کی ٹیلی کام کپمنی کے پاس چلی گئی.

    مبشر لقمان نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی سی ایل میں پانچ سال سے کوئی ودہولڈنگ ٹیکس کے بیٹھا ہوا ہے تو کیا عمران خان کو یا اس کی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ کو کٹہرے میں لا کر ان کے خلاف کاروائی کریں.جمیل فاروقی نے سنیئر صحافی کے اس سلسلے میں اپنے ہم مکتب دو اہم ساتھیوں ارشاد بھٹی اور سلیم صافی کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیا .اس پروگرام میں سینئر اینکر مبشر لقمان نے جب ارشاد بھٹی سے یہ سوال کیا .اگر وزار ت نہیں چلاسکتے تو ان کو گھر واپس چلا جانے چاہے؟تو اس کے جواب میں ارشاد بھٹی نے کہا کہ .یہ کیسے لوگ ہیں میئر ادھر رو رہا ہے. روتا رہنا ان کا مقدر بن گیا ہے، عمران خان رو رہا ہے ، نواز شریف رو رہا ہے ،آصف زرداری رو رہا ہے اپوزیشن رو رہی حکومت رو رہی ہے وہ بھی رو رہے ہیں ہم بھی رو رہے ہیں اس پر مبشر لقمان مسکرئے بغیر نہ رہ سکے. اب حالات اگر ٹھیک نہ ہوں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے تو مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں سینیئر اینکر سلیم صافی نے کہا .یہ ریاست مدینہ کے کسی نام لیوا کسی دوسرے شخص کے حوالے کردیں.

    7 نیوز کے پروگرام ٹیبل ٹاک میں سینئر اینکر مبشر لقمان سے جب ایک خط کے بارے میں پوچھا گیا کہ اپ نے پی ٹی سی ایل انتظامیہ کو خط میں کیا لکھا اس کے جواب میں مبشر لقمان نے اس خط کے مندرجات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تین دن پہلے مجھے راشد خان کا تونہیں ان کی لیگل ٹیم کا ایک جواب ملا ہےجس میں میرے سوالات کے جوابات دینے کی بجائے الٹا مجھے کہا گیا کہ آپ کے الزامات غلط ہیں. ہم نے کسی کے کوئی پیسے نہیں دینے .اس کے بعد مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ راشد خان کی لیگل ٹیم کی طرف سے غیر تسلی بخش خط کے جواب میں میں نے 15 آپریٹرز کو خط لکھ دیا.مبشر لقمان نے بتایا کہ آج دوپہر ایک بچے تک مجھے ساتھ آپریٹرز کےجوابات موصول ہو چکے ہیں.جنہوں مجھےصیحیح اعدادوشمار بتانے شروع کردیئے ہیں کہ اتنے ملین ،اتنے بلین کٹوتیاں ہوئی ہیں

    پی ٹی سی ایل کی تاریخ کو خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہوئے سینئر اینکر کا کہنا تھا کہ جب سے پی ٹی سی ایل پرائیویٹ ہوئی ہے اس دن سے دھوکہ دہی سے کام لے رہا ہے.مبشر لقمان نےپی ٹی سی ایل کی سے متعلق مزید بتایا کہ.پی ٹی سی ایل نے یوفون کا اجرا کیا ہے.مبشر لقمان نے یوفون کی طرف سے پہنچنے والے نقصان کو قوم کے سامنے لے کر آئے ہیں.انہوں نے انکشاف کیا ک یوفون 17 بلین روےڈبوچکی ہے.پہلی بار یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ جو مینجمنٹ یوفون کی ہے وہی پی ٹی سی ایل کی ہے.مبشر لقمان نے پی ٹی سی ایل کی مینجمنٹ کی قابلیت کے پردے چاک کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو کوئی چیک کرنے والا ہی نہیں یہ یوفون کی مینجمنٹ پی ٹی سی ایل کو چلا رہی ہے.مبشر لقمان نے بتایا کہ اگر یہ اتنے ہی پڑھے لکھے اور قابل لوگ ہیں.تو وہ پی ٹی سی ایل میں کیا کررہی ہیے.مبشر لقمان نے حکومت سے سوالی انداز میں پوچھا کہ کیا پی ٹی سی ایل کا کوئی حساب چیک کرنے والے کوئی نہیں پھر حقائق بتاتے آڈٹ نہ ہونے کہ وجہ بھی بتا دی کہ کیوں کہ پی ٹی سی ایل پرنقصان کرتے ہیں کرتے ہییں تو یہاں پر خود ہی چیک کرتے ہیں.،مبشر لقمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسی مینجمنٹ نے .پراونشیل ٹیکس کی مد میں15 آپریٹرز کے پیسے کاٹ لیے.اس کے برعکس یہ ایک وفاقی حکومت کا معاملہ تھا .مبشر لقمان نے بتایا کہ اس مینجمنٹ نے ان آپریٹرز کے کاٹے ہوئے پیسے نہ وفاق میں جمع کروائے ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی ریکارڈ ہے .مبشر لقمان نے بتایا کہ چونکہ اس ادارے پرندیم خان اور ارشد خان کا کنٹرول ہے اسی لیے ملازمین کے ساتھ اس ظلم کو کوئی روکنے والا نہیں ،ایک سوال کے جواب میں سنیئر صحافی کا کہنا تھ کہ ہیں 118 ملین کا پتہ نہں .جن کا کٹا ان کو رسید یں نہیں دی گئں. لائسنسز کی مد میں ہزاروں افراد کا روزگار داو پر ہے .

    مبشر لقمان نے پی ٹی سی ایل کے مظلوم ملازمین سے وعدہ کیا کہ وہ ان پر ہونے والے اس ظلم کے خلاف ان بے بس ملازمین کے حقوق کی خار کورٹ میں جائے گا.مبشر لقمان نے کہا کہ پھر بورڈ ممبرز اور وفاقی وزیر کو خالد مقبول صدیقی سب کو جواب دینا ہو گا.مشر لقمان نے حقائق سے یہ ثابت کیا کہ پی ٹی سی ایل کی نج کاری غلط ہے .مبشر لقمان نے کہا کہ وہ غریب ملازمین کے حقوق کی جنگ ضرور لڑیں گے.انہوں نے ایک ایسے ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے آواز اٹھانےکی وجہ سے دوبئی ایئر پورٹ پر پریشان اٹھا چکے ہیں.وہاں کی حکومت نے پی ٹی سی ایل نجکاری پر میری گفتگو کو پسند نہیں کیا اور دو تین گھنٹے ایئر پورٹ پر روکے رکھا

    مبشر لقمان نے کہا کہ پہلے ہی یہ ادارہ پاکستانی عوام کا 17 بلین ڈبو چکا ہے. اب یسے نہیں چلے گا اس مقصد کے لیے جس فورم پر بھی جانا پڑے میں ضرور جاوں گا .انہوں نے کہا کہ ایف ائی آے ،نیب ،حکومت اور عمران خان کو نظر نہیں آرہا.میں عمران خان سے اس متعلق بات کروں گا.مبشر لقمان نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ اماراتی کمپنی کب پاکتان کے 8 سو ملین ڈالڑ لوٹائے گی .نجکاری کے ثمرات سمیٹنے کی بجائے ملازمین کے بنیادی مسائل بڑھ رہے ہیں.مبشر لقمان نےکہا کہ ہم اپنے 8سو ملین مانگتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں.پاکستان کے ہزاروں لاکھوں افراد کا خون شامل ہے.

  • کریڈٹ کارڈ سے لوٹ مار کسی اور نے کی بل کسی اور دینا پڑ رہا ہے، فردوس عاشق اعوان

    وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سابقہ ادوارمیں ملکی خزانےکو بیگانہ کریڈٹ کارڈ سمجھ کراستعمال کیا گیا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس کریڈٹ کارڈ میں اتنی جان نہیں تھی جتنی اس پر سے دھڑادھڑخریداری کی گئی. یہ ایسے ہی ہے کہ آپ کے کریڈٹ کارڈ سے کوئی شاپنگ کرے اوربل آپکے نام آ جائے. یہی کچھ ہوا ہے اوربل کی ادائیگی عمران خان کی حکومت کے ذمے ہے.

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے لیا ہوا قرض واپس کرنا ہے. واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تنقید کی جارہی ہے جبکہ فردوس عاشق اعوان اور حکومت کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ یہ سابق دور حکومت کے لئے گئے ہزاروں ارب ڈالر قرض کا نتیجہ ہے. اسی کی وجہ سے ڈالر کی قیمت اور مہنگائی بڑھ رہی ہے.

  • پیپلز پارٹی نے رہبر کمیٹی کیلئے کس شخصیت کو نامزد کر دیا؟ اہم خبر آ گئی

    پیپلز پارٹی نے رہبر کمیٹی کیلئے کس شخصیت کو نامزد کر دیا؟ اہم خبر آ گئی

    پاکستان پیپلز پارٹی نے رہبرکمیٹی کیلئے سید یوسف رضا گیلانی کو نامزد کردیا ہے. مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت ہونے والی اےپی سی میں مشترکہ حکمت عملی کےتعین کیلئے رہبرکمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق رہبرکمیٹی سینیٹ کےچیئرمین کےلئےمتفقہ امیدوارکانام بھی تجویزکرے گی. کمیٹی اپوزیشن کےآئندہ کی حکمت عملی، اے پی سی کےاعلامیے پرعملدرآمد کو یقینی بنائے گی. رہبرکمیٹی میں اپوزیشن کی دیگرسیاسی جماعتوں کےنمائندگان بھی شامل ہوں گے.

    واضح رہے کہ کل اسلام آباد میں‌ ہونے والی اے پی سی میں رہبر کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ کمیٹی حکومت مخالف تحریک کے حوالہ سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی اور سب اس پر عمل درآمد کے پابند ہوں‌گے. اسی طرح یہ بھی کہا گیا تھا کہ نیا چیئرمین سینیٹ کون ہو گا؟ اور کسی طرح آئینی طریقہ سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ تبدیل کئے جائیں‌ گے اس سے متعلق بھی یہی رہبر کمیٹی فیصلے کرے گی.

  • ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے
    گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں
    اگر غور کریں تو کبھی خواتین مارچ کے نام پر عورتوں کو خاندان سے باغی کیا جاتا ہے
    تو کبھی بیکن ہاوس سکولوں میں لڑکیوں سے زیر جامہ کپڑوں کی خوب تشہیر کروائی جاتی ہے

    پھر لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے لیے کریم کار بک کروانے کا مشورہ نما اشتہار چلایا جاتا ہے

    اور پھر لڑکیوں کو باپ کی بات ماننے سے انکار پر اکسایا جاتا ہے وہی باپ جو بیٹیوں کی پرورش کی خاطر زمانے کی سرد و گرم برداشت کرتا ہے

    اور پھر اب لڑکیوں ہی کو چادر اور چاردیواری سے متنفر کیا جا رہا ہے
    اور یہ سب اچانک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایک فرد کا کام ہے
    اس کو نظریاتی جنگ کے طور پر دشمن لڑ رہا ہے اور ہماری خواتین کو خاندان، مذہب اور معاشرے سے بد ظن کر رہا ہے کیونکہ اپنا خاندانی نظام تو امریکہ و یورپ تباہ کروا بیٹھے ہیں اب پاکستان کے اس سسٹم کو تباہ کرنے کے در پر ہیں اسی لیے تو خواتین ان کا نشانہ ہیں، شاید خواتین سادہ لوح ہوتی ہیں اور جلدی کسی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے
    امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ بکنے اور والی عمارت چرچ کی ہے اور سب سے زیادہ تباہ ہونے والا نظام خاندانی نظام ہے خاندانی نظام کی تباہی کا بہت سے یورپی وزیراعظم اقرار بھی کر چکے ہیں
    یہ خاندانی نظام خواتین اور بچوں کو معاشرتی دھوپ سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے اور اب یورپی و دیگر اقوام پاکستان کے اسی نظام کو تباہ کرنے کے در پے ہیں
    یاد رکھیے گا یورپ و امریکہ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق چاہیں تھے لہذا انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کردیا سارا دن محنت مزدوری اور حقوق کے حصول کی دوڑ کے بعد تھکی ہاری عورت جب گھر پہنچتی تو بچوں کی دیکھ بھال اور خاوند کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اس کی سیوا کرنے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی، سارا دن عورت بن کر رہنے والی کو گھر آکر بیوی بننا پڑتا تھا اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس عورت نے اپنے معاشرے سے الگ ہونا شروع کر دیا اور اب مغرب میں سب سے زیادہ اسلام عورتیں قبول کر رہی ہیں کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو خاوند کو عورت کا سربراہ بنانے کے ساتھ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ج کہ عورت اپنے گھر میں ملکہ کی طرح رہے گی
    لیکن مغرب پاکستان کے اندر جو کھلواڑ کر رہا ہے اس سے اس کا مقصود عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا ہے کیونکہ مغرب اب تازہ مال چاہتا ہے اسے یورپ کی استعمال شدہ عورت سے بےزاری محسوس ہونے لگ گئی ہے لہذا وہ اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر خوشنما نعروں کی آڑ میں خواتیں کی ذہن سازی کر رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان خواتین میں انسٹالڈ سافٹویئر کو وائرس کے ذریعے کرپٹ کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کا سافٹویئر انسٹال کر کے اس عورت پر غلبہ اور قابو پا سکے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کر سکے اور بدقسمتی سے اس سارے دھندے کے لیے اسے پاکستان سے لبرلز کے نام پر چند ایسی فاحشہ عورتیں دستیاب ہو چکی ہیں جو اسلامی اقدار کو براہ راست نشانہ بنا کر مسلمان خواتین کو باور کرا رہی ہے کہ اسلامی حدود و قیود ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہذا آو اور ان حدود کو توڑ دو تاکہ تم ترقی کر سکو
    یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آسمان سے لگنے والی پابندی ترقی کی ضامن تھی لیکن آج فارمولے بدلے اور آسمانی پابندیوں کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھنا ترقی کا ضامن قرار پایا ہے

    آپ ایریل ڈٹرجنٹ کا اشتہار دیکھ لیجیے کہ کس قدر ڈھٹائی سے خواتین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ *چار دیواری میں رہو* یہ جملے نہیں داغ ہیں پر یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے
    قرآنی آیت مبارکہ
    وقرن فی بیوتکن
    کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا اور مسلم خاتون کو حوصلہ دیا گیا کہ وہ آسمانی حکم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چار دیواری کو توڑ کر باہر نکلیں اور شومئی قسمت سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے
    مورخ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ انڈین ڈرامے جن کی اقساط تین تین سو تک جا پہنچتی ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے
    ان سب کا مقصد بھی پاکستانی خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے
    آسٹریلیا ان ڈراموں کے اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد اپنے خاوندوں کو الگ گھر لینے پر مجبور کر دیں
    اور جب الگ گھر ہوگا تو ظاہری سی بات ہے کہ فریج اے سی اوون واشنگ مشین و دیگر لوازمات کی ضرورت پڑے گی تو آسٹریلیا پھر ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اپنی پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتا ہے

    یہ بھی ایک پہلو ہے
    لہذا خواتین کے ذہنی، نظریاتی اور فکری تحفظ کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی
    مورخ پھر سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    اور پھر مورخ خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے اور عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے لہذا عورت کو نشانہ بناکر دراصل مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ جب عورت ہی باغی ہو گی تو خاندانی نظام کہاں باقی رہے گا اور جب خاندانی نظام باقی نہیں رہے گا تو اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اطاعت الہی کا سبق ازبر کروانا، نیکی و بدی کا کانسپٹ دینا، جنت کے وعدے یاد دلانا اور جہنم سے ڈرانا، ایمان داری، ایفائے عہد، اور دیگر روشن اقدار کا سبق کون پڑھائے گا
    جب یہ بنیادی لوازمات ہی نہیں ہوں گے تو وہ مثالی اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پایے گا جو مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے والا ہوگا
    اور جب مائیں روشن خیال ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گی تو ابن قاسم، محمد بن اسماعیل البخاری، ابن تیمیہ، ثناء اللہ امرتسری کہاں سے پیدا ہوں گے
    تو سمجھ لیجیے کہ عورت کو روشن خیال کر کے چار دیواری سے باہر نکالنا دراصل اسلام کو نہتا اور بے سروپا کرنا ہے۔