Baaghi TV

Author: +9251

  • لیاقت پور بس اور ٹرالر میں خطرناک تصادم

    لیاقت پور بس اور ٹرالر میں خطرناک تصادم

    خانبیلہ ٹال پلازہ لیاقت پور اے سی بس اور آئل ٹینکر تصادم میں 12 افراد زخمی 1 جانبحق.حادثے میں جاں بحق ہونے والے کی شناخت اے سی بس کے کنڈکٹر کے طور پر ہوئی ہے. حادثہ میں 12زخمی افراد کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے.سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ریاست علی ریسکیو ای۔ڈ ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں.ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل کی۔ہدایت پر شیخ زید ہسپتال ایمرجنسی میں ہائی الرٹ جاری.انھوں نے مزید حکم دیا کہ بس حادثہ کے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں .

     

  • ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی میڈیانےروس کے نیشنل ڈیفنس مینیجمنٹ سینٹر کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ سمندروں کی جانب سے ہماری سرحدوں کی طرف محو پرواز تھا، امریکی طیاروں کو دو مرتبہ روسی طیاروں کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔جوہری میزائل و دیگر اسلحہ لے جانے کی صلاحیت کے حامل امریکی ایئرفورس کے بمبار طیارے کی روسی سرحد کے قریب پرواز نے روس کی فضائیہ اور وزارت دفاع کو چوکنا کردیا۔ روس کی فضائیہ کے زیر استعمال ایس یو-57 طیارے نے امریکی فضائیہ کے طیارے کے راستے میں مداخلت کرکے اس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ حیرت انگیز طور پر تاحال عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ موضوع حل طلب تصور کیا جارہا ہے کہ امریکی طیارے نے ایک مرتبہ روسی سرحد کے قریب جانے کی کوشش کی یا دو مرتبہ؟ یہاں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل گردانا جارہا ہے کہ کیا یہ ایک محض اتفاقی واقعہ تھا اور یا یہ کہ اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور تھے؟۔ خبررساں ایجنسی تاس نے روسی محکمہ دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی ساختہ ایس یو-57 طیارہ کومبیٹ ڈیوٹی پر تھا کہ اس نے امریکی فضائیہ کے طیارے کو اپنی سرحد کے قریب آتے دیکھا توراستے میں مداخلت کرکے اسے بین الاقوامی سرحد سے دور کردیا۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنے روسی طیاروں نے حصہ لیا؟ لیکن اس بات کا اعتراف کیا کہ روسی طیاروں کو دو مرتبہ امریکی طیاروں کے راستے میں مداخلت کرنا پڑی۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے کئی مرتبہ تناؤ پیدا ہوا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کی گئی ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی طیاروں کی روسی سرحد کے قریب پروازوں نے پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ضرور کیا ہے۔

  • فردوس عاشق اعوان کی صحافیوں‌ کوخوشخبری، کہا صحافتی تنظیموں‌ کی مشاورت سے ویج بورڈ کا اعلان ہو گا

    فردوس عاشق اعوان کی صحافیوں‌ کوخوشخبری، کہا صحافتی تنظیموں‌ کی مشاورت سے ویج بورڈ کا اعلان ہو گا

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے صحافی برادری کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے صحافیوں کیلئے 8واں عبوری ویج بورڈ ایوارڈ آگے بڑھنے کیلئے ایک قدم ہے، تمام صحافی تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت اور اتفاق کے بعد ویج بورڈ کا اعلان کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد میں‌ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے وہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اپوزیشن کے پاس پیسوں کی بارش کا فارمولہ ہے تو ہمیں دے، جس سے عوام کی حالت بہتر ہو حکومت ان ترامیم کو منظور کرنے کو تیار ہے، غنڈہ گردی سے نہیں، آئینی حد میں رہ کر ترامیم لائی جائیں۔

    وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ شہباز شریف کی صحت یابی پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے. انہوں نے کہاکہ گیدڑ بھبکیاں دینے کا کوئی فائدہ نہیں‌ ہے. ایسا کرنے والے بجٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، شہباز شریف نے ڈھائی گھنٹے پارلیمنٹ‌ میں‌ تقریر کی. جس کی کمر میں‌ درد ہو کیا وہ اتنی لمبی تقریر کر سکتا ہے. قوم نے دیکھ لیا کہ شہباز شریف کی کمر میں‌ کتنی سکت ہے. اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں حقائق مسخ کئے۔

    انہوں نے کہاکہ عمران خان اور پاکستان دونوں‌ لازم و ملزوم ہیں. فردوس عاشق اعوان نے اپنی گفتگو میں‌ شہباز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا.

  • مصر کے سابق مرحوم صدر محمد مرسی تاریخ کے آئینے میں،پیدائش سے سفر آخرت تک

    مصر کے سابق مرحوم صدر محمد مرسی تاریخ کے آئینے میں،پیدائش سے سفر آخرت تک

    قاہرہ:مصر کے سابق صدر مرحوم محمد مرسی 68 سال کی عمر میں وفات پا گئے .مصر کی عدالت میں اپنے خلاف زیرسماعت مقدمے کے دوران 20 منٹ تک جج کیساتھ گفتگو کرنے کے بعد وفات پا جانیوالے محمد مرسی مصر کے پہلے منتخب صدر تھے۔ محمد مرسی 1951ء میں ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ مرحوم نے 1980ء میں یونیورسٹی آف ساؤدرن سے بھی تعلیم حاصل کی اور بعد میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی نارتھرج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے رہے۔ محمد مرسی 1985ء میں وطن واپس پہنچے اور تدریس کے ساتھ سیاسی سفر کا بھی آغاز کیا.مصر واپسی پر وہ زقازیق یونیورسٹی میں انجنیئرنگ کے شعبے کے سربراہ تعینات ہوئے۔ اور 2000ء سے 2005ء کے دوران اخوان المسلمین کے ممبر بھی رہے۔اس دوران وہ اخوان المسلمین کے نظم کے اندر بھی ترقی کرتے رہے اور جماعت کے اس شعبے میں شامل ہو گئے جس کا کام کارکنوں کو رہنمائی فراہم کرنا تھا۔

    2005ء کے انتخابات میں شکست کے باوجود سابق صدر نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے سیاسی قیدی کے طور پر پانچ سال سے زیادہ عرصہ اسیری میں بھی گزارا۔ اسلام پسندوں کی جماعت سمجھی جانے والے تنظیم اخوان المسلمین کے اراکین پر حسنی مبارک کے دور میں پابندی تھی کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ سنہ 2000 سے لے کر سنہ 2005 کے درمیانی عرصے میں وہ آزاد رکن کی حیثیت سے اس پارلیمانی اتحاد میں بھی شامل رہے جس میں اخوان المسلمین بھی شامل تھی۔لیکن اس کے بعد وہ اپنے آبائی حلقے سے انتخابات ہار گئے۔ محمد مرسی کا دعویٰ رہا ہے کہ انھیں دھاندلی سے ہرایا گیا تھا۔

    محمد مرسی نے رکن پارلیمان کی حیثیت سے لوگوں کو اپنے انداز خطابت سے متاثر کیا، خاص پر ان کی وہ تقریر خاصی مشہور ہوئی تھی جب سنہ 2002 میں ریل کے بڑے حادثے کے بعد انھوں نے سرکاری نااہلی کے لتے لیے تھے۔ پابندیوں کا شکار مذکورہ جماعت نے 2011ء میں مرسی کی قیادت میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی قائم کی اور ساتھ ہی شرط بھی رکھی کہ ایک فرد ایک وقت میں اپنی مرضی سے ایک جماعت کی رکنیت رکھ سکتا ہے، (اخوان المسلمین یا فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی)۔

    مئی 2012ءکے وسط میں مصر صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوا، جس میں محمد مرسی اور ملک کے سابق صدر احمد شفیق کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ جون 2012ء میں مصر کے قومی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ مرسی نے 51.7 فیصد ووٹ لے کر سابق وزیراعظم احمد شفیق کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسی روز نومنتخب صدر محمد مرسی نے التحریر اسکوائر پر لاکھوں کے مجمعے میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی رکنیت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ صرف مصری عوام کے صدر ہیں۔ انہوں نے 20 جون 2012ء کو مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

    جون 2013ء میں اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر تحریر سکوائر اور مصر کے دیگر شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے، جس میں صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ مصری فوج نے یکم جولائی 2013ء کو مرسی کو پیغام بھجوایا کہ 48 گھنٹوں میں عوامی مطالبات پورے کریں، بصورت دیگر اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا، جسے مصر کی پہلی جمہوری حکومت نے نظر انداز کر دیا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج نے تین جولائی کو محمد مرسی کو معزول کرکے جیل میں ڈال دیا۔ مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق مرسی اور 132 دوسرے افراد پر 2011ء میں جیل توڑنے، ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعے مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں مقدمات بنائے گئے۔

    اپریل 2014ء میں عدالت نے مرسی کو 2012ء میں صدارتی محل کے باہر اشتعال انگیزی پھیلانے اور فسادات کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی۔ مصر کی ایک عدالت نے مئی 2015ء میں مرسی کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ سابق صدر پر الزام تھا کہ انہوں نے ودی نترون نامی جیل میں اسیری کے دوران غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو رہا کرانے کی سازش تیار کی اور 2011ء میں جیل توڑ کر فرار ہوئے۔ عدالت نے انہیں جاسوسی کے الزامات کے تحت عمر قید کی اضافی سزا بھی سنائی۔ محمد مرسی نے سزائے موت کیخلاف اپیل دائر کی، جسے مسترد کر دیا گیا۔

    مرسی پر قطر کو قومی راز دینے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر جرائم میں 15 سال کی اضافی قید کا اعلان بھی کیا گیا۔ تین سال قبل 15 نومبر 2016ء کو مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کو سنائی جانے والی موت کی سزا کو ختم کر دیا تھا، لیکن ان کے خلاف دیگر مقدمات آخری دم تک زیر التوا رہے۔ جیل میں چھ سالہ اسیری کے دوران انہیں نیند کے لیے صرف خالی فرش میسر رہا اور اہلخانہ سے بھی چند ملاقاتیں ہی نصیب ہوئیں۔ محمد مرسی نے انتخاب میں کامیابی کے بعد تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے نقادوں کا الزام تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کیے اور وہ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہے۔

    محمد مرسی کے اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مصر کی فوج نے 30 جون 2013ء کو محمد مرسی کو برطرف کرکے انہیں جیل میں بند کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں مصر کے فوجی جنرل عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے ایماء پر ان کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کیا تھا اور خود مصر کے صدر بن گئے تھے۔ ان پر مخالف مظاہرن کے قتل کا الزام تھا، جس پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ محمد مرسی اپنے چار سالہ دورِ اقتدار میں سے صرف ایک سال ہی حکومت کرسکے اور اسی دوران ان کی مشہور سیاسی اسلامی جماعت اخوان المسلمون پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

  • مارلن منرو کا مجسمہ ہوا چوری

    مارلن منرو کا مجسمہ ہوا چوری

    ہر اداکارہ کے لیے آئیڈل تصور کی جانے والی خوبرو اور پرکشش مارلن منرو کا یہ مجسمہ لاس اینجلز میں ہالی وڈ میوزیم میں لگا تھا ۔جسے اب اڑا لیا گیا ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے اس واقع کی تحقیقات شروع کر دیں ہیں۔
    شہرہ آفاق ہالی وڈ اداکارہ مارلن منرو کا مجسمہ ہوگیا چوریہالی ووڈ: (18 جون 2019) ہالی وڈ کی لیجنڈری اداکارہ آنجہانی مارلن منرو کا مجسمہ لاس ایجنلز کے فلمی میوزیم سے کسی نے چرا کر ہلچل مچا دی۔
    انہوں نے اپنی فلم کمپنی ”مارلن منرو پروڈکشنز“ کی بنیاد رکھی اور اس کے زیر اہتمام ”سم لائک اٹ ہاٹ“ اور ”پرنس اینڈ دی شوگرل“ جیسی شہرہ آفاق فلمیں تیار کیں۔ انہوں نے دو شایاں کیں۔ پہلی شادی بیس بال کے مشہور کھلاڑی جوڈی ماجیو سے کی اور دوسری شادی مشہور ڈرامہ نگار آرتھر ملر سے۔ دونوں شادیاں ناکام رہیں اور طلاق پر منتج ہوئیں۔ ڈپریشن سے نجات پانے اور جسمانی تکالیف سے سکون پانے کے لئے وہ منشیات کا استعمال کرنے لگیں۔
    ہالی وڈ میں اپنی بے باک اداکاری اور خوبصورتی سے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی اداکارہ مارلن منرو یکم جون 1926ء کو پیدا ہوئیں اور 1946ء میں اپنے کریئر کا آغاز بطور ماڈل کیا۔ مارلن کے اس دور کی مشہور فلموں میں نیا گرا، جنٹل مین پریفر بلونڈز اور ٹومیری اے ملنیئر شامل ہیں۔اس کے علاوہ پلے بوائے میگزین نے ان کی ایسی تصاویر شائع کیں جو 1948 میں لی گئی تھیں لیکن ان کی باری مارلن کے شہرت حاصل کرنے بعد آئی۔ ان واقعات نے مارلن کی شہرت کو آسمان پر پہنچا دیا۔
    پانچ اگست 1962 کی رات وہ اپنے عالیشان گھر میں مردہ پائی گئی۔ خواب آور گولیوں کی بھاری مقدار کو اس کی موت کا سبب قرار دیا گیا۔انتقال کے وقت ان کی عمرصرف 36سال تھی۔

  • حوثی باغیوں کی طرف سے بھیجا گیا ڈرون طیارہ تباہ کر دیا، عرب اتحاد کا دعویٰ

    حوثی باغیوں کی طرف سے بھیجا گیا ڈرون طیارہ تباہ کر دیا، عرب اتحاد کا دعویٰ

    سعودی عرب کی زیر قیادت عرب اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے دھماکہ خیر مواد کا حامل ایک ڈرون طیارہ تباہ کر دیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حوثیوں باغیوں کی جانب سے اڑایا گیا تھا جسے فضا میں تباہ کر دیا گیا. عرب اتحاد کے مطابق یہ طیارہ الحدیدہ صوبے سے روانہ ہو کر حجہ صوبے کے شمال مشرقی علاقے کی جانب محو پرواز تھا۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں‌ پندرہ جون کو سعودی فضائیہ نے حوثیوں کی جانب سے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کی جانب بھیجے جانے والے 5 ڈرون طیاروں کو مار گرایا تھا۔ یمن میں عرب اتحاد کی فورسز کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق حوثی باغی مملکت سعودی عرب میں شہری تنصیبات اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم وہ اپنی غیر ذمے دارانہ اور دشمنانہ کارروائیوں کے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

    حوثی باغیوں‌ کی جانب سے سعودی عرب میں مقدس مقامات کو بھی میزائل حملوں‌ کا نشانہ بنائے جانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں.

  • اقوام متحدہ کا محمد بن سلمان پرجمال خاشقجی قتل کا الزام، رپورٹ سے یو این کی ساکھ متاثر ہوئی،عادل الجبیر

    اقوام متحدہ کا محمد بن سلمان پرجمال خاشقجی قتل کا الزام، رپورٹ سے یو این کی ساکھ متاثر ہوئی،عادل الجبیر

    اقوام متحدہ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں‌ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار‌ ٹھہراتے ہوئے ان کے‌ خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے اقوام متحدہ کی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق رپورٹ کو تضادات اور بے بنیاد الزامات کا مجموعہ قرار دیا ہے اور اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خود عالمی ادارے کی اپنی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

    اقوام متحدہ کی فرانزک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں کہ مبینہ طور پر ولی عہد محمد بن سلمان سمیت سینئر آفیشلز صحافی کے قتل میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی ریپورچر ایگنس کالامارڈ نے، جمال خاشقجی کے ساتھ گزشتہ اکتوبر میں کیا ہوا‘ کے نام سے 100 صفحات کی اپنی رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے اس قتل کو عالمی جرم قرار دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے اس معاملے میں کی جانے والی تحقیقات درست نہیں‌ ہیں. اسی طرح‌ کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی تحقیقات عالمی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سعوی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جس پر سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے ردعمل ظآہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمایندہ کی رپورٹ میں کچھ بھی نیا نہیں ہے اور انھوں نے اپنی غیر پابند رپورٹ میں پہلے سے میڈیا میں شائع اور نشرشدہ مواد ہی کا اعادہ کیا ہے.

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں جمال خاشقجی کیس کی تحقیقات اور ان کے قتل میں ملوّث مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے علاوہ ترکی اور سعودی عرب کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمایندوں نے ان کے خلاف عدالت میں مقدمے کی سماعت ملاحظہ کی ہے۔

    عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی عدلیہ خاشقجی کیس میں مکمل بااختیا ر مجاز اتھارٹی ہے اور وہ مکمل آزادی کے ساتھ کام کررہی ہے. واضح‌ رہے کہ اقوام متحدہ نے بدھ کو 101 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے سے حاصل کردہ ریکارڈنگز پر انحصار کیا گیا ہے۔

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلما ن نے اتوار کو لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط سے انٹرویو میں خاشقجی قتل کیس کے بارے میں بھی گفتگو کی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے واقعات ہماری ثقافت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے اور یہ ہمارے اصول واقدار کے منافی ہیں۔ اسی طرح انہوں‌ نے یہ بھی کہا تھا کہ سعودی حکومت نے اس قتل کے سلسلے میں ضروری اقدامات کیے ہیں،اس کے ذمے داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا ہے اور انضباطی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مکروہ جرائم کو رونما ہونےسے روکا جاسکے۔

  • لودھراں : ریسکیو 1122 کی امدادی کاروائیوں کی تفصیل جاری

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) ڈاکٹر سید ماجد احمد ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122 لودھراں نے19 جون 2019 کی کارکردگی بتاتے ھوئے کہا کہ ریسکیو 1122 لودھراں نے 60ایمرجنسی کال پر اوسط ایکشن ٹائم 6.9منٹ برقرار رکھتے ھوئے ریسپانس کیا اور مریضوں کو فرسٹ ایڈ دیکر ھسپتال منتقل کیا۔ان ایمرجنسیز میں 41 میڈیکل 11روڈ ٹریفک ایکسڈینٹ ،02 الیکٹرک شاک ،01 کرائم اور 05دیگر قسم کی ایمرجنسیاں تھیں۔
    جبکہ ریسکیو 1122 لودھراں نے22مریضوں کو بہتر میڈیکل کی سہولیات کی غرض سے چھوٹے ھسپتالوں سے بڑےھسپتالوں میں پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے شفٹ کیا.۔

  • جنرل قمر جاوید باجوہ سے عراق کے قائمقام سیکرٹری دفاع کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    جنرل قمر جاوید باجوہ سے عراق کے قائمقام سیکرٹری دفاع کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سےعراق کے قائمقام سیکرٹری دفاع نے ملاقا ت کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق اس موقع پر ملاقات میں‌ پیشہ وارانہ اموراورعلاقائی سیکیورٹی صورتحال پرتفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا.

    ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان عراق کےساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتاہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئےعراق کی ترقی سے متعلقہ شعبوں میں تعاون باعث افتخار ہو گا.

  • مقبوضہ کشمیر :گورنر ستیا پال مالک پاکستان کو دھمکی ،پاکستان حریت پسندوں کی معلومات فراہم کرے ،نہیں تو وہ کتنے دھماکوں کو روک پائے گا

    مقبوضہ کشمیر :گورنر ستیا پال مالک پاکستان کو دھمکی ،پاکستان حریت پسندوں کی معلومات فراہم کرے ،نہیں تو وہ کتنے دھماکوں کو روک پائے گا

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کی پاکستان کو دھمکی ،پاکستان سے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا .گورنر نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کو ان حریت پسندوں کی خفیہ معلومات دینے کا پابند ہے. چند قبل مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے فدائی حملے کو روکنے میں اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ،برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک بھی ایسے حملے روکنے میں ناکام رہے ہیں. پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے گورنر ستیا پال ملک نے کہا کہ پاکستان اگر بھارت سے تعاون نہیں کرے گا تو پھر پاکستان کو بھی اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا اور پاکستان اپنی سر زمین پر بم اور دہشت گردانہ حملے روک نہیں پائے گا.