Baaghi TV

Author: +9251

  • پولیس کا سرچ آپریشن،6اشتہاری سمیت 30گرفتار،خطرناک اسلحہ اور منشیات کی بھاری مقدار برآمد

    ڈی پی او مظفرگڑھ صادق علی ڈوگر کی خصوصی ہدایات پر ضلع بھر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف گرینڈ سرچ آپریشنز کا آغاز کردیا گیا۔ ڈی ایس پی جتوئی آصف رشید اور ڈی ایس پی صدر سرکل ناصر نواز کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری جس میں ایلیٹ فورس،کوئیک ریسپانس فورس،ڈولفن سکواڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں نے مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن میں حصہ لیا سرچ آپریشن علی پور کے دور دراز علاقوں، کچہ دریائے سندھ، سیت پور، پتن مقامات، خیر پور سادات، کندائی کے علاقوں میں کیا جارہاہے۔سرچ آپریشن میں مشکوک افراد، کچی آبادیوں، ہوٹلز، سرائے کو چیک کیا جا رہا ہے۔ سرچ آپریشن میں سرکل علی پور و جتوئی پولیس، ایلیٹ فورس، کوئیک ریسپانس فورس ریزرو پولیس کے (1000) ایک ہزار سے زائد جوان و افسران حصہ لے رہے ہیں۔سرچ آپریشن میں بائیو میٹرک ڈیوائسز، سواس سسٹم، ہوٹل آئی، ٹرائیولر آئی، انٹی وہیکل لفٹنگ سسٹم سے چیکنگ کی جا رہی ہے۔ سرچ آپریشن کے ذریعےجرائم پیشہ افراد کی ممکنہ کمین گاہوں کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے۔سرچ آپریشن کے پہلے روز پولیس کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی کامیابی ملی ہے اور اس دوران مختلف جگہوں سے 6 ملزمان اشتہاری، 24 مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ ملزمان سے ناجائز اسلحہ جسمیں کلاشنکوف، کاربین، پستول اور میگزین شامل ہیں برآمد کیا گیا ۔سرچ آپریشن کے دوران 5 کلو گرام منشیات بھنگ اور 50 لیٹر شراب برآمد کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے۔مظفرگڑھ پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران650 افراد کی بائیو میٹرک ڈیوائسز اور قومی شناختی کارڈز کے ذریعے تصدیق کی گئی اور 230 سے زائد گھروں، اور دیگر رہائش گاہوں کی تلاشی لی گئی۔مظفرگڑھ پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈی پی او صادق ڈوگر کی ہدایت پر ضلع بھر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف سرچ آپریش کیا جارہاہے اور یہ سرچ آپریشن دو روز جاری رہے گا۔

  • تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہےتبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی ایک مستقل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ وقت، موسم انسان، معاشرہ اور اقوام سب تبدیلی کا مظہر ہیں۔ عمرانی لحاظ سے تبدیلی سوچ و فکر کے زاویہ اور طرز عمل کے تبدیل ہونے کا نام ہے۔ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ بعض تبدیلیاں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں اور کچھ تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔ بہت سے مواقع پر ہم تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں اور کسی موقع پر ہمیں تبدیلی کے زیرِ اثر خود کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ بعض تبدیلیاں اس قدر مستقل اور باقاعدہ ہوتی ہیں کہ ہم انہیں تبدیلیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ پھر یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر مختلف طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور ہر ایک کی حساسیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اس قدر ذکی الحس ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ کر لیتے ہیں اور کچھ اس قدر غیر حساس ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
    اقوام اور معاشرے افراد سے وجود میں آتے ہیں اور افراد میں انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں ہی قوم میں تبدیلی لاتی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کا اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک افراد تبدیلی کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مد نظر رہے کہ تبدیلی محض ہمارے منصوبہ، عمل اور فکر سے نہیں آنی بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حاکم وقت یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملک یا ادارے میں اصطلاحات چاہتا ہے تو اس کے لیے جہاں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے مطابق لیے گئے اقدامات اہم ہیں وہیں اس کی اور قوم کی انفرادی و مجموعی سوچ بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
    تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خیر القرون میں ہم ایک ایسا فکر انگیز واقعہ دیکھتے ہیں کہ جب حکمران قوم کی فلاح و بہبود اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے رات کی تاریکی میں شہر کی گلیوں میں گشت کرتا ہے اور ایک گھر کے باہر سے گزرتے ہوئے اس کی سماعت سے پر فکر الفاظ ٹکراتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جو اپنی والدہ کا دودھ میں پانی ملانے کا حکم بجا نہیں لاتی اور بتاتی ہے کہ خلیفہ نے اس کام سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لڑکی کا اگلا جملہ ہماری عقل کے بند دریچوں کو وا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ماں نے بیٹی سے کہا کہ خلیفہ کب ہمیں دیکھ رہا ہے تو دانا و زیرک اور خوفِ خدا رکھنے والی لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    بس اس ایک جملے سے تبدیلی کا اصل محرک معلوم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ کیا چیز تھی جس نے اس لڑکی کو ملاوٹ کے اس عمل سے روکا اور وہ کون سی قوت تھی جس نے لڑکی کو انکار کرنے کی اخلاقی جرأت دی؟
    جواب واضح ہے، خوفِ خدا اور بلا تفریق و تمیز احتساب کا احساس۔
    اب ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں تبدیلی کے خواب کو۔ یقیناً حاکمِ وقت تبدیلی کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی لیے جا رہے ہیں۔ مگر گزارش ہے کہ آپ جس قدر بھی احتساب اور قانون کے عمل کو سخت، شفاف اور مستعد کر لیں، چیک اینڈ بیلنس پر سو فیصد عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جتنے بھی ادارے اور ضابطے بنا لیں جب تک احساس ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا حقیقی معنوں میں تبدیلی ناپید رہے گی۔ انفرادی اور مجموعی طور پر خوفِ خدا، تقویٰ اور احتساب کا احساس پیدا کیے بغیر تبدیلی کے اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔
    حکمران سے لے کر وطن کے ہر شہری کو یہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ بے شک اللہ کا خوف ہی حکمت و دانائی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کی علامت ہے۔

  • بجٹ پاس نہیں‌ ہونے دیں گے، نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم وینٹی لیٹر پر ہے، سراج الحق

    بجٹ پاس نہیں‌ ہونے دیں گے، نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم وینٹی لیٹر پر ہے، سراج الحق

    جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم وینٹی لیٹر پر ہے. اس بجٹ کو پاس نہیں‌ ہونے دیں گے اور ایوان سمیت چوکوں‌ و چوراہوں میں احتجاج کریں گے ، اس سلسلہ میں‌ 23 جون کو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق منگل کوجماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام قومی بجٹ سیمینار کاانعقاد کیاگیا۔جس کی صدارت امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کی جبکہ سیمینارمیںماہرین معیشت نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔سیمینارسے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم ،ماہرمعیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی،نائب امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ،اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلی محمد عامر،جی آئی کسان و کسان بورڈ کے سربراہ چوہدری نثار احمد ایڈوکیٹ ،صحت کے ماہر و پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد ارشد،ماہر زراعت و قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسرانورشاہ،ماہر بینکنگ ڈاکٹر عتیق ظفر،ڈاکٹر اسد زمان ماہر معیشت ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

    رپورٹ کے مطابق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ ملک مہنگائی اور تباہی کی طرف جارہاہے، اس سازش کو ناکام کریں گے ۔ سیمینار سے ماہرین معیشت نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے تین سال مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوگا،اگر ایک سال میں آئی ایم ایف پروگرام سے نہ نکلے تو پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہوگا۔امریکہ معاشی حالت خراب کرکے ملک میں سیاست حالات خراب کرنے کی کوشش کررہاہے یہ وفاقی بجٹ پاکستان کے لیے تباہی کا ایجنڈا ہے۔کسی صورت پاس ہونے نہ دیاجائے ۔آئی ایم ایف کوامریکہ اپنے ہتھیارکے طورپر استعمال کررہاہے ۔

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑتاہے اللہ ان کی معیشت تنگ کردیتاہے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ قوم اس پر اتفاق ہے کہ یہ بجٹ ناکام ترین و بدترین بجٹ ہے سب ماہرین نے اس بجٹ کو مسترد کردیا سیاسی استحکام کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے پاکستان ہمارا گھر ہے اور اس کشتی کو سائل تک پہچانے کے لیے فکر مند ہیں ہمارے گھر میں آگ لگی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ ورلڈکپ میں سرفراز کی کپتانی میں شکست ہوئی ہے اس طرح حکومت کی پوری ٹیم کو شکست ہوئی ہے آئی ایم ایف امریکہ کا کوڑا ہے ، 22پروگرام پاکستان نے آئی ایم ایف کے کئے ہیں 22کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ دو غیر منتخب لوگ کررہے ہیں پروگرام کی ناکامی کے بعد دونوںامریکہ جاکر کسی بینک میں نوکری کریں گے۔حکومت اتنی شور کررہی ہے کہ کوئی بجٹ پر بحث نہ کرسکے مہنگائی سے عوام کی قوت خرید ختم ہوگئی ہے اور وزیراعظم کہے رہاہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے یہ افسوس ناک امر ہے میں سمجھتاہوں کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے حکومت سمجھتی ہے کہ ہمارا کام امن قائم کرناہے اور معیشت کی ذمہ داری آئی ایم ایف اور صحت کی ڈبلیو ایچ او کی ہے۔جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتاہے تو ماضی میں جو ہوا حکمرانوں کے ساتھ ہواوہ اچھا نہیں ہے اس کے بعد ایوان کو تالے لگیں گے حکومت برداشت کامادہ پیدا کرے۔عوام یہ چاہتے ہیںکہ تحریک انصاف نے جو وعدے کئے وہ پورا کرے۔

    انہوں نے کہاکہ ایک کروڑ نوکریوں کے بجائے روزگار ختم ہوگیا گھروں سے لوگوں کو بے گھر کردیاگیاہے تاجر ناخوش ہیں ۔تاجرناخوش ہوں تو ملک ترقی نہیں کرسکتاہے نالائق ٹیم کی وجہ سے پوری قوم ونٹی لیٹر پر ہے۔چینی کی قیمت 3روہیاضافہ کیاگیا ہے اور وقم جانتی ہے کہ شوگر مل کس کے ہیں شوگر مل مافیہ نے حکومت کا لگایاہے اس کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں گنا پیدا ہوتاہے سیمنٹ کے پہاڑ ہیں مگر پھر بھی مہنگا کیاجارہاہے پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ اس بجٹ کو واپس لیاجائے آئی ایم ایف کا معاہدہ ختم کیاجائے سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے اور بجٹ پر مشاورت کی جائے۔پانچ منٹ بھی حکومت نے بجٹ پرمشاورت نہیں کی کس طرح بجٹ پاس کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں بجٹ کو پاس نہیں‌ ہونے دیں‌ گے.

    واضح رہے کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ کومسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس بجٹ کو پاس نہیں‌ ہونے دیا جائے گا.

  • وزیر اعظم عمران خان کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات، بجٹ منظوری سے متعلق اہم امور پر گفتگو

    وزیر اعظم عمران خان کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات، بجٹ منظوری سے متعلق اہم امور پر گفتگو

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دورہ لاہور کے دوران وزیر اعلیٰ‌ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اہم ملاقات کی اور بجٹ منظور کرنے سے متعلق اہم امور پر گفتگو کی گئی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور میں سیاستدانوں نے دونوں ہاتھوں سے خزانہ لوٹا جس پر آج ہم اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، اب پاکستان ان شاء اللہ بہتر سمت پر چل نکلا ہے، حکومت کی معاشی پالیسیوں‌ کے بہت جلد مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب کو ہدایت جاری کی کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے، اس معاملے میں کسی جگہ بھی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں‌کسی جگہ کرپشن برداشت نہیں‌ ہو گی. عوام کا پیسہ صرف عوام پر ہی خرچ ہونا چاہیے.

  • سوشل میڈیا صارفین نے لگایا شاہ رخ خان پر اقربا پروری کا الزام

    سوشل میڈیا صارفین نے لگایا شاہ رخ خان پر اقربا پروری کا الزام

    شاہ رخ خان کے فرزند، آرین خان،کی فلم میں داخلے پر سوشل میڈیا کے صارفین کی طرف سے ہجوم نے الزام لگایا ہےکہ شارخ خان اپنے اقربا کی حیمایت کرتے ھیں . ایرین خان کے ساتھ فلم نویں میں داخلہ کا اعلان کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وہ عیسی ڈزنی کی متحرک فلم لائن کنگ کے ہندی ورژن میں صوتی اور نظم و ضبط آواز دے گیں. اداکار کے اعلان کے بعد، ان کے مداحوں نے بہت گرمی دیکھیای بہت سے فنکاروں نے بیٹے کے دروازے پر شارخ خان کو بھی مبارکباد دی اور لیکن کچھ ایسے پرستار ہیں جو اس کو پسندنہیں کرتے ہیں. شارخ خان کے انے پر تنقید کی گئی تھی. للیہ منٹل کے نام سے ایک صارف نے لکھا کہ ڈزنی جانتا تھا کہ بھارت میں لائن سکرپٹ فروخت کرنے کے لئے بہت زیادہ حمایت ہوگی. کیونکہ ہم اس کے حقدار ہیں کیونکہ، ہم ایرین فلم میں ہچکچاہٹ نہیں کرتے لیکن اس کو پیش کرتے ہیں اور اس کی پیشکش کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اس طرح کی ایک بڑی فلمی پلیٹ میں ڈالتے ہیں، اور یہ کیا ہے .شاما ونود نے تنقید کی ہے کہ "میں کتنا طاقت ہے پیسے، "اقبال پروری کہتے ہیں، جیسا کہ ایک خاتون نے کہا کہ بھارتیوں نے خاندان کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے لیکن بالی ووڈ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے اور اب بھی بالی ووڈ میں رد نہیں کیا جا سکتا. تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ شاخ خان، جو اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتے تھے، اظہار خیال کے حق پر مبنی ایک نیا انداز رکھتے تھے.

  • اسلام آباد پولیس کا چھاپہ، مساج سنٹر پرغیراخلاقی سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث 3 خواتین سمیت 8 افراد گرفتار

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے ایک مساج سنٹر پر چھاپہ مار کر غیر اخلاقی سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث ہونے کے الزامات پر 3 خواتین سمیت آٹھ افراد کو حراست میں‌ لے لیا ہے. پولیس کی جانب سے یہ کاروائی مختلف شہریوں کی جانب سے شکایات درج کروانے پر کی گئی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق شہریوں کی طرف سے بار بار آئی جی اسلام آباد کو شکایت کی جارہی تھی جس پر نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے متعلقہ تھانے کو کاروائی کی ہدایت جاری کیں جس پر ایس پی صدر کی نگرانی میں‌ایف الیون مرکز میں‌قائم مساج سنٹر پر چھاپہ مارا گیا.

    اسلام آباد پولیس نے چھاپہ کے دوران تین خواتین اور آٹھ مردوں‌ کو غیر اخلاقی سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث ہونے پر حراست میں‌ لے لیا ہے. گرفتار کئے گئے افراد سے شراب کی بوتلیں اور دیگر ممنوعہ اشیاء برآمد کی گئی ہیں.

    مقامی پولیس نے گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے.

  • روس :عیسائیت کے بعد اسلام دوسرابڑا مزہب،اسلام کے روس میں مقبولیت کی کہانی روسی مورخین کی زبانی

    روس :عیسائیت کے بعد اسلام دوسرابڑا مزہب،اسلام کے روس میں مقبولیت کی کہانی روسی مورخین کی زبانی

    دین اسلام روس میں کب پہنچا اور اس کے پھیلاوء کی کہانی روسی مورخین کی زبانی ،روس میں دین اسلام کی مقبولیت کا دلچسپ سفر کیسے اور کب شروع ہوا اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے. روسی فیڈریشن میں عیسائیوں کے بعد سب سے زیادہ تعداد مذہب اسلام کے ماننے والوں کی ہے۔ روس کی سرزمین پر اور سب سے زیادہ قفقاز اور پاوولژے میں اسلام تقریبا” منصہ شہود پر اپنے نمودار ہونے کے بعد ہی پھیلنے لگا تھا اور اسلام نے ان تمام صدیوں میں روس کی حکومت میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

    مورخین کے مطابق روس کی سرزمین پر سب سے پہلے شمالی قفقاز کی ریپبلک داغستان کے شہر دربنت کے باسی مسلمان ہوئے تھے جنہوں نے 653 میں عربوں کے ساتھ جنگ لڑی تھی۔ اگرچہ خزر کے علاقے میں شکست کھانے کے بعد عرب لوٹ گئے تھے لیکن اس خطے میں مسلمان موجود رہے تھے جس کی شہادت دربنت کے گورستان میں ” چالیس شہداء” کے نام سے ان مقابر سے ہوتی ہے جو ساتویں آٹھویں صدی عیسوی کے ہیں۔ دربنت کی جمعہ مسجد 733 میں تعمیر کی گئی تھی۔

    روس کے مشہور علاقے شمالی فققاز میں اسلام کے مستحکم ہونے کے بعد اسلام وسط ایشیا میں پہنچا تھا۔ اگرچہ اب وسط ایشیا کی ریاستیں اپنے طور پر خود کفیل ممالک بن چکی ہیں مگر شہنشاہی روس اور سوویت یونین میں ان کا بہت زیادہ کردار رہا ہے۔ آج روس میں تاجکستان،ازبکستان، کرغیزستان اور کزاخستان سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان بستے ہیں جو روس کی مسلمان برادری کی سرگرمیوں میں براہ راست شریک ہوتے ہیں۔

    روس کے یورپی حصے میں بنیادی طور پر اسلام کا مرکز دریائے وولگا سے منسلک خطہ پاوولژے اور یورال کا علاقہ تھے۔ وولژے کے بلگاروں کے حکمران الموش نے 922 میں سرکاری طور پر اسلام کو بطور مذہب قبول کر لیا تھا اور بلگار ریاست میں بغداد کے خلیفہ کے ایلچی کا سفر گواہ ہے کہ اس سے پہلے بھی اس علاقے میں اسلام بہت پھیلا ہوا تھا مساجد تھیں جن کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی تھے۔

    980 کے عشرے میں کنیاز (شہزادہ) ولادیمیر کو بھی اسلام کی دعوت دی گئی تھی مگر انہوں نے بازنطینی پادریوں کا لایا ہوا مذہب عیسائیت اپنے لیے چن لیا تھا۔ مشرقی ذرائع کے یہ کوائف کہ خوارزم میں وہاں کے حکمران وولادمیر (یا بلاد میر) کے اسلام قبول کیے جانے کے بعد وہاں خلیفہ اسلام کا سفارت خانہ تھا ثابت کرتا ہے کہ ان روابط بارے حقائق مصدقہ ہیں۔بعد میں سرکاری طور پر تمام ترک زبان بولنے والے "غول زریں” کے لوگوں نے اپنے خان، ازبیک کے چودھویں صدی عیسوی میں اسلام قبول کرنے کا بعد اس مذہب کو اپنا لیا تھا۔ "غول” کے بکھرنے کے بعد خانوادے بن گئے تھے جن میں کازان کا، وسطی پاوولژے کا، استراخان کا، نژنی (زیریں) پاوولژے کا، سائبیریا میں مغربی سائیبیریا کا، نوگائیسک میں وولگا اور یورال کا، کریمیا میں آج کے کریمیا کا، جنوبی یوکرین کا، روس کے خطے کراسنا دار کا خانوادہ معروف تھا۔ بعد میں ان خانوادوں کو ماسکو کے حکمرانوں نے شکست دے ڈالی تھی۔ اس کے بعد اسلام کی تاریخ روس کی تاریخ میں مدغم ہو گئی تھی۔ جنگوں کے بعد شروع میں مسلمانوں کے معاشرتی مراکز مسجدوں کو، پتھروں سے بنایا جانا ممنوع تھا۔

    روس میں اسلام کی حیثیت مضبوط ہونے کا دور 1767 میں ملکہ عظمٰی ایکاترینا دوم کے دورہ کازان کے بعد شروع ہوا تھا جب انہوں نے پہلے والی ساری پابندیاں ختم کر دی تھیں اور بین العقیدہ جاتی رواداری کے سلسلے میں انہوں نے1773 میں ” تمام مذاہب کے لوگوں میں برداشت” کا حکم صادر کیا تھا۔1788 میں ایکاترینا دوم کے حکم پر روس میں مسلمانوں کی پہلی تنظیم "اورن برگ کا ماگومیدی دینی اکٹھ” قائم کی گئی تھی۔ روس کے مسلمانوں کا رہنما یعنی مفتی کا تقرر ہوا تھا جس کو مسلمان برادری کی جانب سے چنے جانے کے بعد ملکہ کی جانب سے تصدیق لازمی تھی۔ مفتی کا دفتر اوفا میں بنایا گیا تھا۔

    1817 میں شہنشاہ الیکساندر اوّل نے وزارت مذہبی امور قائم کیے جانے کے حکم پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ مفتی کا چناؤ مسلمان برادری کرے گی۔ مگر اصل میں مفتی کا تقرر وزارت امور داخلہ کی جانب سے سفارش کردہ شخصیت کو شہنشاہ مقرر کرتا تھا۔ کہیں جا کر 1889 میں سرکاری کونسل نے قانون میں ضروری ترمیم کی تھی جس کے بعد قانون پر عمل درآمد ہونا شروع ہوا تھا۔ اس کے لیے شرعی قوانین اور عام سرکاری قوانین کو ملا کر دیکھا گیا تھا۔ مفتی اور قضاء کی جانب سے دیے گئے فتاوی کی نگرانی کرنا گورنر کی انتظامیہ اور وزارت امور داخلہ کا کام ہوتا تھا۔ حکومت کے دباؤ پر اورن برگ ماگومیدی دینی اکٹھ” ان شرعی قوانین کو منسوخ کر دیا کرتی تھی جو شہنشاہی روس کے قوانین کے خلاف ہوتے تھے۔

    1910 تا 1913، سینٹ پیٹرزبرگ میں پہلی مسجد پتھروں سے تعمیر کی گئی تھی جو آج بھی موجود ہے۔ اس کی طرز تعمیر میں وسط ایشیا کے مسلمانوں کی طرز تعمیر کا عکس ملتا ہے۔ اس مسجد کا گنبد بہت حد تک سمرقند میں گور امیر (امیر تیمور کا مزار) کے گنبد سے ملتا جلتا ہے اور عمارت کا نقشہ مزار شاہ زندہ سے مماثل ہے۔ مسجد کی دیواروں پر گہرے سرمئی رنگ کا گرینائٹ پتھر ہے جو مسجد کو یادگاری شکل اور پیٹرزبرگ کی شمالی طرز تعمیر کا رنگ دیتا ہے۔
    شمالی قفقاز میں اسلام "جنگ قفقاز” تک بہت گتھا ہوا تھا۔ روس نے یہ جنگ چیچنیا، داغستان اور چرکیسیا کی امامت کے خلاف لڑی تھی۔ روس کی شہنشاہیت کے خاتمے کے بعد سوویت یونین کے قیام کے کچھ بعد تک ایک بار پھر شمالی قفقاز کی امارات قائم کر دی گئی تھیں جہاں شرعی قوانین نافذ تھے۔

    1917 کے فروری انقلاب کے فورا” بعد ” اورن برگ ماگومیدی دینی اکٹھ” کو زیر نگرانی لے لیا گیا تھا اور مفتی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس تنظیم کو چلانے کی خاطر امام حبیب اللہ احتیاموو کی سربراہی میں ایک سولہ رکنی کمیٹی بنا دی گئی تھی۔ سوویت عہد میں ناقابل قبول الحادی حکومت کے خلاف اسلام کی مزاحمت قدامت پسند عیسائیت، جس پر ملک کی آبادی کی اکثریت کاربند تھی، کی جانب سے مزاحمت کے مقابلے میں قوی اور گہری رہی تھی۔ جبکہ خود سوویت حکام کی پالیسی اور سوویت ریاست شروع سے مسلمانوں کے ساتھ نرم رہی تھی اور دینی اعمال پورے کرنے یا مذہبی گروہ بنانے کو تشویش کی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی۔

    1920 میں اوفا میں مسلمانوں کا پہلا وسیع تر اجلاس ہوا تھا جس میں مسلمانوں کی مرکزی دینی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو اورن برگ ماگومیدی دینی اکٹھ کی وارث تھی اور جو یورپی روس، سائبیریا اور کزاخستان کے مسلمانوں کے مذہبی مسائل کے حل کاکام کرتی تھی۔ 1926 میں مسلمانوں کی پہلی کل دنیا کانگریس کا انعقاد ہوا تھا۔ اس میں سوویت یونین کی نمائندگی مسلمانوں کی مرکزی دینی کونسل کی قیادت نے کی تھی۔
    مگر 1920 کے عشرے کے دوسرے نصف میں تمام مذہبی اداروں، بشمول اسلام سے وابستہ اداروں کے خلاف ملحدانہ پرچار کا دباؤ شدید تر ہو گیا تھا۔ دوسرے مذاہب کی مانند اسلام کو بھی بہت ضرر سہنا پڑا تھا کیونکہ اس پرچار کے نتیجے میں اکثر مساجد اور مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو یا تو بند کر دیا گیا تھا یا ان کی عمارات کو منہدم کر دیا گیا تھا۔

    مذہبی تنظیموں سے متعلق ، بشمول اسلامی تنظیموں کے، حب الوطنی کی عظیم جنگ کے دوران کچھ نرمیاں ہوئی تھیں۔ 1945 میں بخارا کا ان زمانوں میں سوویت یونین کا واحد قائم مدرسہ "میرعرب” کھول دیا گیا تھا جس میں پورے ملک کے مذہبی اہلکار 1980 کے عشرے تک تعلیم پاتے رہے تھے، نہ صرف وسط ایشیائی ریاستوں کے بلکہ تاتارستان، بشکیریا، صوبہ پاوولژے، شمالی قفقاز اور آذربائیجان تک کے۔1960 سے 1980 کے عشرے تک قرآن چھاپے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی، قمری تقویم چھاپی جانے لگی تھی، مسجدوں کو مذہبی مستقروں کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا تھا، مجلّہ ” سوویت مشرق کے مسلمان” شائع ہونے لگا تھا۔سوویت یونین کے وجود کے آخری برسوں میں جب 1989سے آزادی اظہار اور تعمیر نو کا آغاز ہوا تھا، اسلام کی جانب سرکاری رویہ مزید مثبت ہونے لگا تھا۔

    1944 سے سوویت یونین کے مسلمانوں کے دینی مسائل کے معاملات ایک دوسرے سے آزاد چار مختلف مراکز دیکھا کرتے تھے یعنی وسط ایشیا اور کزاخستان، ماورائے قفقاز، شمالی قفقاز، سوویت یونین کے یورپی حصے اور سائبیریا کے مسلمانوں کی دینی کونسلیں۔ پھر 1991 تک سوویت روس میں مسلمانوں کی دو دینی کونسلیں وجود رکھتی تھیں، سوویت یونین کے یورپی حصے اور سائبیریا کے مسلمانوں کی دینی کونسل (اوفا میں) اور شمالی قفقاز کے مسلمانوں کی دینی کونسل (مہچ کلا میں)۔

    اس وقت چالیس سے زیادہ اپنے طور پر آزاد مسلمانوں کی دینی کونسلیں (ایوان ہائے مفتیان) تین بڑی مرکز پسند تنظیموں: اوفا میں روس کے مسلمانوں کی مرکزی کونسل، ماسکو میں روس کے مفتیوں کی کونسل اور شمالی قفقاز میں مسلمانوں کے ارتباطی مرکز میں متحد ہیں۔

    روس میں مسلمانوں کی حتمی تعداد اب تک طے نہیں ہو سکی ہے اور بحث کا موضوع بنی رہتی ہے۔ 2002 کی مردم شماری کے مطابق روس میں روایتی طور پر مسلمان لوگوں کی تعداد کا اندازہ ایک کروڑ پینتالیس لاکھ افراد کے قریب تھا یعنی ملک کی کل آبادی کا تقریبا” دس فیصد۔ روس کے یورپی حصے کے مسلمانوں کی دینی کونسل کے اندازے کے مطابق اس وقت روس میں اسلام کو ماننے والوں کی تعداد دو کروڑ افرد تک ہے۔

    مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونا جاری ہے خاص طور پر شمالی قفقازکی قوموں میں کثیر الاولادی کے باعث اور ساتھ ہی تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے مسلمان تعداد میں زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ تارکین وطن زیادہ تر وسط ایشیائی ملکوں اور آذربائیجان سے آ رہے ہیں۔
    مسلمانوں کی اکثریت سنی ہے۔ شیعہ اقلیت میں ہیں۔ داغستان، چیچنیا اور انگوشیتیا میں تصوف بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے۔

  • فیصل آباد جی سی یونیورسٹی، ہراسانی کی شکایت پر خاتون ٹیچر کو ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا

    فیصل آباد جی سی یونیورسٹی، ہراسانی کی شکایت پر خاتون ٹیچر کو ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا

    فیصل آباد کی جی سی یونیورسٹی کی جانب سے ہراسانی کی شکایت درج کروانے پر خاتون ٹیچر کو ہی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہراسانی کی شکایت شعبہ ابلاغ عامہ کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سلمیٰ عمبر کی جانب سے کی گئی تھی جبکہ انہیں‌ اب عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے. ڈاکٹر سلمیٰ عمبر نے یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف عدالت میں رٹ دائرکر دی ہے. جی سی یونیورسٹی کی خاتون ٹیچر کی طرف سے ایک طالب علم کے خلاف انہیں‌ ہراساں‌ کرنے کی شکایت کی تھی جس پر تحقیقات کی گئیں اورڈسپلن کمیٹی نے جرم ثابت ہونے پر ہراسانی میں ملوث طالبعلم کو معطل کر کے یونیورسٹی میں داخلہ بند کردیا تھا۔

    ڈاکٹر سلمیٰ نے رٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈسپلنری کمیٹی نے میرے حق میں فیصلہ دیا مگر وائس چانسلر نے مجھے ہی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ شعبہ ابلاغ عامہ ڈیپارٹمنٹ میں ایم فل کے طالبعلم وسیم نواز نے 15 مئی کو ڈاکٹر سلمیٰ عمبر کے دفتر اور برآمدے میں انہیں گالیاں دیں تھیں، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی جس میں طالبعلم کو جھگڑا کرتے اور ہنگامہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے برطرف کئے جانے پر ڈاکٹر سلمیٰ‌ عمبر نے سخت احتجاج کیا ہے اور عدالت میں‌ رٹ‌ دائر کی ہے.

  • اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو زبان کی چاشنی اور حسن کے اب روس کے تعلیمی اداروں میں چرچے اور مقبولیت .روس کے اعلیٰ اداروں میں اردو زبان کو سیکھایا جانے لگا .اس وقت اردو زبان ماسکو کے تین اعلیٰ اداروں میں سکھائ جاتی ہے یعنی ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیائ اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ، بین الاقوامی تعلقات کے انسٹی ٹیوٹ اور روسی ہیومینٹیرین یونیورسٹی میں جہاں اردو اسی سال 2007 میں پڑھائ جانے لگی-

    دلچسپ بات ہے کہ خواہش مند نوجوان سینٹ پیٹرزبرگ کی یونیورسٹی، سائبریا اور مشرق بعید کے چند اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بھی اردو سیکھ سکتے ہیں- تاہم علم شرقیات کا سب سے مشہور اور باوقار روسی اعلیٰ تعلیمی ادارہ ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ہے- ویسے تو ریڈیو "صداۓ روس” کے شعبۂ اردو کے زیادہ تر آناؤنسر اور مترجم اسی انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ہیں- مطلب یہ کہ آپ ہمارے پروگرام سنتے ہوۓ اس انسٹی ٹیوٹ کی تعلیم کے معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں-

    افریقی اور ایشیائی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ 50 سے زیادہ سال پہلے قائم کیا گیا- یہ ایک انوکھا تعلیمی ادارہ ہے، جہاں اسلام شناسی، ہندوستان شناسی، چین شناسی اور دوسرے علوم کے مطالعہ کی روسی روایات برقرار رکھی جاتی ہیں- ایشیائ اور افریقی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ماسکو یونیورسٹی کا ایک شعبہ سمجھا جاتا ہے اس لیے وہاں طلباء کو ہمہ گیر معلومات فراہم کی جاتی ہیں- مگر اہمترین مقام علم شرقیات کو حاصل ہے

  • پی سی بی کے گورننگ بورڈ کا اہم اجلاس، ورلڈ کپ کے بعد تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ

    پی سی بی کے گورننگ بورڈ کا اہم اجلاس، ورلڈ کپ کے بعد تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کا 54 واں اجلاس ہوا ہے جس میں‌ اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قذافی اسٹیڈیم میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی زیر صدارت ہونے والے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں تمام فیصلوں کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی اور اس امر کا فیصلہ کیا گیا کہ ورلڈ کپ کے بعد قومي ٹيم کي تین سالہ کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ گورننگ بورڈ نے ٹيم کي کارکردگي کو توقعات سے کم تر قرار ديا ہے۔

    اجلاس میں ایم ڈی وسیم خان نے اپنے دورہ انگلینڈ سے متعلق اراکین کو بریفنگ دی اور انہیں بتایا کہ انگلش کرکٹ بورڈ اور مختلف کاونٹیز کے ساتھ پلیئرز اور آفیشل ایکسچینج پروگرام شروع کیا جارہا ہے ۔ گورننگ بورڈ نے بگٹی سٹیڈیم کوئٹہ کو کمرشلائز کرنے اور ڈیلیوٹ یوسف عادل کمپنی کو بورڈ ایکسٹرنل آڈیٹر مقرر کرنے کی منظوری دی۔ گورننگ بورڈ اراکین نے آئيندہ سال ستمبر ميں ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے چئیرمین پی سی بی احسان مانی کو اس کامیابی پر مبارک باد پیش کی ۔ اجلاس میں کوئٹہ بغاوت کے مرکزی کردار معطل رکن نعمان بٹ کے علاوہ گورننگ بورڈ کے تمام اراکین نے شرکت کی

    اجلاس میں اس امر کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ ورلڈ کپ کے بعد قومی ٹیم کے کھلاڑیوں، کوچز اورسلیکشن کمیٹی کی تین سالہ کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا ۔ اجلاس میں ایم ڈی کی تقرری اور چئیرمین کے اختیارات کی منتقلی کی توثیق کی گئی چیئرمین کے اختیارات ایم ڈی کو منتقل کیے جانے کے بعد وہ جونئیر و سینئر سلیکشن کمیٹی ، کپتان اور کوچ کی تعیناتی ، کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کی منظوری اور ڈومیسٹک کرکٹ جیسے اہم امور کے فیصلوں کا اختیار ایم ڈی کو حاصل ہوگا۔

    واضح رہے کہ ورلڈ کپ میں‌ پاکستانی ٹیم کی انڈیا کے ہاتھوں‌ بری طرح شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے اہم نوعیت کےا قدامات اٹھائے جارہے ہیں جبکہ عوامی سطح‌ پر بھی پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم کے کھلاڑیوں‌ پر سخت تنقید کی جارہی ہے.