سرگودھا،کوٹ مومن(نمائندہ باغی ٹی وی )نواحی علاقہ کوٹ عمرانہ میں ایڈز سے متاثرہ پانچ افرادچل بسے ہیں۔ایک سال قبل کوٹ عمرانہ میں ایڈز کے 300 سے زائد مریضوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔جن کی تعداد 480 کے قریب پہنچ چکی ہے
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ برس حکومت کی طرف سے 1800 سے زائد مریضوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کیے گئے تھے ۔ ٹیسٹوں کے بعد تین سوسے زائد مریضوں میں ایچ آئی وی پازیٹوآنے پرعلاقے میں ایڈز کی وبا کی نشاندہی ہوئی تھی۔
نمبردار کوٹ عمرانہ چوہدری اکرم نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ایک سال قبل انتظامات کیے گئے تھے اب کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
علاقہ مکین ضیاء رانجھا نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے مریضوں کو ادوایات کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے ۔
مقامی لوگوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ حکومت کوٹ عمرانہ میں ہلاکتوں کا نوٹس لے ،ایڈز کے مریضوں کو ادوایات فراہم نہ ہوئیں تو ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں ۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے26مئی کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ملک میں ایک لاکھ 63 ہزار افراد کے ایڈز میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ رتو ڈیرو لاڑکانہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ تاریخ میں اتنی تیزی سے ایڈز کی بیماری نہیں پھیلی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ڈپارٹمنٹ نے 21 ہزار 375 لوگوں کی اسکریننگ کی گئی، جس میں 681 افراد میں ایڈز کی بیماری پائی گئی جن میں 537 بچے متاثر تھے جبکہ ان بچوں کے والدین ایڈز کے مرض میں مبتلا نہیں ہیں۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ موذی مرض ایڈز کے پھیلنے کی وجہ استعمال شدہ ٹیکے ہیں جنہیں دوبارہ پیک کر کے مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ غیر معیاری خون کے انتقال کی وجہ سے بھی ایڈز پھیلتا ہے تاہم صوبائی حکومت محنت سے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
Author: +9251
-

سرگودہا نواحی علاقے کوٹ عمرانہ میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ اور ہلاکتیں
-

رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی
رزق حلال عین عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو حرام ذرائع سے رزق کمانے سے منع فرمایا ہے انسان کی قسمت میں لکھا رزق اس کو مل ہی جاتا ہے اب یہ اس پہ منحصر ہے کہ وہ جائز طریقے سے محنت و کاوش سے حاصل کرتا ہے یا پھر ناجائز طریقوں سے چوری ڈکیتی سود کرپشن یا رشوت خوری سے حاصل کرتا ہے..
رشوت خوری معاشرے کے لیے ناسور بنتا جا رہا ہے آپ جس ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں آپ کا کام تبھی ہو گا جب آپ سے تحفے تحائف اور انعام کے نام پہ رشوت نہ لے لی جاۓ ورنہ آپ کا کام پڑا رہے گا اور کسی صورت بھی آپ کی فائل وغیرہ آگے نہیں جاۓ گی.
رشوت انسانی معاشرے کے لیے خطرناک اور مہلک مرض ہے. جس معاشرے میں رشوت عام ہو جاۓ اس معاشرے میں حق و سچ کا خون ہو جاتا ہے اور باطل ہمیشہ رشوت کی آڑ میں بدمعاشی کرتے ہوۓ دندناتا پھرتا ہے جس کی وجہ سے انصاف سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور کئی لوگوں کی بغاوت کا باعث بن جاتا ہے.
رشوت کے کئی نقصانات ہیں مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے آپ کا اخلاق پستی کے دہانے پہ چلا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کی کوئی عزت نہیں رہتی اور نہ ہی اس آفیسر میں کسی قسم کا رعب ہوتا ہے نہ دبدبہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بھیک مانگنے والوں کی طرح سب کے آگے ہاتھ پھیلانا ہوتا ہے تو وہ سر اٹھا کے کیسے چل سکتا ہے اور کیسے انصاف دے سکتا ہے وہ حاکم ہو یا محکوم پولیس والا ہو یا ملزم جج ہو یا وکیل پھر سب ہی غرباء اور ایمانداروں کے دشمن بن جاتے ہیں۔
رشوت لینے والا پیسوں اور سٹیٹس کا پجاری بن جاتا ہے اور یہ چیز اس کی فطرت میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے برا سمجھنے کی بجاۓ اپنا حق سمجھنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اصول و قوانین کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوۓ اللہ تعالیٰ کا باغی بن جاتا ہے اور دنیا کی رعنائیوں میں مگن ہو جاتا ہے.
حرام کمانے اور حرام کھانے والوں کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے نہ کوئی صدقہ خیرات اور نہ ہی کوئی نیکی قابل قبول ہے نہ ہی اس کی کوئی دعا سنی جاتی کیونکہ جس بندے کا کھانا لباس اوڑھنا بچھونا اور رگ رگ حرام کی کمائی سے تر ہے تو اس کا نہ عمرہ قبول ہے نہ حج نہ نماز نہ زکوۃ یہاں تک کہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف تک کو پکڑ کے دعائیں مانگے میرا اللہ اس کو بھی ٹھکرا دیتا ہے کیونکہ اس کے احکامات کو پس پشت ڈال کر حرام کے پیسے کو گھر کی زینت بنا کر اسی رب سے دعا کرو گے تو وہ واپس ہی پلٹے گی کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ کرنا کپڑے کو پیشاب سے دھو کے پاک کرنے کے مترادف ہے۔
رشوت کے نام پہ تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اور رشوت لینے والے نے اب یہ جواز ڈھونڈ لیا ہے کہ یہ رشوت نہیں ہے یہ تو گفٹ ہے اور اس کا کوئی گناہ نہیں لیکن میرا ان سے یہ سوال ہے کہ اگر آپ کسی جگہ پہ پولیس آفیسر تعینات ہوۓ ہیں اور لوگ آپ کو گفٹ دیتے ہیں تو کیا جب وہ اپنا ناجائز کام لے کر آئیں گے تو آپ اس کو ذلیل کرکے دھکے دے کے آفس سے نکالیں گے؟
کیا گفٹ آپ کی ڈیوٹی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے؟؟
کیونکہ گفٹ وہی دیتے ہیں جنہوں نے اپنے کام نکلوانے ہوتے ہیں کوئی بھی ایماندار اور حلال رزق کمانے والا بندہ پولیس کو کبھی بھی گفٹ نہیں دیتا صرف وہی دیتے ہیں جو کرپٹ ہوں اور جن کو آۓ روز آپ سے کام پڑنے ہوں.
اب آپ ہی بتائیں کیا ایک ایماندار آفیسر گفٹ لیتا ہے؟
ہرگز نہیں کیونکہ ایسا گفٹ بھی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔
رشوت ستانی دو جہاں مالِ ناحق کھانے کا ذریعہ ہے وہیں میرٹ کا بھی خاتمہ کر کے رکھ دیتی ہے اور اہل کو اس کے حق سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے۔قرآن مجید میں رشوت لینے والے کے لیے سخت وعید ہے اللہ پاک فرماتے ہیں.
(اے پیغمبر) یہ لوگ جھوٹ سننے والے اور حرام مال (رشوت) کھانے والے ہیں.
دوسری جگہ فرماتے ہیں
اور ان میں سے تم بہت سوں کو دیکھو گے کہ گناہ و زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک یہ بہت برے کام کرتے ہیں۔
(سورۃ المائدہ آیت نمبر 62)اللہ نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور دونوں کا ٹھکانا جہنم بنایا ہے.
رشوت کی مختلف اقسام ہیں جیسا کہ میں نے اوپر بھی ذکر کیا ہے مثال کے طور پہ حق کو باطل کرنے اور باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے پیسوں کا لین دین کرنا ظلم و جبر کا دفاع کرنے کے لیے رشوت دینا کسی منصب پہ فائز ہونے کے لیے پیسے وغیرہ دینااور یہ مختلف صورتوں میں لی جاتی ہے نقد رقوم کی صورت میں تحفے تحائف کی صورت میں اور کبھی دعوتوں کی صورت میں.. غرض کہ رشوت جس صورت میں بھی لی یا دی جاۓ وہ اسلام میں سراسر غلط اور ناجائز ہے اور یہ جہنم کی طرف لے جاتی ہے..ہمیں چاہیے کہ معاشرے کے اس ناسور سے چھٹکارہ حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی حرام کمائی سے محفوظ رکھتے ہوۓ ان کی تربیت پہ زور دیں نہیں تو یہ حرام مال سے جوان ہونے والی اولادیں بھی والدین کے لیے دنیا و آخرت میں عذاب بن جائیں گی اور آپ کے لیے آگ کا ایندھن ثابت ہوں گی اللہ سے رزق کی فراوانی کی بجاۓ اس رب سے رزق میں برکت طلب کریں اور اس پہ کامل بھروسہ کرتے ہوۓ حلال رزق پہ ہی اکتفا کریں کیونکہ اگر آپ کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں تو رشوت سے توبہ تائب ہوں اور اللہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ حرام مال کی وجہ سے آپ سے ناراض ہے اور آپ کی کوئی عبادت، صدقہ، خیرات، نماز، روزہ یا دعا بھی قبول نہیں ہو رہی۔
اللہ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ -

بی آر بی نہر سے لڑکی کی نعش برآمد ، تاحال شناخت نہ ہو سکی ، ریسکیو ذرائع
قصور:-
ریسکیو 1122 قصور نے بی آر بی نہر سے ایک لڑکی کی نعش برآمد کی ہے۔ جس کی عمر 18 سے 20 سال بتائی جا رہی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق لڑکی نے پینٹ اور شرٹ پہن رکھی ہے ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی۔ ورثاء کی تلاش جاری ہے ۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کردی ہے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور منتقل کر دیا ہے۔
-

سرگودہا میں بادلوں کا راج ٹھنڈی ہواؤں سے موسم خوشگوار کہیں کہیں بارش
سرگودہا(نمائندہ باغی ٹی وی)سرگودہا میں شدید گرمی کے بعد آج موسم تبدیل ہو گیا ہے شہر میں کالے بادل چھائے ہوئے ہیں کہیں کہیں شدید آندھی کے ساتھ ساتھ بارش بھی ہوئی ہے جس سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے پچھلے کئی روز سے سرگودہا ڈویژن میں شدید گرمی پڑتی رہی ہے بارش فصلوں کیلیے مفید ثابت ہو گی اور درجہ حرارت میں کمی واقع ہو گی
-

واپڈا کی غفلت سے نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا
لاہور تحصیل رائیونڈ
لاہور:
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھوبتیاں گاؤں کے علاقے محلہ انصاریاں والا میں زیر تعمیر تین منزلہ عمارت سے گزرتی الیون کے وی تاروں کو چھونے سے عابد نامی نوجوان ہلاک ہوگیا ہے۔پچیس سالہ عابد نامی نوجوان مزدوری کے لیے ارشد نامی شخص کے گھر زیر تعمیر مکان پر کام کر رہا تھا کہ اچانک اس کا ہاتھ الیون کے وی کی تاروں سے لگ گیا ۔ مین تاروں میں کرنٹ لگنے کی وجہ سے عابد کو فوری جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا ۔
اہل محلہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عابد کی ہلاکت لیسکو واپڈا کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہوئی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ محلے سے گزرتی تاروں پر حفاظتی انتظامات کیلئے متعدد بار ایس ڈی او علاقہ نواب صاحب سرکل اور ایکسین رائیونڈ کو آگاہ کیا گیا مگر متعدد بار کہنے کے باوجود ایس ڈی او اور ایکسین رائیونڈ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تاہم چوکی شیر شاہ پولیس نے ضروری کارروائی کیلئے متوفی عابد کی ڈیڈ باڈی کو قبضہ میں لیکر تفتیش شروع کر دی ہے .
-
دریائے چناب سے نامعلوم لاش برآمد
مظفرگڑھ میں تھانہ شہر سلطان کی حدود میں نامعلوم شخص کی لاش دریا چناپ سے برآمدکر لی گئی،پولیس کے مطابق لاش شہر سلطان کے قریب دریا میں تیرتی ہوئی ملی۔پولیس نے لاش تحویل میں لیکر قانونی کاروائی شروع کرتے ہوئے لاش کو دیہی مرکز صحت منتقل کردیا جبکہ متوفی کی شناخت تاحال نہ ہوسکی۔
-
بلوچستان کے متاثرین تھری الائنس کا ڈی جی نیب سے سوال۔
ڈی جی نیب صاحب یہ جو آپ نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان سے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے اجازت نامہ ہو پھر اپنا کاروبار اس کمپنی کے کر سکتے ہو۔
سر یہی تو بات ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اجازت نامہ نہیں تھا تو سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان کا لائسنس تو تھا جو ہم بدبخت عوام نے اعتبار کرکے اپنا لاکھوں روپیہ کمپنی میں لگایا تھا اب درخواست بھی ہم نے جمع کروائے ہیں پھر بھی یہ خاموشی مشکوک ہے اور نہ کاشف قمر کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے اور نہ کوئی گرفتاری جب کے نہ کاشف قمر کو گرفتار کر رہے ہیں اور نہ ہی اسکو آنے دے رہا ہے تا کہ وہ اپنا کام شروع کر سکیں یہ ماجرا کیا ہے اور کیا کاشف قمر کے آنے سے کوئی راز پاش ہوگا اسی وجہ سے اسے آنے نہیں دیا جارہا ہے یا پھر کوئی اور بات ہے
سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان کا اجازت نامہ پر بھی واویلا تھا کہ جھوٹآ ہے اور اب خود تائد بھی کر رہے ہو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان کا اجازت لازمی ہے۔ -
سرکاری ہسپتالوں میں ایمبولینسز کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو لوڈر رکشہ پر ہسپتال لایا جانے لگا
محکمہ صحت میں انقلاب کے حکومتی دعووں کے برخلاف شعبہ صحت میں کوئی تبدیلی نہ آسکی۔مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو میں بزورگ مریض کو لوڈر رکشہ پر ہسپتال لائے جانے کی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی۔فوٹیج میں دیکھا جاسکتاہے کہ سخت گرمی میں بزرگ مریض کو لوڈر رکشے پر ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ ادو لایا جارہا ہے۔مظفرگڑھ کے سرکاری ہسپتال کو ایمبولینسز کی کمی کا سامنا بروقت ریسکیو رسپانس نہ ملنے پر مریضوں کوان کے لواحقین اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال لانے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف کوٹ ادو میں ریسکیو 1122 آفس فعال نہ ہونے کی سبب ایمرجنسی کی صورتحال میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
-

اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی
بدعت کا لفظ بدع سے لیا گیا ہے
جس کا معنی ہے کسی چیز کا ایسے طریقہ پر ایجاد کرنا جس کی پہلی مثال نہ ہو۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (البقرہ ١١٧)
وہ آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہےابن حجر عسقلانی نے فرمایا:
بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔شرعی اصطلاح میں بدعت کا حکم ہر اس اس فعل یا مفعول کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا وجود خود قرآن و سنت کی نص سے ثابت نہ ہو اور وہ قرآن و سنت کے بعد ظاہر ہو۔
بدعت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے کہ
"وہ چیز جو دین میں سے نہ ہو،اس کو دین میں شامل کردینا”
الجرجانی کہتے ہیں:
کسی چیز کو اس طرح ایجاد کرنا کے اس سے پہلے نہ اس کا مادہ ہو نہ زمانہ ہو اور بدعت ہر وہ وہ کام ہے جو سنت کے مخالف ہو۔الراغب کہتے ہیں:
ایساقول لانا جس کا کہنے والا اور کرنے والا اس کام میں صاحب شریعت کی پیروی نہیں کرتا یعنی صاحب شریعت کی سنت اختیار نہیں کرتا اور پہلی مثالوں اور مضبوط اصولوں کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
"دین میں ایجاد کردہ نیا طریقہ جس پر عمل کرنے سے اجر و ثواب اور اللہ کا قرب حاصل کرنا مقصود ہو بدعت کہلاتا ہے”
دین میں ہر بدعت حرام اور باعث گمراہی ہے۔
بدعت کی دو اقسام ہیں
1۔عقیدے میں بدعت مثلا جہمیہ ، معتزلہ ، رافضہ اور دیگر فرقوں کے باطل عقائد۔
2۔ عبادات میں بدعت خود ساختہ اور غیر شرعی طریقوں سے اللہ کی عبادت کرنا مثلا نفس عبادت ہی بدعت ہو یعنی کوئی ایسی عبادت ایجاد کر لی جاۓ جس کی شریعت میں اصل نہ ہو مثلاً غیر شرعی نماز ، خود ساختہ روزہ وغیرہ۔شریعت کی مقرر کردہ عبادات میں زیادتی ہو جیسے ظہر یا عصر کی نماز میں پانچویں رکعت بڑھا دینا اپنے آپ میں اتنی سختی کرنا کہ وہ سنتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تجاوز کر جاۓ مثلاً ہمیشہ روزہ رکھنا ، نکاح نہ کرنا پوری رات قیام کرنا وغیرہ۔
وہ عبادت جسے شریعت نے کسی وقت کے ساتھ خاص نہ کیا ہو جیسے مسنون اذکار اور دعاؤں کو غیر ثابت شدہ طریقہ پر ادا کرنا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ غلام ہو ، پس تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو پکڑ لینا لازم ہے اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا بلکہ داڑھوں سے پکڑے رہنا اور (دین میں) نئی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔عرباض رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بدعات سے بچو”ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے نیکی سمجھیں۔بدعت سے بچنے کا طریقہ:
کتاب وسنت پر مضبوطی سے جمے رہنے ہی سے بدعت و گمراہی میں پڑنے سے بچا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ بہت سارے راستے ہیں ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان ہے جو اپنی جانب بلا رہا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
(ترجمہ) اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سنت میں درمیانی چال ، بدعت میں کوشش کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔بدعت کے نقصانات
حسّان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو قوم اپنے دین میں نئی بدعت ایجاد کرتی ہے اللہ تعالی ان میں سے اس بدعت جیسی سنت کو اٹھا لیتا ہے اور پھر اسے دوبارہ ان لوگوں کے پاس قیامت تک نہیں لوٹاتا۔
بدعت ہلاکت کا باعث ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ہر عمل میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کے بعد ایک وقفہ ہوتا ہے جس کا وقفہ اسے سنت کی طرف لے گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور جس کا وقفہ اسے کسی اور چیز کی طرف لے گیا تو وہ ہلاک ہو گیا۔بدعت حوضِ کوثر سے محرومی کا سبب ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بیشک میں تمہارے لئےحوض ِکوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے بچنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہاں سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں کہوں گا ایسا کیوں ہے تو کہا جائے گا کہ بے شک آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے جانے کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
تو میں کہوں گا دور ہو جاؤ۔بدعت سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع نقل کیا گیا ہے:
بے شک اللہ تعالی نے توبہ کو ہر بدعتی سے پردے میں رکھا ہے۔سفیان ثوری کہتے ہیں:
بلاشبہ ابلیس کو گناہ سے زیادہ بدعت پسند ہے کیونکہ بدعت کے بعد توبہ نہیں کی جاتی جبکہ گناہ سے توبہ کی جاتی ہے۔بدعتیوں کی تردید ان کی نکیر اور ان کو مسلسل اس عمل سے منع کرتے رہنا ہی مطلوب ہے اس کی مثال صحابہ اور سلف صالحین کے طرز عمل سے ملتی ہے۔
مزکورہ روایات واضح دلیل پیش کرتی ہیں کہ دین میں بدعت کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور بدعت سراسر گمراہی کیطرف لے جاتی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے کا سبب بنتی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بدعت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وماعلینا الا البلاغ المبین۔ -
لودھراں : بڑی مقدار میں منشیات برآمد
لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) میں تھانہ سٹی لودھراں کی حدود میں منشیات فروش دھڑلے سے چرس کی فروخت کر رہے تھے جس کی مخبری پر لودھراں تھانہ سٹی پولیس کے ایس ایچ او غلام صابر قریشی نے دو مختلف جگہوں پر چھاپہ مار کر 2 منشیات فروشوں کو چرس فروخت کرتے ہوئے موقع پر گرفتار کر لیا ملزمان کے قبضہ سے اڑھائی کلو گرام سے زائد چرس برآمد ہوئی ہے جس کی ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں علیحدہ علیحدہ درج کر لی گئی ہے جبکہ برآمد ہونے والی چرس کے نمونے تصدیق کے لئے لیبارٹری روانہ کر دیئے گئے ہیں