قبائلی علاقوں کی ترقی کےلیے22 ارب روپے مختص
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت موجودہ بجٹ میں قبائلی علاقوں کی ترقی اورفلاح و بہبود کے لیے موجودہ حکومت خاص توجہ دیے ہوئے ہے.اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان حالیہ عرصے میں متعدد دورے کر چکے ہیں.یہاں صحت ،تعلیم اور انفراسٹرکچر کے لیے ترجیحا کام کیا جارہا ہے.اس طرح ان کے ہاں دہشت گردی اور نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے جو محرومیاں ہیں. ان کا مداوہ ہو سکے گا.یہ اقدام قبائلی علاقوں کے لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کےلیے سود مند ثابت ہوں گے.
Author: +9251
-

قبائلی علاقوں کی ترقی کےلیے22 ارب روپے مختص
-

بلا عنوان ۔۔۔ محمد ساجد
کچھ دنوں سے مختلف ممالک( امریکہ، جرمنی، آسٹریلیا) میں احتجاج ہو رہا ہے۔ جن میں خڑ کمر، وزیرستان میں فوج اور پی ٹی ایم کے جوانوں کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے ‘معصوم افراد’ کیلئے انصاف کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو اسلحہ تک اٹھانے کی طیش دی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ ‘لر او بر یو افغان’ کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان احتجاجوں میں کثیر تعداد افغانستان کے پشتونوں کی ہوتی ہیں۔ جو کہ ان کہ بولنے کے انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ فوجی جوان بھی اس واقعے میں رحلت کر گئے ہیں وہ کسی کے دم کرنے سے، کوئی جادوئی کلمات پڑھنے سے یا صرف ‘معصوم افراد’ کی لعن طعن والی احتجاج سے اپنی سانسوں پر قابو نہ رکھ پائے۔ کیا مومن، شہریت اور انسانی حقوق کے اعلی درجوں پر صرف ‘معصوم لوگ’ ہی فائز تھےکہ صرف ان کے لیے احتجاج جائز ہے؟ کیا اس دوران ‘معصوم افراد’ کی معصومانہ ذہنیت کو تشدد کی ترغیب کی بجائے کتاب یا سپارہ کی تلقین نہیں کی جاسکتی تھی؟
سچائی کے حوالے سے لفظ ‘معصوم’ کی تعریف ‘مخلص’ بنتی ہیں کہ جس نے اپنے اندر کے ڈوئلٹی کو روک رکھا ہو، اسے ختم کر دیا ہو، اندر کے ہر باطل کو مٹا دیا ہو، اندر کا ہر پوشیدہ منکشف کر دیا ہو، ہر باطن ظاہر کر دیا ہو اور اپنے اندر کے ہر پر تشدد اجتماع کو روک رکھا ہو۔
اج کل پشتون پیشہ ور سیاسی لیڈران نوجوان نسل کو تاریخ دیکھنے کی تلقین کرتے کرتے نہیں تھکتے اور بیانیہ ہوتا ہے کہ پشتون کو فلاں جگہ استعمال کیا گیا، فلاں جگہ پشتون کے حقوق چھینے گئے۔ فلاں سن میں پشتونوں کو مذہب اور بہادری کے نام پر استعمال کیا گیا۔ پھر جب نوجوان پشتون نسل نے تاریخ دیکھنا شروع کی تو ان کو پتہ چلا 1979 سے آگے کی بھی تاریخ خصوصا پاکستان اور افغانستان کی۔ پاکستان میں "پختونستان” کے علمبرداروں میں ایک ریڈیکل نیشنلسٹ محمود خان اچکزئی آج تک "پختونستان” کے خدوحال اور مستقبل بیان نہیں کر سکا کہ پختونستان کا تصور ایک الگ صوبہ کا ہے یا ایک الگ خودمختار ریاست کا۔ محمود خان خود پانچ ہزار سال سے پشتون ہیں انہوں نے ان پشتونوں کیلئے جو بھارت اور بخارا سمرقند میں رہائش پزیر ہیں، کیا اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں پشتون جو محنت مزدوری اور تعلیم کی غرض سے دنیا میں پھیلے ہیں ان کے حقوق کیلئے اب تک کیا کامیابیاں حاصل کیں ہیں؟
افغانستان، پاکستان تعلقات پر از سر نو نظر ثانی کی جائے تو علاوہ طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت کے، باوجود دو مسلمان پڑوسی ہونے کے، دونوں ریاستوں کے معاملات کھبی صحیح موڑ پر نہیں آئے ہیں۔ بنیادی طور پر ستر سال سے افغانستان حکمران کے ذہنیت پر اہمیت کے حامل دو وہم سوار ہو چکے ہیں۔
پہلا یہ کہ پاکستان ایک کمزور ریاست ہیں، جو کھبی مستحکم نہیں ہو سکتی، آج یا کل ٹوٹنے والی ہیں۔ افغان حکمران اس وہم کو سچ سمجھتے آرہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹنے سے پہلے افغانستان کو کچھ متعین کردہ علاقوں پر دھاوا بول کر اس پر ایک عوامی رائے ہموار کرنی چاہیے۔ تاکہ بوقت توڑ پھوڑ ان علاقوں پر قابض ہوا جاسکے۔ اسی وہمی سوچ کے تحت ایک تصوراتی نام "پختونستان” تشکیل دیا گیا۔ اس پلان کی تشکیل کے لئے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ثبوت 1947 سے 1979 کی تاریخ کے اوراق پر نمایاں طور پر موجود ہیں۔ کنگ محمد ظاہر شاہ سے لے کر خفیط اللہ آمین تک سب پختونستان کی سیاست کرکے افغانستان پر حکمران رہے ہیں اور ایک دوسرے کا تختہ الٹنے کی بھی یہی وجہ بتاتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کسی فورم پر افغانستان حکمرانوں کو اس مسئلے پر مدعو کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو افغان حکومت نے ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا ہے۔
دوسرا یہ کہ برصغیر کی تقیسیم کے دوران جو دو ریاستیں واقع پزیر ہوئیں دونوں کے سیاسی نظام کی بنیاد عوامی جمہوریت کو رکھا گیا۔ افغانستان کے سیاسی خدوخال اس کے بالکل برعکس تھے۔ اس وقت افغانستان میں آٹوکریسی(autocracy) تھی۔افغانستان کے ہر اس دور کے آٹوکریٹ کی ذاتی فوج ہوتی تھی ۔وار لاڈزم کا بول بالا ہوتا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور چلی آ رہی تھی۔ ان خاندانوں کی اکثریت پشتون نسل میں ہی رہی ہے۔ لہذا افغانستان نے، جو کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہی برطانوی ایمپائر کی امداد پر چل رہا تھا، پاکستان کے قیام کو اپنے لیے مسائل میں اضافہ تصور کیا۔ کیونکہ افغانستان میں پشتون حکمران کے لیے جمہوری نظام کسی خطرے سے کم نہیں تھا۔
عین اس وقت جب مسائل اپنی شدت کے باوجود ایک موڑ لے رہے تھے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات تعلیم، صحت اور رہائش کی بحالی کا کام جاری تھا ایک علاقائی لسانی گروپ نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا اور بنا کسی معاش کے، بنا کسی سوچ و بچار کے معجزاتی طور پر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جی ہاں انہوں نے اپنا نام پشتون تحفظ تحریک رکھ دیا، اور کہا گیا کہ یہ پشتونوں کے حقوق کا تخفظ کریں گے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پشتون استعمال ہوئے یہ ان کا حق ریاست سے مانگتے ہیں لیکن ریاست کے ساتھ بات چیت کے میز پر آنے کے لیے اپنا اصولی موقف واضح نہیں اور جبر یہ کہ نعرے بازی فوج، اس کے ‘موجودہ’ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے خلاف کرتے ہیں۔ خود کو غیر سیاسی تنظیم بتایا کرتے ہیں لیکن کثیر اوقات کی ملاقاتیں، تعلقات اور لوبنگ بہادر راؤ انوار کے ابو کے اصلی بیٹے، ‘جاگ پنجابی جاگ’ کی چہیتی اور ‘لر و بر’ کے ہیروز کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کیا وجہ ہیں کہ افغانستان کے تعلیم یافتہ پشتون بیرون ممالک میں اس تحریک کے حق میں پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوگئے جبکہ اپنے اصل قابض دشمنوں کے سامنے چپ سادھ لی۔ ایسا کیوں ہوتا ہیں کہ اگر کوئی پشتون فوجی افغان بارڈر پر مارا جاتا ہیں تو ان کے حق کے لیے افغانستان ریاست یا ان کی فوج کے خلاف کسی بھی ملک میں کوئی پشتون ان کے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کرتا۔ افغان حکومت نے آج تک کتنے پشتونوں کو قتل کیا ہے، اغواء کیا ہیں کوئی پشتون تحریک کا راہنما یا خود افغانستان کے پشتون اپنی حکومت وقت سے سوال کرکے ان کے خلاف کیوں نہیں اٹھتے؟
ان سوالوں کے جوابات انتہائی سادہ اور آسان ہیں جوکہ اس تحریک کے ‘پاکستانی رہنماؤں’ کو اس وطن کے باقی پشتونوں کو دینے میں دیر ہو رہی ہے۔ -

بجٹ سے پہلے ہی ڈالر اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کو وجہ بنا کر بلڈنگ میٹریل بھی مہنگا ہو گیا
بجٹ کی آمد سے قبل ڈالر اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کو وجہ بنا کر بلڈنگ میٹریل بھی مہنگا ہو گیا
تفصیلات کے مطابق بجٹ کی آمد سے قبل ڈالر اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کو وجہ بنا کر بلڈنگ میٹریل بھی مہنگا ہو گیا ہے۔سرکاری پراجیکٹس سمیت گھرکی تعمیر کا تخمینہ لاگت بڑھ جانے سے شہری حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ،اینٹیں ،ریت ،بجری ،سریا ، سیمنٹ کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ہے،تفصیلات کے مطابق ڈالر،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کے باعث اوپن مارکیٹ میں بلڈنگ میٹریل کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے جس سے سرکاری پراجیکٹس سمیت عام گھروں کا تخمینہ لاگت بھی بڑھ گیا ہے۔واضح رہے باغی ٹی وی پہلے ہی رپورٹس دے چکا ہے کہ موجودہ بجٹ سے عوام الناس کے لیےمشکلات بڑھنےکا اندیشہ ہے. -

رواں مالی سال بجٹ میں سگریٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹٰیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رواں مالی سال بجٹ میں حکومت نے سگریٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹٰیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سگریٹ کے پیکٹ پر دس روپے اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کی بوتل پر ایک روپے ہیلتھ ٹیکس وصول کیا جائے گا.
باغی ٹی وی رپورٹ مطابق وفاقی حکومت نے 20 سگریٹ کے پیکٹ پر 10 روپے اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کی 250 ملی لیٹر والی بوتل پر ایک روپیہ ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سگریٹ اور ڈرنکس پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم صحت کے شعبے کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔
آئندہ بجٹ میں سگریٹ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کی غیر قانونی پیداوار اور تجارت کی روک تھام کے لیے اقدامات بھی تجویز کئے جائیں گے۔ -

ٹیکسٹائل،گارمنٹس،لیدر،کھیل کےسامان کی برآمدات پرٹیکس استثنیٰ ختم کرنےکی تجویز
ٹیکسٹائل،گارمنٹس،لیدر،کھیل کےسامان کی برآمدات پرٹیکس استثنیٰ ختم کرنےکی تجویز
نئے وفاقی بجٹ 2019-20 میں ٹیکسٹائل،گارمنٹس،لیدر،کھیل کےسامان کی برآمدات پرٹیکس استثنیٰ کی تجویز ہےدوسری طرف لگژری اشیاکی درآمدپر2فیصداضافی ڈیوٹی کوبڑھاکر3فیصدکرنےکی تجویزہے .. -

گجرات میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے آگاہی واک کا اہتمام
گجرات(نمائندہ باغی ٹی وی) ۔شہریوں میں ڈینگی بارے شعور کیلئے آگاہی واک، ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے قیادت کی تفصیلات کے مطابق گجرات میں ڈینگی کی روک تھام کیلئے آگاہی واک میں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر زاہد تنویر، محکمہ صحت کے افسران، ملازمین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کی شرکت، اس موقع پر ڈی سی گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں ڈینگی سرویلنس کو مزید موثر بنائیں۔ تالابوں، بڑی فیکٹریوں، قبرستانوں کی انسپکشن یقینی بنائی جائے انسداد ڈینگی میں رکاوٹ، ڈینگی کے فروغ کا سبب بننے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔ انسداد ڈینگی ٹیموں کی استعداد بڑھانے کیلئے ٹریننگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔
-

احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان
وہ ایک جاگیردار اور جاگیردار کا بیٹا تھا۔ شنید ہے بچپن میں کبھی کسی فلم یا ڈرامے کا کردار بھی بنا اور لڑکپن میں سینما ہال کے باہر ٹکٹیں بھی بلیک میں فروخت کیں۔ جوانی میں قدم رکھا تو اس وقت کے سب سے بڑے پاکستانی سیاستدان (ذوالفقار علی بھٹو) کی بیٹی (محترمہ بینظیر بھٹو) کو اُچک لیا۔ کچھ لوگ اسے ڈاکو بھی کہتے ہیں اس بات میں تو سچائی کا علم نہیں البتہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ہی اہلیہ کے دور حکومت میں ایام زندگی جیل کی کال کوٹھری میں گزارے۔ جس کا دو مرتبہ کی منتخب وزیراعظم (بینظیر بھٹو) اور ملک کی اہم سیاسی جماعت کی سربراہ کا شوہر ہونے کے باوجود کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔ مرحومہ جب جلاوطنی کی زندگی گزار کر واپس آ رہی تھی اور کراچی میں آمد کے ساتھ ہی محترمہ پر خود کش حملہ ہوا جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں گئیں۔ اور پھر خطرے کو دیکھنے کے باوجود مرحومہ نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی یہاں تک کہ راولپنڈی میں ایک اور مہلک حملہ ہوا اور محترمہ اس حملہ میں جاں بحق ہو گئیں تو یہ شخص باہر بیٹھ کر سب کچھ (پلاننگ) دیکھ رہا تھا۔ لوگ جس شخص کو قاتل سمجھ رہے تھے وہ شخص محترمہ بینظیر بھٹو کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی ٹسوے بہاتے ہوئے وطن واپس آ پہنچا اور ساتھ ہی ایک خفیہ خط نکال لایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ میرے بعد آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ 2007 کے عام انتخابات میں بینظیر بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ کا خوب فائدہ اٹھایا گیا ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے کمال چالاکی سے محترمہ کے معتمد ساتھیوں کو بطور خاص ٹھکانے لگا دیا گیا۔ شدید مخالف حزب اختلاف کو بھی خوب مہارت سے ڈیل کیا۔ جو جس پر خوش ہوا اسے اس ضمانت پر دے دیا گیا کہ میری کرسی کو کوئی گرزند نہ پہنچ پاۓ۔ اس تمام عرصہ میں کرپشن اور بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، ملکی شرح نمو زوال پذیر ہوئی، برآمدات و درآمدات میں وسیع خلیج پیدا ہونے کے باعث ڈالر کو پر لگ گئے، قومی اداروں کو خوب نقصان پہنچایا گیا ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں، عدلیہ سے پنگے بازی اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے، حسین حقانی جیسے غدار کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا اور میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا، سیاست پوری طرح کاروبار کی شکل اختیار کر گئی مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بچہ بچہ واقف ہوا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور زرداری صاحب کا مشہور زمانہ قول "جمہوریت بہترین انتقام ہے” واقعی ریاست اور عوام سے انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگلی حکومت "ن” لیگ کی آئی تو مسٹر ٹین پرسنٹ نے بظاہر اپنے حریف کے ہر مشکل وقت میں (اندر خانے) خوب یاری نبھائی۔ ہر بار میثاق جمہوریت کا راگ الاپا، وقتاً فوقتاً سندھ کارڈ بھی کھیلا۔ ایان علی، منی لانڈرنگ، فالودے اور سبزی والوں کے ناموں پر کروڑوں اربوں روپوں کی ٹرانزکشن سمیت سینکڑوں بے نامی اور فیک بینک اکاؤنٹ ظاہر ہونے کے بعد جب متعلقہ حکام نے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا تو یہی صاحب دھمکیاں دینے پر آ گئے۔ کبھی فوج اور عدالتوں کو بڑھکیں لگائی کہ "وہ تین سال کے لیے آتے ہیں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے” اور کبھی "میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا” جیسے جملے کسے۔ وفاقی احتساب کے ادارے نیب کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا! "چیرمین نیب کی کیا حیثیت ہے اسکی کیا مجال ہے جو میرے اوپر کیسس بنواۓ”
پھر یوں گویا ہوئے کہ نیب کو میں تھکا دوں گا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
بار بار ضمانتیں ہوتی رہی اور آج جب ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تو پھر پوری دنیا نے زرداری کو بھیگی بلی بنا دیکھا۔ گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر بلاول کی ہنسی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔ شائد اپنی والدہ کے قاتل پکڑے جانے کی خوشی ہو واللہ اعلم
نواز شریف اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے اب زرداری صاحب بھی جیل روانہ ہو چکے ہیں جو شاید میاں صاحب کی تنہائی کے ساتھی بنیں گے۔ بار بار کمینی مسکراہٹ کے ساتھ گیارہ سال جیل میں گزارنے کو بطور فخریہ بتانے اور پھر اس بات پر اترانے والوں کے جیالوں کو سوچنا چاہئے کہ جیلوں سے عزت دار لوگ ڈرتے ہیں چوروں ڈاکوؤں کو اس کی عادت ہوتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اصل امتحان اب عوام کا بھی ہے کہ وہ ان چوروں ڈاکوؤں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہ بنیں۔ احتسابی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلا تفریق احتساب کا عمل اب رکنا نہیں چاہیے۔ -

وفاقی حکومت آج 3 ہزار ارب خسارے کا بجٹ پیش کرے گی
وفاقی حکومت آج 3 ہزار ارب خسارے کا بجٹ پیش کرے گی
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے مالی سال 2019-20 ء کے بجٹ کا حجم 6800 ارب اور ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5500 ارب، دفاع کیلیے 1250 ارب سے زائد، ترقیاتی منصوبوں سال 2019-20ء کیلئے ترقیاتی بجٹ کا حجم 1837ارب روپے جبکہ وفاق کے تحت سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 925 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔
حکومت صحت کے شعبہ کی ترقی کیلیے سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کررہی ہے۔ سگریٹ اور مشروبات پر عائد ٹیکسز صحت کے شعبہ پر خرچ کئے جائیں گے۔اس سلسلے میں پاکستانی عوام نئ حکومت سے توقعات ہیں کہ انہیں شاید اب کچھ ریلیف مل سکے.. -

سیاسی سرکس لگنے کو ہے ۔۔۔ محمد فہیم شاکر
مورخ کی پیشین گوئی ہے کہ ملک میں سیاسی ٹمپریچر بڑھنے والا اور سیاسی سرکس لگنے والا ہے۔
لیکن کیا میری قوم کسی نئی مشکل کی متحمل ہو سکتی ہے؟
اگر سیاہ ست دان ملک سے اتنے ہی مخلص ہیں تو مشکل کی اس گھڑی میں وطن کے حال پر رحم کیوں نہیں کھاتے؟
ایک طرف جبکہ دنیا کی مشہور ٹرائی اینگل میرے ملک کو توڑنے پر کمربستہ ہے وہیں میرے سیاہ ست دان بھی کسی نادان سے کم نہیں جو غداری کی آخری حدوں کو چھونے کی کوشش میں ہیں۔
یاد رکھیے گا کہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کو اپنی قیادت پر اعتماد نہیں ہے چند ایک ضرور نکلیں گے لیکن احتجاج میں وہ دم نہیں ہوگا جو ہوا کرتا تھا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا اس وقت تیاری کر کے بیٹھا ہوا ہے کہ پاکستان مخالف چھوٹی سے چھوٹی سرگرمی کو بھی انتہائی بڑا کر کے دنیا کو دکھانا ہے تاکہ پاکستان کی خون بدنامی ہو سکے۔
جیسا کہ منظور پشتین علی وزیر اور محسن داوڑ کے معاملے پر وائس آف امریکہ اردو سروس نے الگ الگ پولز کروائے اور پاکستانی حکومت کے پی ٹی ایم مخالف ہر اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دنیا کو دکھانا چاہا کہ ریاست جابرانہ رویہ رکھتی ہے، اور ظاہری سی بات ہے کہ اس سب کا مطلب یہی ہے کہ ریاست کو اس سب سے روکنے کے لیے دنیا آگے بڑھے، اور دنیا کے آگے بڑھنے کا مطلب پاکستان کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔
اسی طرح بی بی سی اردو سروس نے پاک فوج کو پشتونوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے آرٹیکلز لکھے تاکہ پاک فوج کو دنیا میں نفرت کا نشانہ بنوایا جا سکے اور تاکہ ملک کے اندر اس کا اعتماد مجروح ہو اور دنیا کے سامنے یہ فوج قاتل اور مجرم بنا کر پیش کی جا سکے تاکہ دنیا پاکستان سے پہلے پاکستان کی فوج کو توڑے اور ختم کرے اور اس سب کا مطلب یہی ہے کہ اگر فوج نہ رہی تو ملک کیسے رہے گا؟
اب زرا غور کیجیے کہ ہمارے سیاہ ست دان آج تک کیوں فوج پر بھونکتے آئے ہیں؟
یقینا آپ کو ساری بات سمجھ آرہی ہوگی
منظور پشتین حالات خراب کرنے کے در پے ہے اور فوج پر حالیہ حملوں کے بعد افغانستان سے جو کالز انہیں موصول ہوئی ہیں جن میں فوج کے نقصان پر مبارکباد دی گئی اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا کہا تھا تاکہ حالات کو غلط رنگ دیا جا سکے۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی نے زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی مکمل تیاری کر رکھی ہے ان حالات میں جبکہ ملک پہلے ہی سے مشکل کا شکار ہے یہ لوگ مزید مشکل کھڑی کرنے چلے ہیں یہی وہ ایام ہیں جب انڈیا بھی حالات سے فائدہ اٹھا سکتا اور پاکستان پر کسی بھی قسم کی جارحیت کر سکتا ہے لہذا عوام الناس کے لیے ضروری ہے کہ آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور کسی بھی ایسی سیاہ سی پارٹی کی قیادت کے نعروں میں مت آئیں جو پاکستان سے مخلص نہیں ہے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ -

حادثات کی روک تھام کے لیے گجرات میں ٹریفک واک
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی) ٹریفک پولیس کی طرف سے جی ٹی روڑ پر حا دثا ت کی روک تھا م کے سلسلہ میں ٹریفک واک کا اہتمام کیا گیا۔جس میں ڈی ایس پی سعید احمد وڑائچ نے کہا کہ صبر و تحمل کر کے بہت سے حادثات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے انھوں نے کہا کہ موٹر سائیکل تیز رفتاری سے نہیں چلانی چاہیے اور ہیلمٹ کا استعمال ضرور کرنا چاہیے ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنےوالے کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔اس مو قع کا انسپکٹر سلیمان انچارج ایجوکیشن ونگ غلام رسول اور دیگر سٹا ف موجود تھے ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122کے ملازمین شامل تھے عوام نے اس عمل کو سر اہا ہے