Baaghi TV

Author: +9251

  • سی پیک منصوبہ خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا.وفاقی وزیر احسن اقبال

    سی پیک منصوبہ خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا.وفاقی وزیر احسن اقبال

    پاکستان جغرافیائی اور اقتصادی محل وقوع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے.احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ پاکستان جغرافیائی اور اقتصادی محل وقوع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے،مسلم لیگ(ن )نے نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز کا جال بچھایا، عمران خان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کوئی ملک سرمایہ کاری کیلئے تیار نہیں۔

    منگل کو اسلام آبادمیں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ اکیسیوں صدی اکنامک آئیڈیالوجی کی ہے،فی کس آمدنی میں اضافے کیلئے سب کو محنت کرنا ہوگی۔ احسن اقبال نےکہاکہ محمد نوازشریف کی قیادت میں ہم نے سی پیک شروع کیا، نوازشریف کے دور میں ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی، نوازشریف نے اپنے دور میں ملک میں توانائی کے منصوبے لگائے۔ انہوں نے کہ کہ مسلم لیگ( ن) نے نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز کا جال بچھایا،2018میں ہر ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا،عمران خان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کوئی بھی سرمایہ کاری کیلئے تیار نہیں۔

    انہوں نے کہاکہ حکومت سنبھالنے کے بعد سی پیک منصوبے میں تیزی لائی،سی پیک منصوبہ خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا،پبلک سیکٹرز کے تعاون سے ملک میں منصوبے لگانے پر توجہ دے رہے ہیں، 4برس کے دوران گوادر پورٹ میں کوئی بھی کام نہیں کیا گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ملک کی جیو اکنامکس سے فائدہ اٹھا کر اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی کس آمدنی بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی کہ ہم معاشی سیڑھی پر کیسے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وژن تھا جس نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی طرف ہمارا سفر شروع کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ہم نے سی پیک کا آغاز کیا اور ہم مختلف ترقیاتی منصوبوں میں 29 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کو بروئے کار لانے میں کامیاب ہوئے۔

  • اسلام آباد میں یونین کونسلوں کی تعداد میں آبادی کے لحاظ سے اضافے کا نوٹیفیکشن جاری

    اسلام آباد میں یونین کونسلوں کی تعداد میں آبادی کے لحاظ سے اضافے کا نوٹیفیکشن جاری

    وزارت داخلہ نے وفاقی دارالحکومت میں یونین کونسلوں کی تعداد میں آبادی کے لحاظ سے اضافے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔

    وزارت داخلہ نے وفاقی دارالحکومت میں یونین کونسلوں کی تعداد میں آبادی کے لحاظ سے اضافے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں یونین کونسلوں کی تعداد میں آبادی کے لحاظ سے اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے لہذا لوکل باڈیز ایکٹ کے تحت یونین کونسل کی حد بندی کی جائے اور آبادی کے لحاظ سے اسلام آباد کی 125 یونین کونسلیں بنائی جائیں۔

    وفاقی کابینہ نے سرکولیشن کے ذریعے وزارت داخلہ کی اسلام آباد کی یونین کونسل کی تعداد میں اضافے کی سمری کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق کابینہ نے کابینہ کی جانب سے اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد101 سے بڑھا کر 125 کی منظوری دے دی گئی۔سمری منظور ہونے کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات تاخیر کاشکار ہوسکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    وزارت داخلہ کی جانب سے کابینہ کو بھیجی گئی سمری میں کہا گیا تھا کہ آبادی میں اضافے کے پیش نظر اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے، اسلام آباد میں 2017 کی مرد شماری کی بنیاد پر 101 یونین کونسلز قائم کی گئی تھیں۔
    سمری میں کہا گیا کہ موجودہ آبادی کے تناسب سے اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد 125 ہونی چاہئے۔ کابینہ نے وزارت داخلہ کی سمری منظور کرتے ہوئے اسلام آباد یونین کونسلز کی تعداد101 سے بڑھا کر 125 کردی۔
    واضح رہے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو ہونے ہیں، کابینہ سے سمری منظور ہونے پر اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہوسکیں گے۔

  • سیاسی عدم استحکام ؛اسٹاک مارکیٹ میں ایک ہزار 38 پوائنٹس کی کمی

    سیاسی عدم استحکام ؛اسٹاک مارکیٹ میں ایک ہزار 38 پوائنٹس کی کمی

    ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل دوسرے روز حصص کی قیمتوں میں کمی آگئی ہے۔

    بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس دوپہر ایک بج کر 58 منٹ پر ایک ہزار 38 پوائنٹس یا 2.54 فیصد گر کر 39 ہزار 932 پوائنٹس پر آگیا۔ سربراہ دلال سیکیورٹیز صدیق دلال نے کہا کہ انڈیکس میں کمی کئی وجوہات کی وجہ سے آئی جس میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کا خدشہ اور بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی شامل ہیں جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے، سال کے اختتام کی وجہ سے میوچل فنڈز کے پاس ریڈیمشنز آرہی ہیں جس کی ادائیگی کے لیے وہ بھی مارکیٹ میں شیئرز فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ پر اثرانداز ہونے والے دیگر عوامل میں بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، روپے پر دباؤ، ڈالر کی کمی اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نویں جائزے کی تکمیل میں تاخیر شامل ہیں۔ صدیق دلال نے کہا کہ یہ تمام عوامل مارکیٹ کو نیچے لا رہے ہیں اور مستقبل میں بہتری کی کوئی امید بھی نظر نہیں آرہی۔

    ڈائریکٹر فرسٹ نیشنل ایکوئٹیز لمیٹڈ عامر شہزاد نے کہا کہ ’ڈالر کی قلت سمیت بہت سارے مسائل جمع ہو چکے ہیں لیکن اس کی بنیادی وجہ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور 2 صوبائی اسمبلیوں کی ممکنہ تحلیل ہے جبکہ غیر ملکی ذخائر پر دباؤ بھی موجود ہے۔ سابق ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) ظفر موتی والا نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اسٹاک مارکیٹ گرنے کی بنیادی وجہ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور ملک کے دیوالیہ ہونے کی افواہیں ہیں۔ ظفر موتی والا نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں بحران کے وقت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مرکزی کیپیٹل مارکیٹ کے ارکان کو مسائل حل کرنے اور افواہوں کی تردید کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا، تاہم تازہ صورتحال میں ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آرہا۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 17 دسمبر کو اعلان کیا کہ 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی تاکہ نئے انتخابات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے ساتھ ایک ویڈیو خطاب میں کہا تھا کہ آئین نے اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز سے زیادہ انتخابات میں تاخیر کی اجازت نہیں دی۔ تاہم اسمبلیوں کی تحلیل کو ناکام بنانے کی کوشش میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے ایک وفد نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔ علاوہ ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کے خلاف بھی آئین کے آرٹیکل 53 کے تحت تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی ہے۔

    دریں اثنا ملک کی معاشی صورتحال دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حالت میں ہیں جن میں ایک سال کے دوران 11 ارب ڈالر کی کمی آگئی ہے۔ دسمبر 2021 میں مرکزی بینک کے ذخائر 17 ارب 68 کروڑ ڈالر تھے جو رواں برس 9 دسمبر تک 6 ارب 70 کروڑ ڈالر ہوگئے، یہ بمشکل ایک ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ 7 بلین ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کا نواں جائزہ فی الحال ایک ارب 18 کروڑ ڈالر کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان زیر التوا ہے جب کہ فریقین کے درمیان بات چیت اور مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان کو مالی سال کے بقیہ حصے میں بیرونی اسٹیک ہولڈرز کو کم از کم 13 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اسے دوطرفہ اور کثیر جہتی اداروں سے مزید رقوم کب موصول ہوں گی جس کے سبب دیوالیہ ہونے کے خدشات پیدا ہورہے ہیں۔

  • 2 کروڑ سیلاب زدگان انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، شیری رحمٰن

    2 کروڑ سیلاب زدگان انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، شیری رحمٰن

    وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں کے نتیجے میں 2 کروڑ متاثرہ افراد آج بھی انسانی امداد کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔

    شیری رحمٰن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد میں سے صرف 30 فیصد امداد پاکستان کو موصول ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب کسی ملک کے لوگ بحالی اور کثیر الجہتی امدد پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی بحالی کے لیے منصوبہ بندی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لہذا بحالی اور تباہی کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 16 ارب 30 کروڑ ڈالر امداد کی ضرورت ہے، اس میں ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کیلئے امداد شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ 8 کروڑ 40 ہزار سے 9 کروڑ 10 ہزار لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔

    شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ موسم سرم میں سیلاب زدگان کے لیے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 3 لاکھ ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں درمیانے درجے کے تین یورپی ممالک کی آبادی کی زندگی کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’انسانی بحالی کے کئی ماہ بعد بھی دسمبر 2022 سے مارچ 2023 تک 14 لاکھ 6 ہزار لوگوں کو فوری خوراک کی اشد ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سندھ میں 39 لاکھ اور بلوچستان میں 16 لاکھ لوگوں کو خوراک کی شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے، جن میں 55 لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف میسر نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے ہیں، 2 کروڑ سیلاب زدگان میں سے 96 لاکھ بچوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’موسم سرما میں کیمپ میں بچوں کی زندگی خطرے میں ہے۔

    شیری رحمٰن نے تمام مخیر حضرات اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا بوجھ کم کرنے میں صوبائی حکومتوں کی مدد کریں، انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 70 لاکھ بچوں کو فوری غذائیت اور خوراک کے شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم ہیں جو پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے لیے خوفناک ثابت ہوسکتا ہے۔ سیلاب سے 34 ہزار سے زائد اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے باعث 2 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جارہے جن میں لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے، جس کے نتیجے ان بچوں کا مشتقبل خطرے میں ہے۔

  • 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ ؛ 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت

    24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ ؛ 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں.

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔منگل کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ) کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 21 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 8 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ اس طرح اس مدت میں مثبت کورونا ٹیسٹ کی شرح 0.20 فیصد رہی ہے۔ مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 25 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ) کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر کے مختلف شہروں میں کیے گئے کورونا ٹیسٹ اور مثبت شرح کے حوالے سے پشاور میں 212 ٹیسٹوں میں سے ایک مریض کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے. جبکہ وہاں پر شرح 0.47 فیصد رہی،اسلام آباد میں 323 ٹیسٹوں میں سے ایک مریض کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے. اور شرح 0.31 فیصد رہی،اسی طرح سے لاہور میں 789 ٹیسٹ کیے گئےہیں جن میں سے 2 مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آئے اور وہاں پر شرح 0.25 فیصد رہی ہے.

  • پی ٹی آئی کے 123ارکان کا جمعرات کو اسپیکر کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کے 123ارکان کا جمعرات کو اسپیکر کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کے 123 ارکان کا جمعرات کو اسپیکر کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کے 123ارکان نے جمعرات کو اسپیکر کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ارکان اسپیکر راجہ پرویز اشرف کے رو برو مستعفی ہونے کی تصدیق کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی ارکان اسمبلی 22 دسمبر کو خیبرپختونخوا ہاوس اسلام آباد میں جمع ہوں گے۔ارکان شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں پارلیمنٹ آئیں گے۔

    تحریک انصاف کے ارکان نے 22 دسمبر کو اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے قومی اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے رودان عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ تحریک انصاف کے ارکان استعفے دینے کے باوجود تنخواہیں بھی لے رہے ہیں۔ جس کے بعد شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے اسپیکر پرویز اشرف کو پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی تصدیق کے لیے خط لکھ دیا ہے،

    شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ہم ایک ساتھ ہی استفعوں کی تصدیق کے لیے جائیں گے لیکن اگر اسپیکر چاہیں تو اراکین کو انفرادی طور پر طلب کرسکتے ہیں۔ اسپیکر کو خط لکھنے کے کئی روز گزرنے کے باوجود اب تک تحریک انصاف کے ارکان کو طلب نہیں کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اپنے ارکان کے استفعوں کی تصدیق کرانے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    حکمت عملی کے تحت تحریک انصاف کے 123 ارکان اپنے استعفوں کی تصدیق کيلئے جمعرات (22 دسمبر) کو قومی اسمبلی جائیں گے۔
    قومی اسمبلی میں اپنے استفعوں کی تصدیق کرانے والے ارکان کی قیادت پارٹی کے وائس چیئرمین اور قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی کریں گے۔ قومی اسمبلی جانے سے پہلے تمام ارکان اسمبلی اسلام آباد میں واقع خیبر پختونخوا ہاؤس میں جمع ہوں گے۔

  • عمران خان کے پاؤں سے زمین سرک رہی ہے.وفاقی وزیر دفاع

    عمران خان کے پاؤں سے زمین سرک رہی ہے.وفاقی وزیر دفاع

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے.

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور ان کے پاؤں سے زمین سرک رہی ہے.الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ عمران خان کے پاؤں سے زمین سرک رہی ہے ۔ اگلے 2 سے 3 روز میں تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ سامنے آ جائے گا ۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آخری کارڈ کھیلا ہے۔ مرشد نے وزیراعظم کی سرپرستی میں کیا کیا گل کھلائے ہیں۔ عمران خان نے سیاسی و اخلاقی اقدار کا پاس نہیں کیا۔ عمران خان اس وقت ہیجانی کیفیت میں ہیں۔ جنرل باجوہ نے آپ کو ہر طرح سے سپورٹ کیا۔ جس شخص نے آپ پر احسان کیا ہو، اس کے خلاف بات کرنے سے بڑی احسان فراموشی کوئی ہو نہیں سکتی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا خیال ہے کہ وہ حکمران ہے تو ملک ہے، ورنہ ملک بھاڑ میں جائے۔ قانون کا گھیرا عمران خان کے خلاف تنگ ہو رہا ہے۔

  • تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 40 فیصد کمی

    تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 40 فیصد کمی

    تربیلا ڈیم میں تقریباً 10 ارب ٹن گارا جمع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 40 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

    یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے دوران سامنے آیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بریفنگ دیتے ہوئے واپڈا حکام نے بتایا کہ گاد کی وجہ سے پاکستان کے دوسرے بڑے ذخیرے کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے جمع ہونے والی گارا اب ڈیم کے کنارے سے صرف چار میل کے فاصلے پر ’پہاڑ‘ کی شکل اختیار کر لی ہے

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گارا کا یہ پہاڑ 1974 میں ڈیم کے کنارے سے 14 میل دور تھا جو اب 10 میل آگے آگیا ہے، مستقبل میں گارا کا یہ پہاڑ کسی جھٹکے کی صورت میں ڈیم کی خارجی سرنگوں کو بند کر سکتا ہے۔ گاد کی وجہ سے ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 90 لاکھ 60 ہزار ایکڑ فٹ سے کم ہو کر 50 لاکھ 80ہزار ایکٹر فٹ رہ گئی ہے۔ واپڈا نے اس گاد اور گارا کی صفائی کے لیے امریکی اور جنوبی افریقی ماہرین سے رابطہ کیا لیکن اس کام کی لاگت قابل عمل نہیں تھی۔

    سینیٹرز کے سوالات کے جواب میں واپڈا حکام نے کہا کہ گارا اور گاد کی جانچ باقاعدگی کے ساتھ ہر 4 سے 6سال بعد کی جاتی ہے، بتایا گیا کہ ڈیسلٹنگ یعنی گارا کی صفائی کے عمل پر اتنی زیادہ لاگت آرہی ہے کہ اس رقم سے اسی سائز کا نیا ڈیم تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ ٹکنیکل اسٹڈیز کی بنیاد پر سامنے آنے والا سب سے بہتر آپشن آؤٹ لیٹ پوائنٹس کو بلند کرنا تھا تاکہ ڈسچارج ٹنلز بلاک ہونے کی صورت میں بھی ڈیم فعال رہے۔ سینیئر حکام کے مطابق یکم اکتوبر کو گارا کی نقل و حرکت کی وجہ سے ڈیم کی ٹنل-5 کو ’ناگزیر حفاظتی اقدامات‘ کے طور پر 33 ماہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    تقریباً چار میل لمبا گارا کا پہاڑ ٹنل کے آف ٹیک پوائنٹس کے اتنا قریب تھا کہ معمولی زلزلے کی صورت میں ٹنلز کو بلاک کرسکتا ہے۔ کیونکہ پانی کے ساتھ آنے والی مٹی کو روکنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے، اس لیے ٹنل سے پانی کے اخراج کی سطح کو اونچا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ بلاک ہونے کی صورت میں بھی اونچے مقامات سے پانی کا اخراج کیا جا سکے۔ کمیٹی ارکان نے ڈیم سے گارا ختم کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گاد کے ایک خاص حد تک بہاؤ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں کیونکہ یہ زمین کی زرخیزی کا باعث بھی بنتی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت آبی وسائل سے کہا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قلیل اور طویل مدتی اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے رپورٹ مرتب کرے۔

  • نئےٹیکسز کے بغیر آئی ایم ایف کو اہداف حاصل کرنے کی یقین دہانی.ایف بی آر

    نئےٹیکسز کے بغیر آئی ایم ایف کو اہداف حاصل کرنے کی یقین دہانی.ایف بی آر

    ایف بی آر کی نئے ٹیکسز کے بغیر آئی ایم ایف کو اہداف حاصل کرنے کی یقین دہانی

    پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اگلے 7 ماہ ( دسمبر سے جون) کے لیے محصولات کی وصولی کے تخمینے میں فرق کو کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ نویں جائزہ قسط میں تاخیر کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو ختم کیا جاسکے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مالی سال 2022-2023 کے دوران 422 ارب روپے کا خسارہ ہوا جسے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے مسترد کردیا ہے۔ تاہم ایف بی آر نے آئی ایف ایم کے سامنے خسارے کا تخمینہ پیش کیا جس میں یقین دہانی کروائی کہ درآمدات میں کمی کے باوجود بجٹ کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایف بی آر کے تخمینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خُلا کو کم کرنے کے لیے نئے ٹیکس کے اقدامات کی ضرورت نہیں ہے۔

    تاہم آئی ایم ایف نے محصولات کی وصولی کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی محصولات کے اقدامات پر زور دیا تاکہ 30 جون 2023 کے اختتام تک 7 کھرب 47 ارب روپے کے متوقع ٹیکس ہدف کو حاصل کیا جاسکے، جو گزشتہ سال کی وصولی کے مقابلے 21.5 فیصد زیادہ ہے۔ ایف بی آر نے جولائی اور نومبر کے دوران 26 کھرب 88 ارب روپے وصول کیے جو اس مدت کے لیے مقرر کردہ ہدف سے محض 8 ارب روپے زیادہ ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان طریقہ کار میں فرق صرف ایف ابی آر کے محصولات کی وصولی تک محدود نہیں بلکہ ان کے درمیان پیٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولی پر بھی اختلافات شامل ہیں۔

    رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی کے تحت آئی ایم ایف نے 30 ارب روپے کی کمی کا تخمینہ لگایا تھا، اس سے قبل وزارت خزانہ نے 50 ارب روپے کا تخمینہ لگایا جسے آئی ایف ایم نے مسترد کردیا تھا۔ رواں مالی سال 2022-2023 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 22 فیصد کمی ہوئی ہے جس کا مطلب پیٹرولیم کے شعبے کے مقابلے جنرل سیلز ٹیکس زیادہ وصول ہوئے ہیں۔

    ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوسرے نصف اور دسمبر میں محصولات کی وصولی کی تٖفصیلات جمع کروادی ہیں. ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 2022-2023 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران براہ راست ٹیکس کی وصولی میں 53 فیصد اضافہ ہوا، یہ رجحان درآمدی مرحلے پر محصولات کی وصولی میں کمی کے اثرات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ اس کے برعکس آئی ایم ایف نے سال 2022-2023 کی دوسری ششماہی میں محصولات میں کمی کے بارے میں تفصیلات سے پاکستان کو پہلے ہی آگاہ کردیا ہے، ذرائع کے مطابق دوسری ششماہی میں محصولات کی وصولی کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے لگائے گئے تخمینوں پر آئی ایم ایف کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

    اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے ایف بی آر کے چیئرمین عاصم احمد نے کراچی کا دورہ کیا تھا، انہوں نے ٹیکس شعبے کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ زیادہ سے زیادہ محصولات کی وصولی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں، عاصم احمد نے اس حوالے سے مخصوص اہداف بھی پیش کیے۔ دوسری جانب 13 دسمبر کو وزیرخزانہ اسحٰق ڈار نے محصولات کی وصولی کے حوالے سے ایف بی آر کا دورہ کیاتھا . اسحٰق ڈار کی 9 ویں جائزے کے جلد اختتام پر بھی کڑی نظر ہے جسے اکتوبر کے آخر تک مکمل ہونا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیڑولیم ڈولپمنٹ لیوی کی وصولی کے طریقہ کار اور خامیوں پر جب سوالات اٹھائے گئے تو وزارت خزانہ نے اس حوالے سے تمام تفصیلات آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی تھی۔

    ذرائع کے مطابق یہ مسئلہ تب ہی حل ہوسکتا ہے جب دونوں فریقین محصولات کی وصولی کے طریقہ کار میں موجود فرق کو کم کریں گے۔ آئی ایم ایف کی نویں جائزہ قسط میں تاخیر کا تعلق مالی سال 2023 کے ششماہی میں محصولات کی وصولی کے اہداف اور پیٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی کی وصولی پر عملی نقطہ ہے۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف اور حکومتِ پاکستان کے درمیان زیرِ التوا مذاکرات کی وجہ سے ایک ارب 18 کروڑ ڈالر کی قسط کے اجراء کے لیے نویں جائزے تاخیر کا شکار ہے.

  • ورلڈ بینک کا سیلاب متاثرین کیلئے 1.6 ارب ڈالر دینےکا اعلان

    ورلڈ بینک کا سیلاب متاثرین کیلئے 1.6 ارب ڈالر دینےکا اعلان

    ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کےاجلاس میں پاکستان کی مالی مدد کے لیے 1.692 ارب ڈالر کی منظوری دی گئی۔

    ورلڈ بینک نے سندھ کے سیلاب متاثرین کی مالی مدد کے لیے 1.6 ارب ڈالر سے زائد فنانسنگ کی منظوری دے دی۔ ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کےاجلاس میں پاکستان کی مالی مدد کے لیے 1.692 ارب ڈالر کی منظوری دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان کو سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں کے متاثرین کی مدد کے 5 منصوبوں کے لیے فنڈز ملیں گے جن میں سے تین منصوبے متاثرین کی بحالی، مکانات کی تعمیر اور زراعت کے شعبے کے ہیں جب کہ دیگر 2 منصوبے ماں اوربچوں کی صحت کے شعبے میں معاونت کریں گے۔

    قبل ازیں نومبر میں بھی ورلڈ بینک نے سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیرکے لئے 500 ملین اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے 80 ملین ڈالر کا قرض دینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کی سربراہی میں 31 رکنی وفد سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں ورلڈ بینک کے مختلف سیکٹر کے سربراہان شریک تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ گھروں کی تعمیر جلد شروع کرنا چاہتے ہیں سردیاں بھی شروع ہورہی ہیں اور ہمارے لوگ تکلیف میں ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    وزیر خارجہ کی پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات
    پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کے ٹھوس تعاون کی ضرورت ہے.اقوام متحدہ
    اسلام آباد سے کراچی سفر کرنیوالی پرواز کا مسافردوران سفر انتقال کر گیا
    بجلی 31.60 روپے فی یونٹ، گیس 100فیصد مہنگی کرنیکی تجویز
    قرضوں کی بہتر مینجمنٹ کیلیے فوری طور پر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم
    اسلام آباد میں سالِ نو کی پارٹیوں کے دوران اسمگل کی جانیوالی منشیات برآمد
    کنٹری ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ورلڈبینک ہاؤسنگ پروجیکٹ کے لئے فنڈزجاری کررہا ہے اور سیلاب متاثرین کے لئے ورلڈ بینک 500 ملین ڈالرزکا قرض دے رہا ہے۔