Baaghi TV

Author: +9251

  • موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سیلاب متاثرین  کی ضروریات بڑھ گئیں

    موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سیلاب متاثرین کی ضروریات بڑھ گئیں

    موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی ضروریات بڑھ گئی ہیں ، اقوام متحدہ کا مزید فنڈز کا مطالبہ

    موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی انسانی ضروریات میں شدت آگئی ہے اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر مزید وسائل کی ضرورت ہے، یہ بات اقوام متحدہ کے ترجمان نے جمعہ کو کہی۔ گست کے تباہ کن سیلاب کے بعد اب تک کی تازہ تری صور ت حال کے حوالہ سے ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان، سٹیفن ڈوجارک نے نیویارک میں دوپہر کی معمول کی بریفنگ کو بتایا کہ سیلاب کا پانی کم ہونے کے باوجود، اس وقت بھی20 ملین سے زائدافراد کاانسانی امداد پر انحصارہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ علاقوں میں تعمیر نو کی کوششیں شروع ہو رہی ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی حقوق پر مرکوز حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ ،وزیر اعظم
    تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات
    دوجارک نے نامہ نگاروں کو بتایا، “آج تک، حکومتی مدادی کارروائیوں میں تعاون کے لئے انسانی ہمدردی کے ہمارے شراکت دار سیلاب کے آغاز سے اب تک 4.7 ملین سے زیادہ لوگوں تک امداد پہنچا چکے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ تقریبا 2.6 ملین لوگوں کو خوراک کی امداد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے انسان دوست شراکت داروں نے بشمول 500 سے زیادہ عارضی تعلیمی مراکز کے ذریعے 125,000 بچوں کی تعلیم کو دوبارہ شروع کرنے میں بھی مدد کی ہے،۔” تاہم، 20 لاکھ سے زائد بچوں کے لیے اسکول ناقابل رسائی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ابھی تک 816 ملین ڈالر کے فلڈ رسپانس پلان میں سے صرف 23 فیصد موصول ہوئے ہیں۔اس لئے امدادی کارروائیوں کے لئے مزید وسائل کی فوری ضرورت ہے۔

  • انسانی حقوق پر مرکوز حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ ،وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف کا انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ حکومت انسانی حقوق کے عالمی دن پربڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنےردعمل کی استعداد بڑھانے کے لئے انسانی حقوق پر مرکوز حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے،ہمیں پائیدار ترقی کےایجنڈا 2030 ءکے اہم اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے عدم مساوات اور ناانصافی سے پاک معاشرے کے حصول کے لئے یکجہتی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے،اس دن یہ بھی لازم ہے کہ ہم بھارت کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ، جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا بغور جائزہ لیں جہاں کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے،حق خودارادیت لوگوں کی اجتماعی اور انفرادی آزادی کا نام ہے تا کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی سیاسی حیثیت کا انتخاب کریں اور معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کو آگے بڑھائیں۔

    انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آج سے 74 سال قبل انسانی حقوق کے عالمی منشور کو منظور کیا تھا،اس اعلامیے میں بیان کردہ نظریات ہر جگہ اور ہر ایک کے لیے شہری، اقتصادی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی خوشحالی کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال کا موضوع’’وقار، آزادی اور انصاف سب کے لیے‘‘ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ویژن کو فراموش نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے لیے ایک آزاد ملک چاہتے تھےجہاں ہر ایک کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا آئین ان اقدار کو پاکستان کے تمام شہریوں پر لاگو ہونے والے بنیادی حقوق کے طور پر شامل کر کے اس وژن کی حقیقت میں ترجمانی کرتا ہے۔ تاہم یہ سال پاکستان کے لیے خاصا مشکل رہا ہے۔ معاشی عدم استحکام سے لے کر سیلاب کی تباہ کاریوں اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے پاکستان کے عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ اس کی روشنی میں، حکومت پاکستان، انسانی حقوق کےاس عالمی دن پر، بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہمارے ردعمل کی استعداد بڑھانے کے لیے انسانی حقوق پر مرکوز حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں پائیدار ترقی کےایجنڈا 2030 کے اہم اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے عدم مساوات اور ناانصافی سے پاک معاشرے کے حصول کے لیے یکجہتی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس دن یہ بھی لازم ہے کہ ہم بھارت کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ، جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا بغور جائزہ لیں جہاں کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ حق خودارادیت لوگوں کی اجتماعی اور انفرادی آزادی کا نام ہے تا کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی سیاسی حیثیت کا انتخاب کریں اور معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کو آگے بڑھائیں۔ حق خودارادیت کو “دہشت گرد/انسداد دہشت گردی” کے بیانیے کے ذریعے پامال کیا گیا اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے کشمیریوں کے آزادی کے حق کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہمیں اپنی اجتماعی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کشمیر کے لوگ وہی حقوق اور آزادیوں سے لطف اندوز ہو سکیں جو آزاد ریاست کے کسی بھی شہری کو حاصل ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کے جائز حق خودارادیت کے حصول کے لئے ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا بھی عہد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف آج بلکہ ہر دن حکومت پاکستان سب کے لئے انصاف، مساوات، وقار اور انسانی حقوق کے لئے کام کرتی رہے گی۔

  • ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان ساؤتھ ایشین فورم آف ایمپلائرز کو فعال کرنے کے لیے پُرعزم

    ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان ساؤتھ ایشین فورم آف ایمپلائرز کو فعال کرنے کے لیے پُرعزم

    ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان ساؤتھ ایشین فورم آف ایمپلائرز کو فعال کرنے کے لیے پُرعزم

    ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان (ای اایف پی) کے نائب صدر ذکی احمد خان نے ساؤتھ ایشین فورم آف ایمپلائرز (سیف) کو فعال کرنے میں بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سنگاپور میں 17ویں ایشیا پیسفک ریجنل اجلاس کے موقع پر منعقد ہونے والے سیف کے اجلاس میں انہوں نے فاروق احمد کی تجویز سے اتفاق کیا کہ سیف کا آئندہ اجلاس ایسوسی ایشن آف اوورسیز ٹیکنیکل کو آپریشن اینڈ سسٹین ایبل پارٹنرشپس(اے او ٹی ایس) اور آئی ای سی کی سائیڈ لائنز پر سال 2023 میں منعقد کیا جائے گا۔

    نیپال چیمبر آف کامرس کے صدر اور سیف کے موجودہ صدر رام چندرا نے ساؤتھ ایشین فورم آف ایمپلائرز (سیف) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایک دہائی سے زائد عرصے تک سیف کی حمایت کرنے پر ڈچ ایمپلائرز کوآپریشن پروگرام(ڈی ای سی پی) کا شکریہ ادا کیا اور متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ سیف کو پائیدار بنیادوں پر ایک ادارے کے طور پر جاری رکھا جائے گا۔

    سیکریٹری جنرل بی ڈی ایمپلائز ساؤتھ ایشین فورم آف ایمپلائرز فیڈریشن فاروق احمد نے ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان کے سابق صدر مجید عزیز کو سیف کے پہلے صدر کے طور پر دوبارہ فعال کرنے میں ان کے تعاون پر خراج تحسین پیش کیا۔اجلاس میں شرکاء نے خطے کو درپیش اہم مسائل پر آجروں کی آواز بلند کرنے اور سیف کو مضبوط کرنے کا عزم ظاہرکیا۔

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    اجلاس میں سیکریٹری جنرل سیف مسٹر پانڈے، صدر بی ای ایف اردشیر کبیر، بی ای ایف کی نائب صدر ششمیتا انیس، بی ای ایف کے سید تنویر حسین، ای ایف آئی کے سریناگیشور اور سینئر ایڈوائزر ای ایف پی ایف کے صدیقی نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ اگلا اجلاس جنوری 2023 میں ملائیشیا میں اے او ٹی ایس اجلاس کے موقع پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا جس میں سیف کی صدارت بھارت کو سونپی جائے گی

  • انسداد بد عنوانی کے دن کے موقع پر  قومی قیادت کے پیغامات

    انسداد بد عنوانی کے دن کے موقع پر قومی قیادت کے پیغامات

    انسداد بد عنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ جاری کی گئی ،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں پہلے نمبر پر شعبہ پولیس ہے۔ سروے کے مطابق عوام نے ٹینڈرنگ اور ٹھیکے داری کے نظام میں ہیرا پھیری کو دوسرا نمبر دیا ہے، جب کہ عوامی رائے کے مطابق بدعنوانی میں نظام انصاف کا تیسرا اور محکمہ تعلیم کا چوتھا نمبر ہے۔

    انسداد بد عنوانی کے دن کے موقع پر پاکستان کی قومی قیادت نے پیغامات بھی جاری کئے ہیں،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بدعنوانی کی بنیادی وجوہات کا پتہ لگانے اور بدعنوانی کی کارروائیوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ نے کیلئے پرعزم، ٹھوس اور مخلصانہ کوششیں کرکے ہی ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان ابھر سکتا ہے،بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے پوری طرح پرعزم ہونا ناگزیر ہےمعاشرے کے تمام طبقات کی کوششوں کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں، کرپشن عدم استحکام اور غربت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کرپشن کمزور ممالک کو ریاستی ناکامی کی طرف لے جاتی ہے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں یہ عزم کرنا ہو گا کہ ہم اس لعنت سے لڑیں گے، بدعنوانی کے برے اثرات واضح ہیں جن سے معاشرے کمزور ہو جاتے ہیں اور عدم مساوات کو فروغ ملتا ہے بدعنوانی کے برے اثرات واضح ہیں جن سے معاشرے کمزور ہو جاتے ہیں اور عدم مساوات کو فروغ ملتا ہے، بدقسمتی سے بدعنوانی پر ہماری سیاسی گفتگو کو اس قدر سیاست کا شکار ہو چکی ہے کہ اس نے ساکھ کو داغدار کر دیا ہے ۔ انسداد بدعنوانی کے دن آئیں یہ عہد کریں کہ اس لعنت سے مل کر لڑیں گے

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں کہا کہ کرپشن ایک سماجی برائی ہے جس سے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ آج کے دن کا مقصد کرپشن کے خلاف عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔ صحیح اور غلط میں تفریق ہمارے کردار کا امتحان ہے۔ بدعنوانی معاشی اور سماجی ترقی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ شفافیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جن ممالک نے ترقی کی ہے ان میں کرپشن کے خلاف زیروٹالرنس پائی جاتی ہے۔

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ کا کہنا ہے کہ کہ صوبائی حکومت تعلیم و صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی خوشحالی کیلئے کوشاں ہے معاشی خود انحصاری کیلئے صوبائی محاصل کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا صوبے میں ٹیکس کلچر کو فروغ دیتے ہوئے ٹیکس گزاروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں گی تاکہ درپیش مالی مسائل پر قابو پایا جاسکے۔ صوبائی ترقی و خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ بد عنوانی کا خاتمہ کیا جائے کرپشن کے ناسور کے خاتمے میں حکومت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور مالی بے ضابطگی کیخلاف آواز اٹھانا ہوگی۔

  • وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا سنگاپور میں میٹا فیس بک ایشیا پیسیفک ہیڈکوارٹر کا دورہ

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا سنگاپور میں میٹا فیس بک ایشیا پیسیفک ہیڈکوارٹر کا دورہ

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا سنگاپور میں میٹا فیس بک ایشیا پیسیفک ہیڈکوارٹر کا دورہ

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سنگاپور کے دورے کے موقع پر جمعہ کو یہاں میٹا فیس بک ایشیا پیسیفک ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے اس موقع پر پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے کی کامیابیوں اور وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے میٹا اور پاکستان کے درمیان تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    دوسری جانب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سنگاپور کی صدر حلیمہ یعقوب سے بھی سنگا پور میں ملاقات کی ہے ۔ دفتر خارجہ کے مطابق جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے ملکی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔وزیر خارجہ نے سنگاپور کی صدر سے ملاقات کے دوران آسیان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ نے سنگاپور کے دورہ کے موقع پر کہا کہ سنگاپور کی آزادی کے فوراً بعد پاکستان اسے تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا اور پاکستانی تارکین وطن کمیونٹی نے ابتدائی سالوں میں سنگاپور کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت نے ماضی میں اعلیٰ سطح کے دوروں کا تبادلہ کیا ہے، سنگاپور کے وزیر اعظم لی کوان یو نے 1988 اور 1992 میں پاکستان کا دورہ کیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کہ والدہ شہید بے نظیر بھٹو نے 1995 میں پاکستان کی وزیر اعظم کی حیثیت سے سنگاپور کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے اپنے دوطرفہ تعلقات کی رفتار کھودی۔

  • ہم اپنے ملک میں بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں. ہائیکا شایو

    ہم اپنے ملک میں بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں. ہائیکا شایو

    پاکستان کے دورہ پر تنزانیہ کے سوشل ایکشن فنڈ کی ڈائریکٹر کوارڈنیشن ہائیکا شایو کا بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ "ہمیں بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ اور ہم بھی اپنے ملک میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرز پر ایسا ایک نظام قائم کر کے اپنے غریب لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں. ان کا ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران مزید کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان آکر غریبوں کیلئے قائم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ یہ غریبی ختم کرنے کیلئے ایک بہترئن پروگرام ہے.
    ہائیکا شایو کے مطابق؛ ایک چیز جو ہمیں بہت اچھی لگی اس نے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سسٹم ہے جو انتہائی قابل تعریف ہے.


    علاوہ ازیں تنزانیہ کے سوشل ایکشن فنڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام جیسے تخفیفِ غربت کے پروگرام سے بڑے پیمانے پر لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اور یہ ایک بہت ہی بہترین پروگرام ہے جو غربت کے خاتمے اور عام عوام کی مدد کیلئے بہترین ثابت ہورہا ہے.

    دوسری جانب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے نوشین نورین کا کہنا ہے کہ ہمارے گاؤں کے غریب خاندان اپنے بچوں کی تعلیم اور ان کے یونیفارم اور کتابوں کے اخراجات نہیں دے سکتے تھے۔ بینظیر تعلیمی وضیفے سے نہ صرف غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملی ہے بلکہ یہ پروگرام بچوں کی تقدیر بھی بدل رہا ہے۔

    علاوہ ازیں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والی بیگم مائی نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی وجہ سے انہیں کافی مالی مدد مل رہی ہے کیونکہ ان کے مالی حالات بہتر نہیں لیکن اب اس اسکیم کے بعد ان کی زندگی بہت سکھی ہوگئی ہے. انہوں نے باغی وی سے بات کرتے ہوئے چیئرپرسن شازیہ مری سے مطالبہ کیا کہ انہیں پیسے دینے کا نظام پہلے جیسا بنایا جائے جس طرح انہیں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں اے ٹی ایم کارڈ مہیا کیئے گئے تھے کیونکہ اس سے یسے لینے میں آسانی ہوتی ہے.

  • وکی کوشل نے یاد کیا وہ وقت جب وہ کترینہ کیف سے پہلی بار ملے تھے

    وکی کوشل نے یاد کیا وہ وقت جب وہ کترینہ کیف سے پہلی بار ملے تھے

    اداکار وکی کوشل جو کہ بالی وڈ اداکارہ کترینہ کیف کے شوہر ہیں ان دونوں کی شادی گزشتہ برس دسمبر میں ہوئی تھی ، اداکار نے حال ہی میں اپنی اہلیہ کو شادی کی سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کو یاد کیا ہے . وکی بتاتے ہیں کہ ہم دونوں کی پہلی ملاقات ایک نجی پارٹی میں ہوئی جو مشہور فلمساز زویا اختر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی تھی. ملاقات کے بعد کترینہ کیف نے ہلکی پھلکی بات چیت شروع کی ، اور کرتے کرتے دوستی ہوگئی اس کے بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنا شروع کر دیا . انہوں نے کہا کہ کترینہ کیف کا میری زندگی میں آنا میری خوش قسمتی تھی . ہم دونوں کو بہت جلد محسوس ہو گیا کہ ہم ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں لہذا ہم نے شادی کا فیصلہ کر

    لیا . یاد رہے کہ کترینہ کیف کو آخری بار ہارر کامیڈی فلم فون بھوت میں دیکھا گیا تھا، اس فلم نے بہت زیادہ کامیابی تو حاصل نہیں کی لیکن شائقین نے کترینہ کیف کی اداکاری کو بے حد سراہا .کترینہ کے پاس اس وقت جی لے زرا، اور ٹائیگر 3 جیسی فلمیں ہیں دوسری طرف وکی کوشل اس وقت سوانحی ڈرامے سیم بہادر کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ اس کے بعد وہ مزاحیہ تھرلر گووندا نام میرا میں نظر آئیں گے.

  • عمران خان فائرنگ کیس: جے آئی ٹی نے  پی ٹی آئی کے  مرکزی قائدین سمیت 35 افراد کو طلب کرلیا

    عمران خان فائرنگ کیس: جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین سمیت 35 افراد کو طلب کرلیا

    عمران خان پر فائرنگ کیس، جے آئی ٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین سمیت 35 افراد طلب

    عمران خان پر فائرنگ کیس میں جے آئی ٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین سمیت 35 افراد کو طلب کر لیا گیا ہے. جس میں وزیرآباد میں عمران خان پر فائرنگ کیس،جے آئی ٹی نے فیصل واوڈا کو بھی طلبی کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے اس کے علاوہ یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ، فیصل جاوید، عمران اسماعیل، حماد اظہر کو بھی طلبی کے نوٹسز جاری کیئے گئے ہیں.

    خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان پر ہونے والے حملے پر پنجاب حکومت نے جےآئی ٹی تشکیل دی تھی. پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کے کیس سے متعلق پنجاب حکومت نے جےآئی ٹی تشکیل دی تھی، اور محکمہ داخلہ پنجاب نے جےآئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا. نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی طارق رستم چوہان جے آئی ٹی کے کنوینر مقرر کیے گئے تھے جبکہ آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی کو جے آئی ٹی کا رکن مقرر کیا گیا تھا. نوٹیفکیشن کے مطابق اے آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب احسان اللّٰہ چوہان کو جے آئی ٹی کا ممبر مقرر کیا گیا تھا. ڈی پی او وہاڑی ظفراللّٰہ بزدار کو جے آئی ٹی کا ممبر مقرر کیا گیا
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
    اعلامیے کے مطابق ایس پی سی ٹی ڈی نصیب اللّٰہ خان بھی جے آئی ٹی کے ممبر مقرر کیے گئے تھے. جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیاتھا کہ جے آئی ٹی وزیر آباد میں عمران خان پرحملہ کیس کی تحقیقات کرے گی۔

  • لورنجن میری آخری رومینٹک کامیڈی فلم ہو گی رنبیر کپور

    لورنجن میری آخری رومینٹک کامیڈی فلم ہو گی رنبیر کپور

    رنبیر کپور ہندوستانی سنیما کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ اداکار نے حال ہی میں جدہ، سعودی عرب میں ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کی، وہاں انہوں نے اپنی فلم شمیشیرا کی ناکامی پر بات کی اسی تقریب میں انہوں نے کہا کہ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم لو رنجن میری آخری رومینٹک کامیڈی فلم ہو گی اس کے بعد میں دوسری طرح کے کردار اور فلمیں کروں گا . انہوں نے کہا کہ میں‌جانتا ہوں کہ میں بوڑھا ہو رہا ہوں اس لئے مجھے اس طرح کی کردار اب نہیں‌کرنے چاہیں اور رومینٹک کامیڈی فلموں سے باہر آنا چاہیے . فلم لو رنجن میں‌میرے ساتھ شردھا کپور بھی مرکزی کردار ادا کررہی ہیں ہم دونوں کی ایک ساتھ یہ پہلی فلم ہے امید ہے کہ شائقین ہماری جوڑی کو

    بہت پسند کریں گے. یاد رہے کہ رنبیر کپور نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد رومانوی کامیڈیز میں کام کیا جن میں عجب پریم کی غضب کہانی، انجانا انجانی، بچنا اے حسینو، تماشا، اور جگا جاسوس جیسی فلموں کے نام شامل ہیں۔یاد رہے کہ شردھا کپور بھی بالی وڈ کی وہ اداکارہ ہیں جن کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں کی جوڑی کو شائقین شکرین پر کتنا پسند کرتے ہیں.

  • بناوٹی نہیں بن سکتا رندیپ ہودا

    بناوٹی نہیں بن سکتا رندیپ ہودا

    بالی وڈ‌ اداکار رندیپ ہودا کا شمار بہترین اداکاروں میں‌ہوتا ہے ان کا نام کئی بالی وڈ کی بڑی اداکارائوں کے ساتھ بھی جڑا. ان کی فلموں نے اچھا بزنس بھی کیا لیکن اس کے باوجود وہ نہ زیادہ فلموں میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی وہ شوبز تقریبات میں زیادہ نظر آتے ہیں . انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں‌انہوں نے کہا ہے کہ میں نے ایسی فلموں میں کام کیا جنہیں عوامی سطح پر بہت پذیرائی ملی ، اس کے باوجود مجھے ایوارڈ نہیں ملا ، لیکن مجھے ایوارڈ نہ ملنے پر کوئی مایوسی نہیں ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ آرٹسٹ کو اچھا کام کرنا چاہیے. انہوں نے کہا کہ میں اس لئے کم کم ہر جگہ نظر آتا ہوں کیونکہ میں‌بناوٹی بن کر کہیں‌نہیں‌جا سکتا ،

    ہوتا یہ ہے کہ آپ ذاتی زندگی میں خوش نہیں‌ہوتے لیکن آپ کو کسی بھی تقریب میں جا کر ایسا محسوس کروانا پڑتا ہے کہ جیسے آپ اپنی زندگی میں بہت خوش ہیں چاہے حقیقت میں آپ خوش نہیں‌ہیں ، آپ کو خوش کن شخصیت کے مالک بن کے بھی دکھانا پڑتا ہے تو میں جو ہوں بس وہی نظر آنے کو ترجیح دیتا ہوں ، اسلئے کوشش کرتا ہوں کہ میں ایسی کسی جگہ پر نہ جائوں جہاں مجھے اپنا آپ وہ دکھانا پڑے جو میں‌نہیں‌ہوں .