Baaghi TV

Author: +9251

  • کھایا پیا لوٹا بیچا سب سامنے آجائے گا، سعد رفیق

    کھایا پیا لوٹا بیچا سب سامنے آجائے گا، سعد رفیق

    وزیر ریلوے سعدرفیق کا کہنا ہے کہ کھایا پیا لوٹا بیچا سب سامنے آجائے گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں وزیرریلوے سعدرفیق کا کہنا تھا کہ افسوس! مفت خوری اور ٹکے ماری کےعادی مُرشد کوئی جائز کاروبار کر لیتے، تو فارن فنڈنگ، صدقہ خیرات خوری اور گھڑیاں چوری کرنے سے تو بچ جاتے۔


    وفاقی وزیرریلوے نے بتایا کہ گرین لائن، فرید ایکسپریس اور پاکستان ایکسپریس جلد ٹریکس پر رواں دواں ہوں گی۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    انہوں نے کہا کہ ریلوے پنشنرز کی پنشن شدید مالیاتی دباؤ کے باعث لیٹ ہوگئی ہے، اور وہ سخت تکلیف میں ہیں جس کا پورا احساس ہے، وزارت خزانہ نے رات کو کلئیرنس دے دی تھی،آج انشا اللّٰہ اے جی پی آر سے اتھارٹی ایشو کروا کے بینکوں کو ریلیزکروائی جا رہے ہے، پوری کوشش ہے کہ بینک ہفتے کے دن اوور ٹائم لگا کر اسے تقسیم کر دیں۔

    اس سے قبل وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت ریلوے کی کارکردگی بہتربنانے کیلئے اقدامات کررہی ہے ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے حکومت پاکستان ریلوے کی کارکردگی بہتر کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت ملک میں معاشی استحکام کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ اتحادی حکومت کے فیصلوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔

  • عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع

    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع

    کار سرکار میں مداخلت کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی.

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گری عدالت نے کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع کر دی۔ انسداد دہشت گری عدالت میں احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ بابراعوان نے کہا کہ عمران خان لاہور میں ہیں، عدالت میں پیش نہیں ہوسکیں گے۔بعدازاں عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع کردی۔

    جبکہ اس سے قبل بھی انسداد دہشتگردی عدالت نے سنگجانی میں درج احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی عبوری ضمانت میں 9 دسمبر تک توسیع دی تھی جبکہ آئندہ سماعت پر سابق وزیر اعظم کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی. تفصیلات کے مطابق تھانہ سنگجانی میں درج احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے عمران خان کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بابراعوان عدالت میں پیش ہوئے تھے اورعمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی.

    وکیل بابراعوان نے موقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم زخمی ہیں اور سفر نہیں کر سکتے ،عدالت نے کہا کہ عمران خان ایک سیاسی اجتماع میں موجود تھے ،کیس کو زیادہ دیر التوا کا شکار نہیں بنا سکتے، عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ عمران خان اسلام آباد میں موجود ہیں یا لاہور؟ وکیل بابراعوان نے کہا تھاکہ عمران خان اس وقت لاہور میں موجود ہیں اور عدالت پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن اسلام آباد انتظامیہ انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کواسلام آباد داخلے روکنے کا حکمنامہ آپ کے پاس ہے ؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    بابراعوان نے کہا کہ حکمنامہ تحریری طور پر نہیں زبانی کہاں گیاہے جس پر فاضل جج نے کہاکہ سابق وزیر اعظم کے داخلے کے معاملے پر عدالت انتظامیہ سے وضاحت بھی طلب کر سکتی ہے۔ بابراعوان کی جانب سے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی گئ تھی عدالت نے کہا تھا کہ آئندہ سماعت پر عمران خان کی پیشی ہر صورت یقینی بنائیں۔ بعدازاں عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 9 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی تھی.

  • چار سال بعد  وطن  واپس جارہا ہوں جبکہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے. سلیمان شہباز

    چار سال بعد وطن واپس جارہا ہوں جبکہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے. سلیمان شہباز

    سلیمان شہباز نے کہا ہے کہ چار سال بعد وطن واپس جارہا ہوں جبکہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے.

    وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے کہا ہے کہ برطانیہ میں 4 سالہ جلا وطنی ختم کرکے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہذا پاکستان ہمارا ملک ہے اور میں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کیونکہ لوگوں کی یاداشت کم ہوتی ہے. ان کا مزید کہناتھا جس طرح سے 2018 میں سازش کا آغاز ہوا اور ہمارے شریف خاندان اور خواتین کو جس قدر ہراساں کیا گیا.


    سلیمان شہباز کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال جو ایک سیاہ دھبہ ہیں انہیں کس طرح بلیک میل کرکے استعمال کیا گیا اسی طرح بشیر میمن کئی بار کہہ چکے انہیں کس طرح دھمکایا گیا کہ آپ اپوزیشن کے خلاف کیس بنائیں. جبکہ شہزاد اکبر اور اسکے ساتھیوں نے عمران خان کی سربراہی میں پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے. سلیمان کے مطابق اب اللہ کا شکر ہے کہ سلیکٹد نظام سے اب ہماری جان چھوٹ گئی ہے جسکے بعد میں اپنے ملک جارہا ہوں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع


    ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیلی میل کی معزرت ہماری کامیابی ہے کیونکہ عمران خان جب وزیراعظم تھے انہوں نے عالمی ایجنسی کو کہا تھا کہ شہباز شریف کے کیس کی تحقیقات کریں جس کے بعد وہاں بھی ہم سرخرو ہوئے ہیں. کیونکہ این سی اے نے ان تمام الزامات کا کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا تھا.

  • کراچی میں صبح 6 سے رات  11 بجے تک ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    کراچی میں صبح 6 سے رات 11 بجے تک ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    کراچی میں صبح 6سے رات11بجے تک ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    سندھ ہائیکورٹ نے صبح 6 سے رات 11بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں بند کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں 2رکنی بینچ کے روبرو شہر میں ہیوی ٹریفک پر پابندی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ ڈی آئی جی ٹریفک عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ جمع کرائی۔ جسٹس ندیم اختر نے استفسار کیا کہ پہلے والے ڈی آئی جی ٹریفک کہاں ہیں، کیا ان کا تبادلہ ہوگیا، کیا عدالت سے ان کے تبادلے کی اجازت لی گئی تھی؟ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیئے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محکمہ پولیس عدالت کے احکامات کو کتنی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ جسٹس ندیم اختر نے ڈی آئی جی ٹریفک سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ہیوی ٹریفک سے متعلق احکامات کا آپ کو علم ہے۔

    جس پر ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ رات 11بجے سے صبح 6 بجے تک ہیوی ٹریفک شہر میں جاسکتا ہے۔ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں صرف سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانا ہے۔ ہیوی ٹریفک کی وجہ سے کالج، اسکول، اسپتال، نوکری یا عدالت نہیں پہنچا جاسکتا، یہ آئین کے آرٹیکل 9 کیخلاف ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ سندھ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ بہت کم ہے۔ موٹرسائیکل والے پر بھی اتنا ہی جرمانہ ہوتا ہے، جتنا بائیس وھیلر والے پر ہوتا ہے۔ ہم اس میں ایف آئی آر بھی درج کریں گے اور گاڑیوں کو بند کریں گے۔

    مقررہ اوقات کے علاوہ ہیوی ٹریفک کا داخلہ نہیں ہوتا۔ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس میں کہا کہ انٹری پوائنٹس پر فوکس کریں، آپ کا کورس اور طریقہ کار درست نہیں، شہریوں کو کہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر تاریخ اور وقت کے ساتھ وڈیوز اپ لوڈ کریں۔ جسٹس ندیم اختر نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ شہر میں جنگل کا قانون ہے، تیز لائٹس اور فینسی نمبر پلیٹس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ فینسی نمبر پلیٹ والی 15 ہزار گاڑیوں کیخلاف کارروائی کی گئی ہے۔ جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں بند کریں۔ کوئی بھی ادارہ اس کام میں رکاوٹ ڈالے تو عدالت کو آگاہ کریں۔ نیلی پیلی لائٹس اور ہوٹر والی گاڑیوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے، خواہ وہ ایم این اے یا ایم پی ایز کی ہی کیوں نہ ہوں، کسی کے دباؤ میں نہ آئیں۔

  • بدعنوانی کا عالمی دن؛ ترقی و خوشحالی کی راہ میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے. وزیر اعظم

    بدعنوانی کا عالمی دن؛ ترقی و خوشحالی کی راہ میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے. وزیر اعظم

    بدعنوانی کا عالمی دن؛ ترقی و خوشحالی کی راہ میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے. وزیر اعظم
    وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان سے کرپشن کے ناسور کے خاتمے کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ کرپشن کسی بھی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرکے اسکی معاشی و انتظامی تباہی کا باعث بنتی ہے. معاشرتی اقدار کا زوال کسی بھی معاشرے میں کرپشن کی شرح بڑھاتا ہے۔

    انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پراپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انسدادِ کرپشن کے عالمی دن پر کرپشن کو کسی بھی ملک کی سلامتی، امن اور ترقی سے براہِ راست تعلق کو اجاگر کیا جا رہا ہے. کرپشن سے ملک و قوم کا قیمتی پیسہ نہ صرف شرپسند عناصر کے ہاتھوں میں جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے ملک کا امن تباہ ہوتا ہے بلکہ اس سے ادارے کمزور اور لوگوں کا گورننس سے اعتبار اٹھ جاتا ہے. آج کا دن اس عہد کی تجدید کا بھی دن ہے کہ ہم سب پاکستانی مل کر کرپشن سےجنگ میں سرخرو ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے. 2013 سے 2018، مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں ناصرف ملک میں کرپشن کی شرح نیچے آئی، جس کے گواہ بین الاقوامی ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے انڈیکس ہیں، بلکہ وفاقی اور صوبہ پنجاب کی سطح پر اربوں ڈالر کے سی پیک اور دوسرے ترقیاتی منصوبے شروع کرکے پایہ تکمیل تک پہنچائے مگر کوئی بھی ان میں ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ کر سکا۔

    انہوں نے کہا کہ آج کے انسدادِ کرپشن دن پر میں اس بات پر بھی زور دونگا کہ پاکستان کی سیاست میں کرپشن کو انتقام کا ذریعہ بنانے کے رواج کو ختم کرنا ہوگا. گزشتہ دور میں جس طریقے سے کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر سیاسی حریفوں کو جیلوں میں بند کیا گیا اسکی مثال نہیں ملتی. کرپشن کو ذاتی انتقام کی بھینٹ چڑھانے کیلئے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا. اس روایت کو ختم ہونا چاہئیے تاکہ اداروں کو محض کرپشن کے نام پر استعمال کرنے کی بجائے صحیح معنوں میں ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اداروں کو مضبوط کیا جا سکے۔ کرپشن ایک بہت بڑا قومی مسئلہ ہے، ہمیں اپنی سیاسی گفتگو میں بھی اس بات کا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس کو سیاسی نعرے بازی اور پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کی بجائے سنجیدگی سے اس کے ملک سے سد باب کے اقدامات پر مل کر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کی روک تھام کیلئے تمام سیاسی حلقوں کو مل کر ایک واضح روڈ میپ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی بیان بازی کی بجائے اسکا مو ¿ثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ملک سے کرپشن کی کمی کیلئے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، سماجی تحفظ اور معاشرتی اقدار کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی یقینی بنانی ہوگی. قائد کے کرپشن سے پاک پاکستان کے حصول کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تب ہی پاکستان ترقی کے سنگِ میل عبور کر سکے گا. آئیں انسدادِ کرپشن کے اس عالمی دن پر عہد کریں کہ ہم مل کر اس خواب کو شرمندہءتعبیر کریں گے۔

  • استاد راحت فتح علی خان کی 48 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے

    استاد راحت فتح علی خان کی 48 ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے

    سروں کے سلطان، عالمی شہرت یافتہ گائیک استاد راحت فتح علی خان آج اپنی 48 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    راحت فتح علی خان 9 دسمبر 1974 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور ان کو والد فرخ فتح علی خان اور نصرت فتح علی خان کے ساتھ بچپن سے ہی قوالی کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ وہ اب تک سیکڑوں قوالیاں گیت اورغزلیں گا چکے ہیں اور ان کے گائے گیت اور غزلیں عوام میں بے حد مقبول ہیں۔ پاکستان بھر میں ان کی شہرت کے بعد ہمسایہ ملک بھارت نے بھی ان کی آواز سے فائدہ اٹھایا، بھارتی فلم پاپ میں ان کی آواز میں گایا گیت “من کی لگن ” نے بے پناہ شہرت حاصل کی۔

    راحت فتح علی خان اب تک کئی ڈراموں اور فلموں کے ٹائٹل سونگ بھی گا چکے ہیں اور انہوں نے متعدد ملی نغمے بھی گائے۔ 2019 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے انہیں موسیقی کے شعبے میں اعزازی طورپر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا جبکہ وہ اب تک متعدد ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز جیت کر ملک وقوم کا نام روشن کر چکے ہیں۔ موسیقی کے گھرانے میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے سُر، سنگیت اور راگنیاں ان کی گھٹی میں شامل ہوتی گئیں۔

    راحت فتح علی خان کم عمری ہی سے اپنے چچا استاد نصرت فتح علی خان کے ساتھ سماع کی محفلوں میں سنگت کرنے لگے تھے۔ اس زمانے کی تربیت آج استاد راحت فتح علی خان کے قدم قدم پر کام آ رہی ہے، 2013ء میں بالی وڈ کی اداکارہ و پروڈیوسر پوجا بھٹ نے اپنی فلم ’’پاپ‘‘ میں راحت فتح علی خان کی آواز میں ایک گیت ’’من کی لگن‘‘ شامل کیا تو ہر طرف ان کی آواز کی دھوم مچ گئی۔

    2013ء سے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی بالی وڈ میں پوری توانائی اور مقبولیت کے ساتھ جاری ہے، علاوہ ازیں انہوں نے کئی پاکستانی ڈراموں کے ٹائٹل سونگ بھی گائے، جنہیں بے حد پسند کیا گیا۔ دسمبر 2014ء میں اوسلو میں منعقدہ نوبیل پیس پرائز کی تقریب میں صُوفیانہ کلام پیش کر کے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا۔ نیویارک میں جیو ٹی وی کے تعاون سے یوم پاکستان کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں منعقدہ ’’صوفی نائٹ‘‘ میں آواز کا جادو جگایا۔

  • کاجول نے شاہ رخ خان کی سب سے بڑی خوبی بتا دی

    کاجول نے شاہ رخ خان کی سب سے بڑی خوبی بتا دی

    بالی وڈ‌ اداکار شاہ رخ خان اور کاجول کی جوڑی بہت پسند کی جاتی ہے دونوں نے پہلی بار ایکساتھ فلم بازیگر میں کام کیا . کرن ارجن ، دل والے دلہنیا لے جائیں گے ، کبھی خوشی کبھی غم اور کچھ کچھ ہوتا جیسی فلموں میں‌کام کیا . کاجول شاہ رخ خان کی قریبی دوست ہیں اور ان کی بہت بڑی مداح بھی ہیں . کاجول نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ شاہ رخ خان نے اپنے کیرئیر میں بہت زیادہ محنت کی ، میرے شوہر اجے دیوگن نے بھی بہت محنت کی لیکن میرے شوہر کی محنت شاید نظر آتی رہی لیکن شاہ رخ خان نے جتنی محنت کی وہ نظر نہیں آتی . شاہ رخ خان آج جس مقام پر بھی ہیں وہ انہوں نے بہت محنت کے بعد حاصل کیا. شاہ رخ خان جتنے اچھے اداکار ہیں اس سے کہیں بڑھ کر اداکار ہیں‌. میں گواہ ہوں کہ

    انہوں نے اپنے کیرئیر میں سر توڑ کوشش کی محنت کی اور پھر جا کر ان کو کام ملا اور جب کام ملا تو انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا . یاد رہےکہ کاجول کی جوڑی اجے کی بجائے شاہ رخ خان کے ساتھ مشہور ہوئی . آج بھی شائقین کاجول اور شاہ رخ خان کو ایک ساتھ دیکھنےکےلئے بےتاب ہیں .

  • کالی رنگت کی وجہ سے پریانکا چوپڑا کس طرح سے مشکلات کا رہیں شکار

    کالی رنگت کی وجہ سے پریانکا چوپڑا کس طرح سے مشکلات کا رہیں شکار

    بالی وڈ کی اداکارہ پریانکا چوپڑا نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ میری رنگ سانولی ہے اس وجہ سے میں‌بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہوں. مجھے کالی بلی کہہ کر پکارا جاتا تھا میری بے عزتی کی جاتی تھی کہ میں‌کالی ہوں. میں کبھی ایسے القابات سے گھبرائی نہیں تھی لیکن سوچتی ضرور تھی برطانوی راج کو ختم ہوئے کئی دہائیاں ہو چکی ہیں لیکن اب بھی گوری رنگت کو ہی سب سے بڑا مانا جاتا ہے ، پریانکا نے کہا کہ میری رنگت کی وجہ سے کوئی بھی میری صلاحیتوں کو ماننے کے لئے تیار نہ تھا. لیکن میں نے بھی ہمت نہ ہاری اور میں لگی رہی اور جو کام ملا وہ کیا اور ایک وقت آیا کہ میری صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا . میرے کام نے ناقدین کے منہ بند کر دئیے . انہوں نے کہا کہ

    آج بھی سوچتی ہوں اور پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو محسوس کرتی ہوں کہ اپنی سانولی رنگت کی وجہ سے مجھے اپنے دیگر ساتھیوں‌کی نسبت زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی . انہوں نے کہا کہ کالی رنگت جس کی بھی ہو اس کی صلاحیتوں‌کو صرف اس کی رنگت کی وجہ سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے.

  • ڈراموں میں ساس بننے والی فضیلہ حقیقت میں ساس بن گئیں

    ڈراموں میں ساس بننے والی فضیلہ حقیقت میں ساس بن گئیں

    اداکارہ فضیلہ قاضی اور اداکار قیصر خان کے دو بیٹے ہیں حال ہی میں ان کے ایک بیٹے احمد خان نظامانی شادی کے بندھن میں بندھ گئے ہیں اور فضیلہ قاضی نے اپنے بیٹے کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر خود جاری کی ہیں . فضیلہ قاضی اور قیصر خان نظامانی کافی خوش دکھائی دے رہے ہیں. فضیلہ قاضی اور قیصر خان کو ان کے مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مبارکبادیں مل رہی ہیں . فضیلہ قاضی کافی عرصہ سے ٹی وی ڈراموں میں کم کم نظر آتی ہیں اس حوالے سے انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اب تو کرداروں کے لئے کسی ایکٹر کا انتخاب میرٹ پر نہیں کیا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون دستیاب ہے ،دوسری طرف قیصر خان اپنی وکالت میں خاصے مصروف ہیں اس لئے وہ بھی ٹی وی ڈراموں میں نظر نہیں آتے .

    یاد رہے کہ فضیلہ قاضی اور قیصر خان نے نوے کی دہائی میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور ان کے کریڈٹ پر سپر ہٹ ڈرامے ہیں. ان دونوں کے دونوں بیٹوں نے اداکاری کی دنیا میں‌قدم نہیں‌رکھا دونوں اپنے والد کے ساتھ وکالت کرتے ہیں .

  • بی آئی ایس پی کے تحت حکومت نے70 ارب روپے تقسیم کیے. وزیراعظم شہباز شریف

    بی آئی ایس پی کے تحت حکومت نے70 ارب روپے تقسیم کیے. وزیراعظم شہباز شریف

    بی آئی ایس پی کے تحت حکومت نے70 ارب روپے تقسیم کیے. وزیراعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کے رہائشی یونٹس کا افتتاح کر دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب سے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور ٹانک میں مخیر حضرات کی مدد سے گھر بنائے گئے ہیں۔ سیلاب سے 20 لاکھ گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے متاثرین کو چھت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سیلاب متاثرین کی جو مدد کی وہ قابل تحسین ہے۔ بیرون ممالک نے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے فوری اقدامات کیے اور تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے سیلاب متاثرین کی مدد کی۔ کیونکہ انہوں نے اس مشکل کی گھڑی ہمارا ساتھ دیا جو انتہائی اہم ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
    شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی، قطر اور دیگر ممالک نے پاکستان کی بھرپور مدد کی جبکہ بدترین حالات اور محدود وسائل کے باوجود وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے 70 ارب روپے مہیا کیے۔انہوں نے کہا کہ صاف وشفاف طریقے سے متاثرین میں رقوم تقسیم کی گئیں۔ کاروباری شخصیات سے گزارش ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔