Baaghi TV

Author: +9251

  • بے نظیر بھٹو کا مجسمہ؛ عزت دے رہے ہیں یا مذاق اڑا رہے ہیں؟

    بے نظیر بھٹو کا مجسمہ؛ عزت دے رہے ہیں یا مذاق اڑا رہے ہیں؟

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ایک پارک میں نصب سابق وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مجسمے پر لوگوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر صحافی وینگاس نے پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے مجسمے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پیپلزپارٹی جس نام پر حکمرانی کرتی ہے اسے پتہ ہی نہیں کہ یہ (مجسمہ) کیسا لگ رہا ہے۔


    ایک اور صارف نازیہ میمن نے لکھا کہ بے نظیر بھٹو شہید کا مجسمہ کیا واقعی؟ ہم انہیں عزت دے رہے ہیں تا مذاق اٹھارہے ہیں۔ نسانی حقوق کی کارکن فاطمہ عاطف نے مجسمے کو ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا کوئٹہ کے پارک میں نصب کیا گیا مجسمہ پاکستان کی تمام خواتین کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد کا سب سے بڑا شاپنگ مال سینٹورس سیل
    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق
    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت
    شدید تنقید کے بعد بلوچستان میں پیپلزپارٹی کے کوآرڈینیٹر حیات خان اچکزئی یقین دہانی کرواتے ہوئے لکھا کہ کہ اس مجسمے کو تبدیل کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بے نظیر پاکستان کی پہلی اور واحد خاتون تھیں جو دو مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہیں جبکہ 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انہیں گولیاں کو نشانہ بنایا گیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

  • شہباز گِل کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    شہباز گِل کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج

    شہباز گِل کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج، مقدمہ ملکی ادارے کیخلاف نفرت،اشتعال پھیلانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کیخلاف کراچی کے تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ بریگیڈ تھانے میں محمد سعید نامی شہری کی مدعیت میں یہ مقدمہ ملکی ادارے کے خلاف نفرت اور اشتعال پھیلانے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ شہباز گل نے ادارے کے سابق سربراہ کیخلاف نفرت انگیز تقریرکی۔

    متن میں مزید کہا گیا ہے کہ شہبازگل عوام کو ادارے کے افسران کیخلاف بھڑکا رہے ہیں۔ جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی شہباز گل کے خلاف متعدد مقدمات درج ہوچکے ہیں. پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی گرفتاری گزشتہ سال آٹھ اگست کو نجی نیوز چینل اے آر وائی پر ملکی اداروں کے خلاف ایک بیان کے بعد عمل میں آئی تھی۔ شہباز گل کے اس بیان کے بعد نہ صرف پیمرا نے اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کا اعلان کیا تھا بلکہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے خلاف بھی اسلام آباد میں بغاوت کا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ شہباز گل کے خلاف ایسا ہی ایک مقدمہ کراچی میں بھی سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد کا سب سے بڑا شاپنگ مال سینٹورس سیل
    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق
    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت
    علاوہ ازیں اس سے قبل خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی شہباز گل پر ملک کے اداروں کے خلاف بیان پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ 25 اگست کو تھانہ چھاؤنی میں درج کیا گیا مقدمہ ڈی آئی خان کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر منیر احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا.

  • پنجاب؛ مزدوری کرنے والے ہزاروں بچوں کو اسکول لے جانے والا منصوبہ سیاسی تعصب کی نذر

    پنجاب؛ مزدوری کرنے والے ہزاروں بچوں کو اسکول لے جانے والا منصوبہ سیاسی تعصب کی نذر

    پنجاب میں مزدوری کرنے والے ہزاروں بچوں کو اسکول لے جانے والا منصوبہ بھی سیاسی تعصب کی نذر؛ جبکہ اس سے قبل مزدوری کرنے والے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لئے خاندان کو ایک ہزار روپے ماہانہ دیئے جاتے تھے

    ورلڈومیٹر ویب سائیٹ کے مطابق پاکستان کی موجودہ کل آبادی 23 کروڑ سے زائد اور یہاں 21.9 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جن کی تعداد 5 کروڑ سے زائد بنتی ہے۔ لیکن قومی و بین الاقوامی سطح پر بچوں کے حقوق کے اداروں کے مطابق بچوں سے مشقت نہیں کرائی جا سکتی۔ وہاڑی کے علاقہ 9 ڈبلیو بی کا رہائشی 12 سالہ فیصل (فرضی نام) بتاتا ہے کہ وہ گزشتہ 3 سال سے شہر میں موجود ایک چائے کے ڈھابے پر کام کرتا ہے اس کا کام مختلف دکانوں اور دفاتر میں چائے پہنچانا اور خالی کپ واپس لانا ہے۔ فیصل کے مطابق اس کی 5 بہنیں ہیں اور اس کے والد ایک حادثہ میں 4 سال پہلے وفات پا گئے تھے۔ فیصل کی دو بڑی بہنیں سلائی کرتی ہیں ایک کالج کی طالبہ ہے اور 2 اسکول جاتی ہیں، وہ روزانہ چائے والے سے 4 سو روپے دیہاڑی لیتا ہے اور چائے پینے والے کسٹمر کبھی کبھار اسے دس بیس روپے بخشش بھی دے دیتے ہیں ۔

    فیصل کا کہنا ہے کہ ہم سب مل کر اپنی بہن کی پڑھائی مکمل کروانا چاہتے ہیں اور جب وہ پڑھ لکھ کر افسر بھرتی ہوجائے گی تب وہ اسکول جانا شروع کرے گا۔ علیم (فرضی نام) کی عمر 32 سال ہے اور وہ میڈیسن کے شعبہ سے وابستہ ہے۔ علیم نے بتایا کہ جب وہ دس سال کا تھا تو اسے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے مزدوری کرنا پڑی لیکن ساتھ ساتھ اس نے اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ وہ زندگی میں ایک کامیاب انسان بننا چاہتا تھا اگر وہ پڑھائی کے ساتھ مزدوری نہ کرتا تو ساری زندگی کے لیے مزدور ہی رہتا۔ بچوں سے مشقت کے حوالے سے علیم نے بتایا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں بچوں کی مشقت کی ممانعت نہیں ہونی چاہیے بلکہ بچوں کے لیے ایسے روزگار کا انتظام کیا جانا چاہیے جس سے وہ چند گھنٹے کام کر کے پیسے بھی کما سکیں اور بعد ازاں اسکول جا کر پڑھائی بھی کر سکیں۔ علیم نے بتایا کہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں گھر کا سربراہ وفات پا جاتا ہے، چار سے پانچ بچے اس کے زیر کفالت ہوتے ہیں جبکہ اس کی بیوی بھی کم یافتہ ہونے کے باعث کچھ نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں وہ فیملی کیا کرے۔ کیونکہ سرکاری سطح پر ایسی فیملیز کے لیے کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔

    پنجاب میں لیبر ڈپارٹمنٹ کے تحت 2014 میں Elimination of Bonded and Child Labor کے نام سے 4 اضلاع بہاولپور، سرگودھا، فیصل آباد اور گجرات میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا، جس کے تحت لیبر ڈپارٹمنٹ نے اینٹوں کے بھٹوں پر نان فارمل اسکول قائم کیے ان اسکولوں میں بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو 32 ماہ میں پرائمری تک تعلیم دینی تھی۔

    2017 میں اس پراجیکٹ کو پنجاب بھر کے 36 اضلاع میں شروع کر دیا گیا، جس کے تحت لیبر ڈپارٹمنٹ مشقت کرنے والے بچوں کی نشاندہی کرتا تھا اور انہیں سرکاری یا نجی اسکول میں داخل کرتا تھا، سرکاری یا نجی اسکول کا تعین بچے کے گھر سے نزدیک ترین اسکول دیکھ کر کیا جاتا تھا جو بچہ اس پراجیکٹ کے تحت نجی اسکول میں داخل ہوتا لیبر ڈپارٹمنٹ ایک بچے کی فیس کے طور پر 550 روپے نجی اسکول کو ادا کرتا تھا۔ اس پراجیکٹ کو پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کی نگرانی میں شروع کیا گیا اس سلسلے میں ضلع سطح پر ڈسٹرکٹ امپلی مینٹیشن یونٹ قائم کیے گئے جو لیبر ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔ اس پراجیکٹ کو موثر انداز میں چلانے کے لیے ضلع بھر میں 2 سوشل موبلائیزر بھی بھرتی کیے گئے جن کا کام مقشت کرنے والے بچوں کی نشاندہی اور بعد ازاں سکولوں میں داخلہ کو یقینی بنانا تھا۔ منصوبے کے تحت ضلع بھر میں 402 بچے مشقت کی جگہ سے ہٹا کر اسکولوں میں داخل کرائے گئے جن میں 4 لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ اس پراجیکٹ میں اس وقت مزید تیزی آئی جب اس وقت کی حکومت نے بھٹہ مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے گھرانوں کی مالی امداد کے سلسلہ میں خدمت کارڈ جاری کیے جس سے ہر ماہ بچے کے والدین کو ایک ہزار روپے مالی امداد دی جاتی تھی۔

    اس حوالے سے خدمت کارڈ بینک آف پنجاب کی جانب سے جاری کیے جاتے اور والدین کو ایک سم بھی دی گئی جس پر ہر ماہ ٹیکسٹ میسج آتا تھا۔ ستمبر 2018 تک وہاڑی ضلع میں کل خدمت کارڈ کے لیے 2169 خاندانوں کے کوالیفائی کرنے والے بچوں کی تعداد 4210 تھی۔ ان میں سے 89.75 فیصد کے حساب سے 3788 بچوں کے والدین کو ہر ماہ ایک ہزار روپے امداد دی جاتی رہی، باقی رہ جانے والے 422 کیسز میں ڈبل انٹری، شناختی کارڈ کا مسئلہ، شہر چھوڑ جانا اور نام کی غلطی جیسی دیگر وجوہات شامل ہیں۔ پنجاب بھر میں کوالیفائی کرنے والے بچوں کی تعداد 80 ہزار تھی۔ جیسے ہی ستمبر 2018 میں نئی حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو یہ پراجیکٹ روک دیا گیا۔

    مارچ 2022 میں سیکرٹری ایجوکیشن ساؤتھ پنجاب احتشام انور مہار نے اپنے طور پر اسی پراجیکٹ کو صبح نو پروگرام کے نام سے شروع کیا جس کے تحت 23 بچے وہاڑی کے سرکاری اسکول اسلامیہ ہائی اسکول میں داخل ہیں جن کے لیے الگ سے 3 اساتذہ موجود ہیں۔لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق تحصیل بوریوالا اور میلسی میں جلد شروع کیا جائے گا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر ملک محمد شعبان کا کہنا ہے کہ 2017 سے شروع ہونے والے پراجیکٹ سے بڑے پیمانے پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہوا لیکن بد قسمتی سے حکومت کی تبدیلی کے بعد موثر انداز سے نہ چل سکا۔ اگر یہ پراجیکٹ دوبارہ شروع کر دیا جائے تو چائلڈ لیبر میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔ آئین کے مطابق بچے کی عمر 14 سال مقرر کی گئی ہے اس عمر سے چھوٹے بچے سے مشقت کرانا ممنوع قرار دیا گیا۔ خلاف ورزی پر مجسٹریٹ کو یا متعلقہ تھانے میں اطلاع دی جا سکتی ہے۔

    ماہر نفسیات ڈاکٹر ذکیہ سرور کا کہنا ہے کہ جن بچوں سے مشقت لی جاتی ہے ان کی تعلیم، صحت، نفسیات کے علاوہ خود اعتمادی بھی متاثر ہوتی ہے۔ آج کے بچے آنے والے کل کے لیڈر، ڈاکٹر، انجینئر اور ایڈمنسٹرینٹر ہوں گے ان سے مشقت لینے کا سیدھا مطلب ملک کو مستقبل میں کمزور کرنا ہے۔ سماجی رہنما میاں جہانزیب یوسف بتاتے ہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک اور وہاڑی جیسے پسماندہ علاقے میں چائلڈ لیبر کوئی انوکھی بات نہیں۔ ’’میں چائلد لیبر کے حد درجہ خلاف ہوں لیکن وہ غریب خاندان جن کا کوئی اور سہارا نہیں وہ کہاں جائیں‘‘۔ جہانزیب یوسف نے بتایا کہ ضلع کچہری میں موجود ان کے دفتر میں چند مہمانوں کے آنے پر جب انہوں نے کچھ کھانے کو منگوایا تو ایک 10 سال کا معصوم بچہ پلیٹیں اٹھائے دفتر میں داخل ہوا۔ میں نے اسے بٹھایا اور اسکول جانے پر اکسایا۔ اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ پڑھائی کے لیے رقم نہیں۔ میں نے یقین دلایا کہ تمہاری پڑھائی کےلیے ساکول فیس، یونیفارم، کتابیں سب کا خرچہ میرے ذمے ہے تم صبح سے اسکول جاؤ۔

    اگلے روز اس کی والدہ میرے دفتر آگئی اور بولی آپ ہمارے منہ سے نوالہ کیوں چھین رہے ہیں یہ بچہ جس کا والد چند سال پہلے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور دوسری شادی کر لی، گھر کا واحد کفیل ہے۔ خدا کے لیے ہم پر ظلم نہ کریں ہم بھوکے مر جائیں گے۔ تو میں حیران و پریشان بیٹھا یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یا تو حکومت کو اس حوالے سے کام کرنا ہو گا کہ ایسی کوئی بھی فیملی جن کا متبادل ذریعہ معاش نہ ہو ان کے لیے وظیفہ مختص کریں یا بچوں کو چند ایک مخصوص قسم کی ملازمت مختصر وقت کے لیے فراہم کی جانی چاہئے۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر ڈپارٹمنٹ وہاڑی ملک محمد شعبان نے بتایا کہ بچوں سے مشقت لینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جاتی ہے۔ 14 سال سے کم عمر کے بچوں سے کسی بھی قسم کی مشقت لینا جرم ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کی سزا 6 ماہ قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت اور The Punjab Restriction on Employment of Children Act 2016 The Punjab Prohibition of Child Labour at brick kiln Act 2016 کے تحت کارروائیاں کی جاتی ہیں۔آر ٹی آئی کے ذریعے لیبر ڈپارٹمنٹ سے ملنے والے ڈیٹا کے مطابق مارچ سے ستمبر 2022 تک ملتان ڈویژن میں کل 71 مقدمات چائلڈ لیبر کے درج ہوئے جن میں 8 مقدمات وہاڑی کے شامل ہیں جبکہ گزشتہ سال وہاڑی میں 27 مقدمات درج ہوئے۔ رواں سال مقدمات کے اندراج میں واضح کمی کی بڑی وجہ وہاڑی میں موجود 2 ہزار بھٹہ خشت میں سے اکثر کا بند رہنا ہے۔ بھٹہ خشت ایسوسی ایشن کے ممبر شیخ خالد مسعود کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کا واضح اثر کاروبار پر ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ بھٹہ خشت پر کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

    لیبر آفس کے مطابق بھٹہ خشت پر چائلڈ لیبر کی نشاندہی کی صورت میں مقدمہ ناصرف بھٹہ مالک پر ہوتا ہے بلکہ بچے کے والد یا سرپرست کو بھی نامزد کیا جاتا ہے جبکہ عام مارکیٹ میں چائلڈ لیبر کی صورت میں مقدمہ صرف دکان یا کاروبار کے مالک پر ہی درج ہوتا ہے۔ ملک محمد شعبان بتاتے ہیں کہ چائلڈ لیبر کے مقدمات میں بڑی رکاوٹ بچے کے والدین ہوتے ہیں کیونکہ جب بھی چائلڈ لیبر کے خلاف کاروائی کی جا تی ہے تب یا تو والدین بچے کا زائد العمر ’ب‘ فارم پیش کر دیتے ہیں یا لیبر ڈپارٹمنٹ کے سامنے سے بچے کی مشقت سے انکار کر دیتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کے مقدمات کی سزا عام طور پر امپلائر کو اس کے حیثیت کے مطابق جرمانہ کی صورت میں دی جاتی ہے حیران کن بات ہے کہ پنجاب بھر میں چائلڈ لیبر کے کسی بھی مجرم کو آج تک جیل کی سزا نہیں سنائی گئی ۔

    انہوں نے بتایا کہ بچوں کو مشقت کرانے کے حوالے سے والدین کی ترجیحات بھی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ایک ہی بھٹے پر کام کرنے والے ایک خاندان کے سب بچے اینٹیں بناتے ہیں جبکہ دوسرے خاندان کے بچے سکول جاتے ہیں اس لیے تعلیم کی اہمیت اور مستقبل بارے آگاہی بہت ضروری ہے تاکہ انہیں یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ بچے کو مشقت کے لیے ملازمت پر بھجوایا جائے یا اچھے مستقبل کے لیے سکول روانہ کیا جائے۔ سینئر قانون دان راؤ شیراز رضا سے جب اس حوالے سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے تو یہ بچے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے اور یہیں سے بچوں پر تشدد کے واقعات جنم لیتے ہیں اور بات یہیں تک محدود نہیں رہتی بلکہ بچوں سے بدفعلی جیسے انسانیت سوز واقعات کا موجب بھی ایسی صورت حال بنتی ہے کیونکہ مشقت کرنے والے بچوں کو عام طور پر لاوارث سمجھا جاتا ہے اور معاشرے میں موجود نفسیاتی مریض انہیں آسانی سے اپنی ہوس کا نشانہ بنا سکتے ہیں راؤ شیراز رضا کا کہنا تھا کہ بچوں میں جرائم کی طرف رغبت کی بڑی وجوہات میں چائلڈ لیبر بھی شامل ہے۔ اگر معاشرے میں جرائم کی شرح کو کم کرنا ہے تو ہمیں یا تو چائلڈ لیبر کو مکمل طور پر ختم کرنا ہو گا یا پھر اسے ریگولیٹ کیا جانا چاہئے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں چائلڈ لیبر کو ختم کرنا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔ اگر حکومت چائلڈ لیبر کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں دیگر کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اگر حکومت کی جانب سے بچوں سے مقشت کے قانون پر 100 فیصد عمل درآمد کروا دیا جاتا ہے تو بہت سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے اور بات خود کشیوں تک پہنچ سکتی ہے۔ وہاڑی سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں چائلڈ لیبر کا تناسب رپورٹ ہونے والے مقدمات سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ مالکان کی چشم پوشی، بچوں کی ملازمت کا ڈاکومنٹڈ نہ ہونا، بے تحاشا غربت، والدین کا لالچ جیسے بہت سے عوام ایسے ہیں جس کی وجہ سے اس فعل کو چھپایا جاتا ہے۔ اس کے بچائے اگر چائلڈ لیبر کو ریگولیٹ کر دیا جائے یعنی بچوں کو مخصوص اوقات کے دوران مخصوص قسم کی آسان مشقت کی اجازت دے دی جائے جس کے ساتھ انہیں تعلیم جاری رکھنے میں بھی آسانی ہو تو کسی طور پر بہتری کے آ سکتی ہے۔

  • ڈی آئی خان میں فورسز کے آپریشن میں ٹی ٹی پی کے تین دہشت گرد ہلاک

    ڈی آئی خان میں فورسز کے آپریشن میں ٹی ٹی پی کے تین دہشت گرد ہلاک

    ڈی آئی خان میں فورسز کے آپریشن میں ٹی ٹی پی کے تین دہشت گرد ہلاک

    سی ٹی ڈی، انٹیلی جنس اداروں اور سیکورٹی فورسز نے مقامی پولیس کے ہمراہ تھانہ درابن کے علاقے میں آپریشن کیا جس تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ فورسز نے گاؤں گرہ مستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی تو دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ جوابی فائرنگ سے تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت منیب، جنید اور شوکت کے نام سے ہوئی، جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان گنڈہ پور گروپ سے ہے۔ ہلاک ہونے والے ملزمان مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان کے قبضے سے کلاشنکوف،دو پستول ، دستی بم اور موبائل فون برآمد ہوئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد کا سب سے بڑا شاپنگ مال سینٹورس سیل
    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق
    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت
    خیال رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کئی بار دھتشگردی کا شکار ہوچکا ہے جبکہ گزشت سال اپریل میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس موبائل پر راکٹ حملے میں 3 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق کلاچی میں پولیس موبائل پر حملہ راکٹ حملہ کیا گیا تھا اور ڈی ایس پی کلاچی کی وین کو چوک یادگار کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت پولیس کا کہنا تھا کہ راکٹ حملے میں 3 جوان شہید اور 3 زخمی ہوگئے جبکہ حملے میں ڈی ایس پی فضل سبحان بھی زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق شہید اور زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس جیسے متعدد واقعات کا یہ شہر شکار ہوچکا ہے.

  • سابق برازیلین فٹ بال سٹار نے ورلڈ کپ میچز کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دی

    سابق برازیلین فٹ بال سٹار نے ورلڈ کپ میچز کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دی

    سابق برازیلین فٹ بال سٹار نے ورلڈ کپ میچز کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دی

    پریس رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق برازیلین انٹرنیشنل سٹار ایڈریانو نے ورلڈ کپ میں برازیل کی قومی ٹیم کے میچوں کی وجہ سے صرف 24 دن تک چلنے والی شادی کے بعد اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ یاد رہے 40 سالہ سٹار نے ماضی میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے 2015 میں فرانس میں لی ہاورے میں ناکام ہونے کے بعد اپنے ڈپریشن کے علاج کے لیے 13 ہزار یورو خرچ کیے تھے۔ انہوں نے نومبر میں اپنی گرل فرینڈ مائیکلا میسکویٹا سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ڈیلی میل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایڈریانو کے مسلسل دو دن تک غائب رہنے کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہو گیا، ایڈریانو اپنے دوستوں کے ساتھ سوئٹزرلینڈ – برازیل کا میچ دیکھنے کے لیے اپنی گاڑی ریو ڈی جنیرو کے ایک محلے میں لے گئے تھے۔ اخبار نے اطلاع دی ہے کہ ان کی اہلیہ نے "انسٹاگرام” ایپلی کیشن پر اپنی تمام تصاویر ڈیلیٹ کر دی ہیں اور ایڈریانو کے اہل خانہ نے اس جشن کو منسوخ کر دیا ہے جس کا اگلے ہفتے کے آخر میں منصوبہ بنایا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد کا سب سے بڑا شاپنگ مال سینٹورس سیل
    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق
    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت
    ایڈریانو کے 2016 میں فٹ بال سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے ان کی زندگی میں مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ برازیلین سٹار نے کئی سال ’’انٹر میلن‘‘ میں گزارے اور ’’نیراتزوری‘‘ کے ساتھ چار سیری اے ٹائٹل جیتے تھے ۔ انہوں نے برازیل کے لیے 48 گیمز میں 27 گول کئے تھے۔

  • راولپنڈی میں دودھ اور دہی کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    راولپنڈی میں دودھ اور دہی کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    راولپنڈی میں دودھ اور دہی کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا گیا.

    راولپنڈی میں دودھ کی قیمت بڑھا کر 180 روپے فی لیٹر جبکہ دہی 200 روپے فی کلو کر دیا گیا۔ گوالہ یونین کے سیکریٹری چوہدری خرم کا کہنا ہے کہ بھینس 6 لاکھ روپے جبکہ بھوسہ، کھل اور چارہ کی قیمت میں 1 ہزار فیصد اضافہ ہوگیا۔ دودھ دہی قیمت میں آج 6 دسمبر سے اضافہ لاگو کر دیا گیاہے. دوسری جانب، ڈپٹی کمشنر کی ریٹ لسٹ میں دودھ 140 روپے اور دہی 150 روپے کلو مقرر ہے۔ واضح رہے کہ راولپنڈی میں اپریل سے اب تک دودھ کی قیمت میں 30 روپے اور دہی کی قیمت میں 40 روپے کلو اضافہ ہوا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد کا سب سے بڑا شاپنگ مال سینٹورس سیل
    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق
    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت

    انتظامیہ کی غلفت کے باعث دکانداروں نے اپنے اپنے ریٹ مقرر کر دیے ہیں، کہیں 180 روپے اور کہیں 185 روپے فی لیٹر دودھ فروخت کیا جارہا ہے۔ جبکہ اس سے قبل بھی فریش ملک ایسوسی ایشن نے دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا. ترجمان فریش ملک ایسوسی ایشن راولپنڈی کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا. قبل ازیں دودھ 140 روپے جبکہ دہی 150 روپے فی کلو میں فروخت کیا جارہا تھا۔

    تاہم عوام کا کہنا ہے کہ کہا جاتا تھا کہ پچھلی حکومت میں بہت زیادہ مہنگائی اور اس بارے یہ لوگ اس وقت سب سے زیادہ بولتے تھے لیکن آج انکی خود کی حکومت میں مہنگائی ہے مگر کوئی بولنے والا بھی نہیں ہے نا ہی کسی کو پرواہ ہے اس چیز کی بلکہ سب کے سب خاموش ہیں.

  • ملتان ٹیسٹ سے قبل پاکستان کی مشکلات میں اضافہ

    ملتان ٹیسٹ سے قبل پاکستان کی مشکلات میں اضافہ

    ملتان ٹیسٹ سے قبل پاکستان کی مشکلات میں اضافہ

    انجری کا شکار فاسٹ بولرحارث رؤف انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر ہوگئے ہیں جس کے بعد پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ فاسٹ بولر حارث رؤف راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے روز فیلڈنگ کے دوران انجرڈ ہوئے تھے۔جس کے بعد وہ دائیں ٹانگ میں کھنچاؤ محسوس کررہے تھے۔ ایم آر آئی کرانے کے بعد ڈاکٹرز نے حارث رؤف کو 2 ہفتے آرام کا مشورہ دیا ہے۔ وہ ملتان اور کراچی میں

    شیڈول ٹیسٹ نہیں کھیلیں گے۔ متبادل کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ شاہین شاہ آفریدی پہلے ہی ان فٹ ہونے کی وجہ سے سیریز میں حصہ نہیں لے رہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ ٹیسٹ سیریز کا دوسرا میچ ملتان میں 9 دسمبر سے کھیلا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد کا سب سے بڑا شاپنگ مال سینٹورس سیل
    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق
    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت

    جبکہ خیال رہے کہ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ  پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف ملتان ٹیسٹ سے باہر ہوگئے جبکہ کراچی ٹیسٹ کے لیے بھی دستیابی کا امکان نہیں ہے۔ حارث رﺅف راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے روز انجرڈ ہوئے تھے اور انہوں نے ڈیبیو میچ میں صرف 13اوورز کروائے تھے۔ پہلی اننگز میں انہوں نے بیٹنگ بھی کی تھی۔ ڈاکٹرز نے فاسٹ بولر حارث رﺅف کو 2ہفتے آرام تجویز کیا ہے۔

  • اضافی زمین پر قبضہ؛ سینٹورس مال چاروں اطراف سے خار دار تاریں لگا کر سیل

    اضافی زمین پر قبضہ؛ سینٹورس مال چاروں اطراف سے خار دار تاریں لگا کر سیل

    15 فٹ اضافی قبضہ پر سینٹورس مال چاروں اطراف سے خار دار تاریں لگا کر سیل کردیا گیا ہے

    سی ڈی اے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سنتورس نے 15 فٹ اضافی پر ٹاور بنا لیا ہے اور تین فلور اضافی بنا رکھے ہیں اس خلاف ورزی پر صفا گولڈ مال کے اضافی فلور ہائی کورٹ نے سیل کئے ہوئے ہیں. سی ڈی اے کے مطابق؛ بغیر کمپلیشن ستر فیصد فلیٹ لوگوں کو بیچ کر اربوں روپے بٹور چکے ہیں. جبکہ سنٹورس نے بلڈنگ ٹاور میں دبائی جگہ کے علاوہ ، بیس بیس فٹ اضافی جگہ پر جنریٹر اور بیسمنٹ بنا لی ہے.

    ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول سی ڈی اے اسلام آبا نے کہا ہے کہ مرکزی روڈ کے ساتھ کی بیس کنال جگہ پارک کے نام پر دبائی ہوئی ہے جبکہ اس کے علاوہ بلڈنگ میں بے شمار خلاف ورزیاں کی گئی ہیں جسکے نوٹس بار بار بجھوائے گئے مگر اس پر عمل درآمد کی جگہ دھونس دھاندلی اور احتجاج کی دھمکی دی جاتی رہی ہے قانون کی عمل داری کو سی ڈی اے یقینی بنائے گا.

    خیال رہے کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے شاپنگ مال سینٹورس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ سینٹورس مال کو چاروں اطراف سے خار دار تاریں لگا کر سیل کیا گیا ہے، پولیس کی بھاری نفری سینٹورس مال کے اطراف میں تعینات ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول اور فائر سیفٹی اقدامات نہیں اٹھائے گئے جبکہ آگ سے عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ نہیں کیا گیا۔

    سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول کی جانب سے سینٹورس مال کو سیل کیا گیا ہے، ڈائریکٹر بیلڈنگ کنٹرول نے دروازے پر نوٹس لگایا ہے کہ سینٹورس مال کو غیر قانونی استعمال پر سیل کیا گیا ہے۔ سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول اور اسلام آباد انتظامیہ نے رات گئے سنٹورس مال سے گارڈز اور مال انتظامیہ کو باہرنکال کر مال کو سیل کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد کا سب سے بڑا شاپنگ مال سینٹورس سیل
    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق
    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت
    خیال رہے کہ یہ شاپنگ مال اس سے قبل بھی خبروں میں آتا رہا ہے حال ہی میں گزشتہ دنوں شاپنگ مال میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے شاپنگ مال اور اس سے منسلک رہائشی ٹاور کو سیل کرتے ہوئے 7 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی اور تین دن میں رپورٹ طلب کی تھی۔ جبکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق مال کے فوڈ کورٹ میں واقع ریسٹورنٹ میں آگ لگی جہاں آگ بھڑکانے والا میٹریل ہونے کی وجہ سے آگ پھیل گئی۔ ایمرجنسی ایگزٹ کی جگہ مناسب روشنی کا انتظام نہیں تھا جبکہ مال کی بالائی منزلوں پر وینٹی لیشن نہ ہونے کی وجہ سے دھواں بھرگیا۔ کمیٹی حتمی رپورٹ دو روز میں مکمل کرکے وزارت داخلہ کو پیش کی گئی تھی.

    دوسری جانب اسلام آباد کے تاجروں نے جناح ایونیو بندکر دیا ،تاجروں نے پارلمنٹ کو جانے والی سڑک مکمل بلاک کر دی تاجروں کا کہنا ہے کہ سینٹورس کو کھولا جائے ورنہ پورا اسلام آباد بند کر دیں گے،

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

  • پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے.

    اگر آپ خاتون کی حیثیت سے کسی دفتر، اسکول یا ادارے سے وابستہ ہیں تو مکمل گہری نیند نہ صرف اگلے دن آپ کو پرعزم بناتی ہے بلکہ اس سے اپنے شعبے میں آگے بڑھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ تحقیق واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کارکن خواتین اپنی پوری نیند لیتی ہیں ان کا موڈ بہتر رہتا ہے، اگلے دن دفاتر کے کام بھاری نہیں پڑتے اور وہ اپنے شعبے میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ مردوں کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ۔

    اس ضمن میں مختلف اداروں میں کام کرنے والی 135 خواتین اور مردوں کا دو ہفتے تک سروے کیا گیا ہے۔ مطالعے سے پہلے ان کا موڈ، آرام کے اوقاتِ کار اور اگلے دن کی یہی تفصیلات جمع کی گئی تھیں۔ پھر خواتین سے کام کی ذمے داریوں اور خود ان کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب خواتین پرسکون اور پورے وقت کی نیند لیتی ہیں تو ان کا مزاج بہتر ہوتا ہے، وہ قدرے زیادہ پرعزم ہوتی ہیں اور اپنے اہداف مکمل کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ بصورتِ دیگر نیند کی کمی ان کے مثبت مزاج کو متاثر کرتی ہے اور وہ اپنے اہداف کی جانب زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔

    یہ تحقیق ’سیکس رولز‘ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس مطالعے میں ہر روز دوپہر کے بعد شرکا سے ان کی نیند اور اس وقت کے موڈ کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے۔ پھر شام کو گھر جانے سے قبل ان کی ذمے داریوں کے احساس، کام میں دلچسپی اور جوش و عزم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ مرد اور خواتین، دونوں نے ہی اچھی اور بری نیند کا ذکر کیا لیکن مردوں کے مقابلے میں جس رات خواتین کی نیند متاثر ہوئی ان میں عزم کی کمی، کام سے لگاؤ میں عدم دلچسپی اور مجموعی پھرتی کی کمی محسوس کی گئی جو سوالنامے سے بھی عیاں ہوگئی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کی کمی خواتین کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ گھروں تک محدود خواتین بھی اگر اپنی نیند پوری کریں تو وہ گھریلو کام کاج کو بہتر انداز میں کرسکتی ہیں جن میں بچوں کی تربیت جیسے اہم امور بھی شامل ہیں۔

  • ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت

    ہسپانیہ ساختہ جنگی بحری جہاز ’جلالۃ الملک حائل ‘ کی شاہی بحریہ میں باضابطہ شمولیت

    سپین کی رائل نیوی کی طرف سے سعودی عرب کی شاہی بحریہ کے لیے تیار کردہ "ہز میجسٹی کنگ حائل” کے ماڈل "کورویٹ ایونٹی 2200″ بحری جنگی کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز ” ہز میجسٹی کنگ جبیل” اور "ہزمیجسٹی کنگ الدرعیہ” کے افتتاح اور ان جہازوں کی سعودی نیوی میں شمولیت کے بعد تیسرا جہاز ہے۔ اسے "سراوت پروجیکٹ” کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں 5 جنگی جہازوں کی تیاری شامل ہے۔ اسپانوی شہر سان فرنانڈو میں سعودی رائل نیوی کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد الغفیلی نے سعودی اور اسپانوی حکام کی موجودگی میں جہاز کو نیوی میں شمولیت کے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اس پر جہاز پر مملکت کا پرچم لہرایا۔

    انہوں نے اس موقعے پر منعقدہ پروقار تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ یہ جہاز "سروات پروجیکٹ” کے تحت تیار کردہ بحری جہازوں میں سے ایک ہے، جس میں اعلیٰ صلاحیت اور استعداد کے ساتھ مختلف جنگی مشنوں سے نمٹنے کے لیے معیاری صلاحیتوں کے حامل 5 بحری جہازوں کی تیاری اور تعمیر شامل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ بحری جہاز بحریہ کی حربی صلاحیت کی سطح کو بلند کرنے، خطے میں میری ٹائم سکیورٹی کو بہتر بنانے اور مملکت کے اہم سٹریٹجک مفادات کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے سعودی قیادت کی طرف سے مسلح افواج بالخصوص بحریہ کے لیے تعاون کو سراہا۔

    ’سراوت پراجیکٹ‘ سعودی کمپنی فار ملٹری انڈسٹریز (SAMI) اور اسپانوی کمپنی Navantia کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ ہے۔ یہ شراکت داری منصوبہ 2030ء تک 50 فی صد فوجی صنعتوں کو مقامی بنانے کے مملکت کے وژن کے حصول اور نیوی کو فعال کرنے کے لیے بحری جنگی جہازوں کی فراہمی کا حصہ ہے۔ پراجیکٹ بحری جہاز تمام فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید ترین جنگی نظام کی خصوصیت رکھتے ہیں اور یہ دنیا میں اپنی نوعیت کے جدید ترین جنگی بحری جہاز ہیں۔