Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلام آباد: پولیس گاڑی کی ٹکر سے ماں بیٹی کی ہلاکت، ڈرائیور کیخلاف مقدمہ درج

    اسلام آباد: پولیس گاڑی کی ٹکر سے ماں بیٹی کی ہلاکت، ڈرائیور کیخلاف مقدمہ درج

    اسلام آباد میں پولیس گاڑی کی ٹکر سے ماں بیٹی کی ہلاکت، ڈرائیور کیخلاف مقدمہ درج؛ مقدمہ حادثاتی موت کی دفعات کے تحت درج کیا گیا.
    اسلام آباد ميں سرينگر ہائی وے پر پولیس موبائل وين کی ٹکر سے ماں بیٹی کی ہلاکت کے واقعہ میں پوليس نے ڈرائيور کو حراست ميں لے کر مقدمہ درج کر ليا ہے۔ خاتون بیٹی کے ہمراہ سيکٹر جی نائن کے قريب سڑک عبور کر رہی تھی کہ پولیس موبائل وين کی زد میں آ کر دم توڑ گئی۔

    جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت ثریا بی بی جب کہ بیٹی کی عالیہ کے نام سے کی گئی ہے۔ ماں بيٹی افغان شہری اور اسلام آباد کے علاقے گولڑہ ميں رہائش پذير تھيں۔ حادثے ميں ايک لڑکی بھی زخمی ہوئی ہے، جسے طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تھانہ آئن نائن پولیس نے واقعہ کا مقدمہ حادثاتی موت کی دفعات کے تحت درج کیا ہے، جب کہ پوليس موبائل وين کے ڈرائيور کو بھی حراست ميں لے ليا گيا ہے۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مکمل تحقیقات کی جائیں گی جس کے بعد ہی انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے گا. جبکہ ایک صارف نے کہا کہ "جس طرح دیگر حادثات اور وارداتوں میں ملزمان کے نام اور تصاویر جاری کی جاتی ہیں اخلاقی طور پر آپ کو اس پولیس والے کی تصاویر اور ڈیٹیل بھی جاری کرنی چاہئیں یا وہ صرف غریب کے لیے ہے”

    ایک اور صارف نے لکھا کہ؛ دنیا بھر میں میں روڈ پیدل کراس کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی ہائی وے پر گاڑی یک دم روکنا نا ممکن ہوتا ہے۔ ایکسپریس ہائی وے پر اور کشمیر ہائی وے پر زیادہ بریج لگائیں اور پیدل کراس والوں کو تنبیہ کریں۔ اسکے ساتھ ایک اور صارف نے لکھا؛ "سگنل ختم کرنے ہی تھے تو راہ گیر حضرات کے لئیے مناسب انتظامات بھی کرنے تھے نا. یو ٹرن بنا کر صرف گاڑیوں کو ہی آسانی دی ہے. کاش css کی تیاری میں "عوام کی فلاح اور اسکی منصوبہ بندی” کا کورس بھی شامل ہوتا.”

  • اعظم سواتی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیئے گئے

    اعظم سواتی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیئے گئے

    اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع جبکہ اعظم سواتی کو ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا ہے.
    قومی اداروں کے خلاف متنازع بیانات کے کیس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما اعظم سواتی کو سینیر سول جج محمد شبیر کی عدالت میں آج بروز منگل 29 نومبر کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا۔ آج ہونے والی سماعت میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے ) کی جانب سے ملزم کے مزید 6 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

    ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ ملزم سے ابھی موبائل اور ٹویٹ اکاؤنٹ سے متعلق مزید تفتیش کرنی ہے، جس کیلئے مزید ریمانڈ درکار ہے۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل بابر اعوان نے معزز عدالت کے روبرو استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو جان کا خطرہ ہے، اس لیے پیشی سے استثنیٰ کی اجازت دی جائے۔ سينيٹر اعظم سواتی کی جانب سے بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ سيکیورٹی خدشات پر ملزم کو پیش نہیں کیا ہے۔ اس موقع پر اعظم سواتی نے وڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی گئی۔ عدالت نے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے کیس کی سماعت تین دسمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی جانب سے اعلیٰ ترین عسکری ادارے اور اس کے سربراہ کو ایک بار پھر 26 نومبر بروز ہفتہ شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر مہذب زبان استعمال کی گئی تھی۔ بعد ازاں ایف ائی اے کرائم سرکل نے اعظم سواتی کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں اتوار 27 نومبر کی صبح اسلام آباد میں چک شہزاد کے فارم ہاؤس سے گرفتار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 6 سے 12 گھنٹے تک جاری
    روحانی رابطہ ہمیشہ فوج کے ساتھ قائم رہے گا،جنرل قمر جاوید باجوہ
    اسلام آباد: پولیس گاڑی کی ٹکر سے ماں بیٹی کی ہلاکت، ڈرائیور کیخلاف مقدمہ درج
    ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن نصیرآباد کی منفرد کارکردگی،ہرماہ ایک کامیاب کاروائی بمعہ پریس کانفرنس
    انسداد دہشتگردی عدالت پشاور نے سنائی دہشتگرد کو 14 برس قید کی سزا
    سال 2022 میں 215 ٹریفک حادثات میں 184 افراد جاں بحق،152 زخمی
    اعظم سواتی کے خلاف ایف آئی اے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں تضحیک اور پیکا ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ درج مقدمے میں اعظم سواتی کی ٹوئٹس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے اپنے ویریفائڈ اکاؤنٹ سے متنازع ٹوئٹس کیں۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ اعظم سواتی نے اپنے بیان سے فوج کے اندر افسران کو ادارے اور سربراہ کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔ اعظم سواتی کی جانب سے یہ عمل دوسری بار کیا گیا ہے۔ اعظم سواتی کو 16 اکتوبر کو بھی اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کا دوسری بار ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، جب کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

  • ّعلی ظفر اور انکی اہلیہ کا اغواء اور ملکی  نظام انصاف

    ّعلی ظفر اور انکی اہلیہ کا اغواء اور ملکی نظام انصاف

    گلوکار علی ظفر جنہوں نے حال ہی میں لکس سٹائل ایوارڈ میں گل پانٹرا کے ساتھ ایک خوبصورت پرفارمنس دی ہےانہوں نے گزشتہ روز ٹویٹر پر اپنے اور اپنی اہلیہ کے اغواء کی کہانی بیان کرتے ہوئے ملک کے نظام انصاف پر شدید افسوس کا اظہار کیا . انہوں نے لکھاکہ 2009 میں میرا اور میری اہلیہ کا اغواء کیا گیا تھا اور اغواء کار مسلسل تین گھنٹے تک ہمیں‌مختلف جگہوں پر لیجاتا رہا اس کے بعد اس نے ہمیں تاوان لیکر رہا کیا تھا. ہم اس واقعہ کے بعد کافی ڈر گئے تھے پبلکلی تو اس پر بات نہیں کی تھی ہم نے کبھی نہ ابھی بھی کرتے ہیں لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد بھی ہمیں انصاف نہیں ملا. ہم نے قانونی راستہ اختیار کیا تھا ہمیں یقین تھا کہ انصاف ملے گا لیکن تاحال ایسا نہیں‌ہو سکا. علی ظفر نے لکھا کہ میں

    حیران ہوں کہ میں مشہور شخصیت ہوں اگر مجھے انصاف نہیں‌مل رہا تو باقیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا. علی ظفر نے کہا کہ میں‌پہلی بار اس واقعہ کے بارے میں‌بات کرر رہاہوں مجھے اور میری اہلیہ کو شدید صدمہ ہے کہ ہمیں آج تک انصاف نہیں‌ملا اور نہ ہی ہمیں ہمارے حق میں ثبوت پیش کرنے کی اجازت دی گئی آخر کیوں؟‌علی ظفر نے کہا کہ ملک میں انصاف کی راہ میں‌بےشمار رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے ہم جیسے لوگ بیٹھے رہتے ہیں اور انتظار کرتے رہتے ہیں کہ شاید شنوائی ہوجائے.

  • جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی

    جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی

    جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی ہے.
    راولپنڈی میں پاک فوک کی کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل عاصم منیر کو کمانڈ کی چھڑی سونپ دی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی کمان کی علامت سمجھی جانے والی ملاکا اسٹک جنرل سید عاصم منیرکو سونپ دی، جنرل عاصم منیراس چھڑی کو ہاتھ میں لیتے ہی پاکستان آرمی کی کمانڈ سنبھالنے والے 17ویں آرمی چیف بن گئے ہیں۔ جنرل سید عاصم منیر 3 سال کےلئے پاکستان کے نئے آرمی چیف اور جنرل سید ساحر شمشاد مرزا 27 نومبر سے نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ہوں گے۔

    تقریب سے اپنے الوادعی خطاب میں جنرل باجوہ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے عظیم فوج میں خدمت کا موقع دیا اور مجھے یہ اعزاز دیا، امید ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی پروموشن ملک اور قوم کی ترقی کا باعث بنے گی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی تعیناتی ملک اور قوم کیلئے بہترین فیصلہ ثابت ہوگی۔
    سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل باجوہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”ریٹائر ہونے کے بعد بھی میری روح کا رشتہ فوج سے جاری رہے گا، ان کی کسی بھی کامیابی کو میں اپنی کامیابی سمجھ کر فخر محسوس کروں گا“۔
    اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا، خوشی ہے کہ اتنے قابل افسر کے ہاتھ میں فوج کی کمان دے کر ریٹائر ہو رہا ہوں، فوج کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ان کی کامیابیوں کا اعتراف صرف دوستوں ہی نے نہیں بلکہ دشمنوں نے بھی کیا۔ میں پاک فوج کی کامیابیوں کیلئے دعا گو ہوں۔

    جنرل عاصم منیر کون ہیں؟

    جنرل سید عاصم منیر بہترین پیشہ وارانہ کیریئر کے حامل ہیں اور فور اسٹار جنرلز کی تعیناتی کی سینیارٹی لسٹ میں جنرل عاصم منیر پہلے نمبر پر تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کور کمانڈ، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے تربیت مکمل کی اور انہوں نے پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر 2014 میں کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریا تعینات ہوئے اور 2017 میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر فائز ہوئے۔

    لیفٹیننٹ جنرل عاصم کو اکتوبر 2018 میں ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا اور جون 2019 میں کور کمانڈر گوجرانوالہ کے عہدے پر تعینات ہوئے جبکہ اکتوبر 2021 سے جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

  • کمان کی ”ملاکا چھڑی” کس چیز کی علامت ہے ؟

    کمان کی ”ملاکا چھڑی” کس چیز کی علامت ہے ؟

    کمان کی ”ملاکا چھڑی” کس چیز کی علامت ہے ؟

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آج اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر نئے آرمی چیف کو آرمی کی کمان سونپیں گے، جس کیلئے وہ آرمی کمان کی علامت “ملاکا اسٹک” جنرل عاصم منیر کے سپرد کریں گے۔ کمانڈ یا کمان کی چھڑی نئے آرمی چیف کے منصب سنبھالنے کی تقریب میں ہی مرکزی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ اس کی ایک مکمل تاریخ ہے۔

    ملاکا اسٹک 1 اسٹار فوجی افسر یعنی بریگیڈیئر رینک کے عہدے کے فوجی کو سونپی جاتی ہے، نئے بریگیڈیئر بننے والے فوجی افسر کو یہ اسٹک اپنے پرانے افسر کی جانب سے ملتی ہے، پرانا افسر اپنی چھڑی نئے آنے والے افسر کو سونپ کر خود ترقی کی سیڑھی چڑھتا ہوا اگلے عہدے پرچلا جاتا ہے اور اس عہدے پر موجود افسر سے چھڑی وصول کرلیتا ہے، یہ سلسلہ اسی طرح فور اسٹار جنرل اور پھر آرمی چیف تک جاتا ہے۔
     بے ضرر چھڑی کو ہی کمانڈ کی منتقلی کی علامت کیوں سمجھا جاتا ہے ؟

    کمانڈ کی چھڑی کا تعلق ان ابتدائی روایات سے ہے جن میں جنگجو سردار کے پاس انتہائی وزنی لیکن حجم میں چھوٹا ”گرز“ ہوتا تھا، انگریزی میں اسے mace کہتے ہیں۔ پرانے وقتوں میں جنگیں جیتنے کے لیے ذہنی طاقت کے ساتھ جسمانی طاقت کی اہمیت ہوتی تھی اور جنگجو سردار یہ وزنی گرز بآسانی اٹھا لیتے تھے اور ضرورت پڑنے پر استعمال بھی کرتے تھے۔ جیسے جیسے وقت گزرا اور زرہ بکتر کا رواج بڑھا تو گرز کی عملی افادیت کم ہونے لگی۔ تاہم روایت کے طور پر یہ موجود رہا۔ مغرب میں 14ویں صدی میں گزرعلامتی طور پراستعمال ہونے لگے، اب وزنی گرز سپہ سالار کے بجائے سارجنٹ ایٹ آرمز اٹھاتا تھا۔

    16ویں صدی تک مغرب میں ”گرز“ اپنے ایک سرے پر موجود آہنی ٹکڑا اور دوسرے سرے پر موجود ہینڈل کھو بیٹھا، بس درمیان کی پتلی چھڑی رہ گئی، تاہم گرز کی شکل تبدیل ہونے کے باوجود اب بھی یہ طاقت کی علامت تھا۔ یہ چھڑی سیاست اور فوج دونوں میں استعمال ہونے لگی، برطانیہ سمیت کئی ممالک کی پارلیمنٹ میں سارجنٹ ایٹ آرمز کے پاس اس طرح کی چھڑی ہوتی ہے، اسی طرح فوجی کمانڈروں کے پاس بھی یہ چھڑی ہوتی ہے۔ کمانڈ کی چھڑی کو ”ملاکا کین“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چھڑی سنگاپور کے جزیرے ملاکا سے حاصل ہونے والے ایک مخصوص بانس سے تیار کی جاتی ہے۔

    اسی طرح کا بانس انڈونیشیا کے جزیرے سما ٹرا میں بھی پایا جاتا ہے لیکن روایت ملاکا کا بانس استعمال کرنے کی ہے۔ ملاکا کا یہ بانس وزن میں بہت ہلکا لیکن انتہائی مضبوط ہوتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ بھارت، سری لنکا اور برطانیہ میں بھی مسلح افواج کے کمانڈر اسی بانس سے تیار ہونے والی چھڑی رکھتے ہیں۔
    چھڑی کا استعمال کب ہوتا ہے ؟ پاکستان کی فوجی روایات کے تحت مخصوص مواقع پر جیسے قومی پرچم کو سلامتی دیتے وقت، گارڈ آف آنر وصول کرتے وقت اور پریڈ ملاحظہ کرتے ہوئے آرمی کمانڈ لازما چھڑی اٹھاتے ہیں۔ دوسری جانب بعض مواقع پر کمانڈ کی چھڑی دور رکھی جاتی ہے۔ جب بھی آرمی چیف صدر، وزیراعظم یا کسی اور بڑی شخصیت سے ملتے ہیں کمانڈ کی چھڑی ان کے ساتھ نہیں ہوتی۔

  • سال 2022 میں 215 ٹریفک حادثات میں 184 افراد جاں بحق،152 زخمی

    سال 2022 میں 215 ٹریفک حادثات میں 184 افراد جاں بحق،152 زخمی

    رواں سال کے دوران 215 ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 184 افراد جاں بحق جبکہ 152 افراد زخمی ہوگئے۔

    کراچی میں رواں سال ٹریفک حادثات میں سب سے زیادہ 41 افراد ٹرک کی ٹکر سے زندگی کی بازی ہار گئے اور 10 افراد زخمی بھی ہوئے، ٹریفک حادثات میں سب سے زیادہ 141 حادثات موٹر سائیکلوں کے پیش آئے جس میں 110 جان لیوا حادثات میں 130 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جبکہ 84 افراد زخمی ہوگئے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال یکم جنوری 2022 سے 27 نومبر تک شہر کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 215 ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 184 افراد جاں بحق جبکہ 152 افراد زخمی ہوگئے۔ رونما ہونے والے 215 ٹریفک حادثات میں 162 ٹریفک حادثات جان لیوا ثابت ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 91 ٹریفک حادثات ٹریفک زون ویسٹ میں پیش آئے جس میں 60 جان لیوا حادثات میں 69 افراد جاں بحق جبکہ مجموعی طور پر 77 زخمی ہوگئے۔

    دوسرے نمبر ٹریفک زون ڈسٹرکٹ ملیر جس میں مجموعی طور پر 36 ٹریفک حادثات ہوئے جس میں 34 جان لیوا ٹریفک حادثات میں 41 افراد جاں بحق جبکہ مجموعی طور پر 29 افراد زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ٹریفک زون ڈسٹرکٹ ایسٹ میں مجموعی طور پر 26 ٹریفک حادثات ہوئے جس میں 20 جان لیوا ٹریفک حادثات میں 21 افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل ٹریفک زون مجموعی طور پر 19 ٹریفک حادثات ہوئے جس میں 16 جان لیوا حادثات میں 18 افراد زندگی سے محروم اور 9 افراد زخمی ہوگئے۔

    ٹریفک زون ڈسٹرکٹ کورنگی میں مجموعی طور پر 17 ٹریفک حادثات رونما ہوئے جس میں 13 جاون لیوا حادثات میں 14 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 9 شہری زخمی ہوگئے۔ٹریفک زون ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں مجموعی طور 20 ٹریفک حادثات میں 14 جان لیوا ثابت ہوئے جس میں 16 افراد جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہوئے، ڈسٹرکٹ سٹی ٹریفک زون میں 6 ٹریفک حادثات میں 5 جان لیوا ثابت ہوئے اور 3 افراد زخمی ہوئے۔ ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 35 ٹریفک حادثات ٹرک کی ٹکر سے پیش آئے جس میں مجموعی طور پر 41 افراد زندگی سے محروم جبکہ 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔

    اسی طرح سے 23 ٹریفک حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے جس میں 20 افراد جاں بحق جبکہ 15 شہری زخمی ہوئے، واٹر ٹینکر کی ٹکر سے مجموعی طور پر 21 حادثات پیش آئے جس میں 14 افراد زندگی سے محروم اور 16 شہری زخمی ہوگئے۔ ڈمپر کی ٹکر سے 17 حادثات میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوئے اسی طرح سے آئل ٹینکر کی ٹکر سے بھی 17 حادثات پیش آئے اور اس میں بھی 15 شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 19 افراد زخمی بھی ہوئے ، بس کی ٹکر سے مجموعی طور پر 14 ٹریفک حادثات پیش آئے جس میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوگئے ، منی بس کی ٹکر سے 16 حادثات میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 31 زخمی ہوئے۔

    کوچ کی ٹکر سے 8 ٹریفک حادثات میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 10 شہری زخمی بھی ہوئے ، اعداد و شمار کے مطابق کار و جیپ کی ٹکر سے 23 ٹریفک حادثات میں 19 افراد جاں بحق 16 افراد زخمی ہوگئے جبکہ نامعلوم گاڑیوں کی ٹکر سے مجموعی طور پر 20 ٹریفک حادثات میں 20 افراد جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے ، موٹر سائیکل کی ٹکر سے 10 حادثات پیش آئے جس میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی بھی ہوئے۔ سوزوکی پک اپ کی ٹکر سے 10 ٹریفک حادثات میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہوئے ، ٹریفک حادثات کا سب سے زیادہ موٹر سائیکل سوار نشانہ بننے۔

    اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے دوران 141 موٹر سائیکل ٹریفک حادثات میں 110 ٹریفک حادثات جان لیوا ثابت ہوئے جس میں مجموعی طور پر 130 شہری زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 84 افراد زخمی بھی ہوگئے۔ ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے 27 نومبر تک پیدل چلنے والے راہگیروں کو پیش آنے والے 47 ٹریفک حادثات میں 36 جان لیوا ثابت ہوئے جس میں 36 افراد جاں بحق جبکہ 15 راہ گیر زخمی بھی ہوئے۔

  • چین سے نئی بوگیوں کی کھیپ؛ چین نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی میں ساتھ دیا

    چین سے نئی بوگیوں کی کھیپ؛ چین نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی میں ساتھ دیا

    چین سے نئی بوگیوں کی کھیپ کراچی پورٹ پہنچ گئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے..

    سماجی اور متحرک کارکن شجاعت خان کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان کی ہمیشہ مدد کی ہے انہوں نے بتایا گزشتہ روز چین سے نئی کوچز مسافروں کو جدید سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے پورٹ پہنچ گئیںتھی ۔چین میں تیار کی گئی جدید بوگیوں کی کھیپ کراچی پورٹ پہنچ گئی تھی۔ آج پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان ریلوے کی جدید سہولتوں سے آراستہ 44بوگیاں ڈا این نامی بحری جہازسے کراچی پورٹ پہنچ گئی ،ایم وی ڈآ این نامی جہاز کراچی پورٹ کی برتھ نمبر 24اور 25پر لنگر انداز ہے جبکہ چین مزید 184بوگیوں کے پرزے اسمبلنگ کے لیے پاکستان کو فراہم کرے گا۔چین سے 44 نئی جدید کوچز آنے سے ٹرین آپریشن مزید بہتر ہو گا،چین سے آنے والے کوچز میں اکنامی، پارلر کار اور اے سی اسٹینڈرڈ کوچز شامل ہوں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں
    اکنامی اوراے سی اسٹینڈرڈ کوچز میں آرام دہ برتھیں،نائٹ لیمپس اور موبائل چارجر بھی لگائے گے ہیں جبکہ پارلر کار کوچز میں آرام دہ نشتیں، ایل ای ڈی ،موبائل چارجر اور دیگر سہولتیں شامل ہیں۔محکمہ ریلوئے نے نئی کوچز کی رنگوں کی اسکیم بھی تبدیل کر دئے، چین سے آنے والے نئی کوچز کا رنگ سبز اور پیلی لائن درمیان میں ہے۔ تاہم خیال رہے کہ اس حوالے شجاعت کا کہنا ہے کہ یہ بہت اچھا اقدام ہے کیونکہ پاکستان ایسا خاص جدید نظام نہیں ہے ریلوے کے اندر لیکن اس سے کافی بہتری آئے گی.

  • ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا

    ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا

    ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا جبکہ جنرل ورکرز اجلاس میں کارکنان سے رائے طلب کی جائے گی
    بلدیاتی الیکشن میں ہارکاخوف یامطالبات پورے نہ ہونے کا شکوہ، ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کا موقف ہے کہ بے اختیار بلدیاتی نمائندوں سے بہتر ہے کہ بلدیاتی الیکشن کابائیکاٹ کیا جائے۔
    خواجہ اظہار الحسن نے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کی کھل کرحمایت کردی ہے، بائیکاٹ کےحوالے سے ایم کیو ایم جنرل ورکرز اجلاس میں کارکنان سے رائے طلب کرے گی۔ یاد رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 15 جنوری کو کراچی اور حیدرآباد میں پولنگ ہونی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں

    خیال رہے کہ اس سے قبل  متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے سندھ میں بلدیاتی ملتوی کرنے کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی. ایم کیو ایم پاکستان نے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی بلدیاتی انتخابات کے التوا کے خلاف درخواستوں میں فریق بننے اور فوری الیکشن روکنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی.
    ایم کیو ایم نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے، ہمیں بھی فریق بناکر سنا جائے، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق قانون سازی کے بغیر بلدیاتی ادارے بااختیار نہیں ہوسکتے، بلدیاتی قوانین میں ترامیم تک بلدیاتی الیکشن نہ کروائے جائیں اور کیس کا فیصلہ کرنے سے قبل ہمارا موقف بھی سنا جائے۔

  • طلبہ یونین کی بحالی؛سندھ میں وائس چانسلرز پر مشتمل اپیکس کمیٹی قائم

    طلبہ یونین کی بحالی؛سندھ میں وائس چانسلرز پر مشتمل اپیکس کمیٹی قائم

    سندھ کی سرکاری جامعات میں طلبہ یونین کی بحالی اور اطلاق کے معاملے پر وائس چانسلرز پر مشتمل 10 رکنی اپیکس کمیٹی قائم کر دی گئی ہے.

     سندھ کی سرکاری جامعات میں طلبہ یونین کی بحالی اور اطلاق کے معاملے پر وائس چانسلرز پر مشتمل 10 رکنی اپیکس کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو جامعات میں طلبہ یونین کے قیام کے حوالے سے اس کے خدوخال اور فعالیت کے ضوابط طے کرے گی۔ کمیٹی میں سندھ میں پبلک سیکٹر میں قائم جنرل یونیورسٹیز، میڈیکل اور انجینیئرنگ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو شامل کیا گیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ پیر کی دوپہر وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو کہ زیر صدارت وائس چانسلرز کے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا جو سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز مرید راہیمو کے دفتر میں بلایا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں زیادہ تر وائس چانسلرز کی جانب سے طلبہ یونین کو گزشتہ یا ماضی کی طرز پر ’’یونینز‘‘ کی صورت میں بحال نہ کرنے پر زور دیا گیا اور اس کی جگہ سوسائیٹیز کے ماڈل کو پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ فی زمانہ مختلف سوسائیٹیز کی بنیاد پر یونین کی بحالی زیادہ موثر رہے گی جبکہ دوسری جانب وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو کا اس بات پر اصرار تھا کہ یونین کی بحال ماضی کی طرز پر ہی ہونی چاہیے تاہم وائس چانسلرز کی اکثریت اس رائے کی حامی نہیں تھی۔

    ان دو مختلف ماڈلز پر جاری بحث کے دوران طے کیا گیا کہ تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اس حوالے سے اپنی سفارشات بھجوا دیں جسے 10 رکنی اپیکس کمیٹی کے حوالے کر دیا جائے گا اور یہ اپیکس کمیٹی طلبہ یونین کے ایکٹ 2022 کی روشنی میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی جسے ووٹیج کے لیے لاء ڈپارٹمنٹ بھی بھجوایا جائے گا۔ اجلاس کے بعد ایک وائس چانسلر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ اجلاس میں شریک اکثر وائس چانسلرز کی رائے تھی کہ آئی بی اے کراچی سمیت اکثر جامعات میں اسٹوڈنٹ سوسائیٹیز قائم ہیں لہٰذا ان سوسائیٹیز کے صدور کا الیکٹرول کالج بنا دیا جائے جو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر و دیگر عہدیداروں کا انتخاب کریں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں
    اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ طلبہ یونین کے نئے ایکٹ 2022 میں یونین کو جامعات کہ سینڈیکیٹ، ہراسمنٹ کمیٹی اور بورڈز میں نمائندگی دی گئی ہے جبکہ جامعات کا نیا ایکٹ 2018 اس حوالے سے خاموش ہے اور 2018 کے ترمیمی ایکٹ سے طلبہ یونین کی نمائندگی نکال دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ طلبہ یونین کی بحالی و فعالیت کے سلسلے میں خدوخال طے کرنے کے لیے قائم کمیٹی میں سندھ یونیورسٹی جامشورو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر صدیق کلہوڑو، این ای ڈی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی، داؤد انجینیئرنگ یونیورسٹی کے وائس ڈاکٹر فیض اللہ عباسی، پروفیسر فتح مری، ڈاکٹر سراج میمن سمیت دیگر کو شامل کیا گیا ہے۔

  • پاکستان میں سول سرونٹس کی شفاف ترین میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہوتی ہے. احسن اقبال

    پاکستان میں سول سرونٹس کی شفاف ترین میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہوتی ہے. احسن اقبال

    احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں سول سرونٹس کی شفاف ترین میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہوتی ہے.

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں سول سرونٹس کی شفاف ترین میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہوتی ہے ، ملکی صنعتوں کو مسابقتی اور دنیا کے تقاضوں کے مطابق بناکر ہی ایکسپورٹ کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے ، افسران پیشہ وارانہ امور نمٹاتے ہوئے معاشی منیجر کی طرز پر سوچیں ، ٹیکس وصولی، سرمایہ کاری ، برآمدات اور بیرونی ترسیلات کے فروغ میں ہمارا معاشی علاج ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو 117ویں این ایم سی کے افسران کے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے تربیتی دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں سول سرونٹس کی شفاف ترین میرٹ کی بنیاد پر تقرری ہوتی ہے ، پاکستان کی سول سروس دنیا میں پیشہ وارانہ مہارت کی حامل تصور ہوتی ہے ، سوال یہ ہے کہ افسران کا انفرادی میرٹ نظام کی اجتماعی کارکردگی پر اثرانداز کیوں نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایک تلاطم اور بے یقینی سے گزر رہی ہے ، ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن، عالمی تنازعات، آبادی اور موسمیاتی تبدیلی بڑی تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں انتظامی ڈھانچہ میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ جب حکومت میں آئے تو 550 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملا ، برآمدات پر انحصار ہی سے دنیا میں ترقی ممکن ہے ، پاکستان کا مستقبل اس بات پر ہے کہ پاکستان اپنی ایکسپورٹ 32 بلین ڈالر سے 100 بلین ڈالر کتنے سال میں کرتا ہے ، چین کے ساتھ تجارت کا حجم 32 بلین ڈالر ہے ، ہماری قومی ترجیح ایکسپورٹ کی طرف نہیں رہی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں
    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف
    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف
    30 سالہ نوجوان کوسفاک قاتلوں نے گھر میں گھس کرمعصوم بچوں کے سامنے گولیاں ماردیں
    ان کا مزید کہنا تھا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ نجی سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے ، پاکستان کی صنعتوں کو مسابقتی اور دنیا کے تقاضوں کے مطابق بناکر ہی ایکسپورٹ کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے ، افسران پیشہ وارانہ امور نمٹاتے ہوئے معاشی منیجر کی طرز پر سوچیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی، سرمایہ کاری ، برآمدات اور بیرونی ترسیلات کے فروغ میں ہمارا معاشی علاج ہے۔