Baaghi TV

Author: +9251

  • نیب نے عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر کو طلب کرلیا

    نیب نے عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر کو طلب کرلیا

    نیب نے عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر کو طلب کرلیا

    نیب لاہور نے سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر کو طلب کرلیا۔ نیب لاہور نے اختیارات کا ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثہ جات میں سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کو طلب کرلیا ہے۔ نیب کی جانب سے شہزاد اکبر کو 21 اکتوبر کو نیب لاہور کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، اور مختلف محکموں میں تعیناتی سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی ہیں۔

    نیب لاہور نے مرزا شہزاد اکبر کو 22 سوالات پر مشتمل سوال نامہ بھی جاری کیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ شہزاد اکبر اپنے تفتیشی کے روبرو 21 اکتوبر کو صبح 11 بجے لاہور دفتر پیش ہوں۔ خیال رہے کہ؛ شہزاد اکبر پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت کے بعد 20 اگست 2018 کو انھیں وزیراعظم کا معاونِ خصوصی برائے احتساب مقرر کیا گیا تھا۔

    ستمبر 2018 میں انھیں بیرونِ ملک اثاثوں کی نشاندہی اور حصول کے لیے قائم کردہ ایسٹ ریکوری یونٹ کا سربراہ بنا دیا گیا تھا جبکہ جولائی 2020 میں انھیں وزیراعظم کا مشیر مقرر کیا گیا تھا اور انھیں وزیر اعظم عمران خان کے احتساب کے دعوے پر عملدرآمد کی کوششوں کا سرخیل سمجھا جاتا تھا۔ عمران دور میں ان کی زیادہ توجہ اپوزیشن بالخصوص شریف خاندان کے خلاف معاملات پر رہی جن پر وہ آئے روز پریس کانفرنسیں بھی کرتے نظر آتے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
    حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
    اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا
    علاوہ ازیں شہزاد اکبر کا نام اس وقت بھی متنازع ہوا تھا جب سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کے دوران اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی جانب سے تحقیقات کا انکشاف ہوا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس میں مشیر شہزاد اکبر کی اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی بطور سربراہ تقرری، ان کی شہریت اور اثاثوں سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

  • انڈسٹری کےلئے حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچرکرے حیدر سلطان

    انڈسٹری کےلئے حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچرکرے حیدر سلطان

    سلطان راہی کے بیٹے حیدر سلطان جنہوں نے حال ہی میں دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے پریمئیر میں شرکت کی، انہوں نے فلم کو خاصا سراہا اور کہا کہ یہ فلم پنجابی سینما کو مضبوط بنانے کےلئے اہمیت کی حامل ہے. حیدر سلطان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری نے ہمیشہ اپنے پائوں پر خود کھڑے ہونے کی کوشش کی کسی بھی حکومت نے اس کی سرپرستی نہیں کی حالانکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ انڈسٹری کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچر کرے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا. حیدر سلطان نے کہا کہ ہمارے پاس بہت کم بجٹ ہوتے ہیں وسائل بھی محدود ہوتے ہیں ، محدود وسائل کے ساتھ فلمیں بنانا بہت بڑی بہادری ہے. ہم کم وسائل اور بجٹ میں بہترین فلمیں تیار کر رہے ہیں.

    حیدر سلطان نے کہا کہ پنجابی سینما کو سپورٹ کی بے حد ضرورت ہے اور یہ سپورٹ سب سے پہلے آرٹسٹوں کو خود دینی ہو گی وہ فلمیں کریں کام کریں، کام کرنے کی حامی بھریں اگر ہر کوئی اپنی اپنی جگہ بیٹھا رہے گا تو پنجابی سینما تو جوں کا توں رہے گا . یاد رہے کہ حیدر سلطان راہی پجابی فلموں کے اداکار ہیں ان کی رواں برس اشتہاری ڈوگر ریلیز ہوئی تھی جس نے اچھا بزنس کیا تھا اور حیدر سلطان نے اس فلم کی کامیابی کا جشن بھی منایا تھا .

  • دورانِ آپریشن مریضہ کے پیٹ میں تولیہ اور بیلٹ چھوڑدیا گیا

    دورانِ آپریشن مریضہ کے پیٹ میں تولیہ اور بیلٹ چھوڑدیا گیا

    دورانِ آپریشن مریضہ کے پیٹ میں تولیہ اور بیلٹ چھوڑدیا گیا

    ذرائع کا بتانا ہے کہ نجی ہسپتال میں انتظامیہ کی نااہلی، دورانِ آپریشن مریضہ کے پیٹ میں تولیہ اور بیلٹ چھوڑدیا گیا راولپنڈی کے بشارت ہسپتال میں غفلت اور نااہلی کی انتہا ہوگئی، دورانِ آپریشن لیڈی ڈاکٹر نے مریضہ کے پیٹ میں تولیہ اور بیلٹ چھوڑدیا۔ ضلع چکوال سے وابستہ ماسٹر نثار کا کہنا ہے کہ دو ماہ قبل اُن کی 24 سالہ بیٹی عظمیٰ نثار کے پیٹ میں درد ہوا تھا، اُسے رسولی کی شکایت تھی۔ ہم چیک اپ کیلئے ہسپتال لے کرگئے، چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے آپریشن کروانے کا بولا۔

    ایک نجی ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نے بیٹی کے آپریشن کے دوران اُس کے پیٹ میں تولیہ اور بیلٹ چھوڑدیا، جس کا ہمیں دو مہینے کے بعد پتہ چلا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے 2 ماہ بعد بھی بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی بلکہ درد اور تکلیف میں مزید اضافہ ہونے لگا، جس پر ہارٹ انٹرنیشنل ہسپتال راولپنڈی میں چیک کرایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
    حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
    اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا
    دوبارہ چیک اپ کے دوران انکشاف ہوا کہ پہلے کیے گئے آپریشن کے اوزار تولیہ اور بیلٹ پیٹ میں ہی چھوڑدیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے تکلیف ہورہی ہے۔ تاہم دوسرے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے دوبارہ آپریشن کے بعد تولیہ اور بیلٹ نکالا۔ واضح رہے کہ مریضہ ابھی بھی اسی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہے اور مریضہ کے والد نثاراحمد کی جانب سے اعلیٰ حکام سے لیڈی ڈاکٹر کی نااہلی کے معاملے پرسخت نوٹس لینے اور اُس کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

  • بڑی تعداد میں میری فلمیں دوبارہ سینما گھروں میں ریلیز ہوئیں صائمہ نور

    بڑی تعداد میں میری فلمیں دوبارہ سینما گھروں میں ریلیز ہوئیں صائمہ نور

    پنجابی فلموں‌کی اداکارہ صائمہ نور جو نہ صرف کم کم بولتی ہیں بلکہ انٹرویوز بھی کم کم ہی دیتی ہیں. بہت مشکل سے ہی ان کا کہیں کوئی انٹرویو دیکھنے کو ملتا ہے. اداکارہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میری فلمیں بار بار سینما گھروں کی زینت بنیں. اور شاید میں ہی واحد اداکارہ ہوں جس کی پرانی فلمیں بار بار سینما گھروں میں‌لگیں. صائمہ نور نے کہا کہ جو فلمیں بن رہی ہیں وہ بہت اچھی ہیں. انڈسٹری کو نئے خون اور وژن کی ضرورت ہے. فلمیں تسلسل سے بنتی رہیں تو فلمی صنعت کی بحالی زیادہ دور نظر نہیں آتی. صائمہ نور نے کہا کہ ہمارے پاس نہ صرف باصلاحیت اداکار ہیں بلکہ باصلاحیت ڈائریکٹر ،رائٹر ٹیکنینشنز ہیں بس مواقع اور وسائل کی کمی

    نظر آتی ہے. میں دیکھ رہی ہوں کہ پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل فلمیں بن رہی ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا تو فلم انڈسٹری بحرانی کیفیت سے جلد نکل آئیگی اور پاکستان فلم انڈسٹری کا ستارہ پھر سے چمکے گا. انہوں نے کہا کہ مجھے جب جب اچھے کردار ملیں گے میں لازمی کروں گی. ایسا نہیں ہے کہ میں اداکاری سے دور ہو گئی ہوں بس اچھے سکرپٹ کے انتظار میں زرا دیر ہوجائے تو الگ بات ہے ورنہ اداکاری تو میری اولین ترجیح ہے اور رہے گی.

  • سلمان خان، کترینہ کیف کی فلم ٹائیگر 3 تاخیر کا شکار

    سلمان خان، کترینہ کیف کی فلم ٹائیگر 3 تاخیر کا شکار

    سلمان خان اور کترینہ کیف کی فلم ٹائیگر 3 جس کی ریلیز کی تاریخ بار بار تبدیل ہوتی آرہی ہے ، اب اس کی ریلیز کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے. اب فلم اگلے سال دیوالی کے موقع پر ریلیز ہوگی. فلم کی مرکزی کاسٹ نے اپنے اپنے سوشل میڈیا پر جا کر ٹائیگر تھری کی ریلیز کی ڈیٹ کا اعلان کیا اور ساتھ میں تصویریں بھی شئیر کیں. ٹائیگر 3 کو بینڈ باجا بارات کے ڈائریکٹر منیش شرما نے ڈائریکٹ کیا ہے اور اسے ہندی کے علاوہ مزید دو زبانوں یعنی تامل اور تیلگو میں ریلیز کیا جائے گا۔

    سلمان خان نے سوشل میڈیا پر ٹائیگر تھری کے ریلیز ہونے کی تاریخ کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ہی ایک تصویر بھی شئیر کی اس تصویر میں سلمان خان کی آنکھیں اور آدھا چہرہ نظر آرہا ہے جو ماسک سے ڈھکا ہوا ہے جیسے ہی سلمان نے پوسٹر شیئر کیا اور ریلیز کا اعلان کیاتو مداحوں نے کمنٹ سیکشن میں ایموجیز چھوڑنے کے علاوہ کمنٹس کرنا شروع کردئیے،. زیادہ تر صارفین نے لکھا کہ ہم آپ کی فلم کی ریلیز کا بےچینی سے انتظار کررہے ہیں ،بعض صارفین نے سلمان خان اور کترینہ کیف کو ایک ساتھ دیکھنے کی بے چینی کا اظہار کیا.کترینہ کیف نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر فلم کی ریلیز کا اعلان کیا اور تصویر شئیر کی.

  • پروٹیکشن بل رائٹ ایکٹ کے تحت اسلام آباد پولیس میں خواجہ سرا بھرتی کرنے کا فیصلہ

    پروٹیکشن بل رائٹ ایکٹ کے تحت اسلام آباد پولیس میں خواجہ سرا بھرتی کرنے کا فیصلہ

    پروٹیکشن بل رائٹ ایکٹ 2018 کے تحت اسلام آباد پولیس میں خواجہ سرا بھرتی کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد پولیس نے خواجہ سرا کانسٹیبل بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے کانسٹیبل کی اسامی پربھرتی کے لئے جو اشتہار دیا گیا ہے اس میں خواجہ سراؤں کا کوٹہ بھی شامل ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق؛ خواجہ سراؤں کو بھی پولیس میں بھرتی کے لئے دیگرمرد اور خواتین امیدواروں کی طرح انٹری ٹیسٹ، میڈیکل اور انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ خواجہ سراؤں کی بھرتی کا فیصلہ پروٹیکشن بل رائٹ ایکٹ2018 کے تحت کیا گیا ہے. واضح رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے حال ہی میں ٹرانس جینڈر رائٹس ایکٹ منظور کیا گیا تھا جس میں خواجہ سراؤں کے تحفظ، انہیں مساوی حقوق، تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی، قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر اپنی جنس خواجہ سرا لکھوانے، ووٹ اور الیکشن لڑنے کا حق دیا گیا تاہم بعض مذہبی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ یہ بل دراصل ملک میں ہم جنس پرستی کو جائز اور قانونی تحفظ دینے کی کوشش ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
    حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
    اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا
    جب کہ مزہبی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد نادرا کے ریکارڈ میں خود کو ٹرانس جینڈر کے طور پر رجسٹرڈ کروانا چاہتا ہے اس کے لیے میڈیکل سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جائے۔ دوسری طرف خواجہ سرا برادری کا موقف ہے کہ یہ خواجہ سراؤں کے تحفظ اور حقوق کا بل ہے جس میں مساوی اور بنیادی تعلیمی حقوق، کسی دوسرے شہری کی طرح بنیادی صحت کی سہولیات تک مکمل رسائی، بچے کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اندراج کروانے کا حق یا فارم ب جاری کروانے کا حق، شناختی کارڈ بنوانے کا حق، شناختی کارڈ کے اندر جینڈر کے خانے میں (خواجہ سرا) لکھوائے جانے، ووٹ کا اختیار، نوکری کے حصول میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ، وراثتی جائیداد میں حصے کا حق اور اس حق کی وضاحت سمیت خواجہ سراؤں سے ہراسمنٹ کرنے والے کے خلاف پرچے کے اندراج کے حق کی بات کی گئی ہے۔

  • شروتی ہاسن نے پہلی فلم ٹوٹی ہوئی ناک کے ساتھ کی

    شروتی ہاسن نے پہلی فلم ٹوٹی ہوئی ناک کے ساتھ کی

    کمل ہاسن کی بیٹی شروتی ہاسن ناقدین پر برس پڑی ہیں ان کا کہنا ہے کہ سرجری کے زریعے چہرے کو خوبصورت بنانے میں کوئی برائی نہیں ہے.شروتی حسن نے کہا کہ میں نے جب پہلی فلم کی تو میری ناک ٹوٹی ہوئی تھی اور اسی ٹوٹی ہوئی ناک کے ساتھ میں نے اپنی پہلی فلم مکمل کروائی اس کے بعد میں نے اپنی ناک کی سرجری کروائی. شروتی حسن نے کہا کہ خوبصورت نظر آنا ہر کسی کا حق ہے اور یہ حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا. جس طرح سب کا حق ہے میرا یہ بھی یہ حق ہے لہذا میں اس حق کا استعمال کرتے ہوئے سرجری کروا کے خوبصورت نظر آنے کی اگر کوشش کرتی ہوں تو کسی کو کیا مسئلہ یا تکلیف ہے؟ میری زندگی ہے میری مرضی ہے میں جیسی مرضی بنوں یا بننے کی کوشش کروں میں

    کسی کو جوابدہ نہیں ہوں. مجھے بالکل فرق نہیں پڑتا کوئی میری سرجری کا مذاق بنائے یا میری ناک یا خوبصورتی کا مذاق بنائے. میں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کون سرجری کروا رہا ہے کون نہیں کروا رہا، ہر کسی کی اپنی مرضی ہے ہر کوئی اپنی زندگی اپنے مطابق جینے کا حق رکھتا ہے لہذا میں‌کسی کے کسی بھی کام میں دخل کیوں دوں؟. یاد رہے کہ شروتی حسن بالی وڈ کی بہترین اداکارائوں میں سے ایک ہیں انہوں نے کم وقت میں اپنا نام اور مقام بنایا .

  • مشال خان کے پتلے ہونے کی کہانی انہی کی زبانی

    مشال خان کے پتلے ہونے کی کہانی انہی کی زبانی

    اداکارہ مشال خان نے انکشاف کیا ہے کہ میں بچپن میں بہت موٹی تھں اتنی موٹی تھی کہ ہر کوئی میرا مذاق بناتا تھا. میں اس مذاق کی وجہ سے کافی پریشان ہو جاتی تھی مایوس ہوجاتی تھی. اور مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں نے انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے لئے خود کا وزن کم کیا. انہوں نے کہا کہ ڈرامہ سیریل سنو چندہ کے سیٹ پر میرا بہت مذاق بنایا گیا مجھ پر بہت زیادہ تنقید کی گئی اس سیٹ پر میرا ساتھ ایک انسان کے علاوہ کسی نے بھی ساتھ نہیں دیا. خود کو پتلا کرنے کے لئے میں‌نے کئی کئی مہینے کھانا نہیں کھایا ایک وقت تو ایسا آیا کہ میں‌ نے چھ

    مہینوں میں ایک نوالہ بھی نہیں کھایا.مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں میں پھول نہ جائوں اور دوبارہ موٹی نہ کہلائی جائوں اور میں سمجھتی ہوں کہ میں نے خود پر ظلم کیا.مشال خان نے کہا کہ میں نے پتلے ہونے کے چکر میں اپنی صحت خراب کر لی تھی مجھے خود کا علاج کروانا پڑا یوں اللہ نے مجھے دوبارہ زندگی دی. یاد رہے کہ مشال خان کا شمار ایسی اداکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مثبت کردار بھی کئے اور منفی کردار بھی کئے.مشال خان کم مگر معیاری کام کرتی ہیں.

  • جعلی پوتین اور صدام حسین کی تصویر نے چکرا کر رکھ دیا

    جعلی پوتین اور صدام حسین کی تصویر نے چکرا کر رکھ دیا

    جعلی پوتین اور صدام حسین کی تصویر نے چکرا کر رکھ دیا

    روسی صدر ولادی میر پوتین یوکرین جنگ کی وجہ سے پہلے ہی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ان کی عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کے ساتھ گئے وقتوں کی ایک مبینہ تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پوتین کا ہم شکل ایک شخص صدام حسین کی میزبانی کررہا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر کئی برس پرانی ہے۔ یہ اس وقت کی ہے جب پوتین ماسکو کے اقتدار سے دور تھے۔ ایک عالمی ادارے کی خبر کے مطابق؛ بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں ایک شخص کو روسی صدر کے طور پر پیش کیا گیا جب وہ ایک عام سے ملازم تھے۔ وہ سابق عراقی صدر صدام حسین کی سوویت یونین کے دورے کے دوران مہمان نوازی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے.

    اے ایف پی‘ 3 مارچ 1975

    تاہم یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدام حسین کی خدمت کرنے والا شخص موجودہ روسی صدر پوتین ہے جو مکمل طور پر بے بنیاد خبر ہے۔ یہ تصویر خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے 3 مارچ 1975 کو پیرس کے میٹیگنن ہوٹل کے اندرلی تھی۔ اس میں صدام حسین کے علاوہ دوسری طرف اس وقت کے فرانسیسی وزیر اعظم یایک شیراک بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب کہ تصویر میں پوتین کو بالکل بھی شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس تصویر کا پوتین کے ساتھ دور دورتک کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ شخص اس ہوٹل کا ملازم تھا جس کی شکل پوتین سے ملتی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
    حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
    اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ تصویر پہلی بار 5 سال سے زیادہ عرصہ قبل پھیلائی گئی تھی، لیکن یہ گذشتہ گھنٹوں کے دوران سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر غلط تبصروں کے ساتھ دوبارہ نمودار ہوئی ہے۔ مرحوم عراقی صدر صدام حسین کو تقریباً 16 سال قبل 2003 میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پھانسی دے دی گئی تھی.

  • دانیہ شاہ کی والدہ نے نئے انکشافات، 25 کروڑ روپیوں کا زکر

    دانیہ شاہ کی والدہ نے نئے انکشافات، 25 کروڑ روپیوں کا زکر

    ڈاکٹر عامر لیاقت کے انتقال کے بعد دانیہ شاہ متحرک ہیں کہ کسی طرح سے ان کے شوہر کی جائیداد میں سے اسکو حصہ ملے. دوسری طرف عامر لیاقت کی پہلی اہلیہ بشری اقبال کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کا انتقال دانیہ شاہ کی وجہ سے ہوااسے گرفتار کرکے اسکو سزا دی جائے. دانیہ شاہ کی والدہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑی ہیں اور وہ اکثر و بیش تر ایسے انکشافات کرتی ہیں کہ جن سے ایک نئی کہانی کھل جاتی ہے . حال ہی میں دانیہ شاہ کی والدہ نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو جب عامر لیاقت نے عمران خان کے ساتھ ملوایا تھا اس ملاقات کے بعد ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان

    کو 25 کروڑ دیکر چلا گیا وہ پیسے انہوں نے اس کمرے میں رکھے جن میں میری بیٹی رہتی تھی میری بیٹی دانیہ سے عامر لیاقت نے کہا کہ مجھے چینل نے 40 کروڑ روپے دیتے ہیں جن میں 25 کروڑ کی ادائیگی ہو گئی ہے. دانیہ شاہ کی والدہ نے کہا کہ ان کی بیٹی لوہے کے بنے ایک کمرے میں رہتی تھیں جس میں ایک خفیہ لاکر موجود تھا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری بیٹی کی اور میرے داماد کی انتقال سے تین دن قبل صلح ہو گئی تھی اور ان کے درمیان کبھی بھی خلع نہیں ہوا.