Baaghi TV

Author: +9251

  • رنویر سنگھ کی کیا ہے خواہش ؟‌ انہوں نے بتا دیا کھل کر

    رنویر سنگھ کی کیا ہے خواہش ؟‌ انہوں نے بتا دیا کھل کر

    رنویر سنگھ اور دیپیکا پاڈوکون کا شمار اس وقت بالی ووڈ کے مشہور ترین ستاروں میں ہوتا ہے دونوں سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی پوسٹوں پر کمنٹس کر کے محبت کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں. حال ہی میں رنویر سنگھ نے ایک تقریب میں شرکت کی وہاں ان سے ان کی اہلیہ دیپیکا کے ساتھ تعلقات پر سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم دونوں کے بہت اچھے تعلقات ہیں ، ہماری 2012 میں پہلی ملاقات ہوئی اور اس کے بعد ہمارا ملنا ملانا شروع ہو گیا. ہماری دوستی کو دس سال ہو گئے ہیں. اس موقع پر انہوں نے کیا ایک خواہش کا اظہار بولے ، میں اپنی اہلیہ دیپیکا پاڈوکون کے ساتھ ایک بار پھر سکرین شئیر کرنا چاہتا ہوں‌میری خواہش ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں. ہم دونوں نے باجی رائو مستانی ، رام لیلا و دیگر فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ان میں ہم دونوں

    کو ایک ساتھ بہت پسند کیا گیا. میری خواہش ہے کہ ہم دونوں کو ایک بار پھر ایک ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آئے . گفتگو کے دوران انہوں نے اپنی اہلیہ دیپیکا پاڈوکون کے کام کی کھل کر تعریف کی. یاد رہے کہ رنویر سنگھ بولڈ فوٹو شوٹ کے کیس میں پھنسے ہوئے ہیں ابھی تک ان کو اس کیس کے حوالے سے کلئیرنس نہیں ملی ، اس کیس میں ان کی اہلیہ دیپیکا اور ان کے بالی وڈ کے دوستوں نے خوب دیا ساتھ جبکہ بھارت میں ان کے خلاف انتہا پسندوں کے گروہ نے مظاہرے کئے.

  • کرن جوہر کس بات سے ہو گئے ہیں بے پراوہ ؟

    کرن جوہر کس بات سے ہو گئے ہیں بے پراوہ ؟

    بالی وڈ کے فلمساز کرن جوہر نے حال ہی میں بات کی ان کو آن لائن ملنے والی نفرت پر. انہوں نے کہا ہے کہ ایک عرصہ سے میں ٹرول ہو رہا ہوں. اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں نے خود کو اتنا مضبوط کر لیا ہے کہ اب مجھے آن لائن ٹرولنگ پریشان نہیں کرتی. لوگ کیا سوچتے ہیں میں اب اسکے بارے میں بھی بہت زیادہ نہیں سوچتا. میرے خلاف گھٹیا، خوفناک باتیں لکھی جاتی ہیں ٹرول کرنے والے میرے بچوں کو بھی نہیں چھوڑتے اور گالیاں دیتے ہیں. کرن جوہر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ زیر علاج ہیں اور ماضی میں انہیں پریشانی کے مسائل کا سامنا رہا ہے اور

    پانچ سال تک وہ اسی جنگ کو لڑتے رہے. انہوں نے کہا کہ یہی وہ وقت تھا جب میں نے کھل کر اپنے ڈاکٹر سے بات کی اور علاج جاری رکھا. یاد رہے کہ کرن جوہر کی حال ہی میں فلم براہمسٹرا ریلیز ہوئی ہے اور اسے عوام میں خاصی پذیرائی ملی ہے. اسکے بعد کرن جوہر راکی اور رانی کی پریم کہانی کی تیاری میں مصروف ہیں اس میں عالیہ بھٹ ، رنویر سنگھ ، جیا بچن ، شبانہ اعظمی اور دھرمیندر نظر آئیں گے.اس فلم کی ریلیز کے فوراً بعد کرن جوہر ایک ایکشن فلم پر کام شروع کریں گے۔ تاہم آج کل ان کا شو کافی ود کرن کامیابی سے جاری ہے اس شو کی ہر قسط کسی نہ کسی سوال یا جواب کے حوالے سے کنٹرورشل ہوجاتی ہے.

  • انیل کپور کا لتا منگیشکر کو انکی سالگرہ  پر خراج عقیدت

    انیل کپور کا لتا منگیشکر کو انکی سالگرہ پر خراج عقیدت

    برصغیر کی کوئل کہلائی جانے والی لتا منگیشکر کو بڑے پیمانے پر ہندوستان کی عظیم اور بااثر گلوکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ آٹھ دہائیوں پر محیط کیریئر میں انہوں نے لاتعداد گانے گائے اور ایک سے زیادہ زبانوں میں گائے. لتا کے گائے ہوئے گیت ہندوستان کی تقریبا ہر دوسری ہیروئین پر پکچرائز ہوئے. بالی وڈ کے اداکار انیل کپور نے انہیں یاد کیا ان کی سالگرہ کے موقع پر انہوں‌ نے ایک آڈیو نوٹ سوشل میڈیا پر جاری کیا اور اس کا کیپشن لکھا کہ ”لتا جی کی یوم پیدائش پر صرف یہ چاہتا ہوں کہ دنیا اس وائس نوٹ کو سنے جو میرے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہے، لتا نہ صرف عظیم گلوکارہ تھیں بلکہ سوچنے سمجھنے والے، حوصلہ افزائی اور دیکھ بھال کرنے والی تھیں ، عظیم لوگ عظیم

    انسان بننا نہیں بھولتے۔لتا منگیشکر 6 فروری 2022 کو 92 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئیں تھیں، کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں انہیں 8 جنوری 2022 کو ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں داخل کرایا گیا.گلوکارہ کی پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ممبئی میں آخری رسومات ادا کی گئیں تھیں۔یاد رہے کہ انیل کپور کے کیرئیر کے آغاز میں انہوں نے جتنی بھی فلمیں کیں اس میں انکی ہیروئینز پر لتا منگیشکر کی ہی آواز ہوتی تھی. یوں لتا منگیشکر نے انیل کپور کی بہت سی فلموں میں گائے.

  • حبیب بینک لمیٹڈ کو امریکہ میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملے میں ذمہ داری کا سامنا

    حبیب بینک لمیٹڈ کو امریکہ میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملے میں ذمہ داری کا سامنا

    پاکستان کے سب سے بڑے بینک، حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) کو ریاستہائے متحدہ میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں ثانوی ذمہ داریوں کا سامنا ہے جس میں مدعی نے بینک پر القاعدہ کی دہشت گردی کی مدد اور اس کی حوصلہ افزائی کا الزام لگایا تھا اور حملے کرنے کی سازش میں شمولیت اختیار کی تھی جس میں 370 ہلاک اور زخمی ہوئے تھے

    جج لورنا جی شوفیلڈ نے کہا کہ حبیب بینک کو ایک فریق کے طور پر جسٹس اگینسٹ اسپانسرز آف ٹیررازم ایکٹ کے تحت ذمہ داریوں کا سامنا ہے جو “جان بوجھ کر خاطر خواہ مدد فراہم کرکے، یا جو بین الاقوامی دہشت گردی کی ایسی کارروائی کرنے والے شخص کے ساتھ سازش کرتا ہے”۔ . دی بلومبرگ کی رپورٹ میں جج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تین متفقہ مقدمات میں مدعی نے “کافی” الزام لگایا کہ حملوں کی منصوبہ بندی ‘غیر ملکی دہشت گرد تنظیم’ جیسے کہ القاعدہ یا سنڈیکیٹس لشکر طیبہ، جیش محمد، نے کی تھی۔ افغان طالبان، بشمول حقانی نیٹ ورک، اور تحریک طالبان پاکستان۔

    “مدعی کافی حد تک الزام لگاتے ہیں کہ بینک جانتا تھا کہ اس کے صارفین القاعدہ کی دہشت گردی کی مجموعی مہم کے لیے لازمی ہیں، جو براہ راست اور پراکسی کے ذریعے چلائی گئی، جو کہ عام بیداری کا الزام لگانے کے لیے کافی ہے۔ جج نے کہا، “شکایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بینک نے جان بوجھ کر اور کافی حد تک القاعدہ اور اس کے پراکسیوں کی پابندیوں سے بچنے اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے میں مدد کی، جو ‘جانتے ہوئے مدد’ کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔”

    جج شوفیلڈ نے کہا کہ الزامات یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ HBL “حملوں کی سازش میں شامل ہوا”۔ تاہم، اس نے بنیادی ذمہ داری کے مدعی کے دعووں کو مسترد کر دیا کیونکہ HBL کی طرف سے فراہم کردہ مبینہ بینکنگ سروسز میں سے کوئی بھی “خود بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں تھیں”، رپورٹ میں مزید کہا گیا۔ اس سے پہلے ایچ بی ایل نے اتفاق کیا 225 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا ہے – جو کہ ریگولیٹری حکام کی طرف سے کسی پاکستانی بینک پر اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے – 2017 میں نیویارک کے ریگولیٹری دفعات کی مختلف خلاف ورزیوں پر۔

    بینک نے نیویارک میں ایک برانچ چلانے اور وہاں اپنے کاموں کو کھولنے کے لیے اپنا لائسنس حوالے کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ یہ برانچ 1978 سے کام کر رہی تھی۔ اس وقت جاری کردہ ایک سخت الفاظ میں جاری کردہ ریلیز میں، نیویارک اسٹیٹ کے محکمہ مالیاتی خدمات (DFS) نے بینک کی سختی سے مذمت کی تھی اور مزید کہا تھا کہ “DFS ساتھ نہیں رہے گا اور حبیب بینک کو جوابدہ ہوئے بغیر امریکہ سے چھپنے نہیں دے گا۔ مالیاتی خدمات کی صنعت کی سالمیت اور ہماری قوم کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے حبیب بینک 2017 کے درمیان مبینہ طور پر کی جانے والی 53 الگ الگ خلاف ورزیوں کے لیے DFS کی جانب سے ایک انفورسمنٹ کارروائی کا ہدف بن گیا تھا۔

  • زخمی ٹانگ کے باوجود شلپا شیٹی ناچ اٹھیں

    زخمی ٹانگ کے باوجود شلپا شیٹی ناچ اٹھیں

    شلپا شیٹی بالی وڈ کی ان اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے نوے کی دہائی میں سپر ہٹ فلمیں دیں. شلپا بہترین اداکارہ تو ہیں ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ایک بہترین رقاصہ بھی ہیں اور فٹنس کے حوالے سے جانی جاتی ہیں. شلپا شیٹی اپنے دور کی ہیروئنز میں سے واحد وہ ہیروئین ہیں جو ابھی تک جوان اور سلم سمارٹ‌نظر آتی ہیں. شلپا شیٹی جلد ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر بھی نظر آنے والی ہیں. اداکارہ آخری بار فلم ” نکما” میں نظر آئی تھیں. شلپا شیٹی چند ہفتے قبل ایک شوٹنگ کے دوران زخمی ہو گئیں تھیں ان کی ٹانگ زخمی ہو گئی تھی ، شلپا روہت شیٹی کی پہلی ویب سیریز انڈین پولیس فورس کی شوٹنگ کر رہی تھیں اسکی شوٹنگ کے دوران انہیں یہ حادثہ پیش آیا لیکن شلپا شیٹھی کی ٹانگ کی چوٹ نے

    ان کے رقص کے جذبے کو متاثر نہیں کیا اسکی مثال ان کی انسٹاگرام پر حالیہ وڈیو ہے جس میں ڈانس کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں. شلپا شیٹی اس وڈیو میں زخمی ٹانگ کے ساتھ فالگنی پھاتک کے گانے پر ڈانس کررہی ہیں. یاد رہے کہ ویب سیریز پولیس فورس آٹھ اقساط پر مشتمل ہے جو کہ ایمازون پرائم پر نشر ہوگی۔
    یاد رہے کہ آج کل گلوکارہ فالگونی پاتھک اپنے مقبول گانے ’میں پائل ہے چھنکائی‘ کے ریمیک کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ نیہا ککڑ ان کے گانے کو ریمیک کیا ہے جسے عوامی سطح پر زیادہ پذیرای نہیں ملی.

  • ایکتا کپور اورانکی والدہ شوبھا جنسی تعلقات کے گرد گھومنے والی فلم ‘XXX’  پر قانونی مشکل میں پھنس گئیں

    ایکتا کپور اورانکی والدہ شوبھا جنسی تعلقات کے گرد گھومنے والی فلم ‘XXX’ پر قانونی مشکل میں پھنس گئیں

    مشہور فلمساز اور پروڈیوسر ایکتا کپور اور ان کی والدہ شوبھا کپور قانونی مشکل میں پھنس گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایکتا اور ان کی والدہ نے
    ویب سیریز ‘XXX’ کا سیزن ٹو او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کیاہے.اس ویب سیریز کا پہلا سیزن 2018 میں ریلیز ہوا تھا جبکہ دوسرے کا پریمیئر جنوری 2020 میں ہوا تھا۔ ایکتا کپور اور ان کی والدہ شوبھا کپور پر الزام ہے کہ انہوں نے ویب سیریز ‘XXX’ سیزن ٹو میں ایک فوجی کی بیوی سے متعلق کئی قابل اعتراض مناظر دکھائے ہیں. اس حوالے سے شکایت عدالت تک بھارت کے ایک سابق فوجی اور بیگوسرائے کے رہائشی شمبھو کمار لیکر گئے تھے. اس شکایت کے بعد عدالت نے ایکتا کپور اور انکی والدہ کو سمن جاری کیا تھا اور انہیں اس معاملے میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔

    ان دونوں نے عدالت سے کہا کہ انہوں نے فلم سے بہت سارے قابل اعتراض سین ہٹا دئیے ہیں لیکن حقیقت میں انہوں نے ایسا کیا نہیں‌تھا. اس کے بعد عدالت نے انہیں پھر سے پیش ہونے کو کہا اس کے بعد ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے.
    یاد رہے کہ "XXX ویب سیریز کی ہر قسط ایک مختلف کہانی کو پیش کرتی ہے جو جنسی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے گرد گھومتی ہے۔ ایکتا کپور ایک کامیاب پرڈیوسر ہیں جنہوں نے ٹی وی کے لئے لاتعداد سپر ہٹ ڈرامے بنائے اور فلمٰں بھی بنائیں.

  • ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں کیا کچھ اور کب کب کیا ہوتا رہا؟

    ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں کیا کچھ اور کب کب کیا ہوتا رہا؟

    ایون فیلڈ ریفرنس مختلف عدالتوں میں 5 سال زیر سماعت رہا اور اس دوران مریم نواز اور ان کے شوہر جیل بھی گئے ہیں

    28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت اور وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے بھی نااہل قرار دیا تھا. جس کے بعد نیب نے اس کے خلاف 8 ستمبر 2017 کو پاناما پیپرز کی جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف، مریم نواز ، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا۔
    اس کیس میں کیا کچھ اور کب کب کیا ہوتا رہا؟
    14 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس پر پہلی سماعت کی۔ 26 ستمبر کو نواز شریف جب کہ 9 اکتوبر 2017 کو مریم نواز پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ 19 اکتوبر 2017 کو نواز شریف کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان کے نمائندے ظافر خان، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی گئی۔

    8 نومبر 2017 کو پیشی کے موقع پر نواز شریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ 3 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ 6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 11 سال، مریم نواز کو 8 سال اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو 1 سال قید کی سزا سنادی۔ اس کے بعد پھر نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: سابقہ حکومت نے بروقت گیس نہ خرید کر بہت بڑا ظلم کیا. وزیرِ اعظم
    بریکنگ،ایون فیلڈ ریفرنس ، مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر بری
    جبکہ ستمبر 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر جیل سے رہا ہو گئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی ایون فیلڈ ریفرنس پر اپیلوں اور سزا ختم کرنے کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔

    10 فروری 2022 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب سے مریم نواز کے خلاف مزید شواہد طلب کرلئے. 20 ستمبر کو نیب پراسیکیوٹر نے اعتراف کیا کہ لندن کی جائیداد خریدنے میں مریم نواز کا کردار نہیں تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر نیب کو مریم نواز سے قبل نواز شریف پر جرم ثابت کرنے کی ہدایت کردی۔ اسی سماعت کے دوران عدالت نے لندن کے اپارٹمنٹس اور نواز شریف کے درمیان تعلق پر نیب سے 4 سوالات کے جوابات بھی مانگ لیے۔ 29 ستمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو باعزت بری کردیا۔

  • آئی ایم ایف ٹیکس 3 ماہ کیلئے منجمد:  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ

    آئی ایم ایف ٹیکس 3 ماہ کیلئے منجمد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ

    آئی ایم ایف کی پٹرول پر عائد ٹیکس تین ماہ کیلئے منجمد کرنے پر رضامند ظاہر کرنے کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اصولی فیصلہ کرلیا۔

    آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس تین ماہ کیلئے منجمد کرنے پر اصولی رضامندی ظاہر کی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کل ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت جنوری 2023 تک پٹرول پر پٹرولیم لیوی 50روپے فی لیٹر تک بڑھانا ہے۔ واضح رہے کہ پیٹرول پر اس وقت 37.42 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ پیٹرولیم لیوی عائد ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 7.35 روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہے، اس کے علاؤہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر دس دس روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل فی لیٹر پٹرولیم لیوی بتدریج بڑھا کر پچاس روپے کی جائے گی۔

    ادھر ترجمان آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین 30 ستمبر کی رات کو ہی کیا جائے گا۔ ترجمان اوگرا نے کہا کہ بےبنیاد خبروں سے مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کی توقع ہے تاہم اس کمی کا اعلان 30 ستمبر کی رات کو ہو گا لیکن اس سے قبل ہی سوشل میڈیا پر بےبنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ یکم اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ کیونکہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تناسب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ورکنگ شروع کر دی تھی۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق ابتدائی ورکنگ میں پٹرول کی قیمت میں 9 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے کمی کا امکان ہے۔ تین روز کے دوران عالمی رجحان کے مطابق اوگرا حتمی سمری بھجوائے گا اور یکم اکتوبر سے حکومت کی جانب سے عوام کا بڑا ریلیف دئیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم وزیر خزانہ کی مشاورت سے حتمی فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے۔ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق نامزد وزیر خزانہ اسحاق ڈار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو ریلیف دینے کے بھرپور حامی ہیں۔
    یہ بھی پڑھیں: یکم اکتوبر سے پٹرول کی قیمت میں 9 روپے کمی کا امکان
    اے ٹی آر77 طیارے کی شمولیت، دفاع کی صلاحیت بڑھے گی،جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی
    متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے. بلاول بھٹو زرداری
    واضح رہے کہ دوسری جانب عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی تھی جس کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برنٹ آئل کی بین الااقوامی منڈی میں قیمتیں نچلی سطح پر آگئیں۔ خام تیل کی قیمت 84.06 ڈالر فی بیرل جب کہ امریکی منڈی میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 76.71 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح عالمی منڈی میں قدرتی گیس کی قیمت بھی نمایاں طور پر کم ہو کر 6.90 ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملنے اور عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں 15 فی صد کمی ہوئی ہے۔ کورونا وبا سے نکلنے والی ہانپتی کانپتی عالمی معیشت اور تجارت کو روس یوکرین جنگ سے بڑا دھچکا لگا اور پٹرولیم کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی تھیں۔

    تاہم اب عالمی منڈیوں میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل کمی سے معیشت اور تجارت کو سنبھلنے کا موقع مل رہا ہے جس کے دور رس نتائج مہنگائی میں کمی کی صورت میں عام آدمی کی زندگیوں پر بھی پڑیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ عالمی کساد بازاری کا خدشہ اور دیگر عالمی امور ہیں۔ یاد رہے کہ بلوم برگ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ رواں برس کے اختتام تک خام تیل کی قیمت 65 ڈالر تک گر سکتی ہے جب کہ آئندہ برس کے اختتام تک یہ قیمت 45 ڈالر فی بیرل رہ جائے گی۔

  • ایچ ای سی اور پروفاؤنڈ ویژن جاپان نے پاکستانی آئی ٹی  انجینئرز کیلئے ویب پورٹل کا آغاز کردیا

    ایچ ای سی اور پروفاؤنڈ ویژن جاپان نے پاکستانی آئی ٹی انجینئرز کیلئے ویب پورٹل کا آغاز کردیا

    ایچ ای سی سیکرٹریٹ میں گزشتہ روز ایک تقریب بعنوان ’’جاپان میں 800 ہزار آئی سی ٹی انجینئرز کے لیے 2030 تک‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، جس میں سی ای او پرافاؤنڈ ویژن نوبو شیوبارا، جاپان میں پاکستان کے سابق سفیر امتیاز احمد، ڈائریکٹر جنرل جاپان ایکسٹرنل ٹریڈ آرگنائزیشن (جی ای ٹی آر او) کازو یاماگوچی اور دیگر معززین نے شرکت کی جبکہ پاکستانی اور جاپانی کاروبار اور تجارت کی صنعت نے شرکت کی.

    Profound Vision Co., Ltd پاکستان سے جاپان میں ہنرمند IT وسائل کی جگہ کا تعین کرنے والی ایک سرکردہ کمپنی نے، جاپانی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آئی سی ٹی کے ہنرمندوں کو درآمد کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے تین سال قبل FITE کا آغاز کیا تھا۔ Profound Vision کے مطابق، جاپان کو اپنی مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2030 تک تقریباً 800,000 IT انجینئرز کی ضرورت ہے۔ FITE پاکستانی ٹیکنالوجی کے ساتھ خاص طور پر جاپانی مارکیٹ کے لیے بنایا گیا ہے۔ FITE پہلا دو لسانی نظام ہے جو پاکستان اور جاپان کے درمیان آئی سی ٹی انجینئر کے فرق کو پر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے اپنے کلمات میں حاضرین کو اسکی اہمیت سے آگاہ کیا اور انہوں نے کہا کہ 244 پاکستانی یونیورسٹیوں میں سے 163 آئی ٹی سے متعلق پروگرام پیش کرتی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ 108 یونیورسٹیاں انجینئرنگ پروگرام پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 40,000 سے زائد پاکستانی طلباء آئی ٹی میں گریجویشن کر رہے ہیں۔

    چیئرمین کے مطابق: جاپان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، کیونکہ جاپان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے پاکستان کو بنیاد کے ابتدائی سالوں میں تسلیم کیا۔ انہوں نے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA) کو دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اس کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویب پورٹل پاکستانی آئی ٹی انجینئرز کو جاپانی آجروں سے جوڑ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی انجینئرز نہ صرف جاپان کی خدمت کریں گے بلکہ پاکستان کیلئے ریونیو بھی لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں بڑی صلاحیت ہے، نوجوان نہ صرف ملک کی خدمت کریں گے بلکہ دوست ممالک کو بھی اپنی خدمات پیش کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور جاپان ایک دوسرے سے سیکھیں گے اور اعلیٰ تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے۔

    شیوبارا نے حاضرین کو FITE کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کی کم شرح پیدائش، عمر رسیدہ آبادی اور نوجوان سافٹ ویئر انجینئرز اور آئی ٹی پروگرامرز کی کمی نے جاپان میں Iآئی ٹی افرادی قوت کی مانگ پیدا کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ویژن اور ایچ ای سی مستقبل قریب میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط کریں گے تاکہ پاکستانی آئی سی ٹی انجینئرز کی بھرتی کے مختلف مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
    جاپان میں پاکستان کے سابق سفیر امتیاز احمد، ڈائریکٹر جنرل JETRO یاماگوچی اور دیگر معززین نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور FITE کے آغاز کی اہمیت پر روشنی ڈالی. حاضرین نے پاکستان کے سیلاب زدگان سے اظہار یکجہتی اور جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے انتقال پر اظہار تعزیت کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔

  • آشا پاریکھ کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا جائے گا

    آشا پاریکھ کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا جائے گا

    بھارتی سینما کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ آشا پاریکھ کو ہندی سینما میں گرانقدر خدمات کےلئے ہندوستان کا سب سے بڑا فلمی اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا جائے گا۔بھارتی وزیر انوراگ ٹھاکر نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس حوالے سے ایک ٹویٹ کے زریعے تصدیق کی ہے کہ آشا پاریکھ کو داد صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا جائیگا.پچھلے برس اداکار رجنی کانت کو 2019 کے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، کورونا کی وجہ سے ایوارڈز میں ایک سال کی تاخیر ہوئی تھی۔آشا پاریکھ کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دئیے جانے پر اداکار دھرمیندر نے ٹویٹرپر ایک وڈیو لگا کر انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ آشا آپ اس ایوارڈ کی حقدار ہو.

    یاد رہے کہ آشا پاریکھ نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ اسکرین نام بے بی آشا پاریکھ سے کیا۔ مشہور فلم ڈائریکٹر بمل رائے نے ایک اسٹیج تقریب میں ان کا رقص دیکھا اور انہیں دس سال کی عمر میں فلم ماں (1952) میں کاسٹ کیا اور پھر انہیں فلم باپ بیٹی (1954) میں کاسٹ کیا. آشا نے کچھ سال کےلئے اداکاری چھوڑ کر پڑھائی پر توجہ دی اور پھر 16 سال کی عمر میں انہوں نے دوبارہ اداکاری شروع کی اور بطور ہیروئین اپنے کیرئیر کا آغاز کیا، انہوں نے اپنے کیرئیر میں کافی اتار چڑھائو بھی دیکھے. فلم پروڈیوسر سبودھ مکھرجی اور مصنف ہدایت کار ناصر حسین نے انہیں دل دے کے دیکھو (1959) میں شمی کپور کے مقابل ہیروئن کے طور پر کاسٹ کیااس فلم نے انہیں سپر سٹار بنا دیا اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا.