Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلام آباد: دن دھاڑے ڈکیتیاں‌ہونے لگی جبکہ پولیس جرائم روکنے میں ناکام

    اسلام آباد: دن دھاڑے ڈکیتیاں‌ہونے لگی جبکہ پولیس جرائم روکنے میں ناکام

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں دن دھاڑے چوریاں ہونے لگی جبکہ اسلام آباد پولیس جرائم روکنے میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے.

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکو ایک موبائل شاپ سے اسلحہ کے زور پر دن دھاڑے ڈکیتی کررہا ہے ایک صارف عقیل احمد نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ: اسلام آباد میں دن دھاڑے ڈکیتیاں ہورہی ہیں، پولیس کسانوں پر تشدد اور پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے 7 کروڑ کے آنسو گیس شیلز منگوا رہی ہے، اسلام آباد پولیس برائے مہربانی بتادے کہ جس عوام کے پیسے سے آپ کی تنخواہ آتی ہے اس عوام کا دفاع یعنی تحفظ کس نے کرنا ہے.


    تاہم اس حوالے سے اسلام آباد پولیس نے تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے لیکن اسلام آباد کے شہری روز بروز دن دھاڑے بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں سے کافی پریشان اور خوف زدہ ہیں. ایک شہری نے باغی ٹی وی اسلام‌ آباد کو بتایا کہ اس صورتحال میں ہم بہت پریشان اور شدید کوفت ہیں جہاں ایک طرف آئے روز قتل کی واردات سامنے آرہی ہیں تو دوسری طرف چوریوں اور دن کی روشنی میں ڈکیتیوں کی وارداتوں سے لگتا ہے کہ اسلام آباد پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مکمل ناکام ہوچکی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں: سارہ انعام قتل کیس،ملزم شاہنواز عدالت پیش،مزید جسمانی ریمانڈ منظور
    سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت،مریم نواز عدالت پہنچ گئیں
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین 30 ستمبر کو ہو گا. ترجمان اوگرا
    خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاق دارلحکومت اسلام آباد تھانہ کورال کی حدود میں بوری بند لاش برآمد ہوئی تھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جھاڑیوں میں ایک بوری میں انسان نما چیز پڑی ہوئی ہے تاہم یہ ویڈیو شیئر کرنے والے صحافی علی عمران عباس نے دعوی کیا تھا کہ اس بوری میں ایک انسان کی لاش ہے. واضح رہے کہ اسلام آباد میں بوری بند لاش کا معاملہ پہلی بار سامنے نہیں‌آیا تھا جبکہ اس سے قبل بھی ایک لڑکی کی بوری بند لاش ملی تھی. اور اس خاتون کی تشدد زدہ بوری بند لاش کچرے سے برآمد کی گئی تھی دوسری جانب باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم میں کمی نہ آسکی ہے اور آئے روز چوری، ڈکیتی، قتل کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اب تو کراچی کی جگہ اسلام آباد سے بوری بند لاشیں ملنا شروع ہو گئی.

  • مشکوک ٹرانزیکشن کیس: آصف زرداری نے عدالت میں دائر بریت کی اپیل واپسی کی استدعا کردی

    مشکوک ٹرانزیکشن کیس: آصف زرداری نے عدالت میں دائر بریت کی اپیل واپسی کی استدعا کردی

    سابق صدر آصف زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر بریت کی اپیل واپس لینے کی استدعا کردی ہے.

    پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف 8 ارب سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشن کے نیب ریفرنس کیس میں سابق صدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر بریت کی اپیل واپس لینے کی استدعا کردی ہے. آصف زرداری کی درخواست بریت نیب کورٹ نےمسترد کی تھی جسے انہوں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، اور ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کررکھا ہے۔
    سابق صدرآصف زرداری نے اپنی بریت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے درخواست میں کہا ہے کہ نیب کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی اجازت دی جائے، احتساب عدالت کی کارروائی پر حکم امتناع بھی ختم کیا جائے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق: آصف زرداری کی جانب سے احتساب عدالت میں نئے قانون کے تحت ریلیف کی درخواست دی جائے گی، اس کے لئے ہائیکورٹ کا حکم امتناع ختم کرانا لازم تھا۔

    خیال رہے کہ سابق صدر آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور متعدد دیگر کاروباری افراد کے خلاف سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل میں 29 ‘بے نامی’ اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی جعلی ٹرانزیکشنز سے متعلق 2015 کے کیس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اگست 2018 میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
    7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔ اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے. بلاول بھٹو زرداری
    اراکین اسمبلی کو کیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمانی کوٹہ بنانے پر غور
    بلیک میلنگ میں ملوث ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ کےافسر سمیت 4 اہلکارگرفتار
    آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔ بعد ازاں کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔
    اس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔ 15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔

  • سینئر اینکرز کا این ایف آر سی سی کا دورہ، احسن اقبال نے بریفنگ میں کہا؛ ہیروز وہ ہیں جنہوں نے دوسروں کیلئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا

    سینئر اینکرز کا این ایف آر سی سی کا دورہ، احسن اقبال نے بریفنگ میں کہا؛ ہیروز وہ ہیں جنہوں نے دوسروں کیلئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا

    سینئر ٹی وی اینکرز کا این ایف آر سی سی کا دورہ جس میں ڈپٹی چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اصلی ہیروز وہ ہیں جنہوں نے دوسروں کیلئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا.

    سینئر اینکرز نے آج نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کا دورہ کیا جہاں ڈپٹی چیئرمین این ایف آر سی سی احسن اقبال نے سینئر صحافیوں کو سیلاب سے ہونے والی تباہی اور مسلح افواج، سول انتظامیہ اور مختلف اداروں کے کردار کے بارے میں بتایا۔ احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ اس بحران کے وقت میں اصلی ہیروز وہ ہیں جنہوں نے قیمتی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دن رات کام کیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں: متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے. بلاول بھٹو زرداری
    اراکین اسمبلی کو کیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمانی کوٹہ بنانے پر غور
    بلیک میلنگ میں ملوث ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ کےافسر سمیت 4 اہلکارگرفتار
    احسن اقبال نے مزید کہا کہ ریسکیو اور ریلیف ٹیموں نے انتھک محنت کی ہے اور میں نے مسلح افواج اور سول انتظامیہ دونوں کے افسران سے ملاقات کی ہے جو میدان میں موجود رہے اور میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے ان کی آنکھوں میں درد اور ہمدردری دیکھتا ہوں۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سیلاب کی صورتحال کو اجاگر کرنے اور امدادی سرگرمیوں کی ضرورت بتانے پر میڈیا کو سراہا جائے اور ان کی کاوشوں کے ہم شکر گزار ہیں۔ احسن اقبال نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ اس قدرتی آفت پر توجہ مرکوز رکھیں اور تباہی و لوگوں کے مصائب کو اجاگر کرے۔

    این ایف آر سی سی نے سینئر صحافیوں کو جان و مال کو پہنچنے والے نقصانات اور مواصلاتی ڈھانچے اور بحالی کی کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا، خاص طور پر ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کو کھولنے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی کی بحالی کے لیے وے فارورڈ سمیت لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کا منصوبہ بھی بریفنگ میں بتایا گیا.

  • 29ستمبر 1983 کے سانحہ کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی. بلاول بھٹو زرادری

    29ستمبر 1983 کے سانحہ کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی. بلاول بھٹو زرادری

    وزیر خارجہ اور چئیرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ 29 ستمبر 1983 سانحے کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی.

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ سانحہ پنہل چانڈیو کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں کیونکہ جمہوریت کے لیے آواز اٹھانے پر 16 جیالوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا تھا ان کا کہنا تھا کہ: قیامِ جمہوریت میں کارکنان کی جدوجہد اور قربانیاں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ ایم آر ڈی میں سکرنڈ کے گاؤں پنہل خان چانڈیو سے شہید ہونے والے تمام ورکرز کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں.

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایم آر ڈی کے دوران پنہل چانڈیو گاوَں میں شہید کیے گئے 16 جیالوں کے یومِ شہادت پر پیغام کہنا تھا کہ: سانحہ پنہل چانڈیو کے شہداء شہید ٹھارو چانڈیو، شہید رجب علی چانڈیو اور شہید علی شیر چانڈیو کو سلام ہیش کرتے ہیں. پی پی پی چیئرمین کا شہداء کو ان کی 39 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ: شہید غلام مصطفیٰ چانڈیو، شہید پیر بخش چانڈیو، شہید عرس چانڈیو، شہید صدیق چانڈیو اور شہید گلاب چانڈیو، شہید ہاشم خاصخیلی، شہید جانب خاصخیلی، شہید میرو خاصخیلی، شہید علی گل خاصخیلی اور شہید محمد رمضان، شہید محبوب علی سولنگی، شہید اللہ رکھیو سولنگی اور شہید حسین بخش منگنھار کو بھی سلام پیش کرتا ہوں.

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ آج کا دن یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے. اور ان شہدا کو ہمیشہ کیلئے یاد رکھیں تاہم ان کی قربانی ہمیں جمہوریت کی جدوجہد میں یاد رہے. واضح رہے کہ پاکستان میں تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی نے اُس دور میں سیاست اور سیاسی احتجاج کی روایت قائم کی جب وقت کے آمر نے ملک میں سیاست کو ختم کر نے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ اگر جنرل محمد ضیاء الحق کا مارشل لاء اس سے قبل کی ایوب خان اور یحییٰ خانی آمریتوں کا تواتر تھا تو ایم آر ڈی اُس جمہوری جدوجہد کا تسلسل تھی جو پاکستانی عوام نے اس سوچ کے خلاف برپا کی جو ملک کو آمریت کے تسلط اور مذہبی رجعت میں جکڑ دینا چاہتی تھی۔

  • کسان اتحاد دھرنا: کسی بھی صورت ریڈ زون داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسلام آباد پولیس

    کسان اتحاد دھرنا: کسی بھی صورت ریڈ زون داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج میں شامل افراد کو کسی بھی صورت میں ریڈ زون داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے.

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا دعوی ہے کہ احتجاج میں شامل افراد کے پاس ڈنڈے اور دیگر ہتھیار ہو سکتے ہیں۔ اور احتجاج میں شامل افراد کو کسی بھی صورت میں ریڈ زون داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے. جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے گزشتہ شب مذاکرات کی کوشش کی مگر کسانوں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا تھا.ترجمان کے مطابق: احتجاج کے سرکردہ افراد نے ایف نائن میں احتجاج کی یقینی دہانی کروائی تھی۔ اور مظاہرین اب طے شدہ مقام کے بجائے ڈی چوک کی طرف پیش قدمی کرنے پر بضد ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ حتیٰ الامکان مذاکرات کرنے کی کوشش کرے گی۔


    پولیس کے مطابق: کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ اور پولیس اور انتظامیہ آخری حل کے طور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے اقدامات عمل میں لائے گی۔ جبکہ اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی قدرے متاثر ہے۔ متبادل راستے مہیا کیے گئے ہیں۔ جبکہ ریڈ زون میں داخلے کےلیے سرینا چوک اور مارگلہ روڈ کھلے ہیں۔

    ادھر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں دھرنا پر بیٹھے کسان اتحاد کا مطالبہ ہے کہ زراعت کوصنعت کا درجہ دیا جائے اور سیلاب زدہ علاقوں میں کھاد اور بیج مفت فراہم کیا جائے. اور دودھ کی قیمتیں بڑھائی جائیں جبکہ گندم کی قیمت 4 ہزار اور گنا کی قیمت فی من 4 سو روپے کی جائے. جبکہ کھاد کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جائے. واضح رہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسان اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر دوبارہ احتجاج کیلئے شہر اقتدار گزشتہ روز پہنچ گئے تھے۔

    گزشتہ روز سے آل پاکستان کسان اتحاد کے زیراہتمام اسلام آباد کے بلیو ایریا میں دھرنا جاری ہے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد مظاہرین ڈی چوک جانے کیلئے بضد جبکہ مظاہرین کو روکنے کیلئے پولیس کی بھاری ڈنڈا بردارنفری موجود ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو کارروائی ہو گی۔ کسان اتحاد کے لانگ مارچ میں پورے پاکستان سے کسانوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک کسان مارچ جاری رکھنے اور ڈی چوک جانے کا اعلان کیا تاہم انتظامیہ کے انکار کے بعد جناح ایونیو پر ہی دھرنا دے دیا.
    مزید یہ بھی پڑھیں: متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے. بلاول بھٹو زرداری
    اراکین اسمبلی کو کیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمانی کوٹہ بنانے پر غور
    بلیک میلنگ میں ملوث ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ کےافسر سمیت 4 اہلکارگرفتار
    مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی اراضی پر فوری طور پر تعمیرات کو روکے، زرعی مشینری پر ٹیکس کو ختم کیا جائے اور کسانوں کو اچھی کھاد فراہم کی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے پرپابندی لگائی جائے، سیلاب زدہ علاقوں میں کھاد، بیج اور ڈیزل مفت فراہم کیاجائے، گندم کی قیمت چار ہزار روپے فی من اور گنےکی چار سو روپے فی من مقررکی جائے۔
    دوسری جانب کسان اتحاد مارچ کے شرکا نے حکومت سے مذاکرات پرآمادگی ظاہر کردی ہے اور اتحاد کی 5 رکنی کمیٹی بنائی گئی جو وفاقی حکومت سے مذاکرات کرے گی۔ واضح رہے کہ 21 ستمبر کو حکومت سے کامیاب مذاکات ہونے کے بعد کسان اتحاد نے اسلام آباد میں جاری احتجاج ختم کردیا تھا تاہم مطالبات کے عدم منظوری کے باعث آج دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

  • روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری، جمعرات کو بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    آج بروزجمعرات کو بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کو بھی روپیہ تگڑا ہوا اورڈالر کمزور دکھائی گیا۔مسلسل 5 ویں روز ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔ انٹربینک میں ڈالرکی قیمت میں 1 روپے 12 پیسے کی کمی دیکھی گئی۔ انٹر بینک میں ڈالر231 روپے کا ہوگیا۔5 دن میں انٹربینک میں ڈالر 9 روپے سستا ہوچکا ہے۔ بدھ کوانٹربینک میں امریکی ڈالر231 روپے 50 پیسے پرآگیا تھا۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر 4 روپے 80 پیسے سستا ہوکر 228 روپے پربند ہوا تھا۔

    ڈالر کی قدر کم ہونے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کے بوجھ میں 1 ہزار ارب روپے کی کمی بھی ہوئی ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 50 کروڑ ڈالر کمی سے روپے کی قدر کو سہارا ملا ہے۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پچھلے ہفتے ( 9 تا 15 ستمبر) کے دوران مرکزی بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 17 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے. بلاول بھٹو زرداری
    اراکین اسمبلی کو کیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمانی کوٹہ بنانے پر غور
    بلیک میلنگ میں ملوث ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ کےافسر سمیت 4 اہلکارگرفتار
    واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈالر کو ریورس گیئر لگنے کے بعد امریکی کرنسی مزید سستی ہوتی جاری ہے اور انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کے مستحکم ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اور ڈالر گزشتہ روز مزید سستا ہوکر 228 کا ہوگیا تھا.
    جبکہ اس سے قبل گزشتہ روز سے ڈالر زوال پزیر ہونے کا سلسلہ جاری ہے روپے کی قدر میں کمی آرہی ہے، یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ امریکا کے مثبت نتائج اور اسحاق ڈار کی وزیرخزانہ کی حیثیت سے تقرری کی خبر نے ڈالر کی اڑان کو بریک لگادی اور ڈالر کی قدر میں تنزلی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل ڈالر کے انٹربینک ریٹ 235 روپے جبکہ اوپن ریٹ 238 روپے سے بھی نیچے آگئے تھے۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 2.90 روپے کی کمی سے 234.11 روپے کا ہوگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1.50 روپے کی کمی سے 236 روپے پر آگئی۔

    مارکیٹ ذرائع کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جسکی وجہ سے مارکیٹ میں ڈالر کے طلبگاروں کی ڈیمانڈ بھی رک گئی ہے جبکہ بینکوں کی سخت مانیٹرنگ اور غیرقانونی منی چینجرز کے خلاف کریک ڈاؤن بھی روپیہ کے استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی بینک سے دو ارب ڈالر کا فنڈ ملنے کی توقع اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے تناظر میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں موخر کرنے کی حکومتی کوششوں سے بھی ڈالر کی مسلسل اڑان رکنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

  • اراکین اسمبلی کو کیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمانی کوٹہ بنانے پر غور

    اراکین اسمبلی کو کیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمانی کوٹہ بنانے پر غور

    وفاقی حکومت کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کو کیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمانی کوٹہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی اسلام آباد: حکومتی ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری رہائشی اسکیموں میں اراکین پارلیمنٹ کے لیے کوٹہ مختص کرنے پرغور کیا جا رہا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس کے ایک دعوے کے مطابق: فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کی سرکاری رہائشی اسکیم میں پارلیمانی کوٹہ کے تحت اراکین پارلیمنٹ کو پلاٹ کی الاٹمنٹ کی جائے گی ، جس کے بعد انہیں زندگی میں ایک بار کیٹگری ون کا پلاٹ الاٹ کیا جاسکے گا۔

    تاہم پارلیمانی کوٹہ کے تحت مستفید ہونے والے رکن پارلیمنٹ کی فیملی میں سے کوئی دوسرا شخص فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کی کسی اسکیم میں مزید پلاٹ نہیں لے سکے گا۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے بورڈ نے سی ڈی اے کے ذریعے مختص شدہ اراضی پر پارلیمنٹرینز کے لیے رہائشی پلاٹوں کی فراہمی کی اسکیم کے لیے ایک سمری کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جس میں رہائشی پلاٹ کی الاٹمنٹ کے معیار و دیگر پہلو قانون و ضوابط کے مطابق طے کرکے مسودہ کابینہ کو ارسال کیا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، آڈیو لیکس بارے اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم
    اور عمران خان کی بھی آڈیو لیک ہو گئی،امریکی سائفر کا سارا ڈرامہ بے نقاب
    کراچی: گیس لیکیج کے باعث گھر میں آگ لگ گئی،5 افراد زخمی
    بورڈ کی جانب سے ہاؤسنگ اتھارٹی کی پارک روڈ اسکیم جو کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر شراکت کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے کی طرز پر پارلیمنٹرینز کے لیے بھی ایک اسکیم تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس سے متعلق بورڈ کو آئندہ اجلا س میں مطلع کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے)وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کے ماتحت ادارہ ہے جس کا کام وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے رہائشی اسکیمیں ڈویلپ کرکے پلاٹ فراہم کرنا ہے ، اس سے قبل مختلف پارلیمانی کمیٹیوں میں پارلیمنٹرینز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ زیر بحث رہا ہے ، جس کی بنیاد پر اب پارلیمنٹرینز کوکیٹگری ون کے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے باضابطہ طور پر اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ اس وقت تک کیٹگری ون کا پلاٹ گریڈ 22کے افسران لینے کے اہل ہیں اب اسی کیٹگری میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے پارلیمنٹرینز کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے. بلاول بھٹو زرداری

    متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے. بلاول بھٹو زرداری

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ الیکشن کا مطالبہ سیلاب زدگان کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اور متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے.

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کا مطالبہ سیلاب زدگان کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ متاثرین کی مدد پہلے اور سیاست بعد میں ہے۔حکومت اور اپوزیشن کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک جلسے نہ ہو تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ اس کی جگہ ہمیں اپنے سیلاب زدگان کی مدد کرنے کا موقع ملے گا۔ سیلاب متاثرین کےلیے ہم جتنا کام بھی کریں وہ ناکافی ہے۔پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ابھی تک جتنی بھی مدد ملی ،اس کے لیے دنیا کے شکر گزار ہیں۔اجناس بحران کا بھی سامنا ہے،سیلاب سے فصلیں تباہ ہو گئیں۔سیکرٹری جنرل نے یو این اجلاس کے موقع پر سیلاب کو سر فہرست رکھا. انہوں نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔موسمیاتی تبدیلی کا شکار 10 بڑے ممالک کو مل کر آواز اٹھانا ہو گی۔موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر اتفاق نہ ہوا تو نقصان دنیا کا ہو گا۔پاکستان اور بھارت کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مل کر کام کرنا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو تنہا نہ کیا جائے،ان کے فنڈز جاری کیے جائیں۔کورونا اور یوکرین جنگ کے باعث دنیا کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا۔حال ہی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا اور پھر سیلاب آ گیا۔سیلاب سے بڑی تباہی آئی،پورے پاکستان کو مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، آڈیو لیکس بارے اعلی سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم
    اور عمران خان کی بھی آڈیو لیک ہو گئی،امریکی سائفر کا سارا ڈرامہ بے نقاب
    کراچی: گیس لیکیج کے باعث گھر میں آگ لگ گئی،5 افراد زخمی

    ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے دورے کا اولین مقصد سیلاب متاثرین کی مدد رہا۔امریکہ کے دورے پر وزیر اعظم کی دیگر رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔سیلاب کے علاوہ ہمار ا ایجنڈا امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بہتری تھا۔امریکہ سے تعلقات کی اپنی تاریخ ہے۔تجارت،زراعت،صحت اور دیگر شعبوں میں پیشرفت کا امکان ہے ان کا کہنا ہے کہ اسد مجید اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں،غیر ذمہ دارانہ کام خان صاحب نے کیا۔غلطی عمران خان کرے اور سزا اسد مجید کو دوں،یہ نا انصافی ہو گی۔عمران خان نے ہمارے خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچایا۔گزشتہ 6 ماہ میں کئی ممالک سے پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

  • رنبیر کپور کی 40 سالگرہ ، بالی وڈ سٹارز کی شرکت

    رنبیر کپور کی 40 سالگرہ ، بالی وڈ سٹارز کی شرکت

    رنبیر کپور بالی وڈ کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں فلم انڈسٹری میں آئے ہوئے تقریباً 15 سال ہوچکے ہیں، سانوریا ان کی پہلی فلم تھی۔ اپنے 15 سالہ فلمی کیرئیر میں انہوں نے کافی اتار چڑھائو دیکھے. انہوں نے ویک اپ سڈ، یہ جوانی ہے دیوانی، اے دل ہے مشکل، سنجو اور حال ہی میں برہمسٹرا جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں.رنبیر کپور چالیس سال کے ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنی سالگرہ کو منانے کےلئے اپنی رہائش گاہ پر ایک پارٹی کا اہتمام کیا اس میں ان کے بالی وڈ کے دوستوں نے شرکت کی . جنہوں نے

    شرکت کی ان میں کرن جوہر ، آیان مکھر جی ، شاہین بھٹ ، آدیتہ رائے کپور ، ڈارئیکٹر روہت دھون سمیت دیگر شامل تھے. رنبیر کپور کی سالگرہ پر ان کی والدہ نیتو کپور خاصی خوش دکھائی دے رہی تھیں. یاد رہے کہ رنبیر کپور نے اداکارہ عالیہ بھٹ کے ساتھ رواں برس اپریل میں شادی کی اور اب وہ باپ بننے والے ہیں. رنبیر کپور کی اسی ماہ فلم براہمسٹرا ریلیز ہوئی ہے جسے خاصی پذیرائی ملی ہے رنیبر اس فلم کی کامیابی کو انجوائے کررہے ہیں. اس فلم میں ان کے ساتھ ان کی اہلیہ عالیہ بھٹ بھی ہیں.

  • اگر ہم قانون پر عمل نہیں کرینگے تو دنیا مذاق اڑائے گی. چئیرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی

    اگر ہم قانون پر عمل نہیں کرینگے تو دنیا مذاق اڑائے گی. چئیرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی

    اگرہم قانون پر عمل نہیں کرینگے تو دنیا مذاق اڑائے گی. چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی

    چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے کہا اگر ہم قانون پر عمل نہیں کریں گے دنیا میں ہمارا مزاق اڑے گا. چیئرمین سینیٹ کے دفتر کے باہر کوریڈور بند کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا تو نور عالم خان
    نے کہا کہ پچھلے چیئرمین پی اے سی نے پارلیمنٹ کے کوریڈورز کھولنے کی ہدایت کی تھی.

    سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے دفتر کے باہر کوریڈور کو بند کیا گیا اس پر سینیٹرز کو بھی اعتراض ہے کیونکہ ایسا نہیں کیا جانا چاہئے اس پر نور عالم خان نے کہا کہ اس کو بند نہیں ہونا چاہئے اور کوریڈور کو کوئی بھی بند نہیں کرسکتا ہے اس پر میں نے سیکرٹری سینیٹ سے بات بھی کی ہے. اس کے جواب میں سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس کے سیکرٹری زمہ دار نہیں ہیں جس کے بعد چیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے کوریڈور کھولنے کی ہدایت کردی اور کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی رکاوٹ ڈالے گا تو اس کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی،

    واضح رہے کہ اس سے قبل اجلاس میں پی اے سی چیئرمین نور عالم خان نے کہا تھا کہ جن افراد نے کسی دوسرے ملک سے وفاداری کا حلف لیا ہو، ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب کمیٹی کو بتایا گیا کہ امریکی شہریت کے حامل سہیل جہانگیر پاک افغان سرحد کے قریب ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہیں تو چیئرمین پی اے سی نے ریمارکس دیے کہ امریکی وفاداری کا حلف اٹھانے ولا شخص امریکی مفادات کے لیے نفع بخش ہوسکتا ہے۔ اجلاس کے دوران دوہری شہریت رکھنے والے افسران کے نام بھی پڑھ کر سنائے گئے۔

    پی اے سی کو بتایا گیا تھا کہ نادرا میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فضا شاہد، ڈی جی عثمان چیمہ، ڈائریکٹرز وریام شفقت اور عمیر علی خان بھی آسٹریلوی شہریت کے حامل ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈی جی احمرین حسین، ڈائریکٹر سمیر خان، ڈپٹی ڈائریکٹر شاہد علی خان، منظور احمد خان، مکرم علی خان اور رجسٹریشن ایگزیکٹو حیان بھی برطانوی شہریت کے حامل ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سہیل ارشاد انجم امریکی شہری ہیں جب کہ ڈائریکٹر احمد کمال گیلانی کینیڈین شہریت رکھتے ہیں۔ جسکے بعد پی اے سی چیئرمین نے زور دے کر کہا تھا کہ اگر دہری شہریت والے افسران کو ملازمت سے برطرف نہیں کیا جا سکتا تو انہیں اہم اور حساس عہدوں سے ہٹایا جائے۔