Baaghi TV

Author: +9251

  • سیلاب اور بارشوں سے 481 ارب روپے کی فصلیں اور اجناس تباہ. رپورٹ

    سیلاب اور بارشوں سے 481 ارب روپے کی فصلیں اور اجناس تباہ. رپورٹ

    پاکستان میں سیلاب کے باعث بارشوں سے 481 ارب روپے کی فصلیں اور اجناس تباہ ہوگئیں.

    حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث پاکستان میں فصلوں اور اجناس کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب تک 481 ارب روپے کی فصلیں و اجناس تباہ ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث ہر طرف تباہی اور قیامت صغرا کے مناظر دیکھنے کو نظر آرہے ہیں، ان کی تباہ کاریوں میں فصلوں اور اجناس کی تباہی بھی شامل ہے جو ملک میں غذائی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 481 ارب روپے کی فصلیں اور اجناس تباہ ہوچکی ہیں جس سے متعلق وفاق نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب ،بارشوں کے باعث اربوں روپے کی فصلیں،فروٹ ،سبزیاں اور اجناس تباہ ہوئیں۔ سیلاب کے باعث کپاس ،چاول ،مکئی ،دالوں ،آلو ،پیاز ،ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں نقصان پہنچا جب کہ گنے، گندم ، مرچ ،تمباکو ،سیب ،انگور ،لہسن، فروٹ ،تیل کی بیج ،انار ،جوار ،باجرہ ،خربوزے کی فصل کو بھی نقصان پہنچا۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کے باعث اب تک 239 ارب41 کروڑ 64 لاکھ روپے کی کپاس تباہ ہوچکی ہےجب کہ 70 ارب 89 کروڑ 44 لاکھ روپے کی چاول کی فصل تباہ ہوئی۔

    دستاویزات کے مطابق 31 ارب 91 کروڑ 46 لاکھ روپے کی پیاز کی فصل، 23 ارب 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کی کھجور کی فصل، 12 ارب 56 کروڑ 56 لاکھ روپے کے انار کی فصل، 13 ارب 59 کروڑ 60 لاکھ روپے کا ٹماٹر تباہ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث 20 ارب 56 کروڑ 26 لاکھ روپے کی گنے کی فصل،15 ارب 45 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مرچ، 8 ارب 8 کروڑ 50 لاکھ روپے کی سبزیاں تباہ ہوئی جب کہ ایک ارب ایک کروڑ 51 لاکھ روپے کی دال مونگ تباہ ہوئی اور 75 کروڑ 51 لاکھ روپے کی دال ماش، اسی طرح 43 کروڑ 7 لاکھ روپے کی دال موٹھ کو نقصان پہنچا۔

  • ایان علی ٹویٹر سپیس میں میں عمران خان پر برس پڑیں

    ایان علی ٹویٹر سپیس میں میں عمران خان پر برس پڑیں

    منی لانڈرنگ جیسے کیس کو بھگتنے والی ماڈل ایان علی کافی برس کے بعد اب منظر عام پر آئی ہیں ایان علی آج کل ٹویٹر پر کافی ایکٹیو رہتی ہیں اور کیس کے دوران انہوں نے کیا مصائب جھیلے کس طرح اپیلیں کیں کس طرح کیسز جیتے اس پر ٹویٹس لکھتی رہتی ہیں. ایان علی اکثر و بیشتر ٹویٹر سپیسز میں گفتگو کرتی ہوئی سنائی دیتی ہیں وہ سیاست کے بارے میں کافی میچور گفتگو کرتی ہیں. گزشتہ روز انہوں نے ایک ٹویٹر سپیس میں گفتگو کی. انہوں نے کہا کہ مجھ پر باراں کیس ہوئے سب کیس میں نے جیتے ، اس دوران مجھ پہ یا میری فیملی پر جو گزری وہ میں جانتی ہوں

    یا میری فیملی جانتی ہے. ایان علی نے کہا کہ لوگوں کو جو تاثر ہے کہ میں نوازشریف کی سپورٹر ہوں ایسا نہیں ہے حالانکہ مجھ پر تمام کیسز نوازشریف کے دور میں ہوئے ، صرف اس وجہ سے میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ ن لیگ اچھی سیاسی جماعت نہیں ہے یا میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس جماعت نے پاکستان کی خدمت نہیں کی. سچ تو یہ ہے کہ نوازشریف کے دور میں بہت زیادہ کام ہوئے انہوں نے پاکستان کی صحیح معنوں میں خدمت کی، پیپلز پارٹی نے بھی کام کیا لیکن عمران خان نے کیا کیا، صرف نفرت پھیلائی ہے؟ انہوں‌نے چار سال میں ملک کی بہتری کے لئے کیا کیا؟ سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے. مجھے ایسے لوگ اچھے نہیں لگتے جو نفرت پھیلاتے ہیں.

  • پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 11 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا آئی ڈیز بلاک کردیں

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 11 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا آئی ڈیز بلاک کردیں

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرغیر قانونی مواد اوراداروں کے خلاف منفی مہم میں ملوث11 لاکھ سے زائد آئی ڈیز بلاک کردی گئیں۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر قانونی مواد اور اداروں کے خلاف منفی مہم میں ملوث 11 لاکھ 35 ہزارسے زائد آئی ڈیز بلاک کردی ہیں۔ دستاویز کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو 12 لاکھ سے زائد شکایات موصول ہوئی تھیں، اور سب سے زیادہ 1 لاکھ 34 ہزار شکایات فیس بک پوسٹ کیخلاف ملیں۔ دستاویز کے مطابق پی ٹی اے نے فیس بک پر1 لاکھ 12 ہزار سے زائد جعلی آئی ڈیز کو بلاک کردیا۔

    پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی ویڈیوز کیخلاف 65 ہزار 122 شکایات ملیں، جن میں سے 63 ہزار غیر اخلاقی ویڈیوز بلاک کی گئیں۔ پی ٹی اے دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ٹوئٹر پر بھی 63 ہزار شکایات موصول ہوئیں، جس پر کارروائی کرتے ہوئے 50 فیصد مواد ہٹایا گیا، اور 31 ہزار 860 آئی ڈیز بلاک کردی گئیں۔ پی ٹی اے دستاویز کے مطابق یوٹیوب نے 36 ہزار ویڈیوز اور لائیکی نے بھی 900 سے زائد آئی ڈیز کو بلاک کیا ہے۔

    سوشل میڈیا کیا ہے؟
    سوشل میڈیا ایک کمپیوٹر پر مبنی ٹکنالوجی ہے جو ورچوئل نیٹ ورکس اور کمیونٹیز کی تعمیر کے ذریعے نظریات ، خیالات اور معلومات کو شیئر کرنے میں سہولت فراہم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا انٹرنیٹ پر مبنی ہے اور صارفین کو ڈیٹا کی فوری الیکٹرانک مواصلت فراہم کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا مختلف اقسام پر مشتمل ہوتا ہے جس میں تصاویر، ویڈیوز ، پرسنل معلومات اور دیگر دستاویزات بھی شامل ہیں ۔ انٹرنیٹ یوزرز مختلف ویب سائٹس اور اپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی سمارٹ فون یا کمپیوٹر کے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔ انڈونیشیا جیسے ایشیائی ممالک سوشل میڈیا کے استعمال کی فہرست میں سب سے آگے ہیں۔ 3.8 بلین سے زیادہ افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ سب سے بڑے نیٹ ورکس میں فیس بک ، انسٹاگرام ہے۔

  • مشی خان نے کن لوگوں کو پھانسی دینے کی بات کر دی؟

    مشی خان نے کن لوگوں کو پھانسی دینے کی بات کر دی؟

    اداکارہ مشی خان جو کہ سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو رہتی ہیں انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر اپنی ایک وڈیو جاری کی ہے جس میں انہوں نے لاہور میں کتوں پر ہونے والے ظلم پر افسوس کا اظہار کیا ہے. مشی خان اس وڈیو میں کہہ رہی ہیں کہ ” میں اس وقت جس طرح سے خاموش بیٹھی ہوئی اور اپنے غصے کو دبا کر بیٹھی ہوئی ہوں اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا. لاہور میں نوری بٹ صاحبہ کے ڈاگ شیلٹر ہوم میں کچھ لوگ گھسے اورشیلٹر ہوم کی دیوار توڑ دی . اندر موجود کتے اور کتے کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ڈنڈے اور پتھر دیکر مار دیا یہاں تک کہ ان کو پھانسی بھی دی گئی یہ کتے یہاں خاموشی سے رہتے تھے کسی کو کچھ نہیں تھے لیکن ان پر اتنا ظلم کیا گیا. کاش مجھے وہ لوگ مل جائیں جنہوں نے بے زبان جانوروں پر

    اس قدر ظلم کیا ہے مجھے یہ لوگ ایک بار مل جائیں سہی میں ان کو رسیوں سے باندھ کر ماروں ان کو پھانسی دوں.میرا خون بہت زیادہ خول رہا ہے ایسا ظلم کرنے والوں کو اللہ موت دے اور سسکیوں والی موت دے. جس ملک میں اتنا ظلم ہوتا ہو وہاں کیا کسی کا اچھا ہو گا. مت کریں ایسا، ایسا کرنے والوں پر اللہ کا عذاب آئیگا خدا کا خوف کھائیں. یوں مشی خان نے کتوں کو بے ردردی سے موت کے گھاٹ اتارنے پر غصے کا کیا اظہار.

  • سیلابی صورتحال میں حکومتی ذمے داریاں

    سیلابی صورتحال میں حکومتی ذمے داریاں

    پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے پیش نظرفرانس اور پاکستان نے معیشت کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    منگل کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات ہوئی جس کے بعد اسلام آباد اور پیرس سے ایک ساتھ جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے ،موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں اس کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر بحال کرنے اور اس کی تعمیر نو میں مدد کے لیے بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق فرانس اس سال کے اختتام سے قبل متعلقہ بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو میں حصہ ڈالنا، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق فنانسنگ اور قابل تجدید توانائی کی منتقلی کو تیز کرنے کے لیے اس کی مدد کرنا ہے۔

    اسلام آباد میں وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے فرانسیسی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فرانس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور یورپی یونین کے تناظر میں اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، آئی ٹی، دفاع، سلامتی، اعلیٰ تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جی ایس پی پلس کے لیے فرانس کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس سے یورپی یونین کے ساتھ ساتھ فرانس کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات بڑھانے میں بھی مدد ملی ہے۔

    وزیراعظم نے فرانس کے صدر کو پاکستان میں بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں اور سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے سیلاب متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی اور امداد جس میں خیمے، واٹر پمپ ، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل کی ٹیم بروقت بھجوانے پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ فرانس بحالی اور تعمیرنو کے مرحلہ میں بھی حکومت پاکستان کی کوششوں میں تعاون کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا کردار نہ ہونے کے باوجود پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ ہے، جیسا کہ حال ہی میں سیلاب سے ظاہر ہوا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کرہ ارض جل رہا ہے اور اس سے لگی آگ میں لوگ بھسم ہورہے ہیں،80 فیصد زہریلی گیسوں کے ذمے دار جی۔20 ممالک جب کہ ان کے بدترین اثرات پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ملک بھگت رہے ہیں۔ ایک ایڈیٹوریل کے مطابق: منگل کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے77 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے ترقی یافتہ ممالک، عالمی مالیاتی اداروں اورFOSSIL ایندھن کی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کی بدترین تباہ کاریوں کا ازالہ کرنے کے لیے ترقی پذیر ملکوں خصوصاً پاکستان کی مدد کریں جس کا پورے برطانیہ کے برابر علاقہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔انتونیوگوتریس نے کہا کہ انھوں نے خود پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابوں سے ہونے والی تباہی کا مشاہدہ کیاہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا بحران اخلاقی اورمعاشی عدم مساوات کے لیے ایک اسٹڈی کیس ہے جو ترقی پذیر دنیا کے ساتھ روا رکھا جارہاہے۔

    ہالی ووڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کی خصوصی سفیر انجلینا جولی ایک بار پھر پاکستان پہنچ گئیں،انھوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا، سیلابی صورتحال کاجائزہ لینے کے لیے کشتی کا بھی استعمال کیا،انجلینا جولی نے متاثرہ خواتین سے ان کی ضروریات اور مسائل پر بات کی،انجلینا جولی اس سے قبل 2010 کے سیلاب اور 2005 کے زلزلے کے متاثرین سے ملاقات کے لیے بھی پاکستان آچکی ہیں۔

    دریں اثنا ایشیائی ترقیاتی بینک نے حکومت پاکستان کی سیلاب متاثرین اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ہنگامی امدادی کاموں میں مدد کے لیے 30لاکھ ڈالر کی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے، یہ گرانٹ کاشت کاروں کی فصلوں کے نقصانات کے ازالے،بنیادی ڈھانچہ کی دوبارہ تعمیر نو اور متاثرین کی آباد کاری کی مد میں فراہم کی جائے گی۔

    موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے اثرات اور پاکستان میں آنے والے سیلاب کا آپس میں گہرا تعلق ہے‘ یہ پوری دنیا کے لیے ایک اشارہ ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک شدید طور پر متاثر ہو سکتا ہے تو ترقی یافتہ ممالک جن کا ان موسمیاتی تبدیلیوں میں بنیادی کردار ہے‘ بھی مستقبل میں ان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں اور وہاں بھی سیلابی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

    لہٰذا ترقی یافتہ دنیا کو اس سیلابی صورت حال کو صرف پاکستان کا مسئلہ ہی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ابھی سے اس سے بچاؤ کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ عالمی ادارے ’’جرمن واچ‘ نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے جائزے پر مبنی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ کے موسمیاتی ادارے کی تحقیق کے مطابق موسموں کی شدت میں پاکستان اور بھارت میں ریکارڈ ٹوٹنے کے امکانات سو گنا سے بھی زیادہ ہوچکے ہیں۔ ان رپورٹوں اور جائزوں سے یہ صورت حال واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے اثرات اب رکنے والے نہیں اور مستقبل میں ہمیں ان اثرات سے پیدا ہونے والی آفات کا مسلسل سامنا رہے گا۔

    یہ صورت حال زیادہ تشویشناک ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں تو بنیادی کردار ترقی یافتہ ممالک کا ہے جب کہ وہ ممالک جن کا اس میں کردار بہت معمولی ہے وہ موسمیاتی آفات کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ اس وقت تو حکومت اور عالمی ادارے سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کر رہے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں رپورٹوں سے مستقبل میں آنے والی موسمیاتی آفات کے خدشے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

    کیا حکومت مستقبل میں آنے والے کسی بھی ممکنہ سیلاب کے موقع پر یونہی عالمی اداروں سے امداد کی طلب گار رہے گی۔امداد کا حصول اور سیلاب متاثرین کی بحالی تو وقتی حل ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں سیلاب سے پیدا ہونے والے خوفناک اثرات سے بچاؤ کے لیے آبی ذخائر کی تعمیر اور دیگر منصوبوں پر توجہ دی جائے۔

    کالا باغ ڈیم کو سندھ اور خیبرپختونخوا سے مشورے کے بعد تعمیر کیا جا سکتا ہے صوبے اپنی متفقہ رائے سے ڈیم کی اونچائی کا تعین کریں‘ ڈیم کی تعمیر سے سندھ اور خیبرپختونخوا کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا‘ نئی نہریں تعمیر ہونے سے جہاں پانی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی وہاں زرعی شعبے کو بھی ترقی ملنے سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے‘ سندھ کے بنجر علاقوں میں فصلیں لہلہانے لگیں گی اس کے علاوہ سیلاب سے پیدا ہونے والے خوفناک اثرات میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔

    اس وقت جب ملک میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے سیاستدانوں کا کردار قابل رشک ثابت نہیں ہوا‘ اپوزیشن اور حکومت میں شامل جماعتیں اس نازک وقت میں متحد ہو کر ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کے بجائے باہم دست و گریبان ہیں۔ اگر اس وقت اپوزیشن اور حکومت میں شامل جماعتیں متحد ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تو اس سے پوری دنیا میں خوشگوار پیغام جائے گا اور عالمی ادارے بھی پاکستان کی مدد کے لیے زیادہ سرگرمی سے اپنا کردار ادا کریں گے۔

    دوست ممالک اور عالمی برادری کی طرف سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے دی جانے والی امداد قابل ستائش ہے‘ حکومتی قیادت کو بھی اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ یہ وقت سیاسی لڑائی جھگڑوں میں الجھنے کا نہیں بلکہ سیلاب زدگان کی امداد اور فوری بحالی کا ہے‘ سیاستدانوں کی ایک تعداد کافی خوشحال ہے اگر وہ سب متحد ہو کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں تو اس سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں‘ ابتلا اور آزمائش کی اس گھڑی میں انھیں عوام کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

    ماضی میں پاکستان میں سب سے بڑا سیلاب 2010میں آیا تھا اب 2022میں اس سے بڑا سیلاب آیا ہے‘ اب مزید کسی سیلاب کا انتظار کرنے کے بجائے حکومت کو اس سے بچاؤ کے لیے ممکنہ ذرائع کو بروئے کار لانا چاہیے اور جن ممالک نے سیلاب سے بچاؤ کے لیے جدید ذرائع استعمال کیے ہیں ان سے بھی مستفید ہوا جائے۔

  • دوست دوست کے، میاں بیوی کے بیوی میاں کے راز کھول رہے ہیں ارسلان نصیر جذباتی ہو گئے

    دوست دوست کے، میاں بیوی کے بیوی میاں کے راز کھول رہے ہیں ارسلان نصیر جذباتی ہو گئے

    سوشل میڈیا کی وجہ سے کوئی بھی معاملہ منٹوں اور سکینڈوں میں وائرل ہو جاتا ہے. گزشتہ روز آئمہ بیگ کی آڈیو کال اور پھر فیروز خان اور انکی اہلیہ کی پوسٹیں اور عدالتی کاروائی سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی. ارسلان نصیر ایسے معاملات پر بول پڑے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ” لڑکی لڑکے کو ایکسپوز کررہی ہے، لڑکے کے دوست لڑکی کو ایکسپوز کررہے ہیں، بیوی شوہر کو ایکسپوز کررہی ہےشوہر کے دوست بیوی کو ایکسپوز کررہے ہیں اور ہم سب بیٹھ کر مزے لے رہے ہیں، اوروں کے پردے قائم رکھو تاکہ اللہ تمہارے پردے قائم رکھے” ارسلان نصیر سوشل میڈیا پر چلنے والی کنٹرورسیز کے بعد

    لوگوں کا رویہ دیکھ کر ہیں کافی دل شکستہ اسی لئے انہوں نے اس قسم کی پوسٹ لگائی ہے اور لوگوں سے التجاء کی ہے کہ ایک دوسرے کے راز مت کھولیں اور بلکہ ایک دوسرے کےلئے آسانیاں پیدا کریں آپ کسی کے راز رکھیں گے تو خدا آپ کے رازوں پر پردہ رکھے گا. یاد رہے کہ آئمہ بیگ کی قیس احمد کے ساتھ آڈیو کال بھی منظم انداز میں لیک کی گئی جو کہ سوشل میڈیا کی زینت بن گئی اسی طرح سے فیروز خان اور ان کی اہلیہ کے درمیانی اختلافات طلاق تک کیوں پہنچے اس کا فیروز خان کی اہلیہ علیزے فاطمہ نے سوشل میڈیا پر خلاصہ کر ڈالا. سوشل میڈیا صارفین کو جیسے پہلے ہی کوئی بہانہ چاہیے کسی پر تنقید کرنے کا.

  • شوکت ترین مبینہ آڈیو لیک کے معاملے پر ایف آئی اے کے سامنے پیش

    شوکت ترین مبینہ آڈیو لیک کے معاملے پر ایف آئی اے کے سامنے پیش

    شوکت ترین ایف آئی اے سائبر کرائم کی انکوائری میں شامل

    تحریک انصاف دور کے وزیر خزانہ شوکت ترین مبینہ آڈیو لیک کے معاملے پر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوگئے۔ شوکت ترین گزشتہ روز خاموشی سے ایف آئی اے آفس آئے اور انکوائری ٹیم کے سوالات کے جواب دیئے۔ شوکت ترین سے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ایاز اور انکوئری افسر منیب احمد نے سوالات کئے۔ شوکت ترین سے ٹیلی فونک کال کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

    شوکت ترین ایف آئی اے کے سوالات اپنے ساتھ لے گئے اوروکیل سے مشورہ کرکے ان کے جوابات دیں گے۔ ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ضرورت پڑنے پر شوکت ترین کو دوبارہ بھی طلب کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت ترین اور تیمورسلیم جھگڑا کی مبینہ آڈیو کال کے معاملے پر ایف آئی اے نے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کو بدھ کی صبح 10 بجے اسلام آباد کے زونل آفس میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم شوکت ترین بدھ کی صبح پیش نہیں ہوئے جس کے بعد ان کو جمعرات کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

    ایف آئی اے کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ اگر شوکت ترین پیش نہ ہوئےتو ان کے خلاف دفعہ 174 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ چند ہفتے قبل شوکت ترین کی ایک مبینہ آڈیو لیک ہوئی جس میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور خیبرپختونخوا کے وزیر تیمور جھگڑا سے الگ الگ گفتگو کررہے تھے۔ مبینہ آڈیو کال میں شوکت ترین نے دونوں رہنماؤں کو آئی ایم ایف معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں مشورے دیئے تھے۔

    مبینہ ٹیلفونک گفتگو میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یہ جو آئی ایم ایف کو 750 ارب روپے کی کمٹمنٹ دی ہے آپ سب نے سائن کیا ہے، حکومت پردباؤ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف سے کہا جائے کہ آپ سے کمٹمنٹ سیلاب سے پہلے کی تھی، اب ہم سیلاب متاثرین پر پیسے خرچ کررہے ہیں، اس لئے ہماری لئے مشکلات ہوسکتی ہے۔ شوکت ترین نے صوبائی وزیرخزانہ کو زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اب آئی ایم ایف کو لکھنا ہے کہ اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، بس یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا۔

    صوبائی وزیرخزانہ محسن لغاری نے شوکت ترین سے دریافت بھی کیا کہ کیا اس سے ریاست کومشکل نہیں ہوگی۔ جس پر شوکت ترین نے پارٹی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے چئیرمین سے کس طرح ٹریٹ کررہی ہے، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ وہ ہم پر کیسز کرتے رہیں، بلیک میل کرتے رہیں اور ہم ان کی مدد کرتے رہیں۔
    اسلام آباد میں آڈیولیکس پرسابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے 22 کروڑعوام کی بات کی اور کوئی غداری نہیں کی۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ انھوں نے کسی انفرادی فائدے کیلئے کچھ نہیں کہا۔ سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے بھی تو آئی ایم ایف کے کاغذات پھاڑنے کی بات کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام ریورس کردیں گے۔

    واضح رہے کہ 31 اگست کو شوکت ترین کی مبینہ آڈیو لیک کے حوالے سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ سابق وفاقی وزیرخزانہ نے صوبائی وزرائے خزانہ سے ملکی مفاد کے خلاف گفتگو کی، ہم نے شوکت ترین، محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ رپورٹ آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، ریاست پاکستان کیخلاف جانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

  • چند مخصوص الفاظ پر مبنی صرف آدھی آڈیو پوسٹ کی گئی آئمہ بیگ

    چند مخصوص الفاظ پر مبنی صرف آدھی آڈیو پوسٹ کی گئی آئمہ بیگ

    نوجوان نسل کی نمائندہ گلوکارہ آئمہ بیگ کی حال ہی میں ایک آڈیو جاری ہوئی ہے جس میں وہ کسی سے بات کررہی ہیں. رپورٹس کے مطابق جب سے برطانوی ماڈل طلولہ مایر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی گلوکارہ آئمہ بیگ نے شہباز شگری سے منگنی کے باوجود میرے سابق بوائے فرینڈ قیس احمد سے تعلقات بنا کر اپنے منگیتر کو دھوکا دیا ہے تب سے سوشل میڈپا پر ایک ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے طوفان اُس وقت اٹھا جب برطانوی گلوکارہ نے آئمہ بیگ کی آڈیو لیک کر دی اس میں آئمہ اور قیس احمد بات کررہے ہیں. آئمہ بیگ کی آڈیو لیک کے بعد گزشتہ روز وہ ٹویٹر پر ٹرینڈ کرتی رہیں. سوشل میڈیا صارفین نے اپنے اپنے انداز میں کمنٹس کئے کسی نے آئمہ کو برا بھلا کہا تو کسی نے ان کو بےوفا کہا. آئمہ بیگ نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر تنقید کرنے والوں‌کو جواب دیا اور کہا کہ مخصوص الفاظ کے ساتھ میری آدھی آڈیو جاری کی گئی

    ہے. مجھ پر تیقند کرنے والوں‌کو پورا سچ تو پہلے جان لینا چاہیےتھا. میں نے تو کوشش کی کہ یہ معاملہ عزت کے ساتھ نمٹ جائے لیکن کچھ لوگ یہ نہیں چاہتے اگر میں نے منہ کھول دیا تو بہت سارے عزت دار لوگوں اور ان کی فیملیوں کے نام بھی اس میں آئیں گے اسلئے میری اب بھی کوشش ہے کہ میں خاموشی اختیار کروں. آئمہ بیگ نے کہا کہ سستی شہرت اور چند فالورز کے لئے میرے خلاف گندی مہم چلائی گئی ہے. اس مہم کی وجہ سے میں شدید ڈپریشن سے گزر رہی ہوں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے بعد مجھے لگتا ہے کہ اپنی محبت کے بارے میں کسی کو نہ بتائیں چاہے وہ آپ کے سگے ماں باپ ہی کیوں نہ ہو.

  • شیخ رشید نے وفاقی کابینہ کی تشکیل کواسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    شیخ رشید نے وفاقی کابینہ کی تشکیل کواسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    شیخ رشید احمد نے وفاقی کابینہ کی تشکیل کواسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے. عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وفاقی کابینہ کی تشکیل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

    شیخ رشید نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اسمبلی کے کل ارکان کے 11 فیصد ہی وزرا بن سکتے ہیں۔ آرٹیکل 92/1 کے تحت وفاقی کابینہ کی موجودہ تعداد غیر قانونی ہے۔ شیخ رشید نے وزرا اور معاونین کے عہدوں پر68تعیناتیوں کو کالعدم قرار دینے اور درخواست پر حتمی فیصلے تک وزرا اور معاونین کو کام سے روکنے کی استدعا کی۔ درخواست میں وفاق، وزیراعظم کو بذریعہ سیکرٹری اور وزارت قانون کو فریق بنایا گیا۔ کابینہ میں شامل تمام افراد کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اپنے ٹوئیٹر بیان میں آج کہا تھا کہ اسلام آباد 27 کلومیٹر کی بڑی جیل بن گیا ہے۔ یہ مصنوعی اقتدار کو بچانے کے لیے اپنے عوام پر ڈرون سے آنسو گیس کے گولے ماریں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ 72 میں سے 22 وزرا بےمحکمہ ہیں۔ اس پرہائیکورٹ میں رِٹ دائرکردی ہے۔غریب کوآٹانہیں مل رہایہ امریکا کے 7 اسٹارہوٹلوں میں سیر سپاٹے کررہے ہیں۔


    تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت 27 کلومیٹر کی ایک بڑی جیل بن گیا ہے۔ اور مصنوعی اقتدار کو بچانے کے لیے اپنے عوام پر ڈرون سے آنسو گیس کےگولے ماریں گے۔ جو سراسر ناانصافی اور ظلم ہوگا.

    سابق وزیر داخلہ شیخ‌ رشید احمد نے مزید کہا ہے کہ دنیا باتیں کررہی ہے،امدادنہیں دے رہی۔بندگلی میں جانا ہے یا الیکشن کراناہے،فیصلہ جلدہوجائےگا۔ مزید 2کروڑ لوگ خط غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔پیٹرول پر 2 ارب روزانہ غریب کی جیب سے خزانے میں جارہاہے۔ پہلےخزانے پرڈاکا مارتےتھےاب غریب کی جیب پر ڈاکا ماررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ فرانس سے بغل گیر ہونا اور اسرائیل میں وفد بھیجنا سوالیہ نشان ہے۔

    واضح رہے گزشتہ روز ریڈزون سیل کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے شیخ رشید نے کہا تھا کہ: ابھی عمران خان کی کال نہیں آئی،لیکن سینکڑوں کینٹینرزاسلام آباد آگئے ہیں۔30 ہزار کی نفری منگوائی گئی ہے۔رنجیت سنگھ کی سوچ اسلام آباد کو پانی پت کا میدان بناناچاہتی ہے۔27 کلومیٹر کی حکومت اپنے گرد خود سارے صوبوں کا حصار بنوانے کی ذمہ دار ہے۔عوام کا فیصلہ 2 ٹوک ہے، الیکشن کراؤ اورگھر جاؤ

  • فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کس اداکارہ کے باپ بن گئے؟

    فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کس اداکارہ کے باپ بن گئے؟

    پاکستان کے نامور اور نمبر ون فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی جو کہ ڈیزائنر ہونے کے ساتھ ساتھ ایکٹر بھی ہیں اور کبھی کبھی اداکاری بھی کرلیتے ہیں. وہ اب ایک بار پھر ہمیں چھوٹی سکرین پر دکھائی دیں گے. دیپک پروانی نے ڈرامہ سیریل ” یونہی ” سائن کر لیا ہے ڈرامے کی شوٹنگ بھی جاری ہے. ڈرامے میں بلال اشرف اور مایا علی مرکزی کردارں میں دکھائی دے رہے ہیں. اور دیپک پروانی مایا علی کے باپ کا کردار ادا کررہے ہیں جبکہ بلال اشرف کا یہ پہلا ٹی وی ڈرامہ ہے. یونہی ڈرامہ کی ڈائریکشن معروف فلمسازاور ڈرامہ نگار محمد احتشام الدین دے رہے ہیں ۔ احتشام الدین

    کا شمار منجھے ہوئے ڈائریکٹرز میں ہوتا ہے. احتشام الدین کی فلم دم مستم اس برس ریلیز ہوئی. یاد رہے کہ دیپک پروانی اس سے پہلے بھی ڈراموں میں کام کر چکے ہیں جن میں ڈرامہ سیریل کدورت اور سوتیلی قابل ذکر ہیں. ڈرامہ سیریل کدورت میں انہوں نے انجلین ملک کے مقابلے میں کام کیا تھا ان کے کام کو بے حد سراہا گیا.دیپک پروانی کہتے ہیں کہ جب انکا ریلیکس کرنے کو دل کررہا ہوتا ہے اس وقت وہ ڈرامہ کرلیتے ہیں. دیپک پروانی کے علاوہ بھی دیکھیں تو فیشن ڈیزائنر ایچ ایس وائے (حسن شہریار ) بھی اداکاری کے میدان میں قدم رکھ چکے ہیں انہوں نے بھی مایا علی کے ساتھ ڈرامہ سیریل پہلی سی محبت میں کام کیا تھا.