Baaghi TV

Author: +9251

  • سیلاب  سے تاریخ کی بدترین تباہی ہوئی لہذا 30 ارب ڈالر کی ضرورت ہے. وزیر خارجہ

    سیلاب سے تاریخ کی بدترین تباہی ہوئی لہذا 30 ارب ڈالر کی ضرورت ہے. وزیر خارجہ

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے تاریخ کی بدترین تباہی ہوئی، 30 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، عالمی برادری تعاون کرے۔

    غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کے باعث 3کروڑ پچاس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اب تک 1500سے زائد اموات ہوئیں،موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کا تعاون ناگزیر ہے۔ بلاول بھٹو نےکہا کہ پاکستان کو تقریبا ً 30ارب ڈالر امداد کی ضرورت ہے،سیلاب کے بعد صحت اور خوراک جیسے بحرانوں کا سامنا ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر پر غیر قانونی قابض ہے،بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 5اگست 2019کو بھارت نے یکطرفہ غیر قانونی اقدام اٹھایا،جموں و کشمیر کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی اقوم متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے،بھارت نے کشمیر میں مسلم اکژیت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو نےکہا کہ بھارت کی اسلاموفوبیا پر پالیسی کی وجہ سے مسلمان وہاں غیر محفوظ ہیں،بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں پر بھی ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کا بھارت سیکولر نہیں جیسا کے ان کے بانی رہنما چاہتے تھے،بھارت کے ساتھ اس وقت کسی قسم کے رابطے میں نہیں ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہے کہ پاکستان اکیلے سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے سے قاصر ہے،پوری دنیا کو ساتھ کھڑا ہوناہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نیویارک سے سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی ورلڈ بینک کے صدر سے ملاقات ہوئی ہے، انہیں سیلاب کی تباہ کاری سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا اور انہوں نے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    صدر ورلڈ بینک کو کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام پر بھرپور عملدرآمد کرےگا، انہیں بتایا کہ اکیلے سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے سے قاصر ہیں،پوری دنیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوناہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے احسن اقبال کو اسپورٹس کمپلیکس ریفرنس سےبری ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی۔

  • وفاقی حکومت کی نئی کاوش: پاکستانی اسکولوں میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا کورس کرایا جائے گا

    وفاقی حکومت کی نئی کاوش: پاکستانی اسکولوں میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا کورس کرایا جائے گا

    پاکستانی اسکولوں میں جانوروں کی فلاح و بہبود کا کورس کرایا جائے گا

    وفاقی حکومت کی جانب سے ملکی تاریخ میں پہلی بار اسکولوں میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کورس متعارف کروایا جارہا ہے، ابتداً یہ کورس صرف اسلام آباد کے طلبہ کو پڑھایا جائے گا۔ جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے مذکورہ کورس جانوروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا جو بچوں کو سکھائے گا کہ جانور رکھنا باعث تفریح نہیں بلکہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
    مزید یہ پڑھیں: ہمیں تونمک کی ایک چٹکی نہیں ملی،پتہ نہیں کہ عمران خان کے لائے گئے امدادی سامان کے 20 ٹرکوں کاسامان کہاں گیا ؟۔ سیلاب متاثرین
    پہاڑی سلسلوں سے پاکستان میں داخل ہونیوالے افغان باشندے گرفتار
    وزیراعظم کے اسٹریٹجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی نے توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کورس اسلام آباد کے تمام اسکولوں میں متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس خصوصی کورس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بچے ہمدردی کا مظاہرہ کریں اور جانوروں کے ساتھ انسانی رویہ اختیار کریں تاکہ وہ بہتر شہری بن سکیں۔

    سلمان صوفی کا کہنا ہے کہ مذکورہ کورس اسلام میں جانوروں کے حقوق اور دنیا بھر میں جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کی صحت کو یقینی بنانے کے طریقوں کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کورس میں بچوں کو پالتو جانور اور پاکستان میں پائے جانے والے جانور اور غیر ملکی جانوروں کے بارے میں بتایا جائے گا اور یہ بھی بتایا جائے گا کہ غیر ملکی جانوروں کو ان کے آبائی ممالک سے دور رکھنا کس طرح نقصان دہ ہے۔ یہ کورس ممکنہ طور پر اکتوبر کے آخر تک اسلام آباد کے تمام اسکولوں میں متعارف کروا دیا جائے گا۔

  • 27 کلومیٹر کی حکومت اپنے گرد صوبوں کا حصار بنوانے کی ذمہ دار خود ہے. سابق وفاقی وزیر

    27 کلومیٹر کی حکومت اپنے گرد صوبوں کا حصار بنوانے کی ذمہ دار خود ہے. سابق وفاقی وزیر

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ 27 کلومیٹر کی حکومت اپنے گرد صوبوں کا حصار بنوانے کی ذمہ دار خود ہے.

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ 27 کلومیٹر کی حکومت اپنے گرد خود سارے صوبوں کا حصار بنوانے کی ذمہ دار ہے، وقت آنے پر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاسکتی ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں سابق وزیرداخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آج 70 وزراء 2 کے اضافے کے بعد 72 ہوگئے ہیں، لوگ سیلاب اور ڈینگی سے مر رہے ہیں، اور یہ امریکا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کررہے ہیں۔


    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کہنا تھا کہ رات 2 بجے پیٹرول پر شب خون مارا گیا اور 1.50 روپے اضافہ کر دیا، ہر روز روپے کی قدر میں کمی، اجناس، پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، طاقتور بے قصور اور غریب قصوروار ٹھہرے ہیں، ہائی کورٹ نے پینا ڈول دلائی ہے اب آٹا بھی دلائے۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک تقرری سب پر بھاری ہوگئی ہے، اس کا فیصلہ ہونے والا ہے، کہ الیکشن کی طرف جانا ہے یا بند گلی میں، ابھی عمران خان کی کال نہیں آئی، سینکڑوں کینٹینرز اسلام آباد آگئے ہیں۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وفاقی کی جانب سے اسلام آباد میں 30 ہزار کی نفری منگوائی گئی ہے، رنجیت سنگھ کی سوچ اسلام آباد کو پانی پت کا میدان بناناچاہتی ہے، 27 کلومیٹر کی حکومت اپنے گرد خود سارے صوبوں کا حصار بنوانے کی ذمہ دار ہے۔ سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ وقت آنے پر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاسکتی ہیں، پی ڈی ایم الیکشن سے بھاگ رہی ہے جب کہ الیکشن ہی ملکی استحکام کا واحد حل ہے۔ عوام کا فیصلہ دو ٹوک ہے، الیکشن کراؤ اورگھر جاؤ۔

  • سیلاب کے باعث گزشتہ مالی سال معاشی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچنے کی توقع

    سیلاب کے باعث گزشتہ مالی سال معاشی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچنے کی توقع

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کردی ہے۔ موجودہ مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ جون میں افراط زر 21.3 فیصد تک پہنچ گیا جو کہ سال 2008 کے بعد مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے اور موجودہ مالی سال مہنگائی کا دباؤ بلند رہے گا، اس سال مہنگائی 18 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی ہے۔

    نجی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق: ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال معاشی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے جب کہ حکومت نے اس سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 5 فیصد مقرر کیا تھا۔ اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں تباہ کن سیلابوں نے ملک کے معاشی منظرنامے کو گہرے خطرات میں ڈال دیا ہے تاہم اندرونی اور بیرونی مالی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سخت پالیسی اقدامات کیئے گئے ہیں۔
    اے ڈی بی سیلاب سے ریلیف، بحالی اور تعمیر نو کا ایک پیکیج تیار کررہا ہے اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کیلئے مدد کی جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ سیلاب، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث معاشی شرح نمو میں کمی کا خدشہ ہے جب کہ پاکستان میں ڈبل ڈیجیٹ مہنگائی کی ایک وجہ موسمیاتی تبدیلی بھی ہے۔


    اے ڈی بی نے مستحکم معیشت کیلئے سیاسی استحکام کی بحالی پر زور دیا اور کہا کہ بحال شدہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے مسلسل نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ مالی سال لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوا جب کہ گزشتہ سال زرعی پیداوار بھی 4.4 فیصد زیادہ رہی۔
    اے ڈی بی نے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث اگلے سال زراعت کی ترقی معتدل رہنے کا امکان ہے اور اس سے خدمات کا سیکٹر، ہول سیل اور ری ٹیل تجارت متاثر ہوسکتی ہے۔ گزشتہ سال آخری سہہ ماہی میں مہنگائی تیزی سے بڑھی اور اس کی وجہ ایندھن اور بجلی پر سبسڈی کا خاتمہ اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی ہے۔

    پاکستانی معیشت سے متعلق مزید بتایا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور جون میں افراط زر 21.3 فیصد تک پہنچ گیا،سال 2008 کے بعد یہ مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے اور موجودہ مالی سال مہنگائی کا دباؤ بلند رہے گا، اس سال مہنگائی 18 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی ہے۔ سیلاب کےعلاوہ انتخابات قریب آتے ہی مہنگائی کی بلند شرح آؤٹ لک کیلئے منفی خطرات ہیں،خوراک اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں توقع سے زیادہ اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

  • عدالت نے نیب کے اپنے ہی افسران کے خلاف بنایا گیا ریفرنس خارج کردیا

    عدالت نے نیب کے اپنے ہی افسران کے خلاف بنایا گیا ریفرنس خارج کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کے اپنے ہی افسران کے خلاف بنایا گیا ریفرنس خارج کر دیا ہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب کے اپنے ہی افسران کے خلاف بنائے گئے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ نے ریفرنس خارج کرتے ہوئے مرزا شفیق، صبح صادق اور خورشید انور بھنڈر کے خلاف ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ عدالت کو مطمئن کریں کہ یہ کیس بنتا کیسے تھا؟ کیونکہ ملزمان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ادارے کے افسران ہوتے ہوئے کوئی غلط کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مس کنڈکٹ کا کیس بنتا تھا نیب قانون کے تحت جرم پھر بھی نہیں بنتا اور اختیار کا غلط استعمال از خود کوئی جرم نہیں ہے۔ بہت بڑا نقصان بھی ہو گیا ہو اگر کرپشن نہیں ہے تو جرم نہیں بنتا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ افسران پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تو پھر ان پر ریفرنس کیسے بنتا ہے؟ اور کیس میں تو نقصان کا الزام بھی نہیں، صرف مس کنڈکٹ کا کیس ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا نیب کے پاس اختیار ہے کہ اپنے آرڈیننس کو چھوڑ کر لوگوں کو خوار کرتا رہے؟ اور کیا سپریم کورٹ نے نیب کا اپنے اختیار سے نکل کر ریفرنس دائر کرنے کا کہا تھا؟ ان کیسز کے تحت اتنی مشکل کا سامنا کرنے والوں کا ازالہ کیا ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جس چیئرمین نے ریفرنسز کی منظوری دی تھی اس پر ہرجانے کا دعوی کرنا چاہیے۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جس چیئرمین نے ریفرنسز کی منظوری دی تھی اس پر ہرجانے کا دعوی کرنا چاہیے۔ عدالت کی جانب سے تینوں سابق افسران کی بریت کی درخواستیں منظور کر لی گئیں۔ واضح رہے کہ نیب راولپنڈی نے اختیارات کے غلط استعمال پر تینوں افسران کےخلاف ریفرنس دائر کر رکھا تھا۔

  • آج شوکت ترین ایف آئی اے پیش نہ ہوئے جس پر انہیں طلبی کا ایک اور نوٹس جاری کردیا گیا

    آج شوکت ترین ایف آئی اے پیش نہ ہوئے جس پر انہیں طلبی کا ایک اور نوٹس جاری کردیا گیا

    ایف آئی اے میں سابق وزیرخزانہ شوکت ترین طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے۔ ایف آئی اے نے شوکت ترین کو طلبی کا ایک اور نوٹس جاری کردیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت ترین اور تیمورسلیم جھگڑا کی مبینہ آڈیو کال کے معاملے پر ایف آئی اے نے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کو بدھ کی صبح 10 بجے اسلام آباد کے زونل آفس میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ شوکت ترین کو کل (جمعرات) کی صبح 11 بجے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے واضح کیا گیا کہ اگر شوکت ترین پیش نہ ہوئےتو ان کے خلاف دفعہ 174 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ چند ہفتے قبل شوکت ترین کی ایک مبینہ آڈیو لیک ہوئی جس میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور خیبرپختونخوا کے وزیر تیمور جھگڑا سے الگ الگ گفتگو کررہے تھے۔ مبینہ آڈیو کال میں شوکت ترین نے دونوں رہنماؤں کو آئی ایم ایف معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں مشورے دیئے تھے۔

    ٹیلی فونک گفتگو کی تھی ؟

    مبینہ ٹیلفونک گفتگو میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یہ جو آئی ایم ایف کو 750 ارب روپے کی کمٹمنٹ دی ہے آپ سب نے سائن کیا ہے، حکومت پردباؤ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف سے کہا جائے کہ آپ سے کمٹمنٹ سیلاب سے پہلے کی تھی، اب ہم سیلاب متاثرین پر پیسے خرچ کررہے ہیں، اس لئے ہماری لئے مشکلات ہوسکتی ہے۔
    شوکت ترین نے صوبائی وزیرخزانہ کو زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اب آئی ایم ایف کو لکھنا ہے کہ اب ہم یہ کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، بس یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا۔

    صوبائی وزیرخزانہ محسن لغاری نے شوکت ترین سے دریافت بھی کیا کہ کیا اس سے ریاست کومشکل نہیں ہوگی۔ جس پر شوکت ترین نے پارٹی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے چئیرمین سے کس طرح ٹریٹ کررہی ہے، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ وہ ہم پر کیسز کرتے رہیں، بلیک میل کرتے رہیں اور ہم ان کی مدد کرتے رہیں۔

    شوکت ترین کا ردعمل

    اسلام آباد میں آڈیولیکس پرسابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے 22 کروڑعوام کی بات کی اور کوئی غداری نہیں کی۔ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ انھوں نے کسی انفرادی فائدے کیلئے کچھ نہیں کہا۔ سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے بھی تو آئی ایم ایف کے کاغذات پھاڑنے کی بات کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام ریورس کردیں گے۔

    حکومت کا ردعمل

    31 اگست کو شوکت ترین کی مبینہ آڈیو لیک کے حوالے سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ سابق وفاقی وزیرخزانہ نے صوبائی وزرائے خزانہ سے ملکی مفاد کے خلاف گفتگو کی، ہم نے شوکت ترین، محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ رپورٹ آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، ریاست پاکستان کیخلاف جانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

  • کار کے خفیہ خانوں میں مہارت سے چھپائی گئی منشیات برآمد. ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس

    کار کے خفیہ خانوں میں مہارت سے چھپائی گئی منشیات برآمد. ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس

    ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس کا کہنا ہے کہ کار کے خُفیہ خانوں میں مہارت سے چھپائی گئی منشیات برآمد

    ترجمان اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف) کے مطابق اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ نے خفیہ اطلاع پر دو گاڑیوں کو روکا جن سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے ، منشیات کار کے خُفیہ خانوں میں مہارت سے چھپائی گئی تھی ۔ ترجمان کے مطابق گاڑیوں سے 45 کلو 60 گرام چرس 4 کلو ہیروئین اور 3 کلو 600 گرام افیون برآمد کی گئی ہے۔
    ترجمان اے این ایف کے مطابق کارروائی کے دوران 3 مُلزمان کو موقع پرگرفتارکر لیا گیاہے ۔ ملزمان کیخلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج مزید تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں.

    واضح‌رہے کہ گزشتہ روز اے ایس ایف ترجمان کا کہنا تھا کہ مسافر شبیر احمد نے ہیروئن بیگ کی تہہ میں مہارت سے چھپا رکھی تھی تاہم اے ایس ایف کے عملے نے سامان کی تلاشی کےدوران منشیات کی نشاندہی کی اورتلاشی کےدوران بیگ کی تہہ سے1.881 کلو گرام ہیروئن برآمد کرکےملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں: کراچی : کوریئرآفس میں کینیڈا کیلئے بُک پارسل سے منشیات برآمد،اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مسافر سے منشیات برآمد
    مسافر کے پیٹ سے چرس کے 110 کیپسول برآمد
    قبل ازیں انسداد منشیات فورس نے پاکستان سے جدہ جانے والے مسافر کے پیٹ سے 124 کیپسول برآمد کئے تھے اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار ہونے والے شخص کا تعلق چارسدہ سے تھا جو ہیروئن سے بھرے ہوئے 124 کیپسول پیٹ میں چھپا کر سعودی شہر جدہ لے جارہا رہا تھا۔ تاہم اس سے قبل بھی ائیر پورٹس سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) نے پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مسافر سے منشیات برآمد کرکے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ اے ایس ایف کے عملے نے اسلام آباد ائیر پورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر کے قبضے سے اعلیٰ کوالٹی کی 1.160 کلو گرام آئس ہیروئن برآمد کر لی گئی-

  • ملک سے جانے اور آنیوالے مسافروں کیلیے اب کرنسی سمیت ممنوع اشیا ڈکلیئر کرنا بھی لازمی قرار

    ملک سے جانے اور آنیوالے مسافروں کیلیے اب کرنسی سمیت ممنوع اشیا ڈکلیئر کرنا بھی لازمی قرار

    ملک سے جانے اور آنیوالے مسافروں کیلیے اب کرنسی سمیت ممنوع اشیا ڈکلیئر کرنا بھی لازمی قرار

    وفاقی حکومت نے پاکستان سے بیرون ممالک جانے اور پاکستان آنے والے مسافروں کیلیے بتدریج 5 ہزار اور 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی کرنسی اور دیگرممنوع سامان رکھنے پر کسٹمز ڈکلیئریشن لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔
    نجی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق اس حوالے سے کسٹمز رولز میں ترامیم کی جارہی ہیں۔ متعلقہ دستاویز کے مطابق ایف بی آرنے کسٹمز رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کرکے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے آرا کے لیے بھجوادیا ہے۔ اسٹیک ہولڈرز مجوزہ مسودے سے متعلق 7 دن کے اندر اپنی آرا ،اعتراضات و تجاویز دے سکتے ہیں۔

    دستاویز کے مطابق مقررہ میعادکے بعد موصول ہونے والی تجاویز کو منظور نہیں کیا جائے گا اور گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ترامیمی رولز لاگو کردیے جائیں گے۔ ایف بی آر نے مجوزہ ترامیمی رولز میں پاکستان آنے والے اور پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں کے لیے کسٹمز ڈکلیئریشن فارم کا مسودہ بھی ساتھ منسلک کیا ہے۔
    دستاویز میں درج ہے کہ پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں کو اپنے پاس موجود 5 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی کرنسی یا دیگر ممنوع اشیا کے بارے میں کسٹمز ڈکلیئریشن جمع کروانا ہوگا ۔ یہ کسٹمز ڈکلیئریشن بیرون ملک روانگی سے قبل الیکٹرانیکلی وی باک کے ذریعے بھی جمع کروایا جاسکے گا یا پھر روانگی کے موقع پر ائرپورٹ پر مینوئیلی جمع کروانا ہوگا ۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ 16 اگست کو حکومت نے بیرون ملک سے پاکستان آنے اور دیگر ممالک کو جانے والے تمام مسافروں کے لیے کرنسی ڈکلیئریشن لازمی قرار دیا تھا. حکومت نے منی لانڈرنگ پر قابو پانے کی کوششوں اور ایف اے ٹی ایف کی شرط پر عمل کا آغاز کیا تھا۔ اس سلسلے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایف بی آر کی ہدایت پر بین الاقوامی پروازوں کے تمام مسافروں کے لیے کرنسی ڈکلیئریشن کا نوٹی فکیشن کیا تھا.

    اس وقت کے سی اے اے کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق ڈکلیئریشن فارم پُر کر کے ائر لائن عملے کے حوالے کرنا ہو گا، جس میں مسافر کو ملکی و غیر ملکی کرنسی کی تفصیلات ظاہر کرنا ہوں گی۔اتھارٹی کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ائرلائنز کے ٹکٹ بکنگ دفاتر میں بھی کرنسی ڈکلیئریشن فارمز مہیا کیے جائیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مسافر پرواز کے لیے چیک اِن سے قبل فارم کسٹمز اسٹاف کو جمع کروائیں گے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ضوابط ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر آنے اور جانے والی پروازوں کے لیے لاگو کردیے ہیں۔ مسافر ڈکلیئریشن جمع کرائے بغیر طیارے پر سوار ہو سکیں گے اور نہ ہی ائرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ ملکی و غیر ملکی ائرلائنز، پائلٹس اور عملے کو کسٹمز ڈکلیئریشن فارم کی شقوں سے متعلق مکمل تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا۔ ڈکلیئریشن پُر نہ کرنے کی صلاحت رکھنے والے مسافروں کا فارم ائر لائن اسٹاف کی مدد سے پُر کیا جا سکتا ہے۔ ہوائی اڈوں پر کرنسی ڈکلیئریشن فارمز موصول کرنے کے لیے باقاعدہ کاؤنٹرز قائم کرنے کی بھی ہدایت جاری کردی گئی۔

  • اڈیالہ جیل، قیدی پر مبینہ تشدد کیس؛ وزارت انسانی حقوق اور کمیشن کو آج جیل کا دورہ کرنے کا حکم

    اڈیالہ جیل، قیدی پر مبینہ تشدد کیس؛ وزارت انسانی حقوق اور کمیشن کو آج جیل کا دورہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل میں قیدی پر مبینہ تشدد کی شکایت کا کیس کل تک ملتوی کرکے وزارت انسانی حقوق اور انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے کو آج جیل کا دورہ کرنے کا حکم دیدیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں اڈیالہ جیل میں قید شخص کے والدین کی درخواست پر مبینہ تشدد کے کیس پر سماعت ہوئی، اس دوران عدالت نے وزارت انسانی حقوق کو آج قیدی کا میڈیکل چیک اپ کراکر کل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزارت انسانی حقوق پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ صرف رپورٹوں پر بات نہیں ہو گی، اب تک وزارت انسانی حقوق نے عدالتی فیصلے کے تناظر میں کیا کیا ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور اڈیالہ جیل کے ایڈیشنل سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کاشف علی عدالت میں پیش ہوئے اور جج کو بتایا کہ 2019 سے چھ کیسز اس قیدی کے خلاف درج ہیں۔ عدالت کا ایڈیشنل سپریٹینڈنٹ اڈیالہ جیل سے استفسار کیا کہ کیا قیدی کو کسی کیس میں سزا ہوئی؟ جس پر جیل سپریٹنڈنٹ نے کہا کہ ابھی تک کسی کیس میں سزا نہیں ہوئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ قیدی کے حقوق اپنی جگہ ہیں اس کی والدہ نے سیریس الزام لگایا ہے کہ اس پر ٹارچر ہوا ہے جس کی تردید کرتے ہوئے کاشف علی نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق یہ ٹھیک ہے انگلی بھی ٹوٹی ہوئی نہیں ہے۔ عدالت نے انسانی حقوق کے نمائندے سے استفسار کیا کہ جیل ریفارم پر عمل درآمد کمیشن کا کیا بنا ؟ اور ملزم کی کل کی تصاویر بھی اڈیالہ جیل حکام نے عدالت کے سامنے پیش کردیں۔
    عدالت نے وزارت انسانی حقوق کے نمائندے سے مکالمہ کیا کہ انسانی حقوق وزارت کا پورے پاکستان کا دائرہ اختیار ہے، آپ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر رپورٹ بھی لے سکتے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے قیدی سے والدین نے کہا کہ یہ عدالت حراست کے دوران ٹارچر کو نظر انداز نہیں کرسکتی کیوں کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور کہا کہ اگر آپ کی بات غلط نکلی تو آپ کے بچے کےلیے اچھا نہیں ہوگا۔

    درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ قیدی پر تشدد ہوا ہے اور اس نے بھوک ہڑتال بھی کر رکھی ہے، جس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ جیل کے اندر بھی قیدیوں کے حقوق ہیں قانون کے مطابق ہی آپ نے چلنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس عدالت نے اس وقت کی حکومت کے پاس معاملہ بھیجا ابھی بھی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی ہیں، عدالت نے جیل حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا انڈر ٹرائل اور سزا یافتہ قیدیوں کو الگ کر دیا گیا ہے۔
    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ قیدی کا کنڈکٹ ٹھیک نا ہو پھر بھی آپ اسے مار نہیں سکتے اس کو روکنے کے اور طریقے ہیں، یہ ایک نہیں بلکہ اڈیالہ جیل سے متعلق بہت سیریس شکایات ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے وزارت انسانی حقوق اور انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے کو آج اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے اور میڈیکل ٹیم سے آج قیدی کا چیک اپ کرا کر کل تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

  • اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی ممکنہ احتجاج اور دھرنے کی کال کے باعث ریڈ زون سیل

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی ممکنہ احتجاج اور دھرنے کی کال کے باعث ریڈ زون سیل

    پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور دھرنے کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو کنٹینر رکھ کر سیل کرنا شروع کرد یا گیا۔

    ستمبر کے اخری ہفتے میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ممکنہ طور پر لانگ مارچ اور دھرنے کے پیش نظر وفاقی حکومت نے بھی تیاری پکڑ لی ہے۔ اسلام آباد میں احتجاج اور مظاہرین سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کے داخلی راستوں پر کنٹینرز لگانے کاعمل شروع کر دیا گیا ہے.
    انتظامیہ کےمطابق نادرا چوک کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ ڈی چوک کو بھی خاردار تاریں اور کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ حکومتی انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا ہے کہ حکومت ہوش کھو بیٹھی ہے۔ابھی تو اسلام آباد بند کرنے کی کوئی کال ہی نہیں دی ہے لیکن ابھی سے پورا شہر قلعہ بنا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اتنے خوفزدہ اور نالائق لوگ شاید ہی اسلام آباد نے پہلے کبھی دیکھے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کراؤ اور لوگوں کو فیصلہ کرنے دو۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے ستمبر کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ کر دھرنے میں تبدیل ہو جائے گا۔
    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے تیاریاں شروع کردی تھی. ذرائع کے مطابق صوبوں سے پولیس، رینجرز اور ایف سی کے 30 ہزار اہلکار طلب کر لیے گئے تھے. ذرائع کے مطابق صوبہ پنجاب سے 20 ہزار، صوبہ خیبر پختونخواسے 4 ہزار اور 6 ہزارنفری رینجرز کی بھی مانگی گئی تاکہ احتجاج کرنے والوں کو روکا جسکے اور یہی وجہ ہے ریڈ زون سیل کردیا گیا ہے.