Baaghi TV

Author: +9251

  • اڈیالہ جیل میں کرپشن اور قیدیوں پر ٹارچر کا انکشاف

    اڈیالہ جیل میں کرپشن اور قیدیوں پر ٹارچر کا انکشاف

    اڈیالہ جیل میں کرپشن اور قیدیوں پر ٹارچر کا انکشاف ہوا ہے.

    اڈیالہ جیل میں کرپشن اور حراست کے دوران قیدیوں پر ٹارچر کا انکشاف ہوا ہے، انسانی حقوق کمیشن نے رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اڈیالہ جیل میں قیدی پر ٹارچر کے خلاف کیس کی سماعت۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال اور جیل حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ وزارت انسانی قیدی کی جانب سے طبی معائنے کی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔
    مزید پڑھیں: سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال؛ عمران خان کو دوبارہ نوٹس جاری
    میں خوفزدہ ہوں اور اس معاملے پر بات کرنے کی حالت میں نہیں ہوں،طلاق کے بعد فیروز خان کا بیان
    اڈیالہ جیل کے قیدی پر جیل حکام کے ٹارچر کی بادی النظر میں تصدیق ہوگئی۔ انسانی حقوق کمیشن نے جیل حراست میں ٹارچر اور کرپشن کی نشاندہی بھی کرتے ہوئے رپورٹ پیش کردی۔ عدالت نے کہا کہ پمز کے ڈاکٹر نے قیدی کا طبی معائنہ کیا ، میڈیکل رپورٹ قیدی کے والدین کی شکایت کے ٹارچر کے الزام کو سپورٹ کرتی ہے، میڈیکل آفیسر نے بتایا کہ قیدی کے نشان ٹارچر کی وجہ سے بھی ہو سکتے ہیں ، بادی النظر میں میڈیکل رپورٹ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ظاہر کرتی ہے۔

    عدالت نے سیکرٹری انسانی حقوق کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جو پیسے دیتا ہے وہ جیل میں موبائل فون بھی استعمال کرتا ہے ملاقاتیں بھی کرتا ہے ، جو قیدی غریب ہو کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ ہائی کورٹ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو تنبیہہ کی کہ اگر کسی قیدی کی شکایت آئی تو عدالت بہت سیریس ایکشن لے گی، اب عدالت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائے گی۔

  • لاہور ہائی کورٹ نے عمر فاروق ظہور کیخلاف ایف آئی اے کی  عرضی خارج کردی

    لاہور ہائی کورٹ نے عمر فاروق ظہور کیخلاف ایف آئی اے کی عرضی خارج کردی

    لاہور ہائی کورٹ نے نارویجن پاکستانی تاجر عمر فاروق ظہور کیخلاف ایف آئی اے کی عرضی خارج کردی ہے

    لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج کے حکم کے خلاف دائر کی گئی عمر فاروق بارے رٹ پٹیشن کو خارج کر دیا ہے، قبل ازیں ایک مقامی مجسٹریٹ کی جانب سے نارویجن پاکستانی تاجر عمر فاروق ظہور کے خلاف جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ کو خارج کر دیا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں باغی ٹی وی نے ایک خبر دی تھی جس کے مطابق: اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا نے اپنے بہترین دوست سابق مشیر احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے گٹھ جوڑ سے اپنے سابق شوہر کے خلاف انتقامی مہم چلائی جبکہ دبئی میں مقیم پاکستانی نژاد نارویجین شہری عمر فاروق ظہور کے خلاف مہم کا بھانڈا عدالتی دستاویزات نے پھوڑ دیا تھا، تین ممالک کی عدالتوں نے عمر فاروق ظہور پر لگائے گئے الزامات ثابت نہ ہونے پر کیسز خارج کر دئیے تھے.

    علاوہ ازیں عمران خان کی حکومت کے طاقتور وزیر شہزاد اکبر نے انتقامی مہم کیلئے ایف آئی اے کو استعمال کیا تھا، گزشتہ کورٹ آرڈر کے مطابق ایف آئی اے نے عمر فاروق کے خلاف کارروائی کیلئے قانون کی بھی پرواہ نہ کی تھی. شہزاد اکبر اور ایف آئی اے لاہور کے سربراہ ڈاکٹر رضوان نے عمر فاروق کے خلاف کیس پر پوری قوت لگا دی تھی، ایف آئی اے نے عمر فاروق کے خلاف کارروائی کیلئے انٹرپول سے بھی جھوٹ بولا تھا، جبکہ جج غلام مرتضی ورک نے سارا پول کھول دیا تھا.

    تاہم اب لاہور ہائیکورٹ نے تفصیلی حکم نامے میں مشاہدہ کیا کہ عمر فاروق کے خلاف ایف آئی آر میں وارنٹ اس حقیقت کے باوجود جاری کیے گئے کہ مجسٹریٹ کی جانب سے انہیں دبئی میں غیر ملکی پتہ پر کوئی سمن یا نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا جہاں وہ اس وقت مقیم جیسے کہ قانون کی متعلقہ دفعات کے تقاضے ہیں. عدالت نے لاء آفیسر کے اعتراض کا بھی مشاہدہ کیا کہ فاروق ظہور ایف آئی اے کی جانب سے فاروق کے خلاف فوجداری مقدمے کے اندراج سے بہت پہلے ملک چھوڑ گیا تھا۔

    یادرہے کہ بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق ظہور کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی تھی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہد کی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا تھا. علاوہ ازیں ترک باشندے کی طرف سے لگائے گئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دے دیا تھا۔جبکہ مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس میں عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائے گئے۔

    اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔

    ے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    پیٹ کیسے کم کرنا ہے؟صوفیہ مرزا نے آسان حل بتادیا 
    شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے کی سازش رچی، ناکامی پر خود کو زخمی کر لیا صوفیہ مرزا

  • انجلینا جولی کی سیلاب زدگان کے ساتھ اظہار یکجہتی، ماہرہ خان سمیت نامور شوبز شخصیات کی ترجیحات پر سوال اٹھ گئے

    انجلینا جولی کی سیلاب زدگان کے ساتھ اظہار یکجہتی، ماہرہ خان سمیت نامور شوبز شخصیات کی ترجیحات پر سوال اٹھ گئے

    ہالی وڈ کی ادا کارہ اور اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر انجلینا جولی سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے پاکستان پہنچیں ہوئی ہیں. انجلینا متاثرین کی امداد اور حالات کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان آئیں ہیں. یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب انجلینا نے پاکستان کا رخ کسی مشکل وقت میں کیا ہے اس سے پہلے بھی وہ 2005 میں آنے والے زلزلے اور 2010 میں آنے والے سیلاب کے دوران پاکستان آئیں. انجلینا انسانیت کا درد رکھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی خصوصی طور پر پاکستان میں کوئی قدرتی آفت آتی ہے اور اس کے نتیجے میں مالی جانی نقصان بڑے پیمانے پر ہوتا ہے تو انجلینا لازمی طور پر اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کےلئے پاکستان پہنچتی ہیں. ان کے اس روپ کو بہت سراہا جاتا ہے. انجلینا

    جب بھی پاکستان آتی ہیں وہ پاکستان کے کلچر اور روایات کا خاص احترام کرتی ہوئی دکھائی دتی ہیں وہ شلوار قمیض زیب تن کرتی ہیں. اس بار بھی انہوں نے روایت قائم رکھی اور شلوار قمیض زیب تن کرنے کے ساتھ سر باقاعد دوپٹہ بھی لیا.سوشل میڈیا پر اسی ھوالے سے چند روز سے ایک بحث چل رہی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ اگر انجلینا جولی پاکستان میں آ سکتی ہیں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر سکتی ہیں تو ہمارے فنکار کیوں نہیں؟. سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ماہرہ خان، فواد خان ، راحت فتح علی خان ، ہمایوں سعید، عاطف اسلم ، آئزہ خان ، سجل علی، صبا قمر ، احد رضا میر، ریما ، کبرا خان ، فیصل قریشی، ندا یاسر، اقرا عزیز، احسن خان ، ساحر علی بگا ، ثنا جاوید، فہد مصطفی، شان کب سیلاب متاثرین کی داد رسی کریں گے ؟. یوں پاکستانی فنکار انجلینا جولی کی آمد کے بعد ہیں کافی زیادہ ترتنقید کی زد میں.

  • راولپنڈی میں گاڑی چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں جبکہ جدید سکیورٹی سسٹم بھی ناکام

    راولپنڈی میں گاڑی چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں جبکہ جدید سکیورٹی سسٹم بھی ناکام

    راولپنڈی میں گاڑی چوری کی وارداتیں بڑھ گئیں ہیں جبکہ جدید سکیورٹی سسٹم بھی ناکام ہوگیا ہے.

    دارالحکومت کے جڑواں شہر میں گاڑی چوری کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا جب کہ جدید گاڑیوں میں نصب سکیورٹی سسٹم کے توڑ کے لیے چور بھی جدید ڈیوائسز کا استعمال کرنے لگے۔ نجی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق ملزمان گاڑی چوری کی وارداتوں میں جدید ڈیوائسز کا استعمال کرکے ہر قسم کے ڈیجیٹل حفاظتی نظام کو جام کردیتے ہیں۔ چوروں نے گاڑی میں لگے سکیورٹی سسٹم، ٹریکرز، کی لیس انٹری اور پش اسٹارٹ جیسے حفاظتی نظام کو جام کرنے کی صلاحیت حاصل کررکھی ہے۔ حالیہ گرفتار گروہوں کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ چور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈیوائسز کے استعمال سے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں قیمتی گاڑی اُڑا لے جاتے ہیں۔ کار چوری کے ماہر ملزمان جدید ڈیوائسز سے لیس ہیں، جو گاڑی میں نصب جدید ٹریکنگ سسٹم سمیت کسی بھی قسم کے ڈیجیٹل لاک کو ناکارہ بنا کر گاڑی چوری کرتے ہیں۔
    مزید یہ پڑھیں: لاہور:خاتون کرائےدارکیساتھ اسلحہ کے زور پر زیادتی کرنیوالامالک مکان گرفتار
    ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ 561184 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا. نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر
    راولپنڈی پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق گاڑی چوری کی وارداتوں میں 10 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ پولیس نے رواں سال 1129 کار چور گرفتار کرکے 75 گاڑیاں اور 515 موٹرسائیکلیں برآمد کی ہیں۔ پولیس نے شہریوں کو ڈیجیٹل لاکس کے بجائے مینوئل لاک استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ دریں اثنا گاڑی چوری کی وارداتوں سے تنگ شہریوں نے پولیس سے سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ چوروں کے خلاف موثر کریک ڈاؤن کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ کار چوروں کے تعاقب میں ہے۔ وارداتوں میں ملوث گینگز پولیس سے بچنے کے لیے مختلف گیٹ ویز کا استعمال کرتے ہیں، جنہیں ٹریس کرنے کوشش کی جا رہی ہے۔

  • ہانیہ عامر اور فرحان سعید کی ڈانس ریہرسل وڈیو وائرل

    ہانیہ عامر اور فرحان سعید کی ڈانس ریہرسل وڈیو وائرل

    ڈرامہ سیریل ” میرے ہمسفر” سے مشہور ہونے والی جوڑی ہانیہ عامر اور فرحان سعید کی گزشتہ روز سے ایک وڈیو کافی وائرل ہے. گزشتہ رات ہانیہ عامر کے نام کا ٹرینڈ بھی اسی وڈیو کی وجہ سے چلتا رہا.وڈیو میں ہانیہ عامر اور فرحان سعید کو ڈانس کی ریہرسل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے . یہ ڈانس ریہرسل کشمیر ہم ایوارڈز کے لئے ہے. ہم ایوارڈز 24 ستمبر کو کینڈا میں ہونے جا رہے ہیں جس کے لئے ایوارڈز میں نا مزد شخصیات کینڈا پہنچ چکی ہیں.ہم ایوارڈز کی تیاری زوروں پر ہے اور جس جس نے بھی ایوارڈز میں پرفارمنس دینی ہے وہ تیاری میں لگا ہوا ہے. ایسی ہی تیاری فرحان سعید اور ہانیہ عامر بھی کررہے ہیں. دونوں کی ڈانس ڈیہرسل وڈیو کافی وائرل ہے اور دونوں کو ایک ساتھ پسند بھی بہت کیا جاتا ہے.ہم ایوارڈز

    میں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مزے مزے کی پرفارمنس دیکھنے کو ملیں گی اور لوگوں کے من پسند فنکاروں کو ایوارڈ سے نوازا جائیگا. یاد رہے کہ فرحان سعید اور ہانیہ عامر کی آن سکرین جوڑی کو ان کی بہترین کیمسٹری کی وجہ سے بے حد پسند کیا جاتا ہے دونوں کی جوڑی نے ڈرامہ سیریل میرے ہمسفر میں شائقین کے دل جیت لئے ہیں. شائقین دونوں کی ایکساتھ ہم ایوارڈز میں پرفارمنس دیکھنے کےلئے بیتاب ہیں. یہی وجہ ہے کہ گزشتہ رات ہانیہ عامر کا ٹرینڈ بھی چلتا رہا.

  • سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال؛ عمران خان کو دوبارہ نوٹس جاری

    سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال؛ عمران خان کو دوبارہ نوٹس جاری

    الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں سرکاری وسائل اور ہیلی کاپٹر کے بے دریغ استعمال پر عمران خان کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

    ضمنی انتخاب کی مہم میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور سرکاری مشینری کے استعمال کے معاملے پر سابق وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی خيبرپختونخوا محمود خان کے خلاف نوٹسز کی سماعت ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کی۔ عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن میں کوئی پیش نہیں ہوا، جب کہ وزیر اعلی کے پی محمود خان کی جانب سے ان کے وکیل پیش ہوئے۔

    وزیراعلیٰ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسی معاملہ پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر چارسدہ نے بھی نوٹس جاری کیا ہے، ایک وقت میں دو فورمز پر سماعت کیسے ہو سکتی ہے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ ہم نے مجموعی طور پر مختلف حلقوں میں خلاف ورزیوں پر نوٹس جاری کئے ہیں، سرکاری مشینری اور ہیلی کاپٹر کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے، تمام صوبائی سرکاری مشینری وزیر اعلی کے ہاتھ میں ہے۔ کمیشن نے عمران خان کی جانب سے کسی کے پیش نہ ہونے پر دوبارہ نوٹس بھجوانے کا حکم دیا اور سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

    عوامی جلسے اور الیکشن مہم کے دوران ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل کے استعمال پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 18 ستمبر کو سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو نوٹس جاری کئے تھے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عمران خان اور محمود خان کو منگل 20 ستمبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم بھی دیا تھا، تاہم عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کے سامنے کوئی بھی پیش نہیں ہوا، جس پر الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ این اے 24 چارسدہ میں جلسے کیلئے 17 ستمبر کو بذریعہ ہیلی لاپٹر پہنچے تھے۔ ڈی ایم او کا کہنا ہے کہ تمام امیدواروں کو یکساں ماحول میسر نہیں آرہا، کیوں نہ وزیر اعلیٰ کے پی پر ضمنی انتخاب کے دوران ہیلی کاپٹر کے استعمال پر پابندی لگادی جائے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے یہ بھی کہا کہ ایسی رکاوٹیں ڈالی گئیں تو کیوں نہ امیدوار کو نااہل کرنے کی سفارش کردی جائے؟۔ انہوں نے نوٹس میں ذاتی طور پر یا وکیل کے ذریعے جواب دینے کی ہدایت کی تھی۔

  • فیروز خان جسمانی تشدد کرتے تھے اہلیہ علیزے

    فیروز خان جسمانی تشدد کرتے تھے اہلیہ علیزے

    سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگا کر فیروز خان کی اہلیہ علیزے فاطمہ نے بتایا ہے کہ کیوں انہوں نے فیروز خان کے ساتھ علیحدگی کا فیصلہ کیا. انہوں نے لکھا ہے کہ ہماری چار سال کی شادی الجھنوں کا شکار رہی۔ اس عرصے کے دوران میں نے شوہر کی جانب سے مسلسل جسمانی اور نفسیاتی تشدد ، بے وفائی اور بلیک میلنگ کا سامنا کیا۔ علیزے کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر فیروز خان ان پر تشدد کرتا تھا چیختا چلاتا تھا. فیروز خان سے چار سال کی شادی کے تعلق میں ، میں اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ مجھے اپنے راستے الگ کر لینے چاہیں اور گھٹن زدہ زندگی سے نکل جانا

    چاہیے. میں پوری دندگی اس طرح کی خوفناک صورتحال کے ساتھ نہیں گزر سکتی تھی . میں اپنے بچوں کو ایک اچھا ماحول فراہم کرنا چاہتی ہوں ایسا ماحول کہ جس میں لڑائی جھگڑا ، مار پیٹ نہ ہو.میں اپنے بچوں کو سکھاﺅں گی کہ کوئی زخم اتنا گہرا نہیں ہوتا کہ مندمل نہ ہو سکے، کوئی زخم اتنا شرمناک نہیں کہ اسے تحفظ کی قیمت پر چھپایا جا سکے.انہوں نے مزید لکھا کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچے ایسے تشدد زدہ ماحول میں پرورش پائیں اس لئے مجھے یہی بہتر لگتا ہے کہ میں اس رشتے سے نکل جائوں۔
    یاد رہے کہ فیروز اور علیزہ نے 2018 میں شادی کی تھی، دونوں کے دو بچے ایک بیٹا اور بیٹی بھی ہیں۔

  • ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ 561184 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا. نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر

    ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ 561184 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا. نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر

    ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ 561184 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا.

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے اعلامیہ کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم کل 13093 کلومیٹر سڑکیں اور 392 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے مطابق: ملک بھر کے وہ اضلاع جن کی سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے ان میں سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلمگسی، بولان، صحبت پور اور لیسبیلہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خیبر پختون خواہ میں ضلع دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا بتانا ہے کہ: اب تک 604 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 20 پروازیں کی گئیں اور 19.1 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔ مزید یہ کہ اب تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4653 پھنسے ہوئے افراد کو بھی نکالا جا چکا ہے۔ جبکہ صحت کے حوالے سے اب تک 300 سے زیادہ میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں ملک بھر میں 561184 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے اور 3-5 دن کی مفت ادویات کی فراہمی بھی کی گئی ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا کہنا ہے کہ: پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 4885 خیمے، 463045 فوڈ پیکجز، 3273.35 ٹن راشن، 271843 لیٹر میٹھا پانی فراہم کیئے مزید یہ کہ پی اے ایف نے 45 میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں جہاں اب تک 63576 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ 19807 افراد کی رہائش کے لیے 20 ٹینٹ سٹی اور 54 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پی اے ایف نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 260 پروازیں کیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 103 افراد کو نکالا۔

    علاوہ ازیں: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہا ہے۔ کل کا ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت: نوکنڈی 40، سبی، روہڑی، دالبندین اور بھکر 39 ڈگری سینٹی گریڈ۔ جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ تاہم بالائی خیبرپختونخوا، گلگت اور کشمیر میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • کورونا وائرس سے مزید 2 مریض  انتقال کرگئے

    کورونا وائرس سے مزید 2 مریض انتقال کرگئے

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 2 مریض جان کی بازی ہار گئے۔

    قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ ) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2مریض کورونا وبا کا شکار بن گئے جب کہ 72 مریضوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔


    این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعداد شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 13 ہزار 945 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 121 افراد کے نتائج کا بطور کورونا مثبت کیس اندراج کیا گیا۔ قومی ادارۂ صحت کا مزید کہنا ہے کہ کورونا وبا کے شکار 72 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 0.87 فی صد ریکارڈ کی گئی۔

    کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

    یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟
    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • توہین عدالت کیس: کیا عمران خان پر آج فرد جرم عائد کردی جائے گی؟

    توہین عدالت کیس: کیا عمران خان پر آج فرد جرم عائد کردی جائے گی؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج ہوگی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج ڈھائی بجے ہوگی۔ توہین عدالت کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے۔ عمران خان کی پیشی اور فرد جرم عائد کیے جانےکے باعث اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔کمرہ عدالت نمبر ایک میں اینٹری رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہو گی۔

    آج دوپہر ڈھائی بجے شروع ہونے والی سماعت کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ وکلاء، اعلی افسران اور صحافیوں کا کمرہ عدالت میں داخلہ خصوصی پاس سے مشروط ہےم جو رجسٹرار آفس نے محدود پیمانے پر جاری کیے ہیں۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ سماعت پر توہین عدالت کی اقسام کی مثالیں دے کر وضاحت کی تھی۔ اور انہوں نے کہا تھا کہ توہین عدالت تین قسم کی ہوتی ہے، جیسے کہ فردوس عاشق اعوان کیس میں بیان کیا گیا ہے، یعنی جوڈیشل، سول اور کرمنل توہین۔ انہوں نے مزید کہا کہ دانیال عزیز اور طلال چوہدری کی کرمنل توہین نہیں تھی۔ جبکہ ان کے خلاف عدالت کو سکینڈلائز کرنے کا معاملہ تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ سب سے سنگین کرمنل توہین ہوتی ہے اس میں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’میرا ایسا کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ کرمنل توہین میں ارادہ معنی نہیں رکھتا۔ عمران خان کا کیس کرمنل توہین کے زمرے میں آتا ہے۔‘

    انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق: سابق وزیراعظم عمران خان نے 20 اگست کی شب ایف نائن پارک میں دوران تقریر ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری، آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کو نام لے کر دھمکایا تھا، جس کے بعد حکومت اور پولیس کی جانب سے سخت مذمت کرتے ہوئے مجسٹریٹ کی مدعیت میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں، لیکن خاتون جج کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23 اگست کو معاملے کا نوٹس لے کر عمران خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا تھا۔ 31 اگست کو توہین عدالت کی پہلی سماعت میں جمع کروائے گئے بیان پر عدالت مطمئن نہ ہوئی اور عمران خان کے وکیل حامد خان سے عدالت نے کہا کہ ’سوچ کر دوبارہ جواب داخل کریں۔ اگر آج اس جواب میں غیرمشروط معافی کے الفاظ ہوتے تو عدالت آج ہی یہ کیس ختم کر دیتی۔‘

    آٹھ ستمبر کو دوسری سماعت میں جمع کروائے گئے جواب میں بھی معافی نہیں مانگی گئی بلکہ کہے گئے الفاظ پر وضاحت دینے کی کوشش کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر دیا اور مزید دو ہفتے کا وقت دیتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ دے دی۔ لیکن ان دو ہفتوں میں بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی جانب سے کوئی معافی نامہ جمع نہیں ہوا۔ دونوں سماعتوں میں عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے۔ دوسری سماعت میں انہوں نے سماعت کے اختتام پر عدالت سے بات کرنے کر کے اپنا موقف دینے کی کوشش کی لیکن عدالت نے کہا کہ آپ کا موقف آپ کے وکیل دے چکے ہیں۔