Baaghi TV

Author: +9251

  • سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے امدادی کاروائیاں جاری ہیں. نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر

    سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے امدادی کاروائیاں جاری ہیں. نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے اعلامیہ کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم کل 12716 کلومیٹر سڑکیں اور 374 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کے مطابق: ملک بھر کے وہ اضلاع جن کی سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے ان میں سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹھہ اور بدین شامل ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے اضلاع میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھلمگسی، بولان، صحبت پور اور لیسبیلہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خیبر پختون خواہ میں ضلع دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈی آئی خان اور پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور شامل ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا بتانا ہے کہ: اب تک 584 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10 پروازیں کی گئیں اور 15.7 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔ مزید یہ کہ اب تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4653 پھنسے ہوئے افراد کو بھی نکالا جا چکا ہے۔ جبکہ صحت کے حوالے سے اب تک 300 سے زیادہ میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں ملک بھر میں 560,802 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا ہے اور 3-5 دن کی مفت ادویات کی فراہمی بھی کی گئی ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈینیشن سنٹر کا کہنا ہے کہ: پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 4885 خیمے، 463045 فوڈ پیکجز، 3273.35 ٹن راشن، 271843 لیٹر میٹھا پانی فراہم کیئے مزید یہ کہ پی اے ایف نے 45 میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں جہاں اب تک 63576 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ 19807 افراد کی رہائش کے لیے 20 ٹینٹ سٹی اور 54 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پی اے ایف نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 260 پروازیں کیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 103 افراد کو نکالا۔

    علاوہ ازیں: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہا ہے۔ کل کا ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ درجہ حرارت: نوکنڈی 40، سبی، روہڑی، دالبندین اور بھکر 39 ڈگری سینٹی گریڈ۔ جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ تاہم بالائی خیبرپختونخوا، گلگت اور کشمیر میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • عدالت نے شہباز گل کی آج حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے شہباز گل کی آج حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی

    عدالت نے رہنماء پی ٹی آئی شہباز گل کی آج حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی ہے.

    اداروں میں بغاوت پر اُکسانے کے الزام کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں ہوئی، جہاں پولیس نے چالان جمع کروا دیا جب کہ عدالت نے شہباز گل کی آج حاضر ی معافی کی درخواست منظور کرلی ہے.
    کیس میں پی ٹی آئی رہنما شہباز گل ضمانت پر ہیں۔ سماعت کے دوران شہباز گل کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے عدالت میں درخواست دی کہ شہباز گل کی تمام دستاویزات پولیس قبضے میں ہیں، حوالے کی جائیں، جس پر عدالت نے سامان کی سپرداری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ نے پی ٹی آئی رہنما کے ٹرائل کے لیے کیس فائل سیشن جج کو بھیج دی۔ شہباز گل کے خلاف اداروں میں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں مزید سماعت اب 24 ستمبر کو ہوگی۔ یاد رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا کیا گیا تھا تاہم شہباز گل کی رہائی کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی جنہوں نے ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں تھیں اور نعرے بازی بھی کی تھی.

    اس موقع پر شہباز گل سے جب ذرائع ابلاغ کے نمائندگان نے گاڑی روک کر بات چیت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہاتھ ہلایا لیکن گفتگو سے اجتناب برتا۔ واضح رہے کہ شہباز گل کی رہائی کی روبکار جاری کردی گئی تھی۔ ان کی روبکار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر نے جاری کی تھی۔ اور اس کے بعد اگلے روز انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے گل کو کہا تھا کہ وہ اب گھر جائیں اور اپنے خاندان والوں کو وقت دیں.

  • یوٹیلٹی اسٹورز پر ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ

    یوٹیلٹی اسٹورز پر ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ

    یوٹیلٹی اسٹورز پر ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز نے مرچ ،ہلدی ،کالی مرچ، سمیت مصالحہ جات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق یوٹیلٹی برانڈ کے مصالحہ جات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں، جس کے مطابق 400 گرام مرچ 40 روپے مہنگی کر دی گئی ہے جب کہ 200 گرام مرچ کی قیمت 320 روپے سے بڑھا کر 360 روپے کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں 100 گرام ہلدی کی قیمت میں 10 روپے کا اضافہ کرنے کے ساتھ 50 گرام لونگ کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد 50 گرام لونگ کی قیمت 165 روپے سے بڑھ کر 225 روپے ہوگئی ہے۔

    اس کے علاوہ 100 گرام دھنیا پاؤڈر 10 روپے مہنگا کر دیا گیا ہے، جس سے 100 گرام دھنیا پاؤڈر کی قیمت 45 روپے سے بڑھا کر 55 روپے مقرر کی گئی ہے۔ دڑا مرچ کا 200 گرام کا پیک 20 روپے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 100 گرام گرم مصالحہ کا پیک 20 روپے مہنگا ہو گیا ہے جب کہ 50 گرام کالی مرچ 17 روپے مہنگی کر دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی یوٹیلیٹی اسٹورز پر متعدد اشیا کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کردیا گیا تھا. یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کی جانب سے اچار، مختلف برانڈز کے بسکٹ ، جیلی ، سرف، شو پالش، ریزر بلیڈر، ٹوتھ پیسٹ، برتن دھونے کا صابن ، شہد، نوڈلز سمیت متعدد اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا تھا.
    گزشتہ ہفتے کونسی اشیاء مہنگی ہوئی تھی
    نوٹیفکیشن کے مطابق سوگرام ٹوتھ پیسٹ کی قیمت میں 10روپے تک اضافہ کیا گیا جسکی قیمت 133 روپے سے بڑھ کر 143 روپے ہوگئی جبکہ 275 گرام برتن دھونے کے صابن کی قیمت میں 50 روپے تک اضافہ کیا گیا اور275 گرام ڈش واش کی قیمت 90روپے سے بڑھا کر 140 روپے کردی گئی ہے۔
    اسی طرح ٹشو پیپر کے ڈبے کی قیمت میں بھی 11 روپے تک اضافہ کیا گیا جس کے بعد ٹشوپیپر کا ڈبہ 56 روپے سے بڑھ کر 67 روپے کا ہوگیا۔ بے بی ڈائپر کے چھوٹے پیک کی قیمت میں 348 روپےتک اضافہ ہوا، چھوٹا برانڈڈ بے بی ڈائپر کا پیک 1352 سے بڑھ کر 1700 روپے کا ہوگیا۔

    علاوہ ازیں کیڑے مار دوا کی قیمت میں بھی 300 روپے اضافہ کیا گیا، جس کے بعد 800 ایم ایل کیڑے مار محلول 490 روپے سے بڑھ کر 790 روپے کا ہوگیا۔ گرین ٹی کے برانڈڈ 45 گرام پیک میں 20 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 178 روپے ہوگئی جبکہ 250 گرام میکرونی کی قیمت میں 11 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 79 روپے سے بڑھ کر 90 کی ہوگئی۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق 300 گرام شہد کے جار کی قیمت میں 60 روپے اضافے سے 310 سے بڑھ کر 379 روپے ، 66 گرام نوڈلز کی قیمت میں 5 روپے اضافے کے بعد 48 سے بڑھ کر 53 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح یوٹیلٹی اسٹورز پر ایک برانڈ کے آئل کے ڈھائی کلووالے ٹن کی قیمت میں 430 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔

  • امن اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا. وزیرخارجہ بلاول بھٹو

    امن اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا. وزیرخارجہ بلاول بھٹو

    نیویارک اقوام متحدہ میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے دنیا کے نوجوان وزرائے خارجہ کی کانفرنس کی سربراہی کی۔ کہاکہ ہمیں قیام امن اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرناہوگا۔

    نیویارک میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی زیرصدارت دنیا کے نوجوان وزرائے خارجہ کی کانفرنس ہوئی۔نوجوان وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں عالمی برادری کے مسائل اور ان کے حل پر بات چیت کی گئی۔ کانفرنس میں کینیڈا، چیک ری پبلک، ہنگری، قطر اور سربیا سمیت مختلف ممالک کے نوجوان وزرائے خارجہ نےشرکت کی۔وزیر مملکت خارجہ امورحنا ربانی کھر نے بھی نوجوان وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شرکت کی۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہمیں قیام امن اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرناہوگا،ہمیں خطے کو درپیش تمام چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل کی نسل کے لیے مساوی معاشی حقوق کی جدوجہد کرنا ہوگی۔عالمی برادری کے ایک دوسرے سے تعاون سے متعلق ہم اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کانفرنس میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ نوجوان وزرائے خارجہ کی ایک دوسرے سے ملاقات کا مقصد لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔

    دوسری جانب اے پی پی کی ایک خبر کے مطابق: چین کے سٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گروپ آف فرینڈز آف دی گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق جی ڈی آئی کی تجویز چینی صدر شی جن پنگ نے 20 ستمبر 2022 کو دی تھی۔ پاکستان 50 سے زائد ممالک پر مشتمل “گروپ آف فرینڈز” میں شامل ہے جس کا قیام جی ڈی آئی کے مقاصد کو فروغ دینے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔

    اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 29 ارب ڈالر کے ٹرانسپورٹ اور توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے جس سے پاکستان کی ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ٹھوس اور وسیع اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور امن اور خوشحالی کے مشترکہ مستقبل کے لیے ہماری اجتماعی خواہش کو پورا کرنے کے لیے چین اور گروپ آف فرینڈز کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

  • سیلاب کی وجہ سے تنگی آئی لیکن ہم بہتری کیلئے کوششاں ہیں. وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا

    سیلاب کی وجہ سے تنگی آئی لیکن ہم بہتری کیلئے کوششاں ہیں. وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا

    وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے تنگی آئی لیکن ہم بہتری کیلئے کوششاں ہیں.

    نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ سیلاج کی وجہ سے تنگی اور مسائل بڑھے ہیں لکن ہم کوششاں ہیں کہ ملک میں جلد از جلد بہتری لائیں. اور آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں آلو اور ٹماٹر وغیرہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی تھی لیکن بعد میں ہم انہیں کنٹرول کیا.
    انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سب چیزوں پر نظر رکھی ہوئی ہے اور جہاں بھی بہتری کی کوشش لگتی ہے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس میں صوبائی حکومتوں بھی مل جل کر کام کرنا چاہئے اور حالات بہت مشکل ہیں لیکن ہم اپنے طور پر پوری جہد کررہے ہیں.

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بحران طویل ہو سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی خثسک ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔سیلاب کی تباہ کاریوں سے بحران طویل ہو سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیماریاں پھوٹنے کا خدشہ ہے۔امید ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی مدد کیلئے آگے بڑھے گی۔

    واضح رہے ک گئے۔ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 569 ہوگئی۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 12ہزار 860افراد زخمی ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں 701،بلوچستان میں 300،خیبرپختونخوا میں 306افراد جاں بحق ہوئے۔پنجاب میں 191،آزاد کشمیر میں 48اور گلگت بلتستان میں 22اموات رپورٹ کی گئیں۔ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے 20لاکھ 9ہزار 794گھروں کو نقصان پہنچا۔ 9لاکھ 98ہزار 407مویشی ہلاک ہوئے،ملک بھر میں سیلاب کی وجہ سے 12ہزار 716کلو میٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا۔

  • سلطنت عمان سے ایک اور امدادی پرواز پاکستان پہنچ گئی

    سلطنت عمان سے ایک اور امدادی پرواز پاکستان پہنچ گئی

    پاکستان کے متاثرینِ سیلاب کے لیے دنیا بھر سے امدادی سامان کی ہوائی راستے سے آمد کا سلسلہ جاری ہے، عمان سے امدادی سامان کی پرواز منگل کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری ۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ امدادی کھیپ عمانی قونصل جنرل سمیع عبداللہ سلیم الخنجاری نے وزارت خارجہ اور این ڈی ایم اے کے نمائندوں کے ہمراہ وصول کی ۔

    پاکستان نے سلطنت عمان کی جانب سے امداد کا خیر مقدم کیا ہے۔ خیال رہے کہ عمان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والی یہ پانچویں پرواز ہے۔

  • پی ٹی آئی کی تشہیر کرنے والی انسانی حقوق کی غیر معتبر تنظیم

    پی ٹی آئی کی تشہیر کرنے والی انسانی حقوق کی غیر معتبر تنظیم

    انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (آئی ایچ آر ایف) نے الزام لگایا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے جو 2004 سے کام کر رہی ہے اوریہ عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو فروغ دینے میں بہت گہری دلچسپی لی ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق: انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (آئی ایچ آر ایف) نے الزام لگایا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے جو 2004 سے کام کر رہی ہے، اس کے ٹوئٹر بائیو بیان کرتی ہے کہ "انسانی حقوق کے حصول، نشریات اور تعلیم کے لئے پرعزم” لیکن ان دو دہائیوں میں، آئی ایچ آر ایف کئی تبدیلیوں سے گزری، جس میں بار بار اپنا نام اور جگہ تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ نہ تو اس کی ویب سائٹ اور نہ ہی اس کا بورڈ آف ٹرسٹی اس بارے میں کوئی وضاحت پیش کرتا ہے کہ یہ تنظیم کہاں رجسٹرڈ ہے، یہ کیا کام کرتی ہے یا اس کی فنڈنگ کیسے کی جاتی ہے؟ اس کے باوجود، یہ انسانی حقوق کے گروپ کے طور پر میڈیا آؤٹ لیٹس اور سوشل میڈیا صارفین کو بے وقوف بنا رہی ہے۔

    جیو فیکٹ چیک کے مطابق: اس تنظیم نے اس سال پاکستان میں اس وقت کافی شور مچایا جب اس نے عمران خان کی سیاسی جماعت کے ساتھ ساتھ صحافیوں، سیاست دانوں اور ٹیلی ویژن اینکرز کی تشہیر شروع کردی جو خان کے بہت نزدیک سمجھے جاتے ہیں، ایک ایسا اقدام جسے انسانی حقوق کی دوسری تنظیموں سے مخلتف سمجھا جاتا ہے جو غیر سیاسی ہیں۔
    جبکہ اپنی ویب سائٹ پر، آئی ایچ آر ایف اپنے ایڈریس کو اس طرح سے درج کرتی ہے: "35 W 31st Street Frnt 1, New York, NY 10001, USA۔”

    لیکن، گوگل اس جگہ کی بجائے نیویارک میں FedEx شپنگ سینٹر ہونے کا اشارہ کرتا ہے ااس کے علاوہ دوسرے اور تضادات بھی ہیں۔ 2009 میں، آئی ایچ آر ایف ٹو ئٹر پر "Derechos Humanos” کے نام سے بدل گئی اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ جینیوا، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہےجبکہ اس کی ویب سائٹ اسپین میں رجسٹرڈ تھی۔ پھر 2011 میں، اس نے اپنی جگہ کو "دنیا بھر میں” میں تبدیل کرتے ہوئے اپنا نام تبدیل کر لیا۔ اس کا ویب پیج بھی بدل کر ہندوستان میں رجسٹرڈ ہو گیا، (fundacion.in)
    2019 میں، اس نے دوبارہ اپنا نام تبدیل کر لیا۔ اس بار اس نے خود کو "انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس” کہلایا، جو اسپین، برسل اور میکسیکو میں واقع تھی، اس نے مزید اپنے ٹوئٹر بائیو پر ایک ہسپانوی فون نمبر (+34910053022) مہیا کیا۔ اب، یہ نیویارک، ریاست ہائے متحدہ میں واقع "انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن” کے نام سے قائم ہے۔

    آئی ایچ آر ایف کی ویب سائٹ کے مطابق، اس تنظیم نے 2004 میں کام شروع کیا اور اب یہ 15 ممالک میں موجود ہے لیکن اس کے ویب پورٹل پر یہ صرف 9 ممالک کی فہرست درج ہے، جہاں اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے نمائندے ہیں، اس کے دفاتر کا کوئی پتہ یا رابطے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں. صرف یہی نہیں، انسانی حقوق کے جاری یا مکمل ہونے والے منصوبوں، فنڈنگ، آڈٹ رپورٹس، عطیہ دہندگان، شراکت داروں اور تنظیم کی جانب سے کیے گئے کسی بھی تحقیقی کام کی ویب سائٹ پر کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    اپنے ویب پیج پر آئی ایچ آر ایف یہ بتائے بغیر عطیات مانگتی ہے کہ فنڈز کس پروجیکٹ کے لیے استعمال ہوں گے۔ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ این جی او کس ملک میں رجسٹرڈ ہے۔ لیکن ہندوستان میں اسی نام سے ایک تنظیم رجسٹرڈ ہے جس کے ڈائریکٹر "تروشل ہریش چاوڈا” کے نام سے درج ہیں۔ بہرحال، آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ کیا یہ دونوں این جی اوز آپس میں جڑی ہوئی ہیں یا دونوں صرف ایک ہی نام استعمال کر رہی ہیں۔
    مزید معلومات کے لیے، جیو فیکٹ چیک نے آئی ایچ آر ایف کے صدر کے طور پر درج ماریہ کلاڈیا کیمبی، نائب صدر ایڈگارڈو گیبریل ابرامووچ اور بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن فرید عثمان بینٹریا سے رابطہ کیا، کسی نے بھی تنظیم اور اس کے کام کے بارے میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

    جیو فیکٹ چیک کے مطابق انہوں نے ویب سائٹ پر درج امریکی نمبر پر بھی کال کی، کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد ٹیم نے آئی ایچ آر ایف کے واٹس ایپ نمبر پر سوالات بھیجے لیکن صرف مندرجہ ذیل جواب موصول ہوا: "آپ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن سے رابطہ کر رہے ہیں، ہم بالکل تمام پیغامات پڑھتے ہیں، حالانکہ ہمیں جواب دینے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ہم آپ کی آن لائن پرائیویسی کو محفوظ رکھنے کے لیے تکنیکی اقدامات کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، ہم کیسے آپ کی مدد کر سکتے ہیں؟”
    اس رپورٹ کے مکمل ہونے تک کوئی فالو اپ نہیں ہوا۔
    سوشل میڈیا اور پاکستان میں دلچسپی
    ٹوئٹر پر، اس تنظیم کا ایک تصدیق شدہ ہینڈل، @Declaracion، اور 800,000 سے زیادہ فالوورز ۔ اس نے اکتوبر 2009ء میں ٹوئٹر جوائن کیا۔ اس کے باوجود پاکستان کے بارے میں اس کی پہلی ٹوئٹس میں سے ایک 14 اگست 2022ء کو پوسٹ کی گئی۔ ٹوئٹ میں اس نے پاکستانی عوام کو ان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ پر مبارکباد دی۔
    دوسری بار اس نے پاکستان کے بارے میں 21 اگست کوٹوئٹ کیا۔ اس دن، اس نے پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جواب دینے کا انتخاب کیا، سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی تقریر کے بعد آن لائن اسٹریم کیا گیا۔

    ٹوئٹ کے ذریعے، آئی ایچ آر ایف نے لکھا کہ اس نے خان کی تقریر کو "احترام کے ساتھ سنا” اور پھر دعوت دینے پر علی ملک نامی سوشل میڈیا صارف کا شکریہ ادا کیا، ملک سوشل میڈیا پر اپنی شناخت خان کے حامی اور ویڈیو بلاگر کے طور پر کرتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کے حوالے سے اس کی زیادہ تر ٹوئٹس سیاسی رہی ہیں، خاص طور پر ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے۔

    کچھ ٹوئٹس میں، اس نے پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ اور اس کے عہدیداروں کو براہ راست ٹیگ کیا ہے، باقی ٹوئٹس میں، اس نے عمران خان کے بارے میں خبروں کے آرٹیکلز کو فروغ دیا ہے، ساتھ ہی اس ٹیلی تھون کو بھی فروغ دیا ہے جو انہوں نے پاکستان میں سیلاب زدگان کے لئے عطیات جمع کرنے کے لئے منعقد کی تھی۔ آئی ایچ آر ایف حسب معمول مندرجہ ذیل صحافیوں اور ٹی وی اینکرز: ارشد شریف، عمران ریاض خان اور جمیل فاروقی اور پی ٹی آئی کے سیاستدانوں، یعنی حلیم عادل شیخ اور شہباز گل کی حمایت میں ٹوئٹ کرتا ہے۔
    دوسری سیاسی جماعتوں کے سیاستدانوں کے لیے اب تک ایسی کوئی ٹوئٹ نہیں کی گئی۔

    ایک ٹوئٹ میں تنظیم نے اینکر ارشد شریف کی برطرفی کی مذمت کی اور لکھا کہ انہوں نے "ایک اچھے پیشہ ور، تنقیدی شہری اور فکری طور پر ایماندار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔” بعد میں اس نے شریف کے یوٹیوب چینل کو پروموٹ کیا، لوگوں سے کہا کہ "دیکھیں اور سبسکرائب کریں”۔ 14 اگست سے 12 ستمبر کے درمیان، آئی ایچ آر ایف نے پاکستان کے بارے میں 45 بار ٹوئٹ کیا، جن میں سے 33 ٹوئٹس براہ راست پی ٹی آئی یا اوپر بیان کی گئی میڈیا شخصیات کے بارے میں ہیں۔

    حال ہی میں، انسانی حقوق کی مبینہ تنظیم نے ایک آن لائن سروے بھی کیا جس میں لوگوں سے ووٹ ڈالنے کے لیے کہا گیا کہ "اگر آج (پاکستان میں) الیکشن ہوتے تو آپ کس پارٹی کو ووٹ دیتے؟” آپشنز میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی شامل ہیں۔ اس نے بعد میں ایک نوٹ بھی شامل کیا کہ وہ اپنے اگلے سروے میں قدامت پسند تحریک لبیک پاکستان کو شامل کرے گی۔
    ابھی حال ہی میں انسانی حقوق کی مبینہ تنظیم نے حکومت پاکستان پر "جھوٹ” پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ ایک الگ ٹویٹ میں اس نے پاکستان کے وزیر اعظم پر ملک میں "آمریت” مسلط کرنے کا الزام لگایا۔

  • اضافی ڈیوٹی کے باعث اعصابی تناؤ، پی آئی اے کیبن کریو نے ایمرجنسی سلائیڈ کھول دی

    اضافی ڈیوٹی کے باعث اعصابی تناؤ، پی آئی اے کیبن کریو نے ایمرجنسی سلائیڈ کھول دی

    اضافی ڈیوٹی کے سبب پی آئی اے کیبن کریو کے ارکان اعصابی تناؤ کا شکار ہونے لگے، جس کی وجہ سے عملے کی جانب سے غلطیاں سرزد ہورہی ہیں۔

    نجی ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق قومی فضائی کمپنی کے عملے کے ایک رکن نے کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز میں غلطی سے ایمرجنسی سلائیڈ کھول دی، جس کے بعد پی آئی اے انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے پروازوں پر ڈیوٹی دینے والے عملے کے ارکان اضافی ڈیوٹیوں کے باعث ذہنی و جسمانی تھکاوٹ کے سبب سنگین نوعیت کی غلطیاں کرنے لگے ہیں۔ پیر کی صبح کراچی سے اسلام آباد کی پرواز پی کے 300 پر ڈیوٹی دینے والے کیبن کریو نے رن وے پر اڑان سے کچھ دیر قبل غلطی سےہنگامی سلائیڈ کھول دی۔

    واضح رہے کہ ہنگامی سلائیڈ اس وقت آپریٹ کی جاتی ہےجب طیارہ کسی ہنگامی صورت حال میں لینڈ کرے اور مسافروں کا تیزی سے اخراج مقصود ہو۔ واقعے کے بعد ایمرجنسی سلائیڈ کھلنے کی وجہ سے طیارے کے ایک دروازے کو بند اور مسافروں کوکم کرنا پڑگیا۔ مذکورہ پرواز پر تقریباً 25 مسافر تکنیکی وجوہات کے سبب سفر کرنے سے رہ گئے۔

    ذرائع کے مطابق صورتحال مبینہ طور پر کریو سے پروازوں پر یومیہ 16 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے جب کہ دیگر ائرلائنز میں کیبن کریو کے اوقات کار 12 گھنٹے ہیں۔ سول ایوی ایشن نے پی آئی اے کو انتہائی ضرورت کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ 16 گھنٹے ڈیوٹی کی اجازت دی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پی آئی اے میں کیبن کریو کو ماہانہ 5 آف ملتے ہیں جب کہ دنیا بھر کی دیگر ائرلائنز کیبن کریو کو ماہانہ 9 آف دیتی ہیں۔ قومی ائرلائن کی پروازوں پر کیبن کریو کی قلت، گزشتہ عرصے کے دوران متعارف کروائی جانے والی وی ایس ایس اسکیم کے سبب پیدا ہوئی ہے۔

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پی کے 300 پر ہنگامی سلائیڈ کھلنے کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ کیبن کریو اور کپتان کے بیانات کی روشنی میں اس کا حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکے گا۔ پی آئی اے کی پروازوں پر کیبن کریو کی کوئی قلت نہیں ہے۔ انتہائی ایمرجنسی میں کیبن کریو سے 16 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے،جس کی اجازت سی اےاے کی طرف سے دی گئی ہے۔ ہر 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد کیبن کریو کو 24 گھنٹے کا آرام دیا جاتا ہے۔

  • عاکف  الیاس کے نئے شوٹ میں بدلی ہوئی شگفتہ اعجاز

    عاکف الیاس کے نئے شوٹ میں بدلی ہوئی شگفتہ اعجاز

    آج کل ٹک ٹاک پر چھائی رہنے والی سینئر اداکارہ شگفتہ اعجاز کا حال ہی میں عاکف الیاس نے ایک شوٹ کیا ہے، اس شوٹ میں شگفتہ اعجاز بہت زیادہ بدلی ہوئی لگ رہی ہیں. ان کا میک اپ اور لباس اس قسم کا ہے کہ وہ لگ ہی نہیں رہیں کہ ایک عمر رسیدہ خاتون ہیں. عاکف الیاس کے میک اپ کی یہی خوبی ہے کہ وہ چہرے بدل کر رکھ دیتے ہیں اور دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں . میک اپ میں تجربات کرتے رہنے والے عاکف الیاس کا میک اپ ہمیشہ سے ہی الگ اور منفرد رہا ہے. عاکف الیاس شگتفہ اعجاز سے قبل بھی بہت ساری اداکارائوں کے میک اپ کر چکے

    ہیں اور ان شوٹس کو دیکھا جائے تو دیکھنے والی آنکھ دنگ رہ جاتی ہے. شگفتہ اعجاز کا میک اپ ،شوٹ اور لباس مداح بہت زیادہ پسند کررہے ہیں، عاکف الیاس کی شوٹس کی یہ خوبی ہے کہ یہ عریانی پر یقین نہیں رکھتے نہ ہی بولڈ ڈریسز پر یقین رکھتے ہیں. شگفتہ اعجاز کے حالیہ شوٹس کی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہیں ہر کوئی ان کی تعریف کررہا ہے، مداحوں نے تو اداکارہ کی وائٹ شرٹ میں تصاویر کوبھارتی اداکارہ ٹوئنکل کھنہ سے ملا دیا ہے اور کہا ہے کہ سفید رنگ کی شرٹ کی تصاویر میں شگفتہ اعجاز بالکل ٹونکل کھنہ کی طرح لگ رہی ہیں.

  • پاکستانی نژاد کینیڈین رکن پارلیمنٹ اقرا خالد کی اسلام آباد آمد، سیلاب متاثرین کیلئے 30 ملین ڈالرز کا اعلان

    پاکستانی نژاد کینیڈین رکن پارلیمنٹ اقرا خالد کی اسلام آباد آمد، سیلاب متاثرین کیلئے 30 ملین ڈالرز کا اعلان

    پاکستان میں سیلابی صورتحال نے تبای مچا دی ،عظیم انسانی سانحے پر پاکستان سمیت دنیا بھر کی جانب سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے سیلاب متثرین کی امداد کا اعلان کیا گیا۔ کینیڈین حکومت کی جانب سے بھی پاکستان میں سیلاب متاثرین افراد کی مدد کے لئے مجموعی طور پر تیس ملین ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔

    پاکستانی نژاد کینیڈین رکن پارلیمنٹ اقرا خالد ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ اقراء خالد پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے اور متاثرین سے ملاقات کے لئے کینیڈا کے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ منسٹر اور دیگر دو اراکین پارلیمنٹ شفقت علی اور سلمٰی زاہد کے ساتھ اسلام آباد، پاکستان آئی ہیں۔ اقراء خالد کا تعلق یوں تو بہاولپور سے ہے، لیکن بچپن میں والدین کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئیں۔ انکا تعلق کینیڈا کی لبرل پارٹی سے ہے اور وہ تیسری بار کینیڈین پارلیمنٹ کی رکن بنی ہیں۔

    اقراء خالد کہتی ہیں کہ پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے کینیڈا میں موجود پاکستانی کمیونٹی بے حد تشویش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کینیڈا میں پاکستانی کمیونتی سے وابستہ افراد نے انہیں کالیں کیں۔ انہوں نے اپنے انتخابی حلقے میں اس مسئلے کو اٹھایا اور عطیات اکٹھے کئے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں موجود ہر پاکستانی پریشان ہے اور انہیں کہتا ہے کہ کینیڈا کو پاکستان کے سیلا متاثرین کے لئے کچھ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین حکومت مصیبت میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کے لئے تیس ملین ڈالرز دے گی۔ اس امداد میں سے 11 فیصد ایمرجنسی ریلیف کوششوں کے لئے استعمال ہونگے اور 14 فیصد بحالی کی مد میں دئیے جا رہے ہیں۔

    اقراء خالد نے بتایا کہ دورہ پاکستان کے دوران انہوں نے چاروں صوبوں میں مختلف طبقات سے ملاقاتیں کیں۔ سیلاب سے متاثرہ افراد سے بھی ملاقات کر کے بات چیت کی۔ انہوں نے اپنے تجربات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ ،، پاکستانی سخت ترین حالات کا مقابلہ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ پاکستانیوں کو داد دینا چاہتی ہیں کہ ،، حالات کا مقابلہ کرنے میں یہ لوگ کتنے شاندار ہیں۔ بحرانوں کے باوجود انکے چہرے پر امید رہتی ہے۔ عزم و ولولہ رہتا ہے کہ وہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں رواں سال معمول سے ذیادہ مون سون بارشوں نے پاکستان کے طول و عرض میں تباہی مچا دی، لگ بھگ ایک تہائی ملک پانی میں ڈوب گیا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق چودہ جون سے اب تک سیلاب سے لگ بھگ پندرہ سو ساٹھ افراد جاں بحق ، بارہ ہزار آٹھ سو پچاس افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ سیلاب سے اب تک انیس لاکھ اناسی ہزار چار سو پچاسی گھر سیلابی پانی کی نذر ہو گئے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کا گزر بسر ذراعت اور لائیو سٹاک پر منحصر ہے۔ نو لاکھ تہتر ہزار چھ سو بتیس مویشی بھی سیلاب کی نذر ہو گئے۔