Baaghi TV

Author: +9251

  • کیا آئمہ بیگ اداکار کریں گی؟

    کیا آئمہ بیگ اداکار کریں گی؟

    گلوکارہ آئمہ بیگ جن کی حال ہی میں شہباز شگری کے ساتھ منگنی ختم ہوئی ہے، کہتی ہیں کہ مجھے اداکاری کی متعدد مرتبہ آفرز آچکی ہیں‌لیکن اداکاری میری ترجیحات میں نہیں ہے میری ترجیحات میں گلوکاری ہے، اس لئے میری پہلی توجہ گلوکاری ہے. لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں کبھی اداکاری کروں گی ہی نہیں، ہو سکتا ہے کبھی اداکاری کر ہی لوں لیکن ابھی ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے. آئمہ بیگ نے مزید کہا کہ زندگی میں انسان کو وہی کرنا چاہیے جس میں اسکو اطمینان محسوس ہو، وہ کام کبھی نہ کریں جس سے آپ اطمینان محسوس نہیں کرتے. میں‌نے

    ہمیشہ زندگی میں وہ کیا ہے جس سے میں مطمئن رہوں. یاد رہے کہ آئمہ بیگ کی ماڈل و اداکار شہباز شگری کے ساتھ منگنی ہوئی تھی دونوں شادی کے بندھن میں بندھنا چاہتے تھے ، بظاہر تو ایک دوسرے کے ساتھ کافی خوش دکھائی دیتے تھے لیکن ایسا ہو نہ سکا ، تاہم اب دونوں کے راستے جدا ہو چکے ہیں. اس حوالے سے دونوں نے کھل کو کوئی بیان نہیں دیا نہ ہی ایسا کرنے کی وجوہات بیان کی ہیں. آئمہ بیگ کی آواز میں گائے ہوئے گیت مہوش حیات سمیت سوہائے علی آبرو پر پکچرائز ہو چکے ہیں. آئمہ نے ساحر علی بگا جیسے میوزیشنز کے ساتھ بھی گایا ہے.

  • چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے حکومت سے سبسڈائز آٹے کی تقسیم سے متعلق جواب طلب کرلیا

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے حکومت سے سبسڈائز آٹے کی تقسیم سے متعلق جواب طلب کرلیا

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے حکومت سے سبسڈائز آٹے کی تقسیم سے متعلق جواب طلب کرلیا۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ملک میں اس وقت آٹے کا شدید بحران ہے، خیبرپختونخوا میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، سبسڈائز آٹا سیاسی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مستحق لوگ رہ جاتے ہیں۔

    چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ آج کل پورے ملک میں مہنگائی اور مہنگے آٹے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ عدالت نے حکومت سے سبسڈائز آٹے کی تقسیم سے متعلق جواب طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی چیف جسٹس قیصر رشید خان آٹا مہنگا ہونے سے متعلق کیسز کی سماعت کرچکے ہیں اور بڑے سخت ریمارکس دے چکے ہیں.

    تاہم خیال رہے کہ دوسری جانب گزشتہ دنوں سے کراچی، پشاور، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں مہنگا آٹا اور بھی مہنگا ہوگیا ہورہا ہے جبکہ ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے مشکلات بڑھنے لگیں،اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھی تو چکی مالکان نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے. ملک میں آٹے کی قیمت 130روپے کلو تک پہنچ گئی اور مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ کراچی میں آٹا ملک میں سب سے مہنگا ہے۔ ایک کلو کی قیمت125سے130 روپے ہے۔

    لاہور میں110 روپے سے 116 روپے میں ایک کلو آٹا مل رہا ہے۔ اسلام آباد میں چکی کا آٹا125 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ کوئٹہ میں آٹے کی قیمت120روپے کلو ہوگئی۔ گوجرانوالہ میں چکی کا آٹا 130 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ چکی مالکان کا کہنا ہے کہ غلہ منڈیوں میں قلت کے سبب فی من گندم 2 ہزار850 سے بڑھ کر3 ہزار800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بجلی کے بھاری بل بھی ادا کر رہے ہیں۔ آٹا مہنگا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں بیس کلو آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ لاہور میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت نو سو اسی روپے ہے جو مارکیٹ میں کئی جگہوں پر دستیاب ہی نہیں۔

  • افتخار ٹھاکر کس کے ہیں شکر گزار اور کیوں؟

    افتخار ٹھاکر کس کے ہیں شکر گزار اور کیوں؟

    کامیڈی میں اپنی الگ پہچان رکھنے والے اداکار افتخار ٹھاکر نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں اپنے مداحوں کا بے حد شکر گزار ہوں کیونکہ انہوں نے ہر قدم پر مجھے بہت زیادہ محبت دی ہے.آج جس بھی مقام پر ہوں انہی کی محبت کے بدولت ہوں. میں جب سے شوبز میں آیا ہوں پہلے ہی دن سے بہت زیادہ محنت کی ہے اور خدا نے میری محنت کا صلہ بھی مجھے خوب دیا ہے. خدا کسی کی محنت کو ضائع نہیں جانے دیتا اگر نیک نیتی سے محنت کرتے رہیں اور کوششیں کبھی نہ روکیں تو یقینا اللہ تعالی آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے. انہوں نے کہا سچے دل سے نکلی ہوئی دعا کبھی بھی رائگاں نہیں جاتی اسلئے جب بھی دعا مانگیں پورے دل سے مانگیں. یاد رہے کہ افتخار ٹھاکر کی انڈین

    پنجابی فلم ”ماں دا لاڈلا ” حال ہی میں پاکستانی سینما گھروں میں ریلیز ہوئی ہے. اس فلم کے مرکزی کرداروں میں افتخار ٹھاکر کے علاوہ نسیم وکی ، قیصر پیا اور نیرو باجوہ ہیں. فلم میں افتخار ٹھاکر نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے. شائقین ان کی اس فلم کو کافی پسند کررہے ہیں. افتخار ٹھاکر کامیڈی پروگرام مذاکرات میں بھی کام کرتے ہیں اس میں وہ ہمیں مختلف روپ میں دکھائی دیتے ہیں،افتخار ٹھاکر وہ اداکار ہیں جن کو ہر سطح پر پذیرائی ملتی ہے.

  • جیکی شروع نے دیا انیل کپور کو جواب

    جیکی شروع نے دیا انیل کپور کو جواب

    بالی وڈ اداکار جیکی شروف اور انیل کپور نے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ہے جن میں رام لکھن اور پرندا کے نام قابل زکر ہیں. انیل کپور نے کافی ود کرن میں جیکی شروف کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ جیکی شروف کے سٹار ڈم کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ کتنے شائستہ تھے اور ان کے ساتھ کتنے ادب احترام کے ساتھ پیش آتے تھے. اداکار جیکی شروع نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1983 کی فلم ہیرو سے کیا تھا،جس میں ان کے ساتھ میناکشی ششادری تھیں. ان کو پہلی ہی فلم سے بریک تھرو ملا . انیل کپور کہتے ہیں کہ جیکی شروف آتے ہی اے کلاس ایکٹرز کی لسٹ میں شامل ہو گئے ، اسی شو میں انہوں نے وہ وقت بھی یاد کیا جب وہ جیکی شروف کے ساتھ سیٹ پر بیٹھے

    ہوتے تھے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان سے آٹو گراف لینے کے لئے آتی تھی انیل نے کہا کہ میں لوگوں‌کو سیٹ پر دیکھ کر خوش ہوجایا کرتا تھا لیکن جلدی ہی احساس ہوجایا کرتا تھا کہ یہ لوگ تو جیکی کے لئے سیٹ پر اکٹھے ہوئے ہیں. انیل کپور کی ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے جیکی شروف نے کہا ہے کہ انیل کپور ایک ایسا انسان ہے جو دل کی گہرائیوں سے میرا خیال رکھتا ہ، میری عزت کرتا ہے اور جب انیل کپور کے پائے کا اداکار میرے بارے میں اتنا اچھا بولے تو یقینا میری عزت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے. اانہوں نے مزید کہا کہ انیل کا دل بالکل صاف ہے اور وہ وہی کہتا ہے جو وہ محسوس کرتا ہے اور ہمیشہ سے ہی مجھے بہت زیادہ کریڈٹ دیتا ہے۔

  • ڈرامہ سیریل وبال کی کراچی میں شوٹنگ جاری

    ڈرامہ سیریل وبال کی کراچی میں شوٹنگ جاری

    امین اقبال کی ڈائریکشن میں بننے والا ڈرامہ سیریل وبال جو کہ رواں ماہ ہی آن ائیر گیا ہے اسکی شوٹنگ کراچی میں جاری ہے. ڈرامے میں اداکارہ سارا خان کو ان کے منفرد ہئیر سٹائل کی وجہ سے بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے. کاسٹ بہترین اداکاروں کا مجموعہ ہے اور کہانی ایسی ہے کہ یقینا ناظرین کو آخر تک اپنے سحر میں جکڑ کر رکھے گی. ڈرامے میں سارہ خان بطور انعم،طلحہ چہور بطور فراز،میرب علی بطور ماہم نظر آرہے ہیں جبکہ باقی کاسٹ میں محمد حنبل، حریم سہیل، تارا محمود، شگفتہ اعجاز، سلیم شیخ و دیگر شامل ہیں.یاد رہے کہ ڈائریکٹر امین اقبال کا ڈرامہ عشق لاء ماضی قریب میں اختتام پذیر ہوا اس میں انہوں نے سجل علی ، اذان سمیع خان اور یمنہ زیدی سے بہترین اداکاری کروائی تھی. اسی سال ان کی

    ڈائریکشن میں بننے والی پہلی فلم رہبرا بھی ریلیز ہوئی اس فلم نے باکس آفس پر اچھا بزنس نہ کیا بلکہ سپر فلاپ ہو گئی. فلم میں احسن خان اور عائشہ عمر نے مرکزی کردار ادا کئےتھے. امین اقبال ابھی تک ٹی وی کے بہترین ڈائریکٹر ثابت ہوئے ہیں لیکن بڑی سکرین پر ان کا پہلا تجربہ ہی ناکام ہو گیا ہے. تاہم ان کے ڈرامے شائقین یقینا شوق سے دیکھتے ہیں. وبال ڈرامے میں امین اقبال سارا خان کو ایک الگ اور نئے روپ میں سامنے لائے ہیں جو یقینا دیکھنے والوں کے لئے کسی ٹریٹ سے کم نہیں ہے.

  • سیلاب، مہنگائی اور ابتر معیشت جیسے کڑے وقت میں سعودی عرب کا حکومت پاکستان سے تعاون

    سیلاب، مہنگائی اور ابتر معیشت جیسے کڑے وقت میں سعودی عرب کا حکومت پاکستان سے تعاون

    سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے دیے گئے3 ارب ڈالر کے قرضہ کو ایک سال کے لیے موخر کردیا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کا قرضہ ایسے موقعے پر موخر کیا ہے جب اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 60 کروڑ ڈالر کی سطح پر جاچکے ہیں اور حکومت روپے کی گرتی ہوئی قدر کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور عالمی ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹا لینا جارجیوا کے مابین سائیڈ لائن پر ملاقات طے ہوچکی ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کی سرگرمیاں برسوں تک چل سکتی ہیں اور اس پر 40 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آ سکتی ہے۔

    ایک ایڈیٹوریل کے مطابق: سعودی عرب کا یہ اقدام لائق تحسین ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب نے بہت زیادہ تباہی مچائی ہے، جس سے مہنگائی شدت اختیار کر گئی ہے ، اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ سیلاب نے بھی معیشت کو حد سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اب پاکستان بھی ایک قسم کا برمودا ٹرائی اینگل بن چکا ہے، پہلے سے ہی خراب معاشی حالات ہیں، دوسری طرف سیلاب جب کہ تیسری طرف غیر معمولی سیاسی حالات ہیں۔

    حکومت اس وقت معاشی بحالی اور سیلاب کی تباہ کاری سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے، تو دوسری طرف منافع خور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس طرح پتا نہیں کتنے لوگ ناجائز منافع کمانے کے لیے مارکیٹ کے حالات خراب کرتے ہیں اور پھر آخر میں پسنا عوام کو ہی پڑتا ہے۔ پاکستان اب تقریباً ہائپر انفلیشن کا شکار ہو چکا ہے اور اب مختلف مافیاز ہی ملکی فیصلے کر رہے ہیں۔ رواں سال ملک میں مہنگائی کی شرح 25 سے 27 فیصد رہنے کا خدشہ ہے، سیلاب سے ملکی معیشت کو دو ہزار ارب روپے سے زائد کا دھچکا لگا ہے۔ سیلاب کی آڑ میں منافع خوروں نے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ ملک میں رواں ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 42.7 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا چیک اینڈ بیلنس کو برقرار رکھنے کا سارا نظام ہی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ملک کے اندر مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کا جینا بھی محال ہوچکا ہے۔

    المیہ یہ ہے کہ بے پناہ قدرتی وسائل اور افرادی قوت کے باوجود ہم مقروض ہیں۔ گزشتہ ماہ اگست میں اوورسیز پاکستانیوں نے ترسیلاتِ زر کی مد میں 207ارب روپے بھجوائے اور آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے کے باوجود ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اربابِ اقتدار کی ناقص پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی و معاشی استحکام ناگزیر ہے۔ ایک طرف ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 6ہزار میگا واٹ ہونے سے چھ سے آٹھ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے تو دوسری طرف بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لوگ گھروں کا راشن خریدنے کے بجائے ٹیکسوں کی بھر مار پر مشتمل بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

    ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت تنزلی کا شکار ہے، ملک میں مختلف کارٹیلز بھی (کاروباری مافیاز) مضبوط ہوگئے۔ یہ کارٹیلز بنیادی اشیائے خورونوش اور پٹرولیم کی قیمتوں اور سپلائی کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ درحقیقت حکومت ان اندرونی اور بیرونی گروہوں ( کارٹیلز) کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ اس وقت ریاست کا معاشی انتظام غریب عوام پر بھاری اور تکلیف دہ ٹیکس نظام کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جو طویل مدت تک برقرار نہیں رہ سکتا۔ پچھلے کچھ سالوں سے ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بار بار پاکستان میں آنے اور کاروبار کرنے کی دعوت دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک اس کا ہمیں بہت کم فائدہ ہوا ہے۔ کاروباری حوالے سے ہمیں اپنے قوانین دوستانہ بنانے اور بزنس سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔

    پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل محاذ آرائی کی وجہ سے معاشی بحران سنگین رخ اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں غریب عوام کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے ملک میں معاشی استحکام لانے کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف سے معاہدے کی بحالی کے باوجود حالات بے قابو ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ڈالر کی قدر پاکستانی روپے کے مقابلے میں گزشتہ کئی روز سے مسلسل اضافے کی جانب گامزن ہے۔

    ملک میں موجودہ سیاسی ہلچل، سیلاب کی وجہ سے معیشت کی ابتر ہوتی صورتحال اور چند عالمی وجوہات کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں مستقبل قریب میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ بیرونی فنانسنگ کے آنے سے کچھ دن تو ڈالر کی قیمت میں کمی ہو سکتی ہے لیکن مارکیٹ کے حالات کی وجہ سے روپے کی قدر میں اضافے کا امکان نہیں۔ اس خوف ناک اضافہ کی وجہ درآمدات میں اضافے اور معاشی غیر یقینی کو بھی کہا جا رہا ہے۔ معاشی مسائل پہلے ہی قابو میں نہیں آ رہے تھے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ان مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو حالات نظر آ رہے ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سیلاب کے بعد ملک کی خوراک کی ضرورت کو بھی درآمدات سے پورا کیا جائے گا تو ایسی صورتحال میں تو پاکستانی روپے کے لیے حالات سازگار دکھائی نہیں دے رہے۔ کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں سب سے اہم رول تجارت کا ہوتا ہے۔ اب ہمیں پاکستان میں ڈالر فلو بڑھانا تھا کیونکہ ہماری درآمدات، برآمدات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو چکی تھیں، یعنی ہم صرف چیزیں خرید ہی رہے تھے، بیچتے نہیں تھے۔

    مالی سال 2021 میں پاکستان نے 25 بلین ڈالر کی برآمدات کی تھی جب کہ ہماری درآمدات 56 بلین ڈالر تھی۔ اب جب چیزیں بکے گی نہیں تو ملک میں ڈالر کیسے آئے گا ؟ اور اگر چیزیں خریدتے جائیں گے تو روپیہ اپنی قدر کھو دے گا اور جو پاکستان میں ڈالر موجود ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ لہٰذا یہ منصوبہ درست تھا لیکن یہ کسی کے خیال میں نہیں تھا کہ ہمیں ایک دم سیلاب جیسی مشکل قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے، حکومت وقت کو ضروری اور فوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ وطن عزیز میں سیلاب زدہ علاقوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکے، زراعت میں بہتری کے لیے سستے بیج، کھاد اور بجلی کی فراہمی، سیلاب کے پانی کی وجہ سے زمین زیادہ پیداوار دیتی ہیں اگر فوری طور پر کسانوں کو یہ مراعات دی جاتی ہیں تو اگلے سال ہماری فصلیں پیداوار زیادہ دیں گی۔

    بلند شرح سود جو معاشی ترقی کی راہ میں حائل ہے اس کو ختم ہونا چاہیے، پانی کی فراہمی کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اسے فوری بحال کیا جائے، سیلاب زدہ علاقوں کو ٹیکس فری زونز قرار دینا چاہیے، اور ان علاقوں کے لیے بجلی کے ٹیرف کو کم کر دینا چاہیے، ملکی اور غیر ملکی امداد سے ادویات اور خوراک کا فوری انتظام ضروری ہے، چھوٹے کسانوں کو جن کی زمین 30 ایکڑ سے کم ہے ان کے قرضے معاف کرنے چاہئیں اور حکومت کے ساتھ مل کر سب اسٹیک ہولڈرز کو دنیا کی توجہ ہمارے ملک پر آئے ہوئے اس بھیانک ڈیزاسٹر کی طرف کرانی چاہیے تاکہ پاکستان میں جلد از جلد ہنگامی بنیادوں پر امداد مہیا کی جائے۔

    جو قرض ادا کرنا ہے تمام ممالک سے اس کو ختم یا کم کرنے کی بات کی جائے، ایکسپورٹ کے لیے خام مال جو درآمد کیا جاتا ہے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے خام مال پر ٹیکس کو ختم کیا جائے۔ وطنِ عزیز کا آدھا حصہ سیلاب سے متاثر ہوا ہے اور باقی مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے۔ مسائل حل کرنا کسی ایک پارٹی کے بس کی بات نہیں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ سیاسی قیادت کی جانب سے اگر بروقت ذمے دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اس وقت ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے لیے سوچتی۔

    پاکستان کو اس وقت 30سے 40ارب ڈالر کی اشد اور فوری ضرورت ہے۔ سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، انفرا اسٹرکچر تباہ اور ساڑھے تین کروڑ افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کو اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ متاثرین کی بحالی اصل کام ہے، اس کے لیے حکومت کو یکسوئی سے کام کرنا ہوگا۔

  • تبو مدھر بھنڈاریکر کے مشکل وقت میں کیسے بنیں ان کے لئے مسیحا

    تبو مدھر بھنڈاریکر کے مشکل وقت میں کیسے بنیں ان کے لئے مسیحا

    بالی وڈ کے معروف فلم میکر مدھر بھنڈاریکر جن کے کریڈٹ پر کافی ہٹ فلمیں ہیں. انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں پدما شری ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے. حال ہی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی جدوجہد کے دِنوں کو کیا یاد اور یہ بھی یاد کیا کہ کس طرح سے بالی وڈ اداکارہ تبو نے ان کا ساتھ دیا یا کس طرح سے ان کی صلاحیتوں پر اعتبار کیا انہیں موٹیویشن دی. انہوں نے کہا کہ میں کیرئیر کے مشکل ترین وقت سے گزر رہا تھا اور کوئی بھی پرڈیوسر میرے ساتھ کام کرنے کا تیار نہیں تھا کیونکہ میری فلم تری شکتی بری طرح سے باکس آفس پر پٹ گئی تھی. میں فلم چاندنی بار بنانا چاہتا تھا لیکن کوئی پرڈیوسر نہیں مل رہا تھا ،میں سات آٹھ پرڈیوسرز کے پاس گیا لیکن انہوں نے اپنی شرائط رکھ دیں بولے فلم

    میں آئٹم سانگ رکھو لیکن میں اپنے موضوع سے ہٹنا نہیں چاہتا تھا اس لئے میں نے ان کی ایسی شرائط ماننے سے انکار کر دیا . ایسے میں پروڈیوسر مسٹر لتا موہن اور تبو کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتبار کیا. انہوں نے مزید کہا، تبو ایک ایسی انسان ہے جس نے واقعی میرا ساتھ دیا۔ وہ مجھ پر یقین کرتی تھی حالانکہ اسکو پتہ تھا کہ میری فلم تری شکتی پِٹ گئی ہے لیکن اس نے میرا ساتھ دیا جس کے لئے میں اسکا شکر گزار ہوں. یاد رہے کہ مدھر بھنڈاریکر نے فیشن اور ٹریفک سنگل جیسی فلمیں بنائیں ہیں ان کا بالی وڈ کیرئیر بس سال پر محیط ہے. مدھر بھنڈاریکر کو اپنی نئی آنے والی فلم ”ببلی باؤنسر”سے کافی امیدیں وابستہ ہیں اس میں ان کی ہیروئین تمنا بھاٹیہ ہیں.

  • نیب کا نئے قانون کے تحت 25 سال پرانے کیسز کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    نیب کا نئے قانون کے تحت 25 سال پرانے کیسز کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    نیب قانون میں تبدیلی کے بعد اہم پیشرفت ہوگئی اور نئے ترمیمی ایکٹ کے تحت پرانے مقدمات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے 25سال پرانے کیسز کا بھی ترمیمی ایکٹ کے تحت جائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔ آصف زرداری کیخلاف پرانے مقدمات پر بھی نظر ثانی کی جائے گی۔ اُرسس ٹریکٹر ، اے آر وائی گولڈ ریفرنس ،ایس جی ایس کوٹیکنا ، پولو گراونڈ مقدمات کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ نیب نے نظرثانی کیلیے ہائیکورٹ میں زیر التوا اپیلوں پر مہلت لینے کا فیصلہ کرلیا۔ نیب نے پرانے کیسز سے متعلق وزارت قانون سے رائے مانگی تھی لیکن وزارت قانون نے رائے دینے سے گریز کیا اور نیب کو خود فیصلہ کرنے کا کہا تھا۔

    دوسری جانب اس سے قبل نیب کے چیئرمین آفتاب سلطان نے کہا تھا کہ ان کی سربراہی میں نیب پہلے سے موجود کرپشن کیسز کو قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق آگے بڑھائے گا۔ عرب اخبار اردو نیوز کے سوال: نیب کے جو کیسز پہلے سے چل رہے ہیں ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ پر آفتاب سلطان نے کہا تھا کہ ’ہم وضع کردہ قوانین اور آئینی عدالتوں کے فیصلوں پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔‘ تاہم یاد رہے کہ نیب اس وقت سابق وزرائے اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر آصف زرداری سمیت حکمران اتحاد کے متعدد رہنماوں کے خلاف کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے۔

    نیب میں کون سے ہائی پروفائل کیسز چل رہے ہیں؟

    نیب اس وقت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس فائل کر چکا ہے جس پر احتساب عدالت میں کاروائی جاری ہے۔ دوسری طرف نیب کی طرف سے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف بنائے گئے جعلی اکاؤنٹس کیس، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے خلاف نارووال سپورٹس سٹی کیس اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی کیسز بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

    اپڈیٹ جاری

  • عامر خان کے بھائی فیصل خان نے انکی فلم لال سنگھ چڈھا کو دھو ڈالا

    عامر خان کے بھائی فیصل خان نے انکی فلم لال سنگھ چڈھا کو دھو ڈالا

    عامر خان بالی ووڈ کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی اداکاری ہو یا ان کی فلمیں مداح ان کے بارے میں ہر چیز کو پسند کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کی اگلی ریلیز کے منتظر رہتے ہیں۔ عامر خان کی اس سال فلم ریلیز ہوئی لال سنگھ چڈھا جو باکس آفس پر کمال نہ دکھا سکی اس چیز نے لگایا عامر خان کو ایک بہت بڑا دھچکا. عامر خان کو ان کے بھائی فیصل خان نے بھی لگایا ہے ایک دھچکا یہ کہہ کر کہ فلم لال سنگھ چڈھا اچھی نہیں تھی عامر خان کو کوئی بہتر سکرپٹ انتخاب کرنا چاہیے تھا. فیصل خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس

    میں انہوں نے ہا کہ انہوں نے لال سنگھ چڈھا کو فوری طور پر نہیں دیکھا تھا لیکن انہوں نے اس فلم کو دیکھا ضرور ، جب دیکھا تو انہیں فلم پوری طرح سے اچھی نہیں لگی بلکہ کچھ کچھ حصے پسند آئے . فیصل خان نے کہا کہ عامر کو ایک بہتر اسکرپٹ کا انتخاب کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ 4 سال بعد کوئی فلم لے کر آرہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عامر خان سے ان کے مداح اچھے کام اور اچھے سکرپٹ کی توقع کرتے ہیں اسلئے سکرپٹ بہتر ہونا چاہیے. ا نہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم دونوں بھائی مختلف مواقعوں پر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ملاتے ہیں مبارکباد بھی دیتے ہیں تاہم ہم دونوں ہی اپنی زندگیوں میں بہت مصروف ہیں.

  • پریگنینسی کے دوران عالیہ بھٹ کا کام کرنا انسپائرنگ ہے رنبیر کپور

    پریگنینسی کے دوران عالیہ بھٹ کا کام کرنا انسپائرنگ ہے رنبیر کپور

    بالی وڈ اداکار رنبیر کپور اپنی اہلیہ عالیہ بھٹ کے ہیں دیوانے، وہ اپنی بیوی سے بے حد متاثر ہیں. حال ہی میں رنبیر کپور نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ عالیہ کا اس حالت میں کام کرنا دوسروں کے لیے موٹیویشن ہے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عالیہ پر کسی بھی قسم کی تنقید صرف حسد ہے۔ حال ہی میں اداکار نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ عالیہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ رنبیر اور عالیہ بالی وڈ میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے جوڑوں میں سے ایک ہیں۔ رواں برس اپریل میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھےتھے۔عالیہ نے اپنی پریگنینسی کی خبر خود سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ساتھ شئیر کی تھی. عالیہ اور رنبیر کافی خوش ہیں ان کے ساتھ ساتھ بھٹ اور کپور

    خاندان بھی آنے والے بچے کےلئے منتظر ہیں. عالیہ اور رنبیر کی فلم براہمسٹرا جو رواں ماہ ہی ریلیز ہوئی ہے اس کے بارے میں کہا جا رہا ہےکہ باکس آفس پر فلم نے کمال بزنس کیا ہے گو کہ یہ فلم بھی بائیکاٹ ٹرینڈ کی زد میں تھی لیکن باکس آفس فیگرز بتاتے ہیں کہ بائیکاٹ ٹرینڈ اس فلم پر اثر انداز نہیں‌ہوسکا. عالیہ بھٹ اب کرن جوہر کی فلم ” راکی ​​اور رانی کی پریم کہانی” میں رنویر سنگھ کے ساتھ نظر آئیں گی۔ عالیہ فرحان اختر کی فلم ”جی لے زرا ”میں بھی کام کر رہی ہیں۔دوسری طرف وہ فلم ہارٹ آف سٹون سے ہالی ووڈ میں بھی ڈیبیو کررہی ہیں، جبکہ رنبیر کپور کے پاس جانورجیسی فلمیں ہیں.