Baaghi TV

Author: +9251

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن تیز جبکہ عالمی امداد کی فراہمی جاری. این ایف آر سی سی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن تیز جبکہ عالمی امداد کی فراہمی جاری. این ایف آر سی سی

    پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاوشیں جاری ہے، پاک آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز نے محصور افراد کو نکالنے کے لیے 516 پروازیں چلائیں۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 پروازیں چلائی گئیں جن میں 87 افراد کو بچایا گیا، ہیلی کاپٹرز سے 32.88 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا، اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4 ہزار 570 سیلاب میں گھرے افراد کا انخلاء کیا گیا ہے،جبکہ ریلیف کیمپس اور امدادی اشیاء جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں۔ سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان سمیت ملک میں 147 ریلیف کیمپس اور 278 امدادی اشیاء کلیکشن پوائنٹس قائم ہیں۔

    نیشنل فلڈ ریسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 8 ہزار 281 ٹن اشیائے خورونوش، غذائی اشیاء اکٹھی کی جا چکیں، جمع کردہ اشیاء میں ایک ہزار 207 ٹن دیگر ضروری اشیاء، 74 لاکھ 3 ہزار 538 ادویات جمع ہوئی ہیں۔ اب تک 7 ہزار 940 ٹن خوراک، 1148 ٹن دیگر ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں، جبکہ 72 لاکھ 19 ہزار 698 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    ملک بھر میں طبی امدادی کیمپس سیلاب متاثرین کو علاج فراہم کر رہے ہیں، اور 300 سے زائد میڈیکل کیمپس میں ایک لاکھ 25 ہزار 506 مریضوں کا علاج ہوا، مفت دوا دی گئی۔ ترکی کی جانب سے 12 امدادی پروازیں بھیجی گئیں، جن میں 4 ہزار 8 ٹن غذائی پیکٹس فراہم کیے گئے، ترکی کی امداد میں بچوں کی خوراک کے ایک ہزار پیکٹس، 520 خیمے، 864 کچن سیٹ، 2 ہزار بستر موجود تھے۔ جبکہ 50 کشتیاں، ہزار ہائی جین باکس، 2.63 ٹن خوراک اور 15.6 ٹن ادویات بھی بھجوائیں۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے 32 پروازوں پر 310 ٹن خوراک، 21 ہزار 245 فوڈ پیکٹس، ہزار خیمے، ایک ہزار بستر، 6.9 ٹن ادویات بھجوائی گئیں۔ سیلاب متاثرین کیلئے چین نے 7 پروازوں کی مدد سے 5 ہزار 719 خیموں کا عطیہ دیا، بیلجئیم نے 300 خیمے، جاپان نے 3 پروازوں سے 700 خیمے اور 303 ترپالیں فراہم کیں. ازبکستان نے 25 ٹن خوراک اور 9 ٹن بستروں کا عطیہ دیا۔

    قطر نے 3 پروازوں پر 5 ٹن ادویات، 291 تکئیے، 300 کمبل،306 گدے بھجوائے ہیں،این ایف آر سی سی کے مطابق قطر نے فیلڈ اسپتال کے قیام کے ساتھ 2 فیلڈ ایمبولینس، طبی آلات سے لیس 2 گاڑیاں دیں۔ امریکہ نے 10 پروازوں میں 14 ہزار 460 کچن سیٹ، 2 ہزار 880 پلاسٹک شیٹس بھجوائیں، فرانس نے 204 خیمے، 208 کچن سیٹ، 1125 بستر، 422 ہائیجین باکس، 78 واٹر پمپس اور 70 موٹر پمپ پائپس بھیجے۔ فرانس نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 8 افراد پر مشتمل میڈیکل ٹیم، 4 افراد پر مشتمل نکاسی آب کی ٹیم بھی پاکستان بھیجی۔

    اردن نے ایک پرواز پر 500 ٹفن باکس، 16 خیمے، ملبوسات کی 52 اور کمفرٹرز کی 2 گانٹھیں، 350 فوڈ پیکٹس، 15 کمبل، 3 ہزار ابتدائی طبی امداد کٹس، 90 جیری کینز، 102 گدے، 101 تکئیے، 280 ری چارجیبل لائٹس، 31 بےبی فوڈ پیکٹس، 2 کچن سیٹس،179 بستر اور ادویات کے 10 باکس بھی عطیہ کیے۔
    ڈنمارک نے ایک پرواز سے 7 پانی صاف کرنے کے یونٹس بھیجے، ترکمانستان نے ایک پرواز سے 40 بیگ آٹا، 60 بیگ دال، 40 بیگ ، 324 پہناوے، 2612 ہائجین باکس، 400 میڈیسن باکس بھیجے۔ یونیسیف نے 2 پروازوں پر میڈیکل ریلیف آئٹمز، سکول کٹس جبکہ اقوام ادارہ مہاجرین نے 9 پروازیں، عالمی ادارہ خوراک نے 7، ہلال احمر نے 2 پروازیں امداد بھیجی۔

  • انوپم کھیر اور انیل کپور نے یش چوپڑا کے گھر کے باہر ماضی کو کیا یاد

    انوپم کھیر اور انیل کپور نے یش چوپڑا کے گھر کے باہر ماضی کو کیا یاد

    بالی وڈ اداکار انوپم کھیر اور انیل کپور نہ صرف ریل لائف کے ساتھی ہیں بلکہ حقیقی زندگی میں بھی ان کا مضبوط رشتہ ہے، ا ن کی دوستی کے کافی چرچے بھی ہیں۔ دونوں اداکاروں نے ایکساتھ کئی فلموں میں کام کیا جن میں ہم آپ کے دل میں رہتے ہیں، رام لکھن، روپ کی رانی چوروں کا راجہ، ہمارا دل آپ کے پاس ہے ، زندگی اک جوا و دیگر کے نام قابل زکر ہیں ان کی زیادہ تر فلمیں باکس آفس پر کامیاب ہوئیں اور ناقدین کی جانب سے انہیں بہت پذیرائی ملی۔ گزشتہ روز انوپم کھیر نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک وڈیو شئیر کی جس میں ان کے ساتھ انیل کپور بھی ہیں. وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انیل کپور اور انوپم کھیر یش چوپڑہ کے گھر کے باہر کھڑے ہیں.وڈیو شئیر کرکے انوپم کھیر نے کیپشن کچھ یوں لکھا”

    مارننگ واک کے دوران یش جی میں اور انیل کپور آپ کے گھر کے باہر کھڑے ہوئے اور آپ کے گھر کے باہر آپ کے ساتھ بیتے لمحوں اور کام کی یادیں تازہ کیں بے شک آپ کا ہماری زندگیوں کو بہتر بنانے میں آپکا بہت بڑا ہاتھ ہے ، شکریہ آپ کے تعاون ، پیار محبت اور ہمارے ساتھ بیتے لمحوں کا . انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اتفاق سے آج فلم چاندنی کو ریلیز ہوئے 33 برس بیت گئے ہیں یاد رہے اس فلم میں رشی کپور، ونود کھنہ، وحیدہ رحمٰن، اور دیگر نے بھی انوپم کھیر کے ساتھ اداکاری کی تھی۔

  • ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام

    ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام

    ملکی معیشت کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں۔ ڈالر اور روپے میں زبردست مقابلہ جاری ہے، روپیہ بڑی مشکل سے اپنی قدر بچانے میں مصروف ہے۔

    پاکستان کی معیشت خطرات میں گھرتی چلی جا رہی ہے، روپے کی قدر میں کمی، معیشت کی شرح نمو، ٹیکسوں کی وصولی، بچتوں و سرمایہ کاری کی شرحیں ، برآمدات ، غذائی قلت ، بیروزگاری اور غربت کی صورتحال گزشتہ برسوں اور خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں خراب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایکسپریس کے ایک مضمون کے مطابق: افراطِ زر، مہنگائی اور ملک پر قرضوں کا بوجھ نا قابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عنقریب بہتری کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ پاکستانی روپے کی بے قدری اور امریکی کرنسی کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے، انٹر بینک میں ڈالر مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ روپے کی قدر گرنے سے صرف ستمبر کے دوران بیرونی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے 1400 ارب سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔

    لوگ مہنگائی، گیس، بجلی اور پٹرولیم کے بحران کی وجہ سے پریشان ہیں، انھیں ملک کی کامیاب بیرونی پالیسی سے زیادہ اپنے مسائل کے حل کی فکر ہے جس پر توجہ بہرحال وزیراعظم میاں شہباز شریف کو ہی دینا ہوگی۔ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد معیشت کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 20فیصد رہنے کا امکان ہے حالانکہ رواں ہفتے یہ شرح40فیصد سے زائد ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور اْن کی کمی کا سامنا بھی ہے۔

    اس لیے پاکستان اس کے اثرات سے نہیں بچ سکتا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے جس وقت اپنی یہ رپورٹ مرتب کی اْس وقت پاکستان میں سیلاب کی صورت حال موجود نہیں تھی، برے معاشی حالات میں سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ہماری رہی سہی کمر بھی توڑ دی ہے۔ ملک میں ساڑھے تین کروڑ افراد سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں ، لاکھوں گھر تباہ ہو گئے اور انفرا اسٹرکچر ختم ہو کر رہ گیا ہے ، فصلیں اور مویشی بھی باقی نہیں رہے اور جو خوراک کا بحران ہمیں پہلے ہی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا ، اْس میں مزید شدت آ جائے گی۔

    ملک ایک بڑی ایمرجنسی سے گزر رہا ہے، اِس وقت پہلی ترجیح معیشت کی بحالی اور سیلاب زدگان کی مدد ہونی چاہیے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد ملکی معیشت کو اس کے اثرات سے نکال کر کیسے نارمل اور خوشحال زندگی کی طرف لوٹنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مفتاح اسماعیل کو ان کی کارکردگی یا معاشی معاملات پہ گرفت کی وجہ سے اگر وزیر خزانہ لگایا ہے تو اب ضروری ہے کہ وہ اس معاشی ابتری سے ملک کو نکالنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں۔ سابقہ حکومت نے تو پونے چار برس میں چار وزیر خزانہ بدلے مگر عوام کی حالت نہیں بدلی۔ معاشی ابتری آج تک ہمارے سروں پر مسلط ہے۔

    آئی ایم ایف سے جس قدر ممکن ہو عوام کے لیے ریلیف حاصل کر کے ہی حکومت اپنا اچھا امیج برقرار رکھ پائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور سی پیک منصوبے کو بہر صورت جاری رکھنے کا جو اعلان کیا ہے اور چین نے اس کا خیر مقدم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی اپنے طویل تعلقات میں بہتری لانے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ عالمی سطح پر ہمیں کسی تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مشکل دور میں جس سے پاکستان گزر رہا ہے ہمیں اندرونی و بیرونی سطح پہ نہایت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ایک تجربہ کار سیاستدان اور بہترین منتظم ہیں۔

    انھوں نے درست کہا ہے کہ ہمارے سامنے بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں۔ معیشت تباہ حال، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے کارخانے بند پڑے ہیں۔ موجودہ حکومت کو بھی اسی طرح معاشی مسائل قرضوں کا بوجھ، مہنگائی، بیروزگاری اور خالی خزانہ جیسے مسائل سابقہ حکومت سے ورثے میں ملے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے پاس نہ تو تجربہ کار ٹیم تھی اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح پالیسی، منصوبہ بندی یا وژن تھا۔ چنانچہ ان کی حکومت ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ میں بھی نہ تو معیشت درپیش مسائل کو حل کر سکی اور نہ ہی عوام کو ریلیف مہیا کر سکی ، بلکہ اپنی ناقص پالیسیوں کی بنا پر پہلے سے موجود مسائل میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ عام آدمی کے لیے ان تک رسائی قریب قریب ناممکن بنا دی گئی۔

    پٹرول، گیس، ڈیزل، بجلی ، گھی اور چینی وغیرہ کے ریٹس بھی انتہا کو پہنچ گئے۔ جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی لیکن اس کے برعکس میاں شہباز شریف کی قیادت میں جو کابینہ تشکیل دی گئی ہے اس میں زیادہ تر پرانے اور تجربہ کار وزیر شامل ہیں، ان میں زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ حکومتوں میں بھی بطور وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ عمران خان کے مقابلے میں اس ٹیم میں ’’ امپورٹڈ ‘‘ وزیر مشیر بہرحال شامل نہیں ہیں جنھیں ملک کے معروضی حالات اور عوامی مزاج سے ہی واقفیت نہیں تھی۔ اس لیے عمران خان کے مقابلے میں میاں شہباز شریف کی حکومت سے عوام بجا طور پر یہ توقعات رکھتے ہیں کہ وہ سابقہ ’’نااہل‘‘ حکمرانوں کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور ایسے اقدامات سے گریز کرے گی جو سابقہ حکومت کرتی رہی ۔

    پاکستان میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری بہت کم ہوگئی ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری کم ہونے کا آسان مطلب یہی ہے کہ سرمایہ کاروں کو یہاں کے حالات کی وجہ سے اپنے سرمائے کے محفوظ رہنے کا یقین نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال کا تقاضا ہے کہ داخلی سطح پر حالات بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے اقدامات کر کے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ حکومت ان تمام شعبوں پر جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ٹیکس لگا کر آمدنی بڑھا سکتی ہے۔

    دوست ممالک سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ زراعت میں بہتری لا کر زرعی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عالمی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے بھی یہ معراج زراعت کو ترقی دیکر حاصل کی ہے۔ یہ ممالک آج بھی اپنے زرعی شعبے کو بے تحاشا سبسڈیز فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زرعی پیداوار سستی ہوتی ہے اور ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

    تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے کہ ایک طوفانِ سیاست برپا ہے جس میں سیلاب زدگان کی آہ و پکار کہیں دب کر رہ گئی ہے ، اگرچہ عمران خان اپنے ہر جلسے میں کہتے ہیں کہ وہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے فنڈ ریزنگ کریں گے مگر ابھی تک عملی طور پر تحریک انصاف کی طرف سے ایسی کوئی امدادی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔

    آنے والے دِنوں میں پاکستان کے حالات امن و امان کے حوالے سے بھی خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگوں کو کھانے پینے تک کی سہولیات نہیں ملیں گی تو وہ سڑکوں پر آ سکتے ہیں، مظاہرے بھی ہو سکتے ہیں، رپورٹ میں یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ بے روزگاری اور بھوک بڑھی تو جرائم میں بھی اضافے کا امکان ہے جو ایک پرامن معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، اب اِن حالات میں فوری الیکشن کا مطالبہ کرنا بھی کسی ستم ظریفی سے کم نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ وسائل کی فراہمی کیسے ممکن ہو، اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ملک و قوم کی اپنی دولت واپس لائی جائے۔ پاکستانیوں کے بیرونِ ملک کاروبار، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس ہیں ، جن لوگوں نے قومی وسائل لوٹ کر یا ٹیکس بچانے کے لیے دولت بیرونِ ملک منتقل کردی ایسی دولت وطنِ عزیز میں لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کھربوں روپے ملک کے نامور شرفا نے قرضوں کی شکل میں بینکوں سے لیے اور بعد میں قرض معاف کروا لیے۔ بینکوں سے بھاری قرضے لینے اور پھر انھیں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر معاف کرانے کی داستان بڑی طویل ہے۔

    ماضی میں سب سے زیادہ زرعی قرضے ترقی کے نام پر بڑے بڑے جاگیرداروں نے حاصل کیے۔ تاجر، صنعت کار اور کاروباری طبقے کے افراد بھی صنعتی ترقی کے نام پر اس دوڑ میں شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے قرضوں کی معافی کے لیے سیاسی وفاداریوں بھی تبدیل کرتے رہے۔ اس طرح انھوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قومی معیشت کو متزلزل کرنے اور مالیاتی اداروں کو دیوالیہ کرنے میں کون سے عناصر سر ِفہرست تھے۔

    میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ ایسی شارٹ ٹرم پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی کہ جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں، اس لیے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں کو اپنی بقا اور آیندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کے مفاد میں فوری اور دیرپا اثرات کی حامل پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی، اگر ایسا نہ ہو سکا تو سابقہ حکومت کی ناکامی کا ملبہ بھی موجودہ حکومت پر آ گرے گا جس سے بچ نکلنا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔

    اس لیے حکومت کو ’’وقت کم مقابلہ سخت‘‘ کی صورتِ حال کا سامنا ہے ملک ایک طرف آئینی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف بدترین مالی بدحالی اور اقتصادی کساد بازاری سے دوچار ہے۔ سابقہ حکومت کی معاشی پالیسی نہ ہونے اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث نئی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے واضح روڈ میپ کے ساتھ انتھک محنت، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے.

  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی

    قومی ادارہ صحت نےکورونا کے گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 3مریض انتقال کر گئے جبکہ 118 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں.

    ملک میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا کے 16ہزار973 ٹیسٹ کیے گئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 0.70 فیصدر رہی. قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں کوروناکے82مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔


    قومی ادارہ صحت نےکورونا کے گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 3مریض انتقال کر گئے جبکہ 118 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا کے 16ہزار973 ٹیسٹ کیے گئے ہیں ۔ ملک میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 0.70 فیصدر رہی ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں کوروناکے82مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔

    ملک میں ایک بار پھر کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) نے شہریوں کو ماسک کا استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ویکسینیشن کے اہل عوام کو کووڈ 19 کے خلاف مکمل ویکسین بھی لگا دی گئی ہے ۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے مطابق 2020ء میں اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد سے رواں سال مارچ میں کیسز کی تعداد کم ترین سطح پر تھی لیکن اب ان کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا تھا۔
    دوسری جانب تعلیمی اداروں میں کورونا بچاؤ ویکسین مہم کا آغاز آئندہ ہفتے سے ہو گا۔ پانچ روزہ مہم 19 ستمبر سے 24 ستمبر تک جاری رہےگی۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور نادرا میں اندراج کرنا بھی ضروری ہو گا۔ بچوں کی ب فارم کےذریعےانٹری کروائی جائےگی۔

    علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج کروانے والے مریضوں کے لیے پینل میں مزید ہسپتال شامل کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔ ہیلتھ کارڈ پروگرام میں سرجری کی جدید ٹیکنالوجی سائبر نائف شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کارڈ کےذریعےعلاج کرانےوالوں کیلئےآسانیاں پیداکی جارہی ہیں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مزید امراض کےعلاج کی سہولت بھی دیں گے عمران خان کے ویژن کےمطابق ہیلتھ کارڈ کو مزید بہتر بنایا جائےگا۔

  • عارف نقوی کی کمپنی کو عمران حکومت میں بغیرمعاہدےگیس دینے کا انکشاف

    عارف نقوی کی کمپنی کو عمران حکومت میں بغیرمعاہدےگیس دینے کا انکشاف

    عارف نقوی کی کمپنی کو سابق حکومت میں بغیرمعاہدےگیس دینے کا انکشاف جبکہ انتظامیہ بارہا پوچھنےکےباوجود کسی معاہدے کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہی.

    عمران خان کی حکومت میں مالی سال دوہزار اکیس،بائیس کی آڈٹ رپورٹ میں مالی بےضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ تحریک انصاف کی مبینہ سیاسی فنڈنگ کرنے والےعارف نقوی کی کمپنی کےالیکٹرک کو3 سال میں بغیر کسی معاہدے کے 174ارب روپے کی آر ایل این جی فراہم کردی گئی۔

    عمران خان کے دور میں وزیر اعظم کے قریبی ساتھی اور تحریک انصاف کے مبینہ فنانسر عارف نقوی کے وارے نیارے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کسی بھی معاہدے کے بغیر ہی عارف نقوی کی کمپنی کے الیکٹرک کو 3 سال میں 173 ارب 74 کروڑ روپے کی آر ایل این جی سپلائی کی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق: آڈٹ رپورٹ 2021-22 کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی شفافیت کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کو بغیر کسی معاہدے کے 1 لاکھ کیوبک فٹ گیس سوئی سدرن کمپنی کے ذریعے فراہم کی گئی۔ انتظامیہ بارہا پوچھنے کے باوجود کسی معاہدے کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہی۔ آڈٹ رپورٹ میں گیس کمپنیوں کی اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں بھی سامنے آگئیں۔

    سوئی سدرن اورسوئی نادرن میں گیس چوری اور لیکیج کی مد میں 36ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ یہ مالی خسارہ صارفین سے زائد بل وصول کرکے پورا کیا گیا جبکہ نادہنگان سے گیس کمپنیاں 58 ارب روپے کی ریکوری میں ناکام بھی رہیں۔

    عارف نقوی کون ہے؟
    واضح رہے کہ اس سے قبل فنانش ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس کے مطابق: ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے آکسفورڈ شائر میں ایک نجی کرکٹ ایونٹ کے ذریعے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کیلئے فنڈز جمع کئے تھے اور ان کے لئے خلیجی ملک کی ایک شخصیت سے بھی فنڈز حاصل کئے۔

    اس مضمون میں سابق وزیراعظم عمران خان پر بھی توجہ مرکوز کی گئی تھی جنہوں نے پہلی بار عارف نقوی کی آف شور کمپنی ووٹون کرکٹ لمیٹیڈ سے عطیات لینے کا اعتراف کیا۔ عارف نقوی کے عالمی سطح پر عروج وزوال کے کئی پہلووں کے بارے میں دنیا لاعلم ہے۔ نقوی کراچی میں پیدا ہوئے اور یہیں زیر تعلیم رہے جس کے بعد وہ 14 ارب ڈالر کی مالیت کے ابراج گروپ کا قیام عمل میں لائے، وہ فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل سے قبل بھی لندن میں امریکی حکومت کی درخواست پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ہاتھوں اپریل 2019 میں گرفتاری کے وقت بھی منفی خبروں کا مرکز رہے ہیں۔

    عارف نقوی ارب پتی اور عالمی سطح پر پاکستانی تجارت کا چہرہ سمجھے جانے والی شخصیت کے بعد اب معاشی طر پر دوستوں پر انحصار کررہے ہیں تاہم اس بارے میں زیادہ تر لوگوں کو معلوم نہیں ہے، ایک ایسی صورتحال میں کہ جب وہ امریکا کی جانب سے ملک بدر کئے جانے کے کیس کیخلاف برطانوی عدالتوں میں کیس لڑرہے ہیں جبکہ اسی دوران وہ عالمی سطح پر میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔ ان کے دوستوں کے ایک گروپ کی جانب سے ان کی ضمانت کیلئے 15 ملین پائونڈ کی ادائیگی کے بعد وہ گزشتہ 4 برس سے لندن میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ ان کی ضمانت بھی انتہائی سخت شرائط پر دی گئی۔

    عارف نقوی نے سنہ 2002 میں ابراج ایکویٹی فرم قائم کی۔عارف نقوی کی کمپنی قیام کے پندرہ برسوں کے اندر دنیا کی سب بڑی ایکو یٹی فرم بن چکی تھی اور دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے ان کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی۔ان کی منیجمنٹ کے زیر اہتمام اثاثوں کی مالیت 14 ارب امریکی ڈالر تھی جبکہ بوگوٹا سے لیکر استنبول، نیروبی اور جکارتہ تک اس کے 25 دفاتر میں 400 کے قریب ملازمین کام کرتے تھے جبکہ کمپنی کا ہیڈکوارٹرز دبئی میں تھا۔ ابراج گروپ کا زوال اس وقت شروع ہوا جب کمپنی کے اہم سرمایہ داروں نے اپنا سرمایہ اچانک سے فرم سے نکال لیا جبکہ ریگولیٹری مسائل، غیر مستحکم سیاسی صورتحال نے بھی کردار ادا کیا حالاں کہ سابق وزراء اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور عمران خان کی جانب سے ابراج گروپ کی بیلنس شیٹ میں آنے والا خلا کو پر کرنے کیلئے تعاون بھی کیا تھا۔

    عالمی سطح پر نام کمانے کے باجود نقوی کبھی بھی پاکستان کی مدد اور بیرون ملک اس کا تشخص برقرار رکھنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ 2005 میں زلزلہ زدگان کی امداد کیلئے ان کی جدوجہد پر اس وقت کے صدر مشرف نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا. جبکہ ملالہ یوسفزئی اور دو مزید لڑکیاں جو ٹی ٹی پی کے حملے میں زخمی ہوگئی تھیں کو برطانیہ متنقل کرنے اور گریجویشن تک ان کی تعلیم کا خرچہ بھی عارف نقوی نے ہی اٹھایا تھا. امن فاونڈیشن کا قیام بھی عارف نقوی ہی کی مرہون منت ہوا جنہوں نے 2008 سے لیکر 2018 تک 35 ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کی جو کراچی میں ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہا ہے۔ 2022 میں عارف نقوی کی خرابی قسمت کے بعد فاونڈیشن کو بند کرنا پڑا تاہم سندھ حکومت نے اس کا انتظام سنبھال لیا۔ انہوں نے 2009 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد مستقبالی فاونڈیشن قائم کی جس نے 1900 یتیم بچوں کی دیکھ بال سنھالی۔

    انہوں نے دبئی میں مقصود نقوی کمیونٹی مسجد کے قیام کیلئے بھی لاکھوں ڈالرز خرچ کئے۔ اسی طرح برطانیہ میں ہیرو مسجد اور مسعود کمیونٹی سینٹر کے قیام کیلئے بھی انہوں نے لاکھوں ڈالرز خرچ کئے۔ ان کی خدمات پر انہیں کئی عالمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے جن میں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ شامل ہے۔

  • سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے  پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی

    سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی

    سعودی عرب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے انسانی امداد کی پہلی پروازکراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچ گئی.

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ کھیپ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی، کراچی میں سعودی عرب کے قونصل جنرل بندر فہد الدیل نے دفتر خارجہ اور این ڈی ایم اے کے نمائندوں کے ہمراہ وصول کی۔پاکستان نے سعودی عرب کی طرف سے سیلاب زدگان کے لئے امدادی سامان کی فراہمی پر سعودی حکومت سے اظہار تشکر کیا ہے.

    علاوہ ازیں ترکیہ سے سیلاب متاثرین کیلئے امداد کی ایک اور پرواز جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی پہنچ گئی۔ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ترکی سے مجموعی طور پر 13 امدادی پروازیں متاثرین سیلاب کے لیے امداد لے کر پاکستان پہنچی ہیں۔ترکی کی طرف سے انسانی امداد کا گرمجوشی اور تشکر کے ساتھ خیرمقدم کیا جاتا ہے.

    پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے امدادی پروازوں کی آمد جاری ہے، اب تک 90پروازیں متاثرین کے لئے امدادی سامان لیکر پاکستان پہنچ گئی ہیں۔

    دفتر خارجہ کے مطابق سیلاب زدگان کے لئے اب تک متحدہ عرب امارات سے 39، ترکیہ سے 13، چین سے 4، ازبکستان سے ایک، قطر سے چار، فرانس سے ایک، یونیسیف کی دو، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارہ ( یو این ایچ سی آر) کی 8 ، ترکمانستان سے ایک، اردن کی ایک اور عالمی ادارہ خوراک کی 3 اور امریکہ سے 11پروازیں،نیپال اور سعودی عرب سے ایک ایک پرواز امدادی سامان لیکر پاکستان پہنچی ہیں ۔

  • ممنوعہ فنڈنگ،پی ٹی آئی سینیٹرسیف اللہ نیازی کے گھر ایف آئی اے کا چھاپہ

    ممنوعہ فنڈنگ،پی ٹی آئی سینیٹرسیف اللہ نیازی کے گھر ایف آئی اے کا چھاپہ

    ایف آئی اے کا پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ نیازی کی رہائش گاہ پر چھاپہ ،اہم مواد اور سامان قبضہ میں لے لیا.

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے عمران حیدر کو جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے چھاپہ مارنے کیلئے وارنٹ ایشو کیا گیا.


    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے اپنےاعصاب پر چھائےہیجان کےباعث انہوں نے ہماری فلڈریلیف ٹیلی تھون تک کو بلیک آؤٹ کیا۔آج انہوں نے
    @SaifullahNyazee
    کےگھر چھاپا مارا اور انکےکمپیوٹر+موبائل وغیرہ لےاُڑے۔امپورٹڈسرکار+اسکےسرپرست ہمیں دیوارسےلگارہے ہیں۔میں انہیں متنبہ کررہاہوں کہ اسکےنتائج ہونگےجو انہیں بھگتناہونگے.پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے سیف اللہ نیازی کے گھر پر چھاپے کی سختی سے مذمت کی ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ سیف اللہ نیازی کے ساتھ زیادتی کی شدید مذمت کرتے ہیں، چیئرمین سینٹ اور متعلقہ اداروں کو اس ضمن میں فوری ایکشن لینا چاہئے۔
    دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے سیف اللہ نیازی کے گھر پر چھاپے کی سختی سے مذمت کی ہے۔

    وارنٹ کے مطابق ایف آئی اے کو اطلاع ملی ہے کہ آفتاب احمد جان ،بلال خان اورچوہدری محمد اقبال میسرزٹائلز ماونٹین کیلئے کام کرتے ہیں اور ان کا دفتر آئی 9 اسلام آباد میں واقع ہے اور پی ٹی آئی کے رہنما اور سینیٹر سیف اللہ نیازی ایف 6 اسلام آباد کے رہائشی ہیں ،جو نامنظور ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ چلاتے ہیں اور اسے مینج کرتے ہیں.ایف آئی کے مطابق متذکرہ ویب سائٹ کے ذریعے فنڈ زاکھٹے کیے جاتے ہیں جو غیر قانونی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں.

    ایف آئی اے کو وارنٹ کے ذریعے حکم دیا گیا کہ ایف آئی اے متذکرہ دونوں مقامات کی تلاشی لے سکتی ہے اور تلاشی کے دوران الیکٹرانکس کی چیز، ڈیجیٹل آلات سمیت کوئی بھی چیز کو قبضہ میں لے سکتے ہیں جس سے تفتیش کرنے میں مدد مل سکتی ہے.

  • کوہاٹ پولیس سٹیشن  پر دستی بم حملہ، ایس ایچ اوسمیت 7 افراد زخمی

    کوہاٹ پولیس سٹیشن پر دستی بم حملہ، ایس ایچ اوسمیت 7 افراد زخمی

    کوہاٹ میں پولیس سٹیشن بلی ٹنگ پر دستی بم حملے میں ایس ایچ او اور چار دیگر پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے. واقعہ عشاء کے وقت پیش آیا جسمیں زخمی ہونے والے تمام افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور پولیس نے واقعے میں ملوث دہشت گردوں کی تلاش شروع کردی ہے.

    پولیس ذرائع کے مطابق کوہاٹ پنڈی روڈ پر واقع تھانہ بلی ٹنگ پر عشاء کے وقت نامعلوم دہشت گردوں نے دستی بم پھینکا جو تھانےکی صحن میں دھماکے سے پھٹ گیا دستی بم کے اس حملے کےنتیجے میں پولیس سٹیشن میں موجود سٹیشن ہاؤس آفیسر عبد الرؤف، کانسٹیبل مظفر حسین، کانسٹیبل مطیع اللہ، کانسٹیبل عتیق، کانسٹیبل اُسامہ اور تھانے میں کسی کام کی غرض سے آئے ہوئے دو مقامی افراد عارف اور سہیل خان زخمی ہوگئے. واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کیلئے سول ہسپتال بلی ٹنگ اور کوہاٹ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے.

    واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور واقعے میں ملوث دہشتگردوں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا. واقعے کے بعد شہر بھر کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور پولیس نے اندرون و بیرون شہرکے مختلف مقامات پر اضافی ناکہ بندیاں قائم کرکے چیکنگ کا عمل بڑھا دیا ہے جبکہ پولیس کی موبائل، رائیڈر اور پیادہ گشت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے. پولیس سٹیشن پر دہشتگردانہ حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی کوہاٹ ڈویژن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں.

  • واپڈا افسروں کیلئے5 ارب سے ذائد کی مفت بجلی، بلوں کا بوجھ عوام پر،ذمہ دار کوں؟

    واپڈا افسروں کیلئے5 ارب سے ذائد کی مفت بجلی، بلوں کا بوجھ عوام پر،ذمہ دار کوں؟

    مہنگائی میں پسے پاکستانی عوام کا معاشی قتل کرنے میں جہاں حکومتوں کا عمل دخل ہے تو وہیں واپڈا کے اہلکار اور افسر بھی کسی سے کم نہیں .

    آئے روز عوام پر بجلی کے بلوں کا اضافی بوجھ ڈال کر حکومت صرف یہ کہ کر بری الاذمہ ہو جاتی ہے کہ مشکل حالات ہیں، مگر حکومت واپڈا کے افسروں اور اہلکاروں کو کس مد میں کروڑوں یونٹ بجلی مفت فراہم کر رہی ہے جبکہ ان افسروں اور اہلکاروں کو باقاعدہ ہر ماہ تنخواہ ملتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واپڈا کے 48 ہزارافسر اور ایک لاکھ 5 ہزارملازمین سالانہ بجلی کے 39 کروڑ 10 لاکھ فری یونٹ استعمال کرتے ہیں جس کی مالیت 5 ارب 25 کروڑ روپے ہے، واپڈا کے افسر اور ملازمین کی شاہانہ مفت بجلی کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے،سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت وقت کو واپڈا ملازمین اور افسروں کو اربوں روپے کی مفت بجلی فراہم کرنے کا نوٹس لینا چاہیئے، سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت واپڈا کے افسروں اور ملازمین کو ماہانہ تنخواہ دیتی ہے تو پھر انہیں مفت بجلی کیوں فراہم کی جارہی ہے ؟.

    وزیراعظم شہباز شریف ملک کی موجودہ صورتحال کی تناظر میں واپدا افسروں اور اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی اربوں روپے کی مفت بجلی کا نوٹس لیں اورمہنگائی کی چکی میں پسے غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں.

    دوسری طرف پروٹیکٹڈ صارفین کے سوا بجلی بلوں پر ون سلیب بینیفٹ ختم کر دیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیب بینیفٹ ختم ہونے سے بجلی صارفین کو بھاری بل موصول ہو رہے ہیں۔ ماہانہ 100 یونٹ استعمال پر فی یونٹ بجلی ریٹ 13روپے 48 پیسے جبکہ 101 سے 200 یونٹ بجلی کی قیمت 18روپے 58 پیسے فی یونٹ ہے۔بینیفٹ کے تحت 150 یونٹ استعمال کرنے پر 100 یونٹ 13 روپے 48 پیسے میں پڑتے تھے۔100 سے اوپر 50 یونٹس پر فی یونٹ 18 روپے 58 پیسے وصول کیے جاتے تھے۔

    حکومت کی جانب سے اب صارفین کو اس ریلیف سے محروم کر دیا گیا ہے۔150 یونٹ پر صارفین سے اب 18 روپے 58 پیسے فی یونٹ وصول کیے جاتے ہیں۔ماہانہ 201 سے 300 فی یونٹ ریٹ 21 روپے 47 پیسے ہے، ماہانہ 400 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ ریٹ 24 روپے 63 پیسے بنتا ہے۔

    ماہانہ 500 یونٹ بجلی استعمال پر فی یونٹ قیمت 26 روپے ہے، ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فی یونٹ قیمت 27 روپے ہے۔ماہانہ 700 یونٹ استعمال پر فی یونٹ ریٹ 27 روپے 65 پیسے ہے، ماہانہ 700 یونٹ سے زائد استعمال پر فی یونٹ نرخ 31 روپے 12 پیسے لاگو ہوتا ہے۔

  • پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی فائرنگ، پاک فوج کے 3 جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی فائرنگ، پاک فوج کے 3 جوان شہید

    پاک افغان سرحد پر ضلع کرم کے علاقے خرلاچی میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے افغانستان کی حدود سے پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوان فرض پر قربان ہوگئے، مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گردوں کو بھی بھاری جانی نقصان پہنچا۔

    شہید ہونے والوں میں نائیک محمد رحمان عمر 32 سال کرک کے رہائشی،نائیک ماویز خان عمر 34 سال جمرود کے رہائشی ،سپاہی عرفان اللہ عمر 27 سال درگئی کے رہائشی شامل ہیں. آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے افغانستان کی سرحد استعمال کرنے کی شید مزمت کرتا ہے.

    شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے افغان حکومت مستقبل میں ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دے گی۔پاک فوج دہشتگردی کی لعنت سے ملکی سرحدوں کے دفاع کا عزم کیے ہوئے ہے۔