Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ میں امریکا کی پاکستان کو شمولیت کی دعوت

    غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ میں امریکا کی پاکستان کو شمولیت کی دعوت

    
وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا نے غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ میں شمولیت کے لیے پاکستان کے وزیرِاعظم کو باضابطہ دعوت دی ہے۔
    اتوار کے روز میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ یہ دعوت امریکی صدر کی جانب سے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
    ‎ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطین مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل کی حمایت کرتا ہے، جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔

  • چابہار بندرگاہ سے علیحدگی پر نریندر مودی کو اندرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا

    چابہار بندرگاہ سے علیحدگی پر نریندر مودی کو اندرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا

    
ایران کی چابہار بندرگاہ سے علیحدگی کے فیصلے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔
    ‎اس معاملے پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں لکھا گیا کہ نریندر مودی نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے سرینڈر کر دیا۔
    ‎کانگریس پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ جو وزیراعظم چابہار بندرگاہ کے معاہدے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے، وہ اب اس کے کنٹرول سے دستبرداری پر خاموش ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مودی ٹرمپ کے آگے جھک گئے اور اس فیصلے سے بھارت کو نقصان پہنچایا۔
    ‎واضح رہے کہ سال 2024 میں بھارت نے دس سال کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا تھا، تاہم امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت نے اس منصوبے سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پابندیاں لاگو ہونے سے قبل بھارت نے ایران کو معاہدے کے تحت طے شدہ 120 ملین ڈالر ادا کر دیے، جس کے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارتی شمولیت کے بغیر بندرگاہ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
    ‎امریکی پابندیوں کی بحالی کو بھارت کے لیے ایک اور بڑا سفارتی اور اقتصادی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

  • گل پلازہ آتشزدگی , سنگین سوالات جواب کے منتظر

    گل پلازہ آتشزدگی , سنگین سوالات جواب کے منتظر

    ہیں۔ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں، ریسکیو کارروائی بروقت کیوں شروع نہ ہو سکی، اور عمارت میں موجود افراد کیوں مدد کے لیے پکارتے رہے؟
    آگ لگنے کے بعد لاپتہ ہونے والوں میں ڈاکٹر شازیہ بھی شامل ہیں۔ ان کے کزن نے واقعے کے بعد انتظامیہ پر شدید غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کہیں نظر نہیں آئے۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ آگ کے دوران ڈاکٹر شازیہ سے فون پر بات ہوئی، وہ مسلسل مدد کی اپیل کرتی رہیں اور صرف اتنا کہہ سکیں کہ مجھے بچا لو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آگ بجھانے کے لیے آنے والی گاڑیاں موقع پر موجود تو تھیں مگر عملہ گاڑیوں میں بیٹھا رہا، جبکہ ایک فائر ٹینڈر میں پانی بھی ختم ہو چکا تھا۔
    ‎کزن کے مطابق مجموعی طور پر صرف چار فائر ٹینڈر عملی طور پر کام کر رہے تھے، جبکہ باقی گاڑیاں کھڑی رہیں اور صورتحال کو سنبھالنے والا کوئی نظر نہیں آیا۔

  • پی آئی اے کا پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑا اقدام

    پی آئی اے کا پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑا اقدام

    ‎پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے انڈونیشیا کی قومی ایئرلائن ‘گارودا’ کے ساتھ اہم معاہدہ کر لیا ہے۔ دونوں ایئرلائنز کے درمیان کارگو اسپیشل پرو ریٹ ایگریمنٹ پر دستخط ہو گئے ہیں، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں تک بلا تعطل اور آسان رسائی ملے گی۔
    ‎یہ معاہدہ جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور جولائی 2027 تک برقرار رہے گا۔ اس کے تحت پاکستانی ایکسپورٹرز جدہ اور کوالالمپور کے ذریعے جکارتہ سمیت دیگر شہروں تک کارگو بھیج سکیں گے۔ سڈنی، میلبورن، سنگاپور، ہانگ کانگ اور بینکاک کے لیے بھی کارگو سہولت دستیاب ہوگی۔
    ‎شنگھائی، گوانگژو، سیول اور آسٹریلیا کی مارکیٹوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی آسان ہو جائے گی۔ برآمد کنندگان اور مال بردار ایجنٹس کو مسابقتی نرخ اور ترجیحی بنیادوں پر کارگو ترسیل کی ضمانت دی گئی ہے۔
    ‎اس معاہدے کا بنیادی مقصد پاکستان کی برآمدات بڑھانا اور فضائی کارگو کے کاروبار کو آسان و وسیع بنانا ہے، جو معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی ملاقات

    ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ چوہدری سالک حسین کی ملاقات میں اوورسیز پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
    ملاقات میں وفاقی سیکریٹری اوورسیز ندیم اسلم چوہدری، آصف جمال، طارق حسن اور عمر مشتاق شریک تھے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ وزیر محنت سعید غنی اور چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ موجود رہے۔ اجلاس میں ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈز کی صوبوں کو منتقلی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈز کی ڈی وولوشن سے مزدوروں کو بڑا فائدہ ہوگا، تاہم قانونی تنازعات کی وجہ سے فنڈز نہ وفاق کو مل رہے ہیں اور نہ صوبوں کو۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مسئلے کا حل باہمی مشاورت سے نکالا جائے گا۔
    ‎دونوں فریقین نے وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، اور فیصلہ ہوا کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین اور صوبائی وزیر سعید غنی اپنی ٹیموں کے ساتھ مزید اجلاس کریں گے۔ ورکرز کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر سے متعلق اصلاحات پر مشترکہ حکمت عملی، اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کو وفاق و صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا گیا۔
    ‎اجلاس میں لیبر ویلفیئر کے معاملات کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

  • خاران: دہشت گردوں کی بینکوں پر لوٹ مار ناکام، 12 دہشت گرد ہلاک

    خاران: دہشت گردوں کی بینکوں پر لوٹ مار ناکام، 12 دہشت گرد ہلاک

    ‎بلوچستان کے ضلع خاران میں دہشت گردوں نے بینکوں پر لوٹ مار کی کوشش کی، مگر سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی سے 12 دہشت گرد مارے گئے۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، بھارتی حمایت یافتہ 15 سے 20 دہشت گردوں نے علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے سٹی پولیس اسٹیشن اور دو بینکوں کو نشانہ بنایا، اور لوٹ مار کے دوران بینکوں سے 34 لاکھ روپے چھین لیے۔
    ‎سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو پسپا کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، کلیئرنس آپریشن کے دوران تین الگ الگ جھڑپوں میں 12 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
    ‎آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کی پولیس اسٹیشن میں یرغمالی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، اور علاقے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف مہم مکمل شدت سے چل رہی ہے، اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔

  • کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایئرسیال کی پروازوں کا آغاز

    کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایئرسیال کی پروازوں کا آغاز

    ‎کوئٹہ – پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے زیر انتظام کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے کراچی اور کوئٹہ کے درمیان ایئرسیال کی پروازوں کے آغاز کی سہولت کامیابی سے فراہم کر دی ہے، جس سے بلوچستان کے فضائی رابطوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
    ‎ایئرسیال اس روٹ پر ہفتے میں تین پروازیں – پیر، بدھ اور جمعہ کو – آپریٹ کرے گی، جس سے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مسافروں کو اضافی سفری آسانیاں حاصل ہوں گی۔
    ‎افتتاحی پرواز ایئرسیال 161، ایئربس A320 طیارے سے چلائی گئی، شام 3 بجکر 15 منٹ پر کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ ہوئی، جس میں 180 مسافر سوار تھے۔ واپسی پرواز 4 بجکر 32 منٹ پر کراچی روانہ ہوئی، جس میں 199 مسافر تھے۔
    ‎اس موقع پر ایک خاص افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف آپریٹنگ آفیسر/ائیرپورٹ مینیجر، ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کے چیف سیکیورٹی آفیسر (سی ایس او)، سی او او (اے ٹی سی)، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے افسران، ایئرسیال کے نمائندے، فلائٹ کریو اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ ایئرپورٹ منیجر نے پی اے اے کی اعلیٰ انتظامیہ کی طرف سے ایئرسیال کے اس قدم کی قدر کی اور کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لاہور اور اسلام آباد سمیت مزید پروازوں کے آغاز کی ترغیب دی۔ کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ مسافروں کی بڑھتی تعداد کے لیے مناسب گنجائش اور جدید سہولیات کا حامل ہے، اور آنے والے وقت میں پروازوں میں اضافے کے لیے تمام ضروری ہوائی سہولیات موجود ہیں۔

  • پی آئی اے کا پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑا اقدام

    پی آئی اے کا پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑا اقدام

    ‎پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے انڈونیشیا کی قومی ایئرلائن ‘گارودا’ کے ساتھ اہم معاہدہ کر لیا ہے۔ دونوں ایئرلائنز کے درمیان کارگو اسپیشل پرو ریٹ ایگریمنٹ پر دستخط ہو گئے ہیں، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں تک بلا تعطل اور آسان رسائی ملے گی۔
    ‎یہ معاہدہ جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور جولائی 2027 تک برقرار رہے گا۔ اس کے تحت پاکستانی ایکسپورٹرز جدہ اور کوالالمپور کے ذریعے جکارتہ سمیت دیگر شہروں تک کارگو بھیج سکیں گے۔ سڈنی، میلبورن، سنگاپور، ہانگ کانگ اور بینکاک کے لیے بھی کارگو سہولت دستیاب ہوگی۔
    ‎شنگھائی، گوانگژو، سیول اور آسٹریلیا کی مارکیٹوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی آسان ہو جائے گی۔ برآمد کنندگان اور مال بردار ایجنٹس کو مسابقتی نرخ اور ترجیحی بنیادوں پر کارگو ترسیل کی ضمانت دی گئی ہے۔
    ‎اس معاہدے کا بنیادی مقصد پاکستان کی برآمدات بڑھانا اور فضائی کارگو کے کاروبار کو آسان و وسیع بنانا ہے، جو معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • 
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بیٹے کی گاڑی کو اسلام آباد میں حادثہ

    
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بیٹے کی گاڑی کو اسلام آباد میں حادثہ

    
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے بیٹے کی گاڑی کو اسلام آباد میں حادثہ پیش آیا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    یہ حادثہ سپریم کورٹ کے سامنے شاہراہِ دستور پر پیش آیا۔ رپورٹس کے مطابق موٹر سائیکل سوار کو بچانے کی کوشش میں گاڑی ڈیوائیڈر سے جا ٹکرائی۔
    ‎حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ٹریفک اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو کنٹرول کیا۔ حکام کے مطابق تمام افراد محفوظ رہے اور واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

  • وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا افتتاح

    وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا افتتاح

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے مفت علاج کے لیے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے۔ علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقے کا سہارا بنے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں وفاقی وزرا، اراکین قومی اسمبلی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ 2016 میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے یہ پروگرام شروع کیا تھا، جو صوبوں میں تیزی سے پھیلا اور لاکھوں خاندان مستفید ہوئے۔ صحت زندگی کی سب سے قیمتی چیز ہے؛ صحت ہو تو تعلیم، کھیل اور ہر شعبے میں سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ صحت کی سہولیات حکومت کی اولین ترجیح ہیں، اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور ان کی ٹیم کو اس کامیابی پر مبارکباد۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اشرافیہ تو بیرون ملک مہنگا علاج کرا لیتی ہے، مگر غریب اور مزدور طبقے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صحت ہوگی تو انسان باوقار روزگار کما سکے گا، نوجوان کھیلوں میں نام روشن کریں گے اور ہر میدان میں کامیابی ملے گی۔ پروگرام کو شفاف بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی استعمال کی جائے، اور سندھ میں بھی اسے نافذ کرنے کی تجویز قابل غور ہے—وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرکے حل نکالیں گے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں بھی صحت پروگرام کامیاب ہیں۔
    ‎وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ 2016 سے چل رہا یہ پروگرام ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو مفت علاج دے گا۔ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 70 ہسپتال شامل ہیں، جبکہ سندھ واحد صوبہ ہے جو اسے استعمال نہیں کر رہا۔ کراچی میں 16 ہسپتال مختص کیے گئے ہیں۔
    ‎پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ یہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد لوگ صحت اخراجات سے خط غربت کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ 600 سے زائد پبلک و پرائیویٹ ہسپتالوں میں کیش لیس علاج ملے گا—شناختی کارڈ یا بے نمبر کو استعمال کیا جا سکے گا۔ گلگت کے پہاڑوں سے گوادر تک ہر ایک کو سہولت ملے گی، اور یہ وبائی امراض میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے صحت کارڈز تقسیم بھی کیے۔