Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • پیٹرول 12 اور ڈیزل 135 روپے سستا

    پیٹرول 12 اور ڈیزل 135 روپے سستا

    ‎وفاقی حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں واضح کمی کی گئی ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
    ‎حکومتی اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 366 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی طور پر 135 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 385 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎یہ کمی حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں کی گئی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو جائے گا، جس کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہوں گی۔
    ‎عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں استحکام برقرار رہا تو آئندہ بھی مزید ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

  • 
ٹرمپ کا انتباہ، 24 گھنٹوں میں مذاکرات کا فیصلہ

    
ٹرمپ کا انتباہ، 24 گھنٹوں میں مذاکرات کا فیصلہ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آ جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی نظریں ممکنہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
    ‎ایک امریکی اخبار سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا زیادہ شدت کے ساتھ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے اور خطے میں بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ میڈیا اور پبلک ریلیشنز کے استعمال میں بھی مہارت رکھتا ہے، اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا اپنی پالیسیوں پر واضح ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان مذاکرات پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے، تاکہ ایران کو جلد کسی نتیجے پر آنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطہ ایک نئے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے نہایت اہم ہیں اور ان میں ہونے والی پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • وزیراعظم کا قوم سے خطاب میں :اہم اعلان متوقع

    وزیراعظم کا قوم سے خطاب میں :اہم اعلان متوقع

    ‎وزیراعظم شہباز شریف آج قوم سے اہم خطاب کریں گے جس میں بڑے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم رات 12 بجے سے پہلے قوم سے خطاب کر سکتے ہیں، اور اس دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان متوقع ہے۔
    ‎حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے مثبت اثرات عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم نئی قیمتوں کی منظوری دیں گے جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
    ‎واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی توقع بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت اس کمی کا مکمل فائدہ عوام کو منتقل کرتی ہے تو مہنگائی میں کچھ حد تک کمی آ سکتی ہے۔
    ‎حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز میں ردوبدل کا مکمل اختیار موجود ہے۔ اس وقت پیٹرول پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے، جو قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری جانب ڈیزل پر گزشتہ ہفتے سے لیوی ختم کی جا چکی ہے، جس سے عوام کو مزید ریلیف کی امید ہے۔
    ‎عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں کمی کا پورا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا آج کا خطاب نہ صرف پیٹرولیم قیمتوں بلکہ مجموعی معاشی صورتحال کے حوالے سے بھی اہم ہو سکتا ہے۔

  • 
پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    
پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    ‎وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کا حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جاتا ہے اور اس بار عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نئی قیمتوں کی منظوری دیں گے، جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
    ‎واضح رہے کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز میں ردوبدل کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس وقت پیٹرول پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے، جو قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
    ‎دوسری جانب ڈیزل پر گزشتہ ہفتے سے لیوی ختم کر دی گئی تھی، جس کے بعد سے عوام کو مزید ریلیف کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔
    ‎عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی کمی کا پورا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کچھ کمی آ سکے۔
    ‎یاد رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی پر پڑتا ہے، اس لیے کسی بھی کمی کو عوام کے لیے بڑا ریلیف سمجھا جاتا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز پر ایرانی کرنسی میں فیس کی تجویز، امریکا کا اعتراض

    
آبنائے ہرمز پر ایرانی کرنسی میں فیس کی تجویز، امریکا کا اعتراض

    ‎ایران نے ایک اہم پیش رفت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ایرانی کرنسی میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے، جس پر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو فیس ایرانی کرنسی میں ادا کرنا ہوگی۔
    ‎ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے اور امریکی بحری جہاز بھی اس سے گزر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ کسی قسم کا دشمنی پر مبنی رویہ اختیار نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر ضروری ہے کہ تمام جہاز ایرانی افواج کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ ان کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آبنائے ہرمز میں مخصوص محفوظ راستے موجود ہیں جن کے ذریعے جہازوں کو بحفاظت گزارا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کو ایران کی جانب سے اپنی بحری حدود میں کنٹرول بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکا نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران ایسا کر رہا ہے تو اسے فوری طور پر یہ عمل بند کرنا ہوگا۔
    ‎امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تیل کی نقل و حرکت پر اس قسم کے اقدامات عالمی معاہدوں کے خلاف ہیں اور خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی پابندی یا فیس عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے ایران کی یہ تجویز نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

  • 
سعودی وزیر خزانہ اسلام آباد پہنچ گئے، وزیراعظم سے اہم ملاقات متوقع

    
سعودی وزیر خزانہ اسلام آباد پہنچ گئے، وزیراعظم سے اہم ملاقات متوقع

    ‎سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد بن عبد اللہ الجدعان اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات کے پیش نظر اس دورے سے اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
    پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں اور پاکستان اس پورے عمل میں ایک کلیدی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود کی آمد اور مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال براہ راست خلیجی معیشت اور عالمی توانائی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔ اسی لیے اس دورے میں علاقائی سیکیورٹی، تیل کی ترسیل اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس وقت سفارتی سطح پر قریبی رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
ایران مکمل الرٹ، دشمن کی کسی بھی کارروائی پر سخت ردعمل کا انتباہ

    
ایران مکمل الرٹ، دشمن کی کسی بھی کارروائی پر سخت ردعمل کا انتباہ

    ‎ایران کی مسلح افواج نے دشمنوں کی ممکنہ کارروائیوں کے پیش نظر مکمل الرٹ رہنے کا اعلان کرتے ہوئے سخت ردعمل کی وارننگ دے دی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خاتم الانبیا ﷺ مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور صہیونی قوتوں کی ماضی کی وعدہ خلافیوں کے باعث ایران کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج ہر وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جارحانہ اقدام کو بغیر جواب دیے نہیں چھوڑا جائے گا۔ حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
    ‎ایرانی فوجی قیادت نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا جائے گا، جہاں ایران اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرے گا۔ ماہرین کے مطابق اس بیان کو عالمی سطح پر ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے۔
    ‎بیان میں واضح طور پر خبردار کیا گیا کہ اگر حزب اللہ اور لبنان کے عوام، خصوصاً ضاحیہ کے علاقوں پر حملے جاری رہے تو ایران کی جانب سے سخت اور تکلیف دہ ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ اس بیان سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے یہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • مذاکرات سے پہلے شرائط پوری کرنے کا مطالبہ:ایران کا دوٹوک مؤقف

    مذاکرات سے پہلے شرائط پوری کرنے کا مطالبہ:ایران کا دوٹوک مؤقف

    ‎ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل بعض اہم معاملات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان پہلے سے طے شدہ نکات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دو اہم معاملات ایسے ہیں جن پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے اثاثوں کی بحالی ایسے بنیادی نکات ہیں جنہیں نظر انداز کر کے مذاکرات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
    ‎قالیباف کے مطابق ان امور کا حل مذاکرات سے پہلے ہونا چاہیے تاکہ بات چیت ایک واضح اور مضبوط بنیاد پر شروع ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو مذاکرات کا عمل مؤثر نہیں ہو پائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مذاکرات میں داخل ہونے سے پہلے اپنی شرائط کو یقینی بنانا چاہتا ہے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے لیے عالمی توجہ مرکوز ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی یہ شرائط مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ تہران اپنی پوزیشن کو مضبوط رکھتے ہوئے کسی بھی بات چیت میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ہر فریق اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔

  • 
جنگ بندی کے بعد سوشل میڈیا پر تھینک یو پاکستان ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    
جنگ بندی کے بعد سوشل میڈیا پر تھینک یو پاکستان ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    ‎مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور کامیاب جنگ بندی کے بعد پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک بڑی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار کے باعث دنیا بھر میں اس کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
    ‎آئی پی ایس او ایس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی اور متوازن حکمت عملی کے نتیجے میں 70 فیصد عالمی رائے عامہ اب پاکستان کے حق میں ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی ملک کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے حساس خطے میں جہاں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
    ‎پاکستان کی اس کامیابی کو سوشل میڈیا پر بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ “Thank You Pakistan” کے ہیش ٹیگ نے عالمی سطح پر ٹرینڈ کیا، جہاں مختلف ممالک کے صارفین نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کا کریڈٹ دیا۔
    ‎عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اپنی متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو ایک سنجیدہ اور قابل اعتماد سفارتی طاقت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاں پاکستان کو سراہا جا رہا ہے، وہیں بھارت کے بعض بیانات پر عالمی سطح پر تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت کا مؤقف اس صورتحال میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ عالمی میڈیا کی توجہ پاکستان کے مثبت کردار پر مرکوز رہی۔
    ‎ملک کے اندر بھی عوام نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی اور عسکری قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو اس نازک مرحلے پر مؤثر فیصلے کرنے پر سراہا جا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سفارتی کامیابی کے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر مثبت تاثر کسی بھی ملک کی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

  • 
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    ‎پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد دونوں قیمتی دھاتیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں اور نئی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
    ‎صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی سونے اور چاندی کے نرخوں میں اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمت میں 30 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی اونس قیمت 4753 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس عالمی رجحان کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑا۔
    ‎ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3000 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 97 ہزار 662 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2572 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 26 ہزار 664 روپے تک پہنچ گئی۔
    ‎دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 130 روپے مہنگی ہو کر 8014 روپے تک جا پہنچی، جس کے بعد یہ دوبارہ 8 ہزار روپے کی سطح عبور کر گئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہی عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس سے عام صارفین اور سرمایہ کار دونوں متاثر ہوں گے۔