Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ڈی آئی خان میں زہریلا حلوہ کھانے سے 3 بچے جاں بحق

    ڈی آئی خان میں زہریلا حلوہ کھانے سے 3 بچے جاں بحق

    ‎ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر مضر صحت حلوہ کھانے سے تین کمسن بچے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق بچے ایک ایسے مقام پر موجود تھے جہاں جنگل کے قریب حلوہ رکھا ہوا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچوں نے وہی حلوہ کھا لیا جس کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی۔ متاثرہ خاندان پہاڑی علاقے میں مزدوری کے سلسلے میں مقیم تھا، جہاں سہولیات کی کمی کے باعث بروقت طبی امداد بھی ممکن نہ ہو سکی۔
    ‎واقعے کے بعد بچوں کو بچانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حلوہ وہاں کیسے پہنچا اور آیا اس میں کوئی زہریلا مادہ شامل تھا یا نہیں۔
    ‎یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مضر صحت خوراک کے باعث بچوں کی اموات کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس نے خوراک کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو غیر محفوظ یا نامعلوم جگہوں پر رکھی اشیاء کھانے سے روکیں، جبکہ حکام کو بھی چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معمولی سی لاپرواہی بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط اور بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

  • آبنائے ہرمز کے قریب جنگی جہاز پر سخت کارروائی ہوگی، ایرانی پاسداران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز کے قریب جنگی جہاز پر سخت کارروائی ہوگی، ایرانی پاسداران کا انتباہ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جنگی جہاز کی اس حساس سمندری علاقے کے قریب موجودگی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
    ‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی بحریہ کے کنٹرول اور جدید نظام کے تحت منظم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
    ‎بیان میں واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز غیر فوجی اور تجارتی جہازوں کے لیے مخصوص ضوابط کے تحت کھلی ہے، تاہم کسی بھی فوجی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز میں سرگرمیوں کو بڑھانے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے اور کسی بھی غلط قدم سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

  • ایرانی بحریہ کو بڑا نقصان، مگر تیز رفتار کشتیاں اب بھی خطرہ

    ایرانی بحریہ کو بڑا نقصان، مگر تیز رفتار کشتیاں اب بھی خطرہ

    ‎امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیاں اب بھی بڑی حد تک محفوظ ہیں اور خطے میں خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے 155 سے زائد بحری جہازوں کو تباہ کیا ہے، جس کے باعث ایران کی روایتی بحریہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر بڑے جنگی جہاز، فریگیٹس اور آبدوزیں نشانہ بنیں، جنہیں طویل فاصلے کی تعیناتیوں اور دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایران اپنے 7 میں سے 6 فریگیٹس، دونوں کورویٹس اور 3 میں سے ایک آبدوز کھو چکا ہے، جو اس کے بحری ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ایک اہم کارروائی میں امریکی آبدوز نے بحر ہند میں ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔
    ‎تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری قوت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ان کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے تنگ سمندری راستوں میں مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
    ‎امریکی تھنک ٹینک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان تیز رفتار کشتیوں کا 60 فیصد سے زائد حصہ اب بھی محفوظ ہے۔ یہ کشتیاں میزائل حملوں، بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، جس سے خطے میں خطرات بدستور موجود ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی کشتیاں تعداد میں زیادہ ہونے کے باعث اور سائز میں کم ہونے کی وجہ سے نگرانی سے بچ جاتی ہیں، جبکہ ایران نے ساحلی علاقوں میں زیر زمین اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں یہ حملہ آور کشتیاں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔
    ‎یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ ایران کو بحری محاذ پر نقصان ہوا ہے، لیکن اس کی غیر روایتی بحری حکمت عملی اب بھی مؤثر ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں خطرہ برقرار ہے۔

  • ایران کی آئل ریفائننگ بحالی کا اعلان، 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال 


    ایران کی آئل ریفائننگ بحالی کا اعلان، 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال 


    ‎ایران کے نائب وزیر تیل نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں متاثر ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال کر لی جائے گی۔
    ‎ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر تیل نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ توانائی کے شعبے کو جلد از جلد معمول پر لایا جا سکے۔ ان کے مطابق نقصان کا تخمینہ لگانے کے بعد بحالی کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا تھا اور اب اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ لاوان آئل ریفائنری، جو حملوں کے دوران شدید متاثر ہوئی تھی، اس کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ کام شروع کر دے گا۔ یہ پیش رفت ایران کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے ریفائننگ صلاحیت کی بحالی عالمی تیل مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے سپلائی میں بہتری آئے گی اور ممکنہ طور پر قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوئی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں گے۔
    ‎یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اپنی توانائی کی صلاحیت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • اسٹریٹ چلڈرن کا عالمی دن، بچوں کے حقوق اور شرکت پر زور

    اسٹریٹ چلڈرن کا عالمی دن، بچوں کے حقوق اور شرکت پر زور

    ‎دنیا بھر میں 12 اپریل کو اسٹریٹ چلڈرن کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس میں سینکڑوں تنظیمیں حصہ لے کر سڑکوں سے وابستہ بچوں کی زندگی، مسائل اور ان کی ہمت کو اجاگر کر رہی ہیں۔ یہ دن ان لاکھوں بچوں کے نام کیا جاتا ہے جو مشکل حالات کے باوجود زندگی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنے لیے بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔
    ‎اس سال اس دن کا مرکزی موضوع بچوں کی شرکت اور ان کی آواز کو اہمیت دینا ہے۔ ماہرین اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر رہنے والے بچوں کو صرف مدد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں ایسے مواقع دینا بھی ضروری ہے جہاں وہ اپنی زندگی سے متعلق فیصلوں میں حصہ لے سکیں۔
    ‎دنیا کے مختلف ممالک میں اس دن کے موقع پر تقریبات، آگاہی مہمات اور سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ان بچوں کے مسائل سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان بچوں کو اکثر تعلیم، صحت، تحفظ اور بنیادی حقوق تک رسائی حاصل نہیں ہوتی، جس کے باعث وہ معاشرے کے نظر انداز کیے گئے طبقے میں شامل ہو جاتے ہیں۔
    ‎سماجی کارکنوں کے مطابق سٹریٹ چلڈرن کو درپیش مسائل میں غربت، بے گھر ہونا، تشدد، استحصال اور تعلیم سے محرومی شامل ہیں۔ ایسے حالات میں ان بچوں کو نہ صرف تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ انہیں ایسے پلیٹ فارمز بھی فراہم کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ اپنی بات مؤثر انداز میں رکھ سکیں۔
    ‎ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومتیں، غیر سرکاری تنظیمیں اور معاشرہ مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے ان بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے۔ تعلیم، ہنر مندی اور ذہنی صحت کے پروگرامز کے ذریعے انہیں بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎یہ دن اس عزم کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہر بچے کو برابر کے حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور کسی بھی بچے کو اس کی حالت کے باعث نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر ان بچوں کو صحیح سمت اور سہارا دیا جائے تو وہ بھی معاشرے کا ایک مفید حصہ بن سکتے ہیں۔

  • منی پور میں گولہ باری، دو کمسن بچے جاں بحق، خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی

    منی پور میں گولہ باری، دو کمسن بچے جاں بحق، خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی

    ‎بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں گولہ باری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے دو کمسن بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ 7 اپریل کی رات ضلع بِشنو پور کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔
    ‎متاثرہ خاندان کے بزرگ بابو تون اُوینم نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھر پر اچانک ایک بڑا گولہ آ کر گرا، جس نے چند لمحوں میں ان کی خوشیاں چھین لیں۔ ان کے مطابق اس وقت ان کی بہو اپنے دونوں بچوں کے ساتھ کمرے میں سو رہی تھی کہ زوردار دھماکہ ہوا اور گولہ کھڑکی سے اندر آ کر پھٹ گیا۔
    ‎اس دھماکے کے نتیجے میں چار سالہ بچہ اور پانچ ماہ کا شیرخوار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہوئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر بچوں کی جان نہ بچائی جا سکی۔ ان کی بہو اب بھی زیر علاج ہیں اور شدید صدمے کی حالت میں ہیں۔
    ‎بابو تون نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہو کو اس دلخراش حقیقت سے ابھی تک لاعلم رکھا ہے کہ اس کے دونوں بچے اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے مطابق جب بھی وہ اپنے بچوں کے بارے میں پوچھتی ہے تو وہ سچ بتانے کی ہمت نہیں کر پاتے، کیونکہ یہ خبر اس کے لیے ناقابل برداشت ہو سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا بیٹا بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس میں خدمات انجام دے رہا ہے اور اس وقت بہار میں تعینات ہے، جبکہ ان کی بہو بطور نرس کام کرتی ہیں اور زچگی کی چھٹی پر اپنے آبائی گھر آئی ہوئی تھیں۔
    ‎یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے بلکہ علاقے میں جاری کشیدگی اور بدامنی کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ معصوم بچوں کی ہلاکت نے ایک بار پھر سوال اٹھا دیا ہے کہ ایسے حالات میں عام شہری، خصوصاً بچے، کب تک اس تشدد کا نشانہ بنتے رہیں گے۔

  • بہاماس میں پراسرار گمشدگی، سمندر کی زندگی خوفناک سوال بن گئی

    بہاماس میں پراسرار گمشدگی، سمندر کی زندگی خوفناک سوال بن گئی

    ‎بہاماس میں ایک امریکی خاتون کی پراسرار گمشدگی نے سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی خوبصورت زندگی کے پیچھے چھپے سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔ 55 سالہ لینٹ ہوکر، جو اپنے شوہر کے ساتھ سمندر میں زندگی گزار رہی تھیں، اچانک لاپتہ ہو گئیں اور اب کئی دن گزرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
    ‎لینٹ ہوکر اپنی روزمرہ زندگی کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتی تھیں، جہاں وہ سمندر میں سفر، مچھلیوں کے ساتھ تیراکی اور کشتی پر گزارے گئے لمحات دکھاتی تھیں۔ ان کی پوسٹس میں خوشی، آزادی اور مہم جوئی نمایاں نظر آتی تھی، مگر ان کی گمشدگی نے اس کہانی کو ایک معمہ بنا دیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے شوہر برائن ہوکر کے ساتھ ایک چھوٹی کشتی میں سوار تھیں۔ شوہر کے بیان کے مطابق تیز ہوا اور خراب موسم کے باعث وہ پانی میں گر گئیں اور تیز لہروں نے انہیں بہا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بچانے کی کوشش کی مگر وہ نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔
    ‎تاہم اس واقعے نے اس وقت مزید پیچیدگی اختیار کر لی جب پولیس نے شوہر کو حراست میں لے لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ اگرچہ ان پر اب تک کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا، مگر وہ تمام الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔ دوسری جانب خاتون کی بیٹی نے تعلقات میں مسائل اور مبینہ گھریلو تشدد کے خدشات کا اظہار کیا ہے، جس سے کیس مزید حساس ہو گیا ہے۔
    ‎حکام نے ابتدائی طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، جس میں سمندر اور ساحلی علاقوں میں وسیع تلاش کی گئی، مگر کئی دن گزرنے کے بعد اسے ریکوری مشن میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران امریکی کوسٹ گارڈ بھی تلاش میں شامل رہی۔
    ‎خاندان اور دوست اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ لینٹ ہوکر زندہ مل جائیں گی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ امید کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے صدمہ ہے بلکہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی زندگی اور حقیقت کے درمیان فرق کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

  • جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے تیز، شہادتیں 2000 سے تجاوز

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے تیز، شہادتیں 2000 سے تجاوز

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے بدستور جاری ہیں جس کے نتیجے میں جانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے حملوں میں مزید 97 افراد شہید جبکہ 133 زخمی ہو گئے ہیں۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی اس فوجی کارروائی میں اب تک مجموعی طور پر 2 ہزار 20 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 6 ہزار 436 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
    ‎متاثرہ علاقوں میں شہری آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جہاں بنیادی سہولیات بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ہسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث طبی عملہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔
    ‎عالمی سطح پر اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

  • ٹرمپ نے ایران امریکہ مزاکرات پہ پاکستانی قیادت کو سراہا

    ٹرمپ نے ایران امریکہ مزاکرات پہ پاکستانی قیادت کو سراہا

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مؤثر اور قابل تحسین قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات پاکستان کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے ممکن ہوئے۔
    ‎ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کا آغاز صبح سویرے ہوا اور تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہا، جس دوران کئی اہم نکات پر پیش رفت بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران فریقین کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھی، تاہم کچھ بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
    ‎امریکی صدر نے پاکستانی قیادت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف ان مذاکرات کو ممکن بنایا بلکہ خطے میں امن کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی رہنماؤں نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا، جو ایک سنگین انسانی بحران کا سبب بن سکتا تھا۔
    ‎تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں، جس کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے لیے یہ قابل قبول نہیں کہ ایک غیر متوقع ملک کے پاس جوہری صلاحیت موجود ہو۔ اسی وجہ سے اس معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھا گیا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتی سطح پر پیش رفت ہوئی ہے، مگر کچھ اہم معاملات ایسے ہیں جن کے حل کے بغیر مکمل معاہدہ ممکن نہیں۔

  • ایران امریکا معاہدہ فوری ممکن نہیں تھا: روس

    ایران امریکا معاہدہ فوری ممکن نہیں تھا: روس

    ‎جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے میں روس کے نمائندے میخائیل اولیانوف نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ نہ ہونا کوئی حیران کن بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے پیچیدہ اور حساس معاملات پر چند گھنٹوں میں اتفاق رائے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔
    ‎میخائیل اولیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر کسی ایک فریق کو مکمل طور پر پیچھے ہٹنا پڑتا تو شاید معاہدہ ممکن ہو سکتا تھا، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، جس کی وجہ سے فوری پیش رفت مشکل نظر آتی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا واقعی ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے طویل سفارتی عمل کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ اس میں نہ صرف متعدد مذاکراتی دور شامل ہوں گے بلکہ ماہرین کی سطح پر بھی تفصیلی بات چیت ضروری ہوگی۔ ان کے بقول یہی مؤثر سفارت کاری کا بنیادی اصول ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں پیش رفت سست ضرور ہوتی ہے، مگر مسلسل رابطہ ہی حل کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کا یہ بیان عالمی سفارتی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے تنازعات کے حل کے لیے صبر، وقت اور مستقل مذاکرات ناگزیر ہوتے ہیں۔