ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے باعث ایشیائی مالیاتی مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سفارتی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت کم ہو کر 97 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ برینٹ خام تیل 95.37 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی سطح پر کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقعات سے جوڑی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس میں 1993 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہوا اور مارکیٹ ایک لاکھ 67 ہزار 457 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ سرمایہ کاروں نے اس مثبت پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
ایشیائی مارکیٹس میں بھی مجموعی طور پر مثبت رجحان رہا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً 2 فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کاسپی انڈیکس 1.40 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.55 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بھارت کا ممبئی سینسیکس بھی دورانِ کاروبار 1.2 فیصد تک اوپر گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو خوش آئند سمجھتے ہوئے مارکیٹس میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے اور اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران امریکا مذاکرات کا اثر، ایشیائی مارکیٹس میں تیزی، تیل سستا
-

شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ، جوہری صلاحیت مزید مضبوط
شمالی کوریا نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ ونگ یانگ سے آنے والی رپورٹس کے مطابق ملک نے کلسٹر بم وار ہیڈ سے لیس ہواسانگ-11 بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً 7 ہیکٹر کے وسیع علاقے میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہتھیار میدانِ جنگ میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی اکیڈمی آف ڈیفنس سائنس اور میزائل ایڈمنسٹریشن نے اس کے ساتھ ساتھ دیگر جدید ہتھیاروں کے تجربات بھی کیے، جن میں برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام، کاربن فائبر بم اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے طیارہ شکن میزائل سسٹم شامل ہیں۔
ان تجربات کی نگرانی کرنے والے جنرل کم جونگ سک کے مطابق برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام اور کاربن فائبر بم شمالی کوریا کی فوج کے لیے نہایت اہم اور خصوصی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار دشمن کے حساس نظام کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق شمالی کوریا عالمی حالات، خصوصاً یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے سیکھتے ہوئے اپنی فوجی حکمت عملی کو جدید بنا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ تجربات نہ صرف روایتی جنگی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہیں۔
جنوبی کوریا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی مقناطیسی ہتھیار دشمن کے الیکٹرانک نظام کو ناکارہ بنا سکتے ہیں، جبکہ کاربن فائبر بم بنیادی ڈھانچے جیسے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کسی بھی تنازع میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے ایسے جدید ہتھیاروں کی تیاری خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ -

پاک بحریہ کا شاندار ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکی عملہ محفوظ
پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں ایک کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران 18 افراد پر مشتمل غیر ملکی عملے کو بحفاظت بچا لیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب تجارتی بحری جہاز “ایم وی گولڈ آٹم” سے ہنگامی سگنل موصول ہوا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہنگامی اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس دوران پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ریسکیو کیے گئے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جن میں چین، بنگلادیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران بحریہ کی ماہر ٹیم نے نہ صرف عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا بلکہ انہیں فوری طبی امداد بھی فراہم کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر ریسکیو ٹیم نے آگ بجھانے میں بھی مدد فراہم کی اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔
ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو بعد ازاں بحفاظت کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی اپنے ممالک واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور سمندری حدود میں انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
یہ کامیاب آپریشن پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فوری ردعمل کی -

پابندی ختم ہونے کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی
اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد آج ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز جمعہ ادا کی۔ پابندی کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں نمازی قبلہ اول پہنچے اور روح پرور اجتماع دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں سکیورٹی خدشات کو وجہ بنا کر اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، جس کے باعث متعدد فلسطینیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا گیا تھا۔ تاہم پابندی ہٹنے کے بعد آج صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی اور نمازیوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئی۔
نماز جمعہ کے موقع پر مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ فلسطینی شہریوں نے پرامن انداز میں عبادات ادا کیں۔ اس موقع پر لوگوں نے نہ صرف نماز ادا کی بلکہ قبلہ اول سے اپنی عقیدت کا اظہار بھی کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں سے آنے والے فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کیا۔ کئی افراد صبح سویرے ہی مسجد کے دروازوں پر پہنچ گئے تھے تاکہ وہ اس مقدس مقام پر نماز جمعہ کی سعادت حاصل کر سکیں۔
ہے، اور یہاں عبادت کی آزادی ایک حساس اور اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطینی عوام اس مقام سے گہری مذہبی وابستگی رکھتے ہیں۔ -

اسلام آباد ہائی الرٹ، امریکی و ایرانی وفود کی آمد متوقع
اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت میں غیر یقینی اور انتظار کی کیفیت برقرار ہے۔ حکام کے مطابق وفود کی آمد کسی بھی وقت متوقع ہے، تاہم ابھی تک باضابطہ طور پر کسی وفد کی آمد کی تصدیق نہیں کی گئی۔
بی بی سی کی ٹیم جب ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب رپورٹنگ کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت دی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وفود کی آمد کے حوالے سے حساس معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔
ریڈ زون، جہاں اہم سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں چیک پوسٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ بھی اسلام آباد پر مرکوز ہے اور متعدد بین الاقوامی صحافی شہر پہنچ چکے ہیں تاکہ ممکنہ مذاکرات کی کوریج کی جا سکے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وفد کی آمد کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم وہ پوسٹ کچھ ہی دیر بعد حذف کر دی گئی، جس کے بعد مزید قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
ابھی تک پاکستان کی جانب سے مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ ممکنہ بات چیت ہفتے کی صبح ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان میں ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر حملے
لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں تازہ فضائی حملوں میں طبی عملے اور امدادی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے راس العین کے علاقے میں ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر بمباری کی، جس سے امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے بلکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کو مسلسل مسترد کیے جانے کے باعث خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی ان حملوں پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ یوسف رگی نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان پر حملے ناقابل قبول ہیں اور عالمی برادری کو فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے انہیں رکوانا چاہیے۔
آئرش وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ طبی عملے اور امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس طرح کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی بغیر نام لیے امریکا کو خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اتحادی، جن میں لبنان بھی شامل ہے، کسی بھی ممکنہ جنگ بندی عمل کا لازمی حصہ ہوں گے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والے کسی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کو بھی مسترد کیا جا چکا ہے، جبکہ نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم ان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ -

مودی حکومت کا یوٹرن، مشرق وسطیٰ بحران پر پہلی بار ردعمل
میں جاری کشیدگی پر اپنا ردعمل دے دیا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے پہلی بار لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم منافقت دکھاتے ہوئے بیان میں اسرائیل کا نام لینے سے گریز کیا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتیں نہایت پریشان کن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین، قومی خودمختاری اور ریاستی سلامتی کا احترام ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق بھارت موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک سمجھتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بھارت اقوام متحدہ کے امن مشن میں فعال کردار ادا کرتا ہے اور لبنان کے امن و استحکام میں اس کی گہری دلچسپی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر دنیا بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے گئے، حالانکہ اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا تھا۔
لبنان کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 254 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1165 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی پر عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے باعث اسے اس حساس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی۔ تاہم اسرائیل کا نام نہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ بھارت ابھی بھی منافقانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ -

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانگی کے لئے تیار
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں وہ ایران سے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اہم سفارتی بات چیت کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ہدایات کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور پاکستان اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے، جہاں اسے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے ثالثی کرنی ہے۔ بعض ماہرین اس مشن کو انتہائی مشکل قرار دے رہے ہیں، تاہم پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ہفتوں میں بھرپور سفارتی سرگرمیاں انجام دی ہیں تاکہ خطے میں ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے۔ خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحدوں، ایران اور افغانستان کے ساتھ، کشیدگی میں اضافہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان اس نازک صورتحال میں کامیاب ثالثی کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ اس سے عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اس کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔ -

پانی کی شدید قلت، پاکستان خطرناک حد میں داخل
پاکستان میں پانی کی قلت سنگین صورت اختیار کر گئی ہے اور ملک اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا کا 14واں ملک بن گیا ہے جو شدید پانی کی کمی کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق فی کس پانی کی سالانہ دستیابی اب 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم ہو گئی ہے، جو عالمی معیار کے مطابق “واٹر اسکارس” یعنی شدید قلت کی سطح ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہری زندگی بلکہ زراعت اور معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی، پانی کے ضیاع، ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت اور موسمیاتی تبدیلیاں اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ ملک میں بڑے ڈیمز کی کمی اور پانی کے مؤثر استعمال کی عدم منصوبہ بندی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور معاشی مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ پانی کے بہتر انتظام، نئے ذخائر کی تعمیر اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ پانی کے استعمال میں احتیاط کریں تاکہ اس قیمتی وسائل کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک واضح وارننگ ہے کہ اگر ابھی سے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ بحران ایک بڑے قومی مسئلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ -

امریکا میں سائنسدانوں کی پراسرار اموات اور گمشدگیاں، سوالات بڑھ گئے
امریکا میں گزشتہ تین سالوں کے دوران 9 معروف سائنسدانوں کی پراسرار اموات اور گمشدگیوں نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے، جس پر ماہرین اور سیکیورٹی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سائنسدان غیر معمولی حالات میں یا تو ہلاک ہوئے یا پھر اچانک لاپتہ ہو گئے، جس نے ان واقعات کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینسر ریسرچ سے وابستہ سائنسدان جیسن تھامس کی لاش ایک جھیل سے ملی، جبکہ ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل ولیم میک کاسلینڈ کو لاپتہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ماہر فلکیات کارل گرل مائر کو کیلیفورنیا میں قتل کیا گیا جبکہ فیوژن انرجی کے سائنسدان نونولو ریرو بھی فائرنگ کا نشانہ بنے۔
مزید برآں ناسا کے جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ میٹریلز چیف مونیکا ریزا گزشتہ سال سے لاپتہ ہیں، جبکہ لاس الاموس لیبارٹری کے دو سائنسدان بھی پراسرار طور پر غائب ہو گئے، جو اپنے گھروں سے نکلے مگر ان کی گاڑیاں اور دیگر سامان وہیں چھوڑ دیا گیا۔
ایک سابق ایف بی آئی افسر کے مطابق ان تمام واقعات میں مماثلت پائی جاتی ہے اور انہیں محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم حکام کی جانب سے اب تک کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پراسرار واقعات کی مکمل اور شفاف تحقیقات نہایت ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور اگر کوئی منظم پہلو موجود ہے تو اسے بے نقاب کیا جا سکے۔