لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اسرائیلی حملوں کے تناظر میں پاکستان سے فوری تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اور اس کے عوام پر جاری حملے روکے جائیں۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور لبنانی وزیراعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن کی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ لبنان پر حملوں کو فوری رکوانے کے لیے کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت کی تصدیق کی جائے تاکہ مزید حملوں کو روکا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ موجودہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں، جبکہ اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے لبنان کو جنگ بندی کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق لبنان کی صورتحال خطے میں امن کوششوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے اور اس کا حل نکالنا فوری ضرورت ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

لبنانی وزیراعظم کی پاکستان سے حملے رکوانے میں مدد کی اپیل
-

ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے حقوق سے دستبردار بھی نہیں ہوگا۔ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے اہم پیغام میں کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے حقوق سے دستبردار بھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہونے والے ہر نقصان کا ازالہ طلب کرے گا اور آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے نیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہادر ایرانی قوم اس میدانِ جنگ میں فاتح ثابت ہوئی ہے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اپنے ایک حالیہ بیان میں جنوبی ہمسایہ ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کو درست تناظر میں سمجھیں اور ‘شیطانی قوتوں’ کے جھوٹے وعدوں سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب بھی اپنے پڑوسیوں سے ایک مناسب ردعمل کا منتظر ہے تاکہ برادرانہ تعلقات اور خیر سگالی کا اظہار کیا جا سکے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ ممالک ان استکباری قوتوں سے دوری اختیار کریں جو انہیں صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال اور ذلیل کرتی آئی ہیں۔
رہبرِ اعلیٰ نے مزید تاکید کی کہ ایران پر حملہ کرنے والے جارح عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور اللہ کے حکم سے انہیں ضرور سزا دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے ہر نقصان کا معاوضہ، شہداء کا خون بہا اور زخمیوں کی تلافی کا مطالبہ کیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کو ایک نئی اور سخت سطح پر لے جایا جائے گا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگرچہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن وہ اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا اور اس جدوجہد میں پوری ‘فرنٹ آف ریزسٹنس’ (محاذِ مزاحمت) کو ایک متحد وجود کے طور پر دیکھتا ہے۔ -

امن مذاکرات کا مرکز اسلام آباد: عالمی رہنماؤں کے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون
اسلام آباد اس وقت عالمی امن مذاکرات کے تناظر میں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں پاکستان کی موثر خارجہ پالیسی کے باعث اسے بین الاقوامی سطح پر کلیدی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کو آج دنیا کے اہم ترین ممالک کے سربراہان کی جانب سے ٹیلیفونک رابطے موصول ہوئے، جن میں پاکستان کی خطے میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کو امیرِ قطر، بحرین کے بادشاہ، لبنان کے وزیراعظم، اور یورپی ممالک بشمول آسٹریا کے چانسلر، جرمنی کے چانسلر اور اٹلی کی وزیراعظم نے فون کیا۔
ان تمام عالمی رہنماؤں نے وزیراعظم کو پاکستان کی ان کامیاب سفارتی کوششوں پر بھرپور مبارکباد پیش کی جن کی بدولت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی آئی۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فعال کردار کی وجہ سے ہی دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور مستقبل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ -

ایران جنگ کے بعد اسرائیل میں 7 ہزار سے زائد افراد اسپتال منتقل
اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک 7 ہزار 451 افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا جا چکا ہے، جن میں عام شہریوں کے ساتھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان زخمیوں میں سے 118 افراد اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں 2 افراد کی حالت انتہائی نازک ہے جبکہ 13 افراد تشویشناک حالت میں ہیں اور 25 افراد کو درمیانے درجے کی چوٹیں آئی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد براہ راست حملوں کا شکار نہیں ہوئی بلکہ بعض افراد پناہ گاہوں تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ اور افراتفری کے باعث زخمی ہوئے۔
اسرائیلی حکام نے واضح نہیں کیا کہ کتنے افراد میزائل یا ڈرون حملوں سے متاثر ہوئے، تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں عوام کی نقل و حرکت کے دوران پیش آنے والے واقعات بھی زخمیوں کی بڑی وجہ بنے۔
ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں خوف اور جلدی میں محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کے دوران اس نوعیت کے حادثات عام ہوتے ہیں، جس سے شہریوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جنگ کے اثرات صرف محاذ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام زندگی اور شہریوں کی سلامتی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ -

عاصم منیر اور جے ڈی وینس نوبل امن انعام کیلئے نامزد
تنظیم "سکھ فار جسٹس” نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو 2027 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ناروے کی نوبل کمیٹی میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ نامزدگی امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں دونوں شخصیات کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے، جسے تنظیم نے عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
تنظیم کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی سفارتی حکمت عملی کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ قائم کیا اور ایک بڑے ممکنہ تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جے ڈی وینس نے بھی اس عمل میں اہم سیاسی فیصلے کیے، جنہوں نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دی۔
ایس ایف جے نے اس موقع پر پاکستان اور امریکا سے مطالبہ کیا کہ اسی سفارتی ماڈل کو دیگر تنازعات، خصوصاً خالصتان کے مسئلے کے حل کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔
بیان میں بھارت میں سکھ برادری کے خلاف سخت اقدامات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی اور کہا گیا کہ خطے میں صورتحال تشویشناک ہے، جس پر عالمی توجہ کی ضرورت ہے۔ -

ایران امریکا مذاکرات مرحلہ وار، ابتدا الگ ملاقاتوں سے ہوگی
ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق یہ بات چیت مرحلہ وار انداز میں پاکستان میں منعقد ہوگی، جہاں ابتدا میں دونوں ممالک کے وفود آمنے سامنے نہیں بیٹھیں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ایرانی اور امریکی وفود الگ الگ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں اہم نکات اور تجاویز پر بات چیت ہوگی۔ اس مرحلے کا مقصد ماحول کو سازگار بنانا اور اختلافات کو کم کرنا ہے۔
اس کے بعد جب ابتدائی امور طے پا جائیں گے تو پاکستان کی موجودگی میں دونوں وفود کو ایک ہی میز پر بٹھایا جائے گا تاکہ براہ راست مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ماحول کو مثبت رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی سے بچا جا سکے۔
امریکی وفد کی آمد بھی دو مراحل میں متوقع ہے، پہلے مرحلے میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان آئیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں شرکت کے لیے پہنچیں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ مرحلہ وار حکمت عملی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ -

اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا آغاز
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جسے خطے میں امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست بات چیت شروع ہو چکی ہے اور اب تک اس پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا واحد حل جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات ہی ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان پُرامن تعلقات قائم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم ہے اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں استحکام کی نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل آسان نہیں ہوگا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات اور عدم اعتماد کی فضا موجود ہے، جس کے باعث مذاکرات کو کامیابی تک پہنچانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں درکار ہوں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جنگ بندی کے لیے عالمی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مختلف ممالک امن کے قیام کے لیے سرگرم ہیں۔ -

ایران کا دعویٰ، امریکا نے ہماری شرائط مانیں، دشمن ناکام
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اعلانیہ اور خفیہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد انہیں ایران کی 10 نکاتی تجویز پر مبنی جنگ بندی پر رضامند ہونا پڑا۔
جمعرات کو جاری بیان میں اکرمی نیا نے کہا کہ دشمن نے جنگ کا آغاز بڑے مقاصد کے ساتھ کیا تھا جن میں اسلامی جمہوریہ کے نظام کو کمزور کرنا، حکومت کی تبدیلی اور ملک کو تقسیم کرنے جیسے اہداف شامل تھے، تاہم وہ ان میں سے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آپریشنل اور اسٹریٹجک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کو ہر سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، چاہے وہ میکرو سطح ہو یا میدان جنگ کے اہداف۔ ان کے مطابق ایران نے نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط رکھا بلکہ دشمن کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ دشمن کی ایک بڑی حکمت عملی زمینی جنگ کو مسلط کرنا اور تنازع کو قریبی لڑائی میں تبدیل کرنا تھا، مگر ایرانی افواج کی مؤثر دفاعی حکمت عملی اور تیاری کے باعث یہ کوشش بھی ناکام رہی۔
یاد رہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے نتائج کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاہم حتمی صورتحال کا انحصار آنے والے مذاکرات پر ہوگا۔ -

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات، امن کیلئے ثالثی جاری رکھنے کا عزم
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی حالیہ پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے خطے میں کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ جاری رکھیں۔
ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے اس عمل میں شامل تمام ممالک کے تعاون اور سنجیدگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے مشترکہ کوششیں ہی دیرپا استحکام کی ضمانت بن سکتی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں امن کے عمل کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا جبکہ وزیراعظم نے آئندہ آنے والے عالمی وفود کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت کا اعادہ بھی کیا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور مختلف عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس کردار کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ -

لاہور ایئرپورٹ پر روٹ ٹو مکہ آپریشن کی تیاریاں شروع
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی بار روٹ ٹو مکہ آپریشن شروع کرنے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں، اس حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سعودی اور پاکستانی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سعودی حکومت کے ڈائریکٹر آپریشنز حج فواز سعود الشفیری اور سعودی سفارتخانے کے سیکریٹری نے شرکت کی، جبکہ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، کسٹمز، ایف آئی اے، اے این ایف، وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران حجاج کرام کو ہر مرحلے پر بہترین سہولیات فراہم کرنے اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
انفراسٹرکچر سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں خصوصی کاؤنٹرز اور ہولڈنگ ایریاز کا قیام، مناسب نشستوں کی فراہمی، جدید کیو مینجمنٹ سسٹم اور واضح سائن ایج شامل ہیں تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسافروں کے بہاؤ کو ہموار بنایا جائے، رش کم کیا جائے اور سروس کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ حجاج کرام کو آسان اور آرام دہ سفر فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ لاہور ایئرپورٹ سے روٹ ٹو مکہ آپریشن کو کامیاب، منظم اور مسافر دوست بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جلد مکمل کیے جائیں گے۔