Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
عاصم اظہر کی اسپتال سے تصویر وائرل

    
عاصم اظہر کی اسپتال سے تصویر وائرل

    ‎پاکستان کے معروف گلوکار عاصم اظہر کی اسپتال سے شیئر کی گئی ایک تصویر نے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ سوشل میڈیا پر تصویر سامنے آنے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے گلوکار کی صحت کے بارے میں سوالات اٹھانا شروع کر دیے۔
    ‎عاصم اظہر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک سیلفی شیئر کی جس میں وہ نیبولائزر ماسک پہنے ہوئے نظر آئے۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے مختصر کیپشن "Welcome Back” لکھا، جس کے بعد مداحوں نے ان کی خیریت دریافت کرنا شروع کر دی۔
    ‎مداحوں کی تشویش کو دیکھتے ہوئے گلوکار نے ایک اور انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے وضاحت کی کہ ان کی طبیعت سے متعلق کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صرف ٹانسلز اور گلے کے انفیکشن کا شکار ہوئے تھے اور اب صحت یاب ہو رہے ہیں۔
    ‎عاصم اظہر نے مداحوں سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ان کا مقصد کسی کو پریشان کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا، "ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں، بیٹا بہت گا لیا ہے، اب ذرا گھر بیٹھو۔”
    ‎گلوکار نے مزید کہا کہ ان کے نئے گانوں کو مداحوں کی جانب سے ملنے والی محبت اور حوصلہ افزائی نے انہیں پہلے ہی بہتر محسوس کروانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ریلیز ہونے والے اپنے گانے "آرزو” اور "تو ہے وہی” کو پسند کرنے پر مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
    ‎عاصم اظہر کی وضاحت کے بعد مداحوں نے ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ جلد دوبارہ اپنی موسیقی کی سرگرمیوں میں مصروف نظر آئیں گے۔

  • 
لندن کے قریب دو ٹرینوں میں تصادم، متعدد ریلوے لائنیں بند

    
لندن کے قریب دو ٹرینوں میں تصادم، متعدد ریلوے لائنیں بند

    ‎لندن کے قریب بیڈفورڈ کے جنوب میں دو ٹرینوں کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد امدادی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
    ‎برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ، ایمبولینس سروس، ریسکیو ٹیموں اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
    ‎حادثے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر لوٹن اور بیڈفورڈ کے درمیان تمام ریلوے لائنیں بند کر دی گئی ہیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎بیڈفورڈ شائر پولیس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ اضافی پولیس افسران بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں اور صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سفر سے پہلے اپنی ٹرین کی صورتحال ضرور چیک کریں کیونکہ متعدد سروسز متاثر ہوئی ہیں۔
    ‎ریلوے آپریٹر ایسٹ مڈلینڈز ریلوے نے بھی تصدیق کی ہے کہ حادثے کے باعث اس کی سروسز شدید متاثر ہوئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق لندن سینٹ پینکراس اور لیسٹر کے درمیان چلنے والی ٹرینوں میں خلل پیدا ہو گیا ہے اور امکان ہے کہ شام بھر سفر میں تاخیر اور منسوخی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
    ‎تاحال حکام کی جانب سے کسی جانی نقصان یا زخمیوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی، جبکہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

  • 
جے ڈی وینس کی اسرائیلی حکومت پر تنقید، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول قرار

    
جے ڈی وینس کی اسرائیلی حکومت پر تنقید، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول قرار

    ‎امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو شدید ناراض ہیں۔
    ‎تازہ علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ بیروت میں شہری آبادی پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیںہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کشیدہ حالات میں بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کریں۔
    ‎امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا اسرائیل کی سلامتی کا حامی ہے، تاہم شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بھی یکساں اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی میں اضافے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    ‎جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ اسرائیل کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں میں امریکا کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کئی برسوں سے اسرائیل کو مالی اور عسکری معاونت فراہم کر رہا ہے، جس پر اسرائیل کی سیکیورٹی کا بڑا انحصار ہے۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانا ضروری ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دینی چاہیے۔

  • 
نیتن یاہو 2009 سے ایران پر حملے کے لیے امریکی حمایت مانگتے رہے، ہلیری کلنٹن

    
نیتن یاہو 2009 سے ایران پر حملے کے لیے امریکی حمایت مانگتے رہے، ہلیری کلنٹن

    ‎امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو 2009 سے مسلسل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
    ‎ایک انٹرویو میں ہلیری کلنٹن نے بتایا کہ ان کے دورِ وزارتِ خارجہ کے دوران نیتن یاہو، اُس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک اور دیگر اسرائیلی حکام بارہا واشنگٹن پر زور دیتے تھے کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی حمایت کرے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ مسلسل جاری رہتا تھا اور اسرائیلی قیادت بار بار یہی مؤقف اختیار کرتی تھی کہ امریکا کو ایران پر حملے میں اسرائیل کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہلیری کلنٹن کے مطابق یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان اہم سفارتی موضوعات میں شامل رہا۔
    ‎سابق امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ 2009 سے 2012 کے درمیان امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کے لیے زیادہ عسکری صلاحیت موجود تھی، جس کے باعث اس معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مسلسل مشاورت اور اختلافِ رائے بھی دیکھنے میں آیا۔
    ‎ہلیری کلنٹن نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام اکثر یہ کہتے تھے کہ ان کے جنگی طیارے رن وے پر تیار کھڑے ہیں اور وہ کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول، اسرائیل کی جانب سے امریکی حکومت پر ہر وقت اس حوالے سے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
    ‎ان کے اس بیان نے ایک بار پھر امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق ماضی کی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی پر بحث کو تازہ کر دیا ہے۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کا رابطہ، اسلام آباد امن معاہدے پر تبادلۂ خیال

    
وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کا رابطہ، اسلام آباد امن معاہدے پر تبادلۂ خیال

    ‎اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے امن معاہدے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو تاریخی اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط ہونے پر مبارک باد پیش کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور سفارتی تعاون کے فروغ پر بھی گفتگو کی۔
    ‎اعلامیے کے مطابق وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امن عمل کو نقصان پہنچانے یا مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مکمل چوکنا رہنا ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کے باعث یہ اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے اگلے مرحلے کو کامیابی سے آگے بڑھانا انتہائی ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎گفتگو کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

  • 
سارہ علی خان اور ہنری کیول کی ایک ساتھ تصاویر وائرل، مداح حیران

    
سارہ علی خان اور ہنری کیول کی ایک ساتھ تصاویر وائرل، مداح حیران

    ‎ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان اور ہالی ووڈ کے معروف برطانوی اداکار ہنری کیول کی ایک ساتھ لی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جنہیں دیکھ کر مداح حیرت اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
    ‎یہ غیر متوقع ملاقات انگلینڈ میں جاری دنیا کے معروف گھڑ دوڑ کے تہوار رائل اسکوٹ کے موقع پر ہوئی، جہاں دونوں عالمی شہرت یافتہ گھڑی ساز کمپنی لانجینز (Longines) کے برانڈ ایمبیسیڈر کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
    ‎تقریب کے دوران سارہ علی خان اور ہنری کیول نے مشترکہ فوٹو شوٹ بھی کروایا، جس کی تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ دونوں فنکار پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی ایونٹ میں ایک ساتھ نظر آئے۔
    ‎اس موقع پر سارہ علی خان نے روایتی برطانوی انداز اپناتے ہوئے سفید رنگ کا خوبصورت لباس اور اس سے ہم آہنگ ٹوپی پہن رکھی تھی، جبکہ ہنری کیول کلاسک بلیک ٹیل کوٹ، سفید شرٹ، ٹائی اور روایتی ٹاپ ہیٹ میں ملبوس دکھائی دیے۔
    ‎سارہ علی خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے مختصر کیپشن میں لکھا، "لانجینز کے ساتھ ایک شاہی تقریب”۔تصاویر شیئر ہوتے ہی مداحوں کی جانب سے دلچسپ تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
    ‎ایک صارف نے لکھا، "یہ واقعی حیران کن کراس اوور ہے، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سارہ علی خان اور ہنری کیول ایک ہی فریم میں نظر آئیں گے۔” ایک اور مداح نے تبصرہ کیا، "ایک طرف پٹودی خاندان کی شہزادی اور دوسری طرف سپرمین، دونوں ایک ساتھ بے حد خوبصورت لگ رہے ہیں۔”
    ‎تفریحی حلقوں میں بھی اس ملاقات کو خاصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ مداح دونوں عالمی ستاروں کی مشترکہ تصاویر کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کر رہے ہیں۔

  • 
کورنگی میں شہری کی بہادری، مسلح ڈاکوؤں کی ڈکیتی کی کوشش ناکام

    
کورنگی میں شہری کی بہادری، مسلح ڈاکوؤں کی ڈکیتی کی کوشش ناکام

    ‎کراچی: شہر قائد کے علاقے کورنگی زمان ٹاؤن میں ایک شہری کی حاضر دماغی اور بہادری نے مسلح ڈاکوؤں کی ڈکیتی کی کوشش ناکام بنا دی۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں ڈاکوؤں کو فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعہ کورنگی ڈھائی نمبر کے قریب پیش آیا، جہاں تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ مسلح ملزمان ایک دکان میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر لوٹ مار شروع کر دی۔
    ‎اسی دوران قریبی مکان میں موجود ایک شہری نے ڈاکوؤں کی کارروائی دیکھتے ہی فوری ردعمل دیا اور ان پر فائرنگ کر دی۔ اچانک مزاحمت کا سامنا ہونے پر ڈاکو گھبرا گئے اور اپنی جان بچانے کے لیے موقع سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
    ‎ذرائع کے مطابق فرار کے دوران ملزمان اپنی موٹر سائیکلیں بھی موقع پر چھوڑ گئے اور پیدل ہی مختلف سمتوں میں بھاگ نکلے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔
    ‎پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے فرار ہونے والے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • 
لگژری درآمدی گاڑیوں پر 41 فیصد تک اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز منظور

    
لگژری درآمدی گاڑیوں پر 41 فیصد تک اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز منظور

    ‎وفاقی بجٹ سے متعلق اہم پیش رفت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے درآمدی لگژری گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ اس اقدام کا مقصد لگژری درآمدات پر ٹیکس وصولی بڑھانا اور حکومتی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔
    ‎پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام نے مجوزہ ٹیکس اقدامات پر بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی درآمدی لگژری گاڑیوں پر 40 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
    ‎ایف بی آر حکام نے مزید بتایا کہ 3000 سی سی سے زائد انجن صلاحیت رکھنے والی لگژری درآمدی گاڑیوں پر 41 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی تجویز بھی کمیٹی نے منظور کر لی ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مہنگی اور لگژری گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکس وصول ہوگا، جبکہ حکومتی ریونیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ مجوزہ ڈیوٹی کا اطلاق فنانس بل کی منظوری اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
    ‎قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر کی پیش کردہ تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اسے منظور کر لیا، تاہم اس کا حتمی نفاذ پارلیمنٹ سے فنانس بل کی منظوری کے بعد ممکن ہوگا۔
    ‎ماہرین کے مطابق لگژری گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافے سے درآمدی گاڑیوں کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام صرف مہنگی گاڑیوں تک محدود ہے اور اس کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

  • 
امارات کا بڑا ریلیف، ویزا جرمانے معاف، متاثرہ مسافروں کو 30 روزہ رعایت

    
امارات کا بڑا ریلیف، ویزا جرمانے معاف، متاثرہ مسافروں کو 30 روزہ رعایت

    ‎متحدہ عرب امارات نے ویزا مسائل کا سامنا کرنے والے افراد، خصوصاً حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث متاثر ہونے والے مسافروں کے لیے خصوصی رعایتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان افراد کو قانونی مشکلات سے بچانا ہے جو غیر معمولی حالات کے باعث مقررہ وقت پر ملک سے روانہ یا اپنے ویزا کی تجدید نہیں کر سکے۔
    ‎اماراتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایسے افراد جن کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے، انہیں مقررہ مدت کے دوران اپنے ویزا اسٹیٹس کو درست کرانے پر اوور اسٹے جرمانے سے استثنا حاصل ہوگا۔ اس سہولت کے تحت متاثرہ افراد 9 جولائی تک بغیر کسی جرمانے کے اپنی امیگریشن حیثیت کو قانونی بنا سکیں گے۔
    ‎حکام کے مطابق یہ خصوصی رعایت مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جا رہی ہے اور اس کا مقصد ان مسافروں کی مشکلات کم کرنا ہے جو جنگی حالات اور سفری رکاوٹوں کے باعث امارات میں پھنس گئے تھے۔
    ‎اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس پیکج کے تحت متاثرہ افراد کو 30 روزہ ویزا رعایت بھی دی جائے گی تاکہ وہ اپنے سفری معاملات منظم کر سکیں یا اپنی واپسی اور دیگر قانونی کارروائیاں مکمل کر سکیں۔
    ‎یہ سہولت صرف رہائشی ویزا رکھنے والوں تک محدود نہیں بلکہ سیاحتی اور وزٹ ویزا پر موجود افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط پر پورا اتریں۔
    ‎اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس خصوصی استثنا کا اطلاق 10 جون سے 9 جولائی تک ہوگا۔ اس عرصے کے دوران متاثرہ افراد متعلقہ امیگریشن حکام سے رجوع کرکے بغیر جرمانے اپنے ویزا سے متعلق معاملات نمٹا سکتے ہیں۔
    ‎اس فیصلے کو خطے میں حالیہ غیر معمولی حالات کے تناظر میں ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں ایسے مسافروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو سفری پابندیوں اور پروازوں میں تعطل کے باعث مشکلات کا شکار ہوئے۔

  • 
خراب انٹرنیٹ سروس پر کمپنی کو صارف کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

    
خراب انٹرنیٹ سروس پر کمپنی کو صارف کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

    ‎کراچی کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ ساؤتھ نے ناقص انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے مقدمے میں صارف کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے نجی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی پر جرمانہ عائد کر دیا۔
    ‎عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ متعلقہ کمپنی متاثرہ صارف کو 50 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔ اس کے علاوہ کمپنی کو 5 ہزار روپے جرمانہ قومی خزانے میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎عدالت نے قرار دیا کہ صارفین کو معیاری اور مسلسل انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کمپنی کو اپنی سروس کے معیار کو بہتر بنانے اور مستقبل میں بلا تعطل انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
    ‎یہ فیصلہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی کمپنی کی ناقص سروس سے صارف کو مالی یا عملی نقصان پہنچے تو وہ کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت متعلقہ فورم سے رجوع کر کے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔
    ‎اس فیصلے سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی دیگر کمپنیوں کے لیے بھی یہ واضح پیغام گیا ہے کہ صارفین کو معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ان کی قانونی ذمہ داری ہے، بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی اور مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔