قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان نے کہا کہ ملک کے اہم ریاستی اداروں، خصوصاً مسلح افواج اور عدلیہ، کو غیر ضروری تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچنے کا موقع ملنا چاہیے۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر نشر نہیں کی جاتیں، جس سے عوام کو پارلیمانی کارروائی کا مکمل منظرنامہ دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پابندی کو ختم کیا جائے تاکہ تمام اراکین کی آرا عوام تک یکساں طور پر پہنچ سکیں۔
علی محمد خان کے مؤقف پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان کی کارروائی کے حوالے سے تمام فیصلے قواعد و ضوابط کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر اکثر مکمل طور پر نشر نہیں کی جاتیں، جس کی وجہ سے عوام تک ان کا مؤقف نہیں پہنچ پاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر تقاریر براہ راست نشر نہیں کی جا سکتیں تو کم از کم بعد میں ضرور نشر کی جائیں۔
اس پر اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ انہیں بعض معاملات میں قومی سلامتی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے اور اسی تناظر میں بعض فیصلے کیے جاتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے اسپیکر کے جواب پر مؤقف اختیار کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے قومی سلامتی کے خلاف کوئی بات نہیں کی جاتی، اس لیے ان کی تقاریر کو نشر کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
اجلاس کے دوران ہونے والی اس گفتگو نے پارلیمنٹ میں اظہار رائے، کارروائی کی نشریات اور قومی سلامتی سے متعلق پالیسیوں پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آئے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

علی محمد خان کا مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید نہ کرنے کا مؤقف، اپوزیشن تقاریر کی نشریات پر بھی اعتراض
-

میری زندگی کے دو اہم ترین افراد ایک بھارتی اور ایک پاکستانی ہیں: جے ڈی وینس کا دلچسپ بیان
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران ایک دلچسپ اور غیر معمولی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی میں دو انتہائی اہم شخصیات ہیں، جن میں ایک بھارتی اور ایک پاکستانی ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے مسکراتے ہوئے کہا، "میں اکثر مذاق میں کہتا ہوں کہ میری زندگی میں دو بہت اہم لوگ ہیں۔ ایک بھارتی ہیں اور ایک پاکستانی۔ بھارتی میری اہلیہ ہیں، جبکہ پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔”
ان کے اس بیان کو وہاں موجود شرکا نے دلچسپی سے سنا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بالمشافہ ملاقات کی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق کئی برسوں بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی اور امریکی اعلیٰ حکام ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران اس نوعیت کی براہ راست اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ملاقاتوں کا بنیادی مقصد حالیہ اختلافات میں کمی لانا، اعتماد سازی کو فروغ دینا اور آئندہ مرحلے کے لیے بامعنی اور ٹھوس مذاکرات کی بنیاد رکھنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ سفارتی رابطے کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور علاقائی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کو بھی اس پیش رفت میں اہم کردار قرار دیا جا رہا ہے۔ -

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لیے 337 سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے 337 سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یاتری مذہبی رسومات اور مختلف تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان کے مختلف مقدس مقامات کا دورہ کریں گے۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ آروڑہ نے سرحد پر سکھ یاتریوں کا خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے یاتریوں کے قیام، خوراک، آمدورفت اور سیکیورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سردار رمیش سنگھ آروڑہ نے کہا کہ پاکستان مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سکھ یاتری اپنے مذہبی فرائض خوش اسلوبی سے انجام دینے کے ساتھ پاکستان سے خوشگوار یادیں لے کر واپس جائیں گے۔
اس موقع پر متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین قمرالزمان نے بھی یاتریوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سکھ برادری کے مقدس مقامات کی حفاظت اور دیکھ بھال کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ بیرون ملک سے آنے والے یاتریوں کو محفوظ، پرامن اور دوستانہ ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یاتریوں کی سہولت کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور دیگر انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات اطمینان کے ساتھ ادا کر سکیں۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی ہر سال پاکستان میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے، جس میں بھارت سمیت مختلف ممالک سے سکھ یاتری شرکت کرتے ہیں۔ یہ تقریبات دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت، ثقافتی روابط اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ -

خیبرپختونخوا میں 16 ہزار سے زائد شدت پسندوں کی پروفائلنگ مکمل، ہزاروں سہولت کار بھی سامنے آ گئے
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر ایک جامع صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے، جس کا مقصد شدت پسند عناصر، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر اور منظم بنانا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں 16 ہزار 425 مبینہ شدت پسندوں کی پروفائلنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ ان افراد کی شناخت، خاندانی معلومات اور دیگر ضروری تفصیلات حکومتی ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں تاکہ ان کی سرگرمیوں پر مؤثر نظر رکھی جا سکے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 4 ہزار 500 مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف انٹیلی جنس بیسڈ اور سیکیورٹی آپریشنز کے دوران ایک ہزار 346 افراد مارے جا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2 ہزار 448 مبینہ سہولت کاروں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 251 سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کے کردار اور مبینہ روابط کی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق زیر نگرانی سرکاری ملازمین میں سب سے زیادہ تعداد محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی ہے، جن کی تعداد 92 بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت کے 12 ملازمین بھی فہرست میں شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق اب تک 158 سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید کیسز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق حکومت نے 337 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا ہے، جن میں 233 مبینہ شدت پسند اور 104 مبینہ سہولت کار شامل ہیں۔ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل و حرکت، مالی لین دین اور دیگر سرگرمیوں پر تین سال تک خصوصی نگرانی کی جاتی ہے۔
شدت پسندوں کے مالی وسائل محدود کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 255 افراد کی غیر منقولہ جائیدادوں کے خلاف کارروائی کی گئی، 739 منقولہ اثاثے ضبط کیے گئے، جبکہ 528 اسلحہ لائسنس منسوخ یا بلاک کر دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنا، ان کی مالی معاونت روکنا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ہے۔ -

بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا
بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ بجٹ کی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے دوران مختلف سرکاری محکموں، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کے لیے فنڈز جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ سے متعلق مجموعی طور پر ایک ہزار 89 ارب روپے مالیت کے 98 مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے، جنہیں اراکین اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔
منظور کیے گئے بجٹ کے مطابق غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب 80 کروڑ 88 لاکھ روپے کے 53 مطالباتِ زر منظور کیے گئے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 291 ارب روپے مالیت کے 45 مطالباتِ زر کی بھی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کے دوران بجٹ پر مختلف پہلوؤں سے بحث کی گئی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی مطالبۂ زر پر کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی، جس کے باعث تمام مطالبات بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے منظور ہو گئے۔
وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا، بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
بجٹ کی منظوری کے بعد صوبائی حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران مختلف محکموں، ترقیاتی اسکیموں اور سرکاری اداروں کے لیے فنڈز جاری کرنے کی باقاعدہ پارلیمانی اجازت حاصل ہو گئی ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اسمبلی سے بجٹ کی منظوری صوبائی حکومت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ مختص کیے گئے فنڈز کو شفاف انداز میں خرچ کرتے ہوئے عوامی فلاح اور ترقیاتی اہداف کیسے حاصل کیے جاتے ہیں۔ -

پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ اعلامیہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم
قاہرہ میں مصر کی میزبانی میں پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا چوتھا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ پیش رفت، فلسطین کے مسئلے اور علاقائی امن و استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خطے کے مستقبل کے حوالے سے ان کے وژن کو سراہا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ چاروں ممالک مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون جاری رکھنے پر متفق ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں 18 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اسے کشیدگی میں کمی اور ایسے تنازع کے خاتمے کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا، جس سے علاقائی سلامتی، عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی بحری راستوں، سپلائی چین اور عالمی تجارت کو خطرات لاحق تھے۔
اعلامیے میں ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کی کوششوں کو سراہا گیا جنہوں نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس تاریخی پیش رفت میں پاکستان کے کلیدی اور مؤثر سفارتی کردار کی بھرپور تعریف کی، جبکہ قطر کی جانب سے مذاکرات کو کامیاب انجام تک پہنچانے میں دی گئی معاونت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد انتہائی ضروری ہے تاکہ مذاکرات کے مثبت نتائج برقرار رہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مرحلے کے مذاکرات جلد مکمل ہوں گے اور باقی ماندہ معاملات کا ایسا قابلِ تصدیق اور دیرپا حل نکالا جائے گا جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن کے لیے خلیجی عرب ممالک اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے سیکیورٹی خدشات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں فلسطین کے مسئلے کو مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی بنیادی شرط قرار دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام 4 جون 1967 کی سرحدوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
اجلاس میں غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور خطے میں مستقل امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ -

قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کر دی
قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک منظور کر لی، جس کے بعد ان کی ایوان میں واپسی کی راہ ہموار ہو گئی۔ اجلاس کے دوران نہ صرف اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی بلکہ پارلیمنٹ کی سیکیورٹی، ایوانی نظم و ضبط اور پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالوں کے استعمال پر بھی دلچسپ بحث دیکھنے میں آئی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں مؤقف اختیار کیا کہ اقبال آفریدی کی معطلی ختم ہونے میں صرف دو روز باقی رہ گئے ہیں، جبکہ بدھ کو بجٹ کی منظوری بھی ہونی ہے، اس لیے انہیں فوری طور پر ایوان میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورم کی نشان دہی کرنا ہر رکن اسمبلی کا آئینی اور پارلیمانی حق ہے اور اس بنیاد پر کسی رکن کو ایوان سے دور رکھنا مناسب نہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی کو کورم کی نشان دہی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایوان میں ان کے طرز عمل کے باعث معطل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے ڈی جی میڈیا، اسمبلی کے عملے اور دیگر اراکین کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا، جبکہ اسپیکر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ایوان کے وقار اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی بحث میں حصہ لیا اور کہا کہ نئے منتخب ہونے والے اراکین کو پارلیمانی روایات، قواعد اور ایوانی آداب سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنی جماعت کے رکن کی واپسی چاہتی ہے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی کسی اضافی یقین دہانی کی ضرورت ہے۔
بعد ازاں بیرسٹر گوہر کی جانب سے پیش کی گئی تحریک ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لی، جس کے بعد اقبال آفریدی کی معطلی ختم کر دی گئی۔
اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی سیکیورٹی پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ بغیر پاس کسی بھی شخص کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ وزیر دفاع نے ارکان کے مہمانوں کی تعداد محدود کرنے کی تجویز بھی دی۔
خواجہ آصف نے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر ضروری پروٹوکول کی علامت بن چکا ہے اور اس کلچر کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ لاجز کو ویگو ڈالوں سے پاک کیا جائے، شام کے بعد سرکاری جھنڈوں والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور غیر ضروری سیکیورٹی و پروٹوکول ختم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ارکان اسمبلی کو کسی قسم کا سیکیورٹی خطرہ نہیں تو وزرا کو بھی غیر ضروری پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اجلاس کے اختتام پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے پارلیمنٹ کے وقار، نظم و ضبط اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اقبال آفریدی کی معطلی ختم ہونے سے سیاسی ماحول میں بھی کچھ نرمی دیکھی گئی۔ -

باقر قالیباف کا جذباتی بیان، شہداء کی امیدوں پر پورا اترنے کی دعا
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ اہم مذاکرات سے قبل ایک جذباتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں شہداء اور ایرانی قوم کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ وہ میناب کے مظلوم بچوں اور شہداء کو اپنے ہر فیصلے اور ہر اقدام کا گواہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کی امانت ہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ شہداء انہیں دیکھ رہے ہیں اور ان سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی دعا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں عزت اور دیانت داری سے پوری کریں اور جب اپنے شہید ساتھیوں سے دوبارہ ملاقات ہو تو سرخرو ہوں۔ ان کے بقول انہیں اپنے ان ساتھیوں کی بےصبری سے یاد آتی ہے جنہوں نے ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
محمد باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایرانی اعلیٰ سطح کا وفد ان کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے۔ وفد زیورخ ایئرپورٹ پہنچا، جہاں سے وہ مذاکراتی سرگرمیوں میں حصہ لے گا۔
ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ سیکیورٹی، مرکزی بینک اور تیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے اس وفد کو "میناب 168” کا نام دیا ہے، جو ملک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آج سوئٹزرلینڈ میں ہوگا، جہاں دونوں ممالک کے نمائندے مختلف سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ -

سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے مذاکرات باضابطہ طور پر شروع: قطر کا اعلان
قطر نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان اور قطر کی مشترکہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں شروع ہوئے ہیں، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور دیرپا مفاہمت کی راہ ہموار کرنا ہے۔
دوحہ میں جاری کیے گئے سرکاری بیان میں قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ مذاکرات سے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ وزارت کے مطابق امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام نکات پر پیش رفت کا باعث بنے گی اور ایک جامع، متوازن اور مستقل معاہدے تک پہنچنے میں مدد دے گی۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور دیگر اہم امور پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے پاکستان، ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔ دونوں رہنما آج سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کریں گے، جہاں مختلف سفارتی اور سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات سے متعلق مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ امریکی نائب صدر نے مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اس کی سفارتی کوششوں کو قابلِ قدر قرار دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں امن کے امکانات بھی مزید روشن ہو سکتے ہیں۔ -

ایران نے امریکی مطالبے پر ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کے عہد پر دستخط کر دیے، صدر پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکا کی درخواست پر ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرنے کے عہد پر دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے صرف ایک ہی شرط سامنے رکھی گئی تھی کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، جسے ایران نے قبول کرتے ہوئے اس پر دستخط کر دیے۔
صدر پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران سے صرف یہی مطالبہ کیا تھا کہ وہ تحریری طور پر اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران نے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے عہد نامے پر دستخط کر دیے۔
اتوار کے روز تہران میں مرکزی بینک میں منعقد ہونے والی 33ویں مانیٹری اینڈ بینکنگ پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران کی پالیسی پہلے دن سے واضح رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت بھی متعدد مواقع پر واضح کر چکی ہے کہ ایران کا مقصد ایٹمی بم بنانا نہیں بلکہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی بیشتر شقیں ایرانی عوام کے مفاد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری مذاکرات کے مثبت نتائج جلد عوام کے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قطر میں موجود ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز بھی واپس مل جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ان مذاکرات سے سب سے زیادہ ناخوش ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آج سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ آغاز ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ برگن اسٹاک پہنچ چکے ہیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام نے وفد کا استقبال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف ایران، امریکا، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوگا، جبکہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنا تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کرے گا۔