Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کا نیا طریقہ کار، 60 روز تک کوئی فیس نہیں ہوگی

    
آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کا نیا طریقہ کار، 60 روز تک کوئی فیس نہیں ہوگی

    ‎ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نئے قواعد کا مقصد بحری ٹریفک کو منظم بنانا اور حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد تجارتی سرگرمیوں کو مزید آسان بنانا ہے۔
    ‎ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی کے مطابق صرف وہی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے جو مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت باقاعدہ درخواست جمع کرائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تناظر میں فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ غیر سرکاری ذرائع یا غیر مجاز چینلز کے ذریعے موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ تمام بحری کمپنیوں اور جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ٹرانزٹ درخواست کم از کم 48 گھنٹے قبل جمع کرائیں تاکہ بروقت منظوری اور محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎ایرانی حکام نے مزید اعلان کیا کہ آئندہ 60 روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز سے کوئی ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد عالمی بحری تجارت کو سہولت فراہم کرنا اور خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ حالیہ مفاہمتی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ سعودی عرب سمیت کئی ممالک کے تیل بردار جہاز بھی دوبارہ اس اہم عالمی بحری راستے سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔

  • 
متحدہ عرب امارات میں فضائی آپریشن مکمل بحال، تمام پروازیں معمول پر آ گئیں

    
متحدہ عرب امارات میں فضائی آپریشن مکمل بحال، تمام پروازیں معمول پر آ گئیں

    ‎ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے ملک بھر میں فضائی آپریشن اور پروازوں کی مکمل بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ فضائی حدود اور ہوائی سفر معمول کے مطابق بحال کر دیے گئے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق تمام ایئرپورٹس پر پروازوں کا شیڈول بتدریج معمول پر آ رہا ہے اور مسافروں کو سفری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ فضائی آپریشن کی بحالی سے بین الاقوامی اور علاقائی پروازوں میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں فضائی سرگرمیاں بھی معمول کی طرف لوٹ رہی ہیں۔
    ‎اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے نہ صرف عالمی تجارت بلکہ سفری صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ ان کے مطابق خطے میں استحکام کے باعث فضائی اور بحری ٹرانسپورٹ دونوں شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشن کی مکمل بحالی سے مسافروں، ایئرلائنز اور تجارتی شعبے کو ریلیف ملے گا، جبکہ خلیجی خطے میں سفری اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔

  • 
خیبرپختونخوا کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش، اسمبلی میں اپوزیشن کا شدید احتجاج

    
خیبرپختونخوا کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش، اسمبلی میں اپوزیشن کا شدید احتجاج

    ‎پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا، جس کے مطابق بجٹ میں 48 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور بجٹ کو مسترد کرنے کے مطالبات کیے۔
    ‎وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس بجٹ میں وفاقی حکومت کے لیے کسی قسم کی گرانٹ مختص نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں تمام صوبوں سے اضافی فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔
    ‎وزیراعلیٰ نے کہا کہ اکنامک کونسل کے اجلاس سے قبل دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے سربراہان سے ملاقات کی اجازت دی گئی، مگر خیبرپختونخوا حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث اہم فیصلے مؤخر کرنا پڑے۔
    ‎بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے مسلسل احتجاج کیا، حکومت مخالف نعرے لگائے اور ایوان میں شور شرابا کیا۔ اپوزیشن ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور "بجٹ نامنظور” کے نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث کئی مرتبہ کارروائی متاثر ہوئی۔
    ‎اس کے باوجود وزیراعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر جاری رکھی اور حکومت کے مالی منصوبے، اخراجات اور آئندہ مالی سال کی ترجیحات سے متعلق ایوان کو آگاہ کیا۔
    ‎خیبرپختونخوا کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب صوبے کو مالی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور وفاق کے ساتھ مالی معاملات سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • 
بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں 8 ارب سے زائد بے قاعدگیوں کا انکشاف

    
بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں 8 ارب سے زائد بے قاعدگیوں کا انکشاف

    ‎کراچی: حکومت سندھ نے کراچی کے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے قاعدگیوں کے معاملے پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ ابتدائی انکوائری میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد متعلقہ افسران کے خلاف مزید کارروائی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر محکمہ ٹرانسپورٹ میں 8 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم کو ذمہ داری سونپی گئی، جس نے مختلف پہلوؤں سے ابتدائی تحقیقات مکمل کرکے اپنی سفارشات وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی ہیں۔
    ‎چیئرمین سی ایم انسپکشن ٹیم بلال میمن کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی اور جھمان داس نے منصوبے پر عملدرآمد کے دوران مالیاتی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو نظرانداز کیا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں افسران نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کو ساڑھے 8 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کیں، جس سے نہ صرف ٹھیکیداروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا بلکہ منصوبے اور متعلقہ بینک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو بھی خطرات لاحق ہوئے۔
    ‎تحقیقات کے مطابق کنٹریکٹ مینجمنٹ، ٹیکس کٹوتی اور سرکاری خزانے میں رقوم جمع کرانے سے متعلق متعدد انتظامی ضابطوں کی بار بار خلاف ورزی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات سے حکومت سندھ اور مالیاتی اداروں کے مفادات کو نقصان پہنچا اور یہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔
    ‎انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ پورے عمل کے دوران مالیاتی پروٹوکول اور سیکیورٹی قواعد کو نظرانداز کیا گیا، جس سے سرکاری نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھے ہیں۔
    ‎اس سے قبل بھی مکمل مجرمانہ تحقیقات کی سفارش کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن حکام نے مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اب نئی رپورٹ میں مزید شواہد سامنے آنے کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ضمیر عباسی اور جھمان داس کی مبینہ مالی بے قاعدگیاں انہیں سول سروس کے لیے نااہل قرار دلوانے کا سبب بن سکتی ہیں اور ان کے خلاف مزید محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ

    
آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جسے عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بحری نقل و حمل کی بحالی کے ساتھ عالمی سطح پر تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل معمول پر آنے لگی ہے۔
    ‎بحری نقل و حمل کی نگرانی کرنے والی کمپنی کے مطابق جمعرات کے روز 25 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو 18 اپریل کے بعد ایک ہی دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ بحری ٹریفک ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں تجارتی اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی روانی میں بہتری آنے سے عالمی سپلائی چین کو استحکام ملنے کی توقع ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خطے میں کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آنا شروع ہو گئی ہے۔

  • اگر میں نہیں ہوتا تو اسرائیل کا صفایا ہوچکا ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ

    اگر میں نہیں ہوتا تو اسرائیل کا صفایا ہوچکا ہوتا، ڈونلڈ ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کی پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوششیں جاری تھیں تو ایسے حملوں کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
    ‎صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ان کی سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اور وہ کہیں زیادہ کمزور صورتحال میں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تحمل اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
    ‎ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے پھیلنے کی صورت میں توانائی کی منڈیوں، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے تھے، جس سے دنیا کے کئی ممالک معاشی بحران کی لپیٹ میں آ جاتے۔
    ‎امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔

  • 
اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان، پورے لبنان کو جلا دینے کی دھمکی

    
اسرائیلی وزیر کا اشتعال انگیز بیان، پورے لبنان کو جلا دینے کی دھمکی

    ‎لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے سخت اور اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے لبنان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں ایک افسر سمیت چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے، جس کے بعد بن گویر نے سوشل میڈیا اور میڈیا سے گفتگو میں سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
    ‎اسرائیلی وزیر نے کہا کہ اسرائیل کو دنیا کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ اس کے شہریوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے” اور ہر اسرائیلی ماں کے آنسوؤں کے بدلے ہزاروں لبنانی ماؤں کو رونا چاہیے۔
    ‎بن گویر نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں خطے میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے اور اسرائیل کو فوری طور پر مزید سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
    ‎ان کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس قسم کے بیانات نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کی امیدوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ دنوں جھڑپوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

  • 
حکومت ہر قسم کے سیاسی مذاکرات کے لیے تیار، وزیراعظم کی پیشکش قبول کی جائے، رانا ثنا اللہ

    
حکومت ہر قسم کے سیاسی مذاکرات کے لیے تیار، وزیراعظم کی پیشکش قبول کی جائے، رانا ثنا اللہ

    ‎اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل صرف مذاکرات اور باہمی مشاورت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کیا گیا میثاقِ استحکام پاکستان کا تصور آج بھی موجود ہے اور حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے تمام سیاسی قوتوں کو میثاقِ استحکام پاکستان کی دعوت دی تھی اور یہ پیشکش اب بھی برقرار ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرے تاکہ قومی مسائل کا حل اتفاق رائے سے نکالا جا سکے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ سیاسی مذاکرات کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ پارٹی کے اندر اس معاملے پر مشاورت جاری ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی کہا ہے کہ باہمی مشورے کے بعد حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گی۔
    ‎رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ قومی اور علاقائی معاملات میں اہم کردار ادا کیا، جس پر اپوزیشن نے بھی مثبت رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسی جذبے کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو مشاورت کی دعوت دے رہی ہے تاکہ اہم قومی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
    ‎انہوں نے فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس چھوٹ کے معاملے پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے یہ مسئلہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا تھا، جس کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی وفد نے متعلقہ فریقین سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے پر آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی تاکہ ٹیکس سے متعلق مسائل کا قابل قبول حل نکالا جا سکے اور ممکن ہو تو ٹیکس چھوٹ میں توسیع حاصل کی جائے۔
    ‎رانا ثنا اللہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے تحفظات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا کو کسی معاملے پر خدشات ہیں تو حکومت انہیں دور کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔

  • 
پیٹرول 74 اور ڈیزل 67 روپے فی لیٹر سستا

    
پیٹرول 74 اور ڈیزل 67 روپے فی لیٹر سستا

    ‎حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئے فیصلے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔
    اعلان کے مطابق کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 299 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں کمی کے بعد نئی قیمت کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
    ‎پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ بڑی کمی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد سامنے آئی ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں استحکام دیکھنے میں آیا، جس کا فائدہ اب ملکی صارفین کو منتقل کیا گیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عام شہریوں کو ریلیف ملے گا بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور کاروباری شعبے کے اخراجات میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اشیائے خور و نوش سمیت دیگر ضروری سامان کی ترسیل کی لاگت کم ہونے سے مہنگائی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    ‎ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک بھی منتقل کیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں کرایوں اور خدمات کی لاگت میں مناسب کمی کی جائے گی۔
    ‎شہریوں نے بھی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کی صورت میں اس کا پورا فائدہ بھی عوام تک پہنچایا جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں مزید کمی آ سکے۔

  • 
پیٹرول کی قیمتیں فروری کی سطح پر لائی جائیں، بیرسٹر گوہر

    
پیٹرول کی قیمتیں فروری کی سطح پر لائی جائیں، بیرسٹر گوہر

    ‎اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فروری کی سطح پر واپس لائی جائیں اور عوام کے سامنے معاشی اعداد و شمار درست انداز میں پیش کیے جائیں۔
    ‎اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ جب عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا تو حکومت نے ملک میں قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرح جب بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا تھا تو اس وقت بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 فیصد تک اضافہ کیا تھا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے ساتھ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور معاشی حقائق اور اعداد و شمار درست انداز میں پیش کرنے چاہییں تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔
    ‎بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جائیں اور انہیں فروری کی سطح پر واپس لایا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
    ‎امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ اس کے ثمرات خطے کے تمام ممالک تک پہنچ سکیں۔
    ‎بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ امریکا سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماضی میں غزہ سے متعلق امن معاہدے کے باوجود حملے جاری رہے، اس لیے موجودہ معاہدے پر مسلسل نگرانی اور عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جو امن، استحکام اور علاقائی تعاون کو فروغ دیں۔