Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ٹیلی کام ترمیمی بل پر تنازع، ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ جرمانے کی تجویز پر اعتراضات

    
ٹیلی کام ترمیمی بل پر تنازع، ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ جرمانے کی تجویز پر اعتراضات

    ‎اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 میں ٹیلی کام کمپنیوں کو موبائل ٹاورز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تنصیب سے روکنے والوں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مجوزہ قانون پر شہریوں کے جائیداد کے حقوق، حکومتی اختیارات اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
    ‎بل کے مسودے کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ملک بھر میں فائبر آپٹک نیٹ ورک، موبائل ٹاورز، فائیو جی سروسز اور دیگر ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے وسیع اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
    ‎مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی گھر کا مالک، دکاندار، زمیندار، کرایہ دار یا کوئی ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی حدود میں فائبر آپٹک بچھانے یا مواصلاتی تنصیبات لگانے سے روکتا ہے تو اس پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
    ‎قانونی اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے نجی جائیداد کے آئینی تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو اپنی مرضی کے خلاف زمین یا عمارت پر ٹیلی کام تنصیبات کی اجازت دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے قانون میں بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔
    ‎یہ معاملہ سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جہاں سینیٹر افنان اللہ، سینیٹر سعدیہ عباسی اور دیگر ارکان نے بل کی مختلف شقوں پر سوالات اور تحفظات کا اظہار کیا۔
    ‎سینیٹر افنان اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کو وسعت دینا ہے، تاہم آئین پاکستان نجی جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی شخص کی ملکیت کو اس کی رضامندی کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو "رائٹ آف وے” دینا اپنی جگہ اہم ہے، لیکن شہریوں کے بنیادی اور آئینی حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
    ‎سینیٹر افنان اللہ کے مطابق قائمہ کمیٹی نے اس بل پر تفصیلی غور کیا ہے اور ارکان کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات کے باعث بل کو مزید ترامیم، مشاورت اور قانونی جائزے کے لیے دوبارہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ تجویز ابھی قانون نہیں بنی اور اس پر مزید غور کیا جائے گا۔

  • 
ایف آئی اے کی کارروائی، حساس شہری ڈیٹا غیر ملکی ایجنسیوں کو فروخت کرنے والا ملزم گرفتار

    
ایف آئی اے کی کارروائی، حساس شہری ڈیٹا غیر ملکی ایجنسیوں کو فروخت کرنے والا ملزم گرفتار

    ‎اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کی حساس معلومات مبینہ طور پر غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کرنے والے منظم ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ایک اہم کارندے کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم سے تفتیش جاری ہے جبکہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی تلاش کے لیے بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
    ‎ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کراچی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک نہ صرف حساس سرکاری معلومات کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث تھا بلکہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ ڈیجیٹل مالیاتی فراڈ بھی کرتا رہا۔ حکام کے مطابق اس گروہ میں پاکستانی اور غیر ملکی دونوں افراد شامل ہیں۔
    ‎تحقیقات کے مطابق ملزمان نادرا، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ریکارڈ اور موبائل فون صارفین کی حساس معلومات حاصل کرکے انہیں مبینہ طور پر غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کرتے تھے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیاں قومی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
    ‎حکام نے بتایا کہ ملزمان مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے غیر ملکی رابطوں سے منسلک رہتے تھے، جبکہ مالی لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی اور مختلف ڈیجیٹل والٹس استعمال کیے جاتے تھے تاکہ رقم کی منتقلی کا سراغ لگانا مشکل ہو۔
    ‎ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کراچی نے جدید ڈیجیٹل تحقیقات کے ذریعے ان ڈیجیٹل والٹس کا سراغ لگایا، جس کے بعد ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور نیٹ ورک سے وابستہ دیگر مقامی اور غیر ملکی ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل جرائم اور حساس معلومات کے غیر قانونی استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، سعودی عرب کے تین سپر ٹینکرز گزر گئے

    
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، سعودی عرب کے تین سپر ٹینکرز گزر گئے

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے واضح آثار سامنے آنے لگے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹوں بعد سعودی عرب کے پرچم بردار تین سپر ٹینکرز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر گئے، جسے عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ تینوں سپر ٹینکرز مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل خام تیل لے کر خلیج سے عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہوئے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران یہ سعودی بندرگاہوں سے آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل کی سب سے بڑی ترسیل قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی سے عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی بہتر ہوگی، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ پیش رفت نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور بحری راستوں کے محفوظ ہونے سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت معمول پر آنے کی توقع ہے، جس سے توانائی کی عالمی سپلائی چین مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
    ‎اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں امن برقرار رہا اور بحری آمدورفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی تو نہ صرف خام تیل کی دستیابی میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی ملاقات

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی ملاقات

    ‎راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ولیم آگیاپانگ نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون، علاقائی سیکیورٹی اور عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جی ایچ کیو آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں دونوں فوجی سربراہان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی شعبے میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان اور گھانا کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں مشترکہ تربیت، پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دینے پر اتفاق کیا۔
    ‎گھانا کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ولیم آگیاپانگ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاک فوج کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق گھانا کے قومی سلامتی کے کوآرڈینیٹر عبدالرزاق عثمان نے بھی اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں نے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ دفاعی تعاون، سیکیورٹی امور اور پیشہ ورانہ روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • ایران کے ساتھ 60 روزہ معاہدے پر عملدرآمد شروع، آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کی یقین دہانی: جے ڈی وینس

    ایران کے ساتھ 60 روزہ معاہدے پر عملدرآمد شروع، آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کی یقین دہانی: جے ڈی وینس

    ‎واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ عملدرآمد کا مرحلہ آج سے شروع ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران خطے میں دہشت گردی کی مالی معاونت نہ کرے اور معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد جاری رہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی بڑی فوجی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں اور امریکا نے ایران کی متعدد بیلسٹک میزائل تنصیبات کو تباہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اب ایران اپنی معیشت کی بحالی پر توجہ دینا چاہتا ہے اور اگر اس کا طرزِ عمل مثبت رہا تو اس کا فائدہ خود ایران کو ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں معمول پر آنا شروع ہو گئی ہیں اور گزشتہ ایک ہی رات میں 12 ملین بیرل سے زائد خام تیل اس اہم بحری گزرگاہ سے منتقل کیا گیا۔ ان کے بقول ایران نے اب تک کسی تجارتی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا اور وہ مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی شق پر عمل کر رہا ہے۔
    ‎امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ حتمی معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کے پاس ایسے میزائل نہ ہوں جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنا چاہے تو اس کے لیے اسے بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے۔
    ‎جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ پابندیوں میں نرمی محدود نوعیت کی ہوگی اور امریکا ایران کے مالی لین دین اور معاہدے پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی بعض پابندیاں عارضی طور پر معطل کر سکتی ہے، تاہم ایران کو براہ راست کوئی مالی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔

  • 
فلک راجہ کامن ویلتھ کے لیے برطانیہ کی نوجوان سفیر منتخب

    
فلک راجہ کامن ویلتھ کے لیے برطانیہ کی نوجوان سفیر منتخب

    ‎لندن: برطانیہ کے شہر نیلسن سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ فلک راجہ کو دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے لیے برطانیہ کی نوجوان سفیر منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہ یوتھ کونسل یوکے کے نو تشکیل شدہ ایگزیکٹو بورڈ میں شامل چار نوجوان سفیروں میں سے ایک ہوں گی اور عالمی سطح پر نوجوانوں کے حقوق، مسائل اور مواقع کی نمائندگی کریں گی۔
    ‎فلک راجہ ان 19 نوجوان رہنماؤں میں شامل ہیں جن کی عمریں 16 سے 25 سال کے درمیان ہیں اور جو آئندہ دو برس کے لیے یوتھ کونسل یوکے کے نئے ایگزیکٹو بورڈ کی قیادت کریں گے۔ یہ بورڈ برطانیہ، کراؤن ڈیپنڈنسیز اور اوورسیز ٹیریٹریز میں موجود 200 سے زائد نوجوان تنظیموں کے نیٹ ورک کی نمائندگی کرتا ہے، جو تقریباً 78 لاکھ نوجوانوں تک رسائی رکھتا ہے۔
    ‎اپنے انتخاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فلک راجہ نے کہا کہ وہ اس اعزاز پر بے حد خوش، فخر محسوس کر رہی ہیں اور اسے ایک بڑی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ سماجی انصاف، مساوی مواقع اور تعلیم کے ذریعے نوجوانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ اور دنیا بھر کے نوجوانوں کی بھرپور نمائندگی کریں گی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کریں گی کہ نوجوانوں کی آواز نہ صرف سنی جائے بلکہ انہیں پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں بھی مؤثر کردار دیا جائے۔
    ‎یوتھ کونسل یوکے کے بانی اراکین کی جانب سے منتخب ہونے والا یہ ایگزیکٹو بورڈ دو سال تک اپنی ذمہ داریاں انجام دے گا۔ بورڈ جلد ہی نوجوان تنظیموں سے مشاورت کے بعد اپنی ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔
    ‎تنظیم نے نوجوان رہنماؤں کی معاونت کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک غیر ووٹنگ سپورٹ بورڈ بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو منتخب اراکین کو رہنمائی اور مشاورتی خدمات فراہم کرے گا۔
    ‎فلک راجہ کا انتخاب نوجوانوں کی قیادت، سماجی خدمت اور تعلیم کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی کامیابی کو برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے لیے بھی باعثِ فخر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    ‎لندن: صنعتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی سے خلیجی ممالک کا وہ خام تیل بھی عالمی منڈی تک پہنچ سکے گا جو حالیہ کشیدگی کے باعث ٹینکروں میں رکا ہوا تھا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی سپلائی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
    ‎توانائی تجزیاتی ادارے کپلر (Kpler) کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے سے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ بیرل غیر ایرانی خام تیل عالمی منڈی میں آ سکتا ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر خلیج میں رکا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اگر امریکا ایرانی خام تیل پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی کرتا ہے تو ایران کا تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل بھی عالمی منڈی میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے سپلائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب جہاز سے جہاز منتقلی (Ship-to-Ship Transfers) کے ذریعے برآمدات جاری رکھیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی اسپاٹ قیمتوں پر پہلے ہی دباؤ دیکھنے میں آیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی ریفائنریوں نے جون سے اگست تک کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل کی خریداری پہلے ہی مکمل کر لی ہے، جبکہ ریفائننگ مارجن میں کمزوری کے باعث مستقبل میں نئی خریداری کی رفتار نسبتاً محدود رہ سکتی ہے۔
    ‎اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے اور ایران سے متعلق پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

  • 
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    ‎لندن: یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے پیش نظر ایمبر ہیٹ ہیلتھ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث صحت کے نظام اور سماجی خدمات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ بزرگ افراد اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمبر ہیلتھ الرٹ کا اطلاق لندن، ساؤتھ ایسٹ، ساؤتھ ویسٹ اور ایسٹ آف انگلینڈ میں منگل کی شام 8 بجے تک برقرار رہے گا۔ اس دوران متعلقہ اداروں کو ممکنہ طبی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب ویسٹ مڈلینڈز اور ایسٹ مڈلینڈز کے لیے اسی مدت تک یلو ہیٹ ہیلتھ وارننگ جاری کی گئی ہے، جہاں گرمی کی شدت نسبتاً کم ہونے کے باوجود حساس افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی خصوصاً عمر رسیدہ افراد، دل، سانس اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، ٹھنڈی جگہوں پر رہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
    ‎موسمی پیشگوئی کے مطابق لندن میں پیر کے روز درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ منگل کو 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
    ‎برطانوی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور اپنے بزرگ عزیزوں، تنہا رہنے والے افراد اور صحت کے مسائل سے دوچار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘اسحاق ڈار

    بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے‘اسحاق ڈار

    ‎اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت پر سندھ طاس معاہدے کو سیاسی اور سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ عالمی معاہدوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
    ‎ویڈیو بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور عالمی برادری کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے پُرامن حل کا واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاہم بھارت نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر کے غیرقانونی اقدام کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے پورے خطے کے امن اور استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
    ‎اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پانی جیسے بنیادی انسانی حق کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا عالمی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آبی وسائل سے متعلق تمام معاملات بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق حل ہونے چاہییں۔
    ‎نائب وزیراعظم نے خبردار کیا کہ پاکستان کا پانی روکنے یا اس کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام دوطرفہ تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے چاہتا ہے۔
    ‎اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام کو ان کے آبی حقوق سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

  • 
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    ‎تل ابیب: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کسی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر امریکا کے ساتھ سخت اور تفصیلی مذاکرات جاری ہیں۔
    ‎سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے اور اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنا ناگزیر ہے، جبکہ اس حوالے سے امریکا کے ساتھ مختلف سفارتی اور سیکیورٹی امور پر مسلسل رابطے جاری ہیں۔
    ‎دوسری جانب اس معاملے پر خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی کا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام سے جڑا ایک اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎تاحال امریکا یا لبنان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مذاکرات کے نتائج پر علاقائی اور بین الاقوامی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔