پاکستانی فٹبال کے لیے ایک اہم اور تاریخی خوشخبری سامنے آئی ہے، جہاں فیفا کی جانب سے قومی فٹبال ٹیم کو فیفا آسیان کپ 2026 میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے بھی قومی ٹیم کی اس بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق فیفا آسیان کپ 21 ستمبر سے 6 اکتوبر 2026 تک انڈونیشیا میں منعقد ہوگا۔ اس ایونٹ میں پاکستان ڈویژن ون کا حصہ ہوگا، جہاں اسے خطے کی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے گروپ میں روایتی حریف بھارت کے علاوہ میزبان انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسی ٹیمیں شامل ہوں گی۔
فٹبال حلقوں کے مطابق یہ پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے کیونکہ قومی ٹیم پہلی مرتبہ ورلڈ کپ یا ایشین کوالیفائرز سے ہٹ کر فیفا کے زیر اہتمام کسی بڑے اور باقاعدہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔ اس ایونٹ میں شمولیت سے پاکستانی کھلاڑیوں کو اعلیٰ معیار کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے اور قیمتی بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں شامل کیے جانے کے پیچھے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی سفارتی کوششوں اور فیفا حکام کے ساتھ مضبوط روابط نے اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر پی ایف ایف کے صدر محسن گیلانی کی کاوشوں کو اس کامیابی میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔
فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایونٹ میں شرکت پاکستان کے لیے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر قومی ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس سے نہ صرف کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لیے بھی نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
شائقین فٹبال اس اعلان کو پاکستانی فٹبال کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ قومی ٹیم اس بڑے پلیٹ فارم پر عمدہ کھیل پیش کر کے ملک کا نام روشن کرے گی۔
یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں فٹبال دوبارہ منظم انداز میں ترقی کی جانب گامزن ہے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

پاکستان کو فیفا آسیان کپ میں شرکت کی تاریخی دعوت
-

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 64 رنز سے شکست دے دی
آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے اہم مقابلے میں بھارت نے پاکستان کو 64 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کا فاتحانہ آغاز کیا۔ برمنگھم میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز بنائے، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 17 اوورز میں 106 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
بھارتی کپتان ہرمن پریت کور نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو ان کی ٹیم کے لیے سودمند ثابت ہوا۔ بھارت کی جانب سے اوپنر اسمرتی مندھانا نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 68 رنز اسکور کیے جبکہ کپتان ہرمن پریت کور نے 36 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ دونوں بلے بازوں نے پاکستانی بولرز پر دباؤ برقرار رکھا اور ٹیم کو مضبوط مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی جانب سے کپتان فاطمہ ثنا اور سعدیہ اقبال نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، تاہم بھارتی بیٹنگ لائن کو بڑا اسکور بنانے سے نہ روک سکیں۔
171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز اچھا نہ رہا اور وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔ منیبہ علی نے مزاحمت کرتے ہوئے 41 رنز بنائے اور ٹیم کی جانب سے نمایاں بیٹر رہیں، لیکن دیگر کھلاڑی ان کا ساتھ نہ دے سکیں۔ نتیجتاً پوری ٹیم 17 اوورز میں 106 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
بھارت کی جانب سے دیپتی شرما نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کیا اور پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ ان کی شاندار کارکردگی پر انہیں میچ کی بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی میچ) قرار دیا گیا۔
اس فتح کے ساتھ بھارت نے ٹورنامنٹ میں اہم دو پوائنٹس حاصل کر لیے جبکہ پاکستان کو اپنے اگلے میچ میں واپسی کے لیے بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ شائقین کرکٹ کو دونوں روایتی حریفوں کے درمیان ایک دلچسپ مقابلے کی امید تھی، تاہم بھارتی ٹیم نے کھیل کے تینوں شعبوں میں برتری ثابت کرتے ہوئے یکطرفہ کامیابی حاصل کی۔ -

امریکا اسرائیل کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، ابراہیم عزیزی
ایرانی پارلیمان کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ بیروت پر اسرائیلی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکا اسرائیل کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت، خصوصاً جنوبی علاقے الضاحیہ پر حملے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات امن اور استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کے نتائج کے لیے اسرائیل ذمہ دار ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت بھی کر رہے ہیں، نے کہا ہے کہ اگر امریکا اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مذاکرات کو آگے بڑھانا مشکل ہو جائے گا۔
باقر قالیباف کے مطابق اگر بیروت کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو امن مذاکرات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الضاحیہ میں اسرائیلی کارروائی نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا امریکا واقعی خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ یا تو امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا پھر اس کے پاس ایسا کرنے کی سیاسی خواہش موجود نہیں۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں۔
یاد رہے کہ بیروت پر اسرائیلی حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تیاریاں جاری تھیں۔ رپورٹس کے مطابق حملے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے۔
مبصرین کے مطابق اس واقعے نے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین کشیدگی میں اضافے کے باوجود مذاکراتی عمل کو جاری رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔ -

آئی فون 18 پرو میکس کی تصاویر لیک
ایپل کی نئی آئی فون 18 سیریز کی متوقع رونمائی میں ابھی چند ماہ باقی ہیں، تاہم اس سے قبل ہی اس سیریز سے متعلق افواہوں اور لیکس کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ تازہ ترین لیک میں آئی فون 18 پرو میکس کی مبینہ تصاویر سامنے آئی ہیں، جنہوں نے ٹیکنالوجی کے شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں آئی فون 18 پرو میکس کو مختلف رنگوں اور زاویوں سے دکھایا گیا ہے۔ تصاویر کے مطابق نئے فون کا مجموعی ڈیزائن گزشتہ ماڈلز سے بہت زیادہ مختلف نظر نہیں آتا اور یہ کافی حد تک آئی فون 17 پرو سیریز سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔
لیک شدہ تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایپل اپنے پریمیم اسمارٹ فون کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلیوں کے بجائے معمولی بہتریوں پر توجہ دے سکتا ہے۔ کیمرہ ماڈیول، باڈی ڈیزائن اور مجموعی ساخت گزشتہ نسل کے فونز سے ملتی جلتی دکھائی دیتی ہے، تاہم حتمی تفصیلات کا انحصار کمپنی کے باضابطہ اعلان پر ہوگا۔
ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف رپورٹس کے مطابق آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس چار مختلف رنگوں میں متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ ان رنگوں کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم صارفین کو روایتی اور چند نئے رنگی آپشنز ملنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل ہر سال اپنے نئے آئی فون ماڈلز میں کیمرہ، پروسیسر، بیٹری اور مصنوعی ذہانت سے متعلق فیچرز کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ آئی فون 18 سیریز میں بھی اندرونی طور پر نمایاں اپ گریڈز متعارف کرائے جائیں۔
چونکہ یہ تمام معلومات غیر سرکاری لیکس اور افواہوں پر مبنی ہیں، اس لیے صارفین کو حتمی تفصیلات کے لیے ایپل کے باضابطہ اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔ کمپنی کی جانب سے عام طور پر نئی آئی فون سیریز کا اعلان سال کے آخری حصے میں کیا جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے شائقین اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا لیک ہونے والی تصاویر حقیقی ثابت ہوتی ہیں یا ایپل اپنی نئی سیریز میں کوئی حیران کن تبدیلی متعارف کراتا ہے۔ -

اسرائیلی حملے سے امریکا ایران معاہدے میں چند گھنٹوں کی تاخیر، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملے کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہو گئی ہے، تاہم فریقین کے درمیان پیش رفت جاری ہے اور معاہدہ اب بھی قریب دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ دستخط کی تقریب، جو پہلے فوری طور پر منعقد ہونا تھی، اب چند گھنٹے بعد متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی صورتحال نے شیڈول کو متاثر کیا، لیکن مذاکراتی عمل مکمل طور پر رکا نہیں ہے۔
امریکی صحافیوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان اگلے دو سے تین گھنٹوں کے اندر کسی معاہدے تک پہنچنے یا اس پر دستخط ہونے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ دونوں جانب سے سفارتی رابطے جاری ہیں اور معاملات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملوں اور اس کے بعد ممکنہ ردعمل کے خدشات نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور دونوں فریق کشیدگی کے خاتمے کے لیے کسی قابل قبول فارمولے پر کام کر رہے ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات تاحال باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور شامل ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے حتمی اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام لانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فی الحال عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا فریقین آئندہ چند گھنٹوں میں معاہدے پر دستخط کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اس پیش رفت کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

ڈی جی خان میں دہشت گرد حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید
ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر قائم عمر فاروق چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے دو اہلکار شہید جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔
پولیس ترجمان کے مطابق دہشت گردوں نے رات کے وقت چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی۔ حملے کے دوران ایلیٹ فورس کے جوانوں نے بھرپور مزاحمت کی، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی بھی کی گئی تاکہ فرار ہونے والے عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ سیکیورٹی ادارے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ڈیرہ غازی خان اور خیبر پختونخوا سے ملحقہ سرحدی علاقے ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران پنجاب پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے متعدد دہشت گرد حملوں اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی گئی ہے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں قوم کے لیے باعث فخر ہیں اور ملک دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ -

ایران معاہدے پر ڈیموکریٹس کی ٹرمپ پر شدید تنقید
امریکا میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ایران کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے اور امریکی فوجیوں کی جانوں کے ضیاع کے باوجود حاصل ہونے والے نتائج کو کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ایڈم شف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، تاہم ماضی میں بھی ایسے اعلانات کیے گئے تھے جو بعد میں درست ثابت نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو بار بار ایسے وعدے سننے کو ملے جن پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا، جبکہ نئی جنگوں اور فوجی کارروائیوں کے باعث مالی اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب کانگریس کے رکن سیتھ مولٹن نے ممکنہ معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’ہتھیار ڈالنے کی دستاویز‘‘ قرار دیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 100 ارب ڈالر اس تنازع پر خرچ ہوئے، جبکہ 14 امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سیتھ مولٹن کے مطابق اگر معاہدے کا سب سے بڑا نتیجہ صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے تو یہ کامیابی نہیں کہلا سکتی، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ جنگ سے قبل بھی بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے مالی اور جانی نقصان کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کو کس بنیاد پر سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مجوزہ معاہدہ امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئندہ انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ڈیموکریٹک رہنما اس معاملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم امتحان کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل خطے میں استحکام، کشیدگی میں کمی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اعتماد کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ تاہم معاہدے کی حتمی تفصیلات اور اس پر دستخط کے حوالے سے صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی۔ -

پی آئی اے کے بعد مزید سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کا عندیہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد مزید سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت معیشت میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت مختلف شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ، بینکاری اور انشورنس کے شعبوں میں بھی اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا وژن یہ ہے کہ نجی شعبہ معیشت میں مرکزی کردار ادا کرے جبکہ ریاست ایک مؤثر ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ مستقبل کی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے اور سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نجی شعبے کو مزید مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بعض معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مواقع کو مستقل فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق علاقائی صورتحال میں بہتری، اقتصادی انضمام اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی خطے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حکومت مختلف ممکنہ معاشی مواقع اور چیلنجز کے حوالے سے پہلے ہی مشاورت اور منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ یا تنازع کو مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کی بندرگاہوں، خصوصاً پورٹ قاسم اور گوادر، کی جانب بین الاقوامی تجارتی توجہ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے بہاؤ کو طویل المدتی بنیادوں پر برقرار رکھا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مستقل فائدہ پہنچ سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں کی نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے بعض شعبوں میں کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے، تاہم اس عمل کی شفافیت اور مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی اہم ہوگی۔ -

بیروت حملے کے بعد اسرائیل کو ایرانی جوابی کارروائی کا خدشہ
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حالیہ فضائی حملے کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق آنے والے گھنٹوں میں خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران یا اس کے اتحادی عناصر کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کا امکان موجود ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے تمام متعلقہ عسکری کمانڈرز کے ساتھ ہنگامی مشاورت کی ہے اور موجودہ انٹیلی جنس جائزوں کی روشنی میں مختلف دفاعی اور جارحانہ حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق ایران کی جانب سے کسی نہ کسی نوعیت کی جوابی کارروائی متوقع ہو سکتی ہے۔
آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ فضائی دفاعی نظام اور دیگر سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔ فوجی حکام کے مطابق اسرائیل اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی گولہ باری یا حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی۔ بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد لبنان، ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران یا اس کے اتحادی گروپوں کی جانب سے جوابی کارروائی کی جاتی ہے تو اس سے پورے خطے کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث اسرائیل، لبنان اور دیگر پڑوسی ممالک میں سیکیورٹی اداروں کو بھی چوکس کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ -

ایران کو نظر انداز کرکے خطے میں امن ممکن نہیں، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کو نظر انداز کر کے خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے تمام علاقائی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اپنے حالیہ بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ حالیہ جنگی تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران ایک اہم علاقائی طاقت ہے اور اسے نظر انداز کر کے کوئی بھی مؤثر سیکیورٹی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فوجی صلاحیت، قومی یکجہتی اور عوامی مزاحمت نے دنیا کو ایران کی حقیقی طاقت کا اندازہ کروایا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عوامی حمایت ایران کا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور یہی حمایت سفارتی میدان میں بھی ملک کی طاقت اور خودمختاری کا بنیادی ذریعہ بنتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام نے مشکل حالات میں جس اتحاد اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے عالمی سطح پر ایران کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک اب بتدریج اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ پائیدار سلامتی اور معاشی ترقی کا راستہ تصادم یا تنہائی سے نہیں بلکہ تعاون، مکالمے اور مشترکہ مفادات کے احترام سے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی چیلنجز کا حل اجتماعی کوششوں اور باہمی اعتماد کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب تمام متعلقہ ممالک کے جائز مفادات اور خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔ ایران خطے میں امن، ترقی اور تعاون کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مختلف سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور ایران، امریکا سمیت کئی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے علاقائی تعاون پر زور دینا مستقبل کی سفارتی پیش رفت کے لیے اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔