امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان پالیسی اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ اسرائیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے روزنامے یدیعوت احرونوت نے اپنی سرخی میں لفظ "محاذ آرائی” استعمال کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی پیش رفت کے بارے میں اسرائیل کو آگاہ تو کیا، تاہم معاہدے کی تیاری اور مذاکراتی عمل میں اسرائیلی قیادت سے باقاعدہ مشاورت نہیں کی گئی۔ یہی معاملہ دونوں اتحادی ممالک کے درمیان تناؤ کا باعث بن رہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو "بہت مشکل اور پیچیدہ شخصیت” قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں موجود فاصلے کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس وقت امریکا میں بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور آئندہ کانگریسی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری مہنگی اور غیر مقبول جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکی عوام کو ایک مثبت سیاسی پیغام دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل میں متوقع انتخابات کے پیش نظر نیتن یاہو اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مختلف سرویز کے مطابق آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت کو سخت چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق نیتن یاہو اپنی سیاسی حکمت عملی میں قومی سلامتی اور جنگی حالات کو اہم حیثیت دے رہے ہیں۔ وہ خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو اسرائیل کی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سیاسی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تو انہیں بدعنوانی سے متعلق جاری مقدمات میں قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگرچہ وہ ان تمام الزامات کو مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات نمایاں، ایران معاہدہ نئی کشیدگی کا سبب
-

واٹس ایپ میں میسجز شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرانے کی تیاری
دنیا بھر میں اربوں صارفین کی پسندیدہ میسجنگ ایپ واٹس ایپ ایک ایسے نئے فیچر پر کام کر رہی ہے جس کا صارفین کافی عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ جلد اپنے پلیٹ فارم میں میسجز شیڈول کرنے کا فیچر متعارف کرا سکتی ہے، جس کی مدد سے صارفین اپنے پیغامات کو پہلے سے طے شدہ وقت پر خودکار طور پر بھیج سکیں گے۔
میٹا کی زیر ملکیت واٹس ایپ کو ٹیلیگرام، سگنل اور دیگر میسجنگ پلیٹ فارمز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، اسی لیے کمپنی مسلسل نئے فیچرز متعارف کرا رہی ہے تاکہ صارفین کو بہتر اور جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
واٹس ایپ سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ WABetaInfo کے مطابق یہ نیا فیچر آئی فون (iOS) کے بیٹا ورژن میں دیکھا گیا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین پہلے اپنا پیغام تحریر کریں گے، پھر اس کے لیے مخصوص تاریخ اور وقت مقرر کریں گے، جس کے بعد پیغام خودکار طور پر مقررہ وقت پر ارسال ہو جائے گا۔
اس وقت جی میل، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور متعدد دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں پیغامات یا پوسٹس شیڈول کرنے کی سہولت موجود ہے، تاہم واٹس ایپ میں اب تک ایسا کوئی فیچر شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین طویل عرصے سے اس سہولت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق شیڈول کیے گئے پیغامات کو چیٹ انفارمیشن سیکشن سے دیکھا جا سکے گا، جہاں صارفین انہیں بھیجے جانے سے پہلے منسوخ یا حذف بھی کر سکیں گے۔ یہ سہولت خاص طور پر کاروباری افراد، طلبہ اور ایسے صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگی جو مختلف اوقات میں اہم پیغامات بھیجنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
فی الحال یہ فیچر آزمائشی مرحلے میں ہے اور صرف بیٹا ورژن استعمال کرنے والے محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ واٹس ایپ کی جانب سے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ اسے عام صارفین کے لیے کب جاری کیا جائے گا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ کامیاب آزمائش کے بعد یہ فیچر مستقبل کی اپ ڈیٹس میں تمام صارفین کو فراہم کر دیا جائے گا۔
واٹس ایپ کی جانب سے مسلسل نئی سہولیات متعارف کرانے کا مقصد صارفین کے تجربے کو مزید بہتر بنانا اور دیگر میسجنگ ایپس کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنا ہے۔ -

ایران کو محدود یورینیئم افزودگی کی اجازت ہوگی، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت تہران کو صرف محدود سطح پر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ سرگرمی مکمل طور پر پرامن مقاصد تک محدود ہوگی اور اسے کسی صورت فوجی استعمال کے لیے بروئے کار نہیں لایا جا سکے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے معاہدے کی بعض اہم تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کو انتہائی محدود پیمانے پر یورینیئم افزودگی کی اجازت ہوگی۔ ان کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن نوعیت کا رہے اور اسے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا یورینیئم افزودگی کی مجوزہ حد سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد سطح کے برابر ہوگی یا نہیں، تو انہوں نے کوئی مخصوص شرح بتانے سے گریز کیا۔ البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران صرف سویلین اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیئم افزودہ کر سکے گا۔
صدر ٹرمپ نے معاہدے کے مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا مقصد جنگ کے امکانات کو کم کرنا اور سفارتی حل کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب معاہدے کے اعلان سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر طور پر محدود کر دیا جائے گا اور انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو ختم کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ تفصیلات یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
معاہدے پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کئی ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ بعض حلقوں میں معاہدے کی شرائط اور اس کے عملی نفاذ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ -

برطانوی وزیراعظم سے منسلک املاک پر حملہ، دو افراد قصوروار
برطانیہ میں وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے منسلک گاڑی اور جائیدادوں پر آتشزدگی کے حملوں کے مقدمے میں دو افراد کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ لندن کی اولڈ بیلی عدالت نے یوکرینی شہری 22 سالہ رومن لاورینووچ اور رومانیہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ اسٹینسلاف کارپیوک کو حملوں کی سازش اور املاک کو نقصان پہنچانے کا قصوروار قرار دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں ملزمان نے ایک روسی زبان بولنے والے ٹیلیگرام رابطے "ایل منی” کی ہدایات پر حملے کیے۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق حملوں کی مکمل منصوبہ بندی اور ہدایات اسی پراسرار شخص کی جانب سے دی گئی تھیں، جس نے مبینہ طور پر کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا وعدہ بھی کیا تھا۔
مقدمے کے مطابق مئی 2025 میں شمالی لندن کے علاقے کینٹش ٹاؤن میں ایک ٹویوٹا راو فور گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی، جو ماضی میں وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی ملکیت رہی تھی۔ اس کے بعد ایک ایسے فلیٹ کے دروازے پر بھی آگ لگائی گئی جہاں وزیراعظم پہلے رہائش پذیر رہ چکے تھے، جبکہ ان کے حلقہ انتخاب میں واقع ایک اور گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ حملوں کے وقت وزیراعظم کی قریبی رشتہ دار جوڈتھ الیگزینڈر اس گھر میں مقیم تھیں۔ انہوں نے بیان دیا کہ دھماکوں جیسی آوازیں سن کر ان کی آنکھ کھلی اور انہوں نے گھر میں دھواں پھیلتے دیکھا، جبکہ اس وقت ان کا خاندان گھر کے اندر موجود تھا۔
رومن لاورینووچ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے "ایل منی” نامی شخص کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور اسے حملوں کی ویڈیو بنانے اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ دوسری جانب اسٹینسلاف کارپیوک نے دعویٰ کیا کہ حملوں کے وقت وہ لندن کے ایک پب میں موجود تھا۔
پولیس نے حملوں کے ایک ہفتے کے اندر دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔ انسداد دہشت گردی پولیس کی سربراہ کمانڈر ہیلن فلاناگن نے کہا کہ تاحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ "ایل منی” کسی ریاستی ادارے سے منسلک تھا، تاہم حملوں کا مقصد برطانیہ میں خوف، بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ -

امریکا ایران امن معاہدہ، عاصم منیر کیلئے نوبل امن انعام کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے بعد پاکستان کے سفارتی کردار کو سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں بھرپور توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ اس پیش رفت کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حق میں مختلف ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گئے ہیں، جہاں متعدد صارفین نے ان کے لیے نوبل امن انعام دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن معاہدے کے قیام میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
ایکس پر متعدد صارفین نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملٹری ڈپلومیسی کو سراہتے ہوئے انہیں عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت قرار دیا۔ بعض صارفین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر اس معاہدے نے ایک ممکنہ بڑے تنازع کو روکنے میں مدد دی ہے تو اس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔
صارفین کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ کاوشوں کو بھی سراہا جا رہا ہے۔ کئی پوسٹس میں کہا گیا کہ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
اس حوالے سے بعض بھارتی تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی آراء بھی زیر بحث رہیں۔ مختلف تبصروں میں پاکستان کے سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ حالیہ پیش رفت نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق اگرچہ امن معاہدوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ ان پر عملدرآمد اور دیرپا نتائج ہوتے ہیں، تاہم ایسے مواقع پر ثالثی اور مذاکراتی کوششیں بین الاقوامی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے امکانات کو محدود کرنے کے لیے سفارت کاری ہمیشہ ایک مؤثر راستہ سمجھی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی مباحث کا حصہ بنا دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر جاری بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوامی سطح پر بھی اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ -

شرجیل میمن کی خالد مقبول پر کڑی تنقید، کراچی کسی جماعت کی جاگیر نہیں
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پورے پاکستان کا معاشی مرکز اور سندھ کا دارالحکومت ہے۔
اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس سیاسی قوت نے شہر میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا اور کس دور میں شہر بھتہ خوری، لسانی کشیدگی اور بوری بند لاشوں جیسے المناک واقعات کی زد میں رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست کے آغاز سے قبل کراچی ایک پُرامن اور متحرک شہر تھا جہاں دہشت گردی اور تشدد کا موجودہ طرزِ سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور کراچی کے شہری بخوبی واقف ہیں کہ شہر نے کن ادوار میں بدامنی، خوف اور عدم استحکام کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق شہری مسائل کو صرف سیاسی نعروں یا جذباتی بیانات سے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کراچی کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہری سہولتوں کی فراہمی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی میں جدید ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانے، سڑکوں کے جال کو بہتر بنانے اور شہری سہولتوں میں اضافے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے نتائج عوام کو بتدریج نظر آ رہے ہیں۔
شرجیل میمن کے مطابق کراچی میں ہونے والی مثبت تبدیلیاں اور ترقیاتی کام پیپلز پارٹی کی پالیسیوں اور عملی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہری مسائل کے حل اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اور مستقبل میں بھی ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بیانات کا تبادلہ ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ دونوں جماعتیں شہر کی نمائندگی اور ترقیاتی کارکردگی کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ -

سندھ کو مالی مشکلات کا سامنا، تنخواہوں میں اضافے پر غور جاری: مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس وقت شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے محتاط فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنی مالی گنجائش کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ تنخواہوں میں کتنا اضافہ ممکن ہے۔
کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی حکومت کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی، وفاق کے ساتھ تعلقات، ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ریکارڈ مدت میں چھ بڑے میگا پراجیکٹس مکمل کیے ہیں، جو عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچے۔
مراد علی شاہ نے ماضی کے وفاقی وعدوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اب اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی اور سندھ کے لیے بڑے بڑے اعلانات کیے گئے لیکن عملی طور پر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ ان کے بقول ایک سابق وفاقی رہنما نے 1100 ارب روپے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا لیکن ان وعدوں کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ موجودہ وفاقی بجٹ میں سندھ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 64 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد۔سکھر موٹروے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم شاہراہ کی تعمیر آئندہ سال جنوری میں شروع ہونے کی توقع ہے اور اسے تقریباً ساڑھے تین سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ سندھ کو اپنے حصے کے پانی میں 41 فیصد کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کو باضابطہ احتجاجی خط بھی ارسال کیا جا چکا ہے تاکہ صوبے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پر تنقید کی اور کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ اگر انہیں اپنی عوامی حمایت پر اعتماد تھا تو انہیں انتخابی میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے عہدے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہٹانے کی افواہیں گزشتہ کئی برسوں سے سننے میں آ رہی ہیں، تاہم ان کی تمام تر توجہ عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ -

پاکستان کی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کا اعلیٰ قیادت کے کردار کا اعتراف: سینیٹر شیری رحمان
سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے ملک کے لیے قابلِ فخر کامیابی قرار دیا۔
شیری رحمان نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر قیادت کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر جلد باضابطہ دستخط بھی ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سفارتی اقدامات کی بدولت امن کا عمل آگے بڑھتا رہا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیک ڈور اور سائیڈ چینل سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ دنیا بھر کے عوام کو پہنچ سکتا ہے۔
بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 کھرب روپے سے زائد حجم کے بجٹ میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو مزید ریلیف ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ عوام اور صوبوں دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم صوبوں کو منتقل نہیں کی جاتی۔
انہوں نے زور دیا کہ صحت، تعلیم اور سماجی شعبوں کی ذمہ داری زیادہ تر صوبوں پر عائد ہوتی ہے، اس لیے صوبوں کے مالی وسائل میں کمی ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، تجارت اور سروسز سیکٹر کو مؤثر انداز میں ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
شیری رحمان نے خواتین کے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، بے روزگاری اور زرعی شعبے کے مسائل پر بھی فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں کپاس، گندم اور چینی برآمد کرتا تھا لیکن آج ان اشیا کی درآمد پر انحصار بڑھ رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے پہلے ہی مشاورت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ بہتر اور متوازن معاشی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ -

محرم میں حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس بند کرنے کی سفارش
خیبر پختونخوا پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے اور 9 اور 10 محرم کو حساس علاقوں میں جزوی طور پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کو باقاعدہ مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا کی ہدایت پر تیار کی گئی سیکیورٹی رپورٹ میں صوبے کے مختلف اضلاع میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ضلع کرم کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید چھ اضلاع کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں محرم الحرام کے دوران مجالس اور ماتمی جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر 14 اضلاع میں 43 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔
سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حساس ترین علاقوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاک فوج کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون برقرار رکھا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق محرم کے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔ حساس اضلاع میں جلوسوں کے راستوں کی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائے گی جبکہ غیر مجاز فضائی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اینٹی ڈرون سسٹم بھی فعال رکھا جائے گا۔
پولیس حکام نے تمام ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ماتمی کمیٹیوں، علمائے کرام اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد محرم الحرام کے دوران عزاداروں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی جزوی معطلی کا حتمی فیصلہ محکمہ داخلہ اور متعلقہ وفاقی اداروں کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ -

لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کیلئے مفاہمت طے پا گئی، ایران
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت طے پا گئی ہے۔
ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے غیر معمولی استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے بھاری قربانیاں دے کر اپنے دفاع کو یقینی بنایا اور ملک کبھی ان شخصیات اور رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گا جو اس دوران شہید ہوئیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت اور دیگر علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق حالیہ حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہری آبادی متاثر ہوئی۔
اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کارروائیوں سے ہونے والے نقصانات کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ انہوں نے عالمی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرنے میں ناکام رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کی گئی مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے نکات شامل ہیں۔ ان کے مطابق لبنان میں امن کا قیام اس مفاہمتی عمل کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے اور اس کے بغیر خطے میں پائیدار استحکام کا حصول ممکن نہیں۔
بقائی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور مختلف فریقین کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پیشرفت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف ممالک جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔