امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافہ کرے گا اور یہ گزشتہ معاشی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں عام شہری، متوسط طبقہ اور کم آمدنی والے افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا جبکہ مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ بدستور برقرار رکھا گیا ہے۔
انہوں نے تاجروں، مزدوروں، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال اور احتجاج کا مقصد معیشت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اسے مزید بحران سے بچانا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا جبکہ عوام سے مختلف ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں مزید وسائل حاصل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے عوام اس مد میں بھاری رقم ادا کر چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور سودی ادائیگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق قومی قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کی جائے، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپیسٹی چارجز ادائیگیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز بند کیے جائیں۔
جماعت اسلامی کے سربراہ نے بتایا کہ احتجاجی تحریک کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ چند روز میں مشاورت مکمل کی جائے گی جبکہ ملک گیر احتجاجی مہم کا باقاعدہ اعلان اسی ہفتے لاہور میں کیا جائے گا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق بجٹ کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

بجٹ مسترد، جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان
-

سپارکو کی محرم الحرام کے چاند سے متعلق اہم پیشگوئی
پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) اور محکمہ موسمیات نے محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئیاں جاری کر دی ہیں۔ دونوں اداروں کے مطابق 15 جون کو محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث یکم محرم الحرام 1448 ہجری بدھ 17 جون کو ہونے کی توقع ہے۔
اسپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نئے چاند کی پیدائش 15 جون کو صبح 7 بج کر 54 منٹ پر متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اسی روز غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 11 گھنٹے 50 منٹ ہوگی، جو رویت کے لیے مطلوبہ معیار سے کم سمجھی جا رہی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروبِ قمر کے درمیان تقریباً 40 منٹ کا وقفہ متوقع ہے، تاہم چاند کی کم عمر اور دیگر فلکیاتی عوامل کے باعث اس کی رویت کے امکانات بہت محدود ہیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 جون، جو 29 ذوالحج کے مساوی ہوگی، ملک بھر میں چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس روز پاکستان کے بیشتر علاقوں میں موسم صاف یا جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، تاہم فلکیاتی صورتحال چاند کی رویت کے حق میں نہیں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں چاند رات 7 بج کر 59 منٹ پر غروب ہوگا، سندھ میں رات 8 بج کر 5 منٹ، آزاد کشمیر میں رات 8 بج کر 7 منٹ، گلگت بلتستان میں رات 8 بج کر 12 منٹ، خیبر پختونخوا میں رات 8 بج کر 23 منٹ جبکہ بلوچستان میں رات 8 بج کر 34 منٹ پر غروب ہونے کی توقع ہے۔
رؤیت ہلال ریسرچ کونسل نے بھی اپنی پیش گوئی میں کہا ہے کہ 15 جون کو چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، جس کے باعث نئے اسلامی سال کا آغاز 17 جون سے ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ محرم الحرام 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 15 جون کی شام لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں منعقد ہوگا۔ چاند کی رویت کے بارے میں حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی، جس کے بعد نئے اسلامی سال اور یوم عاشور کی تاریخوں کا باضابطہ تعین کیا جائے گا۔ -

بیرون ملک سفر کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری
وفاقی بجٹ 2026-27 میں بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے اہم ریلیف کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت یورپ، مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا اور امریکا جانے والے مسافروں کے ہوائی سفر کی لاگت میں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان سے ہر سال ہزاروں افراد روزگار، تعلیم، کاروبار اور سیاحت کی غرض سے مختلف ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ حکومت کی نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کے بزنس کلاس ٹکٹوں پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں نمایاں کمی کی جائے گی، جس سے ہوائی سفر نسبتاً سستا ہو سکتا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق امریکا جانے والے بزنس کلاس مسافروں کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کر کے 50 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے لیے سفر کرنے والے مسافروں پر عائد ڈیوٹی 1 لاکھ 5 ہزار روپے سے کم کر کے 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔
یورپی ممالک کے لیے بزنس کلاس ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جبکہ آسٹریلیا اور مشرق بعید کے ممالک جانے والے مسافروں کے لیے بھی یہی رعایتی شرح تجویز کی گئی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ہوا بازی کے شعبے کو فروغ دینا، بین الاقوامی سفر کی حوصلہ افزائی کرنا اور پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز حتمی منظوری حاصل کر لیتی ہیں تو فضائی سفر کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ایئرلائنز کے کاروبار کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
خاص طور پر یورپ، خلیجی ممالک اور آسٹریلیا میں روزگار یا تعلیم کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو اس فیصلے سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم حتمی ریلیف کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایئرلائنز اس کمی کا کتنا فائدہ مسافروں تک منتقل کرتی ہیں۔ -

بجٹ غریب، کسان اور تنخواہ دار طبقے کیلئے ہے، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا بجٹ غریب عوام، کسانوں، مزدوروں، تنخواہ دار طبقے اور ریٹیلرز کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ میں غریب آدمی پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بجٹ کی تیاری سے قبل تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کی گئی تاکہ عوام دوست اور متوازن مالی منصوبہ پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کو سہولت دینے کیلئے زرعی آلات کی درآمد پر عائد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ برآمدی شعبے کو فروغ دینے کیلئے ایکسپورٹرز پر عائد سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو بھی ریلیف فراہم کیا ہے۔ ان کے مطابق 50 ہزار روپے تک ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والوں کیلئے صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں شامل مثبت اقدامات کو تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا اور عوام کو ریلیف دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 36 لاکھ ریٹیلرز ٹیکس نیٹ سے باہر تھے، جنہیں اب باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کا بوجھ اب ٹیکس دینے والے شہریوں پر نہیں ڈالا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے ہاؤسنگ اور ڈیولپمنٹ سیکٹر کو دیے گئے ریلیف کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس شعبے کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ معیشت کا پہیہ بھی تیزی سے حرکت کرے گا۔
اپنی تقریر کے دوران عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مہنگائی کی شرح 28 فیصد اور شرح سود 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی قیادت نے قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی اور آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ -

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں سیالکوٹ کا ایک اور عالمی اعزاز
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کا صنعتی شہر سیالکوٹ ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی مہارت اور معیار کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ میں استعمال ہونے والی آفیشل فٹ بالز سیالکوٹ میں تیار کی جا رہی ہیں، جو پاکستان کی عالمی کھیلوں کی صنعت میں مضبوط موجودگی کا ثبوت ہیں۔
سیالکوٹ کئی دہائیوں سے کھیلوں کا سامان تیار کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے، تاہم فیفا ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ کے لیے مسلسل چوتھی مرتبہ فٹ بالز کی تیاری ایک غیر معمولی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیے جانے والے یہ فٹ بالز امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں جاری ورلڈ کپ مقابلوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے سیالکوٹ کی صنعتی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہ شہر عالمی کھیلوں کی صنعت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کی فیکٹریوں میں تیار ہونے والی مصنوعات دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ رہی ہیں اور اب ورلڈ کپ کے میدانوں میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس کامیابی کو سیالکوٹ اور پاکستان کے لیے باعث فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی محنت، ہنر اور معیار کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے، جو ملک کی مثبت شناخت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سیالکوٹ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی صنعتکار اور کاریگر عالمی معیار کی مصنوعات تیار کر کے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
فارورڈ اسپورٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خواجہ مسعود نے بتایا کہ ان کی کمپنی مسلسل چوتھے فیفا ورلڈ کپ کے لیے فٹ بالز تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، معیار اور تحقیق کے ذریعے تیار کردہ فٹ بالز بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں۔
کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان نے بھی سیالکوٹ کو جدت، مہارت اور عالمی معیار کی مینوفیکچرنگ کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہر دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت اور ترقی پسند شناخت کو اجاگر کر رہا ہے۔
سیالکوٹ کی یہ کامیابی نہ صرف ملکی صنعت کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستانی مصنوعات عالمی سطح پر اپنی جگہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ -

ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ، وائٹ ہاؤس میں یو ایف سی ایونٹ کی تیاریاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں ایک منفرد اور غیر معمولی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ امریکا کی تاریخ کے معمر ترین صدر کی سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں یو ایف سی طرز کا ایک خصوصی مقابلہ منعقد کیا جا رہا ہے، جس نے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سالگرہ کی تقریب کے سلسلے میں فائٹنگ اسپورٹس کا بڑا ایونٹ منعقد کیا جا رہا ہے۔ "یو ایف سی فریڈم 250” کے نام سے ہونے والے اس ایونٹ میں 14 فائٹرز حصہ لیں گے جو ایک بڑے آٹھ کونوں والے پنجرے نما میدان میں مقابلہ کریں گے۔
یہ تقریب امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا بھی حصہ ہے۔ حکام کے مطابق اس سلسلے میں مختلف تقریبات کے انعقاد پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یو ایف سی مقابلے کے اخراجات متعلقہ ادارہ خود برداشت کر رہا ہے۔
ایونٹ کے لیے وائٹ ہاؤس کے تاریخی جنوبی لان کو خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے جہاں چار ہزار سے زائد تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تقریب میں شریک فائٹرز اوول آفس کے قریب سے گزر کر میدان میں داخل ہوں گے، جو اس ایونٹ کو مزید منفرد بناتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں بھی مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر کسی معاہدے کا اعلان بھی سامنے آ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے۔
دوسری جانب ناقدین نے موجودہ معاشی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اس تقریب پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر مختلف بحران موجود ہیں، اس نوعیت کی تقریبات پر تنقید ہونا فطری امر ہے۔
تاہم یو ایف سی حکام کا کہنا ہے کہ اس تقریب کا مقصد کھیلوں اور قومی تقریبات کو یکجا کرنا اور امریکی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایونٹ کھیل اور تفریح کے شائقین کے لیے ایک یادگار موقع ثابت ہوگا۔ -

برمنگھم احتجاج: محمد عمران شیخ کی معذرت
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے بعد ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مظاہرے میں شریک محمد عمران شیخ نے اپنے بیان پر معذرت کر لی ہے۔
محمد عمران شیخ، جن کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع میرپور سے بتایا جاتا ہے، نے احتجاج کے دوران بعض سخت اور نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد معاملہ خاصی توجہ کا مرکز بن گیا۔
بعد ازاں محمد عمران شیخ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے الفاظ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگی۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران وہ جذباتی ہو گئے تھے اور جو الفاظ ان کی زبان سے نکلے وہ مناسب نہیں تھے۔
انہوں نے آزاد کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل اور متعلقہ فوجی حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر دلی معذرت خواہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں تھا بلکہ وہ جذباتی کیفیت میں بات کر گئے تھے۔
سوشل میڈیا پر معذرتی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ بعض افراد نے معافی کو مثبت قدم قرار دیا جبکہ بعض صارفین نے اس پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔ -

ورلڈ کپ میچ کے بعد اسٹیڈیم میں ہنگامہ، 2 افراد گرفتار
ٹورنٹو میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ایک دلچسپ مقابلے کے بعد اسٹیڈیم میں ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ میزبان کینیڈا اور بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے درمیان ہونے والا میچ ایک ایک گول سے برابر رہا، تاہم میچ کے اختتام پر کچھ شائقین مشتعل ہو گئے اور صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
میچ کے دوران دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور شائقین کو سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ لیکن میچ کا فیصلہ نہ ہونے پر اسٹیڈیم میں موجود بعض افراد نے اشتعال کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث سیکیورٹی اہلکاروں کو مداخلت کرنا پڑی۔
رپورٹس کے مطابق مشتعل افراد کے ایک گروپ نے اسٹیڈیم کے اندر بدنظمی پیدا کرنے کی کوشش کی اور ایک پولیس افسر کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والے افراد کی عمریں 25 اور 27 سال بتائی گئی ہیں اور ان کا تعلق جرمنی سے ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد مبینہ طور پر بوسنیائی شائقین کے ایک گروپ سے وابستہ تھے۔
ٹورنٹو پولیس سروس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ گرفتار افراد کے خلاف ایک پولیس افسر پر حملے کی کوشش سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد ٹورنٹو پولیس ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ پیغام جاری کیا جس میں شائقین کو کھیلوں کے مقابلوں سے محفوظ انداز میں لطف اندوز ہونے کی تلقین کی گئی۔ پیغام میں کہا گیا کہ اگر کوئی شخص پولیس اہلکار پر ہاتھ اٹھائے گا تو اسے گرفتار کیا جائے گا اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا گیا کہ پولیس حوالات میں ٹی وی موجود نہیں، اس لیے گرفتار ہونے والے افراد اگلے میچز بھی نہیں دیکھ سکیں گے۔
دوسری جانب کینیڈا کے لیے یہ میچ تاریخی اہمیت کا حامل رہا کیونکہ ٹیم نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک پوائنٹ حاصل کیا۔ اگرچہ میزبان ٹیم فتح حاصل نہ کر سکی، تاہم ڈرا کے نتیجے میں حاصل ہونے والا یہ پوائنٹ کینیڈین فٹبال کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ -

پیٹرول 4 اور ڈیزل 2 روپے فی لیٹر سستا
وزارتِ پیٹرولیم نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 373 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا اور یہ نرخ آئندہ ایک ہفتے تک نافذ العمل رہیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور مختلف تجارتی شعبوں کو کچھ حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔ خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اثر مال برداری اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
عوامی حلقوں نے قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم کئی صارفین کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے تناظر میں مزید ریلیف کی ضرورت ہے تاکہ روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی آ سکے۔
حکومت کی جانب سے آئندہ ہفتے کے لیے قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں بجٹ 2026-27 پر بحث جاری ہے اور عوام معاشی ریلیف کے مزید اقدامات کے منتظر ہیں۔ -

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سوئٹزرلینڈ کا خراج تحسین
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کیسس سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور اسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔
سوئس وزیر خارجہ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیا۔
اسحاق ڈار نے بھی اس موقع پر پاکستان کے مؤقف اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال میں مسلسل رابطے اور سفارتی مشاورت انتہائی اہم ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان قریبی رابطوں کو برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنا ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کوششوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جاری مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی استحکام کے امکانات بھی مزید روشن ہو جائیں گے۔